Baaghi TV

Tag: داخلہ ڈویژن

  • داخلہ ڈویژن کے 74 ارب 35کروڑ سے زائد کے چار مطالبات زر منظور

    داخلہ ڈویژن کے 74 ارب 35کروڑ سے زائد کے چار مطالبات زر منظور

    قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران داخلہ ڈویژن کے 74 ارب 35کروڑ سے زائد کے چار مطالبات زر منظور کر لیے گئے۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا، تین وزارتوں کے 12 کھرب 42 ارب سے زائد کے 10 مطالبات زر منظوری کا عمل شروع کیا گیاوزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے داخلہ ڈویژن کے 3کھرب 49 ارب سے زائد کی چار مطالبات زر منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیے جبکہ اپوزیشن نے داخلہ ڈویژن کے چار مطالبات زر پر کٹوتی کی 123 تحاریک پیش کیں۔

    اپوزیشن کی کٹوتی کی تحاریک پر بحث ہوئی جس کے بعد حکومتی اتحاد نے داخلہ ڈویژن کے 74 ارب 35کروڑ سے زائد کی چار مطالبات زر منظور کر لیے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے 33 ارب 70 کروڑ سے زائد کے تین مطالبات زر کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے۔ اپوزیشن نے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے بجٹ پر 112 کٹوتی کی تحریک پیش کر دیں جس پر بحث جاری ہے۔

    داخلہ ڈویژن کی کٹوتی کی تحاریک پر چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ قومی اتحاد کے لیے آواز اٹھائی ہے، ہم اسکول کے بچے نہیں ہیں، ہم سب کو ذاتی انا سے نکل کر کچھ کرنا ہو گا، ہم تو ہاتھ ملا رہے تھے کہ آپ کی طرف سے ہاتھ آئے گا تحریک انصاف نے ہمیشہ قومی یکجہتی کے لیے آواز اٹھائی ہے، اپوزیشن لیڈر ہمیشہ ملک میں قانون کی حکمرانی کی بات کرتے ہیں، سوچ رہے تھے ہاتھ ملانے سے معاملات بہتر ہوں گے اور محمود اچکزئی نے ایوان میں خود جا کر وزیراعظم سے ہاتھ ملایا۔

    قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میں کم از کم چھ مرتبہ بیرسٹر گوہر کی سیٹ پر گیا، ہم نے ایک مفصل مسودہ کریمنل لاء ترامیم کا اسمبلی میں متعارف کروایا، وہ مسودہ قائمہ کمیٹی میں پڑا ہے جو غیر سیاسی ترامیم ہیں-

    دوسری جانب پنجاب میں امن و امان کی صورتحال مزید مؤثر بنانے کے لیے محکمہ داخلہ کی جانب سے مانگے گئے اضافی فنڈز کی منظوری دے دی گئی ہے پنجاب حکومت نے محکمہ داخلہ کے لیے 4 ارب روپے کے اضافی سکیورٹی فنڈز جاری کرنے کی راہ ہموار کر دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق محکمہ خزانہ نے اس حوالے سے اپنے اعتراضات دور کرنے کے بعد سمری کی منظوری دے دی، جس کے بعد اضافی فنڈز کے اجرا کا عمل آگے بڑھایا جا سکے گامحکمہ داخلہ پنجاب نے حکومت سے امن و امان کے انتظامات اور مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اضافی وسائل فراہم کرنے کی درخواست کی تھی منظور شدہ فنڈز واجب الادا ادائیگیوں، سکیورٹی اقدامات اور متعلقہ انتظامی امور پر خرچ کیے جائیں گے تاکہ صوبے میں سکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنایا جا سکے،اس فیصلے کو صوبے میں امن و امان سے متعلق جاری اقدامات کو تقویت دینے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے-