Baaghi TV

Tag: دودھ

  • دودھ کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

    دودھ کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

    ڈیری اینڈ کیٹل فارمرز ایسوسی ایشن نے فارم گیٹ پر دودھ کی قیمتوں کا تخمینہ جاری کردیا-

    باغی ٹی وی : صدر ڈی سی ایف اے پاکستان کے مطابق فارم گیٹ پر دودھ کی فی لیٹر پیداواری لاگت 177.70 روپیہ اور 17.77 روپیہ نفع کے ساتھ 195 روپیہ فی لیٹر ہے فی لیٹر کرایہ ،ہول سیلرز اور ریٹیلرز کا نفع شامل کرکے 220 روپیہ فی لیٹر ہوگا –

    گندم کی فی من قیمت میں 400 روپے اضافے کا امکان

    دودھ کی نئی قیمتوں کا اعلان 25 فروری کو دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر کیا جائے گا پہلے مرحلے میں 30 روپیہ فی لیٹر اضافہ ہوگا دوسرا اضافہ وقت اور حالات کے مطابق رمضان المبارک کے بعد کیا جائے گا-

    نئی قیمت 1 مارچ سے نافذ العمل ہوگی جوکہ 170 روپیہ فی لیٹر ہوگی قیمتوں میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا اس سال کے آخر تک قیمت 225 روپیہ فی لیٹر تک جاسکتی ہے-

    منسٹری آف کامرس اگر ضروری اجناس کی ایکسپورٹ پر پابندی اور ان پٹس پر سے 17 فیصد سیلز ٹیکس واپس لے تو یہ اضافہ بڑی حد تک کم ہوسکتا ہے-

    ہرجمہوری حکومت کا حق ہےکہ اسے مدت مکمل کرنے دی جائے،چودھری پرویزالٰہی

    واضح رہے کہ پنجاب کابینہ نے گندم کی فی من قیمت 2200 روپے مقرر کرنے کی سفارش وفاق کو ارسال کر دی ہے پنجاب کابینہ کی جانب سے گندم کی فی من قیمت 2200 روپے مقرر کرنے کی سفارش وفاق کو ارسال کی گئی ہے، جس پر اہم ترین وفاقی وزراء کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں گندم کی امدادی قیمت خرید کے حوالے سے وفاقی وزرا کے اختلاف سامنے آئے ہیں-

    وفاقی وزراء کا موقف ہے کہ گندم کی امدادی قیمت خرید گزشتہ سال 1800 روپے فی من مقرر کی گئی تھی، اور اب یکمشت 400 روپے فی من اضافہ کرنے سے آٹا کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ہوگا دوسری جانب پنجاب کابینہ کی جانب سے ارسال کی گئی گندم اسپورٹ پرائس کی سمری اقتصادی رابطہ کمیٹی میں پیش کی جائے گی-

    یکم مارچ سے پھر پیٹرول مہنگا ہونے کا امکان

  • ملاوٹ شد دودھ و دہی کی فروخت جاری

    ملاوٹ شد دودھ و دہی کی فروخت جاری

    قصور
    پتوکی شہر بھر میں ناقص ملاوٹ شدہ دودھ اور دہی کی فروخت جاری دوکاندار انسانی جانوں سے کھیلنے لگے کو ئی پرسان حال نہیں انتظامیہ خواب خرگوش کے مزے لیکر سو رہی ھے عوام کو ظالموں کے سپرد مرنے کیلیے چھوڑ دیا تفصیلات کے مطابق پتو کی شہر بھر میں دکاندار انسانی جانوں سے کھیلنے لگے رات و رات امیر بننے کے چکر میں ملاوٹ شدہ کیمیکل پوڈر والا دودھ ڈرموں میں بھر کر شہر لایا جاتا ہے۔ محلوں اور گلیوں میں من پسند کی قیمت پر فروخت کیا جاتا ہے۔ باہر سے آنے والے ملاوٹ شدہ کیمیکل دودھ کو خالص بتا کر من پسند قیمت میں فروخت کیا جاتاہے۔ شہر بھر میں مضر صحت دودھ کی سپلائی جاری پنجاب فوڈ اتھارٹی پتوکی شہرملاوٹ شدہ دودھ کی سپلائی روکنے میں ناکام پتوکی شہر کو ملاوٹ شدہ دودھ سے کب پاک کیا جائے گا۔ اس کا جواب کسی بھی متعلقہ محکمے کے پاس نہیں شہروں نے پتوکی اسسٹنٹ کمشنر پتوکی اور ڈی سی قصور سے اس ناقص دودھ دہی فروخت کرنے والے ان ظالم لوگو ں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اور انتظامیہ سے خاص طور پر اے سی پتوکی اور ڈی سی قصور سے اپیل کی ھے کہ ہماری ان ظالم ملاوٹ مافیا سے جان خلاصی کرائی جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے

  • اوکاڑہ:موضع اکبر میں زہریلا دہی کھانے سے تین بچوں سمیت دس افراد کی حالت غیر

    اوکاڑہ:موضع اکبر میں زہریلا دہی کھانے سے تین بچوں سمیت دس افراد کی حالت غیر

    اوکاڑہ(علی حسین) اوکاڑہ کے نواحی قصبے موضع اکبر میں زہریلا دہی کھانے سے تین بچوں سمیت 10 افراد جن میں عورتیں بھی شامل ہیں کی حالت غیر ہوگئی ہے، جن کو علاج کے لیے ہسپتال میں ریفر کردیا گیا ہے۔ ضلع بھر میں دودھ اور دہی میں ملاوٹ کا دھندہ عروج پر ہے۔ عوام الناس نے حکام اور محکمہ فوڈ اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ ملاوٹ کرنیوالے اور عوام کی جانوں سے کھیلنے والے پیشہ ور عناصر کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے اور اشیائے خورد و نوش کی کوالٹی کو بہتر بنایا جائے۔

  • دودھ کی قیمتیں نصف

    دودھ کی قیمتیں نصف

    قصور
    شہر اور گردونواح میں دودھ کی مانگ میں کمی کیساتھ ہی قیمتیں نصف کم ہو گئیں لوگ گھر گھر جا کر 50 روپیہ فی لیٹر بیچنے پر مجبور
    تفصیلات کے مطابق لاک ڈاؤن کی بدولت قصور شہر میں دودھ کی مانگ میں نمایا کمی واقع ہوئی ہے لاک ڈاؤن کی بدولت لوگوں کے روزگار بند ہیں جس سے ان کے پاس دودھ خریدنے کے لئے پیسے نہیں اس پیش نظر دکانوں پر دودھ کی فروخت انتہائی کم ہو کر رہ گئی ہے دکاندار گوالوں سے کم دودھ خرید رہے ہیں جس کی بابت گوالے بچے ہوئے دودھ کو قرب و جوار کے گلی محلوں و دیہات میں 50 روپیہ فی لیٹر فروخت کر رہے ہیں یہی دودھ چند دن قبل تک کوئی بھی دکاندار و گوالا 100 روپیہ سے کم فروخت کرنے کو تیار نا تھا مگر اب مجبوری کی بدولت 50 روپیہ فی لیٹر فروخت کرکے دودھ کو مکمل ضائع ہونے سے بچایا جا رہا ہے کیونکہ گائیں بھینسیں تو دودھ دینے سے ناغہ نہیں کرتیں اور نا ہی چارہ کھانے سے کرتیں ہیں

  • دودھ پینے والوں کےلیے بری خبر،دودھ کی فروخت بند کردی جائے گی

    دودھ پینے والوں کےلیے بری خبر،دودھ کی فروخت بند کردی جائے گی

    ساہیوال: دودھ پینے والوں کےلیے بری خبر،دودھ کی فروخت بند کردی جائے گی وزیر اعظم عمران خان کے ویژن اور ہدایات کے مطابق 2022 میں کھلے دودھ کی فروخت بند کر دی جائے گی۔ یہ دعویٰ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے چئیرمین عمر تنویر بٹ نے اینگرو فوڈ پلانٹس کے دورے کے موقع پر ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

    اپنےآپ کو خودکش دھماکے میں اڑانے والے کون تھے ؟

    جس طرح پوری دنیا میں فوڈ اور ڈرگ اتھارٹـیز ایک ساتھ ہوتی ہیں بالکل اسی طرز پر پنجاب میں عمل درآمد کے لیے بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکپتن میں فوڈ اتھارٹی کے اسٹاف پر فائرنگ کا جو واقعہ رونما ہوا ہے اس کے بعد سے دوبارہ کمانڈو سیکورٹی بحال کرنے جارہے ہیں۔

    نیب آرڈینینس میں ترمیم،بڑوں بڑوں کو بی سے سی کلاس

    پنجاب فوڈ اتھارٹی کے چئیرمین عمر تنویر بٹ نے کہا کہ لاہور میں مینڈک فوڈ والی خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی ڈائریکشن نے بھی پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی کو سراہا ہے۔

    ماڈل کورٹس ، زبردست کارکردگی،شاندارانعامات

  • ملاوٹ کا ناسور … نوید شیخ

    ملاوٹ کا ناسور … نوید شیخ

    حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ سلم ہے کہ جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ۔
    کیونکہ ملاوٹ کرنے والا انسانوں کو دھوکہ دیتا ہے اور ایک دھوکہ بار شخص منافق تو ہو سکتا ہے مومن نہیں ۔
    مگر معاشرے میں جہاں دوسری برائیوں کو برائی نہیں سمجھا جاتا وہاں ملاوٹ بھی آجکل کا روبار کا لازم جزو بن چکا ہے ۔ دودھ ۔ گوشت۔ گھی ۔ آٹا۔ دالیں ۔ مرچیں ۔ چائے کی پتی ۔ غرض ہر چیز میں ملاوٹ کرکے انسانی جانوں سے کھیلا جاتا ہے ملاوٹ کے ایسے ایسے گھنآنے طریقے اپنائے جاتے ہیں عقل دنگ رہ جاتی ہے ۔ ملاوٹ کرتے وقت حلال اور حرام کے تصور کو بھی پس پشت ڈال دیا جاتا ہے ۔ گڑوں کی گندگی سے چربی نکال کر بیوٹی سوپ ۔ کپڑے اور برتن دھونے کے صابن کی تیاری میں بڑی بڑی فیکڑیاں ملوث ہیں ۔ حرام جانوروں کا گوشت دوسرے گوشت کے ساتھ ملا کر فروخت کرنا تو عام سی بات ہو گئی ہے ۔ جب ٹی وی لگاو ایسی خبریں نظر آتی رہتی ہیں ۔ گوشت کا وزن بڑھانے کے لیے جانور کے دل میں پانی بھرنا بھی قصائیوں کی روٹین کا حصہ ہے ۔ برائیلر مرغیوں کی خوراک کی تیاری میں جانوروں کا خون ۔ آنتین اور غیر حلال مادوں کے استعمال کا سب کو پتہ ہے ۔ مگر برائیلر کھانا سب کی مجبوری ۔۔۔ کیوں ؟

    پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

    دودھ میں پہلے گوالہ پانی ملاتا تھا جس سے دودھ پتلا ہو جاتا اور ملاوٹ پہچان لی جاتی تھی ۔ مگر اب گوالہ اتنا سائنٹیفک ہوگیا ہے کہ ایک کلو دودھ میں بلیچنگ پاوڈر، یوریا اور دوسرے زہریلے مادے ڈال کر ایک من دودھ اتنا گاڑھا تیار کیا جاتا ہے کہ اس کے سامنے خالص دودھ بھی شرما جا ئے ۔ کہا جاتا تھا زندہ ہاتھی لاکھ کا اور مردہ سوا لاکھ کا ۔ مگر پاکستان میں یہ مثال ہر جانور پر ٹھیک بیٹتھی ہے جہاں مردہ جانور چاہے حلال ہو یا حرام ضائع نہیں جاتا ۔ بلکہ اسکی آنتوں ، ہڈیوں اور دیگر اعضاء کو ابال ابال کر ان میں سے ساری چربی نکال لی جاتی ہے جس سے تیار ہونے والا خالص تیل اور دیسی گھی فوڈ ایسنز ڈال کر بازار میں کھلے عام ملتا ہے ۔
    مرچ اور مصالحے جن کے بغیر ہمارے کھانوں میں مزہ نہیں ہے ان میں لکڑی کا برادہ ۔ اینٹوں کا چورہ تو ملایا ہی جاتا تھا مزید یہ کہ انھیں سیمنٹ کی بوریوں کو کاٹ کر بنائے گئے لفافوں میں بھر کر فروخت کیا جا تا ہے ۔ اس طرح سیمنٹ کا فلیور بھی ہمارے مصالحوں میں شامل ہو جا تا ہے ۔ چائے کی پتی میں بھی پرانی استعمال شدہ پتی ۔ خون اور رنگ ملا کر مقدار کو اتنا بڑھا دیا جاتا ہے کہ ابالنے پر رنگ بھی زیادہ آنا شروع ہوجا تا ہے ۔


    عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    پرانی ادرک اور لہسن کو تیزاب سے دھویا جاتاہے جس سے وہ نہ صرف تروتازہ نظر آتی ہے ۔ بلکہ اس کا وزن بھی کافی بڑھ جاتا ہے ان حالات میں اگر یہ کہا جائے کہ آج کل زہر بھی خالص نہیں ملتا تو غلط نہ ہو گا کیونکہ کاشتکاروں کو کیڑے مار ادویات میں پانی بھر کر مہنگے داموں بیچا جاتا ہے جس سے کیڑے تو نہیں مرتے البتہ فضل ضرور مر جاتی ہے ۔
    بے حس ناجائز منافع خور راتوں رات امیر سے امیر تر بننے کے نشے میں ناقص سے ناقص مضر صحت اجزائ کی ملاوٹ سے گریز نہیں کرتے ۔ انھیں نہ قانون کا ڈر ہے نہ خوف خدا انکا ضمیر بالکل مردہ ہو چکا ہے اور وہ پاکستان کی نسلیں برباد کرنے پر تلے ہو ئے ہیں ۔
    یہ سب کچھ اتنا حیران کن اور ناقابل یقین ہے کہ دل تسلیم ہی نہیں کرتا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ سب کچھ کوئی کیسے کرسکتا ہے زیادہ سے زیادہ نفع کمانے اور راتوں رات امیر بننے کے چکر میں ہم سب مرنا بھول چکے ہیں ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں