Baaghi TV

Tag: دنیا

  • ایسےلگ رہا ہے جیسے دنیا ختم ہونے جارہی ہے:   ماحولیاتی ماہرین نےدنیامیں‌بڑی تباہی کی پیش گوئی کردی

    ایسےلگ رہا ہے جیسے دنیا ختم ہونے جارہی ہے: ماحولیاتی ماہرین نےدنیامیں‌بڑی تباہی کی پیش گوئی کردی

    واشنگٹن :ایسےلگ رہا ہے جیسے دنیا ختم ہونے جارہی ہے:ماحولیاتی ماہرین نے دنیا میں‌بڑی تباہی کی پیش گوئی کر دی ،رپورٹ کے مطاق ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جاری صدی میں دنیا بھر میں سمندری طوفان تباہی مچا سکتے ہیں، موجودہ صدی میں سمندری طوفانوں کی شدت میں اضافہ ہوگا جو دنیا بھر میں بڑی تباہی پھیلائیں گے۔

    ریسرچ اسٹڈی میں یہ پیش گوئی سامنے آئی ہے کہ مستقبل میں سمندری طوفان زمین کے زیادہ حصے پر گھومتے رہیں گے، ماحولیاتی ماہرین کی رپورٹ کے مطابق وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سمندری طوفانوں کی سالانہ تعداد اور شدت میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

     

    ییل یونیورسٹی کی زیر قیادت ایک نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ 21 ویں صدی میں سمندری طوفان اور آندھیاں وسط عرض البلد کے علاقوں میں پھیل جائیں گی، جس میں نیویارک، بوسٹن، بیجنگ اور ٹوکیو جیسے بڑے شہر شامل ہیں، جہاں سمندری طوفان کم آتے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں زیادہ تر سمندری طوفان خطِ استوا اور اس کے نزدیک سمندری علاقوں میں آتے رہے ہیں لیکن اب یہ آہستہ آہستہ شمال اور جنوب کی سمت بڑھنے لگے ہیں۔

    ساحل سے ٹکرانے کے بعد یہ طوفان خشکی پر سینکڑوں کلومیٹر فاصلہ طے کر کے آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں جب کہ ماضی میں وہ خشکی پر بہت کم اتنا آگے تک بڑھ پاتے تھے۔

    خطِ استوا کے علاوہ سمندری طوفانوں کا شمالاً جنوباً بڑھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ شدید گرمی اب صرف خطِ استوا یا اس کے قریبی علاقوں تک محدود نہیں رہی ہے بلکہ ان مقامات تک بھی پہنچ رہی ہے جو خطِ استوا سے دور واقع ہیں اور ’ٹھنڈے علاقے‘ تصور کیے جاتے ہیں۔

     

    نیچر جیو سائنس نامی جریدے میں لکھتے ہوئے اس ریسرچ اسٹڈی کے مصنفین نے کہا کہ ٹراپیکل طوفان (سمندری طوفان اور آندھی) اپنے اپنے نصف کرہ میں شمال اور جنوب کی طرف ہجرت کر سکتے ہیں، کیوں کہ کرہ ارض اینتھروپوجینک گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے نتیجے میں گرم ہوتا جا رہا ہے۔ 2020 کا سب ٹراپیکل طوفان الفا، پہلا سمندری طوفان تھا جو پرتگال میں زمین تک پہنچا، اور اس سال کا سمندری طوفان ہنری، جس نے کنیکٹی کٹ میں تباہی مچائی تھی، ایسے طوفانوں کا مرکز ہو سکتا ہے۔

  • اومیکرون اور ڈیلٹا کی سونامی کاایسا طوفان آنے والاہےکہ دنیاکانظام صحت زمین بوس ہوجائےگا:عالمی ادارہ صحت

    اومیکرون اور ڈیلٹا کی سونامی کاایسا طوفان آنے والاہےکہ دنیاکانظام صحت زمین بوس ہوجائےگا:عالمی ادارہ صحت

    جنیوا:ڈیلٹا اوراومیکرون کی سونامی کا ایسا طوفان آنے والا ہے کہ دنیا کا نظام صحت زمین بوس ہوجائے گا:عالمی ادارہ صحت کی وارننگ ،اڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے دنیا کو کورونا کی وبا پر خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلٹا اور اومیکرون کی مختلف اقسام کا ایسا سونامی آئے گا کہ صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔گیبریئس نے کہا – دنیا کا نظام صحت اسی طرح اپنی صلاحیتوں سے بڑھ کر کام کر رہا ہے۔

    اس کے بعد ڈیلٹا اور اومیکرون جیسے دونوں خطرات انفیکشن کے اعداد و شمار کو ریکارڈ بلندی تک لے جائیں گے۔ اس سے اسپتال میں داخل ہونے اور اموات میں اضافہ ہوگا۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کورونا کے عالمی کیسز کی تعداد میں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    بدھ کے روز امریکہ اور فرانس میں روزانہ کیسز میں ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے۔ میں اومی کرون کے بارے میں بہت فکر مند ہوں، یہ بہت تیزی سے پھیلتا ہے اور یہ ڈیلٹا کے ساتھ پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کی چیف سائنٹسٹ سومیا سوامی ناتھن نے کہا ہے کہ موجودہ ویکسین اومیکرون کے خلاف اب بھی موثر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جسم میں موجود ٹی سیل امیونٹی نئے قسم کا مقابلہ کرنے کے قابل ہے۔ انہوں نے کہا، ‘ایسا لگتا ہے کہ ویکسین اب بھی کارآمد ثابت ہو رہی ہے۔

    تاہم، مختلف ویکسین کا اثر مختلف ہوتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ہنگامی استعمال کی فہرست میں شامل زیادہ تر ویکسین سنگین بیماری کو روکنے اور ڈیلٹا ویرینٹ کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے وبائی امراض کے ماہر مائیک ریان نے بدھ کو کہا کہ کورونا وبا کی ہولناکی اگلے سال ختم ہو سکتی ہے۔ تاہم کورونا وائرس دنیا سے ختم نہیں ہوگا۔اعلی ہنگامی ماہر ریان نے کہا کہ اومی کرون مختلف قسم کے بارے میں کوئی نتیجہ اخذ کرنا بہت جلد ہے۔ اس قسم کے بزرگوں میں پھیلنے کے بعد ہی مزید معلومات سامنے آئیں گی۔

  • میں وبائی امراض کے باربارحملوں میں دنیا کی تباہی دیکھ رہا ہوں:صورتحال بے قابو ہوچکی :بل گیٹس کی وارننگ

    میں وبائی امراض کے باربارحملوں میں دنیا کی تباہی دیکھ رہا ہوں:صورتحال بے قابو ہوچکی :بل گیٹس کی وارننگ

    واشنگٹن:میں وبائی امراض کے باربارحملوں میں دنیا کی تباہی دیکھ رہا ہوں:صورتحال بے قابو ہوچکی :بل گیٹس نے ہاتھ کھڑے کردیئے،اطلاعات کے مطابق کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کئی ممالک میں پھیل چکی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ میں اومیکرون بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔

    اسی وقت، ہندوستان میں بھی اومیکرون کے 200 سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے اومی کرون کے تیزی سے بڑھتے ہوئے کیسز کے درمیان تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    بل گیٹس نے خبردار کیا کہ دنیا وبائی مرض کے بدترین مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے کیونکہ اس قسم کے نتیجے میں اب تک کا بدترین اضافہ ہو سکتا ہے۔ بل گیٹس نے ٹویٹ کیا کہ ان کے بہت سے دوست اس نئے ویریئنٹ سے متاثر پائے جانے کے بعد انہوں نے چھٹیوں کے اپنے بیشتر منصوبے منسوخ کر دیے ہیں۔

    انہوں نے کہا، اومی کرون کسی بھی وائرس سے زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس کے کیسز جلد ہی تمام ممالک میں دیکھے جائیں گے۔ بل گیٹس نے دعویٰ کیا کہ یہ سب سے زیادہ متعدی ہے۔

    انہوں نے لوگوں کوکوڈ۔19 ویکسین کے بوسٹر شاٹس لینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ بہترین تحفظ فراہم کرتی ہے۔ بل گیٹس نے ٹویٹ میں مزید کہا، ‘اس دوران ہم سب کو ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہوگا، خاص طور پر ان لوگوں کا جو زیادہ کمزور یا حساس ہیں۔

    چاہے وہ سڑکوں پر رہتے ہوں یا کسی اور ملک میں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہمیں ماسک پہننے ہوں گے، بڑے واقعات سے گریز کرنا ہوگا اور ویکسین لینا ہوگی۔ بوسٹر کی خوراک لینے سے مزید تحفظ ملے گا۔ بل گیٹس نے مزید کہا کہ اچھی خبر بھی ہے۔

    اومی کرون اتنی تیزی سے حرکت کرتا ہے کہ ایک بار جب یہ کسی ملک پر غلبہ حاصل کر لیتا ہے تو وہاں لہر 3 ماہ سے بھی کم وقت تک چلنی چاہئے۔ وہ چند مہینے خراب ہو سکتے ہیں، لیکن مجھے پھر بھی یقین ہے کہ اگر ہم صحیح اقدامات کریں تو 2022 میں وبا ختم ہو سکتی ہے۔

  • چورلیڈرکے پیچھے دوڑنے والےپوری دنیاکوچورسمجھتے ہیں،پیپلزپارٹی ایم پی اے سعدیہ جاوید

    چورلیڈرکے پیچھے دوڑنے والےپوری دنیاکوچورسمجھتے ہیں،پیپلزپارٹی ایم پی اے سعدیہ جاوید

    پیپلزپارٹی ایم پی اے سعدیہ جاوید کاخرم شیرزمان کے بیان پرردعمل:
    "کاش بدحواس ٹولہ کبھی تعمیری بات بھی کرنا سیکھ لے۔صبح شام پیپلزپارٹی کی قیادت اورسندھ حکومت کوبرابھلا کہنا ان کی عادت بن گئی ہے۔جیسے لیڈرویسے شیرو۔سب چندے پرپلتے ہیں۔ اب توعیاں ہوگیا کہ اسپتال اورفلاحی کاموں کے نام پر ان کے لیڈرنے دنیاسے فراڈ کیا ہے۔ دوسروں کی طرف انگلیاں اٹھانے سے پہلے علیمہ باجی کی سلائی مشین کی کمائی کابتائیں۔ ثابت ہوگیا کہ شوکت خانم نمل اورپی ٹی آئی کے نام سے ملنے والےفنڈزہڑپ کئے گئے۔ چورلیڈرکے پیچھے دوڑنے والےپوری دنیاکوچورسمجھتے ہیں۔ بدحواس ٹولےکوکل کا حیدرآبادجلسہ بھی ناکام دکھائی دیا۔ یہ پوری زندگی میں نہ مونوں کی سیاست کرتے آئے ہیں۔ آج اسلام آبادمیں سرکاری ملازمین پروحشیانہ تشدد شرمناک عمل تھا۔کئی ماہ تک اسلام آباد کویرغمال بنانے والا اب کس منہ سے احتجاج کی مخالفت کرتا ہے۔ قوم نے عمران خان اوراس کےہواریوں کااصل روپ دیکھ لیا ہے اب سب کہتے ہیں ایسی تبدیلی سے توبہ۔”

  • وزیراعظم عمران خان نے دنیا کے ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کی وکالت کی

    وزیراعظم عمران خان نے دنیا کے ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کی وکالت کی

    وزیر جیل خانہ جات پنجاب فیاض الحسن چوہان/یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے پیغام.آجکا دن اپنے ہی گھروں میں محبوس کشمیری عوام کے ساتھ تجدید عہد وفا کا دن ہے۔ 73 سال سے کشمیری عوام اپنے حق خود ارادیت کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر کی تاریک رات اب ختم ہونے کو ہے۔
    آج پوری دنیا بھارت کے غاصبانہ رویے کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ کشمیر میں لگائی گئی آگ اب بھارت کے اندر تک پہنچ چکی ہے۔
    وزیراعظم عمران خان نے دنیا کے ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کی وکالت کی ہے۔
    وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام اپنے تمام انفرادی اور اجتماعی امور اپنی مرضی سے سر انجام دیں گے۔ فیاض الحسن بہ تسلیمات نظامت اعلٰی تعلقات عامہ، حکومت۔
    وزیر جیل خانہ جات پنجاب فیاض الحسن چوہان/یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے پیغام
    آجکا دن اپنے ہی گھروں میں محبوس کشمیری عوام کے ساتھ تجدید عہد وفا کا دن ہے۔ 73 سال سے کشمیری عوام اپنے حق خود ارادیت کی جدوجہد میں مصروف ہے۔
    مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر کی تاریک رات اب ختم ہونے کو ہے۔ آج پوری دنیا بھارت کے غاصبانہ رویے کے خلاف سراپا احتجاج ہے۔ کشمیر میں لگائی گئی آگ اب بھارت کے اندر تک پہنچ چکی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے دنیا کے ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کی وکالت کی ہے۔ وہ دن دور نہیں جب کشمیری عوام اپنے تمام انفرادی اور اجتماعی امور اپنی مرضی سے سر انجام دیں گے۔ فیاض الحسن چوہان

  • مقبوضہ جموں و کشمیرمیں بے گناہ لوگوں کی شہادت پر دنیا خاموش.انسانیت فراموش

    مقبوضہ جموں و کشمیرمیں بے گناہ لوگوں کی شہادت پر دنیا خاموش.انسانیت فراموش

    پوری قوم مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے،وزیراعلیٰ عثمان بزدارکایوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پیغام
    کشمیری عوام اپنے قیمتی لہو سے آزادی کی نئی تاریخ لکھ رہے ہیں،کوئی قوت پاکستانیوں اور کشمیریوں کے لازوال رشتے کو ختم نہیں کرسکتی
     مقبوضہ جموں و کشمیرمیں بے گناہ لوگوں کی شہادت پر دنیا کی خاموشی کا کوئی جواز نہیں، اقوام عالم کو اب خواب غفلت سے بیدار ہونا پڑے گا
    بھارت ریاستی جبر وتشدوکے ذریعے زیادہ دیر تک کشمیریوں کو انکے بنیادی حق سے محروم نہیں رکھ سکتا،بے گناہ شہید کشمیریوں کا خون رنگ لائے گا
    لاہور4فروری:  وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارنے کہاہے کہ پوری قوم مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے-نہتے کشمیریوں کی عظیم جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں -پاکستان اور کشمیر ایک لڑی میں پروے ہوئے ہیں – پاکستانیوں اور کشمیریوں کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں -پاکستان کشمیر اور کشمیر پاکستان کے بغیر نامکمل ہے- کشمیریوں کے ساتھ ہمارا رشتہ محبت، بھائی چارے اوراخوت کا ہے-کشمیری عوام اپنے قیمتی لہو سے آزادی کی نئی تاریخ لکھ رہے ہیں -ہم کل بھی کشمیریوں کے ساتھ کھڑے تھے،آج بھی ساتھ کھڑے ہیں اور کل بھی ساتھ کھڑے رہیں گے- کوئی قوت پاکستانیوں اور کشمیریوں کے لازوال رشتے کو ختم نہیں کرسکتی-وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پراپنے پیغام میں کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیرمیں بے گناہ لوگوں کی شہادت پر دنیا کی خاموشی کا کوئی جواز نہیں – اقوام عالم کو اس سلگتے مسئلے کے حوالے سے خواب غفلت سے بیدار ہونا پڑے گا-بھارت کو ہر ظلم کا حساب دینا ہوگا-بے گناہ شہید کشمیریوں کا خون رنگ لائے گا اور آزادی کشمیر کی صبح ضرور طلوع ہوگی-بھارت ریاستی جبر وتشدوکے ذریعے زیادہ دیر تک کشمیریوں کو ان کے بنیادی حق سے محروم نہیں رکھ سکتا۔ کشمیری عوام اپنی جدوجہد میں تنہا نہیں ہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم ان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام کے ساتھ بھارت کے روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ پاکستانی قوم یوم یکجہتی کشمیر پر مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی اخلاقی،سفارتی اور سیاسی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔

  • بقول سپیکر خیبر پختونخوامشتاق احمد، بین القوامی دنیا خاموش تماشائی- آخر ایسا کیا ہوا ؟

    بقول سپیکر خیبر پختونخوامشتاق احمد، بین القوامی دنیا خاموش تماشائی- آخر ایسا کیا ہوا ؟

    04 فروری 2021
    پشاور ( صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا)
    سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی مشتاق احمد غنی کا یوم یکجہتی کشمیر پر خصوصی پیغام.
    تمام پاکستانیوں کے دل کشمیری بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں. افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کشمیری عوام بھارت کے ظلم و ستم کا شکار ہیں اور بین القوامی دنیا خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے. وزیراعظم عمران خان نےاپنے اس ڈھائی سالہ دور حکومت میں جس جوان مردی کے ساتھ کشمیر کے ایشو کو بین القوامی سطح پر اجاگر کیا وہ اپنی مثال آپ ہے, اور اسی ایشو کی وجہ سے کشمیریوں کے حوصلے بلند ہوئے کہ وزیر اعظم پاکستان بطور کشمیر کے عوام کے سفیر کے طور پر اپنا کردار ادا کررہے ہیں. ہم مودی سرکار کے وحشیانہ مظالم کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور ہر محاذ پر کشمیری بھائیوں کی اخلاقی و سفارتی حمایت جاری رکھینگے اور یہ انشاء اللہ پوری قوم کا عزم ہے.

  • آخر ہم بدنام کیوں نہ ہوتے ۔۔۔ حافط معظم

    آخر ہم بدنام کیوں نہ ہوتے ۔۔۔ حافط معظم

    آج یونیورسٹی میں ایک دوست نے بڑا ہی عجیب سوال کر ڈالا کہ "آج پوری دنیا میں مسلمان اپنا مقام کیوں کھو چکے ہیں، مسلمانوں کو حقارت بھری نظر سے کیوں دیکھا جاتا ہے؟”
    کہنے کو تو یہ ایک عام سا سوال ہے لیکن اس سوال کے پس منظر میں چھپے اسباب بہت ہی کڑوے ہیں، کبھی ہم نے یہ سوچنے کی زحمت کی کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آج ہم اپنا مقام کھو چکے ہیں، دنیائے کفر ہم پر چڑھ دوڑی ہے اور ہم بے بسی اور بے حسی کے تصویر بن چکے ہیں، جو دین آیا ہی غالب ہونے کے لیے تھا آخر اس کے پیروکار بے یارو مددگار کیوں ہو گئے.
    شاید اقبال نے ہمارے لیے ہی کہا تھا

    شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود
    ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں مسلم موجود!
    وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
    یہ مسلماں ہیں! جنہیں دیکھ کر شرمائیں یہود
    یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
    تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو!

    آخر ہم کیوں بدنام نہ ہوتے، ہر وہ کام جس سے ہمیں ہمارا دین اسلام منع کرتا ہے ہم نے اپنے اوپر لازم قرار دے لیا ہے، کہلوانے کو تو ہم سب مسلمان ہیں لیکن کیا ہم میں کوئی ایسی صفت موجود ہے جو ہمیں ایک کامل مسلمان ثابت کرنے کے لیے کافی ہو، اگر آج ہم اپنا محاسبہ کرنے بیٹھیں تو شاید ہی ہم اپنے اندر کوئی ایسی صفت تلاش کر پائیں جو ایک سچے اور کامل مسلمان کا خاصہ ہونی چاہیے، فرقہ واریت کے ناسور نے ہماری جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے، اسلام میں فرقہ پرستی کا کوئی تصور نہیں ہے.
    ارشاد باری تعالیٰ ہے :

    وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا وَلاَ تَفَرَّقُواْ
    ’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو۔‘‘

    آج ہم فرقوں میں اس قدر بٹ چکے ہیں کہ اپنے مسلمان بھائی کو برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہیں، اپنے اپنے فرقوں کے بنائے گئے خود ساختہ خول میں اس قدر گم ہو چکے ہیں کہ نبی مکرم ﷺ کی تعلیمات کو پس پشت ڈال چکے ہیں، غیر اسلامی رسومات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا چکے ہیں.
    یہ دنیا فانی ہے ہر ذی روح نے اس دنیا کو چھوڑ جانا ہے، کیا کبھی ہم نے یہ سوچا کہ قبر میں جب فرشتے ہمارا حساب کتاب کرنے آئیں گے تو کیا وہ ہم سے یہ سوال کریں گے کہ بتا تیرا فرقہ کیا ہے؟ تو کس فرقے کا پیروکار ہے؟
    ہر گز نہیں! فرشتے نے ہم سے یہ سوال کرنے ہیں کہ بتا تیرا رب کون ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تو کیا ہم اس وقت اندھیری قبر میں فرشتے کے ان سوالوں کے جواب دے پائیں گے، جس طرح ہم زندگی کے امتحانات کے لیے بھر پور تیاری کرتے ہیں اسی طرح ہمیں قبر کے امتحان کے لیے بھی تیاری کرنا ہو گی.
    ہمارا اللہ بھی ایک، ہمارا رسول بھی ایک اور ہمارا دین بھی ایک تو پھر آخر ہم منتشر کیوں ہیں.
    ٹرک کی بتی کا پیچھا کرنا چھوڑ دیں حق اور سچ کو تلاش کرنے اور جاننے کی کوشش کریں، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہو جائیں، دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اللہ کے نازل کردہ احکامات کی تعمیل کرنا ہو گی، فرقہ واریت کے ناسور کو ختم کرنا ہو گا، محمد عربی ﷺ کی تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا اوڑھنا بچھونا بنانا ہو گا.
    نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہی ہم اس دنیا میں بھی اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر پائیں گے اور آخرت میں بھی کامیابی سے ہمکنار ہوں گے.
    اللہ تعالٰی ہمارا حامی و ناصر ہو. آمین

  • معاشرے میں بڑھتا بگاڑ، ذمہ دار کون؟؟؟ زین اللہ خٹک

    معاشرے میں بڑھتا بگاڑ، ذمہ دار کون؟؟؟ زین اللہ خٹک

    موجودہ دور میں ہر جگہ بگاڑ ہے۔ عام آدمی سے لیکر اعلیٰ سطح تک ہر جگہ اور ہر کوئی ذاتی فرائض کی انجام دہی کی بجائے دوسروں کے کاموں میں مداخلت کو باعث ثواب سمجھتا ہے۔ کلینک میں ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر صاحب نے خدمت خلق پر ایک گھنٹہ لیکچر دیا۔میں متاثر ہوا ۔لیکن کلینک میں دوسروں کا چمڑا ادھیڑ لی جاتی ہے۔ بے جا ادویات کی لمبی چوڑی فہرست، مختلف ٹیسٹ، اور مخصوص سٹور سے ادویات کی خریداری کی تلقین بھی باعث ثواب سمجھتے ہیں۔ تبلیغ میں دن رات گزارنے کے بعد امیر صاحب ‘دنیاوی’ کمائی کی خاطر ہر چیز کی اضافی قیمت وصول کر رہا تھا۔ استفسار پر بتایا کہ یہی تجارت ہے۔ مولوی صاحب فروٹ فروش ہیں۔ مسجد کے سامنے کھوکھا کھولا ہے۔ خوب دینی اور دنیاوی کمائی کررہے ہیں۔ بازار سے چالیس فیصد زیادہ قیمت پر فروٹ فروخت کرتے ہیں۔ وجہ پوچھی تو کہنے لگے کہ غیر اسلامی ملک میں اس طرح کی تجارت کی اجازت ہے۔ (ان کے بقول پاکستان اسلامی ملک نہیں)۔ تاجر رہنما نے تاجروں کے حقوق پر لیکچر دیا۔جب ٹیکس کی ادائیگی کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے کہ ہمیں پہلے حقوق دیں تب ہم ٹیکس دیں گے۔ مولوی صاحب ہر جمعہ مساوات کا درس دیتے ہیں لیکن بچوں کو قاعدہ پڑھاتے وقت توجہ صرف امیر بچوں کو دیتے ہیں۔ اساتذہ کرام کلاسز میں صرف سیاسی باتیں کرتے ہیں۔ اور کلاس کے آخر میں ٹیوشن سنٹر کا پتہ بتاتے ہیں۔ٹیوشن سنٹرز سے پڑھائی کی صورت میں بہترین رزلٹ جبکہ سکول میں پڑھائی پر بدترین رزلٹ ۔سوزوکی سٹاپ پر سارے ڈرائیورز اور کنڈکٹروں کو ایک سوزوکی میں بیٹھا کر دن کا آغا ز کیا جاتا ہے۔ جب ٹریفک پولیس والے اور لوڈنگ اور غلط سٹاپ پر جرمانہ کریں تو حلال روزی اور محنت کی باتیں۔ اڈے پر اے سی گاڑی میں لگا کر سواریوں سے اے سی کا کرایہ وصول کرکے تین کلومیٹر بعد اے سی بند کرکے نعتوں کی کیسٹ لگا کر سواریوں کی ہمدردیاں سمیٹی جاتی ہیں۔ پرائیویٹ سکولوں میں اساتذہ کو چند ہزار روپے پر رکھ کر سات کلاسز کی پڑھائی کرائی جاتی ہے۔ صبح اسمبلی میں بچوں سے پہلے اساتذہ کی موجودگی لازمی ہوتی ہے۔ اور انھی چند ہزار روپے میں امتحانات میں نقل کی درآمد وبرامد کی ذمہ داری بھی سونپی جاتی ہے۔ المختصر ہر شعبہ زندگی میں بگاڑ پیدا ہوا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام شعبہ ہائے زندگی کو ازسرنو تشکیل دیا جائے۔حقوق وفرائض کی تجدید نو کی جائے۔تاکہ انسانیت کو نئی روح و زندگی دی جائے۔