Baaghi TV

Tag: خیمہ بستی

  • سعودی عرب میں مناسک حج کا آغاز،منی میں دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی آباد ہوگئی

    سعودی عرب میں مناسک حج کا آغاز،منی میں دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی آباد ہوگئی

    مکہ مکرمہ: سعودی عرب میں مناسک حج کا آغاز ہوگیا، اس سال کووڈ 19 وبا سے قبل جیسی بھرپور تعداد میں حج ادا کیا جا رہا ہے، سعودی عرب کی جانب سے اس سال مسلمانوں کو عازمین حج کی تعداد اور عمر کی پابندی کے بغیر حج کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

    باغی ٹی وی : سعودی عرب میں مناسک حج کا آغاز ہوگیا جہاں منی میں دنیا کی سب سے بڑی خیمہ بستی آباد ہوگئی منیٰ مسجد حرام سے 5 کلومیٹر دور ہے جہاں لاکھوں عازمین رات کو قیام کریں گے اور رب سے گڑ گڑا کر دعائیں کریں گے آج 8 ذوالحج کے اس دن کو یوم ترویہ کہا جاتا ہے۔ اس دن عازمین حج منی میں پانچ نمازیں پڑھتے ہیں منیٰ میں تلبیہ، تسبیح اور تکبیر پڑھی جاتی ہے۔


    عازمین صبح فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد حج کے سب سے بڑے رکن وقوف عرفہ کیلیے روانہ ہوں گے جہاں وہ خطبہ حج سُن کر ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کریں گے،پاکستان کے 2 لاکھ عازمین سمیت 160ممالک سے 25 لاکھ کے قریب عازمین لبیک اللھم لبیک کی صدائیں بلند کرتے منٰی پہنچ گئے۔ جہاں ’لبیک الھم لبیک‘ کی صدائیں بلند ہورہی ہیں۔

    عازمین آج کی رات مِنیٰ میں ہی قیام کریں گے اور منگل کو نماز فجر کی ادائیگی کے بعد مِنیٰ سے میدان عرفات روانہ ہوں گے حج کا رکن اعظم ”وقوف عرفہ” منگل کو ادا کیا جائے گا۔حاجی مسجد نمرہ میں خطبہ حج سنیں گے اور ظہراور عصر کی نمازیں قصر کرکے پڑھیں گے۔ دن بھر ذکراذکارکریں گے اور جبل رحمت پر جا کر اپنی اور امت مسلمہ کی بخشش کی دعائیں کریں گے ۔

    https://twitter.com/insharifain/status/1673175899963793408?s=20

    سورج غروب ہوتے ہی حجاج مغرب کی نماز ادا کیے بغیر مزدلفہ کی طرف روانہ ہوجائیں گے مزدلفہ پہنچ کر مغرب ور عشا کی نماز عشا کے وقت میں ادا کریں گے اور رات مزدلفہ میں کھلے آسمان تلے گزاریں گے یہاں سے ہی جمرات کو مارنے کیلیے کنکریاں جمع کریں گے،10 ذی الحج صبح فجر کے بعد واپس منٰی چلے جائیں گے 10، 11 اور 12 ذو الحج اور اختیاری طور پر 13 ذو الحج کو حجاج کرام منیٰ میں قیام کرتے ہیں۔ پرسوں بدھ سعودی عرب میں 10 ذوالحج کو حجاج کرام منیٰ پہنچ کر رمی جمار کریں گے یعنی شیطان کو کنکریاں ماریں گے 10 ذو الحج کو صرف ایک جمرہ کی رمی کی جائے گی۔ گیارہ اور بارہ ذو الحج کو تینوں جمرات کی رمی کی جاتی ہے۔ قربانی کے بعد حاجی احرام اتار دیں گے اور خانہ کعبہ جا کرطواف زیارہ کریں گے اور واپس منی جا کر ایام تشریق گزاریں گے-

    حکومت پاکستان کی وزارت مذہبی امور نے پاکستانی عازمین حج کی مدد اور سہولت کے لئے منیٰ میں مرکزی کنٹرول آفس قائم کر دیا ہے ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق کنٹرول روم میں معلومات اور رابطے کو یقینی بنانے کے لیے ایک انفارمیشن سیل قائم کیا گیا ۔ اس کے علاوہ گمشدہ حاجیوں یا گمشدہ سامان کی تلاش میں مدد کے لئےایک خصوصی سیل بھی قائم کیا گیا ہے نجی طور پر حج کے لئے جانے والے عازمین کے کسی بھی ممکنہ مسائل کی کڑی نگرانی اور ان کے حل کے لیے ایک علاحدہ مانیٹرنگ سیل قائم کیا گیا ہےمختلف دیگر خصوصی یونٹس، جیسے کہ وہیل چیئر ڈیسک وغیرہ حاجیوں کی سہولت کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔

    سعودی عرب کی حکومت اور حرمین الشریفین کی انتظامیہ نے عازمین کی سہولت کے لیے سیکیورٹی کے سخت اور دیگر معاملات کے لیے بھی زبردست انتظامات کیے ہیں، عازمین کو گرمی سے بچانے کے لیے انہیں پانی فراہم کیا جارہا ہے جبکہ جگہ جگہ پر فوارے کے ذریعے اُن پر پانی چھڑکا جارہا ہے۔

    امسال بھی خطبہ حج کو عربی، اردو، انگریزی، فرانسیسی، چینی سمیت دیگر زبانوں میں بیک وقت نشر کیا جائے گا حرمین الشریفین کی جنرل پریزیڈنسی کے سربراہ اور امام کعبہ عبدالرحمان السدیس نے کہا ہے کہ ہم نے 300 کروڑ افراد کے خطبہ حج کا منصوبہ بنایا تھا مگر اللہ نے ہمیں سرخرو کیا جس کے بعد رواں سال 50 کروڑ افراد خطبہ حج سُن سکیں گے۔

    حج انتظامات کی تیاریوں کے سلسلے میں سعودی عرب کی حکومت نے خطبہ حج کو پوری دنیا کے مسلمانوں تک پہنچانے کے لیے جدید ترین مواصلاتی ڈیجیٹیل سسٹم متعارف کرایا گیا ہے۔ اس نظام کے ذریعے دنیا بھر میں ارد سمیت دنیا کی بیس بڑی زبانوں میں خطبہ حج کا ترجمہ براہ راست نشر کیا جائے گا۔

    اس ضمن میں صدارت عامہ برائے امور حرمین شریفین نے خطبہ حج کا ترجمہ 20 بین الاقوامی زبانوں میں نشر کرنے اور اسے پوری دنیا کے مسلمانوں تک پہنچانے کی تیاری کے لیے’منارات الحرمین‘ پلیٹ فارم سے ڈیجیٹل سروسز سسٹم کی تیاری کا اعلان کیا ہے۔


    العربیہ کے مطابق صدارت عامہ کے انڈر سیکرٹری جنرل برائے تکنیکی امور ڈیجیٹل تبدیلی اور مصنوعی ذہانت انجینیر وسام بن محمد مقادمی نے کہا کہ میدان عرفات کے خطبہ کے ترجمے کے منصوبے کا مقصد مسلمانوں کو ڈیجیٹل دنیا کو استعمال کرتے ہوئے خطبہ حج سننے اور دیکھنے کے قابل بنانا ہے۔ یہ سروس مسجد حرام کے منارات حرمین پلیٹ فارم کی ویب سائٹ اور سمارٹ فون ایپلی کیشنز کے ذریعے ایک ہی لمحے میں دُنیا بھر میں500 ملین سے زیادہ سامعین اور زائرین تک حرمین شریفین کا پیغام پہنچانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹیل پلیٹ فارم کے معیار میں کنکشن سرکٹ (IP-VPN)کی رفتار میں اضافہ (DIE) کی رفتار میں اضافہ ، تمام ڈیجیٹل براڈکاسٹنگ ڈیوائسز کی جانچ، ڈیٹا ٹرانسمیشن کی رفتار کی جانچ اور ڈیٹا ٹرانسمیشن کی حفاظت کی پیمائش کی تکمیل کی گئی ہے۔

  • لانگ مارچ کے شرکا کے اسلام آباد میں قیام کیلئے خیمہ بستی لگانے کا فیصلہ

    لانگ مارچ کے شرکا کے اسلام آباد میں قیام کیلئے خیمہ بستی لگانے کا فیصلہ

    پی ٹی آئی رہنما اسد عمر کی زیرصدارت اجلاس ہوا

    لانگ مارچ کے شرکا کے اسلام آباد میں قیام کیلئے بڑی خیمہ بستی لگانے کا فیصلہ کیا گیا خواتین کیلئے محفوظ اور سہولیات سے آراستہ الگ قیام گاہ کی تعمیر کی منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی مارچ کے شرکا کے قیام کیلئے ہزاروں گاڑیوں کی پارکنگ کا بندوبست کیا جائے گا خیمہ بستی میں خوراک کی تیاری کیلئے الگ حصے مختص کیے جائیں گے مارچ کے شرکا کیلئے خیمہ بستی میں سیکڑوں بیت الخلا بھی تعمیر کیے جائیں گے خیمہ بستی میں مختلف مقامات پر خصوصی طبی کیمپس لگائے جائیں گے خیمہ بستی میں کئی روز تک کے قیام کیلئے خوراک و بستر کے ذخیرے کیلئے ا سٹورز قائم ہوں گے

    اسد عمر کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا ،راولپنڈی، سرگودھا اور فیصل آباد ڈویژن کے لانگ مارچ کی تیاری کا جائزہ لیا کوئی شک نہیں کہ 11 نومبر اسلام آباد میں تاریخی اجتماع ہونے جا رہا ہے

    تحریک انصاف کے سینئر مرکزی رہنما،فوکل پرسن فوڈ سکیورٹی و خصوصی اقدامات جمشید اقبال چیمہ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے کارکنان اور عوام رانا ثنا اللہ کی گیدڑ بھبھکیوں سے ہرگز مرعوب نہیں ہوں گے تحریک انصاف کے چیئرمین لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں بتایا جائے کیا اس دوران ایک گملا بھی ٹوٹا ہے ؟۔تحریک انصاف پر امن اور جمہوری جماعت ہے اور ہمارے لانگ مارچ کا مقصد صرف فوری اور صاف و شفاف انتخابات کا مطالبہ ہے لیکن حکومت جا ن بوجھ کر حالات خراب کرنا چاہتی ہے ۔ لانگ مارچ کا سفرتو ایک چھوٹا سا ٹریلر ہے جب لانگ مارچ اپنی منزل مقصود پر پہنچے گا اصل تعداد اور حکمرانوں کی حالت تب دیکھنے والی ہو گی

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا آج ساتواں روز ہے، تحریک انصاف کے لانگ مارچ کا آغاز جمعہ کو لاہور سے ہوا تھا، گزشتہ روز عمران خان نے گوجرانوالہ میں خطاب کیا اور پھر واپس لاہور آ گئے،آج گکھڑ سے دوبارہ لانگ مارچ کا آغاز ہوگا،جہاں عمران خان خطاب کریں گے ، اطلاعات کے مطابق حقیقی آزادی مارچ کے نئے شیڈول کے مطابق شرکاء 10 نومبر کو راولپنڈی پہنچیں گے اور 11 نومبر کو تمام پاکستان سے قافلے اسلام آباد پہنچیں گے

    آج جمعرات کو وزیر آباد سے گجرات تک کا سفر طے کیا جائے گا جمعے کو گجرات سے لالہ موسیٰ تک لانگ مارچ پہنچے گا لانگ مارچ ہفتے کو لانگ مارچ کھاریاں سے ہو کر سرائے عالمگیر پہنچے گا اتوار کوسرائے عالمگیر سے لانگ مارچ جہلم پہنچے گا

     صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

    عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد 

    کامونکی،لانگ مارچ کی کوریج کرنیوالے صحافیوں پر پولیس کا تشدد

    پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    عمران خان کا لانگ مارچ، مولانا فضل الرحمان نے حکومت کو پیغام دے دیا

  • مستقبل کے عارضی مستقل شہر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    مستقبل کے عارضی مستقل شہر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    آپ نے ملک بھر کے سیلاب زدہ علاقوں میں سیلابی پانیوں سے گھری قدرے محفوظ جگہوں پر مختلف اداروں کی طرف سے قائم خیمہ بستیاں دیکھی ہوں گی۔یہی ہمارے مستقبل کے عارضی مستقل شہروں کی لوکیشن ہے۔قدرت نے ہمارا کام آسان کردیا ہے۔

    تمام موسمیاتی اور ماحولیاتی گُرو بتا رہے ہیں کہ پاکستان میں بڑے سیلاب جو پے چار پانچ سال کے وقفے سے آتے تھے اب ہرسال آئیں گے اور اسی طرح زور آور آئیں گے۔ لہذا بچت اب اس سیلابی صورت حال کے مطابق ڈھل جانے والی تدبیر اپنانے کی ہے۔

    قدرتی آفات کی روک تھام کے ادارے NDMA کو ملک کے سیلاب زدہ علاقوں میں قائم ان خیمہ بستیوں کی جگہوں پر باقاعدہ طور پر مون سون سیزن کے لئے مستقل طور پر محفوظ عارضی پناہ گاہیں بنا دینی چاہئیں۔

    حج کے دوران منی میں قائم عارضی خیمہ بستی شہر کا ماڈل اس کام کے لئے سامنے رکھا جا سکتا ہے جہاں ہر سال بیس سے پچیس لاکھ لوگوں کے پانچ روزہ قیام کے لئے زبردست بندوبست ہوتا ہے۔

    بیماری سے پہلے احتیاط کے اصول پر سیلابی موسم سے پہلے محفوظ خیمہ بستیوں میں عارضی ہجرت سے جانی و مالی نقصانات، بیماریوں ، حادثات اور کرب سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔ الخدمت جیسی فلاحی تنظیم اس وقت تن تنہا سیلاب زدہ علاقوں میں 40 سے زیادہ خیمہ بستیاں چلا رہی ہے جہاں کھانے پینے، علاج معالجے اور بنیادی طبی امداد کا بندوبست ہے۔اللہ اکبر اور دیگر بہت سی اور فلاحی تنظمی بھی میدان عمل میں ہیں جنہیں اعتماد میں لے کر NDMA بڑے پیمانے پر لوگوں کو سیلابی موسم میں عارضی پناہ گاہوں میں ہجرت پر آمادہ کر سکتا ہے۔

    اس سلسلے میں نادرہ کی مدد سے ان خیمہ بستیوں میں مقیم لوگوں کا ڈیٹا اکٹھا کرکے اگلے سال کے لئے ان کے خاندان اور جانوروں کی ضرورت کی جگہ ان خیمہ بستیوں میں ابھی سے الاٹ کی جاسکتی ہے۔ جو لوگ عارضی ہجرت میں تعاون کریں انہیں بھرپور سپورٹ کی جائے۔

    بہت سی فلاحی تنظیمیں لوگوں کے گھروں کی بحالی پر بھی بڑی تیزی سے کام کر رہی ہیں جوکہ شائد اگلے سیلاب میں پھر گر جائیں گے۔ لہذا ضرورت ہے کہ اب سیلابی پانی سے بچاو کرنے والے گھر بنائے جائیں جوکہ سیلابی پانی کے لیول سے اونچے ہوں۔ اس سلسلے میں بنگلہ دیش اور مالدیپ جیسے ملکوں کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ کم ازکم تمام حکومتی اداروں (سکول، ہسپتال۔ دفاتر) کی عمارتیں تو ضرور اس ڈیزائن پر بنائی جائیں جن میں سیلاب کے دوران ایمرجنسی طور پر پناہ لی جا سکے۔ ان عمارتوں کو چھتیں پیدل چلنے والوں کے لئے پل بنا کر آپس میں جوڑ دی جائیں۔

    اس سال سیلاب کے گندے پانی کو پینے کے قابل بنانے والے بہت سے مقامی فلٹر پلانٹ سامنے آئے ہیں جنہیں بھر ہور سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔خشک خوراک اور ادویات کے واٹر پروف پیکٹ اور تین چار کلومیٹر رینج میں ڈرون سے اون سپاٹ ڈیلیوری بھی کی جا سکتی ہے۔

    این ڈی ایم اے ، PDMA , ریسکیو 1122 اور اس جیسے دوسرے اداروں کے ذریعے مقامی لوگوں کو ایمرجنسی طور پر تیراکی، کشتی بنانے اور ڈوبتے کو ریسکیو کرنے کی تربیت دینی چاہئے۔ ان علاقوں کے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹی کے طلبا پر ان مہارتوں کو سیکھنا لازمی ہواور این سی سی کی طرح اس کے نمبر ان کے ایف ایس سی کے رزلٹ یا یونیورسٹی کے داخلے میں شامل ہوں۔

    خیمہ بستی والی اونچی جگہوں پر ایمرجنسی میں چند گھنٹے کے نوٹس پر خیمہ بستی قائم کرنے کا بندوبست، خوراک ادویات اور مشینری وقت سے پہلے موجود ہو۔ اس سکسلے میں ایک مرتبہ پھر الخدمت پہل کرلے تو دوسروں کے لئے بھی ایک مثال قائم ہوجائے گی۔

    سیلابی صورت حال سے وقت سے پہلے آگاہ کرنے اور اس سے بچاو کے لئے راہنمائی کرنے والی ایپ اب بہت ضروری ہے جس میں تمام نشیبی علاقوں اور پناہ گاہوں کی نہ صرف نشاندہی ہو بلکہ اس علاقے میں کام کرنے والی تمام فلاحی تنظیموں اور محکموں کی معلومات اور آن لائن روابط ہوں اور ریسکیو کے لئے موجود لوگوں اور کشتیوں کی لوکیشن اوبر اور کریم طرز پر آرہی ہو اور قریب ترین کشتی کو بلا کر ریسکیو کیا جائے۔ اس سلسلے میں کسی بھی مناسب پروپوزل کو گوگل میپ، اوبر ، کریم اور فیس بک یقیناً سہورٹ کریں گے اور اپنے اپنے پلیٹ فارم پیش کریں گے۔

    کیا ہم آنے والے کل کے لئے تیار ہونا چاہتے ہیں؟