Baaghi TV

Tag: دریائے ستلج

  • ستلج میں پانی کی سطح بلند، بند ٹوٹنے سے پانی گھروں میں داخل، سیلاب کا 27 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    ستلج میں پانی کی سطح بلند، بند ٹوٹنے سے پانی گھروں میں داخل، سیلاب کا 27 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا

    دریائے ستلج میں سیلاب کا 27 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، سینکڑوں چھوٹی بڑی آبادیوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا۔

    دریائے ستلج میں بھارتی آبی جارحیت کی انتہا ہو گئی، دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 85 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا، پاکپتن میں سیلاب کے باعث سینکڑوں چھوٹی بڑی آبادیوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیاسیلاب کے پیش نظرکئی دیہات کو خالی کروا لیا گیا، قصور کے علاقے میں دریائے ستلج میں سب سے بڑا سیلابی ریلا گزرا، پولیس اور انتظامیہ متحرک رہی، ڈی پی او قصور اور ڈپٹی کمشنر رات بھر تلوار چیک پوسٹ پر موجود رہے۔

    چشتیاں کے نواحی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور 50 کے قریب بستیاں زیرآب ہوگئیں،بند ٹوٹنے سے پانی گھروں اور آبادیوں میں داخل ہوگیا، بستی میروں بلوچاں، موضع عظیم، قاضی والی بستی، بستی شادم شاہ اور دلہ عاکوکا سمیت 50 کے قریب بستیاں شدید متاثر ہوئی ہیں جس کے باعث علاقہ مکینوں کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کیا جارہا ہے۔

    بنوں: دہشتگردوں کا تھانے پرحملہ ناکام بنا دیا گیا

    ریسکیو 1122 کی ٹیمیں کشتیوں اور دیگر ذرائع سے لوگوں کو سیلاب زدہ علاقوں سے نکال رہی ہیں جبکہ کئی مقامات پر فصیلیں بھی تباہ ہوگئی ہیں۔ کماد اور تل کی فصلیں شدید متاثر ہونے سے کسانوں کو بھاری نقصان کا خدشہ ہے۔

    انتظامیہ کے مطابق دریائے ستلج میں پانی کی سطح میں صبح تک مزید اضافے اور مزید بند ٹوٹنے کا اندیشہ ہے۔ فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں اور اعلانات کے ذریعے عوام کو صورتحال سے آگاہ کیا جا رہا ہے انتظامیہ نے علاقہ مکینوں سے اپیل کی ہے کہ وہ نقل مکانی کریں اور سیلابی صورتحال میں تعاون کریں تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

    لاہور سے سیلاب کا خطرہ ٹل گیا ہے، قصور کے مقام پر تاریخ کا سب سے بڑا سیلابی ریلا گزرا، دریائے ستلج کے بہاؤ میں اب کمی آنا شروع ہو گئی ہے، صورتحال ابھی بھی غیر معمولی ہے، آج شام ملتان کے علاقے میں بڑا سیلابی ریلا داخل ہوگادریائے راوی، دریائے چناب اور دریائے ستلج میں سیلاب کے باعث سینکڑوں دیہات زیر آب ہیں اور پندرہ لاکھ کے قریب افراد سیلاب سے متاثر ہو ئے ہیں جبکہ اب تک 28 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

    مدعی نے مقدمہ واپس لے لیا، چیئرمین چنیسر ٹاؤن فرحان غنی رہا

    ملتان کی حدود میں آج شام تک سیلاب کا بڑا ریلا داخل ہونے کا امکان ہے، 3 لاکھ سے زائد افراد کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے، متاثرین نے کشتیاں کم ہونے اور مویشیوں کی منتقلی کے انتظامات نہ کرنے پر انتظامیہ سے شکوہ کیا ہے۔

    جلالپور پیروالا کے قریب دریائے ستلج سے 50 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے، جس سے 140 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک ہے، پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے ستلج میں سلیمانکی کے مقام پہ پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک ہے۔

    دریائے چناب کا سیلابی ریلا چنیوٹ، جھنگ اور تریموں کی جانب بڑھ رہا ہے، دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 11 ہزار کیوسک ہے،دریائے چناب میں خانکی ہیڈ ورکس کے مقام پہ پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 70 ہزار کیوسک ہے، دریائے چناب میں قادر آباد کے مقام پرپانی کا بہاؤ 1 لاکھ 71 ہزار کیوسک ہے، ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 46 ہزار کیوسک جبکہ ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

    سیالکوٹ میں موسلا دھار بارش، شاہراہیں اور گلیاں دوبارہ ڈوب گئیں

    دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 78 ہزار کیوسک ہے،پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک ہے،دریائے راوی میں بلوکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 99 ہزار کی کیوسک ہے،بلوکی ہیڈ ورکس کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

  • قصور شہر کو زیر آب آنے کا خدشہ،انتظامیہ جلد سے جلد اقدمات کرے

    قصور شہر کو زیر آب آنے کا خدشہ،انتظامیہ جلد سے جلد اقدمات کرے

    قصور
    دریائے ستّلج میں بڑھتے ریلے سے قصور شہر کو خطرہ،انتظامیہ
    جلد۔اقدامات کرے

    تفصیلات کے مطابق دریائے ستلج گنڈہ سنگھ والا قصور میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جس سے قصور شہر اور نواحی دیہات کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں
    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 80 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے

    گنڈہ سنگھ و قریبی دیہات سے ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں نے فوری اقدامات کرتے ہوئے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ابتک 14 ہزار سے زائد افراد کو نکالا جا چکا ہے جبکہ مجموعی طور پر مشرقی پنجاب کے علاقوں سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں

    زرائع کے مطابق انتظامیہ نے قصور شہر کو بچانے کے لئے حفاظتی بندوں پر دباؤ کم کرنے کی غرض سے رحیم یار کے مقام پر بند کاٹنے کا فیصلہ کیا تاکہ بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور شہر کو زیرِ آب آنے سے بچایا جا سکے
    ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ قصوراور پاک فوج کی مشترکہ کوششوں سے ریلیف کیمپس قائم کر دیئے گئے ہیں جہاں بے گھر ہونے والے افراد کو عارضی رہائش، کھانے پینے کی اشیاء اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے

    گورنمنٹ ہائی اسکول کھڈیاں خاص،ڈگری کالج چونیاں،گورنمنٹ ہائی سکول پتوکی،گورنمنٹ گرلز ہائی سکول مصطفی آباد للیانی اور
    ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور کے قریب ریلیف سنٹرز قائم کئے گئے ہیں جن کے رابطہ نمبرز
    ریسکیو 1122 کی ہیلپ لائن 1122،ضلعی کنٹرول روم قصور 049-9200123
    ،ڈپٹی کمشنر آفس قصور (ایمرجنسی ڈیسک) 049-9200200 ہیں

    محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں دریائے ستلج اور اس سے جڑے ندی نالوں میں پانی کا مذید اضافہ ہو سکتا ہے جس سے قصور کے نشیبی علاقے مکمل طور پر زیرِ آب آ سکتے ہیں
    اہلِیان قصور نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین کی فوری بحالی اور نقصانات کے ازالے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور قصور شہر کو زیر آب آنے سے بچانے کے لئے جلد سے جلد عملی اقدامات کئے جائیں
    واضع رہے کہ دریائے ستلج کے مختلف مقامات سے قصور شہر کا فاصلہ 8 سے 12 کلومیٹر ہے
    جبکہ ارگرد سینکڑوں دیہات آباد ہیں

  • دریائے راوی اور ستلج میں پانی کے بہاؤ میں خطرناک حد تک اضافہ

    دریائے راوی اور ستلج میں پانی کے بہاؤ میں خطرناک حد تک اضافہ

    دریائے راوی اور دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا جس پر سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا،جبکہ بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے کی اطلاع دی ہے۔

    ذرائع کے مطابق بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے کی اطلاع دے دی ہے، بھارت نے اطلاع سفارتی ذرائع سے پاکستان کو دی، بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت اطلاع نہیں دی،اضی میں بھارتی واٹر کمیشن براہ راست اطلاع دیتا تھا۔ پاکستانی حکام نے بھارتی اطلاع سے انڈس واٹر کمیشن کو آگاہ کیا جبکہ پاکستانی انڈس واٹرکمیشن نے سیلاب سے متعلقہ اداروں کو آگاہ کردیا ہے۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے آئندہ 48 گھنٹوں کے لیے دریائے راوی پر درمیانے درجے کے سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا،دریائے راوی اور اس کے ملحقہ ندی نالوں میں شدید بارشوں کے باعث تھین ڈیم 1717 فٹ کے ساتھ 86 فیصد تک بھر چکا ہے تھین ڈیم سے پانی کے اخراج اور بھارتی نالوں سے آنے والے سیلابی ریلوں کے باعث دریائے راوی کے بہاؤ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

    لاہور: آئندہ ہفتے کچرا اٹھانے کے بل بھیجے جائیں گے،ایل ڈبلیو ایم سی

    پیر پنجال رینج کے نالوں بشمول بین، بسنتر اور ڈیک میں آئندہ 24 گھنٹوں میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہےدریائے راوی میں کوٹ نیناں کے مقام پر حالیہ بہاؤ 64ہزار کیوسک تک ریکارڈ کیا گیا، آئندہ 24 گھنٹوں میں جسر کے مقام پر درمیانے درجے تک کا سیلاب متوقع ہے۔

    ڈیم سے اخراج کی صورت میں سیالکوٹ، نارووال، قصور اور گردونواح کے نشیبی علاقے متاثر ہو سکتے ہیں لہٰذا شہریوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ دریاؤں، نالوں اور نشیبی علاقوں سے دور رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں،عوام ٹی وی، ریڈیو، موبائل الرٹس اور پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ کے ذریعے جاری کردہ الرٹ اور ہدایات پر عمل کریں، این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں اور ایمرجنسی سروسز کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی۔

    ثابت کر سکتی ہوں سیکریٹری جنرل ہاکی فیڈریشن کی تعیناتی غیرآئینی ہے۔شہلا رضا

    پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق دریائے ستلج ہریکے کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں اضافے اور اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی،دریائے ستلج میں ہریکے ڈاؤن اسٹریم پر اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال ہے دریائے ستلج اور ملحقہ ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوگا۔

    بہاولنگر کے دریائے ستلج سے ملحقہ علاقے شدید خطرات کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔ سیلابی ریلوں نے دریائی پٹی میں تباہی مچا دی ہے جبکہ زمینی کٹاؤ کا سلسلہ تیزی سے جاری ہےمتعدد دیہاتوں میں پانی داخل ہونے سے سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں دریا برد ہوگئیں۔ زرعی زمینیں تباہ ہونے کے باعث کاشت کار شدید مشکلات کا شکار ہیں،ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں نے متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن تیز کردیا ہے تاہم مسلسل بڑھتے پانی کے بہاؤ نے صورتِ حال مزید سنگین بنا دی ہے.مقامی افراد نے حکام سے فوری اقدامات اور حفاظتی بند مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔

    اسپیس ایکس کا دسواں اسٹارشپ مشن مؤخر

    پی ڈی ایم اے پنجاب نے متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایات کر دی،لاہور، ساہیوال، ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان کے کمشنرز جبکہ قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، وہاڑی، بہاولنگر، لودھراں، بہاولپور، ملتان اور مظفرگڑھ کے ڈپٹی کمشنرز کو بھی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق لوکل گورنمنٹ، محکمہ زراعت، محکمہ آبپاشی، محکمہ صحت، محکمہ جنگلات، لائیو اسٹاک اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر تمام تر انتظامات مکمل کریں،انہوں نے ہدایت کی کہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ریسکیو ٹیموں کو پیشگی حساس مقامات پر تعینات کریں، موسلادھار بارشوں کی صورت میں شہریوں کو پیشگی آگاہ کریں۔ مساجد میں اعلانات اور لوکل سطح پر شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایات جاری کی جائیں۔

    دیر بالا :پولیس اور سی ٹی ڈی کا کامیاب آپریشن، 5 خوارج ہلاک، 8 پولیس اہلکار معمولی زخمی

  • دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند، سینکڑوں دیہات متاثر

    دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند، سینکڑوں دیہات متاثر

    دریائے ستلج میں بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد سطح میں اضافہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں بہاولپور اور بورے والا میں ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیرِ آب آگئیں۔

    محکمۂ انہار کے مطابق بہاولپور کے ایمپریس برج کے قریب پانی کی سطح بلند ہونے سے کپاس، چاول اور تل کی فصلیں اور متعدد مکانات ڈوب گئے۔ تحصیل صدر کے بیٹ کے علاقوں سے خواتین اور بچوں سمیت مقامی آبادی کا انخلاء شروع کر دیا گیا ہے۔اسسٹنٹ کمشنر بہاولپور کا کہنا ہے کہ ماڑی قاسم شاہ کے بیٹ کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔بورے والا میں بھی ساہوکا اور ملحقہ آبادیاں سیلابی پانی میں ڈوب گئیں، جبکہ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ ساہوکا چشتیاں روڈ میں شگاف پڑنے سے سیکڑوں دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق متاثرہ علاقوں داد جملیرا، ساہوکا اور فاروق آباد میں ٹینٹ ویلج قائم کر دیے گئے ہیں تاکہ متاثرین کو عارضی پناہ فراہم کی جا سکے۔

    سرگودھا: پولیس موبائل رولر سے ٹکرا گئی، 1 ملزم جاں بحق، 7 زخمی

    ربیع الاوّل کا چاند نظر نہیں آیا، یکم ربیع الاوّل 26 اگست کو ہوگی

  • دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند، قصور کے درجنوں دیہاتوں کا زمینی رابطہ منقطع

    دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند، قصور کے درجنوں دیہاتوں کا زمینی رابطہ منقطع

    دریائے ستلج میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے کے باعث ضلع قصور کے متعدد دیہات زیر آب آگئے ہیں، جب کہ درجنوں علاقوں کا زمینی رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو چکا ہے، بھارت کی جانب سے مزید پانی چھوڑے جانے کا امکان ہے

    پی ڈی ایم اے قصور کے مطابق گنڈا سنگھ والا ہیڈ سے پانی کا اخراج 75 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔آج صبح 6 بجے دریائے ستلج کی کیکر پوسٹ پر پانی کی سطح 19.60 فٹ ریکارڈ کی گئی، پی ڈی ایم اے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے ہریکے ہیڈورکس سے مزید پانی چھوڑے جانے کا امکان ہے جس سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

    کوہاٹ: نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 7 افراد جاں بحق

    متاثرہ علاقوں میں بھکی ونڈ، واڑہ حاکو والا، ایمن نگر، بستی بنگلہ دیش، اور چندہ سنگھ شامل ہیں، جہاں کی سڑکیں اور راستے پانی میں ڈوب چکے ہیں،کھڑی فصلیں اور سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے، جس سے کسانوں کو شدید نقصان کا سامنا ہے۔ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں متاثرہ علاقوں میں کشتیوں کے ذریعے آمد و رفت ممکن بنائی گئی ہے جبکہ فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں، جہاں طبی سہولیات، راشن، اور مویشیوں کے لیے چارے کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔

    ڈپٹی کمشنر قصور کے مطابق ضلعی انتظامیہ پی ڈی ایم اے کے ساتھ مل کر ہر قسم کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہے انہوں نے متاثرہ خاندانوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت ان کی مکمل مدد کرے گی۔

    راول ڈیم میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ، اسپیل ویز کھول دیئے

    ریسکیو ذرائع کے مطابق ریسکیو 1122 کی جانب سے بوٹ ٹرانسپورٹیشن سروس شروع کر دی گئی ہے، تاکہ پھنسے ہوئے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا سکے،ضلعی حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں 1122 پر فوری رابطہ کریں اور اپنی مدد آپ کے تحت محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونے کی کوشش کریں۔

  • دریائے ستلج میں ممکنہ سیلاب، پی ڈی ایم اے پنجاب کا الرٹ جاری

    دریائے ستلج میں ممکنہ سیلاب، پی ڈی ایم اے پنجاب کا الرٹ جاری

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے دریائے ستلج اور ملحقہ ندی نالوں میں ممکنہ سیلاب سے متعلق الرٹ جاری کردیا۔

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق 13 اگست سے شروع ہونے والی مون سون بارشوں کے باعث دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔ بالائی علاقوں میں مون سون کے نئے اسپیل اور آبی ذخائر سے پانی کے اخراج کے باعث خطرہ بڑھ گیا ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح بڑھنے کا خدشہ ہے، بھارتی ڈیمز میں پانی کی سطح گزشتہ ہفتے کے دوران غیر معمولی حد تک بڑھی ہے۔ بھاکڑا ڈیم 61 فیصد، پونگ ڈیم 76 فیصد اور تھین ڈیم 64 فیصد تک بھر چکے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق ارسا اور محکمہ آب پاشی 24 گھنٹے دریاؤں کی صورتحال مانیٹر کر رہے ہیں، جبکہ صوبے بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو بھی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

    ایران کے صوبے کرمان میں ٹرین حادثہ، 30 افراد زخمی

    علیمہ خان اسٹیبلشمنٹ کی ٹاؤٹ ہے، شیر افضل مروت کا الزام

    پی ٹی آئی اجلاس، شیر افضل مروت کی واپسی پر مشاورت

  • بھارت سےچھوڑے گئےسیلابی ریلوں نے تبا ہی مچا دی،480 دیہات اور موضع جات کی رپورٹ جاری

    بھارت سےچھوڑے گئےسیلابی ریلوں نے تبا ہی مچا دی،480 دیہات اور موضع جات کی رپورٹ جاری

    بھارت سے چھوڑے گئے سیلابی ریلوں نے تبا ہی مچا دی، دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب سے ہیڈ اسلام اور گنڈا سنگھ والاکے مقامات پر دریا سے ملحقہ دیہات اور بستیاں زیر آب آگئیں اور مکانات گر گئے جبکہ فصلیں تباہ ہوگئیں۔

    باغی ٹی وی:پرووینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی( پی ڈی ایم اے) نے دریائے ستلج میں سیلاب سے پنجاب کے مختلف اضلاع میں زیرآب آنے والے 480 دیہات اور موضع جات کی رپورٹ جاری کردی،سب سے زیادہ 155 دیہات اورموضع جات ضلع بہاولنگر میں زیر آب آئے ہیں،سیلاب سے مختلف اضلاع کے 480 دیہات و موضع جات متاثر ہیں،بہاولنگرکے 155،قصورکے93،وہاڑی کے 77 ،اوکاڑہ کے76، بہاولپورکے47 اور لودھراں کے14 دیہات وموضع جات زیرآب ہیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    آصف زرداری سے برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات

    پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے ستلج کی طغیانی اب کم ہونے لگی ہے،بہاولنگر، قصور، اوکاڑہ،پاکپتن، لودھراں، وہاڑی اور بہاولپور سے 970 افراد کو ریسکیو کیا گیااس کے علاوہ 32 ہزار لوگوں کا علاج کیا گیا جب کہ 300 متاثرہ خاندانوں میں راشن تقسیم کیا گیا۔

    دوسری جانب پنجاب کے مختلف شہروں میں تیز بارش کے باعث موسم خوشگوار ہوگیا ساتھ ہی مکنہ حادثے سے نمٹنے کیلئے واسا سمیت دیگر اداروں کو الرٹ کردیا گیا لاہور میں صبح سویرے آسمان پر کالے سیاہ بادل چھا گئےاورٹھنڈی ہواؤں کے بعد تیز بارش کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی بھر گیا۔

    ڈیرہ غازیخان:تحصیل ٹرائیبل ایریا کے تمام ہسپتالوں میں ملیریا ٹیسٹ فری ہوں گے

    اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف علاقوں میں تیز بارش کا سلسلہ جاری ہےبارش سے گرمی کی شدت میں کمی آگئی جبکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے نمٹنے کے لئے واسا سمیت دیگر ادارے الرٹ ہیں محکمہ موسمیات نے خیبرپختونخوا، بالائی پنجاب میں بارش کا امکان ظاہر کیا تھاخطہ پوٹھوہار،اسلام آباد، بالائی پنجاب میں بارش کی ہوسکتی ہےمری، گلیات، راولپنڈی،اٹک،چکوال، جہلم، سیالکوٹ،نارووال، میانوالی، لاہور اور گوجرانوالہ میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے جب کہ چترال، دیر،سوات، مانسہرہ، کوہستان، ایبٹ آباد، کوہاٹ، پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اوروزیرستان میں بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔

    بجلی اور بھی مہنگی کرنے کی تیاری کر لی گئی

  • دریائے ستلج کے متعدد حفاظتی بند ٹوٹ گئے،60 سے زائد دیہات کے زمینی راستے منقطع

    دریائے ستلج کے متعدد حفاظتی بند ٹوٹ گئے،60 سے زائد دیہات کے زمینی راستے منقطع

    ہیڈ سلیمانکی میں اونچے درجے کا سیلاب، پانی کے تیز بہاؤ کے باعث دریائے ستلج کے متعدد حفاظتی بند ٹوٹ گئے۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق ہیڈ سلیمانکی میں پانی کی آمد اور اخراج ایک لاکھ 36 ہزار 6 سو 32 کیوسک ہوگیا، پانی کے تیز بہا ؤکی وجہ سے متعدد عا ر ضی حفاظتی بند اور سڑکیں ٹوٹ گئیں دریائی بیلٹ سے ملحقہ وسیع علاقہ زیر آب آ چکا ہے، جبکہ درجنوں آبادیوں کے چاروں اطراف پانی ہی پانی ہے-

    ذرائع کے مطابق 60 سے زائد دیہات کے زمینی راستے منقطع ہوگئے، ہزاروں ایکڑ فصلیں، املاک تباہ ہوگئیں،انتظامیہ اور ریسکیو ٹیموں کی جانب سے اہل علاقہ کے ساتھ مل کر امدادی کارروائیاں جاری ہیں، ریسکیو ٹیمیں پانی میں پھنسے 8561 افراد کو نکال کر محفوظ مقا ما ت پرمنتقل کر چکی ہیں سیلابی ریلہ ہیڈ اسلام وہاڑی پہنچنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جس کے باعث ہیڈ اسلام میں پانی کی سطح 94000 کیوسک ہوچکی ہے۔

    راولپنڈی سے 2100 کلو مردہ مرغیوں کی کھیپ پکڑی گئی

    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق قصور، بہاولنگر، اوکاڑہ، پاکپتن، ساہیوال اور وہاڑی کی ہزاروں ایکڑ اراضی زیرآب، فصلیں تباہ ہوچکی ہیں، ستلج میں سیلاب سے بہت سے دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے، جبکہ متاثرہ افراد امداد کے منتظر ہیں۔

    دوسری جانب راولپنڈی اور اسلام آباد میں موسلا دھار بارش کے بعد پنڈی میں رین ایمرجنسی نافذ کردی گئی ایم ڈی واسا کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی کے بعض علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی جس کے سبب رین ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے شہر میں نکاسی آب کے لیے ہیوی مشینری و عملہ نشیبی علاقوں میں تعینات کردیا گیا ہے، اس کے علاوہ نالہ لئی اور دوسرے نالوں کی مانیٹرنگ بھی کی جا رہی ہے آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں غذر اور دیربالا میں بھی تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ہوئی محکمہ موسمیات کے مطابق آج اسلام آباد، بالائی پنجاب، خطہ پوٹھوہار، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر کے بعض مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان ہے۔

    خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں درجنوں مقامی چیئر لفٹس بند

  • دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب، متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری

    دریائے ستلج میں اونچے درجے کا سیلاب، متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری

    دریائے ستلج میں دو مقامات پر اونچے سے انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کے پیش نظر صوبہ پنجاب کے کچھ حصوں سے لوگوں کے ریسکیوں اور انخلا کی کوششیں جاری ہیں۔

    باغی ٹی وی: ہفتہ کے روز دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا بیراج کے مقام پر سیلاب انتہائی اونچے درجے تک پہنچ گیا تھا جس کے پیش نظر قصور اور چونیاں کے 72 دیہاتوں سے سینکڑوں خاندانوں کو نکال لیا گیا ہے جب کہ قصور میں اونچے مقام کی تلاش کی کوشش کے دوران تین افراد سیلابی پانی میں ڈوب گئے۔

    قصور میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں، پنجاب میں موسم گرما کے بعد آج سے تعلیمی سرگر میوں کا آغاز ہورہا ہے تاہم پاکپتن کے متاثرہ علاقوں میں اسکول بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہےسیلاب متاثرہ علاقوں میں گنڈا سنگھ والا، دھپ سری، اٹاری اور گھٹی کلنگر، اولاکے، جمعے والا، کمال پورہ، اورنجابت متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں۔

    پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے گرفتار

    جہاں سے ہزاروں افراد کو سیلاب سے نکالنے اورمحفوظ مقامات پر منتقل کرنے کاعمل جاری رہا ہے۔ پاک فوج کی ریسکیو ٹیمیں کشتیوں کے ذریعے امدادی سرگرمیوں میں مصروف رہیں،ہزاروں متاثرہ خاندانوں میں لگ بھگ 16 ٹن مفت راشن بھی تقسیم کیا گیا ہے راشن پیکس میں آٹا، دال، چاول، گھی اور دودھ سمیت ضروری اشیائے شامل ہیں۔

    اس کے ساتھ ہی سیلاب زدگان کیلئے ضروری طبی امداد کا بھی خاطر خواہ انتظام کیا گیا،امدادی کارروائیاں معمولات زندگی بحال ہونے تک جاری رہیں گی دوسری جانب پاکپتن میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں اسکول بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ایجوکیشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں 17 اسکول بند رہیں گے۔

    ٹک ٹاک اور ٹیلی گرام پر پابندی لگانے کا فیصلہ

    فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کی پیشن گوئی کے مطابق سلیمانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کی توقع ہے،دریں اثنا، پنجاب میں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر کی سطح کم ہو رہی ہے جبکہ سلیمانکی ہیڈ ورکس میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے اسلام ہیڈ ورکس پر دریا میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، وہاڑی، بہاول نگر، ملتان اور لودھراں کے نشیبی علاقے سیلاب کی زد میں ہیں اور ان علاقوں میں مقامی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے بیان میں کہا گیا کہ ان علاقوں میں سیلاب سے متعلق امدادی مراکز کے قیام کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جب کہ انخلا کا عمل جاری ہے آج سے پہلے پنجاب کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا تھا کہ ضلع اوکاڑہ میں 56 مقامات سیلاب سے متاثر ہونے کی توقع ہے۔

    قرض واپس نہ کرنے پربھارتی بینک کاسنی دیول کا گھر نیلام کرنے کا فیصلہ

  • ستلج میں بہہ کر دو بھارتی پاکستان پہنچ گئے

    ستلج میں بہہ کر دو بھارتی پاکستان پہنچ گئے

    دریائے ستلج میں بہہ جانے والے دو بھارتی پاکستان پہنچ گئے۔

    باغی ٹی وی: بھارتی موقر ادارے انڈیا ٹو ڈے نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ لدھیانہ سے تعلق رکھنے والے دو افراد ہفتہ کے روز فیروز پور سے دریائے ستلج میں بہہ جانے کے بعد پاکستان پہنچے تھے رتن پال اور ہواندر سنگھ نامی دو افراد کو پاکستان میں حراست میں لیا گیا اور اس کے بعد بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کو بھی اطلاع دی گئی اس اطلاع کےبعد بی ایس ایف نےپاکستانی رینجرزکی معلومات کی تصدیق کے لئے پنجاب پولیس سے رابطہ کیا جس نے اس کی تصدیق کی۔

    انڈیا ٹو ڈے کے مطابق فیروز پور پولیس کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) بچن سنگھ نےکہاکہ ہمیں اطلاع ملی ہےکہ دو نوجوان ندی کی لہروں کے ذریعے پاکستان پہنچ گئے ہیں، اور انہیں پاکستانی رینجرز نے پکڑ لیا ہے۔ اس کے بعد ہفتہ اور اتوار کو بی ایس ایف اور پاکستان رینجرز کے درمیان فلیگ میٹنگ بلائی گئی دونوں افراد کےہندوستان واپس آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔ دونوں کے اہل خانہ کو مطلع کر دیا گیا ہے اور توقع ہے کہ وہ پاکستان رینجرز سے بی ایس ایف کو ان کی تحویل کی منتقلی کے دوران اس مقام پر پہنچ جائیں گے۔

    زمین کا وہ مقام جہاں نظام شمسی کے گرم ترین سیارے جتنی سورج کی روشنی …

    انڈیا ٹو ڈے کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ ایک اور عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان دونوں افراد میں سے ایک کا پس منظر مشتبہ ہے اور ہمیں اس بات کی جانچ کرنی ہوگی کہ آیا یہ جان بوجھ کر پاکستان جانے کی کوشش تھی یا نہیں انہوں نے کہاایک نوجوان کے خلاف نارکوٹکس ڈرگس اینڈ سائکوٹروپک سبسٹینس (این ڈی پی ایس) کا ایک مشتبہ کیس پایا گیا ہے۔ ہمیں یہ پتہ لگانا ہوگا کہ آیا کیا یہ جان بوجھ کر گیا اس کا مقصد کیا تھا۔

    روس میں سمندری طوفان سے تباہی،مختلف حادثات میں 10 افراد ہلاک اور 76 افراد زخمی

    دوسری جانب بھارت سے آنے والے سیلابی ریلے میں بارودی سُرنگیں اور جنگلی زہریلے سانپ بھی آگئے جس نے دریائے راوی اور نالہ ڈیک کے کنارے بسنے والے سرحدی علاقے کے مکین خوف و ہراس میں مبتلا ہیں،بھارت سے آنے والے سیلابی ریلے نالہ ڈیک اور نالہ بئیں سے ہوتے ہوئے دریائے راوی سے گزر گئے، یہ سیلابی ریلے جہاں اپنے ساتھ زرخیز مٹی لائے ہیں وہیں پرمقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سُرنگیں اور جنگل کے زہریلے سانپ بھی ساتھ لے آئے نالہ ڈیک اور نالہ بئیں سمیت راوی کنارے کی آبادی ان بارودی سرنگوں اور زہریلے سانپوں کی زد میں ہے۔

    توشہ خانہ کیس:رجسٹرار آفس تمام متعلقہ درخواستوں کوسماعت کیلئے مقررکرے،اسلام آباد ہائیکورٹ

    گزشتہ ایک ہفتےکے دوران 10 بھارتی ساختہ بارودی سرنگیں اور بم برآمد ہوئے ہیں جب کہ ایک ماہ کے دوران سانپ کے ڈسنے سے 2 افراد جاں بحق اور43 افراد اسپتال میں زیرعلاج ہیں شکرگڑھ کی تحصیل ہیڈ کوارٹراسپتال کے مطابق رواں سال جون میں سانپ کے ڈسنے کے 4 واقعات رپورٹ ہوئے جب کہ جولائی کے آخری 2 ہفتوں میں سانپ کے کاٹنے کے واقعات میں ایک ہزار فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    شہریوں نےمطالبہ کیا ہےکہ حکومت بھارتی بارودی سرنگوں اور سانپوں سے انہیں محفوظ رکھنےکےلیے متاثرہ علاقوں میں فوری ریسکیو آپریشن شروع کرے اور سرحدی علاقوں میں قائم ڈسپنسریوں میں اینٹی اسنیک انجکشنز کی فراہمی کو یقینی بنائے-

    بی آر آئی کا فلیگ شپ منصوبہ پاک چین تعاون کا مظہر ہے،وزیراعظم