Baaghi TV

Tag: دلیپ کمار

  • ایک تقریب میں دلیپ کمار کا پوسٹر دیکھ کر سائرہ بانو جذباتی ہو گئیں

    ایک تقریب میں دلیپ کمار کا پوسٹر دیکھ کر سائرہ بانو جذباتی ہو گئیں

    لیجنڈ اداکار دلیپ کمار طویل علالت کے بعد 7 جولائی 2021 کو انتقال کر گئے تھے ان کا انتقال ان کے مداحوں اور خصوصی طور پر اہلیہ کے لئے بہت بڑا دھچکا تھا . دلیپ کمار کے انتقال کے بعد سائرہ بانو کافی اداس رہتی ہیں اور
    کم کم ہی کہیں‌جاتی ہیں . حال ہی میں انہوں نے ایک تقریب میں شرکت کی اس تقریب میں سائرہ بانو کی شرکت کی وڈیو وائرل ہو رہی ہے. جس میں‌انہیں‌دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ دلیپ کمار کی تصویر دیکھ کر جذباتی ہو گئیں .ویڈیو میں سائرہ بانو دلیپ کمار کی آنے والی دستاویزی فلم ‘دلیپ کمار، ہیرو آف ہیروز’ کے پوسٹر کی طرف چلتی ہوئی

    دکھائی دے رہی ہیں اس دوران سائرہ بانو کی آنکھیں دیکھی جائیں تو وہ نم نظر آتی ہیں. یاد رہے کہ دلیپ کمار کی پہلی برسی کے موقع پر سائرہ بانو نے اعتراف کیا کہ وہ اپنے پیارے شوہر کے انتقال کی وجہ سے شدید صدمے میں ہیں اور وہ اس صدمے سے خود کو نہیں‌ نکال سکتیں . انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یوسف کے بغیر میری زندگی کے رنگ پھیکے ہیں ، ساری دنیا کی دولت ایک طرف اور دلیپ کمار اور ان کی محبت ایک طرف .
    یاد رہے کہ دلیپ کمار اور سائرہ بانو نے 1966 میں شادی کی تھی سائرہ بانو دلیپ کمار سے 22 سال چھوٹی تھیں.

  • جاوید شیخ سے سائرہ بانو نے ایسا کیا کہا وہ خوشی کے مارے پھولے نہ سمائے

    جاوید شیخ سے سائرہ بانو نے ایسا کیا کہا وہ خوشی کے مارے پھولے نہ سمائے

    دلیپ کمار جن کے مداح بڑے بڑے آرٹسٹ ہیں، وہ اگر کسی کی تعریف کرتے تھے تو اس آرٹسٹ‌ کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں‌ہوتا تھا. ایسے ہی ایک آرٹسٹ ہیں جاوید شیخ جن کے کام کی تعریف دلیپ کمار نے کی تو وہ خوشی سے ہوئے نہال. تفصیلات کے مطابق اداکار جاوید شیخ نے اپنے ایک انٹرویو میں دلیپ کمار کے ساتھ ملاقات کو یاد کیا اور کہا کہ میری جب پہلی بار دلیپ کمار سے ملاقات ہوئی تو مجھے لگا کہ وہ مجھے جانتے نہیں‌ہوں گے ، لیکن حیرانی اس وقت ہوئی جب انہوں‌نے کہا کہ وہ مجھے بہت اچھی طرح‌جانتے ہیں. اسی ملاقات میں سائرہ بانو بھی

    موجود تھیں انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو اس لئے جانتے ہیں کیونکہ ہم نے آپکا ڈرامہ ان کہی دیکھا ہوا ہے. ہم نے آپ کا ڈرامہ منگوا کر رکھا اور سوچا کہ روز ایک قسط دیکھیں گے لیکن ہم نے ایک رات میں ہی ڈرامے کی تمام اقساط دیکھ ڈالیں. یوں جب میں نے یہ بات سنی تو میری خوشی کا ٹھکانہ ہی نہ تھا. جاوید شیخ نے کہا کہ دلیپ کمار کے ساتھ میری دو تین ملاقاتیں ہیں وہ بہت پیار سے ملتے تھے اور ان میں بہت بڑے فنکاروں‌والی کوئی ایسی بات نہیں تھی انہیں جس کا بھی کام پسند آتا تھا اسکی تعریف کرتے تھے.

  • دھرمیندر نے دلیپ کمار کی وڈیو لگا کر لکھا ”کاش دلیپ جیسا دلکش انداز مجھے بھی نصیب ہوتا”

    دھرمیندر نے دلیپ کمار کی وڈیو لگا کر لکھا ”کاش دلیپ جیسا دلکش انداز مجھے بھی نصیب ہوتا”

    بالی وڈ اداکار دھرمیندر اور دلیپ کمار کی دوستی کتنی گہری رہی ہے یہ تو سب جانتے ہیں صدیوں کے اداکار دلیپ کمار کا انتقال ہوچکا ہے لیکن دھرمیندر کی یادوں میں دلیپ آج بھی زندہ ہیں.دھرمیندر اکثر و بیش تر دلیپ کمار کی وڈیوز لگاتے رہتے ہیں ان کے بارے میں لکھتے رہتے ہیں. حال ہی میں انہوں نے ٹویٹر پر ایک وڈیو شئیر کی ہے وہ وڈیو ہے دلیپ کمار کی، اس وڈیو میں دلیپ کمار کہہ رہے ہیں مشرقی میوزک میں جذباتیت اور شاعری بہت زیادہ ہوتی ہے خصوصی طور پر شاعری بہت زیادہ اچھی ہوتی ہے . جب بھی اچھے لفظوں میں گائے ہوئے اچھے گیت یاد آتے ہیں تو ماضی کی پوری زندگی کی یاد آجاتی ہے اور اسکا اثر یاداشت سے زیادہ ہوتا ہے. اس وڈیو کے کیپشن میں دھرمیندر نے لکھا کہ اس کی

    وضاحت کون کر سکتا ہے. اسی ٹویٹ کے ساتھ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ہم فطرت ہونے کا احساس ہوتا ہے کاش یہ دلکش انداز مجھے بھی نصیب ہوتا. یاد رہے کہ دلیپ کمار بھی دھرمیندر کی بہت تعریف کرتے تھے ایک ایوارڈ شو میں انہوں نے کہا تھا کہ جب بھی دھرمنیدر کو دیکھتا ہوں تو خدا سے کہتا ہوں کہ کیوں مجھے اس جیسا خوبصورت نہیں بنایا. دوسری طرف دھرمیندر کا کہنا ہے کہ انہوں نے دلیپ کمار کو دیکھ کر اداکاری کی شروعات کی.

  • جاوید شیخ نے احوال بیان کیا دلیپ کمار سے اپنی دلچپسپ ملاقات کا

    جاوید شیخ نے احوال بیان کیا دلیپ کمار سے اپنی دلچپسپ ملاقات کا

    پاکستان شوبز انڈسٹری کے باصلاحیت اداکار جاوید شیخ جو کسی تعارف کا محتاج نہیں ہیں انہوں نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ کس طرح سے ان کی ملاقات اداکارہ سلمی آغا کی والدہ نے دلیپ کمار سے کروائی. جاوید شیخ بتاتے ہیں کہ میں اور سلمی آغا کسی فلم کی شوٹنگ کےلئے لندن میں موجود تھے اور سلمی آغا کی والدہ نے ایک دن کہا کہ جاوید آپ اور فلم کے ڈائریکٹر میرے گھر شام کو ضرور آئیے کھانا بھی کھائیے اور ساتھ میں کسی سے ملاقات بھی کروانی ہے آپ کی . جاوید شیخ کہتے ہیں‌ کہ میں نے بہت زیادہ اصرار کیا اور پوچھا کہ آنٹی وہ کونسے مہمان ہیں جن سے آپ مجھے ملوانا چاہ رہی ہیں تو انہوں نے آخر کار بتا دیا بولیں دلیپ

    کمار آرہے ہیں. یہ سننا تھا کہ میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ رہا میرے لئے ایک لمحہ ایک سال تھا کیونکہ میں انتظار کررہا تھاکہ کب شام ہو اور کب دلیپ صاحب سے ملاقات ہو. شام ہوئی میں سلمی آغا کی والدہ کے گھر پہنچ گیا دلیپ کمار آئے اور سلمی آغا کی والدہ نے سب کا تعارف کروایا میرا تعارف کروایا تو دلیپ کمار نے کہا میں ان کو جانتا ہوں یہ کہہ کر مجھے گلے لگایا لیکن میں نے سوچا کہ ان کو کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے کیونکہ میں تو بہت نیا ہوں مجھے کیسے جانتے ہیں پھر انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ڈرامہ سیریل ان کہی دیکھا تھا. یوں‌ انہوں نے میری حوصلہ افزائی اور میری خوشی کا ٹھکانہ ہی نہ تھا.

  • میری زندگی کے رنگ دلیپ کمار کے بغیر پھیکے ہیں سائرہ بانو

    میری زندگی کے رنگ دلیپ کمار کے بغیر پھیکے ہیں سائرہ بانو

    ماضی کی نامور اداکارہ اور دلیپ کمار کی اہلیہ سائرہ بانو نے اپنے شوہر کی پہلی برسی کے موقع پر اپنے گھر میں دعا کا اہتمام کیا. اس موقع پر سائرہ بانو کا کہنا تھا کہ میری زندگی کے رنگ دلیپ کمار کے بغیر پھیکے ہیں . ایک طرف ساری دنیا کی دولت رکھ دی جائے اور ایک طرف دلیپ کمار ہوں میں ساری دنیا کو ٹھوکر مار کر دلیپ کمار کو چُن لوں گی. دلیپ کمار میرا عشق تھے. انہوں نے کہا کہ میں زندگی میں آگے بڑھنے کی کوشش کررہی ہوں لیکن بہت مشکل لگتا ہے ایسا کرنا .ایک سال گزر چکا ہے ان کے بغیر رہتے ہوئے لیکن میں آگے نہیں بڑھ پا رہی. ان کی ہر دم یاد ستاتی ہے اس قدر یاد ستاتی ہے

    کہ میں جذباتی ہوجاتی ہوں اور یہ ساری صورتحال میری صحت پر اثرانداز ہو رہی ہے.سائرہ بانو کہتی ہیں کہ میرے جینے کا مقصد دلیپ کمار کی خدمت تھا اب وہ نہیں رہے تو میں کیا کروں؟ صبح کو اٹھتی ہوں تو میری آنکھیں ان کو تلاشتی ہیں .
    یاد رہے کہ گزشتہ برس سات جولائی کو دلیپ کمار اس دنیا سے رخصت ہو گئے تھے ان کے انتقال کے بعد سائرہ بانو انہیں بہت یاد کرتی ہیں ان کی خود کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں رہتی کہا جاتا ہے کہ سائرہ بانو نے لوگوں سے ملنا ملانا چھوڑ دیا ہے. یہاں تک کہ وہ فون پر بھی کسی سے بات نہی کرتیں. سائرہ بانو کا ان کے قریبی رشتہ دار کافی خیال کرتے ہیں.

  • خوش قسمت ہوں میرے پاس یوسف 56 سال تک رہے سائرہ بانو

    خوش قسمت ہوں میرے پاس یوسف 56 سال تک رہے سائرہ بانو

    ماضی کی خوبصورت اداکارہ سائرہ بانو نے اپنے شوہر کی پہلی برسی کے موقع پر بھارتی میڈیا کے لئے ایک نوٹ تحریر کیا. سائرہ بانو نے لکھا ہے کہ میں دلیپ کمار کی یادوں کے سہارے جی رہی ہوں اور میرے جینے کی وجہ ان کی یادیں ہیں. میں آج بھی جب نیند سے جاگتی ہوں تو دوبارہ اپنا چہرہ تکیے میں رکھ کر اس خیال سے آنکھیں بند کرلیتی ہوں اگر آنکھیں دوبارہ کھولوں گی تو میرا شوہر میرے سامنے ہوگا. سائرہ بانو نے اس نوٹ میں مزید یہ بھی لکھا کہ میں بہت خوش قسمت ہوں کہ یوسف میرے پاس چھپن برس تک رہے میں باراں سال کی تھی جب سے ان کی محبت میں گرفتار ہوں وہ میری زندگی میں

    واحد مرد تھے جو میرے لئے سب سے بہترین تھے. سائرہ بانو نے کہا کہ ایسا کوئی دن نہیں جب دلیپ میری آنکھوں میں نہ ہوں.یاد رہے کہ سائرہ بانو نے اپنے شوہر دلیپ کمار کی بہت خدمت کی.دیکھنے والے بتاتے ہیں‌کہ سائرہ نے دلیپ کمار کی دیکھ بھال ایسے کی جیسے کسی چھوٹے بچے کی، کی جاتی ہے. سائرہ بانو کو جب ڈاکٹروں نے دلیپ کمار کے انتقال کے بارے میں بتایا تو وہ یقین ہی نہیں‌کر پا رہی تھیں کہہ رہی تھیں کہ کہہ دیں جھوٹ ہے غلط ہے. سائرہ بانو اور دلیپ کمار کی شادی 1966 میں ہوئی تھی. دونوں نے آئیڈیل زندگی گزاری دلیپ کمار اور سائرہ بانو نے ایک ساتھ فلموں میں کام بھی کیا ان کی حقیقی جوڑی کو سکرین پر بھی بہت سراہا جاتا تھا.

  • دلیپ کمار کی آٹھ یادگار ترین فلمیں اور کردار

    دلیپ کمار کی آٹھ یادگار ترین فلمیں اور کردار

    دلیپ کمار نے بہت ساری یادگار فلموں میں کام کیا لیکن آج ہم ان کی برسی کے موقع پر ان کی آٹھ بہترین فلموں کے بہترین کرداروں پر بات کریں گے. ان کے کیرئیر میں مغل اعظم ایک ایسی فلم رہی جس نے کامیابی کے تمام ریکارڈ توڑے اس میں انہوں نے شہزادہ سلیم کا کردار کیا اور اس کردار میں حقیقت کے رنگ بھرے. دیوداس، اس فلم کی کہانی ایک ناول پر مبنی تھی اس میں ان کا کردار نہ بھولنے والا ہے انہوں نے اس میں ایک ایسے ناکام عاشق کا کردار ادا کیا جو اپنی محبوبہ کے نہ ملنے پر موت کو گلے تو لگا سکتا تھا لیکن جی نہیں سکتا تھا.فلم آن جو

    رومینٹک ڈرامہ تھی اس میں انہوں نے جو کردار کیا اس کے لئے انہیں فلیم فئیر ایوارڈ بھی ملا.گنگا جمنا 1961 میں ریلیز ہونے والی اس فلم میں انہوں نے ایک نوکر کا کردار ادا کیا اس میں ان کے ساتھ وجنتی مالا تھیں. فلم نیا دور میں انہوں نے ایک بار پھر وجنتی مالا کے ساتھ کام کیا اس میں دلیپ کمار نے ایک ٹانگے والے کا کردار کیا تھا جو شائقین کو بہت بھایا.رام اور شیام ان کے کیرئیر کی ایک ایسی فلم تھی جس نے ثابت کیا کہ دلیپ کمار بہترین کامیڈی بھی کر سکتے ہیں.فلم انداز میں‌انہوں نے راج کپور اور نرگس کے مقابلے میں کام کرکے خود کی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اس میں انہوں نے ایک رومینٹک ہیرو کا کردار نبھایا. یہ وہ آٹھ فلمیں ہیں جو دلیپ کمار کا نام لیتے ہی ذہن میں آتی ہیں.

  • ٹریجڈی کنگ  دلیپ کمار کی پہلی برسی

    ٹریجڈی کنگ دلیپ کمار کی پہلی برسی

    ٹریجڈی کنگ کہلائے جانے والے اداکار دلیپ کمار کی آج پہلی برسی ہے. دلیپ کمار نے 1944 میں جوار بھاٹا سے اپنے فلمی کیرئیر کی شروعات کی اس فلم نے زیادہ کامیابی حاصل نہیں کی اس کے بعد انہوں نے فلم جگنو میں میڈم نور جہاں کے مد مقابل کام کیا یہ فلم سپر ہٹ ہوئی ۔1949میں انہوں نے راج کپور اور نرگس کے ساتھ فلم انداز کی یہ فلم بھی سپر ہٹ ہوئی اس کے بعد دلیپ کمار نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ دیوداس ،نیا دور ،رام اور شیام ،مدھو متی ،ودھاتا ،کرانتی اور شکتی جیسی فلموں میں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر ثابت کیا کہ ان سے بہتر اداکار کوئی نہیں۔ دلیپ کمار نے سنجیدہ اداکاری کے ساتھ کامیڈی کردار بھی کئے کامیڈی کرداروں کے ساتھ بھی دلیپ کمار نے بھرپور انصاف کیا۔دلیپ کمار نے پینسٹھ سے زائد

    فلموں میں کام کیا۔ مغل اعظم ان کے کیرئیر کی ایسی فلم تھی جو ہر حوالے سے یادگار ہے اس فلم میں ان کے ساتھ مدھوبالا تھیں اور کہا جاتا ہے کہ اس فلم کی شوٹنگ کے دوران مدھوبالا اور دلیپ کمار کے درمیان نفرت کی ایک دیوار کھڑی ہو چکی تھی لیکن اس کے باوجود دونوں نے دیکھنے والوں کو گمان تک نہ ہونے دیا ۔دلیپ کمار کو ان کی بہترین اداکاری پر کئی یوارڈز بھی ملے۔1954میں وہ بہترین اداکار کے لئے فلم فئیر جیتنے والے پہلے اداکار تھے ،انہوں نے یہ ایوارڈ آٹھ بار جیتا۔ انہیں دادا صاحب پھالکے اور پدما بھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ پاکستان نے 1998 میں دلیپ کمار کو نشان امتیاز سے بھی نوازا۔

  • سائرہ بانو کی آنکھیں چھلک گئیں

    سائرہ بانو کی آنکھیں چھلک گئیں

    صدیوں کے اداکار دلیپ کمار جو اب ہم میں نہیں ہیں ان کی خدمات کے اعتراف میں بھارتی حکومت نے اعلی سول ایوارد دینے کا اعلان کیا تھا گزشتہ دنوں اس ایوارڈ کو دینے کے لئے ایک پروقار تقریب کا اہتمام کیا گیا ۔دلیپ کمار کی اہلیہ سائرہ بانو نے یہ ایوارڈ وصول کیا ۔ایورڈ پکڑتے ساتھ ہی سائرہ بانو کی آنکھیں چھلک گئیں اور وہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں۔ سائرہ بانو اس موقع پر بہت زیادہ جذباتی ہوئیں انہوں نے کہا کہ دلیپ کمار ہندوستان کا کوہ نور تھے اور ان کا حق بنتا تھا کہ اس ایوارڈ سے نوازا جائے لیکن اگر وہ خود یہ ایوارڈ لیتے تو زیادہ خوشی ہوتی ۔سائرہ بانو نے مزید کہا کہ مجھے آج تک یقین ہی نہیں آتا کہ وہ دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں میری یادوں میں دلیپ زندہ تو ہیں ہی لیکن میں محسوس کرتی ہوں کہ ہر قدم پہ وہ میرے ساتھ ہوتے ہیں تبہی تو میں زندہ ہوں سانس لے رہی ہوں۔

    یاد رہے کہ دلیپ کمار گزشتہ برس سات جولائی کو دنیا سے رخصت ہو گئے تھے دلیپ کمارکافی عرصے سے بیمار تھے اور انہیں تو اپنی خبر نہیں تھی لیکن ان کی اہلیہ سائرہ بانو نے انکی بہت زیادہ خدمت کی۔سائرہ بانوکہتی ہیں کہ وہ دلیپ کمار سے عشق کرتی تھیں ۔سائرہ بانو اور دلیپ کمار میں بیس برس کا فرق تھا لیکن سائرہ دلیپ کو پا کر بہت خوش تھیں ۔ان دونوں کی مثالی جوڑی تھی ۔ٹریجڈی کنگ دلیپ کمار کی سائرہ بانو سے محبت کی شادی تھی گو کہ اس سے پہلے وہ مدھوبالا سے شادی کرنا چاہتے تھے لیکن حالات ایسے بنے کہ دونوں کو راہیں جد کرنی پڑیں ۔دلیپ کمار کی اداکاری کا منفرد انداز ان کو آج تک دوسروں سے ممتاز بناتا ہے ۔

  • دلیپ کمار کی بائیو گرافی کی پہلی جھلک منظر عام  پر

    دلیپ کمار کی بائیو گرافی کی پہلی جھلک منظر عام پر

    صدیوں کے فنکار کہلائے جانے والے یوسف خان المعروف دلیپ کمار کی بائیو گرافی کی پہلی کاپی کی جھلک منظر عام پر آگئی ہے. دلیپ کمار کے مینجر فیصل فاروقی نے اپنے ٹویٹر اکائونٹ پر ایک وڈیو کلپ چئیر کیا ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک خاتون کے ہاتھ میں دلیپ کمار پر لکھی گئی کتاب موجود ہے . دلیپ کمار کے مینجر نے باقاعدہ ایک ٹویٹ بھی کی اور کہا کہ لیجنڈ اداکار پر لکھی گئی کتاب کی یہ پہلی کاپی ہے جو کہ ان کی برسی کے موقع پر ریلیز کی جائیگی.
    یاد رہے کہ گزشتہ برس سات جولائی کو دلیپ کمار طویل علالت کے بعد اللہ کو پیار ہو گئے تھے ان کی موت کا صدمہ انکی اہلیہ سائرہ بانو کو اس قدر ہوا کہ جب انہیں ڈاکٹروں کی طرف سے بتایا گیا کہ دلیپ کمار کا انتقال ہو گیا ہے تو انہوں نے کہا کہ

    ” خدا نے مجھ سے میرے جینے کی وجہ چھین لی، دلیپ صاحب کے بغیرمیں خود کو کسی چیز کے بارے میں سوچنے کے قابل بھی نہیں سمجھتی، سب دعا کیجیے۔” اداکار دھرمیندر نے کہا تھا کہ سائرہ بانو نے دلیپ کمار کو بیماری کے دوران بچوں کی طرح سنبھالا.
    یاد رہے کہ دلیپ کمار کا پاکستان کے صوبے خیبر پختون خوا کے شہر پشاور کے قصہ خوانی بازار میں آبائی مکان آج بھی محفوظ ہے اور اسے اب حکومت نے تاریخی ورثہ قرار دے دیا ہے۔شہنشاہ جذبات کہلانے والے دلیپ کمارے نے لازوال کردار نبھائے اپنی زبردست اداکاری کی وجہ سے وہ آج بھی فلم بینوں کی دلوں میں‌زندہ ہیں.