Baaghi TV

Tag: داعش

  • پچھلی نصف صدی میں 10 لاکھ عراقی لاپتہ ہوئے،اقوام متحدہ

    پچھلی نصف صدی میں 10 لاکھ عراقی لاپتہ ہوئے،اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ نے منگل کو کہا کہ عراق میں صدام حسین کی آمرانہ حکومت،امریکی زیر قیادت فوجی قبضے اور اسلامک اسٹیٹ کے عسکریت پسندوں کے عروج کے دوران پچھلی نصف صدی میں 10 لاکھ تک لوگ’لاپتہ‘ ہوچکے ہیں جن میں بچوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔

    باغی ٹی وی:"روئٹرز” کے مطابق جبری گمشدگیوں سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی نے عراق پر زور دیا، جو دنیا میں سب سے زیادہ لاپتہ افراد میں سے ایک ہے، متاثرین کو تلاش کرے اور مجرموں کو سزا دے۔

    فن لینڈ نیٹو کا رکن بن گیا

    عراقی قانون میں “جبری گمشدگی” کے بطور جرم وضاحت نہ ہونے کی وجہ سے اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے جبری گمشدگیوں کا کہنا تھا کہ عراق اس گھناؤنے جرم کی روک تھام، خاتمے اور امن کی بحالی کے لیے بنیادی قوانین نافذ کرے۔

    عراقی حکومت کے ترجمان یا وزارت داخلہ کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا-

    اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1968 اور 2003 کے درمیان کردستان میں 290,000 لوگوں کو، جن میں تقریباً 100,000 کرد بھی شامل ہیں، جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا تھا جبکہ 1968 سے اب تک 10 لاکھ افراد کے لاپتہ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے2003 میں امریکی حملے کے بعد بھی لاپتہ ہونے کا سلسلہ جاری رہا جس میں کم از کم 200,000 عراقیوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے تقریباً نصف امریکہ یا برطانیہ کے زیر انتظام جیلوں میں بند رہے۔

    امریکی جریدے نے عمران خان کو پاکستان کی معاشی تباہی کا ذمہ دار قرار دیدیا

    جنگ کے خاتمے کے بعد عراق کی سرزمین پر داعش کی شکل میں دہشتگردی کی نئی لہر آئی جس میں بچوں کی جبری گمشدگی شامل ہے۔کمیٹی نےکہا کہ یہ الزام لگایا گیا ہےکہ حراست میں لیےگئےافراد کو بغاوت کی کارروائیوں میں ملوث ہونےکے لیے بغیر وارنٹ کے گرفتار کیا گیا تھا، جب کہ دیگر ‘غلط وقت پر غلط جگہ پر عام شہری’ تھے۔”

    اسلامی ریاست کے لیے اصطلاحات استعمال کرتے ہوئے کمیٹی نے کہا کہ بچوں کی مبینہ طور پر جبری گمشدگی شامل ہے، خاص طور پر وہ بچے جو ان کی ماؤں کے ساتھ داعش کے کیمپوں میں جنسی زیادتی کے بعد پیدا ہوئے۔

    یہ کہتے ہوئے کہ 1968 سے اب تک 250,000 سے 10 لاکھ افراد کے لاپتہ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبری گمشدگیوں سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی نے عراق پر زور دیا، کہ وہ ایک آزاد ٹاسک فورس تشکیل دے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ زیر حراست افراد کی فہرست اور اہل خانہ کو ان کے مقام سے آگاہ کیا جائے جبکہ لاپتہ افراد کو تلاش کیا جائے اور مجرموں کو سزا دی جائے۔

    ہمیں امریکہ کو سبق سکھانا ہے پھر ہو جائےگا کہ ایک سفیر کے فرائض کیا …

  • کراچی: سی ٹی ڈی کی کارروائی،کالعدم تنظیم داعش کا  کمانڈر گرفتار

    کراچی: سی ٹی ڈی کی کارروائی،کالعدم تنظیم داعش کا کمانڈر گرفتار

    سی ٹی ڈی کی اہم کارروائی، کالعدم تنظیم داعش کا کمانڈر گرفتار،

    مخبر کی اطلاعات پر سی ٹی ڈی کراچی نے ملا عبدالمنان گروپ سے وابستہ کمانڈر کو اسلحہ سمیت گرفتار کرلیا، سی ٹی ڈی نے کورنگی انڈسٹریل ایریا کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے عبدالمالک ولد ابراہیم کو گرفتار کرکے 30 بور پستول بلا لائسنس برآمد کی، ملزم ابتدائی تفتیش میں بتایا کہ وہ 2011 سے داعش ملا عبدالمنان گروپ سے وابستہ رہاہے، سی ٹی ڈی انچارج چوہدری صفدرکا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم افغان باشندہ ہے اور کافی عرصہ سے کراچی میں مقیم پزیر ہے،ملزم رمضان المبارک کے مہینے میں کراچی سے چندہ جمع کرکے افغانستان میں داعش کو دیا کرتا ہے ملزم حوالہ ہنڈی کے کام سے وابستہ ہے، اور لاکھوں روپے حوالہ ہنڈی کے زریعے افغانستان بھیج چکا ہے، گرفتار ملزم کے موبائل فون سے اہم معلومات حاصل کرلی گی ہیں جسکا فرانزک معائنہ کرایا جارہاہے، ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے جس سے اہم انکشافات متوقع ہیں،

    دوسری جانب پاکستان رینجرز (سندھ)اور پولیس نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مشترکہ کاروائی کرتے ہوئے کراچی کے علاقے جنجال گوٹھ سے قتل، اقدام قتل، اسٹریٹ کرائمز اور ڈکیتی کی متعددوارداتوں میں ملوث ڈ کیت گروہ کے 2ملزمان عالم خان محسود اور عادل محسود کو گرفتار کر لیا۔ ملزمان کے قبضے سے ڈکیتی اور اسٹر یٹ کرائم میں استعما ل ہو نے والا اسلحہ و ایمونیشن اور مو ٹر سا ئیکل بھی برآمد کر لیا گیا۔

    ملزمان نے دسمبر 2022میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ہنگورہ گو ٹھ میں ڈ کیتی کے دوران مزاحمت پر شہری کو قتل کیا، ابنِ زمان ہسپتال فقیرہ گوٹھ کے سیکیورٹی گارڈ اور جنجا ل گوٹھ میں بھی شہری کو قتل کیا جس کی آیف اَئی آرز تھانہ سائیٹ، تھانہ گلشن معمارمیں درج ہیں۔جنوری 2023میں ملزم عالم خان محسود اپنے ساتھی احسان با جوڑی کے ساتھ مل کر چا ند بنگلہ فقیرہ گو ٹھ میں ڈ کیتی مز احمت پرشہری کو قتل کیا اورکے ڈی اے لنک روڈ پر شہری کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا جس کی آیف اَ ئی آر تھا نہ سا ئیٹ سپر ہائی وے میں درج ہے۔

    ابتدائی تفتیش کے دوران ملزمان نے 300سے زائد ڈکیتی اور اسٹر یٹ کر ائم کی وارداتوں میں ملو ث ہو نے کا اعتراف کیا ہے۔ ملزمان اپنے گروہ کے دیگرساتھیوں کے ساتھ ملکرگزشتہ2سالوں سے کراچی گلشن معمار، جنجال گوٹھ، احسن آباد، ہنگورہ گو ٹھ، فقیرہ گو ٹھ، کے ڈی اے لنک روڈ اور ملحقہ علاقوں میں ڈکیتی اور اسٹر یٹ کرائم کی سیکٹروں وارداتوں میں ملو ث ہونے کا اعتراف کیا اور ڈکیتی اور اسٹر یٹ کرائم کی وارداتوں کے دوران مزاحمت پر کئی معصوم شہر یوں کو قتل اور زخمی بھی کیا۔ملزمان نے مزید انکشا ف کیا کہ انکے ڈکیت گروہ کا سر غنہ شمس محسود عر ف صُلّے ہے جو ملزمان کو ڈکیتی کے لیے اسلحہ وایمو نیشن فراہم کر تا ہے اور چھینے ہو ئے مو با ئل فونز اور مو ٹر سائیکلوں کو ٹھکانے لگا نے کا کام بھی کر تا ہے۔ ملزمان کاساتھی بلال افغانی مورخہ 26دسمبر2022کو اکا خیل گراؤنڈ نزد فقیرہ گو ٹھ میں رینجرز کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا جبکہ آفتاب عرف با بو کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ملزم کے دیگر سا تھیوں کی گر فتاری کے لیے چھا پے مارے جارہے ہیں۔

    گرفتارملزمان کوبمعہ اسلحہ و ایمونیشن اور موٹر سائیکل مزید قانونی کاروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ ایسے عناصر کے بارے میں اطلاع فوری طور پر قریبی رینجرز چیک پوسٹ، رینجرز ہیلپ لائن 1101 یا رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر 03479001111 پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے دیں۔ آپ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

    کیماڑی پولیس کی کامیاب کارروائی جعلی ISI ایجنٹس گرفتار

    آپریشن کے دوران سیکورٹی فورسز نے 12 دہشت گردوں کو کیا جہنم واصل

  • ترکی:استنبول میں داعش کا سربراہ گرفتار

    ترکی:استنبول میں داعش کا سربراہ گرفتار

    ترکی کے سب سے بڑے شہراستنبول میں سکیورٹی فورسز نے سخت گیرجنگجو گروپ داعش کے نئے رہ نما کو گرفتار کرلیا ہے۔

    ترکی کے اعلیٰ حکام نے جمعرات کے روز اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ انسداد دہشت گردی پولیس اورانٹیلی جنس ایجنٹوں نے ایک ایسے شخص کو حراست میں لیا ہے جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ فروری میں شام میں امریکی کارروائی میں داعش کے سابق سربراہ کی ہلاکت کے بعد سے وہ انتہا پسند گروہ کی قیادت کررہا تھا۔انھوں نے معاملے کی حساسیت کے پیش نظراس کی شناخت ظاہرنہیں کی ہے۔

    ترک سیکورٹی فورسز نے استنبول میں ایک چھاپے کے دوران دہشتگرد تنظیم داعش کے سربراہ کو گرفتار کرلیا ہے۔ترک میڈیا کے مطابق سینیئر حکام نے بلومبرگ کو بتایا کہ انسداد دہشت گردی کے افسران اور انٹیلی جنس نے ابو حسن الہاشمی القریشی کو گرفتار کیا ہے۔

     

     

    سیکورٹی حکام نے بتایا کہ ابو حسن کو ایک گھر کی طویل نگرانی کے بعد پکڑا گیا جس میں وہ مقیم تھا۔ تاہم حکام نے مزید تفصیلات سے آگاہ نہیں کیا ہے۔واضح رہے کہ ابو حسن الہاشمی داعش کے پہلے لیڈر ابوبکر البغدادی کا بھائی ہے، جس نے 2014 میں موصل میں نام نہاد ’خلافت‘ کا اعلان کیا تھا۔

    رواں سال فروری میں شام میں امریکی آپریشن کے دوران سابق سربراہ ابو ابراہیم القریشی کی ہلاکت کے بعد ابو حسن الہاشمی القریشی، جس کا اصل نام جمعہ عواد البدری ہے، نے داعش کی قیادت سنبھالی تھی۔

    حکام نے بتایا کہ صدررجب طیب ایردوآن کو داعش کے لیڈر کی گرفتاری سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔اودا ٹی وی کے مطابق توقع ہے کہ صدر بہ ذات خود آنے والے دنوں میں اس کی گرفتاری کا باضابطہ اعلان کریں گے۔

    حکام نے بتایا کہ دہشت گرد گروہ کے رہ نما کوپولیس نے ایک گھر کی طویل نگرانی کے بعد پکڑا ہے۔وہ اس گھر میں روپوش تھا۔ اودا ٹی وی نے بتایا کہ چھاپے کے دوران میں پولیس نے فائرنگ نہیں کی۔

    ترک فورسزنے حالیہ برسوں کے دوران میں داعش کے عسکریت پسندوں کے خلاف اندرون ملک اور پڑوسی ملک شام میں متعدد کارروائیاں کی ہیں اور ترکی کی سرحد کے قریب متعدد قصبوں سے انتہاپسند جنگجوؤں کو بے دخل کردیا ہے۔

    داعش کے لیڈر کی حراست کی خبرایسے وقت میں سامنے آئی ہےجب انقرہ امریکا کی حمایت یافتہ کرد ملیشیا وائی پی جی کی فورسز کا مقابلہ کرنے کے لیے شامی علاقے میں ایک نئے آپریشن کے منصوبوں کا اشارہ دے رہا ہے۔ترکی انھیں اپنے جنوب مشرقی علاقے میں خود مختاری کے لیے مسلح تحریک چلانے والے علاحدگی پسند کرد جنگجوؤں اوران کی جماعت کردستان ورکرزپارٹی سے روابط کی بناپر دہشت گرد قراردیتا ہے۔

  • شام :داعش نے سینکڑوں بچوں کو اپنی ڈھال کیلئے یرغمال بنا لیا

    شام :داعش نے سینکڑوں بچوں کو اپنی ڈھال کیلئے یرغمال بنا لیا

    شام : داعش نے 850 بچوں کو اپنی ڈھال کے طور پر یرغمال بنالیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بی بی سی کے مطابق شام کے صوبے ہسا کے میں کرُد فورسز کے زیرِ انتظام جیل پر 100 سے زائد داعش جنگجوؤں نے حملہ کیا تھا اور تصادم کے نتیجے میں 120 سے زائد افراد مارے گئے تھے داعش نے جیل پر پر قبضہ کرلیا ہے اور 850 بچوں کو اپنی ڈھال کے طور پر یرغمال بنالیا ہے جیل میں موجود تمام اسلحہ بھی داعش کی تحویل میں جاچکا ہے۔

    حوثیوں کے سعودی عرب،یو اے ای پر بیلسٹک میزائل حملے،یو اے ای نے میزائل تباہ کر دیئے

    رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے خیراتی ادارے برائے اطفال یونیسیف کا کہنا ہے کہ بچوں کی زندگی خطرے سے دوچار ہے اور اشد ضروری ہے انہیں وہاں سے جلد سے جلد نکالا جائے بچوں کو نقصان پہنچانے یا انہیں بالجبر داعش میں شامل کیے جانے کا خطرہ ہے-

    روس اورامریکہ جنگ کے دہانے پر:روس کی برطانیہ کو بھی دھمکی

    دوسری جانب سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ انہوں نے جیل کی عمارت کا محاصرہ کر لیا ہے جس سے دہشت گرد کہیں نہیں بھاگ سکتے ایس ڈی ایف نے یہ بھی کہا کہ اگر بچوں کو کچھ بھی ہوتا ہے تو اس کی مکمل ذمہ داری داعش پر عائد ہوگی۔

    برطانیہ میں انتہاپسندی کی انتہا:مسلمان برطانوی رکن پارلیمنٹ کو وزارتی ذمہ داریوں…

    واضح رہے کہ جائے وقوعہ کے قریب موجود اے ایف پی کے نمائندے نے بتایا تھا کہ جیل پر حملے کے وقت شدید جھڑپوں کی آوازیں سنائی دیں تھیں جس کے بعد کُرد فورسز نے لاؤڈاسپیکر کے ذریعے مقامی شہریوں کو فوری انخلا کا حکم دیا تھا۔

    امریکا نے حزب اللہ سے منسلک نیٹ ورک پرنئی پابندیاں عائد کردیں

    واضح رہے کہ داعش ایک جہادی عسکری گروپ ہے اسے آئی ایس آئی ایس کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور یہ گروپ خاص طور پر شام اور عراق میں سرگرم ہے وکی پیڈیا کے مطابق داعش نے ابتدائی 2014ء میں عالمی شہرت اس وقت حاصل کی جب اس نے عراقی حکومتی افواج کو انبار مہم میں کلیدی شہروں سے باہر نکلنے پر مجبور کیا اس کے بعد موصل پر قبضہ کیا اور سنجار قتل عام ہوا۔

    یورپی یونین کا افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان

    اس گروہ کو اقوام متحدہ اور کئی ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکے ہیں۔ داعش شہریوں اور فوجیوں بہ شمول صحافیوں اور امدادی کارکنان کے سر قلم کرنے اور دیگر قسم کی سزائیں دینے والی وڈیوجاری کرنے اور ثقافتی ورثہ کی جگہوں کو تباہ کرنے کے لیے مشہور ہےاقوام متحدہ کے نزدیک داعش انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کا مرتکب ہے۔ شمالی عراق میں تاریخی سطح پر داعش دوسرے مذاہب کے افراد کو بڑی تعداد میں قتل بھی کر چکا ہے۔

    امریکی صدرکے افغانستان میں ناکامی اور انخلا بیان پر طالبان کا ردعمل

     

    شام میں اس گروپ نے حکومتی افواج اور حکومت مخالف جتھوں دونوں پر زمینی حملے کیے اور دسمبر 2015ء تک اس نے مغربی عراق اور مشرقی شام میں ایک بڑے رقبے پر قبضہ کر لیا جس میں اندازہً 2.8 سے 8 ملین افراد شامل تھے، جہاں انہوں نے شریعت کی نام نہاد تاویل کر کے اسے تھوپنے کی کوشش کی۔ کہا جاتا ہے کہ داعش 18 ممالک میں سرگرم ہے جس میں افغانستان اور پاکستان بھی شامل ہیں اور مالی، مصر، صومالیہ، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور فلپائن میں اس کی شاخیں ہیں۔2015ء میں داعش کا سالانہ بجٹ 1 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ تھا اور 30،000 جنگجوؤں سے زیادہ کی فوج تھی-

    طالبان سے فائرنگ کے تبادلے میں قومی اپوزیشن گروپ کے 8 مزاحمتی جنگجو ہلاک

    جولائی 2017ء میں گروہ نے اس کے سب سے بڑے شہر سے کنٹرول کھو دیا اور عراقی فوج نے فتح حاصل کر لی۔اس بڑی شکست کے بعد داعش آہستہ آہستہ زیادہ تر علاقوں سے ہاتھ دھو بیٹھا اور نومبر 2017ء تک اس کے پاس کچھ خاص باقی نہ رہا۔امریکی فوجی عہدیداروں اور ساتھی فوجی تجزیوں کے مطابق دسمبر 2017ء تک گروہ دو فیصد علاقوں میں باقی رہ گیا 10 دسمبر 2017ء میں عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے کہا کہ عراقی افواج نے ملک سے دولت اسلامیہ کے آخری ٹھکانوں کا خاتمہ کر دیا ہے 23 مارچ 2019ء کو داعش اپنے آخری علاقے باغوز فوقانی کے نزدیک جنگ میں ہار گیا اور اس علاقے سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا-

    بارود سے بھرے ٹرک میں دھماکہ،17 اموات، 50 سے زائد زخمی،ہر طرف کہرام مچ گیا