Baaghi TV

Tag: دوبارہ

  • ڈرامہ سیریل دوبارہ اختتام پذیر ہوگیا

    ڈرامہ سیریل دوبارہ اختتام پذیر ہوگیا

    ڈرامہ سیریل دوبارہ جو شاید اپنی نوعیت کا پہلا ڈرامہ رہا ہے جس کے بارے میں چینل کو دو بار لکھنا پڑا کہ اسکی آخری قسط نشر ہو گی لیکن ایسا نہ ہو سکا بلکہ ڈرامے کی قسطوں کو بڑھایا گیا اور یوں گزشتہ رات اس ڈرامے کی آخر کار آخری قسط نشر ہوگئی ۔ ڈرامے کو شائقین نے بے حد پسند کیا اس کی کہانی معاشرتی رویوں پر سوال اٹھاتی ہے اور دیکھنے والوں کو سبق بھی دیتی ہے کہ ہر کسی کو اسکی زندگی پر حق ہے اسکو اسکی مرضی کے مطابق جینے دیا جائے ۔کہانی میں بتایا گیا کہ کس طر ح سے کم عمر لڑکی کی شادی اس سے دگنی عمر کے آدمی کے ساتھ کر دی جاتی ہے اور یوں اس لڑکی کا

    الٹہر پن ، اسکی تمام خواہشات کہیں دفن ہو کر رہ جاتی ہیں او ر جب اسے اپنی زندگی اپنے مطابق جینے کا موقع ملتا ہے تو وہ رسموں کی تما م زنجیریں توڑ کر آگے نکل جاتی ہے اور سوسائٹی کی پرواہ نہیں کرتی ۔اس کہانی میں یہ بھی دکھایا گیا ہے بعض اوقات جذبات میں آکر کئے گئے فیصلے کل کو پچھتاوے کا باعث بھی بنتے ہیں ۔
    یاد رہے کہ ڈرامے میں مرکزی کردار حدیقہ کیانی اور بلال عباس نے ادا کئے ہیں اس کے علاوہ شبیر جان اورزویاادیب بھی اہم کرداروں میں نظر آئے ۔نعمان اعجاز مہمان اداکار کے طور پر ڈرامے میں دکھائی دئیے۔ڈرامے کی کہانی پر شروع میں بہت اعتراضات کئے گئے لیکن جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی گئی تو وہ اعتراضات بھی ختم ہو تے گئے۔کہانی کی بُنت بہت زبردست ہے کہیں کوئی جھول نظر نہیں آتی ۔

  • ڈرامہ سیریل دوبارہ کی آخری قسط آج نشر ہوگی

    ڈرامہ سیریل دوبارہ کی آخری قسط آج نشر ہوگی

    ہم ٹی وی کا سپرہٹ ڈرامہ سیریل دوبارہ کی آخری قسط آج رات آٹھ بجے نشر ہو گی۔ شائقین نے یہ ڈرامہ اس کی منفرد اور الگ کہانی کی وجہ سے کافی سراہاہے. ڈرامے کی کاسٹ میں حدیقہ کیانی، نعمان اعجاز، اسامہ خان، ذویا ناصر، شبیرجان، سکینہ سموں، جاوید شیخ ،بلال عباس ماہین صدیقی و دیگر مرکزی کرداروں میں نظر آرہے ہیں۔ اس ڈرامے کی کہانی ایک ایسے ایشو کو ڈسکس کرتی ہے جس پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے اور کہانی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کردیتی ہے کہ آخر کیوں عورت اپنی زندگی کے فیصلے نہیں کر سکتی اور اگر اسکا شوہر مر جائے یا اسکو چھوڑ کر چلا جائے تو کیوں وہ اپنی زندگی کو نئے سرے سے شروع نہیں کر سکتی؟.

    حدیقہ کیانی نے مہرو کے کردار کو بہت ہی خوبصورتی سے نبھایا ہے اس طرح کی بہت ساری مہرو ہیں جو ہماری سوسائٹی کی رسموں کو توڑ کر اپنی ندگی اپنی شرائط پر جیتی ہیں لیکن زیادہ تر تو اسی دبائو میں رہتی ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے رشتہ دار کیا کہیں گے۔ سوسائٹی کے ایسے ایشوز پر ڈرامے بننے چاہیں جو دیکھنے والوں کو سوچنے پر مجبور کریں کہ ہم آخر ایسا کیوں کرتے ہیں یا ویسا کیوں کرتے ہیں ۔ بلال عباس نے حدیقہ کیانی کے مقابلے میں جس طرح سے کردار ادا کیا ہے وہ یقینا قابل تحیسن ہے ۔ کہانی کو بے حد خوبصورت انداز میں لکھا گیا ہے جس میں کسی جگہ جھول نہیں ہے اور ڈائریکشن بھی کمال ہے۔ کہانی کے تمام کرداروں نے اپنے کام کے ساتھ انصاف کیا ہے۔

  • ڈرامہ سیریل ”دوبارہ” کی آخری قسط یکم جون کو نشر ہو گی

    ڈرامہ سیریل ”دوبارہ” کی آخری قسط یکم جون کو نشر ہو گی

    دانش نواز کی ڈائریکشن میں‌ بننے والا ڈرامہ سیریل ” دوبارہ” کی آخری قسط یکم جون کو نشر ہوگی،گزشتہ شب ڈرامے کی سیکنڈ لاسٹ‌قسط نشر ہوئی.جب یہ ڈرامہ شروع ہوا تو اس میں حدیقہ کیانی جو کہ مہرو کا کردار ادا کررہی ہیں اس کردار پر خاصی تنقید ہوئی کہا گیا کہ اخلاقیات کا دامن کہانی بنانے والوں نے بالکل چھوڑ‌دیا ہے خاوند کے مرجانے کے بعد جوان بچوں‌ کی ماں کیسے اپنے سے چھوٹے لڑکے سے شادی کے بندھن میں بندھ سکتی ہے اسی طرح سے چھوٹی عمر کے لڑکے کا بڑی عمر کی خاتون سے شادی کرنے کے عمل کو بھی برا بھلا کہا گیا. لیکن کہانی کی ترتیں‌ جیسے جیسے کھلتی گئیں تو ناقدین نے خاموشی اختیار کر لی.بنیادی طور پر یہ کہانی ایسی خاتون کی ہے جس کی شادی کم عمری میں‌ ہی اس کے والدین اس سے کہیں بڑی عمر کے مرد کیساتھ کر دیتے ہیں وہ آدمی عمر میں میچور ہونے کی وجہ سے لڑکپن کی خواہشوں کو پسند نہیں‌ کرتا لہذا وہ کم عمرمہرو پر پابندیاں‌ لگاتا ہے ہنسنے کھیلنے سہیلیوں‌ میں بیٹھنے سے منع کرتا ہے.یوں اس لڑکی کی خواہشیں کہیں دب کر رہ جاتی ہیں لیکن جب شوہر کا انتقال ہوتا ہے تو اسکے دل میں اپنی زندگی جینے کی خواہش جنم لیتی ہے جب وہ اپنی زندگی اپنے طریقے سے جینے کی کوشش کرتی ہے تو اس کے اپنے بچوں اور سوسائٹی و رشتہ داروں‌ کی طرف سے اسے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے.

    اس مزاحمت کا مقابلہ مہرو کیسے کرتی ہے بس یہی چیز اس کہانی میں‌دکھائی گئی ہے اور یہ کہانی ہمیں‌ یہ بھی سبق دیتی ہے کہ ہر انسان کو جینے کا حق ہے اور کسی عورت کا شوہر مرجائے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ وہ جینا چھوڑ‌دے یا سجنا سنورنا اچھا پہننا اوڑھنا چھوڑ دے. حدیقہ کیانی نے مہرو کا کردار بہت ہی خوبصورت انداز میں نبھایا ہے ان کے ساتھ بلال عباس بھی خوب جچے ہیں.سکینہ سموں نے روایتی نند کا جبکہ نعمان اعجاز نے مخصر مگر بہترین کردار ادا کیا .