Baaghi TV

Tag: دریا

  • دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کی صورت حال پر رپورٹ جاری

    دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کی صورت حال پر رپورٹ جاری

    ملک کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کی تازہ ترین صورت حال سے متعلق رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق دریائے ستلج میں ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، جہاں پانی کا بہاؤ 89 ہزار 60 کیوسک ہےدریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کی سطح میں کمی کے باعث درمیانے درجے کا سیلاب ہے، جہاں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 19 ہزار 434 کیوسک ریکارڈ کیا گیا،اسی طرح دریائے سندھ میں گڈو کے مقام پر اونچے درجے کا ریلا پہنچ گیا، جہاں پانی کا بہاؤ 6 لاکھ 5 ہزار 456 کیوسک ہوگیا، سکھر پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 71 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ کیا گیا جب کہ کوٹری کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 853 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ نارمل ہو رہا ہے، دریائے سندھ، جہلم اور راوی میں پانی کا بہاؤ نارمل لیول پر ہے جب کہ دریائے چناب میں مرالہ، خانکی، قادر آباد اور تریموں کے مقام پرپانی نارمل سطح پر ہےاسی طرح پنجند کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ کم ہو کر ایک لاکھ 94 ہزار کیوسک ہو چکا ہے، دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر درمیانے درجے جب کہ سلیمانکی اور اسلام ہیڈ ورکس پر نچلے
    درجے کی سیلابی صورت حال ہے۔

    ٹیکنو نے پاکستان میں اسپارک 40 اسمارٹ فون متعارف کرا دیا

    ادھر راول ڈیم پانی سے بھر گیا، جس کے باعث پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ختم ہوگئی، راول ڈیم میں پانی کی سطح ایک ہزار 752 فٹ ہونے پر اسپل ویز کھول دیے گئےانتظامیہ کی جانب سے قریبی رہائشیوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی ہدایت کردی گئی ہے جب کہ اسلام آباد انتظامیہ پانی کی اخراج کی مانیٹرنگ کرے گی،راول ڈیم میں پانی جمع کرنے کی آخری حد ایک ہزار 752 ہے۔

    سی ویو کے قریب گاڑی سے ملنے والی مرد اور خاتون کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل

  • دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ، سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ،الرٹ جاری

    دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ، سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ،الرٹ جاری

    بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ، چشمہ اور تونسہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے تربیلا کے مقام پر پا نی کا بہاؤ 3 لاکھ 30 ہزارکیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، کالا باغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 32 ہزار کیوسک، چشمہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 80 ہزار کیوسک جبکہ تونسہ کے مقام پر پانی کا بہائو 4 لاکھ 54 ہزار کیوسک ہے۔

    منظم انداز میں پاکستان کو توڑنے کی سازش کی جارہی ہے، سرفراز بگٹی

    دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا اور سلیمانکی کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 65 ہزار اور سلیمانکی کے مقام پر 69 ہزار کیوسک ہےنالہ پلکھو میں درمیانے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے، ترجمان پی ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ بارشوں کی وجہ سے دریاؤں کے بہاؤ میں اضافے کا امکان ہے، دریاؤں کے کنارے رہنے والے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

    حکومت پنجاب کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں، ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ فلڈ ریلیف کیمپس میں تمام تر بنیادی سہولیات اور ادویات فراہم کی جائیں گی۔

    روس کی سابقہ مس یونیورس کار حادثے میں ہلاک

  • دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    واپڈا نے دریاؤں اور آبی ذخیروں کی صورتحال سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔

    ترجمان واپڈا کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ دریائے سندھ میں پانی کی آمد 1 لاکھ 32 ہزار 300 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 45 ہزار کیوسک ہے جبکہ منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 36 ہزار 700کیوسک اور اخراج 25 ہزار کیوسک ہے۔

    ترجمان واپڈا نے بتایا کہ چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 6 ہزار 400کیوسک اور اخراج ایک لاکھ94 ہزار کیوسک ہے، ہیڈمرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 30 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 10ہزار 300کیوسک ہے جب کہ نوشہرہ پر دریائے کابل میں پانی کی آمد 29 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 29 ہزار 900کیوسک ہے۔

    ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلاریزروائر میں پانی کی سطح 1477.88فٹ، پانی کا ذخیرہ 21 لاکھ 32 ایکڑ فٹ ہے، منگلاریزروائر میں پانی کی سطح 1162.50فٹ اور پانی کا ذخیرہ 22 لاکھ 35 ہزار ایکڑ فٹ ہے،چشمہ ریزروائر میں پانی کی سطح 647 فٹ اور پانی کا ذخیرہ 2 لاکھ 12 ہزار ایکڑ فٹ ہے جبکہ منگلا اور چشمہ ریزروائر میں قابل استعمال پانی کا ذخیرہ 45 لاکھ 79 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔

  • جاپان کے دریا کا رنگ بدل گیا

    جاپان کے دریا کا رنگ بدل گیا

    جاپان کے ایک بڑے دریا کا کچھ حصہ روشن سبز ہوگیا ہے، ماہرین نے اس کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔

    مغربی جاپان کے مشہور شہر، اوساکا کے پاس آئیکوما کے علاقے میں واقع ٹاٹسوٹا جھیل کے لوگ تذبذب کے شکار ہیں کیونکہ ایک صبح جھیل کا بڑا حصہ روشن سبز رنگت اختیار کرچکا تھا بعض افراد کا خیال ہے کہ کسی نے نہانے والے نمکیات کی بڑی مقدار جھیل میں پھینکی ہے اور اس کیمیائی عمل سے پانی کا رنگ یک دم بدل گیا ہے۔


    شہری انتظامیہ نے عوام کو جھیل سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے اور ابتدائی تحقیقات سےکچھ شواہد سامنے آئے ہیں دریا کےکنارے سوڈیئم فلورسین کی بڑی مقدار ملی ہے جسے سڑک سے پھینکا گیا تھا۔ اس کی رنگت سرخ ہوتی ہے لیکن پانی میں مل کر یہ سبز ہوجاتا ہے۔ یہ باتھ سالٹ میں عام استعمال ہوتا ہے۔
    https://twitter.com/WaynesboroWthr/status/1677499288526417921?s=20

    دریائے سندھ میں تین بھائی نہاتے ہوئے ڈوب گئے

    تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ سوڈیئم فلورسین طبعی اور کیمیائی طور پر صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتا۔ تاہم کھیتی باڑی میں اس کا استعمال نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
    river
    واضح رہے کہ اس سے قبل اٹلی کے شہر وینس میں موجود مشہور جھیل کا رنگ سبز ہوگیا تھا وینس کے گورنر لیوکا زایا نے کہا تھا کہ پولس اس ضمن میں تحقیقات کررہی ہے۔ جھیل کی رنگت بدلنے کی اطلاع سب سے پہلے ایک مقامی رہائشی نے دی تھی اس کے بعد مزید لوگوں نے اس کی تصدیق کی ہے بعض سائنسدانوں نے کہا تھا کہ شاید یہ ایک طرح کی الجی ہے جو پانی میں وافر مقدار میں جمع ہوئی ہے۔

    لبنان میں مسجد کے اندر فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق،متعدد زخمی

  • بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے سے دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہے

    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے سے دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہے

    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے سے دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہے

    ڈائریکٹر جنرل پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب فلائیٹ لیفٹیننٹ (ریٹائرڈ) عمران قریشی نے کہا ہے کہ 9 جولائی سے دریائے جہلم، چناب اور راوی سے منسلک ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہونے کا امکان ہے اور بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے سے دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہے جس سے سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

    انہوں نے جاری کردہ الرٹ بارے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پنجاب کے مختلف شہروں میں بارشوں کا سلسلہ 8 جولائی تک وقفے وقفے سے جاری رہے گا جبکہ آج اور کل کے دوران لاہور، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد، جہلم، اٹک، چکوال، میانوالی، گوجرانوالہ،ساہیوال،جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، بہاولنگر، نارووال، سیالکوٹ، گجرات، منڈی بہاؤالدین، حافظ آباد، ملتان، ڈی جی خان، بھکر، لیہ اور تونسہ میں آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔اسی طرح لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور نارووال، گجرات، جہلم، اٹک، چکوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور منڈی بہاؤالدین میں موسلادھار بارش کا بھی امکان ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے مزید بتایا کہ 06 سے 08 جولائی کے دوران ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے پہاڑی علاقوں میں سیلاب کا امکان ہے جبکہ آج سے 07 جولائی کے دوران لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی اور گوجرانوالہ کے نشیبی علاقوں میں موسلادھار بارش کے باعث اربن فلڈنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی دوران مری میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود رہے گا۔

    انہوں نے متعلقہ اداروں سمیت پنجاب بھر کی انتظامیہ کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ تمام ادارے پیشگی انتظامات مکمل رکھیں اور ہنگامی صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لیے تیار رہیں۔ ضلعی انتظامیہ، واسا، میونسپل کمیٹیز اور محکمہ ایریگیشن سمیت دیگر ادارے مشینری اور عملہ کو ہمہ وقت تیار رکھیں تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ دریاؤں کے قریب آبادیوں میں بسنے والے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے اور پانی کی گزرگاہوں سے ناجائز تجاوزات کا خاتمہ یقینی بنایا جائے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹرز سمیت دیگر ادارے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی رپورٹنگ کو بروقت یقینی بنائیں تاکہ فوری ریسکیو کاروائیوں کا آغاز کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ مسافر حضرات موسمی صورتحال سے آگاہ رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ تیز آندھی اور بارشوں کے باعث کمزور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچ سکتا ہے، نقصانات سے بچنے کے لیے شہری حکومت کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی تدابیر پر من و عن عمل کریں۔

    پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے الائزا ڈینگی ٹیسٹ کی قیمت 1,500روپے مقررکر دی

    ڈینگی کا ڈنگ تیز، ہسپتال بھر گئے

    لاہور میں ڈینگی کیسز کی شرح میں کمی

    انیل مسرت منموہن سنگھ کے ہمراہ سیلفی بنانے لگے تو کیا ہوا؟

    سابق بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کا کرونا ٹیسٹ، کیا آئی رپورٹ؟

    ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر کارروائی جاری، 68 افراد گرفتار،639 مقدمات درج

  • دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    اسلام آباد: پانی کی آمد و اخراج، ان کی سطح اور بیراجوں میں پانی کے بہا ؤکی صورتحال حسب ذیل رہی۔

    باغی ٹی وی: واٹر اور پاور ڈویلپنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے ترجمان کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد 17 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 45 ہزارکیوسک ،منگلا ڈیم میں پانی کی آمد 15 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 25 ہزار کیوسک ہے-

    ترجمان کے مطابق دریائے چناب میں پانی کی آمد 11 ہزار 200 کیوسک اور اخراج صفر کیوسک ہے، دریائے کابل میں پانی کی آمد 14 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 14 ہزار 300 کیوسک ،خیرآباد پل کے مقام پر پانی کی آمد 14 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 14 ہزار 300 کیوسک ہے-

    ترجمان کے مطابق جناح بیراج میں پانی کی آمد 57 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 52 ہزار 700 کیوسک،چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 51 ہزار کیوسک اور اخراج 48 ہزارکیوسک ہے،تونسہ بیراج میں پانی کی آمد 44 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 44 ہزار 700 کیوسک ہے-

    ترجمان واپڈا کے مطابق سکھر بیراج میں پانی کی آمد 30 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 6 ہزار 500 کیوسک ہے،کوٹری بیراج میں پانی کی آمد 7 ہزار 900 کیوسک اور اخراج صفرکیوسک ،گدو بیراج میں پانی کی آمد 36 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 32 ہزار 100 کیوسک ہے-

    ترجمان واپڈا کے مطابق تریموں میں پانی کی آمد 3 ہزار 500 کیوسک اور اخراج صفر کیوسک ہے،پنجند میں پانی کی آمد 4 ہزار کیوسک اور اخراج صفر کیوسک،تربیلا ڈیم میں آج پانی کا ذخیرہ 24 لاکھ 53 ہزار ایکٹرفٹ ہے،منگلا میں آج پانی کا ذخیرہ 9 لاکھ 84 ہزارایکڑ فٹ ہے،چشمہ میں آج پانی کا ذخیرہ 72 ہزار ایکٹرفٹ ہے،تربیلا، منگلا اور چشمہ ریزوائر میں پانی کا مجموعی ذخیرہ 35 لاکھ 9 ہزارایکڑ فٹ ہے-

  • دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    باغی ٹی و : ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلا میں پانی کی آمد17ہزار400کیوسک اور اخراج 5 ہزارکیوسک ہے، منگلا میں پانی کی آمد 5 ہزار900 کیوسک اور اخراج 4 ہزارکیوسک ہے-

    ترجما وپڈا کے مطابق ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد 5 ہزار500کیوسک اور اخراج 5 ہزار500کیوسک ہے نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد 9 ہزار100 کیوسک اور اخراج 9 ہزار100کیوسک ہےخیرآباد پل کے مقام پر پانی کی آمد 14 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 14 ہزار600 کیوسک ہے۔

    بیراج:

    ترجمان واپڈا کے مطابق جناح میں پانی کی آمد 16 ہزارکیوسک اور اخراج 14 ہزار300 کیوسک ،چشمہ میں پانی کی آمد 12 ہزار 200 کیوسک اور اخراج15ہزارکیوسک ،تونسہ میں پانی کی آمد 13 ہزار600 کیوسک اور اخراج 13 ہزار600 کیوسک ہے۔

    ترجمان واپڈا کے مطابق گدو میں پانی کی آمد 17 ہزار500 کیوسک اور اخراج 4 ہزار500 کیوسک ،سکھر میں پانی کی آمد 4 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 4 ہزار900 کیوسک ہے۔

    ترجمان واپڈا کے مطابق کوٹری میں پانی کی آمد 3 ہزار200 کیوسک اور اخراج 1 ہزار100 کیوسک ،تریموں میں پانی کی آمد 6 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 7 ہزار 900 کیوسک جبکہ پنجند میں پانی کی آمد 3 ہزار300 کیوسک اور اخراج 3ہزار300 کیوسک ہے۔

    آبی ذخائر:

    ترجمان واپڈ ا کے مطابق تربیلا میں آج پانی کا ذخیرہ 30 لاکھ 6 ہزار ایکٹرفٹ، منگلا میں آج پانی کا ذخیرہ 7لاکھ 86 ہزارایکڑ فٹ جبکہ چشمہ میں آج پانی کا ذخیرہ 21 ہزار ایکٹرفٹ اور تربیلا، منگلا اور چشمہ ریزوائر میں پانی کا مجموعی ذخیرہ38 لاکھ 13 ہزار ایکڑ فٹ ہے-

  • انٹارکٹیک میں برف کے نیچے بہنے والا طویل پُر اسرار دریا دریافت

    انٹارکٹیک میں برف کے نیچے بہنے والا طویل پُر اسرار دریا دریافت

    سائنسدانوں نے انٹارکٹیک میں برف کے نیچے بہنے والے ایک طویل پُر اسرار دریا کو دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانیہ کے امپیریل کالج لندن اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے محققین نے پہلی بار 460 کلو میٹر طویل اس دریا کو ریکارڈ کا حصہ بنایا ہے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے اس کی وجہ سے برف کے پگھلنے میں تیزی آرہی ہو۔

    دنیا میں اگلی وبا گلیشیرز کے پگھلنے کی وجہ سے آسکتی ہے،تحقیق

    نو دریافت شدہ دریا جرمنی اور فرانس کے مشترکہ رقبے کے برابر رقبے سے پانی اکٹھا کرتا ہے جو اس کے بہاؤ اور اس خطے میں برف کو متاثر کرتا ہے۔

    یہ دریافت امپیریل کالج لندن، یونیورسٹی آف واٹر لو، کینیڈا، یونیورسٹی ملائیشیا ٹیرینگانو اور نیو کیسل یونیورسٹی کے محققین نے کی ہے، جس کی تفصیلات نیچر جیو سائنس میں شائع ہوئی ہیں۔

    سائنس دانوں کو یہ ڈر ہے کہ اگر موسمیاتی تغیر سطح پر برف کے پگھلنے کی صورتحال کو مزید بد تر کرتا ہے تو یہ دریا اس خطے کی برف کی چادر کے نیچے موجود برف کو کم کر سکتا ہے۔

    سربراہ محققین ڈاکٹرکرسٹین ڈاؤ کا کہنا تھا کہ سائنسدان کی جانب سے ان دریائی نظاموں کوکھاتے میں نہ لا کر برف کے پگھلنے کے حوالے سے اندازے لگایا جانا بڑا مغالطہ ہو سکتا ہے سیٹلائٹ سےکی جانے والی پیمائشوں سےسائنسدان جانتے ہیں کہ انٹارکٹیکا کے کونسے خطوں میں کتنی برف پگھل رہی ہےلیکن یہ علم نہیں ہےکہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ یہ دریافت ممکنہ طور پر سائنس دانوں کے ماڈلز میں ایک مفقود کڑی ہوسکتی ہے۔

    اداسی محسوس ہو تو دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق

    زمین پر موجود برف کی چادروں کے نیچے دو صورتوں میں پانی بہتا ہے۔ پہلی صورت میں سطح پر پگھلتی برف سے پانی دراڑوں سے گہرائی میں جاتا ہے جن کو مولِنس کہتے ہیں دوسری صورت میں زمین کی قدرتی گرمائش کی وجہ سے بنیادوں میں برف پگھلتی ہے جس سے پانی بہتا ہے۔

    امپیریل کالج لندن کے گرانتھم انسٹی ٹیوٹ کے شریک مصنف پروفیسرمارٹن سیگرٹ نےکہا کہ جب ہم نے پہلی بار انٹارکٹک برف کے نیچے جھیلیں دریافت کیں توہم نےسوچا کہ وہ ایک دوسرےسےالگ تھلگ ہیں۔ اب ہم وہاں سمجھنا شروع کر رہے ہیں کیا وہاں اس کے نیچے پورے نظام ہیں، جو دریا کے وسیع نیٹ ورکس سے ایک دوسرے سے باگی ٹی وی جڑے ہوئے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے وہ ہوسکتے ہیں اگر ان کے اوپر ہزاروں میٹر برف نہ ہوتی۔

    مگرمچھوں کے خون میں زہریلے کیمیائی اجزا کی موجودگی کا انکشاف

    جس خطہ پر یہ مطالعہ کیا گیا ہے وہاں عالمی سطح پر سطح سمندر کو 4.3 میٹر تک بلند کرنے کے لیے کافی برف موجود ہے اس میں سے کتنی برف پگھلتی ہے، اور کتنی جلدی، اس بات سے منسلک ہے کہ برف کی بنیاد کتنی پھسلن ہے اس عمل کو سختی سے متاثر کرتا ہے۔

    برف کی چادروں کے نیچے پانی دو اہم طریقوں سے ظاہر ہو سکتا ہے: سطح کے پگھلنے والے پانی کے گہرے دروں سے نیچے گرنے سے، یا زمین کی قدرتی گرمی اور رگڑ کی وجہ سے جو زمین پر برف کے حرکت کرتی ہے۔

    تاہم، شمالی اور جنوبی قطبوں کے ارد گرد برف کی چادریں مختلف خصوصیات رکھتی ہیں۔ گرین لینڈ میں، سطح گرمیوں کے مہینوں میں مضبوط پگھلنے کا تجربہ کرتی ہے، جہاں پانی کی بے تحاشا گہرائیوں سے گزرتی ہے جسے مولین کہتے ہیں۔

    تاہم، انٹارکٹیکا میں، سطح کافی مقدار میں پگھل نہیں پاتی تاکہ مولین پیدا ہو، کیونکہ گرمیاں اب بھی بہت ٹھنڈی ہوتی ہیں۔ یہ خیال کیا گیا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انٹارکٹک برف کی چادروں کی بنیاد پر نسبتاً کم پانی تھا۔

    ویڈیو شئیرنگ ایپ یو ٹیوب میں نئے فیچرز کا اضافہ

  • دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    واٹر اور پاور ڈویلپنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے ترجمان کے مطابق تربیلا میں آج پانی کا ذخیرہ 50 لاکھ 59 ہزار ایکڑ فٹ ہے-

    باغی ٹی وی : ترجمان واپڈا کے مطابق پنجند میں پانی کی آمد 10 ہزار200کیوسک اور اخراج صفرکیوسک ہے، تریموں میں پانی کی آمد 18 ہزار200 کیوسک اور اخراج 9 ہزار 700 کیوسک ہے،کوٹری بیراج میں پانی کی آمد 63 ہزار100 کیوسک اور اخراج 35 ہزار کیوسک ہے-

    ترجمان واپڈا کے مطابق سکھربیراج میں پانی کی آمد 45 ہزار600کیوسک اور اخراج 25 ہزارکیوسک ہے گدو بیراج میں پانی کی آمد52 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 46 ہزار 100 کیوسک ہے،تونسہ بیراج میں پانی کی آمد 57 ہزار700 کیوسک اور اخراج 48 ہزار500 کیوسک ہے-

    ترجمان واپڈا کے مطابق چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 41 ہزار200 کیوسک اور اخراج 53 ہزارکیوسک ہے، جناح بیراج میں پانی کی آمد 46 ہزار200 اور اخراج 39 ہزار200 کیوسک ہے،خیرآباد پل کے مقام پر پانی کی آمد21 ہزار500 کیوسک اور اخراج 21 ہزار500 کیوسک ہے-

    شمالی علاقوں میں موسم سرما کی پہلی برفباری کا آغاز ہو گیا

    ترجمان واپڈا کے مطابق دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد 10 ہزار600 کیوسک اور اخراج 10 ہزار600 کیوسک ہے دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 10 ہزار900 کیوسک اور اخراج 3 ہزار200 کیوسک ہے-

    ترجمان واپڈا کے مطابق دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 8 ہزار400 کیوسک اور اخراج 38 ہزارکیوسک ہے, دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 39 ہزار500 کیوسک اور اخراج 40 ہزارکیوسک ہے-

    خانقاہ ڈوگراں : شہر کے وسط سے گزرنے والا لاہور ، سرگودھا روڈ عوام کیلئے وبال بن…

  • بلوچستان میں سیلاب کے باعث مزید 3 اموات،میڈیکل کیمپ نہ ہونے سے بچے مختلف امراض کا شکار

    بلوچستان میں سیلاب کے باعث مزید 3 اموات،میڈیکل کیمپ نہ ہونے سے بچے مختلف امراض کا شکار

    پروونشل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کے نتیجے میں ہونے والےحادثات میں مزید تین اموات ہوئی ہیں جاں بحق افراد میں ایک مرد، ایک خاتون اور ایک بچہ شامل ہے، تینوں ہی اموات ضلع قلعہ سیف اللہ سے سامنے آئیں –

    باغی ٹی وی : پی ڈی ایم اے کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں یکم جون سے اب تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 281 ہوگئی ہے، جاں بحق ہونے والوں میں 133 مرد 64 خواتین اور 84 بچے شامل ہیں سب سے زیادہ 27 ہلاکتیں کوئٹہ جبکہ ژوب سے 22 اور لسبیلہ سے 21 اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ صوبے بھر میں بارشوں اور سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں 172 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔

    سیلاب متاثرین کی بحالی اور گھروں کو واپسی کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔رانا شکیل ہٹواڑی

    سیلابی ریلوں اور بارشوں سے صوبے بھر میں مجموعی طور پر 65 ہزار 197 مکانات کو نقصان پہنچ چکا ہے مجموعی طور پر دو لاکھ 70 ہزار 444 سے زائد مال مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے ہیں مجموعی طور پر 2 لاکھ ایکڑ زمین پر کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے جبکہ صوبے میں سیلابی ریلوں میں 22 پل گر کر تباہ ہو گئے ہیں جبکہ 2200 کلو میٹر پر مشتمل مختلف شاہراہیں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔

    دوسری جانب بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی، نصیر آباد، جعفر آباد میں خمیہ بستیوں میں میڈیکل کیمپ نہ ہونے سے بچے بخار اور گسیٹرو اور ملیریا جیسے امراض میں مبتلا ہونے لگے ہیں جبکہ قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، زیارت، دکی، مسلم باغ کے بے گھر افراد خیموں سے بھی محروم ہیں۔

    ڈیرہ مراد جمالی میں خمیہ بستی میں میڈیکل کیمپ نہ ہونے سے معصوم بچے شدید بخاراور گسیڑو میں مبتلا ہونے لگے،،مائیں پانی کے قطرے ڈال کر بخار کی شدت کو کم کرنے کی کوششیں کرتی نظرآتی ہیں جبکہ شدید گرمی میں متاثرین اپنے بچوں کو چار پائی کی مدد سے سایہ دینے کی کوشش کررہے ہیں-

    بھارت پاکستان پرایک اورآبی حملے کا منصوبہ بناچکا:سیلاب کی وارننگ جاری کردی گئی

    امدادی سامان میں مبینہ طور پر غیرمنصفانہ تقسیم کے خلاف متاثرین نے ڈیرہ اللہ یار صحبت پور شاہراہ کو بلاک کرکے احتجاجی دھرنا دیا جبکہ قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، زیارت، دکی، مسلم باغ کے بے گھرافراد خیموں سے بھی محروم ہیں، متاثرین میں بیماریاں پھیل رہی ہیں سڑکیں بحال نہ ہونے کے باعث مسافروں کو بھی شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے خبردار کیا ہے کہ 18 ستمبر سے پنجاب کے دریاؤں ستلج، راوی، چناب اوران کے ملحقہ نالوں میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہے۔

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے 14 سے 20 ستمبر تک موسم کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں ہوا کا دباؤ بہت کم ہے، ہوا کا یہ کم دباؤ مشرقی دریاؤں کے بالائی علاقوں کو متاثر کرسکتا ہے۔

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق ہوا کے اس کم دباؤ کے زیر اثر 18 ستمبر سے دریائے ستلج، راوی، چناب اور ان سے ملحقہ نالوں میں پانی کابہاؤ بڑھ سکتا ہے-

    سعودی عرب سے سیلاب متاثرین کے لئے پہلی پرواز پاکستان پہنچ گئی