Baaghi TV

Tag: خیبر پختونخوا

  • 50 ارب روپے کا قرضہ اتار دیا، علی امین گنڈاپور کا دعویٰ

    50 ارب روپے کا قرضہ اتار دیا، علی امین گنڈاپور کا دعویٰ

    پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک سال میں 50 ارب روپے کا قرضہ اتار ریا۔

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اضافی ٹیکس لگائے بغیر ریونیو میں اضافہ کیا۔ جبکہ ہم نے اقتدار سنبھالا تو صوبے کے پاس تنخواہوں کے پیسے موجود نہیں تھے۔ ہم نے ایک سال میں 50 ارب روپے کا قرضہ اتار دیا۔ اور جامعات کو فنڈنگ کر رہے ہیں۔ صوبے میں لیگل مائننگ سے 5 ارب روپے آمدن آئی۔ اور ہماری لائن بچھ جائے گی تو انڈسٹری کو سستی بجلی دیں گے۔

    علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ہم نے اسکالرشپس اور طلبا کے وظائف میں اضافہ کیا ہے۔ جبکہ وہ اقدامات اٹھا رہے ہیں جن سے صوبہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گا۔امن و امان کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے تو یہ بتائیں صوبے کے امن کے حالات کیوں خراب ہوئے؟ پی ٹی آئی دور میں دہشتگردی کے واقعات میں کمی آئی تھی۔ اور خیبرپختونخوا کی پولیس دہشتگردی کا مقابلہ کر رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ ہمارا حق ہے۔ اور کوئی ہماری پولیس پر تنقید کرے گا تو برداشت نہیں کریں گے۔ وفاق کچھ پیسے ابھی اور کچھ بعد میں دے دے۔پرویز خٹک کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں پرویز خٹک کی طرح 1680 ارب روپے کو 80 ارب نہیں بناسکتا۔ سب سے پہلے عوام میں اپنا اعتماد بحال کریں۔ اور ہمارا ایسا صوبہ ہے جو قرضہ لیں گے وہ واپس کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب اور سندھ کے حالات کا خیبر پختونخوا کے حالات سے موازنہ کرنا درست نہیں۔

    مشکوک ویزا پر البانیا جانے کی کوشش ، مسافر 2 ایجنٹوں سمیت گرفتار

    تحریک انصاف کا پاک فوج اور شہدا سے یکجہتی کیلئے ریلی کا اعلان

    ویرات کوہلی فیملی پروٹوکولز سے متعلق بھارتی بورڈ پر برس پڑے

  • خیبر پختونخوا میں افغان مہاجرین کےخلاف آپریشن شروع

    خیبر پختونخوا میں افغان مہاجرین کےخلاف آپریشن شروع

    خیبرپختونخوا میں ایک بار پھر افغان مہاجرین کے خلاف آپریشن شروع کرنے کی تیاریاں مکمل کرلی گئی ہے جبکہ 31مارچ کے بعد افغان مہاجرین کے خلاف آپریشن شروع کیا جائےگا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کے مطابق ذرائع کا کہناہے کہ مختلف اضلاع میں رہائش پذیر افغان مہاجرین کی جیوپرنٹنگ کاسلسلہ بھی مکمل کرلیاگیا،پشاور میں سب سےذیادہ رجسٹر اور غیر رجسڑڈ افغان مہاجرین رہائش پذیرہیں،جعلی پاکستانی کارڈ اور پاسپورٹ بنانے والے افغان مہاجرین کا ڈیٹا اکھٹا کرلیا گیاہے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سرکاری اورنجی سکولوں میں موجود افغان مہاجرین کے بچوں کی تفصیلات بھی اکھٹی کرلی،کاروبار سے وابسطہ افغان مہاجرین کی بھی جان پرتال مکمل کرلی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل فیصلہ کیا گیا تھا کہ افغان مہاجرین کو پاکستان سے واپس بھجوانے کے منصوبے کا اگلا مرحلہ، دوسرے مرحلے میں افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والوں کو واپس بھجوایا جائے گا، پاکستان میں تقریباً 8 لاکھ افراد افغان سٹیزن کارڈ پر ہیں۔قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کو بھی اسلام آباد راولپنڈی سے نکالنے کی تیاریاں شروع کردی گئیں ، وزارت داخلہ نے وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد شروع کردیا۔افغان شہریوں کی وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی سے منتقلی کیلئے 31مارچ کی ڈیڈ لائن ہے۔

    چین کا امریکی زرعی مصنوعات پر اضافی 15 فیصد محصولات کا اعلان

    آئی پی ایل پلیئرز کے فیملی ممبران پر نئی پابندی لگ گئی

    مرکزی مسلم لیگ کراچی کا سحروافطار میں گیس لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار

    عاقب جاوید ہیڈ کوچ بننے کیلئے پس پردہ مہم چلا رہے تھے، سابق کوچ کا انکشاف

  • خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں اسٹڈی ٹور، پکنک پر پابندی

    خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں اسٹڈی ٹور، پکنک پر پابندی

    خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں اسٹڈی ٹوور اور پکنک پر پابندی کر دی گئی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ڈائریکٹوریٹ آف ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن خیبر پختونخوا کی جانب سے اعلامیہ جاری کر دیا گیا، جس کے مطابق محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نے تعلیمی اداروں میں ہر قسم کے اسٹڈی ٹور اور پکنک پر پابندی عائد کی گئی ہے۔محکمہ تعلیم کے افسران، پرائمری، مڈل، ہائی اور ہائیر سیکنڈری اسکولوں کے سربراہان کو عملدرآمد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    اس سے قبل خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے اس اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرکے "عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم” رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ شاہی باغ میں واقع اس اسٹیڈیم کے حوالے سے لیا گیا، جس کے بعد اب خیبرپختونخوا کی کابینہ آج (جمعہ) کو اس فیصلے کی باضابطہ منظوری دے گی۔اس نام کی تبدیلی کے معاملے پر اب کئی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ارباب نیاز کے صاحبزادے، ارباب شہزاد، جو سابق چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا اور سابق مشیر عمران خان بھی رہ چکے ہیں، اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ایک ناکام کوشش ہے جس کے ذریعے دادا کے نام کو تبدیل کر کے عمران خان کو خوش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    کرم میں کشیدہ صورتحال کے پیش نظر انتظامی افسران کے تبادلے

    عوام پاکستان سوچ اور فکر کی جماعت ہے،شاہد خاقان عباسی

    کراچی: خونی ڈمپر و ٹینکر مافیا کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاج

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی لمز یونیورسٹی کےطلباء کے ساتھ نشست

    نرگس فخری کی بوائے فرینڈ کیساتھ خاموشی سے شادی ؟تصاویر وائرل

  • خیبر پختونخوا :سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں7 خارجی ہلاک

    خیبر پختونخوا :سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں7 خارجی ہلاک

    خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران 7 خارجی ہلاک اور 3 زخمی ہو گئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں آپریشن کیا۔ڈیرہ اسماعیل خان میں کارروائی کے دوران 3 خارجی ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔ جبکہ شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں آپریشن کے دوران 4 خارجی ہلاک اور 3 زخمی ہوئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں ممکنہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔

    دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے فتنہ الخوارج کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم سیکیورٹی فورسز کو سلام پیش کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پر عزم ہیں۔

    کے ایم سی کی تمام پارکنگ مفت کرنے کا فیصلہ

    سندھ حکومت کا 30اضلاع میں سندھ پنک گیمزکرانے کا اعلان

    نیوزی لینڈ کے کھلاڑی رویندرا جنوبی افریقا کیخلاف میچ سے باہر

    ٹرمپ،پیوٹن ٹیلیفونک رابطہ، یوکرین جنگ خاتمے پر آمادگی

  • اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ خیبر پختونخوا کی تشکیل نو کا فیصلہ

    اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ خیبر پختونخوا کی تشکیل نو کا فیصلہ

    پشاور: اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ خیبر پختونخوا کی تشکیل نو کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے تحت نئی اتھارٹی قائم کی جائے گی۔

    باغی ٹی وی: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی زیر صدارت اجلاس میں اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی تنظیمی تشکیل نو کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نئے ایکٹ کے تحت اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کی جگہ خود مختار اینٹی کرپشن اتھارٹی قائم کی جائے گی۔

    اجلاس کو اینٹی کرپشن فورس اور مجوزہ ایکٹ کے مختلف پہلوؤں پر بریفنگ بھی دی گئی، مجوزہ ایکٹ وائٹ کالر کرائم کے سدباب کے لیے ایک مؤثر اور جامع قانون ہو گا، مجوزہ قانون کے تحت اینٹی کرپشن کی اپنی فورس قائم کی جائے گی، نئے تنظیمی ڈھانچے کے تحت 6 ریجنل اور دو سب ریجنل دفاتر قائم کیے جائیں گے۔

    کینیڈاکا ٹرمپ پر جوابی وار،امریکی درآمدات پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

    وزیر اعلیٰ کو بتایا گیا کہ مجوزہ ایکٹ قومی و بین الاقوامی سطح پر کرپشن کے خلاف حکمت عملی کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے، جھوٹی شکایت کے اندراج اور تحقیقات میں بددیانتی کے خلاف بھی سزا دی جائے گی جبکہ گواہوں کو تحفظ دیا جائے گا اور فورس کے اندر احتساب کا ٹھوس نظام موجود ہوگا۔

    زمین سے عنقریب ٹکرانے والے سیارچے کی نگرانی شروع

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق اینٹی کرپشن کے نظام کو مضبوط اور مؤثر بنایا جا رہا ہے، اینٹی کرپشن کے ادارے کو نئے خطوط پر استوار کرنے سے بدعنوانی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

    اسرائیل کا مغربی کنارے میں فلسطینیوں کا قتل عام

  • سراج الحق کی خیبر میں امن کے قیام کے لیے تعاون کی پیشکش

    سراج الحق کی خیبر میں امن کے قیام کے لیے تعاون کی پیشکش

    سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق سے بیرسٹر سیف اور سینئر سیاستدان محمد علی درانی نے ملاقات کی، جس میں صوبہ خیبر پختونخوا میں امن کی صورتحال اور اس کے لیے ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر سیف نے سراج الحق کو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے امن کے حوالے سے ہونے والے مشاورتی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی، جس پر سراج الحق نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کے لیے ہم ہر طرح کے تعاون کے لیے تیار ہیں۔ اگر صوبے میں امن کے لیے ایک ہزار جرگے کرنا پڑیں تو وہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات میں خرابی کو خیبر پختونخوا کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا سب سے زیادہ اثر صوبہ خیبر پختونخوا پر پڑے گا۔

    سراج الحق نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے میں امن کے قیام کی ذمہ داری وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر ہے۔ انہوں نے بدامنی اور دہشت گردی کے حوالے سے کہا کہ “لاشوں اور بدامنی پر سیاست نہیں ہونی چاہیے”۔سراج الحق نے مزید کہا کہ گذشتہ عرصے میں بدامنی کے باعث سب سے زیادہ نقصان خیبر پختونخوا کو ہوا، اور اس کا تدارک کرنے کے لیے حکومت اور دیگر اداروں کو سنجیدہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    شمالی کوریا کااسٹریٹجک کروز میزائل کا تجربہ

    پاکستان میں پہلی بار شعبہ صحت میں اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال

    حکومت سندھ کی ترجمان کا وزیر اعلیٰ کے خلاف ہرزہ سرائی پر ردعمل

    اساتذہ کا احتجاج، سندھ میں 2 روز تدریسی عمل معطل رکھنے کا اعلان

  • سیکیورٹی فورسز کا خیبر پختونخواہ میں آپریشن، 30 خوارج ہلاک

    سیکیورٹی فورسز کا خیبر پختونخواہ میں آپریشن، 30 خوارج ہلاک

    سکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا میں 3 مختلف کارروائیاں کرتے ہوئے 30 خوارج کو ہلاک کردیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر خوارج کے خلاف آپریشنز کیے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے ضلع لکی مروت میں انٹیلیجنس بنیادوں پر آپریشن کیا جہاں 18 خوارج ہلاک، 6 زخمی ہوئے۔سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ضلع کرک میں بھی آپریشن کیا جہاں فائرنگ کے تبادلے میں 8 خوارج دہشت گرد مارے گئے۔دوسری جانب سکیورٹی فورسز نے ضلع خیبر کے علاقے باغ میں آپریشن کیا، سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 4 خوارج دہشت گرد ہلاک جبکہ 2 زخمی ہوگئے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق مارے گئے خوارج دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا۔ ہلاک دہشت گردوں میں خوارجی سرغنہ عزیز الرحمان عرف قاری اسماعیل اور دہشت گرد مخلص شامل تھا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کےلیے پُرعزم ہیں۔

    کے پی کے میں کرپشن ہی کرپشن ہے، مولانا برس پڑے

    صنعتوں کیلئے گیس کی قیمت میں اضافے کی منظوری

    تحریک انصاف کا مولانا فضل الرحمان سے رابطہ، سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

    رجب بٹ کے بعد ٹک ٹاکر ذوالقرنین بھی گرفتار

  • کے پی کے میں کرپشن ہی کرپشن ہے، مولانا برس پڑے

    کے پی کے میں کرپشن ہی کرپشن ہے، مولانا برس پڑے

    جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میرے آگے علی امین گنڈاپور کی کوئی حیثیت نہیں۔ خیبر پختونخوا میں کرپشن ہی کرپشن ہے۔

    جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں کے عوام ہماری بات سنتے ہیں۔ لیکن ہم چاہتے ہوئے بھی قبائلی علاقوں میں نہیں جا سکتے۔ ہم کسی صورت بھی ظلم اور جبر کے ساتھ نہیں ہیں۔ ہم عوام کے مسائل حل کرسکتے ہیں۔ اور ہم ملک اور فوج کے خیرخواہ ہیں۔ ہم ایک اور جرگہ بلائیں گے اور لائحہ عمل طے کریں گے۔ جبکہ ہمارے خلاف نئی سازش رچائی جارہی ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں امن کے لیے تمام توانائیاں خرچ کی ہیں۔ جبکہ قبائلی علاقوں کے عوام پریشان ہیں اور اپنے علاقے چھوڑ رہے ہیں۔ اور جو آپ کو سبز باغ دکھائے گئے تھے امید ہے آپ ان باغوں میں گھومتے ہوں گے۔ تمام مکاتب فکر کا مؤقف ہے کہ اسلحے کا استعمال نہیں کرنا۔ اور جن علاقوں میں امن تھا وہاں بھی اب وحشت ہے۔ قبائلیوں کو جو سبز باغ دکھائے گئے تھے وہ پورے نہیں ہوئے۔ اور قبائلی علاقوں سے جتنے فنڈز کا وعدہ ہوا تھا وہ پورا نہیں کیا گیا۔

    خیبر پختونخوا حکومت پر تبصرہ کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ نہ یہاں کوئی حکومت ہے اور نہ ہی امن ہے۔ خیبر پختونخوا میں کرپشن ہی کرپشن ہے۔ پہلےجہاں امن تھا آج وہاں بدامنی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) 100 بار آئے ہم خوش آمدید کہتے ہیں۔ ہمارا انضمام کا فیصلہ غلط تھا اور میرا پہلے دن سے یہی مؤقف رہا ہے۔ جبکہ 9 سال ہو گئے ہیں قبائل کو ان کا حق نہیں ملا۔ اور امن کے حوالے سے حکومت بتائے کہ ان کا ایجنڈا کیا ہے۔میں پریشان ہوں کہیں خطے میں جغرافیائی تبدیلی تو نہیں لائی جا رہی ہے۔ طاقت کا استعمال کسی مسئلہ کا حل نہیں۔ اور خیبر پختونخوا میں نہ امن ہے اور نہ ہی حکومت۔ 26ویں ترمیم پی ٹی آئی کے ووٹ سے پاس ہوئی تھی۔

    رجب بٹ کے بعد ٹک ٹاکر ذوالقرنین بھی گرفتار

  • خیبر پختونخوا میں امن وامان اور  حکومت نام کی کوئی چیز  نہیں، مولانا فضل الرحمٰن

    خیبر پختونخوا میں امن وامان اور حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، مولانا فضل الرحمٰن

    جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ اس ڈمی اسمبلی میں بیٹھنے کی ہمیں کوئی خواہش نہیں، جہاں لوگ ووٹ کسی کو ڈالتے ہیں اور کامیاب کوئی اور ہوتا ہے خیبر پختونخوا میں امن و امان ہے نہ حکومت نام کی کوئی چیز ہے۔

    خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ میں خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے پاکستان میں لوگ اسلام کا مذاق اُڑا رہے ہیں، پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے جس کے لیے لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دیں۔ اس ملک کے ساتھ صرف علمائے کرام نے وفاداری کی ہے، ہم اس پاکستان میں امن چاہتے ہیں، ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں نے مذہب اسلام کے ساتھ بہت ظلم کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو ہمارے لیے نظام حیات بنایا ہے، ہمارا ملک سرتاپا سود میں ڈوبا ہوا ہے، سارے ادارے اور بینک سودی نظام پر چل رہے ہیں جب کہ مدارس ختم کرنے کی خواہش اور سازش انگریزوں کی بھی تھی، عالمی اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں سے مدارس مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔

    جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ اگر 26 ویں آئینی ترمیم حکومت کی خواہش پر پاس ہوتی تو بڑی تباہی آتی، حکومت کا آئینی مسودہ پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کے لیے بہت بڑا خطرہ تھا۔حکومت کے آئینی مسودے میں فوجی عدالتوں کو مضبوط کیا گیا اور اعلیٰ عدالتوں کے اختیارات محدود کیے گئے تھے، اس ڈمی اسمبلی میں بیٹھنے کی ہمیں کوئی خواہش نہیں، جہاں لوگ ووٹ کسی اور کو ڈالتے ہیں اور کامیاب کوئی اور ہوتا ہے۔ہمارے وسائل پر ہمارا اختیار ہے، یہ وسائل کسی کا باپ بھی ہم سے نہیں چھین سکتا۔

    مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان اور حکومت نام کی کوئی چیز نہیں، مضبوط حکومت کے بغیر ملک نہیں چل سکتا، معیشت کے اشاروں سے قوم کو بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ نااہل حکمران بتائیں کہ کیا آلہ دین کا چراغ ملا ہے، حکومت معیشت کی بہتری کے دعوے کرتی ہے تو بتائیں کہ وسائل کہاں سے آئے۔

    مہنگےپیکج لینے والے عازمین کا حج سیکیورٹی کلیئرنس سے مشروط

    ریلوے پولیس میں بھرتی ، ٹیسٹ میں 75 فیصد لڑکے لڑکیاں فیل

    49 پارکس کی تزئین و آرائش کر رہے ہیں ، مرتضیٰ وہاب

    کار ڈیلرز حوالہ ہنڈی میں ملوث نکلے، نیٹ ورک بے نقاب

  • خیبر پختونخوا حکومت ناکام ،کرم ایجنسی کے لیے بھی فوج آگئی

    خیبر پختونخوا حکومت ناکام ،کرم ایجنسی کے لیے بھی فوج آگئی

    پاکستان کے خیبر پختونخوا کے علاقے کرم ایجنسی میں گزشتہ 85 دنوں سے فسادات اور بدامنی کی صورتحال جاری تھی، جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے فوج کی مدد کی درخواست کی ہے۔

    فوج آج کرم ایجنسی کے علاقے ٹل پہنچ گئی، جہاں حالات بہت زیادہ خراب تھے۔ ان فسادات میں سینکڑوں افراد کی ہلاکتیں ہوئیں، جن میں ڈیڑھ سو کے قریب بچے بھی شامل تھے جو جان بحق ہو گئے۔ اس دوران پی ٹی آئی اور عمران خان کی جانب سے اس سنگین مسئلے پر کوئی ردعمل یا ٹویٹ سامنے نہیں آیا، جو اس بات کا غماز ہے کہ پی ٹی آئی نے حالات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔کرم ایجنسی کی صورتحال 85 دنوں تک بگڑتی رہی، لیکن پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے اس پر کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔ جرگے کی بات کی گئی تھی لیکن جرگہ بھی بھیجنے میں ناکامی ہوئی۔ یہ صورتحال اس وقت اور بھی پیچیدہ ہو گئی جب پی ٹی آئی نے فوج سے مدد کی درخواست کی۔ لیکن یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر پی ٹی آئی حکومت کو شروع میں ہی اس مشکل کا پتا تھا تو اس نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوج کو کیوں نہیں بلایا؟

    فوج کی مدد کی درخواست کرنے سے پہلے، پی ٹی آئی نے اس موقف کا اظہار کیا تھا کہ ان کے پاس دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی میں قراردادیں پاس کیں، جن میں کہا گیا کہ صوبہ خود ہی اپنے مسائل حل کرنے کے قابل ہے اور اس میں کسی بھی فوجی آپریشن کی ضرورت نہیں ہے۔ تاہم اب انہوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنا ہی واحد حل ہے، تو پی ٹی آئی نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کی اور فوج کی مدد طلب کی۔ اس فیصلے کے پیچھے کیا عوامل ہیں، اس پر سوالات اٹھتے ہیں۔ کیا پی ٹی آئی کا فوجی آپریشن کے خلاف موقف محض سیاسی مفادات کے لیے تھا؟

    ڈیرہ اسمعیل خان بھی اسی طرح کی بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ یہاں رات کے اوقات میں دہشت گردوں کا راج ہوتا ہے اور امن کی صورت حال بہت زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ ممکن ہے کہ پی ٹی آئی کو وہاں بھی فوج کی مدد کی درخواست کرنا پڑے۔ اگر یہ دو اہم علاقے یعنی کرم ایجنسی اور ڈیرہ اسمعیل خان میں امن قائم نہیں کر سکے، تو سوال اٹھتا ہے کہ پی ٹی آئی پورے صوبے میں امن قائم کرنے کا دعویٰ کیسے کر سکتی ہے؟

    یہاں یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں جس طرح سے امن قائم کرنے کے دعوے کیے گئے تھے، وہ اب مکمل طور پر ناکام نظر آ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت کا موقف تھا کہ وہ صوبے کے اندر خود حالات کو بہتر کر لیں گے، لیکن اب فوج کی مدد طلب کرنا ان دعووں کے ساتھ تضاد کا باعث بن رہا ہے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پی ٹی آئی کا اصل مقصد صوبے میں امن قائم کرنا تھا یا اس کی حکمت عملی میں کہیں نہ کہیں ٹی ٹی پی کی حمایت کا پہلو چھپا ہوا تھا۔اگر پی ٹی آئی ان دو علاقوں میں بھی امن قائم نہیں کر سکتی، تو یہ بات انتہائی اہم ہے کہ پارٹی کی حکومتی کارکردگی پر نظرثانی کی جائے۔ عوام کا اعتماد پی ٹی آئی پر اس بات کے بعد کس طرح قائم رہ سکتا ہے؟ اس کی کارکردگی اور حکومتی فیصلے عوامی سطح پر سنگین سوالات پیدا کر رہے ہیں، اور اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ پی ٹی آئی اس بحران کا کس طرح حل نکال پاتی ہے۔

    کرم ایجنسی میں فوج کی آمد اور پی ٹی آئی کی جانب سے فوجی مدد کی درخواست ایک ایسی صورتحال کا عکاس ہے جس میں سیاسی قیادت نے اپنی ابتدائی پالیسیوں کو تبدیل کر دیا۔ اس سے نہ صرف پی ٹی آئی کی حکومتی پالیسیوں پر سوالات اٹھتے ہیں، بلکہ پورے صوبے میں امن قائم کرنے کے دعووں کی حقیقت بھی سامنے آ گئی ہے۔ اب وقت یہ بتائے گا کہ پی ٹی آئی ان مسائل کا حل کس طرح نکالتی ہے، اور آیا وہ عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل کر پائے گی یا نہیں۔