Baaghi TV

Tag: دنیا نیوز

  • ایاز امیر پر تشدد :حقیقت کچھ اور :باغی ٹی وی سچ سامنے لے آیا

    ایاز امیر پر تشدد :حقیقت کچھ اور :باغی ٹی وی سچ سامنے لے آیا

    لاہور:باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تجزیہ کار ایاز امیر پر لاہور میں ہونے والے حملے کی اصل حقیقت سامنے آ گئی۔ ایاز امیر کی گاڑی کو کسی گاڑی نے ٹکر نہیں ماری بلکہ ایاز امیر کی گاڑی نے دوسری گاڑی کو ٹکر ماری۔ باخبر ذرائع کے مطابق ایاز امیر کی گاڑی نے دوسری گاڑی کو ٹکر ماری تو اس گاڑی میں سوار افراد نے ایاز امیر پر تشدد کیا ۔ واقعہ کے بعد پولیس موقع پر پہنچ گئی ایاز امیر کا مقامی ہسپتال میں طبی معائنہ کروایا گیا

    ایاز امیر نے گزشتہ روز اسلام آباد میں ایک سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان کے سامنے بیٹھ کر عمران خان کی پالیسیوں پر ہی تنقید کی تھی جس کی وجہ سے گذشتہ روز سے تحریک انصاف کے کارکنان میں غصہ پایا جا رہا تھا ۔ تحریک انصاف کے کارکنان نے غصے کا اظہار سوشل میڈیا پر کیا تھا

    ایاز امیر دنیا ٹی وی سے پروگرام ختم ہونے کے بعد آواری ہوٹل جا رہے تھے تب یہ واقعہ پیش آیا اور اب اس معاملے کو میڈیا پر غلط رنگ دیا جا رہا ہے میڈیا میں کہا جا رہا ہے کہ ایاز امیر کہ گاڑی کو ہٹ کیا گیا پھر تشدد کیا گیا حالانکہ حقیقت اسکے برعکس ہے ایاز امیر کی گاڑی نے ایک کلٹس گاڑی کو ٹکر ماری جس کے بعد اس گاڑی میں سوار افراد نے تشدد کیا ۔

     

    ایاز امیر پر تشدد کا وزیراعظم شہباز شریف ۔وزیراعلی پنجاب وزیر داخلہ نے نوٹس لیا ہے اور ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ عطا تارڑ نے بھی واقعہ کے بعد ایاز امیر سے ملاقات کی ہے

    ٹویٹر پر صارف احمد منصور نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‏عمران خان کو جس طرح کے "صحافیوں” کو سننے کی عادت پڑ گئی ہے وہاں ایاز امیر کی "بیانیہ” برباد کرنے والی تقریر کیسے ہضم ہو سکتی تھی۔۔۔

     

    سید عمران شفقت نے بھی ٹویٹر پر ایاز امیر پر تشدد کے حوالہ سے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں پی ٹی آئی کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح دیگر صارفین نے بھی اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ایاز امیر پر تشدد کے پیچھے پی ٹی آئی ہو سکتی ہے کیونکہ پی ٹی آئی میں عدم برداشت ختم ہو چکی ہے اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان خود عدم برداشت کی تلقین اپنے خطابات میں کرتے رہے ہیں عمران خان کا ایک خطاب میں کہنا تھا کہ جو پارٹی چھوڑ کر گئے ہیں وہ گھروں سے باہر نکل کر تو دکھائیں۔ انہوں نے کارکنان کو ہدایت کی تھی کہ پارٹی چھوڑنے والوں کو سبق سکھانا ہے

  • سوشل میڈیا مہم کیس: گرفتاری وارنٹ کی خبر پر بے بنیاد ہے، لینا غنی نجی خبر رساں ادارے پر برس پڑیں

    سوشل میڈیا مہم کیس: گرفتاری وارنٹ کی خبر پر بے بنیاد ہے، لینا غنی نجی خبر رساں ادارے پر برس پڑیں

    حال ہی میں نجی خبر رساں ادارے دنیا نیوز نے دعویٰ کیا تھا کہ علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا مہم کیس میں عدالت نے دنیا نیوز میشا شفیع اور لینا غنی کو آخری موقع دیتے ہوئے گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے ہیں جس کی تردید لینا غنی نے کی ہے-

    باغی ٹی وی : اپنے سوشل میڈیا پیغام میں لینا غنی کا کہنا تھا کہ سچ کہوں تو یہ سب بہت غیر حقیقی لگتا ہے میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن میں ایس اپڈیٹس پوسٹ کعروں گی کہ میں جیل میں نہیں ہوں، کبھی کبھی مجھے اپنی زندگی سے جوڑنا اتنا مشکل ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ اگر میں گرفتار ہو جاتی ہوں تو مجھے نہیں لگتا کہ میرا فون میرے پاس ہو گا اس لیے کال نہ کریں اس کے بجائے پیغام بھیجیں تاکہ میں بعد میں پیغامات پڑھ سکوں –

    لینا غنی نے کہا کہ اس خبر کے بارے میں کیسے پتہ چلا؟اس بارے میں لینا نے بتایا کہ ایک دوست نے پریشان ہو کر مجھے فون کیا کہ کیا میں جیل میں ہوں جب میں نے بتایا کہ میں نہیں ہوں تو اس نے مذاق کیا کہ وہ مجھے جیل میں ملنے کے لیے ٹفن لے کر تیار ہےلیکن مذاق ایک طرف جب میں نے مضمون پڑھا حالانکہ میں جانتی تھی کہ یہ سچ نہیں ہے پھر بھی مجھے بہت دُکھ ہوا-

    لینا غنی کا کہنا تھا کہ جب بھی ایسی خبریں گردش کرتی ہیں تو میں مختلف انداز میں متحرک ہو جاتایہوں۔ ابھی میں خوش ہوں۔ کیونکہ یہ سست صحافت نہیں یہ بدنیتی پر مبنی ہے۔ یہ بُرائی ہے. اس قسم کی صحافت کا ایک ایجنڈا ہوتا ہے۔ اور یہ تقریباً ہمیشہ ایسے لوگوں کے خلاف استعمال ہوتا ہے جو بولتے ہیں۔ میں حیران ہوں کہ کس طرح کوئی نیوز ایجنسی اس حکم کے باوجود غلط رپورٹنگ کر سکتی ہے کہ وارنٹ گرفتاری کے حوالے سے میرے نام کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ ہمیں اس بارے میں بہت کچھ بتاتا ہے کہ انہیں دوسرے کیسز کی تفتیش اور رپورٹ کیسے کرنی چاہیے جو شاید اتنے ہائی پروفائل نہیں ہیں۔

    لینا غنی نے دنیا نیوا ہر طنز کرتے ہوئے کہا کہ کیا کرنا ہے دنیا ٹی وی؟ آپ کی غلچ اور جعلی رپورٹنگ تو دنیا کے کونے کونے تک پہنچ گئی ہے-

    دوسری جانب لاہور کی مقامی عدالت نے گلوکار علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم مہم چلانے کے کیس میں گلوکارہ میشا شفیع کی مستقل حاضری معافی اور پلیٹر مقرر کرنے کی درخواست مسترد کردی مقامی عدالت نے میشا شفیع کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کے فیصلے کو بھی برقرار رکھا-

    علی ظفر کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے کیس کی سماعت لاہور کی ضلع کچہری عدالت میں جوڈیشل مجسٹریٹ غلام مرتضی ورک نے کی، جس دوران دونوں فریقین کے وکلا نے دلائل مکمل کیےعدالت میں میشا شفیع نے درخواست دائر کی تھی کہ انہیں مستقل طور پر حاضری سے استثنیٰ قرار دیا جائے گلوکارہ کے وکیل کی جانب سے دائرہ کردہ درخواست میں کہا گیا تھا کہ میشا شفیع بیرون ملک ہیں، انہیں حاضری سے معافی دی جاٸے اور ان کی جگہ پلیڈر مقرر کرنے کی اجازت دی جائے –

    لاہور کی ضلع کچہری عدالت میں جوڈیشل مجسٹریٹ غلام مرتضی ورک نے تین دن قبل کیس کی سماعت کی تھی، جس کا تحریری فیصلہ جاری کردیا گیا چار صفحات کے جاری کیے گئے تحریری فیصلے میں عدالت نے ملزمان کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے میشا شفیع اور ماہم جاوید کی حاضری معافی اور نمائندہ مقرر کرنے کی درخواست مسترد کی عدم حاضری پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدم حاضری سے ٹرائل متاثر ہو رہا ہے۔

    عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ میشا شفیع نے قانون اور انصاف کے عمل کو مذاق بنایا ہوا ہے اور وہ عدالت کے ساتھ عدالت سے چھپن چھپائی کھیل رہی ہیں۔

    عدالت نے تحریری فیصلہ میں لکھا کہ میشا شفیع اور ماہم جاوید کی عدم حاضری کے باعث ٹرائل بری طرح متاثر ہورہا ہےعدالت نے میشا شفیع اور ماہم جاوید کو آخری موقع دیتے ہوئے ان کے قابل ضمانت گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیےعدالت نے ادکارہ عفت عمر کی حاضری معافی کی درخواست بھی مسترد کی اور اپنے ریمارکس میں لکھا کہ ملزمان نے درخواست میں قانون کے مطابق بات نہیں کی۔

    عدالت نے ملزمان علی گل پیر اور لینا غنی کی چالان سے بری کرنے کی درخواست بھی مسترد کی اور ریمارکس میں لکھا کہ ملزمان کے جس ٹوئٹر اکاؤنٹ سے علی ظفر کے خلاف مہم چلائی گئی وہ آج بھی موجود ہےعدالت نے تحریری حکم نامے میں لکھا کہ علی گل پیر اور لینا غنی نے عدالت میں خود تسلیم کیا کہ انہوں نے ٹوئٹس کیں۔

    عدالت نے گلوکارہ کی درخواست مسترد کردی، ساتھ ہی عدالت نے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کے احکامات کو بھی جاری رکھا عدالت نے ملزمہ کو 19 مارچ کو پچاس ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا-

    عدالت نے 9 فروری کو ہونے والی سماعت کے دوران میشا شفیع اور ماہم جاوید کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور انہیں پچاس ہزار روپے کے ضمانتی مچلکوں کے ساتھ پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔

    گزشتہ سماعت کے دوران ملزمہ عفت عمر، فیضان رضا، حسیم الزمان، فریحہ ایوب، علی گل اور لینا غنی نے حاضری مکمل کروائی تھی اس سے قبل گزشتہ ماہ جنوری میں ہونے والی سماعت میں بھی میشا شفیع پیش نہ ہوسکی تھیں، جس پر عدالت نے ان کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

    مذکورہ کیس میں میشا شفیع نے 21 دسمبر 2021 کو ضمانت کی درخواست دائر کی تھی جب کہ دیگر ملزمان نے بھی حاضری سے مستثنیٰ سے متعلق عدالت سے رجوع کر رکھا تھا علی ظفر کے خلاف تمام ملزمان کی جانب سے سوشل میڈیا پر مہم چلانے کے کیس کا فیصلہ عدالت نے 24 دسمبر 2021 کو محفوظ کرلیا تھا، جسے ممکنہ طور پر عدالت آئندہ ماہ تک سنائے گی۔

    میشا شفیع اور علی گل پیر سمیت دیگر ملزمان کے خلاف گلوکار علی ظفر نے سوشل میڈیا پر بدنام کرنے کی منظم مہم چلانے کا مقدمہ دائر کر رکھا ہے علی ظفر نے اپنے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائے جانے کا مقدمہ ابتدائی طور پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں 2018 میں دائر کروایا تھا، جس کے بعد ایف آئی اے نے تقریبا 2 سال تک تفتیش کی تھی۔

    ایف آئی اے کی جانب سے دو سال تک تفتیش کیے جانے کے بعد وفاقی تحقیقاتی ادارے نے دسمبر 2020 میں اپنی تفتیشی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی تھی عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں گلوکارہ میشا شفیع، اداکارہ عفت عمر، گلوکار علی گل پیر اور حمنہ رضا سمیت 9 افراد کو علی ظفر کے خلاف جھوٹی مہم چلانے کا مجرم قرار دیتے ہوئے عدالت سے ان کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی تھی۔

  • دنیا نیوز کو تالا لگا دیا گیا

    دنیا نیوز کو تالا لگا دیا گیا

    لاہور: دنیا میڈیا گروپ کی طرف سے ملازمین کو جبری برطرف کرنے کے خلا ف پریشان حال بے روزگار صحافی دنیا نیوز کے دفتر کے باہر احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے گئے ،جبری بے روزگار کیے گئے ملازمین نے دنیا نیوز کے مین گیٹ کو تالہ لگا دیا

    ذرائع کے مطابق پریس کلب قائدین کی قیادت کی سربراہی میں رانا عظیم سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے ، سابق صدر لاہور پریس کلب محمد اعظم چوہدری سمیت سیکنڑوں کارکنان کی موجودگی میں‌ صدر ایمرا آصف بٹ اور محمد علی میو نے دنیا ٹی وی کے باہر تالا لگادیا۔مرکزی دروازے پر کامیابی سے دھرنا جاری ہے کسی شخص کو ادارے کے اندر داخل نہیں ہونے دیا جا رہا، مظاہرین پوسٹر لیے دنیا نیوز مالکان کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں‌اور بے روزگار کیے جانے والے صحافیوں کو جلد از جلد بحال کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں

    واضح رہے کہ ایک دن قبل لاہور پریس کلب کی گورننگ باڈی کا ہنگامی اجلاس قائم مقام صدر ذوالفقارعلی مہتو کی صدارت میں ہوا تھا جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ تحریک کے پہلے مرحلے میں دنیا گروپ سے 100 سے زائد صحافیوں اور دیگر ملازمین کی حالیہ برطرفیوں کے خلاف آج (3 ستمبر کو) دنیا گروپ کے صدر دفتر واقع ایبٹ روڈ کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا جس کے لئے پریس کلب سے سہ پہر 3 بجے ریلی پہنچی ہے، ریلی میں مختلف صحافتی تنظیموں کے لوگ شریک ہیں،

  • اے زمین کے خداو شرم کرو ، بچی نے بے بس باپ کی حالت زار بیان کردی ، ویڈیو نے سب کو رلا دیا

    اے زمین کے خداو شرم کرو ، بچی نے بے بس باپ کی حالت زار بیان کردی ، ویڈیو نے سب کو رلا دیا

    لاہور : دنیانیوز کی طرف سے سیکڑوں ورکروں کو جبری برطرف کیے جانے کے اثرات نے گھروں میں صدمے کی کیفیت پیدا کردی ہے ، بے بس ، بے روزگار باپ کی مجبوری کو جس انداز سے ایک ننھی بچی نے بیان کیا سننے والوں کی دلوں کو گہرا زخم دیا

    باغی ٹی وی کے مطابق دنیا نیوز کی طرف سے برطرف کیے جانے والے ایک ورکر کی بیٹی نے اپنے باپ کی بے بسی کو جس انداز سے بیان کیا ہے اسے کوئی درد دل والا شاید سن نہ سکے ، بچی اپنے ابو کے آسودگی والے دنوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتی ہے کہ میرے ابو میرے لیے دودھ ، جوس اور کینڈی بسکٹ لاتے تھے ، اب میرے بابا کے پاس پیسے نہیں ہیں

    https://youtu.be/Msx78FfoiIk

    ننھی بچی ویڈیو میں دنیا نیوز کے مالک میاں عامر محمود سے معصومانہ انداز میں التجا کرتی ہے کہ میاں عامر جی میرے بابا کو نوکری سے ناں نکالو، میرے بابا کے پاس پیسے نہیں اب وہ دودھ نہیں لاتے ، بچی اپنا فیڈر دکھاتے ہوئے کہتی ہے کہ دیکھومیرے فیڈر میں تھوڑا سا دودھ ہے ، میرے بابا کہتے ہیں کہ میرے پاس پیسے نہیں‌ہیں

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو کے بعد صارفین کی طرف سے سخت ردعمل آیا ہے ، بعض صارفین نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اے زمین کے خداو شرم کرو تم رازق بننے کی کوشش کر رہے ہو عذاب الہی سے ڈرو ۔ایک صارف نے کہا کہ اس جیسی کئی معصوم بچیوں اور بچوں کی آہوں اور سسکیوں کا تمہیں جواب دینا ہو گا۔

    دوسری طرف تمام صحافی برادری 3 ستمبر کو بھرپور احتجاج اور لاک ڈاون کیلئے 2 بجے پریس کلب پہنچیں گے ، یاد رہے کہ دنیا نیوز نے سیکڑوں ملازمین کو جبری برطرف کرکے ان کے گھروں کے چولہے بجھادیئے ہیں

  • دنیا میڈیا گروپ سے ورکروں کی جبری برطرفی کی مذمت کرتے ہیں اور جلد بحالی کا مطالبہ بھی  کرتے ہیں ، ایمپرا

    دنیا میڈیا گروپ سے ورکروں کی جبری برطرفی کی مذمت کرتے ہیں اور جلد بحالی کا مطالبہ بھی کرتے ہیں ، ایمپرا

    لاہور : دنیا میڈیا گروپ نے پروڈیوسرز سمیت 134 ورکروں کو نوکریوں سے جبری برطرف کر دیا ہے. یہ بہت تشویش ناک اقدام ہے. ایمپرا ان جبری برطرفیوں کی بھر پور مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ دنیا گروپ ہوش کے ناخن لیں اور ورکرز کا معاشی قتل کرنے سے باز رہے. ہم اپنے ورکرز کے حقوق کیلئے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے.

    دنیانیوز کی آڑ میں ایجوکیشن مافیا سے ائیر کمپنی کے مالک اور لاہور میں دھڑا دھڑ پراپرٹیز بنانے والوں کے خلاف نیب تحقیقات کرے

    ایمپرا کے ترجمان اذان ملک نے ایمپرا کی طرف سے پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا نیوز نے جس طرح غریب ورکروں کو بےروزگار کیا ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے . آذان ملک نے مطالبہ کیا کہ دنیا میڈیا گروپ کے مالک ان بے روزگار صحافیوں کو جلد از جلد بحال کریں تاکہ وہ ان کے خاندان اس تکلیف اور آزمائش سے بچ سکیں

  • دنیانیوز کی آڑ میں ایجوکیشن مافیا سے ائیر کمپنی کے مالک اور لاہور میں دھڑا دھڑ پراپرٹیز بنانے والوں کے خلاف نیب تحقیقات کرے

    دنیانیوز کی آڑ میں ایجوکیشن مافیا سے ائیر کمپنی کے مالک اور لاہور میں دھڑا دھڑ پراپرٹیز بنانے والوں کے خلاف نیب تحقیقات کرے

    لاہور : پاکستان بھر کی تمام نمائندہ صحافتی تنظیموں نے نیب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دنیا نیوز کی آڑ میں ایجوکیشن مافیا سے ائر کمپنی کا مالک بننے والے اور میڈیا کے نام پر متنازعہ پراپرٹی کا کاروبار کرنے کے حوالے سے مشہور میاں عامر محمود اور سرکاری بیورو کریسی میں لوٹ مار کرکے دنیا نیوز چینل کی بیورو کریسی میں آنے والے نوید کاشف کے خلاف تحقیقات کرے .

     

    دنیا والوں کی دنیا ہی اجڑ گئی ، سیکڑوں ملازمین جبری برطرف کرکے گھروں کے چولہے بجھا دیئے

    لاہور پریس کلب سے ذرائع کے مطابق تمام صحافتی تنظیموں کے اجلاس میں فیصلے کے بعد یہ مطالبہ کیا گیا کہ نیب کی ذمہ داری ہے کہ وہ دنیا نیوز کی آڑ میں‌دھندہ کرنے والوں کی جائیدار کا پتہ لگائے کہ اس فیلڈ میں آنے سے پہلے یہ مافیا کیا تھا اور اب اس مافیا نے کتنا لوٹا ،تمام صحافتی تنظیموں نے نیب کے چئیر مین کے نام پیغام میں‌کہا ہے کہ اگر وہ اس مافیا کا احتساب نہیں کریں گے تو پھر یہ احتجاج شدت اختیار کرجائے گا

     

    غریب ورکروں کو بے روزگار کرکے دنیا نیوز نے ظلم کی انتہا کردی ، مذمت کرتے ہیں ، صحافی تنظیموں کا مطالبہ

    ذرائع کے مطاب لاہور پریس کلب میں ہونے والے اجلاس میں اس بات کا انکشاف بھی ہوا ہے کہ میاں عامر اور نوید کاشف نے اپنی سابقہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے میڈیا بحران کا بہانہ بنا کر صحافتی ورکرز کو بلاوجہ تنگ کرنا نہیں چھوڑا ہے میڈیا بحران کا بہانہ بنا کر تیس ہزار روپے سے لیکر ڈیرھ لاکھ روپے تنخواہیں لینے والے سینکڑوں صحافیوں کو جبری طور پر دنیا نیوز چینل اور لاہور نیوز چینل کے ورکرز کو نوکریوں سے فارغ کردیا جبکہ لاکھوں روپے تنخواہیں لینے والے اینکروں اور اپنے رشتہ داروں پر میاں عامر محمود کی دولت کی بارش کردی ہے بتایا گیا ہے

     

     

    صدر ایمرا محمد آصف بٹ نے انکشاف کیا کہ میاں عامر نے کامران شاہد کو 5 کروڑ روپے سے زائد رقم ڈی ایچ اے میں گھر کے لئے قرضے پر دی اور سہیل وڑائچ کے لئے خریدی گی 66 لاکھ روپے کی گاڑی نمبر 9999 بھی کامیران شاہد کو گفٹ کردی اور تو اور ایم ڈی دنیا نیوز کاشف نوید نے اپنے عزیز تسلیم عارف کو اور سٹی گورنمنٹ میں اپنے دوست کے بیٹے زبیر رشید کو لاکھوں روپے کی تنخواہوں پر دنیا نیوز میں رکھ لیا اور جناب نے دنیا نیوز چینل پر شدید مالی بحران کے دوران سوا کروڑ روپے کی نئی گاڑی اور برج کالونی میں 6 کروڑ روپے کا نیا گھر بھی لے لیا

    برطرف اور بے روزگار صحافیوں کی پرواہ نہ کرنے والے اداروں کو ورکرز ایکشن کمیٹی نے کنٹرول میں‌لینے کا فیصلہ کرلیا
    صدر ایمرا محمد آصف بٹ نے کہا کہ تنظیم آئندہ سے روزانہ میاں عامر محمود اور نوید کاشف کے اثاثے اور غیر قانونی کی لسٹ شائع کی جائیں گی اور ایف بی آر ، نیب اور اِنکم ٹیکس والوں کو دی جائیں گی

  • سینئر صحافی منصور ستی کو قتل کی دھمکیاں نوٹس لے لیا گیا

    سینئر صحافی منصور ستی کو قتل کی دھمکیاں نوٹس لے لیا گیا

    راولپنڈی: جرنلسٹ منصور ستی کو دھمکی دینے کا معاملہ,سی پی او راولپنڈی کیپٹن (ر)محمد فیصل رانا نے اس معاملہ پر نوٹس لے لیا۔ سی پی او راولپنڈی نے ایس ایس پی انوسٹی گیشن محمد فیصل کو انکوائری آفیسر مقرر کر دیا۔ سی پی او راولپنڈی نے ایس ایس پی انوسٹی گیشن کو اس معاملہ کی انکوائری کر کے جلد رپورٹ پیش کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔باغی ٹی وی کی تفصیلات کے مطابق چند دن پہلے تھانہ نصیر آباد کے ایس ایچ او نے دنیا نیوز کے رپورٹر منصور ستی کو خبر لگانے پر قتل کرنے کی دھمکی دی, صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملہ پر سخت کارروائی نا کی گئی تو ہم بھر پور احتجاج کریں گے.