Baaghi TV

Tag: خیبر پختونخواہ

  • ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے 32 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دیدی

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے 32 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دیدی

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کیلئے 32 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دیدی

    ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق رقم کے پی کے میں سڑکوں کی بحالی پر خرچ کی جائیگی،رقم دیہی علاقوں کو ملانے اور سیفٹی بڑھانے کیلیے خرچ کی جائے گی،رورل روڈز ڈویلپمنٹ پروجیکٹ سے 900 کلومیٹر دیہی سڑکیں اپ گریڈ کی جائیں گی،کے پی میں یہ سڑکیں سیلاب کی وجہ سے تباہ ہوگئی تھیں، سڑکیں آبادی کو تعلیم صحت اور مارکیٹ تک رسائی دینے میں مدد دیں گی،روڈ ٹرانسپورٹ پاکستان میں سماجی ترقی کا اہم عنصر ہے، روڈ ٹرانسپورٹ پاکستان کے لوگوں کی لائف لائن ہے،اس منصوبے سے لوگوں کے سفری اوقات، کرایوں میں کمی ہوگی، منصوبے سے لاکھوں لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے،

  • ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لئے ڈی سی ایبٹ آباد کو درخواست دی گئی ہے

    ہم جنس پرست کلب کے قیام کے لئے درخواست ڈی سی آفس میں 8 مئی 2024 کو دی گئی، درخواست LORENZO GAY CLUB کے لیے این او سی حاصل کرنے کے لیے جمع کروائی گئی ہے، ہم جنس پرست کلب کے قیام کے لئے درخواست پریٹم گیانی نامی ایک مقامی شہری کی جانب سے جمع کروائی گئی جو خود کو گلستان کالونی ایبٹ آباد کا رہائشی بتلاتا ہے،لورینزو گے کلب کے نام سے جمع کی جانے والی درخواست کے مندرجات میں یہ یقین دہانی کروائی جارہی ھے کہ کلب میں گے یا نان گے ممبرز کو بوس و کنار کے علاوہ سیکس نہ کرنے کی باقاعدہ وارننگ دیوار پر آویزاں کی جائینگی اور اس کلب کا قیام باقاعدہ طور پر بنیادی انسانی حقوق سے ہم آہنگ ہے،اراکین اور غیر اراکین دونوں کے لیے یہ کلب کھلا رہے گا جس میں اراکین کو قدرتی طور پر زیادہ سہولیات دستیاب ہونگی یہ کلب ایبٹ آباد اور ملک کے دیگر حصّوں میں رہنے والے کچھ ہم جنس پرست لوگوں کے لیے ایک بڑی عملی سہولت اور وسیلہ بنے گا۔

    ڈپٹی کمشنر آفس ایبٹ آباد کی جانب سے اس درخواست کی وصولی کی تصدیق کی گئی ہے تاہم زبانی طور پر ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے یہ کہا جا رہاہے کہ ایسی کسی درخواست پر عمل درآمد نہیں کیا جائیگا تاہم اس زبانی بیان کے باوجود یہ درخواست بجائے مسترد کرنے کے آگے فارورڈ کردی گئی ۔

    خیبر پختونخواہ کے شہر ایبٹ آباد میں ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست پر جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا رد عمل سامنے آیا ہے

    جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت ہی شرمناک ہے قوم کے لئے،انہی اعمال پر اللہ تعالیٰ نے بستیاں الٹ دی تھی، پتھروں کی بارش ہوئی تھی اور عذاب آیا تھا، اب ہم اس حد تک گر چکے ہیں کہ معاشرے میں ہم جنس پرستی کے کلب قائم کرنے کی اجازت مانگی جا رہی ہے،یہ معاملہ صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ کچھ افراد کی حد تک بات ہے، جب ٹرانس جینڈر ایکٹ آیا اسوقت جماعت اسلامی کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ یہ عالمی ایجنڈہ ہے اور تباہی ہمارے معاشرے کی طرف بڑھ رہی ہے ہم معیشت کو ٹھیک کرنے، سود ختم کرنے کی طرف قدم بڑھانے کی بجائے آئی ایم ایف سے بھیک مانگنے کا راستہ اختیار کر رہے ہیں تو یہ الحاد اور بے دینی اس کا حصہ ہے، وہ چاہتے ہیں ہم اسکو اپنا لیں اور اللہ کے غضب کو دعوت دیں،

    ہم جنس پرستی کلب کے قیام کی درخواست ،ذمہ داروں کو عبرت کا نشان بنایا جائے، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ
    ڈاکٹر فرید احمد پراچہ کا کہنا تھا کہ ضروری تھا کہ جیسے ہی ڈی سی کے پاس درخواست آئی تھی تو ایسے لوگوں کی گرفتاری کی جاتی، ان پر دہشت گردی کا پرچہ کروایا جاتا اور انکو جیلوں میں ڈالا جاتا، حکومت کو چاہئے کہ مکمل چھان بین کرے، کسی طرح علماء کرام معاشرے میں اس طرح کے کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، میڈیا بھی اس ضمن میں کردار ادا کرے، اس برائی کے خاتمے کے لئے سب کو کردار ادا کرنا ہو گا، کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، انہوں نے ریاست مدینہ کا نعرہ لگایا تھا اب انہیں اس سلسلے میں اپنا ایک کردار ادا کرنا چاہئے، جو بھی اسکے ذمہ دار ہیں انہیں عبرت کا نشان بنایا جائے.

    پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ہم جنس پرست کلب کے قیام کی درخواست پر سوشل میڈیا پر صارفین کا ردعمل سامنے آیا ہے،ایک صارف قمر سہیل کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے باسیوں کے لیے خوشخبری۔ایبٹ آباد میں "گے” کلب کھولنے کی اجازت کے لیے درخواست دائر کر دی گئی۔ عنقریب دوسرے شہروں میں بھی اسکی برانچیں لانچ ہوں گی تا مسلمانوں کے ملک میں قوم لوط کے پیروکار اپنی غلاظت زدہ ذندگی انجوائے کر سکیں۔ پریتم گھانی سے مجھے شکایت نہیں۔ مجھ شکایت مولانا ابتسام جیسے دین کے ٹھیکیداروں سے ہے۔ ویسے امید ہے اس شکایت کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ جب گے ملک کا وزیراعظم ہو گا تب ملک میں لوطی کلب ہی کھلیں گے نمل اور قادر جیسی یونیورسٹیاں نہیں۔

    شہاب الدین نے ٹویٹر پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اسلامی، آئینی و قانونی نکات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایبٹ آباد انتظامیہ نے ہم جنس پرست افراد کے لیے کلب قائم کرنے کی درخواست کو خارج کرکے فائل بند کر دیا. اس سلسلے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد عباس آفریدی نے مذکورہ درخواست کو اسلامی، آئینی و قانونی تناظرمیں خارج کردیا۔

    عمران خان نے شیر افضل مروت کو ملنے سے انکار کر دیا

    پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت ہے راجواڑہ نہیں،شیر افضل مروت پھٹ پڑے

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بارے پارٹی رہنماؤں نے ہی غلط بیانی کی،شیر افضل مروت

    حامد رضا کا تحریک انصاف کو اسمبلیوں سے استعفوں کا مشورہ

    شیر افضل مروت کے بھائی کو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے عہدے سے ہٹا دیا

    سعودی عرب بارے بیان پر عمران خان نے میری سرزنش کی،شیر افضل مروت

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بارے پارٹی رہنماؤں نے ہی غلط بیانی کی،شیر افضل مروت

    میرا بیان میرے ذاتی خیالات پرمبنی تھا،شیر افضل مروت

    کھینچا تانی ہو رہی، شیر افضل مروت بیرسٹر گوہر کے سامنے صحافی کے سوال پر پھٹ پڑے

    پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ملک ہے اور اسلام میں ہم جنس پرستی حرام ہے، تحقیقاتی ادارے خیبر پختونخواہ کے ضلع ایبٹ آباد کے اندر ہونے والی ان سرگرمیوں اور اس مزکورہ شخص پرٹم گیانی اور اس کے پس پشت تنظیموں یا افراد سے مکمل تحقیقات اور چھان بین کریں اور ایسے کسی بھی امور کی اجازت دے کر عذاب الہیٰ کو دعوت نہ دیں.

    سوتیلے باپ نے لڑکی کے ساتھ کی زیادتی، ماں‌نے جرم چھپانے کیلیے کیا تشدد

    کم عمر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کے شوقین جعلی عامل کو عدالت نے سنائی سزا

    کاروبار کے لئے پیسے نہ لانے پر بہو کو کیا گیا قتل

    16 خواتین کو نازیبا و فحش ویڈیو ،تصاویر بھیج کر بلیک میل کرنے والا گرفتار

    دوران پرواز 16 سالہ لڑکی کو ہراساں کرنیوالے کو ملی سزا

    کپڑے اتارو،مجھے…دکھاؤ، اجتماعی زیادتی کا شکار لڑکی کو مرد مجسٹریٹ کا حکم

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    برطانیہ؛ہم جنس پرست جوڑے کو ہراساں کرنے والے باس پر کروڑوں روپے جرمانہ

    ہندوستان ایک ہم جنس پرست ملک ہے آیوشمان کھرانہ

    ہم جنس پرست خواتین ڈاکٹرز نے آپس میں منگنی کر لی

    ہم جنس پرستی یا دو ہم جنس افراد کے درمیان جنسی تعلق قائم کرنا پاکستانی قوانین کے مطابق جرم ہے،تعزیراتِ پاکستان کے ساتھ ساتھ اسلامی قوانین کے تحت بھی ایسے افراد کے لیے سزائیں مقرر کی گئی ہیں،عام طور پر پاکستان میں موجود ہم جنس پرست افراد اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتے۔ اللہ تعالی نے انسان میں جنسی خواہش رکھی اور اس کو پورا کرنے کا طریقہ بھی بتایا، یعنی مرد عورت ایک دوسرے سے نکاح کرکے ایک دوسرے سے جنسی تسکین حاصل کریں اور اپنی زندگی پاک دامنی کےساتھ گزاریں، اللہ تعالی نے اس نکاح کو باعث اجر بنایا ہے اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نصف دین کی تکمیل بتایا ہے ، اللہ تعالی نے اس کے علاوہ ہر قسم کے غیر شرعی طریقہ کو حرام قرار دیا ہے اور آخرت کے سخت عذاب کا مستوجب قرار دیا ہے اورجنسی تسکین کے غیر شرعی طریقوں پر شریعت میں دنیاوی سزائیں بھی متعین ہیں،ہم جنس پرستی جنسی خواہش کے پورا کرنے کا غیر شرعی اور غیر فطری طریقہ ہے، اسی گناہ کی بناء پر لوط علیہ السلام کی قوم کو اللہ تعالی نے سخت عذاب دیا تھا اور شریعت میں بھی ہم جنس سے استمتاع کرنے والے کے لیے سخت سزا متعین کی گئی ہے لہذا ہم جنس پرستی سخت حرام اور بہت بڑا گناہ ہے اس سے کامل اجنتاب کرنا ضروری اور لازم ہے۔

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    تجوری ہائٹس کا پلاٹ گورنر سندھ کی اہلیہ کے نام پر تھا،سپریم کورٹ میں انکشاف

    چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    ضمنی انتخابات میں مریم نواز کا جادو کیسے چلا؟ اہم انکشافات

    مریم نواز نے پولیس وردی پہنی،عثمان انور نے ساڑھی کیوں نہیں پہنی؟ مبشر لقمان کا تجزیہ

    ہم جنس پرستی جس طرح انسان کی روحانی زندگی کے لیے سم قاتل ہے، ایسے ہی انسان کی جسمانی زندگی کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ اور خطرناک ہے۔ جدید طبی تحقیقات کے مطابق ایڈز ایک ایسی بیماری ہے جو اس بد چلنی کی وجہ سے پھیلتی ہے ،یہ ہمارے جسم کے دفاعی نظام کو کمزور کر دیتی ہے، اس بیماری نے حال ہی میں ان تمام ممالک میں تہلکہ مچادیا ہے جن میں ہم جنس پرستی اور فحاشی کو برا نہیں جاناجاتا ہے

    یورپ ہم جنس پرستی میں پاگل،پاکستان،روس اس پاگل پن کے مخالف ہیں،روسی سفیر

    ہم جنس پرستی کو پاکستان میں قانونی تحفظ،مخالفت کریں گے،زاہد محمود قاسمی

    ہم جنس پرستی کے مکروہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش شرمناک ہے، تنظیم اسلامی

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

    مجھے نہیں لگتا کہ وفاقی حکومت ہم جنس پرستی کی حمایت کرے گی ؟جسٹس سید محمد انور

    ہم جنس پرست خواتین ڈاکٹرز نے آپس میں منگنی کر لی

    طالب علم سے زیادتی کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزم گرفتار

    ملازمت کے نام پر لڑکیوں کی بنائی گئیں نازیبا ویڈیوز،ایک اور شرمناک سیکنڈل سامنے آ گیا

    200 سے زائد نازیبا ویڈیو کیس میں اہم پیشرفت

    نازیبا ویڈیو سیکنڈل،پولیس لڑکیوں کو بازیاب کروانے میں تاحال ناکام

    ہم جنس پرستی حرام، لیکن افسوس کے ساتھ پاکستان کے مدارس میں ہم جنس پرستی، بچوں کے ساتھ بدفعلی کے واقعات سب سے زیادہ دیکھنے میں آئے ہیں آئے روز کوئی نہ کوئی ایسی خبر سامنے آتی ہے کہ مدرسے میں مولانا نے بچے کے ساتھ بدفعلی کی، بلکہ ابھی چند دن قبل تو حد ہی ہو گئی، لاڑکانہ میں ایک مولانا مسجد کے محراب میں بچے کی ٹانگیں اٹھا کر بدفعلی کر رہے تھے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو مولانا کو گرفتار کر لیا گیا، لاہور میں مفتی عبدالعزیز کا کیس کافی مشہور ہوا تھا جس میں‌مفتی عبدالعزیز نے مدرسے میں پڑھنے والے ایک طالب علم کے ساتھ کئی بار بدفعلی کی اور اسکی ویڈیو بھی وائرل ہوئی تھیں،کالج و یونیورسٹی میں تو بے راہ روی کے نتائج ہیں لیکن ایسا کیوں ہے کہ مدارس میں بھی ایسا کام ہو رہا ہو؟تو اسکی وجہ یہ ہے کہ ان مدارس کے وہ معلم خود اس گناہ میں ملوث ہیں جو طلبا کو اپنی جنسی خواہش پوری کرنے کی لیے استعمال کرتے ہیں اور ظلم عظیم کہ خانہ خدا میں ایسے قبیح کام کرتے ہیں رفتہ رفتہ طلبا عادی ہونے لگتے ہیں اور وہ بھی اس گناہ کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں،

    شادی کیوں کر رہے؟ ہم جنس پرست حکیم نے دوستوں کو قتل کر کے اعضا کھا لئے

    ٹاٹا موٹرز کی کینٹین میں سموسوں سے کنڈوم،تمباکو،پتھرنکل آئے،مقدمہ درج

    شادی کی ضد مہنگی پڑ گئی،ملزم نے خاتون کو پارک میں زندہ جلا دیا

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    سوشل میڈیا پر دوستی،پھر عریاں تصاویر،پھر زیادتی،کم عمر لڑکیاں‌بنتی ہیں زیادہ شکار

    حاجرہ خان کی کتاب کا صفحہ سوشل میڈیا پر وائرل،انتہائی شرمناک الزام

    سوشل میڈیا پر رابطہ،دبئی ویزے کے چکر میں خاتون عزت لٹوا بیٹھی

    زبردستی دوستی کرنے والے ملزم کو خاتون نے شوہر کی مدد سے پکڑوا دیا

    دوران دوستی باہمی رضامندی سے جنسی عمل کو شادی کے بعد "زیادتی” قرار دے کر مقدمہ درج

    خاتون کو برہنہ کر کے تشدد ،بنائی گئی ویڈیو،آٹھ ملزمان گرفتار

  • پشاور متنی میں غیر قانونی اسلحہ سمگل کرنے کی کوشش ناکام

    پشاور متنی میں غیر قانونی اسلحہ سمگل کرنے کی کوشش ناکام

    پشاور تھانہ متنی پولیس کی اہم کارروائیوں کے نتیجے میں 2کے دوران بھاری تعداد میں غیر قانونی اسلحہ سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے اور 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے،ملزمان سوزوکی گاڑیوں کے زریعے بھاری تعداد میں اسلحہ پشاور سمیت دیگر اضلاع اور صوبوں کو سمگل کرنے کی کوشش کررہے تھے جس میں 66 عدد پستول، 4 عدد پستول بشکل ایم پی فور، 830 عدد مختلف میگزینز، 3 عدد بندوق، 1 عدد کلاشنکوف، 1 عدد رائفل، سینکڑوں عدد مختلف بور کے کارتوس سمیت اسلحہ سمگلنگ میں استعمال ہونے والی دو سوزوکی گاڑیاں بھی برآمد کی گئی ہے،ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی گئی ہے،جس کے نتیجے میں مزید ملزمان اور اسلحہ کی نشاندہی ہونے کا امکان ہے،

  • سہولت کاروں  کے خلاف خیبر پختونخواہ کی پولیس متحرک

    سہولت کاروں کے خلاف خیبر پختونخواہ کی پولیس متحرک

    خیبرپختونخوا میں 9 مئی کے واقعات کی سہولت کاروں کے خلاف پہلا مقدمہ درج کیا گیا پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو پناہ دینے کے الزام میں کے پی کے میں سہولت کاری کرنے والوں کے خلاف پولیس متحرک، ضلع بونیر کے تھانہ گاگرہ میں سہولت کاروں کے خلاف مقدمہ دفعہ 212 پی پی سی کے تحت درج کیا گیا ہے۔مقدمے میں پی ٹی آئی بونیر کے رہنما ہشتم خان اور بختیارعلی نامزد کیے گئے ہیں، پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ ملزمان نے پولیس کو مطلوب پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو پناہ دے رکھی تھی ،یاد رہے کہ 9 مئی کو خیبر پختونخواہ کے مختلف علاقوں میں مظاہرین کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آنے کے نتیجے میں گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم اب ان لوگوں کے خلاف کاروائی عمل میں آرہی ہے جنہوں نے 9 اور 10 مئی کو تشدد اور جلاؤ گھیراؤ کرنے والو کو پناہ دی تھی یا ان کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کی تھی،

  • شمالی وزیرستان میں پولیو ٹیم پر حملہ ،ایک سیکیورٹی اہلکار شہید

    شمالی وزیرستان میں پولیو ٹیم پر حملہ ،ایک سیکیورٹی اہلکار شہید

    شمالی وزیرستان میں پولیو ٹیم پر حملہ ہوا ہے

    شمالی وزیرستان کی تحصیل سپین وام میں پولیو ٹیم پر حملہ کیا گیا، پولیس حکام کے مطابق دہشتگردوں نے پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ سے ایک سیکیورٹی اہلکار شہید اور ایک زخمی ہو گیا زخمی اور شہید اہلکار کی باڈی قریبی ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

    پی پی پی چیئرمین و وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے شمالی وزیرستان میں انسداد پولیو ٹیم پر حملے کی مذمت کی ہے،پی پی پی چیئرمین نے حملے میں انسداد پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور اہلکار کی شہادت پر اظہارِ افسوس کیا ہے، بلاول بھٹو زرداری نے شہید اہلکار کو خراج عقیدت، شہید کے اہلخانہ سے دلی تعزیت و یکجہتی کا اظہار کیا ہے، اور کہا ہے کہ امید ہے، متعلقہ حکام حملے میں ملوث دہشتگردوں کو جلد قانون کی گرفت میں لائیں گے پاکستان اپنی سرزمین سے پولیو وائرس کے ساتھ ساتھ انسدادِ پولیو مہم کے خلاف سرگرم عناصر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے

    قبل ازیں چند روزقبل بھی ضلع خیبر وادی تیراہ کے نواحی علاقہ میردرہ میں پولیو ٹیم پر نامعلوم شرپسندوں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہونیولے پولیس کانسٹیبل طیب آفریدی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوگئے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے مختلف شہروں میں بالعموم اورخیبر پختونخوا میں بالخصوص انسداد پولیو کے لیے کئے جانے والے اقدامات کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے کئی رضاکار اور پولیس اہلکار جاں بحق بھی ہوئے ہیں۔

    پولیو مہم کے خلاف پروپیگنڈہ، سات تعلیمی اداروں کے خلاف کاروائی

    سوشل میڈیا پر پولیو مخالف مواد، کتنے اکاونٹس بند ہوئے، حیران کن خبر

    خیبر پختونخواہ میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز، حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    قبل ازیں 31 اگست کو ڈی آئی خان میں انسداد پولیو مہم کے دوران کئے گئے حملے میں پولیو ٹیم کو سیکیورٹی فراہم کرنے والا پولیس اہلکار گولی لگنے سے زخمی ہو گیا تھا ،قبل ازیں یکم اگست کو پشاور کے علاقے داؤد زئی میں نامعلوم ملزمان کی جانب سے پولیو ٹیم پر فائرنگ کی گئی نامعلوم موٹرسائیکل سوار ملزمان کی فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید ہو گیا پولیس اہلکار پولیو ٹیم کے ساتھ ڈیوٹی پر مامور تھا۔ رواں برس ماہ جنوری میں خیبر پختونخواہ کے علاقے کرک میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ ہوا ،نامعلوم ملزمان کی فائرنگ سے پولیس اہلکار شہید ہو گیا ہے،یعقوب شہید تخت نصرتی کے حدود علاقہ گڑدی بانڈہ میں پولیو ٹیم پر فائرنگ ہوئی ،فائرنگ کے نتیجے میں پولیس اہلکار جان بحق ہوا ہے ،شہید پولیس اہلکار جنید اللہ امبیری کلہ میں تعینات تھے۔

  • گزشتہ چار سال میں پاکستان میں قتل ہونے والے صحافیوں کی تفصیل سینیٹ میں پیش

    گزشتہ چار سال میں پاکستان میں قتل ہونے والے صحافیوں کی تفصیل سینیٹ میں پیش

    گزشتہ چار سال میں پاکستان میں قتل ہونے والے صحافیوں کی تفصیل سینیٹ میں پیش کر دی گئی ہے.

    گزشتہ چار سال میں پاکستان میں قتل ہونے والے صحافیوں کی تفصیل سینیٹ میں پیش کر دی گئ ہے۔آج بروز جمعہ چیئرمین صادق سنجرانی کی زیرصدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جہاں گزشتہ چار سال میں قتل ہونے والے صحافیوں کی تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی، رپورٹ کے مطابق چار سال کے دوران ملک میں 42 صحافیوں کو قتل کیا گیا۔

    پنجاب میں 15 ، سندھ 11 ،خیبر پختونخواہ 13 اور بلوچستان میں 3 صحافی قتل ہوئے، پنجاب میں صحافیوں کے قتل پر 26 ملزمان کے خلاف کارروائی کی گئی جبکہ پنجاب میں صحافیوں کے قتل پر 7 ملزمان گرفتار اور 2 ضمانت پر ہیں، پنجاب میں صحافیوں کے قتل پر 5 ملزمان انڈر ٹرائل اور 8 مفرور جبکہ 3 ملزمان پولیس مقابلوں میں مارے گئے ہیں اور ایک کو بری کردیا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    جنوری2023 کیلیے 533.453ارب کا ٹیکس ہدف مقرر
    توشہ خانہ میں عمران خان کا گھٹیا کردار سامنے آیا ہے. وزیر داخلہ راناثنااللہ
    جنوبی ایشیا میں پاکستان روس کا اہم اتحادی ہے. صدر پیوٹن
    لیونل میسی کی پی ایس جی رونالڈوکی سعودی آل اسٹارزٹیم کے خلاف فتح
    وزیر خارجہ کی جنوبی افریقہ کے بین الاقوامی تعلقات اور تعاون کے وزیر سے ملاقات
    حدیقہ میمن کیس:اجتماعی زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر چار ملزمان کو عمر قید کی سزا
    ایرانی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی، دہشت گردانہ حملے پرتشویش کا اظہار
    رپورٹ کے مطابق سندھ میں 11صحافیوں کے قتل کے بعد 11ملزمان کے خلاف کارروائی کی گئی، صحافیوں کے قتل پر 4ملزمان گرفتار، 7 انڈر ٹرائل ہیں۔ جبکہ خیبرپختونخوا میں صحافیوں کے قتل کے الزام میں 13ملزمان کے خلاف کارروائی کی گئی، جن میں سے 4 ملزمان انڈرٹرائل، 2بری، ایک مفرور اور 6 متفرقات ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں صحافیوں کے قتل کے الزام میں 5ملزمان کے خلاف کارروائی کی گئی۔

  • علما کا دہشت گردوں اور دہشت گرد کارروائیوں کے خلاف فتویٰ

    علما کا دہشت گردوں اور دہشت گرد کارروائیوں کے خلاف فتویٰ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی کاروائیوں کے خلاف علماء کرام میدان میں آ گئے

    خیبرپختونخوا کے علماکرام نے دہشتگردوں اور دہشتگرد کارروائیوں کیخلاف فتویٰ دیا ہے،مختلف مکاتب فکر کے علما ء نے دہشت گردی کے خلاف واضح اعلان کیا ہے، دارالعلوم سرحد پشاور، جامعہ دارالعلوم حقانیہ، تنظیم المدارس، وفاق المدارس العربیہ، ربط المدارس، وفاق المدارس اسلفیہ، وفاق المدارس الشیعہ،جامع تعلیم القران، علما ء کونسل خیبر پختوانوہ نے دہشت گردکاروائیوں کو مسترد کر دیا ،علماء نے حالیہ اسلام آباد کے نام نہاد عالم اور دہشت گرد تنظیم کے سربراہ کے حوالے سے اپنا واضح موقف دیا

    عثمان بزدار کے گرد گھیرا تنگ،مبشر لقمان نے بطور وزیر بیورو کریسی کیلئے کیسے سٹینڈ لیا تھا؟ بتا دیا

     پنجاب میں سال 2022 کے دوران سیاسی کشیدگی عروج پر رہی،

    تحریک انصاف کا پنجاب اسمبلی سے بھی استعفوں پرغور

    میڈیا رپورٹس کے مطابق مختلف مکاتب فکر کے علماء نے دہشتگردی کے خلاف واضح اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاد کا اعلان اسلامی ریاست کا سربراہ کر سکتا ہے ہر شخص کو جہادکے اعلان کا حق نہیں علما کرام نے کہا ہے کہ قانون کی پاسداری سے گریز شرعاً ناجائز ہے خیبر پختونخواہ کے علماء کرام نے جاری فتوی میں مزید کہا کہ اسلامی ریاست کے اندر تخریب کاری اور فساد پھیلانا شریعت کی رو سے جائز نہیں اسلامی ریاست کا دفاع کرنے والے پولیس اور فوجی اہلکاروں کیخلاف ہتھیار اٹھانا جائز نہیں جو شخص ایسا کرے گا وہ پاکستان کے دستور قانون سے بغاوت ہو گا اور جو ایسا کرے گا وہ سزا کا مستحق ہو گا۔ جو گروہ بغاو ت کر رہا ہو اُس سے اُس وقت تک لڑو جب تک وہ اللہ کے حکم کی طرف واپس نہ آجائے۔

  • کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    محکمہ موسمیات کاکہنا ہے کہ پاکستان کے بالائی اور وسطی علاقوں میںآنے والی بارشوں سے مون سون کا سلسلہ شروع ہو چکاہے جبکہ اس سال ملک کے مختلف علاقوں میں 10سے 30فیصد تک زیادہ بارشیں ہونے کی توقع ہے۔رواں سال صوبہ پنجاب اور سندھ میں زیادہ بارشیں ہوں گی جبکہ باقی تمام علاقوں میں بھی معمول سے کچھ زیادہ بارشیں ہوں گی۔پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کی وارننگ جبکہ صوبہ سندھ، پنجاب، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ کے علاوہ بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد سمیت دوسرے شہروں میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ رواں سال ملک میں معمول سے زیادہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں پاکستان کو 2010 جیسی سیلابی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔
    انسان کو خدانے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن میں سب سے قیمتی اور ضروری نعمت پانی ہے ۔ انسان پانی کے بغیرچنددن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا،ہمارے جسم کا دو تہائی حصہ پانی پرمشتمل ہے۔ پانی ایک اہم غذائی جزوہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ پانی زندگی ہے تویہ غلط نہ ہوگا،انسان کی تخلیق سے لے کر کائنات کی تخلیق تک سبھی چیزیں پانی کی مرہون منت ہیں۔ قرآن کریم میں ہے۔ وجعلنا من الماِ کل شی حی افلا یو منون۔(ترجمہ)اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے (سورہ انبیا ، آیت30 ) دوسری جگہ قرآن مجیدمیں اعلا ن فرمایا(ترجمہ)اور اللہ نے زمین پر ہرچلنے والا پانی سے بنایا تو ان میں کوئی اپنے پیٹ پر چلتاہے اور ان میں کوئی دو پائوں پر چلتا ہے اور ان ہی میں کوئی چار پائوں پر چلتاہے۔ اللہ بناتا ہے جو چاہے،بے شک اللہ سب کچھ کر سکتاہے۔(سورہ نور)اسی کرہِ ارض یعنی زمین پر جتنے بھی جاندار ہیں خواہ انسان ہوں یا دوسری مخلوق ان سب کی زندگی کی بقا پانی پر ہی منحصر (Depend) ہے ۔زمین جب مردہ ہوجاتی ہے تو آسمان سے آبِ حیات بن کر بارش ہوتی ہے اور اس طرح تمام مخلوق کے لئے زندگی کا سامان مہیا کرتی ہے۔
    پانی جہاں زندگی کی علامت ہے وہیں بارشوں اور سیلاب کی صورت میں کئی انسانی جانوں کے ضیاع کا بھی موجب ہے،بارشیں زیادہ ہونے سے دریائوں اور جھیلوں میں جب پانی گنجائش سے بڑھ جاتا ہے توان کے کناروں سے باہر آجاتا ہے جوسیلاب کاباعث بنتاہے،جس سے ہزاروں پاکستانی متاثرہوتے ہیں ،اس سیلاب سے قیمتی انسانی جانیں موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں، فصلیں اور مال مویشی سب کچھ اس سیلاب کی نظرہوجاتے ہیں،حالانکہ محکمہ موسمیات سیلاب کی پیشگی وارننگ جاری کرتا ہے ،مگراس سیلاب سے بچائوکیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جاتے ،جن علاقوں میں سیلاب کاخطرہ زیادہ ہوتا ہے وہاں پر ڈی سی اورکمشنرصاحبان وزٹ کرکے صرف فوٹوسیشن کرکے اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں ،یہ نہیں دیکھاجاتاکہ محکمہ انہارکے آفیسران کیاگل کھلارہے ہیں،اس سیلاب سے بچائوکیلئے سپربندوں کے پشتے مضبوط بنانے کیلئے فرضی بلنگ اورفرضی ٹھیکے دیکربڑی کرپشن کی جاتی ہے۔ان کرپشن میں لتھڑے ناسوروں کے خلاف آج تک کوئی ایسی کارروائی دیکھنے کونہیں ملی جس میں ان لوگوں کوکوئی عبرت ناک سزادی گئی ہوتاکہ آئندہ ان سیلابوں سے ہونے والے نقصانات سے مملکت پاکستان کے باسیوں کوبچایاجاسکے۔
    ہرسال سیلاب سے ہماراکسان سب سے زیادہ متاثرہوتا ہے،یہ سیلابی پانی اپنے ساتھ فصلات ،مویشی اورپختہ سڑکیں، تعمیر اور ترقی کو بہا کرلے جاتاہے جبکہ ہر سال ہی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ سیلاب کا باعث بننے والے پانی کو ذخیرہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ ہر سال جولائی سے ستمبر تک مون سون بارشیں اپنے ساتھ سیلاب لاتی ہیں لیکن حالیہ برسوں میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ غیر معمولی صورتحال کاسامنا کرناپڑرہاہے۔اس وقت پاکستان کی زرخیز زرعی زمینیں پانی کی کمی کی وجہ سے صحرا میں تبدیل ہو رہی ہے۔پاکستان میں ایک روایت سی بن گئی ہے کہ ہر سال مون سون سیزن سے پہلے وفاقی اور صوبائی سطحوں پر ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا جاتا ہے ،ان ہنگامی صورت حال کے اعلان سے کرپشن کا ایک ناختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوجاتاہے ،میٹنگ درمیٹنگ اورسائٹ وزٹنگ کی دوڑشروع ہوجاتی ہے ،دفتری فائلوں کے پیٹ بھرجاتے ہیں، اِس سے زیادہ اورکچھ نہیں کیا جاتا۔جب مون سون سیزن کے دوران تباہی و بربادی ہوچکی ہوتی ہے تو حسب روایت حکومتی مشینری حرکت میں آ جاتی ہے اور قومی خزانے سے کروڑوں روپے محض آنیوں اور جانیوں پر خرچ کر دیے جاتے۔ اگر یہی وسائل بارشوں اور سیلابی بربادی سے پہلے منصوبہ بندی کے تحت لگائے جائیں اور ماہر انجینئرز اور سائنسدانوں اور ماہر تعمیرات کے تجربات سے استفادہ کیا جائے تو یقینا حکومت کا سب سے احسن اقدام ہو گا۔
    یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ممکنہ حالات سے بچائو کے لیے حکومتِ پاکستان نے اب تک کیا حکمت عملی اختیار کی ہے۔ پاکستان میں عوام کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں، اعلی حکومتی شخصیات اور اداروں کی غفلت و لا پرواہی کے نتائج گذشتہ سالوں میں آنے والے سیلاب کے دوران قوم بھگت چکی ہے۔حکومت کی جانب سے سیلاب سے نمٹنے اور سیلابی پانی کو نئے آبی ذخائر میں محفوظ کرنے کے لیے کسی قسم کی کوئی پالیسی یا منصوبہ بندی سامنے آئی نہ ہی کبھی مستقل بنیادوں پر کسی قسم کے کوئی ٹھوس اقدام ہی اٹھائے گئے، ہمیشہ جب سیلاب سر پر آ جاتا ہے اور اپنی غارت گری دکھاتا ہے تو نمائشی اقدامات کرکے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
    پاکستان میں دستیاب اعدا وشمار کے مطابق 2010میں سیلاب سے تقریبا دو کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں80 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ پانچ لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ ضلع مظفرگڑھ میں سب سے زیادہ مکانات یعنی ساٹھ ہزار کو سیلابی پانی نے نقصان پہنچایا۔ رحیم یار خان اور گجرات دوسرے نمبر پر ہیں جہاں تیرہ ہزار مکانات تباہ ہوئے۔ اس کے علاوہ بھکر، ڈیرہ غازی خان، حافظ آباد، خوشاب، لیہ، میانوالی اور راجن پور بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخواہ میںایک ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں،ڈیرہ اسماعیل خان کی آبادی سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ،تقریبا چار سو دیہات کی چھ لاکھ آبادی کو سیلاب سے نقصان پہنچا، نوشہرہ کے سو سے زائد دیہات کی پونے پانچ لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا،چارسدہ کے80 دیہات کی ڈھائی لاکھ آبادی متاثر ہوئی،خیبر پختونخواہ کے شمالی اضلاع جن میں کوہستان، سوات، شانگلہ اور دیر شامل ہیں بعض علاقوں تک ایک ماہ گزر جانے کے باوجود زمینی رابطے بحال نہیں ہوسکے تھے۔سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے 36 لاکھ سے زائدآبادی متاثرہوئی،جیکب آباد کی سات لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا۔کشمور میں 6 لاکھ سے زائد افرادمتاثرہوئے۔ شکارپور، سکھر، ٹھٹہ اور دادو میں بھی متاثرین کی تعداد لاکھوں میںتھی۔صوبہ سندھ میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد70سے زیادہ تھی۔ سندھ میں چار لاکھ باسٹھ ہزار مکانات کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا تھا۔بلوچستان جوکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے میں تقریبا سات لاکھ لوگ متاثر ہوئے اور76 ہزار مکانات کو نقصان پہنچاتھا،کشمیر اور گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر تقریبا تین لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے اور نو ہزار مکانات کو نقصان پہنچا تھا۔
    موجودہ حالات میں ہماری قوم مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں تباہ حالی کا شکار ہے اوراس قابل نہیں ہے کہ ممکنہ طورپرآنے والے سیلاب کامقابلہ کرسکے ،ہمارے حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرناچاہئے، ملک کو بحرانوں اورعوام کو ممکنہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر عملی اقدامات مکمل کرنے کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے شاید کبھی نہیں تھی ، حکومتِ وقت کو کمیٹیاں بنانے اور نوٹس لینے کی بھونڈی باتوں سے نکلناہوگا کہیں ایسانہ کہ حکومت اقدامات کرتی رہے اور پانی ایک بار پھر سر سے گزر جائے اورعوام کو دوبارہ 2010ء کی طرح سیلاب کی تباہ کاریوں کاسامناکرناپڑے،سب کچھ اپنے ساتھ بہاکرلے جائے۔

  • الیکشن کمیشن سے ووٹوں کی منتقلی پر تفصیلات مانگنے کی استدعا کردی۔ پرویز خٹک

    الیکشن کمیشن سے ووٹوں کی منتقلی پر تفصیلات مانگنے کی استدعا کردی۔ پرویز خٹک

    تحریک انصاف نے صوبائی الیکشن کمیشن سے ووٹوں کی منتقلی سے متعلق تفصیلات مانگنے کی استدعا کردی ہے۔

    تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے صدر پرویز خٹک نے الیکشن کمیشن کو ایک خطہ بھیجا ہے جس میں خیبرپختونخواہ میں ووٹوں کی منتقلی بارے تفصیلات مانگنے کی استدعا کی ہے۔

    نجی چینل جیو نیوز کے مطابق: تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے صدر اور سابق وزیر دفاع پرویز خٹک نے لکھا ہے کہ شکایات ملی ہیں کہ الیکشن کمیشن نے حکومت کی ملی بھگت سے اکثر ووٹ دوسرے حلقوں میں منتقل کردیے تھے جس سے ان کی جماعت تحریک انصاف کو نقصان پہنچانے کے لیے بغیر اجازت اور انکی منشاء کے متعدد ووٹرز کو دوسرے حلقوں میں منتقل کر لیا گیا ہے۔

    انہوں نے خط میں مزید پوچھا ہے کہ: الیکشن کمیشن نے تعداد میں کل کتنے ووٹرز کے ووٹ منتقل کیے اور کتنے ووٹرز کی اپنی مرضی یا درخواست پر ووٹ منتقل کئے گئے۔

    سابق وزیر دفاع نے خط میں الیکشن کمیشن سے ووٹرز کی منتقلی کی تفصیلات فراہم کرنے کی استدعا کی ہے۔ اور انہیں کہا ہے کہ ہمیں یہ تفصیلات فراہم کی جانی چاہئے 

  • طلبہ کو  آئینی اور جمہوری حق دیا جائے، کلیم اللہ ناظم اسلامی جمعیت طلبہ خیبر پختونخواہ

    طلبہ کو آئینی اور جمہوری حق دیا جائے، کلیم اللہ ناظم اسلامی جمعیت طلبہ خیبر پختونخواہ

    طلبہ یونین پر عائد پابندی ختم کرکے فی الفور طلبہ یونین کے الیکشن کرائے جائے۔اور طلبہ کو انکا آئینی اور جمہوری حق دیا جائے۔۔ان خیالات کا اظہار کلیم اللہ ناظم اسلامی جمعیت طلبہ خیبر پختونخواہ نے کیا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 37 سالوں سے طلبہ یونین پر پابندی ھے جسکی وجہ سے طلبہ اپنے آئینی وجمہوری حق سے محروم ہیں سابقہ اور موجودہ تمام حکومتوں نے اپنے منشور میں اور الیکشن کمپین میں ہمیشہ طلبہ سے آسکی بحالی پر اور اقتدار سنبھالتے ہی اسکے الیکشن کرانے کے دعوے اور وعدوں پر ووٹ لیتے ہیں لیکن اقتدار ملنے کے بعد اپنے وعدوں اور اعلانات کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام اور مکر جاتے ہیں۔۔انہوں نے کہا کہ طلبہ یونین نے 1970 سے 1980 کی دو دہائیوں میں طلبہ یونین کے پلیٹ فارم سے سیاست،سائنس،طب،انجنیئرنگ،ادب،صحافت،سمت ہر شعبے میں ملک کو بہترین قیادت اور غیر معمولی لوگ میسر کئے ہیں اور اسی پلیٹ فارم سے جانے والے افراد نے دنیا بھر میں نہ صرف لوہا منوایا ھے بلکہ ان لوگوں کی ملک کیلئے گراں قدر حدمات بھی ہیں انہوں نے کہا کہ طلبہ یونین پر پابندی کے بعد تعلیمی ادارے بالحصوص جامعات کی فضا میں میں بے چینی، انتہاپسندی، عدم برداشت، لسانیت، صوبائیت پر مبنی پرتشدد رویوں نے جنم لیا ھے لہذا حکومت فوری طور پر تعلیمی اداروں کو امن کا گہوارہ اور غیر نصابی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کیلئے جلد از جلد طلبہ یونین کو بحال کرکے انکے الیکشن کرائے۔۔انہوں کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ طلبہ یونین کی بحالی اور الیکشن کے انعقاد کیلئے اپنی جدوجہد کو جاری رہ کینگ