Baaghi TV

Tag: خوردنی تیل

  • خوردنی تیل کی درآمد سےتیل کی قیمتوں میں کمی آئےگی،شہباز شریف

    خوردنی تیل کی درآمد سےتیل کی قیمتوں میں کمی آئےگی،شہباز شریف

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ وزیرِ صنعت و پیداوار کا خوردنی تیل کی درآمد کیلئے ذاتی خرچے پر انڈونیشیاء کا دورہ قابلِ ستائش ہے. بروقت درآمد سے ملک میں خوردنی تیل کے متوقع بحران کے خطرے کا سد باب ہوا. خوردنی تیل کے کارگو کی آمد سے تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوگی. وفاقی وزیرِ صنعت و پیداوار اور سیکٹری کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں.

    وزیرِاعظم نے وفاقی وزیرِ صنعت و پیداوار مخدوم مرتضی محمود کی اندونیشیاء سے خوردنی تیل کی درآمد کیلئے خصوصی کوششوں کو سراہا. وزیرِ اعظم شہباز شریف سے وزیرِ صنعت و پیداوار مخدوم مرتضی محمود اور سیکٹری امداد اللہ بوسال نے اسلام آباد میں ملاقات کی.

    وزیرِ اعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیرِ صنعت مخدوم مرتضی محمود نے خوردنی تیل کی درآمد کیلئے ذاتی خرچے پر اندونیشیاء کا دورہ کیا.دورے کا مقصد ملک میں خوردنی تیل کی درآمد سے متوقع بحران کا سد باب کرنا تھا. وزیرِ صنعت کی کوششوں کی بدولت انڈونیشیاء سے اڑھائی لاکھ میٹرک ٹن (10 بحری جہاز) پاکستان کو فراہم کئے جا رہے ہیں. بحری جہازوں کی پہلی کھیپ وزیرِ صنعت و پیداوار کی انڈونیشیاء میں موجودگی کے دوران ہی پاکستان روانہ کر دی گئی تھی.

    قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف کی 10 جون کو انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو سے ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی تھی جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستانی وفد کا انڈونیشیا کا دورہ اور انڈونیشیا کی وزارت تجارت سے مذاکرات کامیاب ہوئے.خوردنی تیل سے بھرے 10 بحری جہاز آئندہ دو ہفتے میں انڈونیشیا اور ملائشیا سے پاکستان پہنچیں گے

    انڈونیشیا سے کل اڑھائی لاکھ میٹرک ٹن خوردنی تیل پاکستان کو فراہم کیا جا رہا ہے . وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وزیر صنعت و پیداوار سید مرتضی محمود نے انڈونیشیا کے ہم منصب سے معاملات طے کئے

    پاکستانی وفد کی درخواست پر انڈونیشیا کی وزارت تجارت نے تمام متعلقہ امور کو تیزی سے نمٹایا. انڈونیشیا کا دورہ کرنے والے وفد میں پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چئیرمن طارق اللہ صوفی اور تنظیم کے رکن رشید جان محمد بھی شامل تھے.

  • خوردنی تیل کی درآمد جلد کی جائے، وزیرخزانہ

    خوردنی تیل کی درآمد جلد کی جائے، وزیرخزانہ

    وفاقی وزیر خزانہ و محصولات مفتاح اسماعیل نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملائیشیا اور انڈونیشیا سے خوردنی تیل کی درآمد کے عمل کو تیز کریں تاکہ صارفین کےلئے اس کی آسان فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور اس کی قیمتوں میں استحکام رکھا جا سکے۔

    وزارت خزانہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے خوردنی تیل کی دستیابی سے متعلق کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار سید مرتضیٰ محمود، وفاقی وزیر تعلیم رانا تنویر حسین،وزارت صنعت وپیداوار اور تجارت کے سیکرٹریز، وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے نمائندوں اور سینئر افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔

    اس موقع پر سیکرٹری صنعت نے کمیٹی کو ملک میں خوردنی تیل کے سٹاک کی صورتحال اور انڈونیشیا اور ملائیشیا سے خوردنی تیل کی درآمد کی صورتحال سے آگاہ کیا،انہوں نے بتایا کہ ملک میں خوردنی تیل کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور اس ماہ کے دوران ملائیشیا اور انڈونیشیا سے خوردنی تیل کے ٹینکرز پہنچنے سے اسٹاک کی پوزیشن بہتر ہوگی اوراس سے قیمت کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔

    بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ اس سلسلے میں وفاقی وزیر صنعت و پیداوار انڈونیشیا کے حکام سے اہم بات چیت کے لیے انڈونیشیا روانہ ہو رہے ہیں۔ دریں اثناء رانا تنویر حسین نے وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے نمائندوں سے کہا کہ وہ اپنی قیمتوں پر نظر ثانی کریں اور عام آدمی کے لئے قیمتوں کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

    قبل ازیں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ماضی میں اتنا معاشی مشکل نہیں دیکھا جتنا آج دیکھ رہا ہوں،1100 ارب روپے بجلی کی مد سبسڈی دی گئی ،500ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ دیا ،16روپے فی یونٹ حکومت دے رہی ہے،یہ بھی عوام کے ہی پیسے ہیں،رواں مالی سال شعبہ گیس میں 400 ارب روپے سبسڈی دی گئی، 30 ،35 روپے بجلی کا یونٹ بنا رہے ہیں،ا گر باقی ممالک میں سستی گیس مل رہی ہے تو ہم مہنگی نہیں دے سکتے ،ملک میں 200 ملین ڈالر کی گیس کا پتہ ہی نہیں کہاں گئی ترسیلی نقصانات بہت زیادہ ہیں ان پرکام نہیں ہو رہا ہے ،ملکی انتظامی امور ٹھیک کرنا ضروری ہے ورنہ یہ ملک چلانا مشکل ہے 2 اعشاریہ 4 بلین کی گیس ہم ہوا میں اڑا دیتے ہیں،پاکستان باوقار اور نیوکلیئر پاور ملک ہے، ہمیں معیشت سنبھالنا ہوگی،فروری میں آئل اور پیٹرول پر سبسڈی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی اگر مزید مشکل فیصلے لینے ہوئے تو لیں گے، اس وقت چوائس نہیں

    وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کے دور میں تاریخی معاشی خسارہ ہوا،عمران خان نے پورے ملک کے ساتھ ٹوپی گھمائی ہے،اگر سری لنکا جیسی حالت ہوئی تو لوگ معاف نہیں کریں گے ،ہمیں بجٹ میں 459 ارب روپے خسارے کا سامنا ہے،ہم 90 میں بنگلہ دیش سے آگے تھے، کیا وجہ ہے کہ ہم اس نہج پر آگئے ہیں عوام کا ساتھ چاہتا ہوں، پیٹرول مہنگا کر کے گھر پیسے نہیں لے جا رہے،اخراجات صرف 3 فیصد بڑھ رہے ہیں،گیس اورپاور سیکٹر کی سبسڈی ختم کی ہے،ہماری معیشت اتنا بوجھ نہیں اٹھا سکتی

  • رمضان میں خوردنی تیل کی درآمد میں 10 فیصد ٹیکس چھوٹ کی منظوری

    رمضان میں خوردنی تیل کی درآمد میں 10 فیصد ٹیکس چھوٹ کی منظوری

    وفاقی حکومت نے رمضان المبارک کے دوران شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے خوردنی تیل کی درآمدپر10 فیصد ٹیکس چھوٹ کی منظوری دے دی۔

    سرکاری خبرایجنسی اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق خورنی تیل کی درآمد میں 10 فیصد ٹیکس چھوٹ کا فیصلہ وفاقی وزیرخزانہ و محصولات شوکت ترین کی زیرصدارت اجلاس میں ہوا۔

    وزیرخزانہ شوکت ترین کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی وزیرصنعت وپیداوار خسرو بختیار، سیکریٹری صنعت وپیداوار، چئیرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

    رپورٹ کے مطابق اجلاس میں وزیرخزانہ کو آگاہ کیا گیا کہ آربی ڈی پام آئل کی ماہانہ اوسط ریٹیل قیمت انتہائی غیرمستحکم ہے اور گزشتہ سال کی نسبت رواں سال اس کی قیمت میں تقریباً دگنا اضافہ ہواہے۔

    اجلاس کو بتایاگیا کہ جنوری کے مہینے میں پام آئل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور فی ٹن قیمت ایک ہزار 351 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

    وفاقی وزیرخزانہ نے قیمت میں اضافے کی وجہ سے رمضان المبارک میں متوقع شارٹ فال سے بچنے کے لیے اپریل اور مئی کے لیے پام آئل کی درآمد پر ٹیکس میں 10 فیصد چھوٹ دینے کی منظوری دے دی۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹیکس ریلیف کا یہ فیصلہ مختصرمدت کے لیے ہے تاکہ ملک میں صارفین کو خورنی تیل کی آسان فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔

    بریفنگ کے دوران کہا گیا کہ ملک میں خورنی تیل اور بناسپتی گھی کی سالانہ طلب کا 90 فیصد درآمدات سے پورا کیا جا رہا ہے۔

    خیال رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں رمضان ریلیف پیکج کے لیے 19 اشیا خورونوش پر 8 ارب 28 کروڑ روپے اور کامیاب پاکستان پروگرام سے مستفید ہونے کے خواہش مند سمندر پار پاکستانیوں کے لیے 3 ارب روپے کی سبسڈی کی منظوری کا فیصلہ کیا گیا تھا۔