Baaghi TV

Tag: دستاویزات

  • پینٹا گون نے خلائی مخلوق سے متعلق خفیہ ریکارڈ جاری کر دیا

    پینٹا گون نے خلائی مخلوق سے متعلق خفیہ ریکارڈ جاری کر دیا

    امریکی محکمہ جنگ نے دعویٰ کیا ہے کہ خلائی مخلوق سے متعلق دہائیوں پرانے خفیہ دستاویزات اور تصاویر عوام کے لیے جاری کر دی گئی ہیں-

    امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے جمعہ کو یو ایف اوز (نامعلوم اڑنے والی اشیا) المعروف اڑن طشتری سے متعلق پہلے سے خفیہ رکھی گئی دستاویزات کا پہلا مجموعہ جاری کر دیا جن میں بعض رپورٹس سنہ 1940 کی دہائی تک پرانی ہیں، یہ مواد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر ایک سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا گیا ہے۔

    ایسوسی ایٹڈ پریس ’اے پی‘ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے آسمان میں نظر آنے والے پراسرار مناظر سے متعلق نئی فائلوں کا اجرا کا آغاز کر دیا ہے ان ریکارڈز کے ذریعے عوام کو موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ خود اس حوالے سے دستیاب معلومات کا جائزہ لے کر اپنی رائے قائم کریں ،اس عمل میں صرف محکمہ دفاع ہی نہیں بلکہ وائٹ ہاؤس، قومی انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر، محکمہ توانائی، خلائی تحقیق کا ادارہ اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ بھی شامل ہیں۔

    محکمہ دفاع نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے بعض معلومات کو کم اہم ظاہر کرنے یا عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، تاہم موجودہ انتظامیہ عوام کے لیے زیادہ سے زیادہ شفافیت کی پالیسی پر عمل پیرا ہےمزید دستاویزات مرحلہ وار جاری کی جائیں گی۔

    امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے بیان میں کہا ہے کہ یہ فائلیں برسوں سے خفیہ درجہ بندی میں چھپی رہیں جس کی وجہ سے عوام میں مختلف قیاس آرائیاں جنم لیتی رہیں تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ امریکی عوام خود یہ معلومات دیکھ سکیں۔

    امریکی محکمہ جنگ کی ویب سائٹ پر 160 سے زائد فائلیں جاری کی گئی ہیں پینٹاگون یو ایف اوز کو باضابطہ طور پر ’نامعلوم غیر معمولی مظاہر‘ (یو اے پیز) قرار دیتا ہے،جاری کی گئی ایک فائل جو دسمبر 1947 کی ہے میں ’اڑنے والی ڈِسکس‘ سے متعلق رپورٹس شامل ہیں جبکہ سنہ 1948 کی ایک انتہائی خفیہ فضائیہ انٹیلی جنس رپورٹ میں ’نامعلوم طیاروں‘ اور ’فلائنگ ساسرز‘ کو دیکھے جانے کے دعوؤں کا ذکر موجود ہے۔

    ایک اور فائل میں سنہ 2023 کے ایک واقعے کی تفصیل دی گئی ہے جس میں وفاقی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 3 مختلف اہلکاروں نے آسمان پر نارنجی رنگ کے گول دائروں کو دیکھنے کا دعویٰ کیا جن سے چھوٹے سرخ رنگ کے گولے نکلتے دکھائی دیے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اقدام کا عندیہ فروری سے دینا شروع کیا تھا وہ اس سے قبل بھی اہم شخصیات کے قتل سے متعلق ریکارڈز جاری کر چکے ہیں، جن میں سابق صدر جان ایف کینیڈی، سینیٹر رابرٹ ایف کینیڈی اور شہری حقوق کے رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر سے متعلق دستاویزات شامل ہیں، تاہم ان میں زیادہ تر وہی معلومات سامنے آئیں جو پہلے سے معلوم تھیں۔

    ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ سابق صدر براک اوباما نے ایک پوڈکاسٹ میں ماورائے زمین زندگی سے متعلق ’خفیہ معلومات‘ کا ذکر کیا تھا۔ اوباما نے اس گفتگو میں کہا تھا کہ وہ حقیقی ہیں لیکن میں نے انہیں نہیں دیکھا اور انہیں ایریا 51 میں نہیں رکھا گیا تاہم اب تک زمین سے باہر ذہین مخلوق کے وجود کا کوئی سائنسی ثبوت سامنے نہیں آیا۔

    محکمہ دفاع گزشتہ کئی برسوں سے نامعلوم فضائی مظاہر سے متعلق ریکارڈز کو غیر خفیہ کرنے پر کام کر رہا ہے، جب کہ امریکی کانگریس نے 2022 میں اس مقصد کے لیے ایک خصوصی دفتر قائم کیا تھا۔ 2024 کی ایک رپورٹ میں سیکڑوں نئے واقعات کا ذکر کیا گیا، تاہم اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ امریکی حکومت نے کسی بھی مرحلے پر خلائی مخلوق یا ان کی ٹیکنالوجی کی تصدیق کی ہو۔

    کانگریس نے 2022 میں پینٹاگون کو ہدایت دی تھی کہ دہائیوں پرانے ایسے تمام ریکارڈز کو عوام کے لیے جاری کیا جائے، کیونکہ بعض فوجی اہلکاروں نے غیر واضح فضائی مشاہدات کی رپورٹس دی تھیں۔

    دوسری جانب بعض ریپبلکن ارکانِ کانگریس نے مزید شفافیت کا مطالبہ کیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ پینٹاگون بعض دستاویزات کو روک رہا ہے ایک رکن اسمبلی کی جانب سے مارچ میں 46 ویڈیوز جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ آئندہ مرحلے میں جاری کی جا سکتی ہیں۔

    ریپبلکن رکنِ کانگریس نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شفافیت کے وعدے کو پورا کیا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تمام معلومات ایک ساتھ جاری نہیں کی جا سکتیں بل کہ یہ عمل وقت کے ساتھ مکمل ہوگا۔

    ماہرین نے ان فائلوں کے اجرا کے حوالے سے احتیاط کا مشورہ دیا ہے اور کہا ہے کہ نامعلوم فضائی مظاہر کی ویڈیوز اکثر غلط تشریح کا شکار ہو جاتی ہیں۔ 2024 کی سرکاری رپورٹ میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ اب تک کسی بھی غیر زمینی ٹیکنالوجی یا خلائی مخلوق کے وجود کے شواہد نہیں ملے۔

  • جیفری ایپسٹین کے سائنسدانوں سے تعلقات ؟ جاری دستاویزات میں نئے انکشافات

    جیفری ایپسٹین کے سائنسدانوں سے تعلقات ؟ جاری دستاویزات میں نئے انکشافات

    محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کیے گئے 3 ملین سے زائد صفحات پر مشتمل جیفری ایپسٹین کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ مشہور فنانسر اور بچیوں کے ساتھ جنسی جرائم کے مرتکب ایپسٹین نے سائنسی حلقے سے روابط قائم کرنے کی کوشش کی۔

    ان دستاویزات میں سائنٹفک امریکن نامی معروف سائنسی جرنل کے حوالے کم از کم 260 مرتبہ دیکھے گئے، جبکہ نیشنل جیوگرافک تقریباً 200 دستاویزات میں شامل تھاایپسٹین اور اس کی سابقہ ساتھی گیسلین میکس ویل نے سائنس میگزین سیڈ کے بورڈ میں بھی جگہ لی تھی، جس کا ذکر 78 دستاویزات میں آیا۔

    اس کے علاوہ، کئی معروف سائنسدان جیسے اسٹیفن ہاکنگ، لیسا رینڈل، جارج چرچ، ڈینی ہلس، مارٹن نوواک، لارنس کراس، نیتھن وولف ایپسٹین کے ساتھ کسی نہ کسی طور جڑے رہے۔ کوئی بھی سائنسدان ایپسٹین کے ساتھ تعلقات کے لیے مجرمانہ طور پر ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔

    ایرانی حملے:پہلے 4 دنوں میں امریکی فوجی اثاثوں کو قریباً 2 ارب ڈالر کا نقصان

    ڈاکٹر رینڈل کے مطابق، وہ ایپسٹین کے ذاتی اور مالی تعاون سے متاثر نہیں ہوئیں۔ اسی طرح، ڈینی ہلس، مارٹن نوواک اور دیگر سائنسدانوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایپسٹین کا سائنٹفک امریکن کے ادارتی مواد پر کوئی اثر نہیں تھا۔

    دستاویزات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایپسٹین نے سائنسدانوں کے ساتھ متعدد پیشکشیں کیں، جن میں مصنوعی ذہانت، بایو سائنس اور حتیٰ کہ نسلی سائنس جیسے متنازع موضوعات شامل تھے۔ ایپسٹین نے سائنسدانوں کو مالی امداد بھی فراہم کی، جس میں ہارورڈ یونیورسٹی، ایم آئی ٹی اور سانٹا فی انسٹیٹیوٹ شامل تھے۔

    ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی ممکنہ قلت کا خدشہ،وزیراعظم کو خط

    سائنٹفک امریکن کے سابق ایڈیٹر ماریئٹ ڈی کرِسٹینا نے واضح کیا کہ ایپسٹین نے کبھی بھی میگزین کی اشاعت یا انتخاب میں مداخلت نہیں کی، اور اس کے دورے صرف سیکھنے اور تحقیق کے مقصد کے لیے تھے۔

    واضح رہے کہ ایپسٹین 2019 میں وفاقی جیل میں انتقال کر گئے، لیکن ان کے سائنسدانوں اور میڈیا کے ساتھ تعلقات کے اثرات آج بھی زیرِ بحث ہیں، اور یہ معاملہ سائنس اور اخلاقیات کے دائرے میں اہم سوالات کھڑا کر رہا ہےیہ دستاویزات متعدد سائنسدانوں کا ذکر کرتی ہیں، تاہم اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ وہ لازماً ایپسٹن کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے یا ان سے آگاہ تھے تعلیمی اور اخلاقی نقطہ نظر سے ان سائنسدانوں کو شدید نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    بل کلنٹن کے ٹرمپ اور جیفری ایپسٹین کی گفتگو سے متعلق اہم انکشافات

  • پانچ آئی پی پیز نے معاہدے ختم کرنے کی دستاویزات پر دستخط کردیئے

    پانچ آئی پی پیز نے معاہدے ختم کرنے کی دستاویزات پر دستخط کردیئے

    اسلام آباد: 5 آئی پی پیز نے بجلی خریدنے کے معاہدوں کے خاتمے کی دستاویزات پر ابتدائی دستخط کردیئے ہیں،جن کمپنیوں نے اس حوالے سے دستخط کیے ہین ان میں میسرز حبکوپاور، میسرز روش پاور، اے ای ایس لال پیر پاور، صبا پاورپلانٹ اور اٹلس پاور شامل ہیں۔

    باغی ٹی وی: "دی نیوز” کے مطابق دستخط کرنے والی آئی پی پیز کو اب سے کیپسٹی پیمنٹ نہیں دی جائے گی، ان مذاکرات کا حصہ رہنے والے ایک سینیر عہدیدار نےبتایا کہ اس طرح 300 ارب روپے کی دیوہیکل رقم 3 سے 10 برس کے دوران ان معاہدوں پر بچائی جائے گی تاہم کیپسٹی چارجز کی مد میں اور بجلی کی لاگت پر ماضی کے اخراجات ادا کیے جائیں گے-

    پانچوں آئی پی پیز نے 40 ارب روپے کے سود کو بھی ختم کردیا ہے اور ایک مرتبہ جب وفاقی حکومت اسے آگے بڑھانے کی اجازت دیتی ہے تو پانچوں آئی پی پیز جن میں سے 1994 اور ایک 2002 کے معاہدے کے تحت وجود میں آئی ہے انہوں نے ان معاہدوں کے خاتمے کے کی آفیشل دستاویزات پر رسمی طور پر دستخط کردیے ہیں۔

    اس طرح ان 5 آئی پی پیز سے 2400 میگاواٹ کے معاہدوں کے خاتمے کے بعد اب یہ بجلی نظام کاحصہ نہیں رہے گی کیونکہ این ٹی ڈی سی نے بھی ان سے ٹیک اینڈ پے کے طریقہ کار کے تحت بجلی خریدنے سے انکار کردیا ہےاس طرح حکومت کو بجلی کے نرخوں میں 0.65 روپے فی یونٹ ریلیف ملے گا جو کہ مجموعی طور پر 65 ارب روپے سالانہ بنتا ہے۔

    ٹاسک فورس کے عہدیدار نے بتایا کہ آئندہ ہفتے 18 مزید آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت شروع کی جائے گی اور ان کی مجموعی کیپسٹی 4267 میگاواٹ ہے اور یہ بھی 1994 اور 2002 کی بجلی کی پالیسیوں کے تحت وجود میں آئے تھے، ان سے بھی بجلی ٹیک اینڈ پے موڈ یعنی جتنی بجلی لی جائے گی اتنی ہی ادائیگی کی جائے گی اور انہیں کیپسیٹی پیمنٹ ادا نہیں کی جائے گی جوکہ موجود کنٹریکٹ کے تحت بجلی لو یا ادائیگی کرو کے طریقہ کار کے تحت لی جاتی ہے۔

  • ٹرمپ کے گھر پر چھاپے کے دوران "انتہائی خفیہ” دستاویزات ضبط

    ٹرمپ کے گھر پر چھاپے کے دوران "انتہائی خفیہ” دستاویزات ضبط

    سابق امریکی صدر ٹرمپ کے گھر پر چھاپے کے دوران "ٹاپ سیکرٹ” دستاویزات ضبط کر لی گئیں۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف بی آئی نے 11خفیہ دستاویزات قبضے میں لی تھیں ضبط کی گئی جائیداد کی ایک رسید کے مطابق جو وارنٹ کے ساتھ منسلک تھی۔ فائلوں کے ایک گروپ کو "مختلف کلاسیفائیڈ/TS/SCI دستاویزات” کا نشان لگایا گیا تھا، جس میں سرفہرست خفیہ/حساس کمپارٹمنٹ شدہ معلومات کا مخفف شامل ہے۔

    "ٹائم ٹریولر” خاتون نے تاریخ کے خطرناک ترین سمندری طوفان کی پیشگوئی کردی

    جب کہ عدالت میں جج نے وارنٹ سمیت دیگر مواد کھولا تو بعض دستاویزات پر ٹاپ سیکرٹ درج ہے ، اس کا مطلب یہ ہوا کہ انہیں صرف خصوصی سرکاری دفاتر میں ہونا چاہیے تھا۔

    امریکی محکمہ انصاف نے ٹرمپ کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے عدالت سے سرچ وارنٹ دکھانے کا کہا تھا ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ چھاپہ حساس دفاعی دستاویزات غیر قانونی رکھنے سے متعلق امریکی جاسوسی ایکٹ کی خلاف ورزی کے شبہ میں مارا گیا ۔

    قانون کے متن کے مطابق، ایک قانون، جو حکومتی ریکارڈ کو ہٹانے یا تباہ کرنے سے متعلق ہے، اس میں "امریکہ کے تحت کسی بھی عہدے پر فائز رہنے سے نااہل” ہونے کی سزا شامل ہے تین قوانین میں سے کوئی بھی ریاست کے ضابطہ کا عنوان 18، سیکشن 793، 1519 اور 2071 – اس بات پر منحصر نہیں ہے کہ آیا زیر بحث دستاویزات کی درجہ بندی کی گئی تھی۔

    دوسری جانب امریکی سیاسی مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکا ممکنہ طور پر خانہ جنگی کی طرف بڑھ سکتا ہےامریکی سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نفرت انگیز سازشی بیانیہ امریکا میں تشدد اور انتشار کو ہوا دے رہا ہے فلوریڈا میں ٹرمپ کے گھر پر ایف بی آئی کے چھاپے کے بعد اداروں کے خلاف ٹرمپ کے حامیوں نے نفرت انگیز مہم شروع کر دی ہے، سرچ وارنٹ پر دستخط کرنے والے جج کو بھی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل ایف بی آئی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گھر چھاپہ مار کر انتہائی حساس کاغذات حاصل کیے تھے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی رہائشگاہ سے جوہری ہتھیاروں سے متعلق اہم کاغذات کی تلاشی کے لیے چھاپہ مارا گیا تھا۔

    ٹرمپ کا کہناہے کہ بائیں بازو کے بعض ڈیموکریٹس قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے انہیں نشانہ بنا رہے ہیں۔

    قبل ازیں الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ امریکہ میں چند لوگ واضح طور پر سمجھتے ہیں کہ وہ ایک طرح کی خانہ جنگی میں مصروف ہیں نسل پرستانہ اور زینو فوبک دہشت گردی کی ان کی کارروائیوں کا مقصد 2040 کی دہائی تک امریکہ میں سیاہ اور بھورے اکثریتی آبادی کی ممکنہ سیاسی اور اقتصادی طاقت کو روکنا ہے۔

    روس اور ایران کے درمیان اسلحے کی تجارت قبول نہیں کی جائے گی،امریکا

  • میرے اکاؤنٹس منجمد کرنے ہیں تو ثبوت بھی دینے ہوں گے ،حریم شاہ

    میرے اکاؤنٹس منجمد کرنے ہیں تو ثبوت بھی دینے ہوں گے ،حریم شاہ

    معروف اور متنازع ٹک ٹاکر حریم شاہ کا کہنا ہے ایف آئی اے کو کیا حق ہے کہ میری ذاتی دستاویزات میڈیا کو دے،اگر میرے اکاؤنٹس منجمد کرنے ہیں تو ثبوت بھی دینے ہوں گے –

    باغی ٹی وی :منی لانڈرنگ کیس میں ملوث ٹک ٹاکر حریم شاہ نے نجی چینل جیو نیوز کو لندن میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے اپنے اکاؤنٹس منجمد ہونے سے متعلق خبروں کا میڈیا کے ذریعے پتہ چلا ایف آئی اے کو کیا حق ہے کہ میرے ذاتی دستاویزات میڈیا کو دے۔

    حریم شاہ کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں اہم پیش رفت

    حریم شاہ نے کہا منی لانڈرنگ سے متعلق ویڈیو مذاق میں بنائی تھی، غلطی تسلیم کرتی ہوں اگر میرے اکاؤنٹس منجمد کرنے ہیں تو ثبوت بھی دینے ہوں گے پاکستان جا کر ہر ادارے کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہوں میں خطروں کی کھلاڑی ہوں، خائف ہونے والی نہیں ہوں، میری تمام آمدنی قانونی اور میراسارا ریکارڈ شفاف ہے اداروں کا کام ہماری حفاظت کرنا ہے نا کہ تنگ کرنا۔

    بھارتی امیگریشن نے گپی گریوال کو پاکستان آنے سےروک دیا

    واضح رہے کہ حریم شاہ کے پاکستان میں دو بینک اکاؤنٹس ہیں اور دونوں ان کے اصل نام فضا حسین کے نام سے بنائے گئے ہیں ایف آئی اے نے چند روز قبل حریم شاہ کے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے لیے دونوں بینکوں کے ہیڈ کمپلائز کو خط لکھے تھے۔

    حریم شاہ منی لانڈرنگ معاملہ : سی اے اے حکام کا وضاحتی بیان

    یاد رہے کہ حریم شاہ نے رواں ماہ کے آغاز ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ پہلی بار بھاری رقم لے کر لندن پہنچیں اور انہیں پاکستان کے ایئرپورٹ پر کسی نے نہیں روکا اور نہ روک سکتا ہے۔ ٹک ٹاکر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں قانون صرف غریب کے لیے ہے ٹک ٹاکر کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے حریم شاہ کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا آغاز کیا بعد ازاں حریم شاہ بھاری رقم کی لندن منتقلی سے ہی مکر گئیں اور کہا کہ میں نے وہ ویڈیو مذاق میں بنائی تھی-

    حریم شاہ نے اپنے حرم میں آنے والوں پربجلی گرادی:ایسی دھمکی دی کہ سب دیکھتے ہی رہ…