Baaghi TV

Tag: دولت

  • ایلون مسک پھر مالا مال، ایک دن میں 92 کھرب روپے کا اضافہ

    ایلون مسک پھر مالا مال، ایک دن میں 92 کھرب روپے کا اضافہ

    ایلون مسک، جو کہ ٹیسلا اور اسپیس ایکس جیسی معروف کمپنیوں کے مالک ہیں، اس وقت دنیا کے امیر ترین شخص ہیں، اور حال ہی میں ان کی دولت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

    ایک دن کے اندر، ایلون مسک نے اتنی رقم کمائی کہ وہ بیشتر ممالک کے سالانہ بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، 24 اکتوبر کو ان کی دولت میں 33 ارب 50 کروڑ ڈالر (تقریباً 92 کھرب پاکستانی روپے) کا اضافہ ہوا ہے،یہ اضافہ ٹیسلا کے حصص کی قیمتوں میں ایک دن میں 22 فیصد بڑھنے کی وجہ سے ہوا۔ ٹیسلا نے جولائی سے ستمبر کی سہ ماہی کی رپورٹ جاری کی، جس میں ایلون مسک نے پیشگوئی کی کہ 2025 تک الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 30 فیصد اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ یہ قابل ذکر ہے کہ پچھلے ایک سال کے دوران، ٹیسلا کی سہ ماہی رپورٹس میں آمدنی میں کمی کی اطلاع دی گئی تھی۔ایلون مسک ٹیسلا کے 21 فیصد حصص کے مالک ہیں، اور ان کی مجموعی دولت کا 68 فیصد اسی کمپنی کے حصص سے وابستہ ہے۔

    اس وقت، ایلون مسک کی کل دولت 270.3 ارب ڈالر ہے، جس کے باعث وہ دنیا کے امیر ترین شخص بن چکے ہیں۔ اس فہرست میں دوسرے نمبر پر موجود جیف بیزوز ان سے 61 ارب ڈالر پیچھے ہیں، جن کی دولت 209 ارب ڈالر ہے۔ اسی طرح، میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ 201 ارب ڈالر کے ساتھ دنیا کے تیسرے امیر ترین شخص ہیں.

    غیر اخلاقی ویڈیوشیئر کرنے پر دانیہ شاہ کا شوہر حکیم شہزاد گرفتار

    اکرم چوہدری کا نجی ٹی وی کے نام پر دورہ یوکے،ذاتی فائدے،ادارے کو نقصان

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک کی عمران خان سے ملاقات کی تصویر وائرل

    مناہل ملک سے قبل کس کس پاکستانی کی ہوئی "نازیبا ویڈیو”لیک

    ٹک ٹاکر مناہل ملک کی انتہائی نازیبا،جسمانی تعلق،بوس و کنارکی ویڈیو وائرل

  • 2023 کی پہلی ششماہی کے دوران دنیا کےامیرترین افراد کی دولت میں 852 ارب ڈالرز کا اضافہ

    2023 کی پہلی ششماہی کے دوران دنیا کےامیرترین افراد کی دولت میں 852 ارب ڈالرز کا اضافہ

    2023 کی پہلی ششماہی کے دوران دنیا کے 500 امیر ترین افراد کی دولت میں مجموعی طور پر 852 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا۔

    بلومبرگ کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق، بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس کے ہر رکن نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران اوسطاً 14 ملین ڈالر فی دن کمائے یہ جولائی سے دسمبر 2020 کے بعد دنیا کے امیر ترین افراد کے لیے بہترین ششماہی ثابت ہوئی ہے،یکم جنوری سے 30 جون کے دوران ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے مالک ایلون مسک کی دولت میں سب سے زیادہ 96.6 ارب ڈالرز کا اضافہ ہوا۔

    یہ فائدہ اسٹاک مارکیٹ کی ایک وسیع ریلی کے ساتھ ہوا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے مرکزی بینک کی شرح سود میں اضافے، یوکرین میں جاری جنگ اور علاقائی بینکوں کے بحران کے اثرات کو ختم کردیا۔

    فرانسسکو میں سکھ مظاہرین نے بھارتی قونصل خانے کو آگ لگا دی

    ٹیسلا انکارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈالر کے لحاظ سے سب سے اوپر آئے۔ دنیا کے امیر ترین شخص مسک کی دولت میں اس سال 30 جون تک 96.6 بلین ڈالر کا اضافہ ہوا جبکہ میٹا پلیٹ فارمز انکارپوریشن کے سی ای او زکربرگ نے 58.9 بلین ڈالر کا اضافہ ہوا اس ح دوسرے نمبر پر میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ رہے-دنیا کے امیر ترین افراد کی دولت میں اضافے کی بنیادی وجہ مختلف ممالک میں شرح سود میں اضافے کے عمل کو روکنا تھا۔

    اقامت کے بعد دعا مانگنے کا معجزہ،نابینا نوجوان کو سجدے کے دوران بینائی مل گئی

    اسی طرح آرٹی فیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی کے باعث بھی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا اس کے برعکس بھارت کے گوتم اڈانی 6 ماہ کے دوران 60.2 ارب ڈالرز سے محروم ہوگئے گوتم اڈانی کی دولت میں تیزی سے کمی کی وجہ ایک امریکی شارٹ سیلنگ کمپنی ہندن برگ کی 25 جنوری کو جاری ہونے والی رپورٹ تھی اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اڈانی گروپ دہائیوں سے اسٹاک مارکیٹ میں ہیرا پھیری اور اکاؤنٹنگ فراڈ اسکیم میں ملوث ہے۔

    سقوط ڈھاکہ کے پس منظرمیں لکھی گئی کتاب Dead.Reckoning کی مصفنہ شرمیلا بوس

  • جعلی نوٹوں کی بھرمار،پریشان عوام

    جعلی نوٹوں کی بھرمار،پریشان عوام

    قصور
    ضلع بھر میں جعلی نوٹوں کی بھرمار،غریب سادہ لوح شہری،دکاندار نوسر بازوں کا شکار،انتظامیہ سے کاروائی کی اپیل

    تفصیلات کے مطابق قصور ضلع بھر میں 500,1000 کے جعلی نوٹوں کی بھرمار ہے
    نوسر باز آئے روز غریب سادہ لوح عوام و دکانداروں کو چونا لگا رہے ہیں جس سے مہنگائی کے مارے غریب محنت کش دیہاڑی کی کمر ٹوٹ جاتی ہے
    سارا دن مزدوری کرکے جعلی نوٹ ملنے پہ شدید صدمہ برداشت کرنا پڑتا ہے
    نیز غریب و سادہ لوح جب کسی دکان یا بینک پہ جعلی نوٹ لاعلمی میں لیجاتے ہیں تو آگے سے ان کو دھمکیوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے کہ جعلی نوٹ بنانے والوں سے آپ کے روابط ہیں حالانکہ اس غریب کو خود چونا لگا ہوتا ہے
    اس ساری صورتحال کے پیش نظر شہریوں نے جعلی کرنسی نوٹ مافیا کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • کرونا میں معاشی بحران مگر دنیا کے امیر تر،امیر ترین ہی رہے

    کرونا میں معاشی بحران مگر دنیا کے امیر تر،امیر ترین ہی رہے

    کرونا میں معاشی بحران مگر دنیا کے امیر تر،امیر ترین ہی رہے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چین سے پھیلنے والے کرونا وائرس نے دنیا بھر میں تباہی مچائی،

    کرونا کی وجہ سے حکومتوں، ممالک کو لاک ڈاؤن لگانے پڑے،فضائی سروس معطل کرنا پڑی، بزنس سنٹرز، کارخانے ،تعلیمی ادارے بند ہو گئے، ممالک کی معیشت تباہ ہو کر رہ گئی، عام آدمی بھی کرونا سے متاثر ہوا تاہم دوسری جانب حیران کن طور پر دنیا کے امیر ترین افراد کی دولت کرونا میں کم ہونے کی بجائے بڑھی بلکہ دگنی ہو گئی ہے،خبر رساں ادارے کے مطابق کرونا کے گزشتہ دو برسوں کے دوران دنیا کے 10 امیرترین افراد کی دولت ڈبل ہو گئی ہے.

    دنیا میں غربت کے خاتمے کیلئے کام کرنی والی کنفیڈریشن اوکسفیم کی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2021 تک امیر ترین افراد کی دولت 7 کھرب ڈالر سے بڑھ کر 15 کھرب ہوگئی ہے، ایلون مسک، جیف بیزوس سمیت دنیا کے دس امیر ترین آدمیوں کی دولت کرونا سے پہلے 700 ارب ڈالرز تھی اب 1500 ارب ڈالرز ہوگئی ہے .فوربز میگزین کے ارب پتیوں کی فہرست سے لیے گئے اعداد و شمار کے مطابق کرونا کے پہلے 20 مہینوں میں ایلون مسک کی دولت میں 10 گنا اضافہ ہوا اور وہ 294 بلین ڈالر تک پہنچ گئی

    اس عرصے کے دوران جب وال سٹریٹ پر ٹیکنالوجی کے ذخائر بڑھ رہے تھے ایمازون کے مالک جیف بیزوس کی دولت 67 فیصد بڑھ کر 203 بلین ڈالر ہو گئی فیس بک کے مارک زکربرگ کی دولت دگنی ہو کر 118 بلین ڈالر ہو گئی .مائیکرو سافٹ کے بانی بل گیٹس کی دولت 31 فیصد بڑھ کر 137 بلین ڈالر ہو گئی

    اوکسفیم رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس دوران دوسری طرف دنیا بھر میں عدم مساوات کے باعث نہ صرف غربت بڑھی بلکہ ہر چار سیکنڈ میں ایک موت بھی واقع ہوئی اوکسفیم کے مطابق 2030 تک 3.3 ارب لوگ روزانہ 5 اعشاریہ 50 ڈالر سے بھی کم پر زندگی گزار رہے ہوں گے ،رپورٹ کے مطابق جہاں دنیا میں 99 فیصد لوگوں کی تنخواہوں میں کٹوتی ہوئی وہاں ان 10 افراد کی آمدنی میں ایک دن میں 1 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا،کرونا کی وجہ سے 16 کروڑ افراد غربت کی طرف دھکیل دیے گئے ہیں اور اس کا اثر خواتین پر اور مغرب میں غیر سفید فام نسلی اقلیتوں پر پڑا ہے

    قبل ازیں غیر ملکی میڈیا کے مطابق ورلڈ بینک نے خبردار کیا ہے کہ قرضوں کی بلند سطح، آمدن اور اخراجات میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات اورکرونا وائرس کی نئی اقسام سے ترقی پذیرمعیشتوں کی بحالی کو خطرہ لاحق ہےعالمی بینک نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2022 میں عالمی معیشت کی شرح نمو گذشتہ سال کے 5.5 فی صد سے واضح طور پرکم ہوکر 4.1 فی صد تک پہنچنے کی توقع ہے اور 2023 میں مزید کم ہو کر 3.2 فی صد رہ جائے گی کیونکہ تب حکومتیں وبا کے آغاز میں مہیا کی جانے والی بڑے پیمانے پرمالی امداد کو ختم کرچکی ہوں گی۔

    قائمہ کمیٹی اجلاس،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، رانا شمیم کے نہ آنے پرجاوید لطیف کا بڑا اعلان

    مشکل حالات، قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے، اپوزیشن کی حکومت کو پیشکش

    گو نیازی گو، شوکت ترین قوم کا غدار، قومی اسمبلی میں نعرے

    سندھ میں بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی کا حشر خیبرپختونخوا سے بھی برا ہوگا،سعید غنی

    کراچی کا بچہ بچہ جانتا ہے ایم کیو ایم والے کتنے شریف ہیں،سعید غنی

  • ڈاکیومینٹیش لازمی، مگر کیوں؟ ؟؟ فرحان شبیر

    ڈاکیومینٹیش لازمی، مگر کیوں؟ ؟؟ فرحان شبیر

    اگر ہماری اکانومی ایک ڈاکیومینٹڈ اکانومی ہوتی جس میں برسوں سے لوگوں کا سارا ڈیٹا ان کی ساری انکم اور اثاثے یعنی منی ٹریل ہر لمحہ مرتب ہورہی ہوتی تو کسی بھی جعلی رسید ، اووربلنگ یا انڈر انوائیسنگ کو ایک دو چیکس لگا کر کراس چیک کیا جانا مشکل نہ ہوتا اور ہمارے لین دین کے معاملات میں اتنے گھپلے ، اتنی دو نمبریاں اور اتنی پیچیدگیاں نہ ہوتیں ۔

    سب سے پہلے تو اس طرح سے ملزم عاطف کے پاس کروڑوں روپے جمع ہی نہیں ہو پاتے ۔ بینکنگ چینل سے اتنی اتنی بڑی بڑی رقوم کا ایک ہی شخص کے اکاونٹ میں ٹرانسفر ہونا پہلے دن ہی نوٹس میں آجاتا ۔ FBR سے لیکر اسٹیٹ بنک کے اینٹی منی لانڈرنگ یونٹ تک نوٹسز آچکے ہوتے کہ میاں کونسا کام ہورہا ہے کہ ڈیڑھ دو سالوں میں ہی آپکے اکاونٹ میں یہ پانچ کروڑ ، دس کروڑ یا پچپن کروڑ تک کیسے آگئے۔ دوسری طرف دینے والوں کے پاس بھی پہلے تو اس طرح اتنا پیسہ جمع ہی نہیں ہوتا اور اگر کسی کے پاس گھر یا گاؤں کی زمین بیچ کر آتا بھی تو وہ اسے اس طرح بغیر کسی لکھت پڑھت کبھی کسی عاطف کے حوالے نہ کرتا ۔

    مرید کا دوسرا قاتل ہمارا اخلاقی طور پر زوال پذیر معاشرہ بھی ہے جس نے نفسا نفسی کو اس قدر زور دے رکھا کہ ہر شخص بہت کچھ بہت جلدی کرنے کے چکر یا خواہش میں ہے ۔ سب کو بہت کچھ فورا فورا چاہیے ۔ کیونکہ معاشرے نے یا ریاست نے بنیادی ذمہ داریوں کو اپنی ترجیح نہیں بنایا لہذا مستقبل کے خدشات نے ہم سب کو پروفیشنل وولچرز بنا دیا ہے ایک عاطف ہی کیا یہاں پر شخص ہی ایک دوسرے کا مال غلط طریقے سے کما رہا ہے No wonder کے ہم دنیا کی چند بدعنوان ترین قوموں میں سرفہرست ہیں باوجود اسکے کہ سب سے زیادہ زکوۃ ، خیرات ، صدقات، حج ، عمرے ، کرنے میں بھی ہماری ہی قوم آگے ہے ۔ سارا رمضان زیادہ پرافٹ لینے والے حاجی صاحب شب قدر کی راتوں میں حرم شریف میں بھی سب سے آگے ہوتے ہیں ۔ اور اسکے ساتھ ساتھ ڈاکیومینٹیشن سے بھی انکاری ہیں ۔

    دیکھا جائے تو ڈاکیومینٹیشن کا ایمانداری سے براہ راست اور گہرا تعلق ہے۔ اور یہ دین اسلام کا بڑا شدید تقاضہ بھی ۔ آپکو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ قرآن کریم میں سب سے طویل آیت مبارک مبارکہ ، سورہ بقرہ کی آیت نمبر 282 ہے اور یہ نماز روزہ حج یا زکوۃ سے متعلق نہیں بلکہ لین دین ، قرض دینے لینے ، یعنی پیسے کی ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقلی کی Documentaion یعنی باقاعدہ لکھت پڑھت کے متعلق ہے ۔ زبانی قول و قرار نہیں بلیک اینڈ وائٹ میں کاغذ کے اوپر تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت ثبوت کے طور پر کام آئے ۔ اسی سے کام کاج میں شفافیت پیدا ہوتی ہے اور کسی کے لیے بھی اپنی بات سے پھرنا یا مکرنا مشکل ہوتا ہے ۔ قرآن کریم نے لکھنے کے ساتھ ساتھ گواہوں کی موجودگی کی بھی شرط رکھی ہے گواہوں کو کہا گیا کہ کبھی شہادت نہ چھپانا اور گواہوں کا معیار تک بتایا ہے لکھنے والے کاتب تک حکم کہ جو قرض لینے والا لکھے ویسا ہی ایمانداری سے لکھو ۔ کیونکہ ڈاکیومینٹیشن کو اپنا کر ہی کوئی سوسائٹی ہر وقت کی جھک جھک سے بچ سکتی ہے اور افراد معاشرہ بھی ایک دوسرے سے لوٹے جانے یا ڈز کھانے کے ڈر سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔

    جس معاشرے میں ہر چیز ڈاکیومینٹڈ اور written فارم میں ہوگی وہاں بے ایمانی اور دھوکے بازی کے چانسز اتنے ہی کم ہوں گے ۔ چھوٹے سے چھوٹے فرد سے لیکر بڑے سے بڑے عہدیدار کو بھی اگر یہ احساس ہو کہ اس سے کسی بھی وقت چیک اینڈ بیلنس سے گزرنا پڑ سکتا ہے تو وہ بھی کسی بلیک اکانومی کا حصہ بننے سے کنی کترائے گا ۔ اس لینڈ کروزر کا کیا فائدہ جسے روڈ پر لے کر نکلتے ہی پوچھا جائے کہ SHO صاحب رسیداں کڈھو ، کدھر سے لی اور کیسے لی تو پھر کون جلتی میں ہاتھ ڈالے گا ۔ ظاہر ہے مکمل خاتمہ شاید نہ ہو پائے لیکن ایک بند تو بندھے گا ۔ بات لمبی ہونے کا ڈر ہے ورنہ تو اپنے گلی محلوں میں ہونے والی بے ہنگم تعمیرات، پارکوں کے اجڑنے یا اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں اضافے کے پیچھے جائیں تو کہیں نہ کہیں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا رشوت خور اہلکار یا تھانے کا ایس ایچ او ہی ہوگا ۔ کیونکہ ان سب کو پتہ ہے بھلے ان کی تنخواہیں تیس پینتیس چالیس پچاس ہزار روپے ہیں اور ان کا لائف اسٹائل کسی بھی طرح لاکھوں روپے کمانے والے لوگوں سے کم نہیں بلکہ کئی سولہ سترہ گریڈ کے اہلکاروں کو بادشاہوں والی زندگی گذارتے ہوئے تو ہم سے اکثر لوگ دیکھتے ہی رہتے ہیں ۔ بابو کو بھی ڈر نہیں کہ کوئی پوچھے گا کیونکہ کوئی پوچھتا ہی نہیں تھا ۔ اور اگر پوچھے تو گاڑی اماں کے نام پلاٹ ، بنگلہ بیوی کے نام فلاں چیز اس کے نام تو فلاں چیز اسکے نام دکھا کر کھاتا پورا کرکے دکھا دو ۔ دو کروڑ کی گاڑی تیس لاکھ کی شو کر دو ۔ کون پوچھے گا پلٹ کر ۔
    جو بیچنے والا ہے وہ بھی ڈبل ڈبل کھاتے بنا کر چل رہا ہے ۔ ایک گنگا ہے جس میں ہر کوئی ہاتھ دھو رہا ہے ۔

    اب بھی وقت ہے کہ ہم نوشتہ دیوار کو پڑھ لیں اور اپنی اکانومی کو ڈاکیمینٹڈ بنانے میں پورا ساتھ دیں ۔ کیونکہ اس بلیک یا undocumented economy کے دیمک نے ہمارے معاشرے کے اخلاقی وجود کے تار و پود کو بکھیر کر رکھ دیا ۔ اسی بلیک اکانومی کی وجہ سے رشوت لینے والے ، زیادہ منافع کما کر کم ٹیکس دینے والے اور کسی بھی غلط طریقے سے زیادہ سے زیادہ wealth accumulateکرنے والے کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی کہ وہ اتنی ویلتھ کہاں پارک کرے گا ۔ یہ اسی بے فکری کا ہی نتیجہ ہے کہ پولیس سے لیکر عدلیہ اور تعلیم سے لیکر صحت تک کے ادارے میں اس کرپشن کے ناسور نے ایسے پنجے گاڑے ہیں کہ ڈاکیومینٹیشن کا سوچ کر سب کی جان نکلے جارہی ہے ۔ ڈاکیومینٹیشن ہوگی تو ریاست اور ادارے کسی بھی بندے سے پوچھ سکیں گے کہ بھائی آپ کی تنخواہ ، دکان کی کمائی ، سرکاری نوکری میں تو آپ کا یہ طرز زندگی یہ ہائی فائی لائف اسٹائل اور بڑی بڑی Gatted societies میں رہنا تو افورڈ ہی نہیں ہو سکتا تو یہ سب کیسے چل رہا ہے ؟ ذرا وضاحت کردیجیے ۔ اور دل پر ہاتھ رکھ کر سوچا جائے تو اس میں کیا برا ہے ؟ ۔ کسی بھی صحیح انسان کو اس میں تو کوئی مسئلہ ہونا ہی نہیں چاہئیے کہ وہ ڈاکیومینٹڈ اکانومی کا حصہ بنے اور ہر ٹرانسیکشن کا ایک بلیک اینڈ وائٹ ثبوت لے بھی اور دے بھی ۔

    اس کوشش اور جدوجہد میں سیاسی وابستگی یا لبرلز اور مذہبی کی تخصیص رکھنا اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ ظلم کرنا ہوگا ۔ ڈاکیومینٹیشن تو ہر معاشرے کی ضروت ہے چاہے سیکولر ہو یا وحی کا ماننے والا ۔ ڈاکیومینٹشن تو ہر طرح کی سوچ رکھنے والے کی زندگی کو امن سکون تحفظ اور بہتر ماحول دے سکے گی ۔امن اور سکون ہوگا تو سب کو اپنی دوسری خامیوں کو دور کرنے اور اپنے اندر نئی خصوصیات پیدا کرنے کا وقت بھی مل سکے گا اور حوصلہ بھی ہوگا کہ اب مقابلہ محنت کا محنت ، ذہانت کا ذہانت اور Creativity کا Creativity سے ہوگا ۔