Baaghi TV

Tag: دسمبر

  • آج رواں سال کی طویل رات اورکل مختصر ترین دن ہوگا

    آج رواں سال کی طویل رات اورکل مختصر ترین دن ہوگا

    آج کی رات پورے سال کی طویل ترین رات اور کل یعنی 22 دسمبر سال کا مختصر ترین دن ہوگا۔

    ماہرین فلکیات کے مطابق طویل ترین رات کا آغاز رات 8:03 منٹ سے ہوگا، درمیانی شب زمین کے شمالی نصف کرے میں سال کی طویل ترین رات ہوگی اور پیر کا دن سال کا مختصر ترین دن ہوگا اور کراچی میں رات 13گھنٹے 25 منٹ جبکہ دن 10 گھنٹے 35 منٹ پر مشتمل ہوگا۔

    ماہرین نے بتایا کہ یہ موقع ہر سال دسمبر کے مہینے میں آتا ہے اور اس کی تاریخیں 20 سے 23 دسمبر تک کسی بھی دن ہوسکتی ہیں اور اس سال یہ موقع 22 دسمبر کی رات اور دن کو ملا ہےشمالی نصف کرے میں سال کی طویل ترین رات ہو، اسے فلکیات کی زبان میں ونٹرسولسٹائس اور شمالی سولسٹائس بھی کہا جاتا ہے۔

    ماہرین نے بتایا کہ زمین اپنے محور پر 23.4 درجے جھکی ہوئی ہے جبکہ محوری گردش کے دوران زمین کا اپنا محور بھی کسی گھومتے ہوئے لٹو کی مانند لڑکھڑاتا رہتا ہے، سورج کے گرد چکر لگاتے لگاتے سال میں ایک موقع ایسا آتا ہے جب شمال کی جانب زمینی محور کا انتہائی جھکاؤ سورج سے مخالف سمت میں ہوجاتا ہے۔

    ماہرین فلکیات نے بتایا کہ زمین کی محوری گردش مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے اس لیے یہ موقع آنے کے فوراً بعد ہی زمینی محور کا جھکاؤ واپس پلٹنے لگتا ہے اور زمین کے شمالی نصف کرے کا جھکاؤ ایک بار پھر سورج کی سمت ہونے لگتا ہے، جس کے نتیجے میں انقلاب سرما کے فوراً بعد راتیں چھوٹی اور دن طویل ہونے لگتے ہیں۔

  • مچھلی اور باربی کیو کا دھواں اسموگ کی وجہ ، پی ڈی ایم کا لاہور ہائیکورٹ میں موقف

    مچھلی اور باربی کیو کا دھواں اسموگ کی وجہ ، پی ڈی ایم کا لاہور ہائیکورٹ میں موقف

    مچھلی اور باربی کیو کا دھواں اسموگ کی وجہ ، پی ڈی ایم کا لاہور ہائیکورٹ میں موقف
    لاہور:چُھٹیاں 25 دسمبر کونہیں 20 دسمبرکو:اگراعلان نہ ہوا توحکم دے دیں گے:ہائی کورٹ ،اطلاعات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب حکومت کو 20 دسمبر سے اسکول بند کرنے پر غور کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب حکومت نے فیصلہ نہ کیا تو عدالت فیصلہ کرے گی۔

    تفصیلات کے مطابق عدالت نے مارکیٹس بھی جلد بند کرنے پر غور کرنے کا حکم دیا۔ لاہور ہائیکورٹ میں اسموگ کی روک تھام کے لیے اقدامات نہ کرنے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی تو اسموگ کی شدت میں اضافہ پر عدالت نے اظہار تشویش کیا۔جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ پنجاب حکومت 20 دسمبر سے اسکول بند کرنے پر غور کرے، اگر پنجاب حکومت نے فیصلہ نہ کیا تو عدالت فیصلہ کرے گی۔

    عدالت نے باربی کیو کی دکانیں جلد بند کرنے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ فورا دکانیں بند نہیں کی جا سکتیں اس پر دوسرا حل دیکھنا چاہیے۔ڈائریکٹر پی ڈی ایم اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سردی کی شدت میں اضافے سے گرل مچھلی اور باربی کیو کی فروخت میں بھی اضافہ ہوگیا ہے لیکن اس کی وجہ سے دھویں کا اخراج بھی بڑھ گیا ہے اور اسموگ میں اضافہ ہورہا ہے ، لہذا دکانیں اور مارکیٹس جلد بند کرنے کا حکم دیا جائے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پوری دنیا میں مارکیٹس 6 بجے بند ہوجاتی ہیں۔ بازاروں کے اوقات کار کو کم ہونا چاہیے۔عدالت نے کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کردی۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود نے پہلے ٹویٹ کے ذریعے یہ اعلان کیا تھا کہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں پچیس دسمبر سے چُھٹیاں ہوں گی ، جس کے لیے صوبائی حکومتوں نے اس فیصلے پررضا مندی بھی ظاہر کی تھی ، اس فیصلے کے بعداعلان کیا گیا کہ چُھٹیاں واقعی پچیس دسمبر کو ہوں گی ، تاہم آج ہائی کورٹ کے حکم کے بعد صورت حال بدلتی ہوئی نظرآتی ہے اورامکان ہے کہ اب پچیس دسمبر نہیں بلکہ بیس دسمبر کو بچوں اوراساتذہ کی موجیں لگ جائیں گی اور والدین پریشان ہوجائیں گے ،