Baaghi TV

Tag: درجہ حرارت

  • برطانیہ میں مئی کے درجہ حرارت کے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

    برطانیہ میں مئی کے درجہ حرارت کے پچھلے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے

    میٹ آفس کے مطابق، جنوبی لندن کے کینلے ایئر فیلڈ میں رات کا کم از کم درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا، جو کہ مئی کے مہینے میں برطانیہ کی تاریخ کی بلند ترین کم از کم یومیہ درجہ حرارت کی تصدیق شدہ مثال ہے۔

    موسمیاتی اصطلاح میں، کسی بھی ایسی رات کو ٹرپیکل نائٹ کہا جاتا ہے جس میں درجہ حرارت سے نیچے نہ گرے। اس ریکارڈ ساز رات نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے ہیں اس سے قبل پیر کے روز، کیو گارڈنز (جنوب مغربی لندن) میں دن کے اوقات کا درجہ حرارت کی بلند ترین سطح تک پہنچ گیا تھا، اس نے پچھلے تقریباً 80 سالہ مئی کے دن کے درجہ حرارت کا ریکارڈ دو مکمل ڈگریوں سے بھی زیادہ کے فرق سے توڑا۔

    موسماتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پورے ہفتے یورپ بھر میں شدید گرمی کا یہ سلسلہ طویل عرصے تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مغربی یورپ پر ہائی پریشر سسٹم (زیادہ ہوا کے دباؤ کے نظام) کے تحت شمالی افریقہ سے آنے والی گرم ہواؤں کا ایک ’’ہیٹ ڈوم‘‘ بن چکا ہے، جو کہ عام طور پر شدید ترین گرمیوں (جولائی یا اگست) میں دیکھے جانے والے اعلیٰ درجہ حرارت کی اصل وجہ ہے۔ رواں ہفتے کے آخر میں اسپین میں درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل مئی کا یومیہ ریکارڈ تھا، جو 1922 اور 1944 میں قائم ہوا تھا برطانیہ کے قومی موسمیاتی ادارے نے تصدیق کی ہے کہ موسم بہار میں اتنی شدید گرمی موسمیاتی تبدیلیوں (گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج) کا براہ راست نتیجہ ہے-

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ منگل کو پارہ مزید بلند ہو سکتا ہے، اس کے ساتھ جنوبی برطانیہ کے الگ تھلگ علاقوں میں 35 ° C یا 36 ° C تک پہنچنے کا امکان ہے اس سے پہلے کہ شام کے بعد مقامی طور پر گرج چمک کے ساتھ طوفان اٹھے-

  • 2026 کرہ ارض کا دوسرا گرم ترین سال بن سکتا ہے،ماہرین

    2026 کرہ ارض کا دوسرا گرم ترین سال بن سکتا ہے،ماہرین

    ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ نئے اعداد و شمار کے مطابق 2026 میں آنے والا ’ایل نینو‘ نہ صرف قریب ہے، بلکہ یہ تاریخ کا ایک انتہائی شدید یا ’سپر ایونٹ‘ بن سکتا ہے۔

    بحرِ الکاہل میں درجہ حرارت کی تیزی سے بدلتی صورتحال نے سائنسدانوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، کیونکہ سمندر کی گہرائی میں توانائی تیزی سے جمع ہو رہی ہے جس سے سطح کے نیچے کا درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے،تازہ ترین پیشگوئی کے مطابق جولائی تک اس موسمیاتی رجحان کے ابھرنے کے امکانات 61 فیصد ہیں، جبکہ 25 فیصد خدشہ اس بات کا ہے کہ یہ ’سپر ایل نینو‘ کی صورت اختیار کرلے گا، جو گزشتہ 140 سالوں میں طاقتور ترین واقعہ ثابت ہوسکتا ہے۔

    ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے مطابق موسمیاتی ماڈلز اس بات پر متفق ہیں کہ ایل نینو کا آغاز ہونے والا ہے جو وقت کے ساتھ مزید شدت اختیار کرے گا ماہرین اس صورتحال پر خاصے پریشان ہیں، کیونکہ اس وقت سمندر کی سطح کا درجہ حرارت پہلے ہی ریکارڈ حد تک بلند ہے اور مغربی بحرِ الکاہل میں اٹھنے والے غیر معمولی ’ٹرپل سائیکلونز‘ گرم پانی کو انتہائی تیز رفتاری سے مشرق کی جانب دھکیل رہے ہیں۔

    رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر مغربی ہواؤں کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہا، تو عالمی درجہ حرارت ایک ایسی سطح پر پہنچ سکتا ہے جس کا پہلے کبھی مشاہدہ نہیں کیا گیا،خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایل نینو کے باعث 2026 کرہ ارض کا دوسرا گرم ترین سال بن سکتا ہے، جو ممکنہ طور پر 2027 میں گرمی کے تمام سابقہ ریکارڈ پاش پاش کر دے گا۔

  • بڑھتے درجہ حرارت سے عام فرد کی دولت میں 40 فیصد تک کمی آسکتی ہے،ماہرین

    بڑھتے درجہ حرارت سے عام فرد کی دولت میں 40 فیصد تک کمی آسکتی ہے،ماہرین

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر درجہ حرارت میں 4 ڈگری سیلسیس اضافہ ہوتا ہے تو ایک عام فرد کی دولت میں 40 فیصد تک کمی آسکتی ہے، جو پہلے کے اندازوں کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔

    باغی ٹی وی : سائنسی جریدے ”Environmental Research Letters“ میں شائع تحقیق میں آسٹریلیا کے سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ عالمی حدت کے معیشت پر اثرات کو اب تک بہت کم اندازہ لگایا گیا تھا اس تحقیق کے مطابق، اگر درجہ حرارت میں 4 ڈگری سیلسیس اضافہ ہوتا ہے تو ایک عام فرد کی دولت میں 40 فیصد تک کمی آسکتی ہے، جو پہلے کے اندازوں کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔

    تحقیق میں یہ بھی پیش گوئی کی گئی ہے کہ اگر درجہ حرارت میں صرف 2 ڈگری سیلسیس اضافہ ہوتا ہے تو عالمی جی ڈی پی فی کس میں 16 فیصد کمی ہو سکتی ہے، جو پہلے کے 1.4 فیصد کے تخمینے سے کہیں زیادہ ہے،یہ تحقیق اقتصادی ماڈلز میں ایک اہم خامی کی نشاند ہی کرتی ہے جو عالمی ماحولیاتی پالیسی کی بنیاد ہے اور اس سے کاربن کے سابقہ معیارات پر بھی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

    پنجاب پولیس کی خاتون افسر نے عالمی اعزاز اپنے نام کرلیا

    تحقیق کے مطابق اگر تمام ممالک اپنے قریبی اور طویل مدتی ماحولیاتی اہداف حاصل بھی کر لیتے ہیں، تب بھی عالمی درجہ حرارت میں 2.1 ڈگری سیلسیس تک اضافہ متوقع ہے یہ خطرناک پیش گوئیاں عالمی اقتصادی استحکام اور دنیا بھر میں افراد کی دولت پر موسمیاتی تبدیلیو ں کے سنگین اثرات کو اجاگر کرتی ہیں۔

    نیو ساؤتھ ویلز یونیورسٹی کے پروفیسر اینڈی پٹ مین، جو تحقیق کے شریک مصنف بھی ہیں، انہوں نے ”دی گارڈین“ سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب معاملہ شدت اختیار کرتا ہے تو اصل نقصان سامنے آتا ہے، یہ صرف اوسط درجہ حرارت کی بات نہیں ہے ممالک کو اپنی اقتصادی کمزوریوں کا درست اندازہ لگانے اور اخراج کو کم کرنے کے لیے، اقتصادی ماڈلز کو موسمیاتی شدت اور اس کے سپلائی چینز پر اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے ازسر نو مرتب کرنا ہوگا۔

    عامر خان کی سابقہ دونوں اہلیہ کی ایک ساتھ عید منانے کی تصاویر وائرل

    کچھ ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ عالمی حدت کے اثرات جزوی طور پر کچھ ٹھنڈے علاقوں، جیسے کہ کینیڈا، روس اور شمالی یورپ میں فائدہ پہنچا سکتے ہیں لیکن ماہر نیل کا کہنا ہے کہ عالمی تجارت کے ذریعے تمام معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، لہٰذا اس کا نقصان ہر ملک کو ہوگا۔

    آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی کے ماحولیاتی پالیسی کے ماہر پروفیسر فرینک جوزو، جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھے، ان کا کہنا تھا کہ معیاری ماڈلز فرض کرتے ہیں کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے کسی علاقے میں زراعت ممکن نہیں رہے گی، تو دنیا کے کسی دوسرے حصے میں اس کی پیداوار میں اضافہ ہو جائے گا۔

    سیف علی خان حملہ کیس،ملزم کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری

    نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ ماڈلز یہ تاثر دیتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیاں عالمی معیشت پر کوئی بڑا اثر نہیں ڈالیں گی، جو کہ حقیقت میں فزیکل امپیکٹ سائنس اور اقتصادی باہمی انحصار کی بہتر تفہیم کے برخلاف ہےیہ تحقیق دنیا بھر کے ممالک کو خبردار کر رہی ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے شدید اقتصادی اثرات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنے ماحولیاتی اہداف پر فوری عمل کریں۔

  • کل سے کراچی کا  درجہ حرارت بڑھنے کا امکان

    کل سے کراچی کا درجہ حرارت بڑھنے کا امکان

    محکمہ موسمیات کے مطابق کل سے کراچی کا درجہ حرارت بڑھنے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محکمہ موسمیات نے بتایا کہ آج زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 32 سے 34 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے جب کہ کل سے مطلع صاف اور دھوپ رہے گی، بدھ اور جمعرات کو درجہ حرارت 33 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک جاسکتا ہے تاہم اس دوران شہر میں سمندری ہوائیں چلتی رہیں گی۔واضح رہے گزشتہ کئی روز کراچی کا موسم انتہائی خوشگوار رہا ہے.

    ڈی ایس پی کے قاتلوں سے متعلق معلومات پر50 لاکھ روپے انعام

  • عالمی درجہ حرارت میں اضافہ،2024 زیادہ بدترین سال ثابت ہوگا،تحقیق

    عالمی درجہ حرارت میں اضافہ،2024 زیادہ بدترین سال ثابت ہوگا،تحقیق

    عالمی سطح پر گرم موسم کی شدت میں اضافہ توقعات سے زیادہ ہے،2024 زیادہ بدترین سال ثابت ہوگا-

    باغی ٹی وی : ایک نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے انتباہ جاری کیا ہے کہ رواں دہائی کے دوران ہی درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ گرم ہونے والی ہے جبکہ 2050 تک درجہ حرارت میں اضافہ 2 سینٹی گریڈ کی حد عبور کر سکتا ہے۔

    2015 کے پیرس معاہدے میں طے کیا گیا تھا کہ عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز نہیں کرنے دیا جائے گا، اب تک صنعتی عہد کے مقابلے میں درجہ حرارت میں 1.28 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ریکارڈ ہوا ہے،خام ایندھن کو جلانے کا سلسلہ جاری ہے اور اس کے نتیجے میں زمین مزید گرم ہونے والی ہے۔

    ڈی ایل ایس میتھڈ کے تحت پاکستان 21 رن سے جیت گیا

    تحقیق کے مطابق ابھی ہم موسمیاتی ایمرجنسی کے ابتدائی مرحلے سے گزر رہے ہیں اور درجہ حرارت میں تیزی سے اضافہ موسمیاتی نظام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اس کو ریورس کرنا ضروری ہے، ورنہ سمندری سطح میں اضافہ ساحلی شہروں کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔

    2023 کے دوران جون سے ستمبر تک مسلسل 4 مہینوں کو انسانی تاریخ کے گرم ترین مہینے قرار دیا گیا یونین کے موسمیاتی ادارے Copernicus Climate Change Service (سی سی سی ایس) کے مطابق ستمبر کے دوران درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.8 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ریکارڈ ہوا جو دنگ کر دینے والا ہے جولائی اور اگست دونوں مہینوں میں درجہ حرارت صنعتی عہد سے پہلے کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ تھا جنوری سے ستمبر 2023 کے دوران عالمی اوسط درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.4 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا ہے۔

    شہاب ثاقب بیچ کر راتوں رات امیرہونے والا شخص

    اسی طرح انسانی تاریخ کے گرم ترین سال قرار دئیے جانے والے 2016 کے مقابلے میں رواں سال کے اولین 9 ماہ کا اوسط درجہ حرارت 0.05 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے ساتھ ساتھ ایل نینو کے اثرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں 2023 انسانی تاریخ کا گرم ترین سال ثابت ہونے والا ہے سائنسدانوں کو توقع ہے کہ ایل نینو کے اثرات 2023 کے آخر اور اگلے سال زیادہ نمایاں ہوں گے اور 2024 زیادہ بدترین سال ثابت ہوگا۔

    ہماری زمین کے اندر اربوں سال سے ایک سیارے کا کچھ حصہ موجود ہے،تحقیق

  • عراق میں بنفشی رنگ کا جھنڈا کیوں لہرایا گیا؟

    عراق میں بنفشی رنگ کا جھنڈا کیوں لہرایا گیا؟

    تہران: عراق میں گرمی کی شدید لہر کچھ علاقوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سے تجاوز کر گیا-

    باغی ٹی وی :حال ہی میں تاریخ میں سب سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا ہے،اس حوالے سے تیل کی کمپنیاں پہلے سے تیار تھیں اور انہوں نے خطرے کے اظہار کے لیے بنفشی جھنڈے لہرا دئیے ہیں العربیہ کے مطابق اتوار کے روز درجہ حرارت 52 ڈگری سے تجاوز کرنے کے بعد بصرہ گورنریٹ کی تیل کمپنیوں نے بنفشی پرچم کو بلند کیا تھا۔

    بہت سی کمپنیاں اپنے ملازمین کو سب سے زیادہ احتیاط برتنے کی طرف مائل کرنے کے لیے جان بوجھ کر بھی انتباہی علامت کے طور پر بنفشی جھنڈا لہرا رہی ہیں،اس جھنڈے سے مراد مختصر الٹرا وائلٹ شعاعیں ہیں جو انسانوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہیں یہ ہیٹ سٹروک کا باعث بنتی ہیں اور جسم میں زندہ خلیات کو ہلاک کرتی ہیں،یہ اکثر کاروباری اداروں کے ذریعہ کارکنوں کو انتہائی احتیاط کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب دینے کے لیے ایک انتباہی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

    اسلام آباد انٹرنیشنل ائیر پورٹ کو آؤٹ سورس کرنےکی منظوری مل گئی

    موسمیاتی اتھارٹی نے پہلے ہی اطلاع دے دی تھی کہ 13 گورنریٹس میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 50 سیلسیس سے زیادہ ہوجائے گا خانقین سٹیشن میں گزشتہ ہفتہ کو سب سے زیادہ درجہ حرارت 52.5 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر تورک نے بدھ کو اپنے دورے کے اختتام پر خبردار کیا تھا کہ عراق کو زیادہ درجہ حرارت اور خشک سالی کا انتباہ جاری کیا تھا,عراق مسلسل چوتھے سال اقوام متحدہ کے مطابق دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا پانچواں ملک ہے، ملک کے جنوب میں کھیت بنجر ہیں ۔ خشک سالی کے بوجھ تلے دم گھٹ رہے ہیں۔

    نگران وزیرِ اعظم سے گورنر گلگت و دیگرکی ملاقاتیں

  • 2023 سے 2027 تک کا عرصہ دنیا کی تاریخ کا گرم ترین دورریکارڈ ہوگا،اقوم متحدہ

    2023 سے 2027 تک کا عرصہ دنیا کی تاریخ کا گرم ترین دورریکارڈ ہوگا،اقوم متحدہ

    ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 98 فیصد امکان ہے کہ آنے والے پانچ سال انسانی تاریخ کے گرم ترین دن ہوں گے۔

    باغی ٹی وی: خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق اقوام متحدہ کی طرف سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ 2023 سے 2027 تک کا عرصہ دنیا کی تاریخ کا گرم ترین دور ریکارڈ ہوگا درجہ حرارت میں اس درجہ اضافے کی وجہ بحر الکاہل کو گرم کرنے والے موسمیاتی رجحان ایل نینو اور گرین ہاوس گیسوں کا مشترکہ اثر ہوگا اس حوالے سے سائنسدانوں نے 66 فیصد امکان ظاہر کیا ہے کہ ممکن ہے آنے والے سالوں میں زمین کا درجہ حرارت 1.5 ڈگری کی حد سے تجاوز کرجائے درجہ حرارت اس حد تک تجاوز کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا 19 ویں صدی کے دوسرے نصف کے مقابلے زیادہ گرم ہوگی۔

    حال ہی میں ڈبلیو ایم او کی رپورٹ کے مطابق رواں سال جولائی کے پہلے ہفتے میں جون کے گرم ترین مہینے کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ دنیا بھر میں جولائی کے آغاز میں درجہ حرارت گرم ترین ریکارڈ کیا گیا،جولائی کے پہلے ہفتے میں عالمی درجہ حرارت سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیق میں بتایا گیا کہ اس سے قبل موسمیاتی تبدیلی کے باعث ابتدائی مراحل میں جون کا مہینہ گرم ترین ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    ایل نینو کے اثرات: رواں ماہ کا آغاز انسانی تاریخ کا گرم ترین ہفتہ قرار

    برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق سائنسدانوں نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں سے کُرہ ارض کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ادارے نے عالمی درجہ حرارت کے حوالے سے جو حد سوچ رکھی ہے اگر وہ تجاوز کرگئی تو ممکنہ طور پر یہ صورتحال عارضی ہوگی اگر ایسی صورتحال سامنے آئی تو عالمی سطح پر صحت، خوراک، پانی اور ماحول کے انتظام میں مشکلات آسکتی ہیں۔ ایسی صورتحال کا سامنا کرنے کیلئے ہمیں تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

    برطانیہ کے امپیریل کالج لندن میں گرانتھم انسٹی ٹیوٹ برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیات کے موسمیاتی سائنس دان فریڈریک اوٹو نے کہا کہ یہ ایک سنگ میل نہیں ہے جسے ہمیں منانا چاہیےسائنس دانوں نے کہا کہ ابھرتے ہوئے ال نینو پیٹرن کے ساتھ مل کر موسمیاتی تبدیلیاں اس کا ذمہ دار ہیں۔

    یونان کشتی حادثہ؛ تحقیقات میں کوسٹ گارڈ کی غفلت کا انکشاف

    برکلے ارتھ کے سائنسدان زیکے ہاس فادر نے ایک بیان میں کہا کہ بدقسمتی سے، یہ وعدہ کرتا ہے کہ اس سال کے نئے ریکارڈوں کی سیریز میں یہ صرف پہلا ہوگا کیونکہ (کاربن ڈائی آکسائیڈ) اور گرین ہاؤس گیسوں کے بڑھتے ہوئے اخراج کے ساتھ ساتھ ال نینو کے بڑھتے ہوئے واقعات درجہ حرارت کو نئی بلندیوں پر لے جاتے ہیں-

  • درجہ حرارت میں تشویشناک اضافہ،اقوام متحدہ نے خبردار کر دیا

    درجہ حرارت میں تشویشناک اضافہ،اقوام متحدہ نے خبردار کر دیا

    جنیوا: اقوام متحدہ نے درجہ حرارت میں خطرناک اضافے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موسمیاتی ادارے کو خبردار کر دیا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ نے موسمیاتی ادارے ڈبلیو ایم او کو خبردار کیا کہ گرین ہاؤس گیسوں سے کرہ ارض کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کیلئے سنگل یوز پلاسٹک کا استعمال کم کیا جائے. اقوام …

    عالمی موسمیاتی ادارے ڈبلیو ایم او نےخدشہ ظاہر کیا ہےکہ سال 2023 سے 2027 تک کاعرصہ انسانی تاریخ کےگرم ترین 5 سال ہو سکتے ہیں،عالمی درجہ حرارت کے حوالے سے جس حد کا اندازہ تھا اب اس سے تجاوز ہونے والا ہے اور اس بات کا 98 فیصد امکان ہے کہ اگلے 5 سالوں میں درجہ حرات تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ جائے گا۔

    واضح رہے کہ اب تک ریکارڈ کیے گئے گرم ترین 8 سال 2015 اور 2022 کے درمیان تھے لیکن موسمیاتی تبدیلیوں میں تیزی کے ساتھ درجہ حرارت میں مزید اضافے کی پیش گوئی ہے۔

    دوسری جانب عالمی درجہ حرارت میں صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ 5 سال کے اندر ہونے کا قوی امکان ہے یہ انتباہ اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) کی جانب سے کیا گیا۔

    سمندری طوفان ’موچا‘ بنگلادیش اورمیانمار کے ساحلوں سے ٹکرا گیا

    عالمی ادارے کے مطابق 2023 سے 2027 کے دوران کم از کم ایک بار درجہ حرارت میں ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ریکارڈ ہونے کا امکان 66 فیصد ہے ڈبلیو ایم او کی جانب یہ انتباہ Global Annual to Decadal Climate Update رپورٹ میں کیا گیا۔

    رپورٹ میں پیشگوئی کی گئی کہ آئندہ 5 برسوں میں کم از کم کسی ایک سال کے دوران درجہ حرارت عارضی طورپرصنعتی عہدکے مقابلے میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جائے گا کہ 2015 کے پیرس معاہدے میں طے کیا گیا تھا کہ عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز نہیں کرنے دیا جائے گا۔

    کینیڈا: البرٹا میں کئی مقامات پر لگی جنگلات کی آگ بے قابو ہوگئی ،ایمرجنسی نافذ

    لیون ہرمینسن برطانوی محکمہ موسمیات کے سائنسدان ہیں اور وہ عالمی ادارے کی رپورٹ مرتب کرنے والے ماہرین کی ٹیم کا بھی حصہ تھےانہوں نے بتایا کہ اب تک صنعتی عہد کے مقابلے میں درجہ حرارت میں 1.28 ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ریکارڈ ہوا ہےاس بات کا قوی امکان ہے کہ درجہ حرارت میں اضافہ عارضی طور پر ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک اشارہ ہے کہ جیسے جیسے ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ عام ہوتا جائے گا، ویسے ویسے طویل المعیاد بنیادوں پر موسمیاتی تباہی کا خطرہ بڑھتا جائے گازہریلی گیسوں کا اخراج درجہ حرارت میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے اور اگلے 5 برسوں میں ہمیں درجہ حرارت کے نئے ریکارڈز کی توقع کرنی چاہیے۔

    ڈاونچی گلو ،چاند کا دلچسپ نظارہ جو آئندہ چند دنوں میں نظرآئے گا

    برطانوی ماہر نے بتایا کہ درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ گرین ہاؤس گیسز کے باعث ہوگا مگر ایل نینو لہر بھی اس حوالے سے کردار ادا کرے گی۔

  • دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    امریکی ادارے National Oceanic and Atmospheric Administration (این او اے اے) کی جانب سے ابتدائی ڈیٹا میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں سمندروں کی سطح کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے جس کے باعث بحری ہیٹ ویوز عام ہوگئی ہیں۔

    باغی ٹی وی: این او اے کی جانب سے جاری ڈیٹا کے مطابق رواں ماہ اپریل 2023 کے آغاز میں سمندری سطح کا اوسط درجہ حرارت 21.1 سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جس نے 2016 میں قائم ہونے والے 21 سینٹی گریڈ درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑ دیا، یہ نیا ریکارڈ موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔

    دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے مزید خطرناک انکشاف

    سائنسدانوں نے بتایا کہ 3 سال تک لانینا نے بحر الکاہل کے درجہ حرارت کو دبانے میں مدد فراہم کی اور زہریلی گیسوں کے اخراج کے اثرات سے بچایا، تاہم اب سمندری سطح کے درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے جو اس سال ممکنہ ایل نینو لہر کی جانب اشارہ ہے۔

    این او اے اے کے محقق ڈاکٹر مائیک میکفیڈن نے بتایا کہ لانینا لہر اختتام کے قریب ہے جس نے دنیا بھر میں سمندری سطح کے درجہ حرارت کو بڑھنے نہیں دیا تھا،لانینا کے دوران وسطی اور مشرقی بحر الکاہل کا درجہ حرارت کم رہتا ہے جبکہ تیز ہوائیں چلتی ہیں جس سے عالمی درجہ حرارت میں کمی آتی ہے،اس کے برعکس ایل نینو کے دوران سمندری سطح معمول سے زیادہ گرم ہو جاتی ہے جس سے دنیا بھر میں درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔

    این او اے اے کے ڈیٹا کے مطابق اس سے قبل سمندری سطح میں سب سے زیادہ درجہ حرارت 2014 سے 2016 کی ایل نینو لہر میں دیکھنے میں آیا تھا۔

    گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج سےانٹارکٹیکا برف کا پگھلاؤ عالمی سمندری نظام درہم برہم کرسکتا …

    قبل ازیں مارچ 2023 میں سائنسدانوں نے پہلی بار سمندر کی گہرائی میں بھی ہیٹ ویوز کو دریافت کیا تھا اور اسے موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرناک اثرقرار دیا تھا اس تحقیق میں سمندر کے درجہ حرارت میں اضافے کا جائزہ لیا گیا اور دریافت ہوا کہ زیرآب بحری ہیٹ ویو کی شدت بہت زیادہ ہوتی ہے جس سے پانی کا درجہ حرارت 0.5 سے 3 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھ جاتا ہے۔

    این او اے اے کی اس تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ ہم 10 سال سے زائد عرصے سے سمندر کی سطح پر ہیٹ ویو کا مشاہدہ کر رہے تھے پہلی بار ہم نے یہ جائزہ لیا کہ سطح پر ہیٹ ویو سے سمندر کی گہرائی میں کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    ان کا ماننا ہے کہ سمندروں کی گہرائی میں ہیٹ ویوز سے دنیا بھر کے بحری نظام پر ڈرامائی اثرات مرتب ہوئے ہیں جبکہ چھوٹی اور بڑی ہر طرح کی سمندری حیات کو نقصان پہنچا ہے سمندروں کی گہرائی میں پانی کے درجہ حرارت میں ایک صدی کے دوران ڈیڑھ ڈگری سینٹی گریڈ اضافہ ہوا ہے درجہ حرارت بڑھنے سے سمندری ہیٹ ویوز کی شرح میں گزشتہ دہائی کے دوران 50 فیصد اضافہ ہوا سطح پر درجہ حرارت میں اضافہ نہ ہونے پر بھی سمندر کی گہرائی میں ہیٹ ویو کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری

    واضح رہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث بڑھنے والی حرارت کا 90 فیصد حصہ سمندر جذب کرتے ہیں۔

    گزشتہ برس دسمبر 2022 میں ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ 2023 رواں سال کے مقابلے میں زیادہ گرم ثابت ہونے والا ہے،یہ انتباہ برطانوی سائنسدانوں کی جانب سے سامنے آیا تھا کہ درحقیقت 2023 کے دوران عالمی درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.2 سینٹی گریڈ زیادہ ہوسکتا ہے۔

    برطانوی محکمہ موسمیات کے پروفیسر ایڈم سکافی کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے 2023 درجہ حرارت کے حوالے سے ریکارڈ توڑنے والا سال ثابت نہ ہو مگر عالمی سطح پر زہریلی گیسوں کے اخراج میں اضافے کے نتیجے میں وہ بہت گرم ضرور ثابت ہوسکتا ہے۔

    جنگلات کےساتھ مشروم کی افزائش موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کم کر سکتی ہے،تحقیق

    عالمی درجہ حرارت کی پیشگوئی کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر Nick Dunstone نے کہا تھا کہ گزشتہ 3 برسوں کے دوران لانینا کے اثرات سے عالمی درجہ حرارت پر اثرات مرتب ہوئے تھے لانینا نے عارضی طور پر اوسط عالمی درجہ حرارت کو کم کیا، مگر 2023 کے لیے ہمارے موسمیاتی ماڈل سے لانینا کے اثر کے خاتمے کا عندیہ ملتا ہے، جس کے باعث اگلا سال 2022 کے مقابلے میں زیادہ گرم ثابت ہوسکتا ہے۔

    برطانوی محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ 2023 کے دوران عالمی درجہ حرارت صنعتی عہد سے قبل کے مقابلے میں 1.08 سے 1.32 سینٹی گریڈ زیادہ ہوسکتا ہے۔

    اگر رواں سال 2023 کے بارے میں برطانوی سائنسدانوں کی پیشگوئی درست ثابت ہوتی ہے تو یہ مسلسل 10 واں سال ہوگا جب درجہ حرارت صنعتی عہد سے پہلے کے مقابلے میں کم از کم ایک سینٹی گریڈ زیادہ رہے گا۔

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار

  • 2022 میں سمندروں نے لگاتار چوتھے سال درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑدیا

    2022 میں سمندروں نے لگاتار چوتھے سال درجہ حرارت کا ریکارڈ توڑدیا

    ایک نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ 2022 میں سمندر کے درجہ حرارت نے 2021 میں بنایا گیا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی: دو درجن سائنسدانوں کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق، سمندروں نے 2022 میں مسلسل چوتھے سال ریکارڈ پر اپنی گرم ترین سطح کو نشانہ بنایا۔ گرمی کے پچھلے ریکارڈ 2021، 2020 اور 2019 میں ٹوٹے تھے، اور پچھلے چھ سالوں میں سب سے اوپر چھ گرم ترین سطحیں واقع ہوئی ہیں دنیا جس رفتار سے گرم ہو رہی ہے اس کی یہ ایک بُری علامت ہے۔

    2100 کے شروع تک زمین پر موجود 80 فیصد گلیشیئر پگھل سکتے ہیں

    بین الاقوامی محققین پرمشتمل ایک ٹیم نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہےکہ گزشتہ برس زمین کےسمندروں میں 10 زیٹا جولز(1021 یا 10 کے آگے 21 صفر)کے برابر گرمائش کا اضافہ ہوا۔

    یہ مقدار کتنی بڑی ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ مقدار 70 کروڑ 1.5 لیٹر حجم والی کیتلیوں کو ایک سال تک ہر سیکنڈ ابالنے کے لیے کافی ہے یا یہ توانائی ایک سال میں عالمی سطح پر بننے والے بجلی سے 100 گُنا زیادہ ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیق کے نتائج یہ بتاتے ہیں کہ انسانی سرگرمیوں کے سبب خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسز کی وجہ سے زمین کے سمندر کس بری طرح متاثر ہوئے ہیں اس تحقیق میں دنیا بھرکے 16 اداروں کے 24 سائنس دانوں کیجانب سے سمندروں کے متعلق مشاہدات پیش کیے گئے۔

    یونیورسٹی آف پینسلوینیا سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے مصنف پروفیسر مائیکل مین کا کہنا تھا کہ انسانوں کی خارج کردہ کاربن سے پیدا ہونے والی تپش کا بڑا حصہ سمندر جذب کر رہے ہیں۔ جب تک ہم نیٹ زیرو اخراج تک نہیں پہنچ جاتے یہ تپش جاری رہے گی اور ہم سمندر کے درجہ حرارت کے ریکارڈ توڑتے جائیں گے جیسے 2022 میں کیا گیا۔

    ایمیزون جنگلات کی تباہی سے ہمالیہ اورانٹارکٹک کی برف میں بھی کمی ہوسکتی ہے

    ان کا کہنا تھا کہ سمندروں کے متعلق آگہی اور بہتر سمجھ موسمیاتی تغیر سے لڑنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے حوالے سے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

    یہ نیا ریکارڈ بدھ کے روز شائع ہوا، کچھ ہی دن بعد جب یورپ کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے سائنسدانوں نے اعلان کیا کہ 2022 سیارے کا پانچواں گرم ترین سال تھا۔ ایجنسی کے مطابق، سال 2016، 2020، 2019 اور 2017 سبھی ٹاپ فائیو میں بھی شامل ہیں یہ تمام سیاروں کی گرمی، سمندروں اور ماحول کے ایک طویل مدتی نمونے کا حصہ ہے۔

    چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے سائنسدان لیجنگ چینگ کی سربراہی میں سمندروں کی رپورٹ نوٹ کرتی ہے کہ 1958 کے بعد سے ہر دہائی جب سائنسدانوں نے پہلی بار سمندری حرارت کی قابل اعتماد پیمائش کو رکھنا شروع کیا آخری سے زیادہ گرم رہا ہے۔ اور وقت کے ساتھ گرمی میں تیزی آئی ہے۔ 1980 کی دہائی کے آخر سے، سمندر جس شرح سے گرمی کو ذخیرہ کرتا ہے اس میں تین سے چار گنا اضافہ ہوا ہے۔

    چاند سے زمین کے طلوع ہونے کا منظر کیسا ہوتا ہے؟ناسا نے ویڈیو جاری کر دی