Baaghi TV

Tag: دنیا

  • پاکستان سالانہ 3.3 ملین ٹن پلاسٹک کا فضلہ پیدا کرتا ہے،شیری رحمان

    پاکستان سالانہ 3.3 ملین ٹن پلاسٹک کا فضلہ پیدا کرتا ہے،شیری رحمان

    پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر سینیٹر شیری رحمان نےورلڈ ارتھ ڈے کے حوالے سے پیغام میں کہا ہے کہ آج دنیا بھر میں ارتھ ڈے منایا جا رہا ہے،

    شیری رحمان کا کہنا تھا کہ اس سال ارتھ ڈے کا تھیم "سیارہ بمقابلہ پلاسٹک” ہے،اس کا مقصد پلاسٹک کی آلودگی کے انسانی صحت اور ماحولیات پر دیرپا اور تباہ کن اثرات سے نمٹنے کی فوری ضرورت کی طرف توجہ دینا اور 2040 تک پلاسٹک کی پیداوار میں 60 فیصد کمی لانا ہے،پاکستان جیسے ملک کیلئے پلاسٹک کی آلودگی کا اثر شدید اور دیرپا ہوتا ہے، اس حوالے سے اقوام متحدہ کے پلاسٹک کے عالمی معاہدے کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ پلاسٹک کی کوئی سرحد نہیں ہوتی، اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان سالانہ 3.3 ملین ٹن پلاسٹک کا فضلہ پیدا کرتا ہے،اس وسیع مقدار کا ایک بڑا حصہ پلاسٹک کی اشیاء اور کھانے کے اسکریپ پر مشتمل ہے، بدقسمتی سے جنوبی ایشیا کے ممالک میں پاکستان سب سے زیادہ پلاسٹک کا غیر منظم فضلہ پیدا کرتا ہے،پلاسٹک کا فضلہ بڑی مقدار میں لینڈ فلز، ڈمپنگ سائٹس اور آبی ذخائر میں چلا جاتا ہے، یہ صورت حال ماحولیاتی اور انسانی صحت کے لیے شدید مسائل پیدا کرتی ہے،اس معاملے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، وزارت ماحولیاتی تبدیلی نے گزشتہ سال پلاسٹک کی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ایک جامع روڈ میپ متعارف کرایا تھا،یہ روڈ میپ سات آر (7-R)کے ایجنڈے پر بنایا گیا ہے، جس میں پلاسٹک کے حوالے سے وسائل، تحقیق، ذمہ داری، ری سائیکل، دوبارہ استعمال، دوبارہ ڈیزائن، اور پلاسٹک کا کم استعمال کرنا جیسے کثیر جہتی ایجنڈاز شامل ہیں، زمین سے پلاسٹک کی آلودگی سے نمٹنے اور اس کے خاتمے کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،ہمیں فضلہ کے انتظام کے ذمہ دارانہ طریقوں کو فروغ دینا ہوگا،اس مقصد کو سنگل یوز پلاسٹک کے متبادل تلاش کرکے، سیارے پر پلاسٹک کی آلودگی کے تباہ کن اثرات کے بارے میں لوگوں میں شعور بیدار کرکے حاصل کیا جا سکتا ہے،

    قابل تجدید توانائی کا فروغ موجودہ حکومت و پارلیمنٹ کی ترجیحات میں شامل ہے،ایاز صادق
    اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور ڈپٹی اسپیکر سید میر غلام مصطفیٰ شاہ نےارتھ ڈے کے موقع پر خصوصی پیغام جاری کیا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کہنا ہے کہ ارتھ ڈے منانے کا مقصد ماحولیاتی آلودگی سے زمین کو محفوظ بنانا اور لوگوں میں زمین سے محبت کا شعور اجاگر کرنا ہے۔اس سال ارتھ ڈے پلاسٹک سے پھیلنے والی آلودگی اور اس کے سدباب کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔پلاسٹک کا بے دریغ استعمال ماحولیاتی آلودگی کا بڑا ز ذریعہ ہے ۔دنیا کو اس وقت ماحولیاتی آلودگی اور اس کے سبب بڑھتی ہوئی موسمیاتی تبدلیوں کا سامنا ہے۔پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید ترین متاثر ہونے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔کرہ ارض کی حفاظت کرہ ارض کے مکینوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا اور پلاسٹک کے استعمال کو کم کر کے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ قابل تجدید توانائی کا فروغ موجودہ حکومت و پارلیمنٹ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ پاکستان کی پارلیمان کو شمسی توانائی پر منتقل ہونے والی دنیا کی پہلی پارلیمان ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ مشترکہ کوششوں سے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جا سکتا ہے، موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی چیلینج ہے جس کے حل کیلئے دنیا کو متحدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی توانائی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنا ہو گا،

    ارتھ ڈے،آج سے "پلاسٹک کو ناں” مہم کا آغاز کر دیا ہے، وزیراعلیٰ پنجاب
    وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے "ارتھ ڈے” 2024 پر پیغام میں کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے "ارتھ ڈے” سے پہلے ماحول دوست گرینڈ پلان پر عمل درآمد کا آغاز کیا۔آج "ارتھ ڈے” پنجاب کے ہر ڈویڑن اور ضلع کی سطح پر منایا جارہا ہے۔آج سے "پلاسٹک کو ناں”( No to Plastic ) مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے،صوبہ پنجاب کو سرسبز بنانے، سموگ اور زہریلے دھوئیں سے پاک کرنے اور انسانی صحت بہتر بنانے کے تاریخی اقدامات پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا ہے۔زمین کائنات میں انسانوں اور جانداروں کا گھر ہے جس کی حفاظت اور بہتری کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔زمین کی سانس کے ساتھ ہی ہر جاندار کی سانس بھی چل رہی ہے۔زمین کے درجہ حرات، زہریلی گیسوں سمیت دیگر آلودگیوں میں اضافہ، جنگلات اور زمین کا کٹاؤ کرہِ ارض کے لئے بڑے خطرات ہیں۔”ارتھ ڈے” یہ جاننے کا دن ہے کہ زمین تباہ ہوئی تو انسان اور کوئی جاندار بھی زندہ نہیں بچے گا۔ہر شہری درخت لگا کر، شاپنگ بیگز استعمال نہ کرکے زمین کی زندگی بڑھا سکتا ہے۔ "ارتھ ڈے” پر پنجاب کی تاریخ کے سب سے تاریخی ماحول دوست اقدامات کا آغاز کیا ہے۔الیکٹرک بسوں، ماحول دوست ایندھن، جدید ٹیکنالوجی اور مشینری کے استعمال سے ماحولیاتی مسائل حل کریں گے۔پلاسٹک سے بنے تھیلے اور دیگر اشیاء جلانے سے پیدا ہونے والا زہریلا دھواں کینسر اور دیگر بیماریاں پھیلا رہا ہے۔صنعتی زہریلا مواد ہمارے پانی کو زہر بنا رہا ہے، پینے کے صاف پانی کے ناہونے سے پیٹ، جگر اور گردوں کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔نئے ہسپتالوں اور علاج کی سہولیات کی طرح ماحول کی بہتری، پنجاب کی تاریخ کی سب سے بڑی شجرکاری بھی انسانی صحت اور زندگی کو بہتر بنانے کے عمل کا حصہ ہے۔5 جون سے پنجاب بھر میں پلاسٹک تھیلوں کے استعمال پر پابندی ہوگی۔”ارتھ ڈے” پر نو ٹو پلاسٹک کے پیغامات جاری کیے جا رہے ہیں، قومی اور سوشل میڈیا پرخصوصی مہم شروع کر دی ہے۔دکاندار، شاپنگ مالز، ریستوران، تندوروں سمیت تمام لوگ پلاسٹک بیگز کا استعمال نہ کرنے کی مہم کا ساتھ دیں، انسانی صحت کو بہتر بنانے اور سموگ کے خاتمے میں اپنا حصہ ڈالیں، گھروں میں بھی پلاسٹک بیگز اور پلاسٹک کی دیگر اشیاء خاص طور پر کھانے پینے کے برتن استعمال نہ کریں،شہری اور میڈیا ماحول اور انسانی صحت کے اہم مسئلے کو اجاگر کرنے اور مہم کو کامیاب بنانے میں مدد کریں،ارتھ ڈے اور ماحول کی بہتری کے لیے طالب علموں اور تعلیمی اداروں میں خصوصی لیکچرز اور تربیتی ورکشاپس منعقد کی جارہی ہیں، نصاب میں مضامین شامل کررہے ہیں۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ارتھ ڈے منایا جا رہا ہے، آج کے دن کا مقصد ماحولیات کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔1970ء میں دنیا میں پہلی مرتبہ ’ارتھ ڈے‘ منایا گیا اور ماحولیات کی بقاء کیلئے کوششوں کا آغاز ہوا، 2040ء تک پلاسٹک کی پیداوار میں 60 فیصد کمی لانا ہے، 1950ء کی دہائی میں دنیا میں پلاسٹک کی پیداوار 20 لاکھ ٹن تھی جو اب 450 ملین ٹن تک جا پہنچی ہے۔اقوام متحدہ کی جاری کردہ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر سال 33 لاکھ ٹن پلاسٹک کا فضلہ پیدا ہوتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ پلاسٹک زمین کو تیزی سے آلودہ کر رہا ہے اور کلائمیٹ چینج جیسے خطرے کی ایک بڑی وجہ پلاسٹک ہے، پلاسٹک انسانوں کے علاوہ سمندری حیات کیلئے بھی انتہائی نقصان دہ ہے اور یہ بلاواسطہ طور پر ہمارے جسم کا حصہ بن رہا ہے۔پلاسٹ سے چھٹکارا پانے کیلئے لازم ہے کہ جس حد تک ہو سکے اس کے استعمال پر قابو پایا جائے اور اگر استعمال ناگزیر ہو تو دوبارہ قابل استعمال پلاسٹک پر انحصار کریں۔

    سستی روٹی نہ ملنے پر نواز شریف کے حلقہ انتخاب میں شہری پھٹ پڑے

    روٹی کی قیمت کم نہ کرنے پر مقدمہ درج،کاروائیاں بند کی جائیں، فاروق چوہدری

    مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی

    مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    پلاسٹک آلودگی کا خطرہ ایک اہم مسئلہ ہے جو فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ چیئرمین سینیٹ
    چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے عالمی یوم ارض پر پیغام میں کہا ہے کہ جیسا کہ ہم یوم ارض منا رہے ہیں، ہمیں اپنے کرہ ارض کو درپیش اہم ماحولیاتی چیلنجوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر ہمارے ماحولیاتی نظام کو پلاسٹک کے نقصان دہ اثرات کا سامنا ہے جن کا تدارک وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پلاسٹک آلودگی کا خطرہ ایک اہم مسئلہ ہے جو فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ہم اس وقت پلاسٹک کے پھیلاؤ کی وجہ سے ایک غیر معمولی بحران کا سامنا کر رہے ہیں، جو ماحولیاتی نظام کو تباہ کر نے کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں، اور جس سے انسانی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ہمیں اس بحران سے نمٹنے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔عوام کی کوششوں کے بغیر حکومت اپنی پالیسیوں اور ضوابط کو نافذ نہیں کر سکتی۔کسی بھی پالیسی کو کامیاب بنانے کیلئے کمیونٹی کی شمولیت ناگزیر ہے۔اس یوم ارض کے موقع پر، میں پلاسٹک کی کھپت کو کم کرنے، ری سائیکلنگ کو فروغ دینے، اور ایک بار استعمال ہونے والے پلاسٹک کے متبادل ذرائع پیدا کرنے کیلئے قانون سازی اور پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیتا ہوں۔اپنی اجتماعی کوششوں سے ہم موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک صاف ستھری اور صحت مند فضا قائم کرنے کی جانب اہم پیش رفت کر سکتے ہیں۔آئیے ہم کرہ ارض کی حفاظت اور اس کے قیمتی وسائل کی حفاظت کے لیے اپنے عزم کو دہرائیں -ایک ساتھ مل کر ہم مشکل سے مشکل چیلنج کا مقابلہ کرسکتے ہیں

    ’ارتھ ڈے‘2024 سے آلودگی کے خاتمے اور ماحول کی بہتری کا کام جنگی بنیادوں پر شروع
    حکومت پنجاب نے ’ارتھ ڈے‘2024 سے آلودگی کے خاتمے اور ماحول کی بہتری کا کام جنگی بنیادوں پر شروع کردیاہے۔آج سے ’نو ٹو پلاسٹک‘ مہم کا آغاز کردیا ہے اور 5 جون سے پلاسٹک بیگز کے استعمال پر مکمل پابندی لاگو ہوگی تاکہ صاف ماحول پروان چڑھے۔ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہاہے کہ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی ہدایت پرماحول دوست پالیسیوں کا تاریخی پیکج تیار کیا جا رہا ہے۔فصلوں کی باقیات جلانے کے تدارک کے لئے کسانوں کو جدید سبسیڈائزڈ مشینری دی جا رہی ہے۔ پلاسٹک بیگز کے استعمال پر پابندی سے سموگ ختم ہوگا اور پھیپھڑوں کے کینسر اور دیگر مہلک بیماریوں سے عوام کی صحت کا تحفظ ہوگا۔سینئروزیر نے کہا کہ صنعتوں کے زہریلے مواد، کاربن کے اخراج اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے فضا کو دھوئیں سے پاک کرنے کے اقدامات پر عمل درآمد جاری ہے۔وزیراعلی مریم نوازشریف کے اقدامات سے چند برسوں میں پنجاب ماحول دوستی کے حوالے سے ایک روشن مثال بن جائے گا۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں بچوں کو ماحول کو بہتر بنانے کی اہمیت اور آلودگی کے مضراثرات سے آگاہ کرنے کی مہم شروع کردی گئی ہے۔اسی طرح پنجاب کی تاریخ کی سب سے بڑی شجرکاری مہم کے اجراء کے علاوہ الیکٹرک بسوں اور دھوئیں کی پڑتال کا جدید نظام بھی لایاجا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ ماحول کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنا کرطالب علموں میں ماحول کی بہتری کی سوچ کوپروان چڑھایاجا رہا ہے۔اس حوالے سے یہ بات خوش آئند ہے کہ ایکو سسٹم کی بہتری کے لئے وائلڈ لائف میپنگ کے ساتھ ساتھ جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کی مہم تیزی سے جاری ہے

    وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی کوآرڈینیشن رومینہ خورشید عالم نے سیو دی چلڈرن آرگنائزیشن کے کنٹری ڈائریکٹر سے ملاقات کی اور باکو میں آنے والے 29ویں COP میں متاثرہ بچوں کی شرکت پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستانی متاثرہ بچے جو موسمیاتی بحران سے متاثر ہوئے ہیں، انہیں خود کو عالمی موسمیاتی قیادت کو صورتحال سے آگاہ کرنا چاہیے۔عالمی یوم ارض پر روشنی ڈالتے ہوئے، موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر رومینہ خورشید عالم نے بھی بچوں کے فعال کردار پر زور دیا کہ وہ اپنے بڑوں کو قومی موافقت کے منصوبے (این اے پی) کے مطابق پلاسٹک کے تھیلوں کے استعمال کو روکنے کی تلقین کریں۔اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ وزارت کے موسمیاتی ایجنڈے کو قومی طے شدہ شراکت (NDCs) کے مطابق بچوں کے ذریعے ملک بھر میں فروغ دیا جائے گا۔ دونوں فریقوں نے موسمیاتی پالیسی کی تشکیل اور موسمیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کے دوران بچوں کی شرکت کے بڑھے ہوئے کردار پر اتفاق کیا۔

    پلاسٹک کی آلودگی کے خطرات پر عوامی آگاہی مہم کو بڑھانے کی ہدایت
    وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ محترمہ رومینہ خورشید عالم نے وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق پلاسٹک کی آلودگی سے نمٹنے، اور زمین کو پلاسٹک کی لعنت سے بچانے کے لیے ہر ممکنہ اقدام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سب کے متحد ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے شہریوں، تنظیموں اور حکومتی اداروں کی جانب سے پلاسٹک کے استعمال سے کرہ ارض کو لاحق خطرے کے خلاف جنگ میں اکٹھے ہونے کے لیے مربوط کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر اعظم کی کوآرڈینیٹر نے وزارت اور اس سے منسلک تنظیموں کے اجلاس کی صدارت کی تاکہ ان اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے جو انہوں نے ارتھ ڈے کے لیے لازمی قرار دیے تھے، جو کہ دنیا بھر میں اور پاکستان میں منایا جا رہا ہے، اس موقع کو "زمین بمقابلہ پلاسٹک” کے عنوان کے تحت منانے کے لیے سرگرمیوں کا ایک ہفتہ طویل سلسلہ طے کیا گیا ہے۔ "انہوں نے سینئر افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ مختلف عوامی تفریحی مقامات کے اچانک دورے کریں اور پلاسٹک کے استعمال کے خلاف اقدامات کے نفاذ کے بارے میں رپورٹ کریں۔ پلاسٹک کی ممانعت کے لیے سائن بورڈز کی تعداد بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، اس نے عوام تک واضح پیغام رسانی کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ مارگلہ ٹریلز اور اسلام آباد چڑیا گھر جانے والوں کو اب دوبارہ بھرنے کے قابل بوتلیں لانے کی ضرورت ہوگی، 12,000 سے زائد کپڑے کے تھیلے بچوں میں تقسیم کیے جائیں گے تاکہ وہ والدین کو پولی تھین بیگ استعمال کرنے سے گریز کرنے کی ترغیب دے سکیں۔ وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر نے ماحولیات کو پلاسٹک کی آلودگی کے خطرات پر عوامی آگاہی مہم کو بڑھانے کی بھی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعظم کی ہدایت کے بعد، انوائرمنٹل پروٹیکشن ایجنسی نے ری سائیکل شدہ پولی تھین بیگز سے بینچز اور پلانٹر تیار کرنا شروع کر دیے ہیں، جنہیں وزارت کے اندر رکھا جائے گا اور مستقبل قریب میں عوامی علاقوں تک پھیلا دیا جائے گا۔

  • رواں سال کا  آخری سورج گرہن

    رواں سال کا آخری سورج گرہن

    آج دنیا کے مختلف علاقوں میں رواں سال کے دوسرے اور آخری سورج گرہن کا نظارہ کیا جارہا ہے اور محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستانی وقت کے مطابق رات 8 بج کر4 منٹ پر سورج گرہن کا آغاز ہوا، سورج گرہن پاکستانی وقت کے مطابق رات 10 بج کر 59 منٹ پر عروج پر آگیا ہے تاہم محکمہ موسمیات کے مطابق سورج گرہن جنوب مغربی میکسیکو، وسطی امریکا کے مختلف ملکوں، جنوبی افریقا، جنوبی آسٹریلیا، بحر اوقیانوس، بحرالکاہل، انٹارکٹیکا اور بحرہندکے علاقوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔

    جبکہ محکمہ موسمیات کا کہنا ہےکہ سورج گرہن کا اختتام 15 اکتوبر کی شب 1 بج کر 55 منٹ پر ہوگا اور سورج گرہن کو رنگ آف فائر کا نام دیا گیا ہے اور یہ رواں سال کا آخری اور مکمل سورج گرہن ہے تاہم ماہرین فلکیات کے مطابق اس سورج گرہن کو رنگ آف فائر کا نام اس لیے دیا گیا کیونکہ اس دوران چاند سورج کو اپنے پیچھے مکمل چھپا نہیں سکےگا جبکہ اس لیے سورج کا بیرونی حصہ ایسے دکھائی دے گا جیسے کوئی آگ کا چھلا ہو۔
    پاکستان مغرب کے دباؤ میں ہے. مولانا فضل الرحمان
    ویویک اوبرائے کے ساتھ کروڑوں کا فراڈ
    بھارت کی دوسری وکٹ بھی گرگئی

    اس رات چاند گرہن نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟
    عالمی ادارے کے مطابق کولمبس کی یہ حرکت کام کر گئی ہے۔ خوفزدہ مقامی لوگوں نے ان کی مخالفت بند کر دیا اور پھر سے انھیں کھانا فراہم کرنا شروع کر دیا۔ کولمبس نے کہا کہ وہ ایک کام کریں گے جس سے ان سب کو ‘معافی’ مل جائے گی جبکہ آج کے نظریے سے دیکھیں تو یہ ایک پریشان کن کہانی ہے کیونکہ مقامی لوگوں کو لوٹ مار کرنے والے یورپیوں کو روکنے کا پورا حق تھا اور یہ کہ ان کی جانب سے سائنسی علم اور جعلی دھمکیوں کو اپنا راستہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنا شاید ہی اخلاقا درست تھا۔

  • جی میل نے نیا فیچر متعارف کروا دیا

    جی میل نے نیا فیچر متعارف کروا دیا

    فیس بک، انسٹاگرام، واٹس ایپ اور متعدد دیگر ایپس میں پوسٹس پر ایموجیز کے ذریعے ری ایکشن ظاہر کرنا ممکن ہے جبکہ اب آپ گوگل کی مقبول ترین ای میل سروس جی میل پر بھی ایموجی ری ایکشنز کا استعمال کر سکیں گے، گوگل سپورٹ سائٹ پر جاری ایک بیان کے مطابق یہ نیا فیچر پہلے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے متعارف کرایا جا رہا ہے۔

    اس کے بعد آئندہ چند ماہ میں ویب اور آئی او ایس صارفین کے لیے بھی اس فیچر کو متعارف کرایا جائے گا، مگر ای میل پر ایموجی ری ایکشنز کا استعمال اتنا سادہ نہیں جتنا فیس بک یا دیگر ایپس میں ہوتا ہے اور کچھ افراد کو تو ایموجی ری ایکشن ایک الگ ای میل میں نظر آئے گا جس پر لکھا ہوگا کہ کسی فرد نے جی میل پر آپ کی ای میل پر ری ایکٹ کیا ہے۔

    تاہم ایسا جی میل کے پرانے وژن استعمال کرنے والے صارفین کے ساتھ ہوگا جبکہ کسی اور ای میل پروگرام جیسے آؤٹ لک اور یاہو صارفین کے ساتھ بھی ایسا ہوگا، کمپنی کے مطابق ایموجی ری ایکشن کو ہمیشہ استعمال کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اگر آپ کسی دفتری اکاؤنٹ کو اسعمال کرتے ہوئے 20 سے زائد ایڈریسز پر کوئی ای میل بھیجیں گے تو اس پر ایموجی ری ایکشنز کا استعمال ممکن نہیں ہوگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اردو یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر عہدے سے فارغ
    استحکام پاکستان پارٹی کی رجسٹریشن کا نوٹیفکیشن جاری
    الیکٹرک موٹر سائیکل بنانے کے لیے 31 کمپنیوں کو لائسنس جاری
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    بریسٹ کینسر …… لوگ کیا کہیں گے۔۔؟ (محمد نورالہدیٰ)
    اگر پاکستان سے سپورٹر بھی یہاں ہوتے تو اور اچھا لگتا، بابراعظم

    جبکہ اس کو استعمال کرنے کا طریقہ کار بہت آسان ہے، اگر یہ فیچر آپ کے اینڈرائیڈ فون میں دستیاب ہو تو ای میل اوپن کرنے پر اس کے نیچے ایڈ ایموجی ری ایکشن کا آپشن نظر آئے گا اور اس آپشن کے ساتھ ایموجیز کی لسٹ ہوگی جس میں سے اپنی پسند کے ایموجی کو سلیکٹ کریں جو ای میل کے نیچے نظر آئے گا، اگر آپ نے کسی غلط ایموجی کو سلیکٹ کرلیا ہے تو اسے ہٹا بھی سکتے ہیں مگر اس کے لیے 5 سے 30 سیکنڈ کے اندر اسے ان ڈو (undo) کرنا ہوگا۔

  • دنیا میں اپنی نوعیت کے صرف چار میں سے ایک بچہ

    دنیا میں اپنی نوعیت کے صرف چار میں سے ایک بچہ

    نکاراگوا کے تھامس بیلٹ چڑیا گھر میں نایاب اور پوما نے ایک منفرد البینو بچے کو جنم دیا ہے۔جو دنیا میں اپنی نوعیت کے صرف چار میں سے ایک ہے جبکہ اپنی آنکھوں اور تیز کانوں میں احتیاط کے ساتھ ماں پوما اپنے ایک ماہ کے بچوں کی نگرانی کرتی ہے۔ بچے کی پیدائش نکاراگوا کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے جس نے اس کے افتتاحی قید میں پیدا ہونے والے البینو پوما کو متعارف کرایا۔

    چڑیا گھر کے جانوروں کے ڈاکٹر کارلوس مولینا نے اس واقع کی نایابیت کی نشاندہی کی ہے جن کا خیال ہے کہ پوری دنیا میں ایسے صرف چار البینو پوما موجود ہیں۔ علاوہ ازیں بچے کی موجودہ جوش و خروش اور مضبوط بھوک کے باوجودمولینا اس اہم مرحلے کے بارے میں خبردار کرتی ہے اور اس بہترین دیکھ بھال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ البینو پوما سورج کی روشنی کے لیے اپنی زیادہ حساسیت کی وجہ سے مانگتے ہیں۔

    واضح رہے کہ بچے اور اس کے دو ساتھی بہن بھائیوں کی حفاظت اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تینوں ایک بند رہائش گاہ میں رہتے ہیں۔ تاہم یہ جان بوجھ کر کیا گیا اقدام ماں کو اپنے نوزائیدہ بچوں کے لیے تکلیف سے گزرنے یا انسانی خوشبوؤں کو غلط سمجھنے سے روکتا ہےایسا منظر جو نادانستہ طور پر جارحانہ رویے کو متحرک کر سکتا ہے۔

    مزید یہ کہ مرد والدین کو الگ رکھا جاتا ہے کیونکہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ نر پوما اپنے بچوں کے لیے خطرہ ہیں۔ کوڑے کی جنس نامعلوم رہتی ہے اور جانوروں کا ڈاکٹر براہ راست جسمانی تعامل سے پرہیز کرتا ہے۔ تاہم چڑیا گھر تین ماہ کی دہلیز کے قریب حیرت انگیز طور پر ان کو عوام سے متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تھامس بیلٹ چڑیا گھ، مخلصانہ انتظام کے تحت عام طور پر 50,000 سے 60,000 زائرین کی سالانہ حاضری کو راغب کرتا ہے۔

    خیال رہے کہ جنوبی پیرو کے بلند و بالا اینڈین سے لے کر وسطی امریکہ کے متحرک جنگلوں تک پھیلے ہوئے امریکہ میں پائے جانے والے پوماس کو بین الاقوامی یونین فار کنزرویشن آف نیچر نے مغربی نصف کرہ میں زمینی ممالیہ جانوروں کے درمیان ان کی وسیع علاقائی رسائی کے لیے سراہا ہے۔ اس کے باوجود یورپی نوآبادیات کے دور کے بعد شمالی امریکہ کے مشرقی نصف حصے میں ان کی موجودگی ختم ہو گئی۔

  • آئندہ برس بھارت دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہوگا:پاکستان کی آبادی دنیا کی آبادی کا 3 فیصد ہے

    آئندہ برس بھارت دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہوگا:پاکستان کی آبادی دنیا کی آبادی کا 3 فیصد ہے

    جنیوا:اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی آبادی 8ارب سے بڑھ گئی ہے، آئندہ سال بھارت چین کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کا سب سے زیادہ آبای والا ملک بن جائے گا۔

    پاکستان کی آبادی دنیا کی آبادی کا تین فیصد ہے اور یہاں شرح پیدائش 3.6 فیصد ہے، پاکستان ان 8 ملکوں میں سے ایک ہے جہاں 2050 تک دنیا کی آبادی کا نصف سے زیادہ حصہ موجود ہوگا۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی آبادی 8 ارب تک پہنچنے کو انسانی ترقی کی راہ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا گیا ہے، 2030 تک دنیا کی آبادی ساڑھے 8 ارب ہو جانے کا امکان ہے جبکہ آبادی 2050میں 9.7 ارب اور2100 میں 10.4ارب ہوجائے گی، عالمی آبادی کی موجودہ تعداد 1950 میں 2.5 ارب عالمی آبادی کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہے۔

    یو این رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 1950 کے بعد سے دنیا کی آبادی سست ترین شرح سے بڑھ رہی ہے جبکہ 2020 میں آبادی کے اضافے کی شرح میں ایک فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔

    اعدادو شمار کے مطابق عالمی آبادی کو 7 ارب سے 8ارب ہونے میں 12سال لگے۔ تاہم آبادی میں اضافے کی شرح میں کمی کے باعث آبادی کو 8 سے 9 ارب ہونے میں 15سال لگیں گے۔

    اندازے کے مطابق 2037 میں دنیا کی آبادی 9ارب ہو جائے گی۔ دنیا کی 8 ارب آبادی کا نصف حصہ ایشیا میں ہے۔ ایشیائی ممالک چین اور بھارت سب سے زیادہ آبادی والے ممالک ہیں۔ دونوں کی آبادی 1.4 ارب سے زیادہ ہے۔

    1426ملین آبادی کے ساتھ چین دنیا کی سب سے بڑی آبادی والا ملک ہے۔ جبکہ بھارت کی آبادی اس سے صرف تھوڑی سے کم 1412ملین ہے، تاہم چین کی آبادی میں اضافے کی شرح بہت کم ہوچکی ہے جس کے باعث 2023 میں بھارت چین کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا۔

    اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کی برانچ چیف ریچل سنو نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ 1960 کی دہائی کے اوائل میں اپنے عروج کے بعد دنیا کی آبادی میں اضافے کی شرح میں ڈرامائی طور پر کمی واقع ہوئی، شرح فرٹیلیٹی میں مسلسل کمی کی وجہ سے 2050 تک یہ تعداد ممکنہ طور پر 0.5 فیصد تک گر سکتی ہے۔

  • آج دنیا بھر میں باپ سے اظہار محبت  کا عالمی دن منایا جارہا ہے

    آج دنیا بھر میں باپ سے اظہار محبت کا عالمی دن منایا جارہا ہے

    آج باپ سے اظہار محبت کا عالمی دن دنیا بھر سمیت پاکستان میں بھی منایا جارہا ہے۔ فادر ڈے یعنی باپ سے اظہار محبت کاعالمی دن ہر سال انیس جون کو منایا جاتا ہے۔

    ماہر تعلیم اور سماجی کارکن ضیاءالدین یوسف زئی نے اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ: "میری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ اپنے بیٹوں کے ساتھ مختلف انداز میں کس طرح تعلق قائم رکھا جانا چاہئے۔ کیونکہ ہربچہ مختلف ہوتا ہے اور ہر دن آپ کچھ نیا سیکھتے ہیں کےاپنے بچوں کیلئے کیسے ایک بہترین والدین بن سکتے ہیں۔”

    پاکستانی کرکٹر شاداب خان نے باپ سے اظہار محبت کرتے ہوئےلکھاکہ: آج میں جو کچھ ہوں وہ اپنے والد کی وجہ سے ہوں۔ انہوں نے ہمارے خواب کو پروان چڑھانے کیلئے اپنی خواہشات کی قربانی دی۔ اللہ میرے والد کو اچھی صحت دے ۔ ہم اپنے باپ کے بغیر کچھ بھی نہیں ہیں۔


    مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز شریف لکھتی ہیں کہ: "آپ کی چھوٹی بچی آپ کے کندھوں پر بیٹھنے سے لے کر آپ کے کارکن کے طور پر آپ کے ساتھ کھڑے ہونے تک، یہ ایک ایسا سفر ہے جس کے علاوہ میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔ میری دعا ہے اللہ آپ کو صحت اور لمبی عمر عطا فرمائے۔ آپ کے ملک کو آپ کی ضرورت ہے، مجھے آپ کی ضرورت ہے۔”


    وزیرخارجہ بلاول بھٹوزرداری کا ایک پیغام میں کہنا تھا کہ: میرے عقل مند، صابر اور بہادر والدآصف علی زرداری کو فادر ڈے مبارک ہو، جنہوں نے سی پیک کی بنیاد رکھی، بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کاآغازکیااور شہید ذولفقارعلی بھٹوکےبعد اپنی مدت پوری کرنےوالےپہلے سویلین صدر اور 1973 کاآئین بحال کیا۔ ابھی بہت کچھ کرناہے۔ اور کوئی آمر، جیل اور ظلم و اذیت انکی مسکراہٹ نہیں چھیں سکے۔

  • روس کا دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں تیار کرنے کا بڑا اعلان

    روس کا دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں تیار کرنے کا بڑا اعلان

    ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پوتن نے قوم سے پیغام میں اعلان کیا ہے کہ "اب ہم دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں پیدا کریں گے اور ہم ہر چیز کا متبادل بنائیں گے اورہرچیز کو متبادل بنائیں گے تاکہ دنیا کو بہترین اور معیاری چیزیں دستیاب ہوسکیں "۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایک اہم سیشن سے خطاب کرتے ہوئے بڑا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ روس اب دنیا کی ہر چیز اپنے ملک میں تیار کرے کا فیصلہ کرچکا ہے ، جس پربہت جلد عمل ہوگا

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے SPIEF 2022 کے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ روس اب ان مغربی کمپنیوں کے ذریعے مطلوبہ سامان تیار کرنا سیکھے گا جو روس چھوڑ کر چلی گئی ہیں یا دوسرے ممالک کی کمپنیاں انھیں ایسی مصنوعات فراہم کرتی تھیں۔

    ولادیمیر پیوٹن نے مزید کہا کہ روس چھوڑنے والی مغربی کمپنیوں کے بجائے دوسری کمپنیاں پہلے ہی جگہ بنانے روس کا رُخ کررہی ہیں‌۔ ہم صنعتی استعمال کے لیے پینٹ اور دیگر اشیائے خوردونوش اور آلات بھی تیار کرنا شروع کر رہے ہیں۔

    روسی صدر کے مطابق ہم وہ سب کچھ کر سکتے ہیں جو دنیا کر سکتی ہے اور مجھے اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس کو نئی بنیادوں پر پیداوار کی طرف بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے جو پرانی ٹیکنالوجیز سے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہیں۔

  • ہائے یہ آئین شکنی۔:حق سچ (علی عمران شاھین)

    ہائے یہ آئین شکنی۔:حق سچ (علی عمران شاھین)

    پاکستان کے قانون کے تحت آئین شکنی یا آئین کی خلاف ورزی کی سزا موت ہے اور آج کل ہماری اپوزیشن یہی آئین شکنی کا الزام لے کر عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ )چلی گئی ہے کہ تحریک عدم اعتماد پر آئین کے مطابق اجلاس نہیں بلایا گیا ۔۔۔۔۔۔

    لیکن دوسری طرف

    اسی اپوزیشن اور تمام حکومتی و حزب اختلاف کے اراکین اسمبلی کو اسی آئین میں لکھی یہ شق کبھی نظر نہیں آئی کہ پاکستان میں کوئی قانون خلاف شریعت نہیں بن سکتا ،اس کے باوجود انہی اسمبلیوں میں کتنے غیر شرعی قوانین بن جاتے ہیں اور کوئی نہیں بولتا بلکہ لگ بھگ سبھی اس میں حصہ دار ہوتے ہیں۔۔

    اسی 1973آئین میں لکھا گیا تھا کہ اردو کو بطور واحد سرکاری و قومی زبان 15 سال میں مکمل لاگو اور رائج کیاجائے گا، اس پر آئین سے ہٹ کر قائد اعظم اور سپریم کورٹ کے صریح فیصلے اور حکم بھی موجود ہیں لیکن کوئی رکن پارلیمان یا سیاست دان اس آئین و قانون شکنی پر کبھی نہیں بولتا۔

    ملک سے سود کا فوری خاتمہ شریعت ،آئین اور ہمارے آئینی ادارے وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ ہے لیکن یہی سیاست دان اس پر بھی نہیں بولتے جو کہ قرآن کے الہی الفاظ میں اللہ اور رسول ص سے جنگ کے مترادف ہے۔

    حق سچ یہ ہے کہ ہمارے سب لوگوں اور سب اداروں کو صرف اپنی مرضی کے مطابق آئین شکنی یا قانون شکنی نظر آتی اور اس حمام میں سب ننگے ہیں

  • دنیا کے 139 مہنگے ممالک میں پاکستان آخری نمبر پر ہے،شوکت ترین

    دنیا کے 139 مہنگے ممالک میں پاکستان آخری نمبر پر ہے،شوکت ترین

    اسلام آباد: وزیر خزانہ شوکت ترین نے دنیا کے 139 مہنگے ممالک میں سے پاکستان کو سب سے آخری یعنی 139ویں نمبر پر قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹئوٹ میں ایک اسکرین شاٹ شئیر جس میں مہنگائی کے اعتبار سے 139 ممالک کے نام دیئے گئے ہیں اور اس میں پاکستان کا سب سے آخری 139واں نمبر ہے۔

    ہماری معیشت درست سمت میں ہے لیکن ملک میں اشیا کی قیمتیں یکساں ہونی چاہئیں،وزیراعظم

    https://twitter.com/shaukat_tarin/status/1495274739991867401?s=20&t=KG2S88QG7oWIEQ_rKejegQ
    فہرست میں برمودا، سوئزرلینڈ اور ناروے کو بالترتیب مہنگے ترین ممالک قرار دیا گیا ہے جب کہ بھارت 138 ویں، افغانستان 137 ویں، نیپال 136 ویں اور سری لنکا 135 ویں نمبر پر ہیں۔ اس فہرست میں چین 84 اور ایران 87 نمبر پر ہیں۔

    وزیراعظم اور خاتون اول میں علیحدگی کی خبریں، حقیقت سامنے آ گئی

    قبل ازیں وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا تھا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کے پروگرام سے نکلنا ہوگا، اداروں سے بار بار قرضے نہیں مانگ سکتے پاکستان میں بڑے ہنرمند لوگ ہیں، پاکستانی عوام دنیا کی بہترین قوم ہے 38 ملین میں سے صرف2 ملین گھرانے ٹیکس ادا کرتے ہیں، ہمارے پاس اب ڈیٹا آ گیا ہے سب کو ٹیکس دینا پڑے گا، ہم نے قواعد سوچ سمجھ کر بنائے ہیں، تاجروں کی شکایات کا نوٹس لیا ہے،ازالہ کریں گے۔

    بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

    شوکت ترین نے کہا تھا کہ کاروبارکیلئے یکساں مواقع تمام پاکستانی شہریوں کا حق ہے، ہمارے پاس ڈیٹا آ گیا ہے جو ٹیکس نہیں دیتے ان کے پاس جائیں گے۔ جو لوگ ٹیکس نیٹ میں نہیں انہیں ٹیکس نیٹ میں آنا چاہیے ہم نے زراعت، آئی ٹی، ہاؤسنگ، تجارت پرتوجہ دینی ہے، مستحکم گروتھ ہو گی تو نچلے طبقے کیلئے آسانیاں پیدا کریں گے پاکستان کی معیشت صحیح سمت میں جا رہی ہے، پیٹرول سے ہم نے تمام ٹیکس ہٹادیئے ہیں۔

    پیٹرول مہنگا ہونے کے اثرات ،28 اشیائے ضروریہ مہنگی ہو گئیں

  • پاکستان:کورونا نے مزید 30 زندگیاں نگل لیں، 8183 کیسز رپورٹ:دنیا بھرمیں 65 لاکھ سے زائد افراد جانبحق

    پاکستان:کورونا نے مزید 30 زندگیاں نگل لیں، 8183 کیسز رپورٹ:دنیا بھرمیں 65 لاکھ سے زائد افراد جانبحق

    پاکستان میں عالمی وبا کورونا کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 30 افراد انتقال کر گئے اور 8183 نئے مریض بھی سامنے آئے۔

    پاکستان میں کورونا کے اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ (covid.gov.pk) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں کورونا کے 68624 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 8183 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ وائرس سے مزید 30 افراد انتقال کر گئے۔

    سرکاری پورٹل کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 11.92 فیصد رہی۔

    این سی او سی کے اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 29192 ہو چکی ہے جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 14 لاکھ 2 ہزار 70 تک پہنچ چکی ہے۔

    اس کے علاوہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1786 افراد کورونا سے صحتیاب بھی ہوئے جس کے بعد ملک میں وبا سے شفایاب ہونے والے افراد کی تعداد 12 لاکھ 74 ہزار 657 ہو گئی ہے۔

    اس سے پہلے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) برائے تدارک کورونا نے کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد اور عائد شدہ پابندیوں میں 15 فروری تک توسیع کردی۔ کورونا مثبت کیسز کی 10 فیصد یا اس سے زائد شرح والےعلاقوں میں پابندیاں برقراررہیں گی۔

    ملک میں بڑھتے کورونا کیسز کے باعث پہلے سے عائد پابندیوں میں 15 فروری تک توسیع کردی گئی ہے جو پہلے 31 جنوری تک تھی۔ 10 فیصد سے زیادہ کورونا مثبت شرح والے شہروں میں اِن ڈور تقریبات ، ڈائن ان پر پابندی 15 فروری تک برقرار رہے گی ۔

    اندرون ملک فضائی سفرکےدوران کھانے اور اسنیکس کی فراہمی پر بھی پرمکمل پابندی ہوگی۔

    تعلیمی سرگرمیاں محدود کرنے اور 12 سال سے کم عمر بچوں کو متبادل دن اسکول بھیجنے کی شرط میں بھی 15 فروری تک توسیع کردی گئی ہے۔

    10 فیصد سے کم مثبت کیسز والے شہروں میں ان ڈور تقریبات میں 300 ویکسین شدہ افراد شرکت کر سکیں گے جبکہ آؤٹ ڈور تقریبات میں 500 ویکسین شدہ افراد کو شرکت کی اجازت ہو گی۔

    یاد رہے کہ دنیا بھر میں دنیا بھر میں کرونا سے متاثرین کی تعداد364,661,000ہو چکی ہےجبکہ دنیا بھر میں اموات کی تعداد :5,649,128صحت مند افراد کی تعداد 288,477,521ہوچکی ہے جکہ ، امریکہ میں متاثرین کی تعداد 74,176,403.,,چین متاثرین105,811,،،،برطانیہ 16,245,474,,