Baaghi TV

Tag: دوائی

  • وزن کم کرنے کے لئے دوائیوں کا استعمال

    وزن کم کرنے کے لئے دوائیوں کا استعمال

    موٹاپا ایک بیماری، اس سے بچاؤ کے لئے ہر ایک کوشش کرتا ہے
    موٹاپے کے خاتمے کے لئے خوراک ،ورزش کے ساتھ دوائیاں بھی کھائی جاتی ہیں
    سوشل میڈیا پر، بلکہ دیواروں پر بھی اشتہار لگتے ہیں کہ یہ دوا کھائیں اور وزن کم کریں
    جب تک خوراک ، ورزش کا خیال نہیں رکھیں گے وزن کم ہونے کا کوئی امکان نہیں
    پاکستان کو چھوڑیئے امریکہ میں بھی وزن کم کرنے کی جعلی دوائیاں بیچنے کا فراڈ ہو چکا
    کراچی میں بھی ایک وزن کم کرنے کی جعلی دوا فروخت کرنے پر صارف عدالت پہنچ گیا تھا
    وزن کم کرتا ہے تو دواؤں کا سہارا چھوڑیئے، ڈاکٹر کے پاس جائیے اورہدایت پر عمل کیجئے

    موٹاپا ایک بیماری اور اس سے بچاؤ کے لئے ہر ایک کوشش کرتا ہے، کوئی کامیاب ہو پاتا ہے اور کوئی سعی کرتا رہتا ہے، موٹاپے کے خاتمے کے لئے جہاں خوراک ،ورزش کی جاتی ہے وہیں دوائیاں بھی کھائی جاتی ہیں اور وزن کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ،وزن کم کرنے کے لئے سوشل میڈیا پر، بلکہ شہر میں نکلیں تو دیواروں پر بھی اشتہار لگے ہوتے ہیں،چوکوں چوراہوں پر پمفلٹ بانٹے جاتے ہیں کہ یہ دوا کھائیں اور وزن کم کریں،کیا ان دواؤں سے وزن کم ہوتا بھی ہے یا نہیں؟ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ دوائیں جتنی مرضی کھا لیں جب تک خوراک کا خیال نہیں رکھیں گے اور ورزش نہیں کریں گے تب تک وزن کم ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے

    بازاروں میں جائیں،ٹی وی پر ،سوشل میڈیا پر ایڈ دیکھیں جہاں خوشنما دعوے کئے جاتے ہیں کہ اپنے کھانے پر پاؤڈر چھڑک کر وزن کم کریں، بادام کی خوشبو والی کریم اپنی رانوں پر لگائیں اور انہیں پتلا کریں، زبان کے نیچے صرف دو قطرے ڈالیں اور روز وزن کم کریں، یہ دعوے تو بہت اچھے ہیں مگر حقیقت اسکے برعکس ہوتی ہے، پاکستان کو تو چھوڑیئے امریکہ میں بھی ایسا وزن کم کرنے کا فراڈ ہو چکا ، جس کا عدالت میں بھی کیس چلا، دوا بنانے والی چار کمپنیوں کے خلاف امریکی عدالت میں کیس ہوا جن کے اسی طرح کے خوشنما دعوے تھے

    وزن کم کرنے کے لئے ٹوٹکوں کا استعمال بھی کیا جاتا ہے،وزن کیسے کم ہو گا؟ اس حوالہ سے ٹوٹکے، دوائیاں،اگرچہ کچھ اچھی بھی ہو سکتی ہیں تا ہم ورزش اور خوراک ساتھ بہت ضروری ہیں، اگر معالج کے مشورے کے بغیر ہی وزن کم کرنے کی دوائیں خوشنما اشتہار دیکھ کر کھاتے رہیں گے تو اسکا کوئی فائدہ نہیں ہونیوالا،کچھ دوائیں نقصان بھی پہنچا سکتی ہیں، خوشنما دعووں کی بجائے حقیقت کو تسلیم کرنا سیکھیں، جنہوں نے اپنی مصنوعات فروخت کرنی ہوتی وہ بڑے بڑے دعوے کرتے اور اتنے دعوے کرتے کہ انسان ان کے جھوٹ کو بھی سچ مان لیتا ہے اور جب انکی پروڈکٹ استعمال کی جاتی ہے تو اسکا نتیجہ صفر،کیونکہ وہ صرف خوشنما دعوے کر کے اپنی مصنوعات کی فروخت کر رہے ہیں

    اگر کوئی کہے کہ ڈائٹنگ یا ورزش کے بغیر وزن کم کریں، اس دوا کا استعمال کریں اور وزن کم کریں، وزن کم کرنے کے لئے بس یہ ایک گولی کھائیں، تیس دنوں میں دس کلو وزن کم شرطیہ،تو یہ بالکل بھی نہیں ہو گا،اچھی خوراک اور ورزش کے بغیر وزن کم کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے، تیزی سے وزن کم کرنے کی دوائیں صرف دھوکہ ہی ہوتی ہیں،دھوکہ دینے والے جھوٹی کہانیاں سناتے ہیں اور سوشل میڈیا، ویب سائٹس کا سہارا لے کر اپنی دوا بیچ کر صارفین کو لوٹتے ہیں، کبھی کبھار دھوکہ دہی کرنیوالے اپنی دوا فروخت کرنے کے لئے کسی معروف کمپنی کے لوگو کی طرح کا استعمال بھی کریں گے تا کہ اسکی پہچان نہ ہو سکے،وزن کم کرنے کی آن لائن دوا فروخت کرنیوالوں کی یہ بھی ایک چال ہوتی ہے کہ اپنے اشتہارات کے نیچے کمنٹس خود ہی لکھواتے ہیں جس میں لوگ کہتے ہیں کہ ہاں، اس دوا سے انکا وزن کم ہوا، حالانکہ وہ کمنٹ کمپنی کے اپنے بندوں کے اور جھوٹ ہوتے ہیں

    پاکستان کے شہر کراچی میں ایک وزن کم کرنے کی جعلی دوا فروخت کرنے پر صارف عدالت پہنچ گیا تھا ، عدالت نے ڈاکٹر کو جرمانہ بھی کر دیا تھا، کنزیومر کورٹ شرقی میں ڈائٹ پلان خریدنے والے شہری عبد الجبار لغاری نے ڈاکٹر کے خلاف درخواست جمع کروائی ،فہمیدہ ساہیووال کے روبرو ڈائٹ پلان فروخت کرنے والے ڈاکٹر کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی جس کے بعد ڈائٹ پلان فروخت کرنے والی ڈاکٹر ندا کو ڈھائی لاکھ روپے جرمانہ عدالت میں جمع کروانا پڑا۔کنزیومر کورٹ شرقی میں جمع کروائی درخواست کے متن کے مطابق ستمبر 2022 میں عبدالجبار لغاری نے والدہ کیلئے ڈاکٹر سے ڈائٹ پلان خریدا تھا، ڈائٹ پلان کی مکمل رقم 38 ہزار روپے بھی ادا کردی گئی تھی۔درخواست گزار کے مطابق ڈاکٹر نے ایک ماہ میں 10 کلو وزن کم کرنے کی گارنٹی دی تھی، تاہم ڈائٹ پلان سے والدہ کے پیٹ میں تکلیف شروع ہوگئی، شکایت کے باوجود رقم واپس نہیں کی گئی۔درخواست پر فیصلہ آنےکے بعد ڈائٹ پلان خریدنے والے شہری کے کیس میں ڈاکٹر ندا نے ڈھائی لاکھ روپے جرمانے کی رقم عدالت میں جمع کرا دی۔

    وزن کم کرتا ہے تو دواؤں کا سہارا چھوڑیئے، ڈاکٹر کے پاس جائیے اور اس سے وزن کم کرنے کے لئے اپنی خوراک اور ورزش کے بارے میں پوچھئے، ورنہ پچھتاتے رہیں گے اور وزن بھی کم نہیں ہو گا،

    وزن کم کرنے کا آسان نسخہ
    اجزاء:
    لیموں چار عدد
    شہد تین کھانے کے چمچ
    دار چینی دو چائے کے چمچ
    ادرک ایک ٹکڑا
    تازہ سہانجنا ایک سو پچیس گرام

    ترکیب:
    ادرک اور سہنجنا کو بلینڈر میں اچھی طرح پیس لیں اس میں لیموں کا رس شامل کر کے دو سے تین منٹ پھر بلینڈ کریں پھر اس میں سہد اور دار چینی ملا کر دوبارہ بلینڈ کریں اور اس کو نکال کر شیشے کے جار میں محفوظ کر لیں اس کا ایک چمچ دن میں دو بار کھانے سے پہلے استعمال کریں تین ہفتے استعمال کریں پھر کچھ دنوں کے وقفے کے بعد دوبارہ استعمال شروع کریں اس سے نہ صرف وزن کم ہوگا بلکہ اس سے نظر دماغ اور یاداشت بھی تیز ہوگی سہانجنا میں وٹامن چی بی سکس بی ون پوٹاشئیم میگنیشئم اور فاسفورس پایا جاتا ہے اس کی وجہ سے میٹابولزم بھی تیز ہوجاتا ہے اور تھکاوٹ بھی دور ہوتی ہے

    ہر آدھے گھنٹے میں تین منٹ کی چہل قدمی خون میں شوگر کی سطح کو …

    دہی پر کی گئی نئی تحقیق میں دہی کے مزید حیران کن فوائد سامنے آ …

    ڈرپ کی بجائے اینٹی بایوٹکس کھانا زیادہ مفید،تحقیق

    شادی کے بعد جوڑوں کا جسمانی وزن بڑھ جاتا ہے۔

  • ادویات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ،مریض پریشان

    ادویات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ،مریض پریشان

    قصور
    ادویات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ، ایک بار پھر ادوایات مہنگی کر دی گئی، عام ادویات بھی لوگوں کی پہنچ سے دور،لوگ سخت پریشان

    تفصیلات کے مطابق ادوایات کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ ہو چکا ہے کہ عام فرسٹ ایڈ ادویات بھی لوگوں کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں
    چند ماہ قبل گورنمنٹ نے 350 فیصد تک ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا اور اس کے بعد 70 فیصد تک دوبارہ اضافہ کیا افسوس کہ اب ایک بار اب دوبارہ ادویات کی قیمتوں 20 فیصد تک اضافہ کر دیا گیا ہے یعنی کہ رواں سال ہی ادویات کی قیمتوں میں 440 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے جس سے لوگوں کی کمر ٹوٹ کر رہ گئی ہے
    بڑی بیماریوں کے مستقل دوائی کھائے والے مریض اس روز روز کے اضافے سے موت کے قریب ہو گئے ہیں
    شہریوں کا کہنا ہے کہ معلوم نہیں گورنمنٹ کیا کرنا چاہتی ہے

  • فارماسیوٹیکل کمپنیاں بےلگام،گورنمنٹ ناکام،پریشان عوام

    فارماسیوٹیکل کمپنیاں بےلگام،گورنمنٹ ناکام،پریشان عوام

    قصور
    فارماسیوٹیکل کمپنیاں بے لگام،گورنمنٹ کنٹرول کرنے میں مکمل ناکام،پریشان عوام

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ دو سالوں سے مہنگائی کے شروع ہونے والے طوفان نے عوام کو پریشان اور سابق و موجودہ حکمرانوں کو ناکام کر کے رکھ دیا ہے
    جہاں ضروریات زندگی کی ہر چیز بلیک میں فروخت ہو رہی ہے وہیں جان بچانے والی ادویات بھی نایاب ہو چکی ہیں
    نیشنل،ملٹی نیشنل و لوکل فارماسیوٹیکل کمپنیاں بے لگام ہو چکی ہیں جن کو کنٹرول کرنے میں گورنمنٹ بری طرح ناکام نظر آ رہی ہے
    یہ ایک ٹرینڈ بن گیا ہے کہ جب بھی کسی دوائی کا سیزن شروع ہوتا ہے اس سے قبل ہی مارکیٹ سے وہ ادویات غائب کر دی جاتی ہیں اور پھر عوام کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر مہنگے داموں فروخت کی جاتی ہیں
    سردی کے سیزن کی شروعات سے ہی مارکیٹ سے basoquin, chloroquine,melofin, Panadol, و اینٹی کف میڈیسن غائب کر دی گئی تھی جسے اب منہ مانگے داموں پہ بیچا جا رہا ہے
    بی ایم سی و او ٹی سی پراڈکٹس کے علاوہ سرجیکل پراڈکٹس کی بھی قیمتیں بار بار بڑھائی جا رہی ہیں جس سے عوام انتہائی پریشان ہو گئی ہے جبکہ ان کمپنیوں کو لگام ڈالنے میں گورنمنٹ بلکل بھی سنجیدہ نظر نہیں آ رہی
    نیز شہریوں میں آگاہی کی بھی بہت ضرورت ہے کہ ایک ہی فارمولا کی ادویات کئی کمپنیاں بناتی ہیں اگر کوئی کمپنی اپنی پراڈکٹ شارٹ کرتی ہے تو اس کے نعم البدل کمپنی کا فارمولا استعمال کیا جائے ناکہ مطلوبہ کمپنی کی پراڈکٹ بار بار مہنگی خرید کر اس کا ناز نخرہ بڑھایا جائے

  • چینی سائنسدانوں نے کینسرکے علاج کیلئے دوہرا اثر رکھنے والی دوا تیار کر لی۔

    چینی سائنسدانوں نے کینسرکے علاج کیلئے دوہرا اثر رکھنے والی دوا تیار کر لی۔

    بیجنگ :چینی سائنسدانوں نے کینسر کے علاج کیلئے انتہائی مؤثر دوا تیار کرلی ،اطلاعات کے مطابق چینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سائنسدانوں نے کینسر کے علاج کیلئے ایک ہائیڈروجیل تیار کیا ہے جو دھاتی بایو میٹریل پر مبنی ہے اور دیگر خلیوں کو نقصان پہنچائے بغیر ‘ٹیومر’ کو جلا دیتا ہے۔

    سو چاؤ یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ آف فنکشنل نینو اینڈ سافٹ میٹریلز کے سائنسدانوں نے کیلشیم اور مینگنیز آؤنز سے اس ہائیڈرو جیل تیار کیا ہے، جو انسانی جسم کے محدود ہدف شدہ حصے کو زیادہ حرارت دے کر بنیادی ٹیومر کے مکمل خاتمے کو فروغ دیتا ہے، اس عمل کے دوران نزدیکی صحتمند خلیوں کو نقصان نہیں پہنچتا۔

    یونیورسٹی کے ایک مقالے کے مصنفین فینگ لیانگ زو اور لیو ژوانگ کا کہنا ہے کہ یہ طریقۂ علاج ٹیومر کے مکمل خاتمے اور اسے دوبارہ ہونے سے روکنے میں بھی مدد گار ثابت ہوگا۔

    فینگ نے مزید کہا کہ محققین اس طریقۂ علاج کو مریضوں پر استعمال کرنے کیلئے جائزہ لے رہے ہیں۔

    ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ تقریباً 10 لاکھ افراد کینسر کی مختلف اقسام کے باعث زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں، عالمی سطح پر ہر 6 میں سے ایک شخص اس کا شکار ہوتا ہے۔