Baaghi TV

Tag: خوراک

  • معاہدےکے باوجوداسرائیل انسانی امداد کی ترسیل روک رہا ہے، اقوامِ متحدہ

    معاہدےکے باوجوداسرائیل انسانی امداد کی ترسیل روک رہا ہے، اقوامِ متحدہ

    فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ایجنسی (یو این آر ڈبلیو اے) نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیل انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھیجی جانے والی امداد کو غزہ میں داخل ہونے سے روک رہا ہے۔

    قطر کے نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کے مطابق یو این آر ڈبلیو اے نے اپنے بیان میں کہا کہ خوراک، صفائی کی کٹس، ادویات اور عارضی خیموں کے لیے ضروری سامان غزہ کے باہر موجود گوداموں میں رکھا ہے، تاہم اسرائیلی حکام اس امداد کو اندر جانے کی اجازت نہیں دے رہے۔ایجنسی کے مطابق مصر اور اردن میں غزہ کی پوری آبادی کے لیے 3 ماہ کی خوراک موجود ہے جو منتقلی کی اجازت کی منتظر ہے۔

    یو این آر ڈبلیو اے نے خبردار کیا کہ مزید تاخیر انسانی بحران کو سنگین بنا دے گی، لہٰذا امداد پر عائد پابندی کو فوری طور پر ختم کیا جائے.

    ڈیرہ غازی خان: بارڈر ملٹری پولیس کی کارروائی، 34 کلو چرس برآمد، سمگلنگ کی کوشش ناکام
    بنگلہ دیش،گارمنٹ فیکٹری اور گودام میں خوفناک آگ، 16 افراد جاں بحق

  • پاکستان میں غربت، 66 فیصد آبادی غذائیت سے بھرپور خوراک سے محروم

    پاکستان میں غربت، 66 فیصد آبادی غذائیت سے بھرپور خوراک سے محروم

    عالمی ادارے کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کی 66 فیصد آبادی غذائیت سے بھرپور خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی

    حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک کی 66 فیصد آبادی غربت اور مالی مشکلات کے سبب وٹامنز، پروٹین اور دیگر ضروری غذائی اجزاء سے بھرپور خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ عالمی ادارہ برائے خوراک (ورلڈ فوڈ پروگرام) کی اس رپورٹ میں ملک بھر کے مختلف صوبوں میں غذائیت سے بھرپور خوراک کی دستیابی اور قیمتوں کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ہے۔رپورٹ کا مقصد یہ تھا کہ پاکستان میں غذائی تحفظ اور غذائیت کے مسائل کو اجاگر کیا جائے اور سماجی تحفظ کے پروگرامز جیسے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے غذائیت سے بھرپور خوراک کی فراہمی میں درپیش چیلنجز کا جائزہ لیا جائے۔ اس رپورٹ نے یہ بھی معلوم کیا ہے کہ کیسے یہ پروگرام غذائیت کی کمی کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کی اوسطاً 66 فیصد آبادی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے والی خوراک کی خریداری کے لئے مالی طور پر مستحکم نہیں ہے۔ صوبہ بلوچستان میں یہ شرح سب سے زیادہ ہے، جہاں دیہی علاقوں میں 84 فیصد اور شہری علاقوں میں 78 فیصد افراد غذائیت سے بھرپور خوراک خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔اسی طرح، سندھ کے دیہی علاقوں میں 76 فیصد، شہری علاقوں میں 60 فیصد، پنجاب کے دیہی علاقوں میں 68 فیصد، شہری علاقوں میں 63 فیصد، اور خیبرپختونخوا کے دیہی علاقوں میں 59 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 67 فیصد افراد غذائیت کی کمی کا شکار ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ انسانی جسم کی بنیادی ضروریات پوری کرنے والی اور بھرپور غذائیت والی خوراک کے یومیہ اخراجات فی کس 18 سے 32 روپے ہیں۔ اگرچہ قومی سطح پر 5 فیصد افراد ہی اس سطح کے اخراجات کرنے سے قاصر ہیں، تاہم غذائیت سے بھرپور خوراک کی قیمتیں کہیں زیادہ ہیں، جو کہ 67 سے 78 روپے فی کس روزانہ تک پہنچ جاتی ہیں۔ایک خاندان جس میں 6 افراد شامل ہوں، کم از کم 14 ہزار روپے ماہانہ خرچ کرنے کے قابل ہونا چاہیے تاکہ وہ اپنی غذائی ضروریات کو پورا کر سکیں۔ اس کے علاوہ، اگر خاندان میں حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی مائیں، یا بڑھتے ہوئے بچے شامل ہوں، تو ان کی غذائیت کی ضروریات میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

    رپورٹ میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے سماجی تحفظ کے اقدامات کو خواتین اور بچوں میں غذائیت کی کمی کو دور کرنے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے، جس سے انہیں خوراک کی بہتر خریداری کی سہولت مل سکتی ہے۔یہ رپورٹ پاکستان میں غذائیت کی کمی کے سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتی ہے اور اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ سماجی تحفظ کے پروگرامز کو مزید مؤثر بنانا ہوگا تاکہ ملک کی بڑی تعداد کو ضروری غذائی اجزاء کی فراہمی ممکن ہو سکے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور عالمی ادارے مشترکہ طور پر اقدامات کریں تو غربت اور غذائیت کی کمی پر قابو پایا جا سکتا ہے، اور پاکستان میں صحت مند مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

    سپریم کورٹ،آئینی بینچ میں فوجی عدالتوں کے علاوہ دیگر مقدمات کی سماعت موخر

    شہداء کے لواحقین کی بہبود کے لیے”مداوا” گریف کونسلنگ سیل کا قیام

    ڈیرہ غازی خان: گلف ممالک سے واپس آنے والوں کی وجہ سے ایڈز کے مریضوں میں خوفناک اضافہ

  • ہر شخص سالانہ تقریباً 79 کلو کھانا ضائع کرتا ہے،اقوام متحدہ کی رپورٹ

    ہر شخص سالانہ تقریباً 79 کلو کھانا ضائع کرتا ہے،اقوام متحدہ کی رپورٹ

    جنیوا: اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے ذیلی شعبے فوڈ ویسٹ انڈیکس نے ایک رپورٹ جاری کی ہے-

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2022 میں دنیا بھر میں پیدا ہونے والی خوراک کا 19 فیصد فضلہ کے طور پر ضائع کیا گیا ہے جو کہ تقریباً 1.05 ارب میٹرک ٹن خوراک کے برابر ہے، رپورٹ میں 2030 تک خوراک کے ضیاع کو نصف کرنے کے ہدف سے متعلق ممالک کی جانب سے اٹھائے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی خوراک کے کُل فضلے میں سب سے بڑا حصہ گھرانوں سے آتا ہے جو کہ 60 فیصد بنتا ہے، اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد ریسٹورنس سے اور باقی دکانوں اور سپراسٹور سے آتا ہے، رپورٹ میں انفرادی طور پر بھی جائزہ لیا گیا جس میں پتہ چلا کہ ہر شخص سالانہ تقریباً 79 کلو کھانا ضائع کرتا ہے جو کہ عالمی سطح پر یومیہ 1 ارب ضائع شدہ کھانا بنتا ہے-

    حماس کے حملے میں اسرائیلی کمانڈو ہلاک،16 فوجی زخمی

    رپورٹ میں حکومتو ں، مقامی اداروں اور صنعتی گروپس کی اس حوالے سے مشترکہ حکمت عملی کو اپنانے پر زور دیا گیا اور بتایا گیا کہ شرا کت داری سے ہی عالمی سطح پر کھانے کے ضیاع کو کم کیا جاسکتا ہے، مطالعے کے شریک مصنف کلیمنٹین او کانر کا کہنا تھا کہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے لیکن تعاون اور موثر انتظامی امور کے ذریعے اس سے نمٹا جا سکتا ہے۔

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے 8 ا رب ڈالر کا نیا قرض پروگرام ملنے …

    دوسری جانب نائجیریا میں بوسارا سینٹر فار ہیویورل اکنامکس میں پراجیکٹ ایسوسی ایٹ فدیلا جمارے جو کینیا اور نائیجیریا میں خوراک کے ضیاع کی روک تھام کا مطالعہ کرتی ہیں، نے کہا کہ خوراک کا ضائع ہونا اور خوراک کی غیر موثر پیداوار ان لوگوں کو نقصان پہنچاتی ہے جو پہلے ہی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں یا صحت بخش کھانے کے متحمل نہیں ہیں، دنیا بھر میں 80 ملین سے زیادہ افراد کو بھوک کا سامنا ہے جبکہ عالمی سطح پر خوراک کے بحران میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

    30 مارچ کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات

  • ضروری غذائی اجناس کی ترسیل کے سلسلے میں نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈنیشن سنٹرکا بڑا فیصلہ

    ضروری غذائی اجناس کی ترسیل کے سلسلے میں نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈنیشن سنٹرکا بڑا فیصلہ

    سیلاب کی تباہ کاریوں کے نتیجے میں عوام کے کھانے پینے اور ضروری غذائی اجناس کی ترسیل کے سلسلے میں نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈنیشن سنٹر نے بڑا فیصلہ کیا ہے

    آج صبح نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈنیشن سنٹر کا باضابطہ اجلاس ڈپٹی چیئرمین نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈنیشن سنٹر کی زیرِ صدار ت ہوا۔ جس میں تمام چیف سیکرٹریز اور فیڈریٹنگ یونٹس نے شرکت کی اور فوڈ سیکیورٹی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں عوام کو غذائی اجناس خصوصاََ ٹماٹر اور پیاز کو فاسٹ ٹریک پر منگوانے کے اقدمات کی ہدایت کی گئی۔

    نیشنل فوڈسیکرٹری نے نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈنیشن سنٹر کو بتایا کہ لوگوں کو کھانے پینے کی ضروری اشیاء جس میں پیاز اور ٹماٹر شامل ہیں، مہیا کرنے کے لئے ہنگامی سطحوں پراقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ۔فورم نے ہدایت دی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ملک میں عوام کے لئے غذائی اجناس کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ فورم کو بتایا گیا کہ اس وقت غذائی اجناس کا سٹاک کافی تعداد میں موجود ہے اور اگلی فصل کی کاشت سے پہلے پہلے تک اگر بروقت اقدامات کر لئے جائیں تو انشاء اللہ پاکستان میں غذائی قلت نہیں ہو گی۔ فورم نے ہدایت دی کہ اس سلسلے میں ایک مکمل روڈ میپ تیار کر لیا جائے جس میں گندم، چاول، دالیں اور دیگر ضروری اشیا ء کی نہ صرف فراہمی کو یقینی بنایا جائے بلکہ متاثرہ علاقوں میں بھی پہنچانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔

    فورم نے خاص طور پر ہدایات جاری کی گئیں کہ کسی بھی قسم کی ذخیرہ اندوزی سے اجتناب کیا جائے اور اس حوالے سے صوبوں کو درخواست کی گئی کہ وہ تمام ذخیرہ اندوز افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرے جوکہ ان اشیاء کو ذخیرہ اندوزی کر کے مصنوعی قلت اور قیمتوں کے بڑھانے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سے جاپان کے سفیرکی کراچی میں ملاقات ہوئی ہے

    منچھر جھیل کا سیلابی پانی تمام یوسیز میں 8 سے 10 فٹ تک موجود ہے ،وزیراعلیٰ سندھ

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    سیلاب متاثرین کی بحالی،پنجاب حکومت اوردعوت اسلامی کا ملکر کام کرنے پر اتفاق

  • خوراک کا ضَیاع!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    خوراک کا ضَیاع!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    “باجی مرچیں ہیں۔ گھر میں ختم ہو گئی ہیں”

    “چاچی پیاز مل سکتا ہے؟ کل ابا جی بازار سے لانا بھول گئے”

    پاکستان میں ایک زمانے میں گھروں میں یہ عام رواج ہوتا۔ کھانا بنانے کے دوران اگر کوئی سبزی یا روزمرہ کے پکانے کی شے ختم وہ جاتی تو پڑوسی یا محلے میں کسی سے مانگ لی جاتی۔ زمانہ بدل گیا۔۔لوگ اچھی عادتیں بھول کر کہیں اور نکل گئے۔ ایک ایسی دوڑ میں جسکی کوئی سمت نہیں۔

    یہ بات مجھے اقوام متحدہ کے خوراک اور زراعت کے ادارے کی ایک رپورٹ ہڑھتے ہوئے یاد آئی۔ اس رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں انسانوں کے استعمال کے لیے ہیدا کی جانے والی خوراک کا ایک تہائی ہر سال ضائع ہو جاتا ہے۔ 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر کی 14 فیصد خوراک کھیتوں یا فارمز سے منڈیوں اور مارکیٹ تک آنے میں ضائع ہو جاتی ہے جسکی کل مالیت تقریباً 400 ارب ڈالر بنتی ہے۔

    جبکہ 17 فیصد خوراک مارکیٹوں سے گھر میں پڑی پڑی خراب ہو جاتی ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال 930 ملین ٹن خوراک ضائع ہوتی ہے۔جس میں سے 569 ملین خوراک گھروں میں استعمال نہ ہونے کے باعث کوڑے دانوں کا نصیب بنتی ہے ۔ دنیا کا ہر فرد اوسطاً سالانہ 74 کلو گرام خوراک ضائع کرتا ہے۔ مگر حیران مت ہوں یہ اوسط ہے۔ بہت سے لوگوں کو سمجھانے کے لیے کہ اوسط کا مطلب دراصل یہاں کل خوراک کے ضیاع اور دنیا کی کل آبادی کا تناسب ہے۔

    آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک چین، دنیا کا سب سے زیادہ خوراک ضائع کرنے والا ملک ہے جہاں ہر سال تقریباً 92 ملین ٹن چوراک ضائع ہوتی ہے ۔ اسی طرح بھارت دوسرا بڑا خوراک ضائع کرنے والا ملک ہے جبکہ امریکہ اور پھر بڑے ہورپی ممالک جیسے فرانس اور جرمنی۔

    مگر یہ تصویر مکمل نہیں کیونکہ ظاہر ہے جس ملک کی آبادی زیادہ ہو گی وہاں کل خوراک کا ضیاع بھی زیادہ بنے گا۔ اس لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کس ملک کا شہری سالانہ کتنی نخوراک ضائع کرتا ہے۔

    تو اس پر پہلے نمبر پر براجمان ہیں نائجیریا جہاں ہر شہری سالانہ 189 کلو گرام خوراک ضائع کرتا ہے۔۔جبکہ دوسرے اور تیسرے نمبر پر عراق اور سعودی عرب ہیں۔

    پاکستان میں ہر شہری سالانہ 74 کلو گرام خوراک ضائع کرتا ہے۔اور یوں پاکستان اس رینکنگ میں سترویں نمبر پر ہے۔ یہ اعداد و شمار 2020 کے ہیں۔

    یہاں یہ بتانا ضروری کے کہ پاکستان میں خوراک کی مناسب ترسیل ، سٹوریج اور بہتر دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث زیادہ تر خوراک منڈیوں تک آتے ہی خراب ہو جاتی ہے ۔

    ایک ایسا ملک جہاں غذائی ضروریات کی پہلے سے ہی قلت ہے اور خوراک ایک مسئلہ بننے جا رہی ہو وہاں حکومت اور عوام دونوں کی بے حسی دیدنی ہے۔

    حکومت کیطرف سے اس حوالے سے مناسب پالیسیوں کا فقدان اور غیر سنجیدگی اورعوام کی جانب سے خوراک کے ضیاع کی عادت، اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہم نے نہ جاگنے کی قسم کھائی ہے۔

    خوراک کے ضیاع سے بچنے کے لیے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کئی طریقے اپنا رہے ہیں۔ کچھ حکومتی سطح پر اور کچھ عوامی سطح پر۔

    حکومتیں مارکیٹوں کو پابند کر رہی ہیں کہ زائد المعیاد اشیاء کو خراب ہونے سے قبل سستے داموں یا مفت بیچ دیا جائے ورنہ خوراک کے ضیاع پر انہیں کو جرمانہ عائد ہو گا۔جبکہ عوامی سطح پر کئی ممالک میں ٹیکنالوجی کی مدد سے خوراک کے ضیاع کے مسئلے کو حل کیا جا رہا ہے۔

    اس حوالے سےبرطانیہ میں ایک ایپ بنائی گئی ہے OLIO جہاں اگر اپکے پڑوسی کے پاس اضافی خوراک ہے تو وہ ایپ پر بتا سکتا ہے اور آپ اسے مفت حاصل کر سکتے ہیں۔

    ویسے انگریز کیسے کہتے ہوں گے؟

    “نی مارگریٹ تیرے کول بلیک پُڈِنگ ہے؟ ”

    میری مُک گئی سی۔”

  • ٹماٹر کی کہانی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ٹماٹر کی کہانی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پاکستان میں اس وقت ٹماٹر بے حد مہنگا بک رہا ہے۔ بڑے شہروں میں غالباً 500 روپے کلو سے بھی زیادہ۔ آئے روز ملک میں روزمرہ کی مختلف سبزیوں کی مارکیٹ میں شارٹیج یا کمی رہتی ہے جس سے انکی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو جاتا ہے۔ مگر رکیے ٹماٹر سبزی نہیں بلکہ ایک پھل ہے۔ ویسے بینگن بھی پھل ہے۔ ٹماٹر کا سائنسی نام Solanum lycopersicum L ہے۔ گھبرائے نہیں آپ اسے ٹماٹر ہی کہیئے۔

    یہ بات سن کر آپ شاید حیران ہوں کہ ہمارے آباؤ اجداد اور پُرکھوں کے کھانوں میں ٹماٹر نہیں ڈلتا تھا۔ زیادہ نہیں تین چار صدیاں پیچھے چلے جائیں تو برصغیر میں ٹماٹر تھا ہی نہیں۔ ٹماٹر دراصل لاطینی امریکہ اور میکسیکو میں اُگا کرتے تھے۔ پندرویں اور سولہویں صدی میں جب ہسپانویوں نے ان علاقوں پر قبضہ کیا تو یہاں کے مقامی لوگ ٹماٹروں کو اپنے کھانوں میں استعمال کیا کرتے تھے مگر یہ ٹماٹر سائز میں آج کے ٹماٹروں سے بے حد چھوٹے اور مٹر کے دانوں جتنے ہوتے۔ سولویں صدی میں ٹماٹر یورپ آئے مگر انہیں کھانوں میں نہیں بلکہ زیادہ تر سجاوٹ کے طور پر اُگایا جاتا۔ برِ صغیر میں بھی ٹماٹر سولہویں صدی میں پرتگالیوں نے متعارف کرایا۔ پرتگالیوں نے ہی یہاں آلو اور مرچیں بھی متعارف کرائیں گویا برِ صغیر میں پہلے نہ ٹماٹر تھا، نہ آلو اور نہ مرچیں۔ یہ تصور کرنا کچھ مشکل ہے کہ ہمارے پّرکھوں کے کھانے ان تمام سبزیوں اور پھلوں کے بغیر کیسے ہوتے ہونگے۔

    مگر برِ صغیر کے کھانوں میں بھی سولہویں یا سترویں صدی میں ٹماٹر نہیں ڈلتا تھا۔ انیسویں صدی تک جب یورپ اور برطانیہ میں ٹماٹروں کو کھانوں میں استعمال کیا جانے لگا اور یہ مقبول ہوئے تو انگریزوں کو ٹماٹروں کی ضرورت پڑی۔ ایسے میں برِ صغیر کا موسم اور یہاں کی آب و ہوا ٹماٹر اُگانے کے لیے موافق تھی۔ لہذا انگریزوں نے بھارت میں ٹماٹر کو بڑے پیمانے پر کاشت کروانا شروع کیا جسے برطانیہ اور یورپ کی منڈیوں میں بھیجا جاتا۔ اُس زمانے میں بھی ہندوستانی کھانوں میں ٹماٹر محض ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا مگر آہستہ آہستہ یہ کھانوں کا بنُیادی جُز بنتا گیا۔

    آج بھارت اور پاکستان میں 8 ہزار سے بھی اوپر کی ورائٹی کے ٹماٹر اُگتے ہیں۔ 2015 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ٹماٹروں کی کل سالانہ پیداوار تقریباً 57 ہزار ٹن ہے اور اسکی کاشت ملک کے ڈیڑھ لاکھ ہیکٹر کے رقبے پر ہوتی ہے۔ دنیا بھر کی کل ٹماٹروں کی پیدوار میں پاکستان کا حصہ محض 0.3 فیصد ہے۔ پاکستان میں ٹماٹروں کی تقریباً چالیس فیصد پیداور سندھ میں ہوتی ہے جسکے بعد بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب شامل ہیں۔ پنجاب میں ٹماٹروں کی پیداوار دوسرے صوبوں کی نسبت کم ہے۔ ٹماٹر کی سب سے زیادہ پیداوار فی ایکڑ بلوچستان میں ہوتی ہے۔

    گو ٹماٹر ایک منافع بخش فصل ہے مگر کئی اہم مسائل کی وجہ سے کسانوں تک اسکا مناسب منافع نہیں پہنچتا۔ بلوچستان کے ٹماٹر اّگانے والا کاشتکار کو فی ایکڑ منافع پنجاب کے کاشتکار سے زیادہ ملتا ہے۔ اسکی ایک وجہ تو زیادہ پیداور فی ایکڑ جو سستی مزدوری اور مناسب موسم سے جّڑی ہے جبکہ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ پنجاب کا ٹماٹر مارکیٹ میں کٹائی کے سیزن کے عروج پر آتا ہے جس سے مارکیٹ میں زیادہ رسد ہونے کے باعث اسکی قیمت کم لگتی ہے۔ جبکہ بلوچستان اور سندھ کا ٹماٹر باقی موسموں میں بھی آتا ہے۔

    چونکہ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ہے لہذا سندھ اور بلوچستان سے آنے والے ٹماٹر کی ترسیل اور فاصلے کے باعث منڈیوں تک پہنچتے اسکی قیمت میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی لئے ٹماٹر کی قیمت سارا سال بدلتی رہتی ہے کیونکہ مناسب سپلائی چین، سٹوریج اور منڈیوں میں حکومت کی جانب قیمتوں پر مناسب کنٹرول نہ ہونے کے باعث ناجائز منافع خوری کے نتیجے میں اسکی قیمت عام شہری اور کسان کو ادا کرنی پڑتی ہے۔

    ٹماٹر کے کاشتکاروں کے مسائل دیکھیں جائیں تو بہتر کوالٹی کا بیج نہ ہونا، ہائیبریڈ یا امپورٹڈ بیج کا مقامی موسم کی تبدیلیوں کو برداشت نہ کرنا، جڑی بوٹیوں اور کیڑوں کے تدارک کی ادوایات کی خراب کوالٹی، کھاد کی خراب کوالٹی اور قیمتوں میں اضافہ، پیکجنگ کے مسائل، مناسب تربیت اور جدید طریقوں کا فقدان اور کٹائی کے دنوں میں مزدورں کی کمی جیسے اہم مسائل پاکستان میں ٹماٹر کی کاشت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

    ِان مسائل کا حل کیا ہے؟ حکومت کی کسان دوست پالیسیاں!!

    1. کاشتکاروں کو مناسب اور جدید تربیت فراہم کرنا جس میں بیج کے چناؤ سے لیکر پیکجنگ تک تمام عوامل شامل ہوں۔

    2.مقامی بیج پر تحقیق اور اسکی پیداوار کو مزید بہتر بنانا۔ شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلوں سے مزاحمت کرنے والے بیج پر کام

    3. امپورٹڈ اور ہائبریڈ بیج کی کوالٹی کی حکومت کی جانب سے مناسب جانچ کے بعد ہی اسے مارکیٹ میں فروخت کی اجازت

    4. کھاد اور کیڑے مار ادوایات کی کوالٹی اور قیمت پر کنٹرول

    5. آڑھتی اور کمیشن ایجنٹوں پر کنٹرول اور اس حوالے واضح قانون سازی اور حکمتِ عملی جس سے کسانوں کے استحصال کو روکا جا سکے

    6. خوراک کی مصنوعات پیدا کرنے والی پرائیویٹ کمپنیاں مثال کے طور پر نیسلے یا اینگرو وغیرہ سے معاہدے جو کسانوں کو اُنکی فصل کی مناسب قیمت بلا تاخیر ادا کریں۔

    7. مارکیٹ میں ٹماٹروں کی قیمت کے اُتار چڑھاؤ کو روکنے کے لیے اس بات پر غور کہ اگر بھارت سے ٹماٹر درآمد کیے جائیں تو اسکے کیا فوائد اور نقصان ہو سکتے ہیں؟

    پاکستان جیسے زرخیز اور زرعی ملک میں مقامی پیداوار ہونے کے باوجود سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں کا غریب عوام کی پہنچ سے دور ہونا اپنے آپ میں ایک سوالیہ نشان اور ریاستی اداروں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔