Baaghi TV

Tag: دلت

  • دلت شخص مندر میں ناگ رگڑنے پر مجبور:احمد آباد میں مسلمان نوجوان پرظلم کی انتہا

    دلت شخص مندر میں ناگ رگڑنے پر مجبور:احمد آباد میں مسلمان نوجوان پرظلم کی انتہا

    بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع الور میںہندو انتہا پسندوں نے ایک دلت شخص راجیش کمار میگھوال کو اپنی فیس بک پوسٹ میں فلم ”دی کشمیر فائلز”پر تنقیدی تبصرہ کرنے کی پاداش میںمندر کے اندر ایک چبوترے پر ناک رگڑنے پر مجبور کیا۔

    کشمیر میڈیا سروس کے مطابق اس حوالے سے ایک ویڈیو وائرل ہواہے جس میں راجیش کمار کو مندر میں اپنی ناک رگڑتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ایک نجی بینک میں کام کرنے والے راجیش کمار میگھوال نے چند راز قبل فیس بک پر دی کشمیر فائلز فلم کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

    ادھر کل ایک ایسے ہی واقعہ میں ریاست گجرات کے دارلحکومت احمد آباد میں ہندوتوادہشت گردوں نے ایک مسلم نوجوان کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اوروہ متنازعہ فلم کے مناظر دکھا دکھا کر اس پر تشدد کرتے رہے ۔

     

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق احمدآباد کے علاقے بحرام پورا کے رہائشی عدنان رنگریز کو 15ہندوتوا دہشت گردوں نے اس کا نام پوچھنے کے بعد وحشیانہ تشددکا نشانہ بنایا اور وہ بار بار متنازعہ فلم کشمیر فائلز کا نام لے رہے تھے. عدنان پر تشدد کرتے ہوئے انہوں نے کشمیر فائلز کی ویڈیو بھی دکھائی اور کہا کہ جو کشمیر فائلز میں ہوا اس کاجواب تم لوگوں کو دینا پڑے گا۔

    عدنان نے میڈیا کو بتایا کہ بعض راہگیروں نے اسے ہندوتوادہشت گردوں سے بچایا اورعلاج معالجے کیلئے قریبی ہسپتال لے گئے ۔ عدنان نے مزید بتایا کہ ہسپتال میں بھی اس کا ڈھائی گھنٹے تک کوئی علاج نہیں کیا گیا، مجبورا اس کے اہلخانہ نے اسے دوسرے ہسپتال لیکر گئے ۔

    عدنان کے چچا اشفاق نے بتایا کہ متنازعہ فلم کشمیر فائلز دیکھنے والے ہندوتوا دہشت گرد عدنان پر تشدد میں ملوث ہیں۔ انہوں نے عدنان پر تشدد میں ملوث تمام دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا۔

  • کہیں دلت اورکہیں بے بس مسلمان:بھارتی مظالم کا شکار،ہرطرف خوف کی فضا

    کہیں دلت اورکہیں بے بس مسلمان:بھارتی مظالم کا شکار،ہرطرف خوف کی فضا

    نئی دہلی :بھارت:کہیں دلت اورکہیں بے بس مسلمان:بھارتی مظالم کا شکار،ہرطرف خوف کی فضا ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹکا کے گائوں اراسیناکیرے میں اونچی ذات کے ہندوئوں نے حملہ کر کے پانچ دلت نوجوانوں کو زخمی کردیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دلت نوجوانوں نے میسور کی جیا پورہ پولیس پردرج کرائی گئی اپنی شکایت میں کہا ہے کہ انہیں گائوں میں اونچی ذات کے ہندوئوں کے علاقے میں داخل ہونے پر تشدد کا نشانہ بنایاگیا ہے ۔

    مقامی لوگوں نے پولیس کو بتایا ہے کہ دلت نوجوان پانی پوری کھانے کیلئے گائوں میں اونچی ذات کے ہندوئوں کے علاقے میں گئے تھے جس پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ 13جنوری کو پیش آنے والے اس واقعے میں زخمی ہونے والے دلت نوجوانوں میسور کے کے آر ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    بھارتی ریاست اتر پردیش میں ہندو انتہاپسند تنظیم بجرنگ دل کے کارکنوں نے ایک مسلمان شخص کوجو ٹرین پر ایک شادی شدہ ہندوخاتون کے ساتھ سفر کر رہا تھاتشدد کا نشانہ بنایا اور زبردستی ٹرین سے اتار کر گھنٹوں تک اجین ریلوے اسٹیشن پر روکے رکھا۔

    بجرنگ دل کے کارکنوں نے مدھیہ پردیش کے اجین ریلے اسٹیشن پر مسلمان شخص پر لوجہاد کا الزام لگاتے ہوئے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور زبردستی ٹرین سے اتار کرریلوے پولیس کے حوالے کر دیا۔ بعدازاں دونوں کے اہلخانہ نے پولیس کے سامنے تصدیق کی وہ دونوں فیملی فرینڈز ہیں اور ایک دوسرے کو جانتے ہیں جس کے بعد انہیں پولیس نے جانے دیا۔

    اس واقعے کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں اپنی شناخت بجرنگ دل کے کارکنوں کے طور پر کرانے والے تین افراد نے آصف شیخ کو ٹرین سے گھسیٹتے ہوئے اتارااور وہ اسے زبردستی پولیس اسٹیشن لے گئے جبکہ مذکورہ ہندو خاتون بھی ان کے پیچھے پیچھے چلتی ہوئی نظر آرہی ہے ۔

    پولیس اسٹیشن کے اندر ریکارڈ کی گئی ایک اور ویڈیو میں ہندو خاتون بجرنگ دل کے کارکنوں پر چیختے ہوئے نظر آ رہی ہے۔خاتون چیختے ہوئے کہتی ہے کہ ”تمہاری ایک غلط فہمی میری زندگی خراب کر سکتی ہے، میں بالغ ہوں اور ایک اسکول میں پڑھاتی ہوں”۔ ریلوے پولیس کے مطابق یہ واقعہ 14جنوری کو پیش آیا تھا ۔

  • بھارت میں دلتوں کو مسلسل جبر کا سامنا،انتہائی ذلّت آمیزسلوک مگرانسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش:رپورٹ

    بھارت میں دلتوں کو مسلسل جبر کا سامنا،انتہائی ذلّت آمیزسلوک مگرانسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش:رپورٹ

    نئی دہلی:بھارت میں دلتوں کو مسلسل جبر کا سامنا،انتہائی ذلّت آمیزسلوک مگرانسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش:رپورٹ ،اطلاعات کے مطابق بھارت میں دلتوں کو 2022 کی اس مہذب دنیا میں بھی علیٰ ذات کے ہندووں کے ہاتھوں جبر و استبداد کی کارروائیوں کا مسلسل سامنا ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دلت صدیوں سے ظلم و جبر برداشت کر رہے ہیں اور انہیں بھارتی ذات پات کے نظام کے تحت ’اچھوت‘ سمجھا جاتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی معاشرہ دلتوں کو قبول کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے اور برطانوی راج سے بھارت کی آزادی کے 75 سال بعد بھی ملک میں انکے کے ساتھ امتیازی سلوک جاری ہے اور وہ زیادہ تر معمولی ملازمتیں کرنے پر مجبور ہیں۔

    رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ بھارتی حکومت نہ صرف ذات پات کے نظام کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ اس نے اسے مضبوط بنایا ہے۔پورٹ میں کہا گیا ہے کہ دلتوں کو مختلف قسم کے امتیاز اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے یہاں تک کہ انہیں اونچی ذات کے ہندوﺅں کے علاقوں میں مندروں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے جب کہ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی خواتین طویل عرصے سے اونچی ذات کے ہندووں کے جنسی تشدد کا نشانہ بن رہی ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری کو دلتوں کو اونچی ذات کے ہندووں کے ظلم و ستم سے بچانے کے لیے آگے آنا چاہیے اور اسے بھارت میں غیر انسانی ذات پات کے نظام کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت پر صرف 7 فیصد برہمن حکومت کر رہے ہیں اور بھارت کی 70 فیصد آبادی کی طرف سے ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کا مطالبہ بڑھ رہا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو)، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی)، سماج وادی پارٹی (ایس پی) اوربہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سمیت سیاسی جماعتیں بھارت ذات پات کی مردم شماری کا مطالبہ کر رہی ہیں اور انکا کہنا ہے نام نہاد اعلیٰ ذاتوں نے ملازمتوں اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی میں غیر متناسب حصہ لیا ہے۔

    رپورٹ میں بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کا حوالہ دیا گیا جو ذات پات کی مردم شماری کے ایک مضبوط وکیل ہیںانکا کہنا ہے کہ ہر ذات کے گروپ کی آبادی کی گنتی سے حکومت کو زیادہ درست فلاحی پروگرام بنانے میں مدد ملے گی۔رپورٹ میں کہا گیا کہ بی جے پی حکومت نے واضح طور پر پارلیمنٹ میں کہا ہے کہ وہ پالیسی معاملے کے طور پر ذات پر مبنی سروے نہیں کرے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت میں ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری وقت کی ضرورت ہے ۔

  • بھارت میں مذہبی اقلیتیں خوف ودہشت کے عالم میں:بقااوراحیا بھی خطرےمیں:رپورٹ جاری

    بھارت میں مذہبی اقلیتیں خوف ودہشت کے عالم میں:بقااوراحیا بھی خطرےمیں:رپورٹ جاری

    نئی دہلی : بھارت میں مذہبی اقلیتیں خوف ودہشت کے عالم میں:بقااوراحیا بھی خطرےمیں:رپورٹ جاری ،اطلاعات کے مطابق مودی کی زیرقیادت بھارتیہ جنتا پارٹی کے فسطائی دور حکومت میںمسلمان اور دیگر مذہبی اقلیتیں خوف و دہشت کی حالت میں زندگی گزار رہی کیونکہ یہ ملک میں مذہبی اقلیتوں کی بنیادی آزادیوں کو پامال کر رہی ہے۔

    کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نریندر مودی بھارت کی پالیسی کو ہندوتوا کے نظریے کے مطابق تشکیل دے رہے ہیں اور جب سے وہ وزیر اعظم بنے ہیں ملک میں مذہبی آزادی میں زبردست گراوٹ آئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ مسلمان، عیسائی اور سکھ اپنے عقیدے کی وجہ سے بھارت میں مکمل طور پر غیر محفوظ ہیں کیونکہ ہندوتوا کا فلسفہ یہ ہے کہ بھارت میں رہنے کا حق صرف ہندوو¿ں کو ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی کے فسطائی دور میں بھارت تیزی سے عدم برداشت کا شکار ہوتا جا رہا ہے اور ہندوتوا طاقتوں کی طرف سے مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کے مذہبی مقامات کی بے حرمتی کی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بی جے پی بھارت کو مذہبی اقلیتوں سے پاک کرنے کے مشن پر ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور عالمی برادری کو بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لیے آگے آنا چاہیے اور ہندو فاشزام کا نوٹس لینا چاہیے اور بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف جرائم کے لیے مودی کا محاسبہ کرنا چاہیے