چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی نے ہیڈ کوارٹرز پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کا دورہ کیا۔ ہیڈ کوارٹرز آمد پر چیف آف دی نیول اسٹاف کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا. نیول چیف کو میری ٹائم آپریشن سینٹر میں میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے فرائض اور آپریشنل سرگرمیوں پر بریفنگ دی گئی. امیر البحر نے ہیڈ کوارٹرز میں میری ٹائم ریسکیو کو آرڈی نیشن سینٹر کا بھی دورہ کیا. نیول چیف نے میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے اہلکاروں سے ملاقات کی اور ان کے عزم اور حوصلے کو سراہا۔ ملکی سمندری حدود میں غیر قانونی سرگرمیوں کے انسداد میں ایم ایس اے کی کاوشیں قابل تحسین ہیں .
Tag: دورہ
-

قاضی جمیل الرحمان کا پولیس سروس سنٹر ایف سکس کا دورہ
ائی جی اسلام آباد قاضی جمیل الرحمان نے پولیس سروس سنٹر ایف سکس کا دورہ کیا جس میں پولیس سروس سنٹر کے مختلف شعبہ جات کے بارے میں آگاہی حاصل کی اور پولیس سروس سنٹر میں ڈیوٹی پر مامور عملے سے کام کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ فراہم کردا سہولیات کے بارے میں شہریوں سے گفتگو بھی کی
اور شہریوں نے فراہم کردا سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
ائی جی اسلام آباد کا کہنا ہے کہ شہریوں کو بہتر سے بہتر سہولتیں فراہم کی جائیں ۔ -

نیول چیف کا روس، انڈونیشیا اور سری لنکا کے بحری جہازوں کا دورہ
امیرالبحر ایڈمرل محمد امجد خان نیازی کا پاک بحریہ کی مشق امن میں شریک چند ممالک کے بحری جہازوں کا دورہ کیا۔
نیول چیف نے روس، انڈونیشیا اور سری لنکا کے بحری جہازوں کا دورہ کیا، امیر البحر کی ہر جہاز پر آمد کے موقع پر انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ دورے کے دوران امیرالبحر نے مشق میں شریک غیر ملکی جہازوں کے کمانڈنگ افسران اور عملے سے ملاقاتیں کیں، نیول چیف کو مشق میں شریک ممالک کے جہازوں پر خصوصی بریفنگز دی گئیں۔ ایڈمرل محمد امجد خان نیازی نے مشق میں شرکت اور باہمی تعاون کے فروغ پر تمام شریک ممالک کے نمائندگان کا شکریہ ادا کیا۔ -

افسران شہریوں کے مسائل کی داد رسی کے لئے سرتوڑ کوششیں کریں، ڈی آئی جی آپریشنز
ڈی آئی جی آپریشنز ساجد کیانی کا تھانہ غالب مارکیٹ اور گلبرگ کا اچانک دورہ کیا جس میں انھوں نے ہدایات جاری کیں کہ ایس ایچ اوز مخصوص کردہ اوقات میں خود سائلین کے مسائل سنیں۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاہورساجد کیانی نے کہا ہے کہ ایس ایچ اوز مخصوص کردہ اوقات میں خود سائلین کے مسائل سنیں اور ان کے حل کیلئے موثر اقدامات عمل میں لائیں۔ کرائم کنٹرول اور ضابطہ اخلاق کی پابندی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔پولیس افسران کرائم کنٹرول کے لئے تمام وسائل اور صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے تھانہ غالب مارکیٹ اور تھانہ گلبرگ کے دورہ کے موقع پرپولیس افسران سے گفتگو کے دوران کیا۔ ڈی آئی جی آپریشنزساجد کیانی نے تھانوں کے فرنٹ ڈیسک، رپورٹنگ روم، حوالات، ریکارڈ روم سمیت مختلف حصوں کا معائنہ کیا۔ڈی ایس پی گلبرگ سرکل و دیگر پولیس افسران اس موقع پر موجودتھے۔ساجد کیانی نے تھانوں کا ریکارڈ، رجسٹرز، عملے کی حاضری اور صفائی ستھرائی کی صورتحال کا جائزہ بھی لیا۔انہوں نے مزید کہا کہ تھانے محکمہ پولیس کا آئینہ ہیں،حسن سلوک اور پیشہ ورانہ کارکردگی سے مثبت تشخص اُجاگر کریں۔پولیس افسران و جوان شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آئیں، مسائل کی داد رسی کے لئے سرتوڑ کوششیں کریں۔
-

لیڈی ریڈنگ ہسپتال ایم ٹی آئی میں ایل آر ایچ کا دورہ !!
لیڈی ریڈنگ ہسپتال ایم ٹی آئی پشاور میں نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول کی ٹیم کا ایل آر ایچ کا دورہ جس کا مقصد کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسینیشن کا جائزہ لینا تھا۔ ویکسینیشن کے عمل کو آسان اور تیز تر بنانے کے لئے واک ان سسٹم کا قیام کرنا ہے۔ حکومت طبی عملے کے بچاؤ کے لئے اقدامات کر رہی ہے، تمام طبی عملے کو ویکسینیٹ کر رہے ہیں۔ ایل آر ایچ میں اب تک 60 سے زائد طبی عملے کو کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگائی گئی ہے۔
-

صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاءلانگو نےکوئٹہ سی ایم ایچ اسپتال، اور ٹراما سینٹر سول ہسپتال کادورہ کیا
کویٹہ :
دورے میں صوبائی وزیر داخلہ نے گزشتہ روز کوٹیہ اور سبی بم دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی فرداًا فرداً عیادت اور انتظامات کا جائزہ لیا، ڈپٹی کمشنر کوٹیہ اورنگزیب بادینی صوبائی وزیر کے ہمراہ
دہشت گردوں نے عوامی مقام پر معصوم لوگوں کو نشانہ بنا کر بزدلی کی مظاہرہ کیا ہے۔ فوج ،پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں سے مل کر دہشت گردی کے خاتمے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے ۔
وزیر داخلہ نے موقع پر زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی.موقع پر وزیر داخلہ نے زخمیوں سے دھماکے کی تفصیلات بھی معلوم کیں.دھماکہ انتہائی افسوسناک ہے جس میں معصوم لوگوں کو نشانہ بنا یا گیا ۔ پاکستان میں دہشتگردی ہمارے ہمسائے ملک افغانستان کے راستے ہو رہی ہے ۔دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر انتہائی دکھ افسوس کا اظہار اور زخمیوں کی صحت یابی کیلئے دعا ۔ وزیر داخلہ -

تم کو اللہ پوچھے گا ۔۔۔ فرحان شبیر
میں جس فلیٹ یا اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر ہوں ( کرائے پر ) اسکی قیمت کوئی ڈیڑھ کروڑ کے قریب ہے ۔ مجھے یہ فلیٹ پسند بھی ہے اور خواہش ہے ایسا ہی کبھی پیسے ہوئے تو خرید بھی لوں ۔ میں ہی کیا ہم سب میں کتنے ہی لوگ ہیں جو ایسے ہی ایک اچھے مکان یا فیلٹ کا خواب دیکھتے ہیں ۔ آخر کو انسان کے پاس ایک اپنا گھر تو ہو کہ کل کلاں کو کچھ ہوگیا تو فیملی کرائے کے مکانوں میں دھکے نہ کھاتی پھرے روز روز مالک مکان سے جھک جھک نہ ہو۔ کیوں کے کرائے پر اچھے مکان کے ملنے سے بھی زیادہ اچھا مالک مکان کا ملنا ایک بڑی نعمت ہے ۔
پاکستان کی پینتالیس فیصد آبادی تو ایک سو پچیس فیصد روز پر زندگی گزار رہی ہے یعنی کہ ساڑھے بیس کروڑ میں سے آٹھ کروڑ لوگ تو سیدھے سیدھے کسی اچھے مکان کے خریدنے کی دوڑ سے ہی باہر نکل جاتے ہیں اور باقی کے چار چھ کروڑ بھی بس ابا یا دادا کے اچھے وقتوں کی زمینوں کو بیچ کر یا آبائی گھروں میں ہی پورشن بنا بنا کر اپنے لئیے چھوٹے چھوٹے آشیانے بنا رہے ہیں ۔ سالوں گھر کو رنگ روغن اور مرمت کرانے کے پیسے ہی نہیں نکل پاتے ۔ پچیس تیس ہزار کا کام آجائے تو بھائی بھائی میں جھگڑا ہوجاتا ہے کہ کون کام کرائے گا اور کون اس ٹوٹ پھوٹ کا ذمہ لے گا ۔ میں نے بجلی کے بلوں کے پیسے تقسیم ہوتے وقت پنکھوں اور اے سی تک کے کم زیادہ استعمال پر بحث مباحثہ ہوتے دیکھا یے ۔ افسوس تو یہ کہ ایک طرف تو ہمارے ملک کے تیرہ چودہ کروڑ عوام سو سو دو دو سو روپے کا حساب رکھ کر چل رہے ہوتے ہیں تو دوسری جانب ہمارے حکمران اور ہمارے افسران اس غریب اور محروم قوم کا پیسہ اس بے دردی سے لٹاتے رہیں کہ تفصیلات سامنے آنے پر خون کھول اٹھتا ہے ۔
اب یہی دیکھئیے کہ کپتان نے اپنے امریکہ دورے کے دوران صرف فضائی سفر کے اخراجات کی مد میں ہی گیارہ سے بارہ کروڑ روپے بچائے ہیں ۔ ظاہر ہے ہمارے دانشوڑوں کی نظر میں یہ کوئی بڑی رقم نہیں ۔ لیکن ہم جیسے مڈل کلاسیوں کے لئیے یہ بہت بڑی رقم ہے ۔ ہم میں سے کتنوں نے ہی کبھی خواب میں بھی دس بارہ کروڑ اپنے بینک اکاونٹ میں جمع ہونے کا سوچا بھی نہیں کہ ہمیشہ ہی اخراجات اور آمدنی کا مقابلہ ہی چلتا چلا آرہا ہے ۔ لاکھوں لوگوں کا اکاونٹ کبھی سکس فگرز میں جا ہی نہیں پاتا ۔ ایک ڈیڑھ کروڑ کا مکان بنانا ایک پوری زندگی کھا جاتا ہے وہ بھی کتنی ہی خواہشوں اور کتنی ہی حسرتوں کا گلہ گھونٹ کر اور کتنی ہی جگہ اپنی عزت نفس خود داری اور عزت و احترام کو گروی رکھ کر ۔
اب جب ہم جیسے ٹٹ پونجئیے یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے حکمران جب امریکہ جاتے تھے تو انکے لئیے پورے کا پورا long-range, wide-body , twin-engine, 300-seater jet airliner Boing-777 فکس کر دیا جاتا تھا تو خون کھول اٹھتا ہے کہ اس طرح سے تو کوئی دشمن کے پیسے کو بھی نہیں خرچ کرتا کہ حضور اب PIA کا یہ پورا بوئنگ 777 آپکے ڈسپوزل پر اور اسکے ساتھ ایک جہاز اسٹینڈ بائی پر تاکہ اس کو کچھ جائے تو دوسرا جہاز سرکار کے لئیے فوری تیار ہو ۔ یعنی مرے کو مارے شاہ مدار ۔ مرتی ہوئی PIA کے دو جہازوں کے نکالنے سے پی آئی اے کا سارا ٹائم ٹیبل درہم برہم ہوتا ہو تو ہوجائے حکمرانوں کی نقشہ بازیوں اور شاہ خرچیوں پر کمی نہ ہو ۔ پھر جہاز میں سے سیٹیں نکال کر کر بیڈ روم ، پریس روم، اور دیگر لاونجز بنانے کی رنگ بازیاں الگ جیسے چین جاپان جیسے امیر ملکوں کے حکمران ہوں ۔
پھر یہی نہیں کہ صرف جہاز کا خرچہ ہی ایک چونچلا ہوتا یہاں تو پی آئی اے کے لئیے ہمارے مغل شہنشاہوں کے لئیے انکی پسند کے کھانے اور ناشتے بنانا بھی ایک درد سر ہوا کرتا تھا کہ نجانے کب سرکار کا دل لسی کے لئیے مچل جائے یا کب بھنڈی کی فرمائش آجائے ۔ پتہ نہیں یہ لوگ پاکستان کے مسائل کا حل ڈھونڈنے جاتے تھے یا پکنک منانے جو پکوانوں سے لیکر سونے جاگنے کے آرام کا زیادہ خیال رکھا جاتا تھا ۔ اس پر بھی دل مان جاتا اگر ان دوروں کا کوئی فائدہ بھی ہوتا مگر یہاں تو غیر ملکی حکمرانوں کے سامنے فدویانہ انداز میں گردنیں جھکانے ، پرچیاں ہاتھ میں تھامنے اور دنیا بھر سے الزامات کی پوٹلی اٹھا کر واپس آنے کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا تھا ۔
ظاہر ہے اس حال میں دنیا کا کونسا ملک آپکو سیریس لے گا جارہے ہیں دنیا کو پاکستان کی مالی مشکلات سے نکالنے میں مدد لینے اور انویسٹمینٹ لانے اور حال یہ ہو مرسیڈیز اور کیڈیلک گاڑیوں کے قافلوں کے قافلے جھرمٹ میں ہوں ۔ فائیو سٹار ہوٹلوں میں پوری پوری بارات لیکر ٹہر رہے ہوں اور دنیا سے کہہ رہے ہوں کہ پیچھے گھر میں بچوں کو پڑھانے کے لئیے اور گھر چلانے کے لئیے پیسے نہیں ہیں ۔ ملک اور قوم قرضوں کے انبار میں دب رہی ہو اور حکمران چالیس پینتالیس لاکھ فی گھنٹہ کے حساب سے بوئنگ 777 سے آنا اور جانا کریں اور یوں ان حکمرانوں کے آنے اور جانے کے 28 گھنٹوں کی مسافت کی قیمت قوم کو گیارہ سے بارہ کروڑ میں پڑے ۔ کسی کی پوری عمر گذر جاتی ہے ایک کروڑ نہیں کماتا اور کسی کے چند گھنٹوں کے سفر کا خرچہ ہمارے جیسے کئی مڈل کلاسیوں کی پوری زندگی کی کمائی سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے ۔
حالانکہ ہیڈز آف اسٹیٹ کے دوروں لئیے چھوٹے طیارے رکھے گئے ہیں پی آئی اے کے فلیٹ میں 2 عدد us-made,12-seater Gulfstrean Jet موجود ہیں جنہیں سربراہان مملکت کے لئیے ہی رکھا گیا ہے لیکن پھر بھی ہمارے حکمرانوں کا اپنے پورے خاندانوں سے لیکر مالشیوں تک کو پورے پورے بوئنگ بھر بھر کر یورپ اور امریکہ جانا اور بدھوں کی طرح لوٹ کر آنا غصہ دلا دیتا ہے ۔ اور یہ سوچ کر مزید غصہ آتا ہے سابقہ حکمرانوں کے ساتھ جہاز غول در غول جانے والے صحافیوں کو بھی یہ توفیق نہیں ہوسکی کہ میاں صاحب سے کبھی پوچھ ہی لیتے یہ قوم کے پیسوں سے نانا جی فاتحہ کیوں پڑھائی جارہی ہے ۔ ہم تو اتنا ہی کہتے ہیں کہ دنیا کو جتنا بھی چکر دے دو جب اوپر جاوگے تو تم کو تو اللہ پوچھے گا ۔
