Baaghi TV

Tag: دعا

  • انسانی جان سے بڑھ کر کوئی چیز مقدم نہیں:پرنسپل جنرل ہسپتال

    انسانی جان سے بڑھ کر کوئی چیز مقدم نہیں:پرنسپل جنرل ہسپتال

    انسانی جان سے بڑھ کر کوئی چیز مقدم نہیں:پرنسپل جنرل ہسپتال
    پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسرڈاکٹر سردار محمد الفرید ظفر نے کہا ہے کہ دکھی انسانیت کی خدمت دین اسلام کی اولین صفت ہے کیونکہ انسانی جان سے بڑھ کر کوئی بھی چیز مقدم نہیں۔انہوں نے کہا کہ اس میدان میں محنت اور لگن کے ساتھ خدمات سر انجام دینے والے لوگوں میں سر فہرست ہیلتھ پروفیشنلز ہیں جو اپنی خوشیوں کی پروا ہ نہ کرتے ہوئے عید جیسے پر مسرت موقع پر بھی ہسپتال میں اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں اور اپنے اہل خانہ کی بجائے وارڈ میں زیر علاج مریضوں کی دیکھ بھال کر کے اُن کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتے ہیں۔

    ان خیالات کا اظہار پروفیسر الفرید ظفر نے عید کی سرکاری تعطیلات کے دوران لاہور جنرل ہسپتال میں ڈیوٹی پر مامور ڈاکٹرز،نرسز اور پیرا میڈیکس کے علاوہ مریضوں و لواحقین سے گفتگو میں کیا۔ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر خالد بن اسلم،ڈاکٹر ریاض حفیظ، ڈاکٹر عبدالعزیز سمیت دیگر انتظامی ڈاکٹرز بھی ان کے ہمراہ تھے جبکہ پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے لاہور جنرل ہسپتال کے تمام شعبوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ یہ امر قابل ذکر ہے پرنسپل پی جی ایم آئی سمیت انتظامی ڈاکٹرز عید کی چھٹیوں میں بھی ہسپتال میں موجود رہے جس سے نوجوان طبی عملے کا حوصلہ بلند ہوا۔ پروفیسر الفرید ظفر نے فرداًفرداً مریضوں کے بستر پر جاکر اُن کی خیریت دریافت کی اور جلد صحت یابی کی دعا کرنے کے علاوہ اُن میں مٹھائی بھی تقسیم کی۔ انہوں نے ڈاکٹرز،نرسز کے دکھی انسانیت کے خدمت کے جذبے کو سراہا اور انہیں چھٹیوں میں فرائض کی ادائیگی پر شاباش دی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے پرنسپل پی جی ایم آئی کا کہنا تھا کہ دوسروں کے لئے بے لوث قربانی کا جذبہ رکھنے والے اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ افراد ہوتے ہیں لہذا ہمیں ہر پل مصیبت میں گھرے لوگوں کے دکھ درد کوکم کرنے اور اُن کے زخموں پر مرحم رکھنے کیلئے خلوص نیت کے ساتھ کوششیں کرنی چاہئیں کیونکہ دکھ اور تکلیف میں مبتلامریضوں کے دلوں سے نکلی ہوئی دعائیں ڈاکٹرز،نرسز کا مقدر بدلنے کا وسیلہ بنتی ہیں۔

    میڈیکل سپرنٹنڈنٹ جنرل ہسپتال ڈاکٹر خالد بن اسلم نے پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر کو بریفنگ میں بتایا کہ حکومت پنجاب کی پالیسی کے تحت دوران عید مریضوں کو سرنج سے لے کر آپریشن کا سامان،تشخیصی ٹیسٹ،سی ٹی سکین، الٹرا ساؤنڈ، ایکسرے اور ادویات مفت فراہم کی گئیں جبکہ ان دنوں میں ڈائلسز سینٹر بھی 24گھنٹے فنکشنل رہا تاکہ گردوں کے مرض میں مبتلا مریضوں کو کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام شعبوں میں ملازمین کی حاضری یقینی بنائی گئی،صفائی ستھرائی پر بھی خصوصی توجہ دی گئی جبکہ ہسپتال آنے والے شہریوں کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ماحول میسر کیا گیا۔ پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ ہسپتال کے تمام شعبوں کے سینئر ڈاکٹرز اور انتظامیہ کی باہمی کو آرڈینیشن سے مریضوں کا علاج معالجہ بلا تعطیل بہتر انداز میں کیا گیا لہذا ہمیں مستقبل میں بھی اسی پالیسی پر کاربند رہنا ہوگا اور اس ادارے کا نام مزید روشن کرنے کیلئے ہر شخص کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔

    پشاور میں پہلی بار خواجہ سراء کو منتخب کر لیا گیا، آخر کس عہدے کیلئے؟

    خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کر کے ویڈیو بنانیوالے ملزمان گرفتار

    دوستی نہ کرنے کا جرم، خواجہ سراؤں پر گولیاں چلا دی گئیں

    مردان میں خواجہ سرا کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالے ملزما ن گرفتار

    خواجہ سرا کے ساتھ بازار میں گھناؤنا کام کرنیوالے ملزمان گرفتار

    خواجہ سرا بھی اب سکول جائیں گے، مراد راس

  • دعا زہرا کی عمر کیا ہے؟رپورٹ میں تہلکہ خیزانکشاف

    دعا زہرا کی عمر کیا ہے؟رپورٹ میں تہلکہ خیزانکشاف

    کراچی سے لاپتادعا زہرا کی عمرکا تعین کر لیا گیا ہے۔دعا زہرا کی عمر 16 سال سے کم ہے، عمرکے تعین کا ٹیسٹ سول اسپتال کراچی میں کیا گیا، رپورٹ کل صبح پولیس کو باقاعدہ طور پر موصول ہوگی۔ سندھ ہائی کورٹ نے دعا زہرا کی عمرکے تعین کے لیے ٹیسٹ کرانےکا حکم دیا تھا۔

     

    والدین سے نہیں ملنا چاہتی،دعا زہرہ کا عدالت میں والد کے سامنے بیان

    عدالت نے دعا زہرہ کی عمر کا تعین کرنے کا اس وقت حکم دیا تھا جب لڑکی نے 18 سال کا ہونے کا دعویٰ کیا۔ دعا زہرہ نے جب سندھ ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر کہا تھا کہ اس نے اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔

    عدالت عالیہ نے فیصلہ دیا کہ وہ حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے زہرہ کی عمر کا تعین کرے گی۔

    دعا زہرہ رواں سال اپریل میں شاہ فیصل کالونی، گولڈ ٹاؤن کے علاقے سے لاپتہ ہوگئی تھی۔ دعا کے والد سید مہدی علی کاظمی کی جانب سے سوشل میڈیا پر لوگوں سے اپنی بیٹی کو تلاش کرنے میں مدد دینے کیلئے پوسٹ کی گئی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد لڑکی کی گمشدگی کا واقعہ خبروں کی زینت بنا۔

    دعا زہرہ نے بھی متعدد ویڈیو پیغامات جاری کئے جس میں اس کا کہنا تھا کہ اس نے ظہیر سے شادی کیلئے اپنی مرضی سے والدین کا گھر چھوڑا، اس نے اپنے والدین کی جانب سے بتائی گئی عمر کے برعکس دعویٰ کیا تھا کہ وہ شادی کی قانونی عمر کو پہنچ چکی تھی۔

    دعا زہرہ بہاولنگر کی تحصیل چشتیاں سے بازیاب

    جب بھی عدالت ایس او پیز کے مطابق عمر کے تعین کا حکم دیتی ہے، پولیس سرجن ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیتا ہے۔ پولیس سرجن کی نگرانی میں عمر کی تشخیص کیلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جاتا ہے جس کے ممبران میں ریڈیولوجسٹ اور ایگزامننگ میڈیکولیگل آفیسر بھی شامل ہوتے ہیں۔

    دعا زہرہ کی عمر کے تعین کے معاملے میں میڈیکل بورڈ تشکیل نہیں دیا گیا، سب سے جونیئر ویمن ایم ایل او کو دعا زہرہ کی عمر کے تعین کا کام سونپا گیا۔

    پولیس سرجن ایچ سرٹیفکیٹ (پی ایس اے سی) کا مطلب یہ ہے کہ یہ سند پولیس سرجن کی جانب سے جاری کی گئی ہے، میڈیکو لیگل آفیسر کی جانب سے نہیں، اس کے علاوہ ناصرف جاری کی گئی سند پولیس سرجن کی غیر موجودگی میں بنائی گئی بلکہ اس پر پولیس سرجن کے دستخط بھی موجود نہیں۔

    کل کہیں گے افغانستان سے سگنل آرہے ہیں تو ہم کیا کرینگے؟ دعازہرہ کیس میں عدالت کے…

    گذشتہ روز دعا زہرہ اور اس کے شوہر ظہیر کو انتہائی سخت سکیورٹی میں سندھ ہائی کورٹ میں پیش کیا گیا تھا،ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم تھا جیسے ہی دعا بازیاب ہو پیش کیا جائے، لاہور ہائی کورٹ نے بھی 10 جون کو دعا کو طلب کیا ہے۔سندھ ہائی کورٹ نے دعا زہرا کی عمر کے تعین کے لیے 2 روز میں طبی ٹیسٹ کرانےکا حکم دیتے ہوئےکیس کی مزید سماعت 8 جون تک ملتوی کر دی تھی اور لڑکی کو شیلٹر ہوم بھیجنے کی ہدایت کی تھی۔

  • دعا زہرہ کیس:اہم پیش رفت: پولیس نے مبینہ نکاح خواں کو حراست میں:مگرمعاملہ پھرپچیدہ

    دعا زہرہ کیس:اہم پیش رفت: پولیس نے مبینہ نکاح خواں کو حراست میں:مگرمعاملہ پھرپچیدہ

    کراچی :دعا زہرہ کیس:اہم پیش رفت: پولیس نے مبینہ نکاح خواں کو حراست میں لے لیا ،اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاقے الفلاح سے لاپتا ہونے والی دعا زہرہ کیس میں اہم پیش رفت ہونے کی اطلاعات تھیں مگراس میں ایک موقع پر پھر ڈرامائی موڑ آگیا

    ذرائع کے مطابق لاہور کے علاقے مزنگ سے پولیس نے مبینہ نکاح خواں حافظ غلام مصطفیٰ کو حراست میں لے لیا، نکاح نامے کے مطابق دعا زہرہ، ظہیر احمد کا نکاح غلام مصطفیٰ نے پڑھایا تھا۔

    پولیس کا کہنا تھا کہ غلام مصطفیٰ سے نکاح نامے کے حوالے سے تحقیقات کررہے ہیں، نکاح خواں سے تحقیقات مکمل ہونے پر اصل حقائق سامنے لائیں گے۔ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ نکاح جعلی ہے

    واضح رہے کہ اس سے قبل تفتیشی حکام کا کہنا تھا کہ دعا زہرہ کے پولیس کو ملنے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

    یاد رہے کہ دعا زہرہ کا مبینہ نکاح شیراکوٹ کے علاقے میں ہوا، نکاح مزنگ کےرہائشی حافظ غلام مصطفی نےکرایا۔ پولیس کونکاح نامہ کراچی پولیس سےموصول ہوا تھا۔

     

    اس سے قبل دعازہرہ کے والد کا کہنا تھا کہ مجھے ایڈیشنل آئی جی کراچی کی کال آئی ہے لاہور پولیس بھی نہیں کہہ رہی کہ بچی انکے پاس ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ نکاح نامے میں جعلی معلومات درج ہیں سی سی ٹی وی بھی جعلی آئی تھی ، تمام خبریں بھی جعلی ہیں، سندھ اور پنجاب پولیس رابطے میں ہے مگر کلیم نہیں کر رہے۔

    خیال رہے کہ 10 روز قبل کراچی کے علاقے گولڈن ٹاؤن سے 14 سالہ لڑکی دعا زہرہ لاپتہ ہوئی تھی جس کے بعد پولیس نے اس کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے بھی مارے تھے تاہم پولیس اب تک دعا زہرہ کو تلاش کرنے میں ناکام رہی ہے۔

  • قمری اور شمسی نظام دونوں ہی اللہ کے ہیں:ہمیں نئے سال کا آغازنیکیوں اورخیر سے کرنا چاہیے:مولانا طارق جمیل

    قمری اور شمسی نظام دونوں ہی اللہ کے ہیں:ہمیں نئے سال کا آغازنیکیوں اورخیر سے کرنا چاہیے:مولانا طارق جمیل

    لاہور:قمری اور شمسی نظام دونوں ہی اللہ کے ہیں:ہمیں نئے سال کا آغازنیکیوں اورخیر سے کرنا چاہیے:مولانا طارق جمیل کا زبردست بیان،اطلاعات کے مطابق معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے نئے سال کےآغاز کے حوالے سے بڑی ہی اچھی بات کی ہے ان کا کہنا ہےکہ قمری اور شمسی سال دونوں نظام ہی اللہ کے ہیں بس ہمیں‌اپنے رب کو راضٰی کرنا چاہیے

    انہوں نے یہ بات سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پراپنے پیغام میں کہی ، ان کا کہنا تھاکہ میں کئی سالوں سے یکم جنوری کی رات کو جاگتا ہوں اور اللہ سے ان تمام لوگوں کی مغفرت کیلئے آنسو بہاتا ہوں۔ جو لوگ اس رات کو گناہوں ساتھ گزار رہے ہیں، اور آئیں ہم اس رات کو گناہ کی بجائے توبہ کے ساتھ منائیں!

     

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں‌اپنے رب سے ڈر جانا چاہیے اس رات شرابیں پینے والے ، ناچ گانا کرنے والے کل اللہ سے کس منہ سے ملیں گے ،ہمٰیں‌ خیر کے کام کرنے چاہیں ، شر اور شراب جیسے امورہمیں اللہ کی رحمت سے دور کردیں‌گے اور ہمارے پاس اللہ کی رحمت کے سوا اور ہے کیا کچھ 1

  • رمضان المبارک دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے از مبشر لقمان

    رمضان المبارک دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے از مبشر لقمان

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    اور جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق پوچھیں تو آپ فرما دیجیے کہ میں قریب ہی ہوں۔ دعا مانگنے والوں کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا مانگیں۔ پس انہیں میرا حکم ماننا چاہیے اور مجھ پر ایمان لانا چاہیے تاکہ وہ نیک راہ پر آجائیں۔
    یہ سورت بقرہ کی آیت نمبر 186ہے۔ اس سے پہلے تین آیتوں میں روزے اور رمضان کے احکام اور فضائل کا ذکر ہے۔ روزو ں اور رمضان المبارک کے ذکر کے ساتھ دعا مانگنے کا تذکرہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ رمضان کا مہینہ دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو نہ صرف دعا مانگنے کا حکم دیا بلکہ دعا کو بھی ایک عبادت اور بندگی کا ذریعہ قرار دیا ہے جو کہ اس امت کا خاص اعزاز ہے ورنہ حضرت کعب احبار کی روایت کے مطابق پہلے زمانہ میں یہ خصوصیت انبیاء کی تھی۔ انبیاء لوگوں کے لیے دعا کرتے، اللہ تعالیٰ قبول فرماتا لیکن امت محمدیہ کی خصوصیت ہے کہ یہ حکم پوری امت کے لیے عام قرار دیا اور فرمایا
    ترجمہ
    اور تمہارے رب نے کہا کہ تم مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔

    حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم منقول ہے کہ
    دعاء مومن کا ہتھیار ہے۔ ظاہر ہے کہ ہتھیار صحیح کام تب ہی دکھاتا ہے جب ہتھیار بھی تیز ہو اور چلانے والا بھی طاقتور ہو۔
    اب دعا کیسے طاقتور بنے اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آداب سکھلائے۔ اور وہ اوقات بتائے جن میں دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں ان میں ایک موقعہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے ہماری دعائیں کیسے طاقتور بنیں اس کے لیے بنیادی اصول اللہ تعالیٰ نے سورت اعراف کی آیت نمبر ۵۵ میں فرمایا
    یعنی تم اپنے رب سے دعا کیا کرو عاجزی کے ساتھ اور پوشیدہ طریقے سے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ دعا کرنے والا خشوع و خضوع یعنی عاجزی اور اللہ کے دھیان کے ساتھ دعا مانگے اور دوسرا ادب یہ معلوم ہوا کہ آہستہ آواز سے دعا مانگے اگر عام مقتدی دعاؤں سے ناواقف ہوں تو پھر امام کے لیے اونچی آواز سے دعا مانگنے میں کوئی حرج نہیں۔
    دعاء کی قبولیت کو مزید موثر بنانے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ وہ دعائیں مانگی جائیں جو قرآن مجید میں مختلف انبیاء کے حوالے سےمذکور ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ دعائیں قبول فرمائی ہیں۔ یا احادیث میں جو دعائیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہیں وہ مانگی جائیں۔
    لیکن قرآن و حدیث کے عربی جملے جن میں دعائیں ہیں اگر ان کا ترجمہ اور مطلب معلوم ہو تو پھر وہی دعائیں مانگنا افضل اور بہتر ہے لیکن عام حالات میں اگر ان دعاؤں کا مطلب معلوم نہ ہو تو پھر مانگنے والے کو تو معلوم نہیں کہ ان دعائیہ جملوں سے ہم اللہ سے کیا مانگ رہے ہیں۔ لہٰذا ان دعاؤں کے پڑھنے کا ثواب تو ضرور ملے گا لیکن اسے دعا مانگنا نہیں کہیں گے بلکہ دعا پڑھنا کہیں گے اس لیے دعا مانگتے وقت پہلے مسنون دعائیں بھی پڑھ لی جائیں پھر جو دعاؤں کا مفہوم نہ جانتا ہو وہ اپنی زبان میں بھی دعائیں مانگ سکتا ہے۔

    جب یہ کہا جاتا ہے کہ رمضان المبارک دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے تو دل میں ایک خیال آجاتا ہے کہ ہم نے بہت سی دعائیں مانگی ہیں ہماری دعا قبول ہی نہیں ہوتی لہٰذا پھر وہ انسان دعا مانگنے کی طرف متوجہ نہیں رہتا۔
    اس بارے میں ایک بات تو یہ قابل ذکر ہے کہ ارشادات نبوی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حرام مال کھانے اور حرام لباس استعمال کرنے اور حرام کمائی کرنے والے کی دعاء قبول نہیں ہوتی لیکن اس کے علاوہ ہر شخص کی دعا قبول ہوتی ہے۔
    لیکن وہ بات پھر ذہن میں رہتی ہے کہ ہم نے بہت کچھ مانگا ہمیں تو نہیں ملا اس کا جواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح سمجھایا۔
    کہ مومن کی دعاء ضرور قبول ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ اس بندہ کے لیے کیا چیز بہتر ہے۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    ترجمہ
    کہ بسا اوقات تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہوتی ہے۔ اور بسااوقات تم کسی چیز کو پسند کرتے ہو اور وہ تمہارے لیے بری ہوتی ہے۔
    اس لیے انسان کا کام ہے اللہ سے دعائیں کرتے رہنا، مانگتے رہنا، یا تو اللہ تعالیٰ بندہ کو وہی چیز دیتا ہے یا اس کا نعم البدل عطاء فرما دیتا ہے یا دنیا میں اس دعا کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں کی بدولت اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور جب گناہ ختم ہو جائیں تو پھر ان دعاؤں کو اس بندہ کی نیکیاں شمار کر لیا جاتا ہے۔

    ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن بندہ نیکیوں کے ایک ڈھیر کو دیکھ کر کہے گا یہ نیکیاں تو میری نہیں ہیں۔اسے بتایا جائے گا کہ یہ تمہاری وہ دعائیں ہیں جو دنیا میں قبول نہیں ہوئی تھیں ان کے بدلہ میں نیکیاں ملی ہیں اس وقت بندہ کہے گا کہ کاش دنیا میں میری کوئی دعا قبول نہ ہوتی سب کا بدلہ یہاں آخرت میں ملتا۔
    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاؤں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بہت سے لوگ جلد بازی کی وجہ سے اپنی دعائیں ضائع کر دیتے ہیں۔ صحابہ کرامؒ نے عرض کیا جلد بازی سے کیا مراد ہے؟ فرمایا دعا مانگنے کے بعد یہ کہنا کہ میری دعا قبول نہیں ہوتی، دعا کو ضائع کرنا ہے۔
    لہٰذا رمضان کے اس بابرکت مہینہ میں خوب دعائیں مانگیں اور اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہی ہماری دعائیں قبول کرنے والا ہے، دعا میں اپنے لیے، اپنے والدین کے لیے اور دوسرے مسلمان بھائیوں کے لیے دعا کریں۔ پوری انسانیت کی ہدایت کے لیے دعا مانگیں، پختہ عزم سے دعا مانگیں اور بار بار دعا کریں،
    اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    ترجمہ
    رمضان کا یہ مہینہ ایسا ہے کہ اس کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے اور درمیانہ عشرہ بخشش کا ہے اور آخری حصہ جہنم کی آگ سے آزادی کا ہے۔
    اس رحمت کے عشرے میں خوب دعائیں مانگیں اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالی دعاوں کو قبول کرنے والا ہے۔

    مبشرلقمان