Baaghi TV

Tag: دریائے چناب

  • دریائے چناب میں سیلاب :درجنوں دیہات کے زمینی رابطے منقطع

    دریائے چناب میں سیلاب :درجنوں دیہات کے زمینی رابطے منقطع

    شجاع آباد میں دریائے چناب کابند ٹوٹ گیا، جس سے سیلاب کی تباہ کاریوں میں اضافہ ہو گیا۔

    بند ٹوٹنے کے بعد تین مزدور دریائے چناب کے تیز بہاؤ والے پانی میں بہہ گئے، دو مزدوروں کو بچا لیا گیا جبکہ ایک مزدور ابھی تک نہیں مل سکا ہےشجاع آباد کے کئی موضعات کے لوگ نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں، مختلف مواضعات اور درجنوں بستیوں کے زمینی رابطے منقطع ہو گئے ہیں،موضع دھوندوں، موضع وینس، موضع گردیز پور، بستی عالم والا، بلوچاں والا، صدیق والا، بستی نواں شہر متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہیں۔

    فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کا کہنا ہے کہ دریائے چناب میں پنجند کے مقام پرانتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، پنجند کے مقام پر پانی کا اخراج 6 لاکھ 66 ہزار 544 کیوسک ریکارڈ کیا گیادریائے سندھ میں گڈو اور سکھر کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، گڈو بیراج کے مقام پر پانی کی آمد 5 لاکھ 6 ہزار 433 کیوسک ریکارڈ کی گئی۔

    پنجاب سیلاب: اموات کی تعداد 100 کے قریب، تقریباً 45لاکھ افراد متاثر،2300 سے زائد دیہات متاثر

    گڈوبیراج کے مقام پر پانی کا اخراج 4 لاکھ 75 ہزار 970 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، سکھر بیراج کے مقام پر پانی کی آمد 4 لاکھ 50 ہزار 150 کیوسک ریکارڈ کی گئی،سکھر بیراج کے مقام پر پانی کا اخراج 4 لاکھ 18 ہزار 810 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا، سلیمانکی اورہیڈ اسلام کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔

    برطانوی ہائی کمشنر کی اسحاق ڈار سے ملاقات، سیلاب متاثرین کے لیے تعاون کا اعلان

  • گڈو بیراج میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی

    گڈو بیراج میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی

    دریائے چناب میں ہیڈ پنجند کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہونے لگا ہے جس کے باعث سندھ کے بیراجوں میں بھی سطح بلند ہو رہی ہے۔

    محکمہ اطلاعات سندھ نے دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیے،تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پنجند کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہوا، اس وقت پانی کی آمد اور اخراج 6 لاکھ 68ہزار195 کیوسک ریکارڈ کی گئی تریموں پر اس وقت پانی کی آمد اور اخراج ایک لاکھ 78ہزار932 کیوسک ہے۔

    دریائے سندھ میں گڈو بیراج پر ابھی پانی کی آمد 5لاکھ 2ہزار861 کیوسک ریکارڈ کی گئی جبکہ اخراج 4لاکھ 75ہزار970 کیوسک ہے،سکھر بیراج پر پانی کی آمد 4لاکھ 40ہزار985 کیوسک اور اخراج 4 لاکھ 12ہزار735 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ کوٹری بیراج پر آمد 2لاکھ 57ہزار754 کیوسک اور اخراج 2لاکھ 54ہزار354 کیوسک ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کیخلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں

    وزارتِ آبی وسائل کے مطابق تربیلا ڈیم 27 اگست سے 100 فیصد بھرا ہوا ہے، تربیلا ڈیم کا موجودہ لیول 1550 فٹ ہے۔ منگلا ڈیم 92 فیصد سے زیادہ بھرا ہوا ہے، جس کا موجودہ لیول 1234.60 فٹ ہےفیڈرل فلڈ کمیشن کے مطابق اگلے 12 گھنٹوں میں گڈو بیراج میں اونچے درجے کے سیلاب، سکھر بیراج پر درمیانے درجے کے سیلاب اور کوٹری بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی ہے۔

    دریائے راوی میں سدھنائی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب اور دریائے چناب میں پنجند بیراج پر غیر معمولی اونچے درجے کا سیلاب ہےدریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر بہت اونچے درجے جبکہ سلیمانکی ہیڈ ورکس اور اسلام ہیڈ ورکس کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    غزہ کی زمین فلسطینیوں کی ہے اور ان کے حقوق ناقابلِ تنسیخ ہیں، محمد بن سلمان

  • دریائے چناب کا ریلا جنوبی پنجاب میں تباہی مچاتا ہوا ملتان کے قریب پہنچ گیا

    دریائے چناب کا ریلا جنوبی پنجاب میں تباہی مچاتا ہوا ملتان کے قریب پہنچ گیا

    دریائے چناب کا بپھرا ہوا ریلا جنوبی پنجاب میں بڑے پیمانے پر تباہی مچاتا ہوا ملتان شہر کے قریب پہنچ گیا۔

    پانی نے تمام رکاوٹیں توڑ کر درجنوں بستیاں زیرِ آب کر دیں، ٹول پلازہ اور قومی شاہراہ کا بڑا حصہ بھی متاثر ہوا۔مظفرگڑھ، جھنگ اور خانیوال سمیت کئی علاقوں کے گاؤں ڈوب گئے جبکہ پانی تیزی سے ہیڈ پنجند میں داخل ہو رہا ہے۔ شیرشاہ کے قریب زمیندارہ بند دباؤ برداشت نہ کر سکا اور پانی شہر کی جانب بڑھنے لگا۔ شیرشاہ فلڈ بند پر پانی کی سطح خطرناک حد کو چھو رہی ہے، ہیڈ محمد والا کی نواحی بستیاں بھی شدید متاثر ہوئیں۔شیرشاہ ٹول پلازہ تک پانی پہنچنے کے بعد سطح میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے لاکھوں ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔

    بستی گرے والا میں دو سو فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے مزید بستیاں زیرِ آب آ گئیں۔ مظفرگڑھ–ڈی جی خان قومی شاہراہ کا ایک ٹریک ڈوب گیا اور عارضی رکاوٹ کھڑی کر دی گئی۔شور کوٹ کے قریب درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور سلطان باہو پل سے 2 لاکھ 60 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے۔ احمد پور سیال کے موضع سمندوانہ بند میں شگاف پڑنے سے کئی علاقے ڈوب گئے۔ جھنگ اور گردونواح میں پانی نے زندگی مفلوج کر دی ہے جبکہ متاثرین کو امدادی سامان کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق بہاولنگر اور جھنگ کی ضلعی انتظامیہ کو اضافی ریلیف سامان روانہ کر دیا گیا ہے تاکہ امدادی کام مؤثر بنایا جا سکے۔ درکھانہ کے مقام پر ریلوے پل سے پانی ٹکرانے کے بعد شور کوٹ–خانیوال ریلوے سیکشن دوسرے روز بھی بند رہا۔ خانیوال کے درجنوں دیہات ڈوب گئے، کبیروالا میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی جبکہ 17 ہزار ایکڑ فصلیں تباہ اور 80 ہزار مکانات گر گئے۔

    لیاقت پور میں دریائے چناب اور دریائے سندھ کے ریلوں نے مزید بستیاں اجاڑ دیں۔ موضع نور والا پانی میں ڈوب گیا جبکہ ہیڈ پنجند پر پانی کی سطح 3 لاکھ 10 ہزار کیوسک سے بڑھ گئی۔

    جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط، اہم سوالات اٹھا دیے

    مریم نواز کا گجرات کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ،متاثرین سے ملاقات

    برطانیہ: کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل، یویٹی کوپر وزیر خارجہ مقرر

    خیبرپختونخوا میں گورننس کا وجود نہیں رہا، مولانا فضل الرحمان

  • بھارت کی آبی جارحیت جاری، دریائے چناب میں پانی کی آمد میں کمی

    بھارت کی آبی جارحیت جاری، دریائے چناب میں پانی کی آمد میں کمی

    بھارت کی آبی جارحیت جاری ہے جس کے باعث دریائے چناب میں پانی کی آمد میں کمی ہوئی ہے۔

    واپڈا ذرائع کے مطابق بھارت نے دریائے چناب میں پانی کی آمد بہت کم کردی ہے ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد37ہزار600کیوسک کم ہوگئی ہے جس کے بعد پانی کی آمد7 ہزار 200 کیوسک رہ گئی ہے گزشتہ روز دریائے چناب میں پانی کی آمد 44 ہزار 800کیوسک تھی۔

    پاک ایران باہمی تجارت 3 ارب ڈالر سے بڑھ گئی

    ایشین ایتھلیٹکس چیمپئن شپ: ارشد ندیم نے گولڈ میڈل اپنے نام کرلیا

    عورت کی کمائی بے برکت کہنا سراسر بکواس ہے، ثمینہ پیرزادہ

  • بھارت کا دریائے چناب پر نئے آبی منصوبوں پر غور

    بھارت کا دریائے چناب پر نئے آبی منصوبوں پر غور

    بھارت نے پاکستان کے ساتھ طویل عرصے سے قائم آبی اشتراک کے فریم ورک سندھ طاس معاہدے کو پہلگام واقعے کے ردعمل میں معطلی کے ساتھ ہی دریائے چناب پر نہر کی توسیع سمیت متعدد نئے آبی منصوبوں پر غور شروع کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق عالمی خبر رساں ادارے کی اپنی ایک رپورٹ کے مطابق رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ دریائے چناب، جہلم اور سندھ پر موجودہ اور مجوزہ منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد کیا جائے۔ یہ تینوں دریا سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔بھارتی حکام رنبیر نہر کی توسیع پر بھی غور کر رہے ہیں، جو دریائے چناب سے نکلتی ہے۔

    اس منصوبے کے تحت نہر کی لمبائی 60 کلومیٹر سے بڑھا کر 120 کلومیٹر کرنے کا منصوبہ ہے، جس سے بھارت پانی کے حصول کی مقدار 40 کیوبک میٹر فی سیکنڈ سے بڑھا کر 150 کیوبک میٹر فی سیکنڈ تک لے جا سکے گا۔ذرائع کے مطابق، اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جاتا ہے تو یہ پاکستانی زرعی علاقوں، خصوصاً پنجاب میں پانی کی فراہمی کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔

    واضح رہے کہ22 اپریل کو بھارتی علاقے پہلگام میں ایک حملے میں 26 سیاح ہلاک ہوئے تھے۔ بھارت نے فوری طور پر اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جسے اسلام آباد نے سراسر مسترد کر دیا۔ واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں تیزی آئی اور لائن آف کنٹرول کے اطراف میں میزائل اور ڈرون حملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

    پاکستان نے جوابی کارروائی میں بھارتی چھ جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا، جس کے بعد عالمی دباؤ کے نتیجے میں 10 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے دونوں ممالک جنگ بندی پر آمادہ ہو گئے۔ تاہم بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی نے خطے میں ایک نئے تناؤ کو جنم دے دیا ہے۔

    سندھ طاس معاہدہ
    1960 میں عالمی بینک کی نگرانی میں ہونے والا سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی وسائل کی تقسیم کا ایک قانونی فریم ورک ہے، جس کے تحت کوبھارت کو دریائے ستلج، بیاس، اور راوی کے پانی پر مکمل اختیار حاصل ہےجبکہ دریائے سندھ، جہلم، اور چناب کا پانی پاکستان کے لیے مخصوص ہے، اور بھارت کو ان دریاؤں سے صرف محدود مقدار میں آبپاشی یا بجلی کی پیداوار کے لیے پانی استعمال کرنے کی اجازت ہے۔

    بھارت کی جانب سے اس معاہدے کو معطل کرنا بین الاقوامی قانون، علاقائی امن اور پانی کی منصفانہ تقسیم پر سنجیدہ سوالات کھڑے کرتا ہے۔عالمی ماہرین اور تجزیہ کار اس بھارتی اقدام کو سیاسی اور تزویراتی دباؤ کی کوشش قرار دے رہے ہیں، جس کا مقصد پاکستان پر دباؤ بڑھانا اور علاقائی برتری کا دعویٰ مستحکم کرنا ہے۔ پاکستان کی جانب سے فوری سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم امکان ہے کہ یہ معاملہ بین الاقوامی عدالت یا اقوام متحدہ میں اٹھایا جا سکتا ہے۔

    پی ایس ایل 10 کا آغاز کل سے، کراچی کنگز اور پشاور زلمی میں اہم ٹاکرا

    یومِ تشکر” کی خصوصی تقریب جاری، وزیراعظم کا مسلح افواج کو خراجِ تحسین

    استنبول میں روس-یوکرین جنگ بندی مذاکرات جاری

    ایس ای سی پی کی تمام کمپنیوں کے لیے سائبر سیکیورٹی ایڈوائزری جاری

    محسن نقوی سے امریکی قائم مقام سفیر کی ملاقات، علاقائی امن پر تبادلہ خیال

    چیئرمین آئی سی سی جے شاہ کے خلاف احتجاج شدت اختیار کر گیا، غیرجانبداری پر سوالات

    طالبان کے نائب وزیر داخلہ ابراہیم صدر کا ‘خفیہ دورہ’ انڈیا، اہم ملاقاتیں

  • بھارت نے پانی چھوڑ دیا،درجنوں دیہات زیرآب

    بھارت نے پانی چھوڑ دیا،درجنوں دیہات زیرآب

    لاہور: دریائے چناب میں پانی کی سطح میں واضح اضافے کے بعد ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: بھارت کی جانب سے دریائے راوی میں چھوڑا گیا سیلابی ریلہ آج نارووال پہنچے گا، بھارت نے گزشتہ روز ایک لاکھ 85 ہزار کیوسک پانی چھوڑا تھا،جس سے شکرگڑھ کے سرحدی گاؤں جلالہ میں 70ہزارکیوسک کاریلا داخل ہو گیا-

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق چک جیندھڑ اورچن مان سنگھ کے کھیتوں میں پانی داخل ہو گیا، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر کا کہنا ہے کہ شکر گڑھ کے علاقے میں سیلابی پانی میں پھنسے افراد کو ریسکیو کرنے کا عمل مکمل کر لیا ہے اب تک 301 افراد کو پانی سے نکال کر محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے، پانچ خواتین سمیت 60 افراد کو چک جیندھڑ شکرگڑھ سے ریسکیو کیا گیا،دھاریوال سے 51 افراد کو بحفاظت دریا کے دوسرے کنارے سے ریسکیوکر لیا گیا۔

    دریائے چناب میں پانی کی سطح بلند ہونے لگی، ہائی الرٹ جاری

    چندیاں والی میں 4 افراد کو ریسکیو کیا گیا، جھن مان سنگھ اور پیر کنڈیالہ سے 186 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے، ریسکیوکئے گئے افراد میں 202 مرد، 99 خواتین شامل ہیں۔

    دوسری جانب ہیڈ تریموں سے چوبیس گھنٹوں میں ڈیڑھ لاکھ کیوسک کا ریلہ گزرنے کا امکان ظاہر کیا گیاہے،جبکہ دریائے چناب میں ہیڈ مَرالہ کے مقام پر پانی کی سطح ایک لاکھ 99 ہزار کیوسک ہو گئی، جس کے تحت دریائے چناب کے اطراف میں ہائی الرٹ جاری کردیا گیا۔ دریائے چناب کے قریب 20 سے زائد دیہات زیر آب آگئے ہیں،ڈپٹی کمشنرجھنگ کا کہنا تھا کہ 18 فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دئیے گئے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کا کہناہے کہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران اونچے درجے کے سیلاب کا امکان ہے جبکہ دریائے چناب میں خانکی اور قادر آباد کے مقام پر بھی نچلے درجے کا سیلاب ہے شکر گڑھ نالہ بین میں بھی درمیانے درجے کا سیلاب ہے،پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ راوی سمیت دیگر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق بہہ رہا ہے،دریاؤں، برجز،ڈیمز اور نالہ جات میں پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی جا رہی ہے پانی کے بہاؤ کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور صوبائی کنٹرول روم سے صورتحال کی مانیٹرنگ جاری ہے۔

    صادق آباد میں ڈاکوؤں کی پولیس وین پر فائرنگ،3 اہلکار زخمی

    واضح رہے کہ بھارت ہر سال پاکستانی دریاؤں میں بغیر اطلاع کے پانی چھوڑ دیتا ہے جس سے مقامی سطح پر سیلابی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے گزشتہ سال بھارت نے ایک لاکھ 73 ہزار کیوسک پانی چھوڑا تھا۔ چھوڑے گئے پانی کا تقریباً ایک تہائی یعنی 60,000 کیوسک جسر تک پہنچا تھا۔ جس کی وجہ سے سیلاب کی نچلی سطح (دریائے راوی پر گیجنگ پوائنٹ) پر بنی تھی۔

    دوسری جانب گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے ماحولیات شیری رحمان نے پاکستان میں 24 سے 48 گھنٹوں کے دوران بارش کے مزید اثرات کی پیش گوئی کی ہے سب سے زیادہ بارش پنجاب کے شہروں لاہور، نارووال، سیالکوٹ میں ہوگی۔ جبکہ دیگر صوبوں کو بھی موسلادھار سے درمیانی بارش کے لیے الرٹ کر دیا گیا ہے مربوط تیاری اور فعال ردعمل جانیں بچاتا ہے، لہٰذا متاثرہ علاقوں میں تمام رسپانس ٹیموں، عوامی اور این جی اوز دونوں کو چوکس اور تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

    فی الحال یوکرین نیٹو ممبرشپ کیلئے تیار نہیں ہے،امریکی صدر

    شیری رحمان کے شئیر کردہ ڈیٹا کے مطابق شمالی اور شمال مشرقی پنجاب اور لاہور، سیالکوٹ اور نارووال میں شدید گرج چمک کے ساتھ تیز بارش امکان ہے۔ جبکہ دریائے چناب، راوی، ستلج اور اس سے منسلک نالوں بھمبر، ایک، دیگ، بین، پلکھو اور بسنتر میں درمیانے درجے کا سیلاب ہوسکتا ہے میونسپل علاقوں میں اربن فلڈ اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔

    کراچی، تھرپارکر، سکھر، لاڑکانہ، حیدرآباد، بدین، شہید بینظیر آباد میں گرج چمک کے ساتھ درمیانے اور بھاری درجے کی بارش کی پیشگوئی ہے۔

    شمال مشرقی بلوچستان کے علاقوں سبّی، ژوب، کوہلو، قلعہ سیف اللہ، خضدار، بارکھان، لورالائی، قلات، نصیر آباد، ڈیرہ بگٹی اور لسبیلہ میں گرج چمک کے ساتھ بارشکا امکان ہے جبکہ کے پی کے علاقوں بنوں، ڈی آئی خان، سوات، بالاکوٹ میں بھی گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش متوقع ہے۔

    اسٹاک ہوم میں مقامی مسجد کےسامنے ہزاروں افرادکا قرآن پاک ہاتھوں میں اٹھاکر احتجاج

  • دریائے چناب میں سیلابی ریلے کا خدشہ،شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات

    دریائے چناب میں سیلابی ریلے کا خدشہ،شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات

    دریائے چناب میں سیلابی ریلے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جس کے پیش نظر اعلانات شروع کروادیئے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق ہیڈ قادر آباد کے مقام پر دریائے چناب میں سیلابی ریلے کا خدشہ ہے انتظامیہ نے علاقے میں سیلاب کے خدشہ کے پیش نظر دریائے چناب کی پٹی پر دیہات اور ڈیرا جات کے لوگوں کو مال مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت کردی۔

    بلوچستان ، سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ کی امدادی کارروائیاں جاری

    واضح رہے کہ بلوچستا ن میں شدید بارشوں کے نتیجے میں گوادر،کیچ اور دیگر کئی اضلاع میں سیلابی صورتحال نے نظام زندگی درہم برہم کردیا ہے، گندھاوا اور اطراف کےعلاقوں میں شدید بارش سے برساتی نالےابل پڑے۔ بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فضائیہ کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری

    ہسپتال میں مریضوں کو نشے کے انجکشن لگا کرگھناؤنا کام کرتی نرس رنگے ہاتھوں گرفتار

    پاک فضائیہ بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج اور بحریہ کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔ آپریشنز کے دوران پاک فضائیہ کے ٹرانسپورٹ طیاروں نے 77,860 پاؤنڈ سے زائد امدادی سامان سیلاب سے متاثرہ علاقوں تک پہنچایا جن کا زمینی رابطہ شدید بارشوں اور حالیہ سیلاب کے باعث منقطع ہو گیا ہے۔

    چترال لواری ٹنل اور دیر روڈ پر برفباری، متعدد گاڑیاں پھنس گئیں:پاک فوج کے جوان جترال پہنچ گئے

    ہوائی جہاز کے ذریعے لے جانے والے امدادی سامان میں راشن، خیمے، کھانے پینے کی اشیاء، ادویات، پینے کا پانی، کمبل اور ضروری مشینری شامل ہے۔ ملک بھر اور بالخصوص سیلاب زدہ علاقوں میں نامساعد موسمی حالات کے باوجود پاک فضائیہ کے پائلٹ اس مشکل وقت میں قوم کی توقعات پر پورا اترنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا رہے ہیں۔

    پرانے کرنسی نوٹوں کی تبدیلی کی تاریخ میں رواں برس 31 دسمبر تک کی توسیع

    سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے پی اے ایف کے متعلقہ شعبوں کو ہدایت کی کہ وہ بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ لوگوں کے لیے ریلیف اور ریسکیو آپریشن میں تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے حصہ لیں پاک فضائیہ نے آرمی ایوی ایشن اور پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹروں کے بیڑے کے ساتھ سیلاب زدہ علاقوں میں اپنے ہیلی کاپٹر بھی تعینات کیے گئے-

    ولن يؤخر الله نفسا إذا جاء أجلها ۚ والله خبير بما تعملون :مری کے بعد صادق آباد سے…

    پاک بحریہ کا حالیہ بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ بلوچستان کے دور دراز ساحلی علاقوں میں ریلیف آپریشن جاری ہے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاک بحریہ کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں خوراک، پینے کا صاف پانی اور دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی کی گئی پاک بحریہ کی میڈیکل ٹیموں نے مختلف علاقوں میں میڈیکل کیمپ لگائے جہاں لوگوں کو علاج اور ادویات کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔ پاک بحریہ کے جوانوں نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے علاوہ مختلف علاقوں میں کھڑا پانی نکالنے میں بھی مقامی افراد کی مدد کی۔ پاک بحریہ مشکل کی اس گھڑی میں ساحلی علاقوں کے عوام کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہے۔

    موسم کی سختی نے زندگی کے معاملات ہی بدل دیئے:پاکستان آنا اورپاکستان سے جانا ہی…