Baaghi TV

Tag: دوپٹہ

  • دوپٹہ، وزیراعلیٰ پنجاب اور لیڈی پولیس آفیسر

    دوپٹہ، وزیراعلیٰ پنجاب اور لیڈی پولیس آفیسر

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے خاتون پولیس افسر کا دوپٹہ سر سے اترنے کے بعد اسے پہنا دیا،واقعہ کی ویڈیو جو وزیراعلیٰ کی میڈیا ٹیم نے بنائی وہ وائرل ہو گئی اور اس پر تبصروں کا سلسلہ شروع ہو گیا،جو معاشرے میں تیزی سے پولرائزیشن کا اشارہ ہے۔

    ویڈیو کلپ کا کیپشن اسے "ہمدردی اور سمجھ ” کا لمحہ قرار دیتا ہے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ یہ مریم نواز کی ’اخلاقی پولیسنگ‘ تھی، جس میں یہ بتایا گیا کہ خواتین کو کس طرح کا لباس پہننا چاہیے۔ ان کا خیال ہے کہ لباس پہننا ذاتی معاملہ ہے اور وزیر اعلیٰ مریم نواز نے پولیس افسر کی ذاتی جگہ پر حملہ کیا۔ اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی کہ لیڈی پولیس آفیسر نے پہلے ہی سر پر دوپٹہ پہن رکھا تھا، اور جیسا کہ یہ پھسل گیا تھا، وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اسے محض ’’ٹھیک‘‘ کیا۔
    یہاں اہم بات یہ سمجھنے کی ہے کہ مریم نواز اب صرف مریم نواز نہیں رہیں۔ وہ پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ ہیں۔ انکے ہر عمل کو قریب سے دیکھا جائے گا، اورحامی و مخالف دونوں‌ طرح کے تجزیہ کار اس کے کاموں پر اپنی رائے دیں گے،
    The Duppata, Chief Minister Punjab & lady Police Officer
    مریم نواز کی میڈیا ٹیم نے جوش میں آ کر مریم نواز کی جانب سے خاتون پولیس افسر کے دوپٹہ درست کرنے کے لمحے کو پی آر سٹنٹ شو میں بدل دیا۔ دوسری غلطی، عنوان میں الفاظ کا چناؤ نامناسب تھا۔ اصطلاح ‘ہمدرد’ کا مطلب احساس یا ہمدردی ظاہر کرنا اور دوسروں کی مدد کرنے کی خواہش ہے، جبکہ ‘سمجھنا’ کسی موضوع یا صورتحال کے بارے میں علم ہے،ویڈیو کے تناظر میں ان اصطلاحات کا استعمال گمراہ کن تھا۔

    ذاتی طور پر،سرکاری حیثیت میں کوئی بھی جسمانی قربت انتہائی نامناسب ہے۔ جونیئر کے لباس کو درست کرنے والا سینئر، چاہے اسکی نیت کتنی ہی مثبت کیوں نہ ہو، سرکاری ماحول میں ناقابل قبول ہے۔
    اگر یہ عمل واقعی ‘ہمدردی’ تھا، تو سب سے زیادہ ہمدردانہ عمل یہ ہوتا کہ اسے سوشل میڈیا پر مکمل طور پر شیئر نہ کیا جاتا۔ حجاب کی حرمت کا احترام کیا جاتا اور پولیس افسر کے وقار کو برقرار رکھا جاتا

  • بیڈ روم میں گھس کرحملہ کیا گیا،سابق رکن اسمبلی کی بیوہ کی درخواست پر مقدمہ

    بیڈ روم میں گھس کرحملہ کیا گیا،سابق رکن اسمبلی کی بیوہ کی درخواست پر مقدمہ

    اسلام آباد بلوچستان ہاؤس میں سابق رکن قومی اسمبلی عطا قریشی کی اہلیہ پر حملہ ہوا ہے

    حملے کا مقدمہ سابق وزیر بلوچستان حاجی طورخان اور ان کے چار ساتھیوں کے خلاف درج کیا گیا ہے، تھانہ سیکریٹریٹ پولیس نے واقع کی تحقیقات شروع کردیں، درج مقدمہ میں کہا گیا ہے کہ میں پیپلز پارٹی پنجاب کونسل کی ممبر ہوں، سابق رکن اسمبلی کی بیوہ اپنے بیٹے سمیت کمرہ نمبر 202 میں رہتی ہوں، گزشتہ روز 5 افراد زبردستی ہمارے گھر میں داخل ہوئے، ملزمان نے میرے بیٹے اور مجھے تشدد کا نشانہ بنایا،قتل کی دھمکیاں دیں ،میرا پہلے بھی ایک بیٹا قتل ہوچکا یے ،جو افراد میرے کمرے میں داخل ہوئے ان میں حاجی طور خان بلوچستان کا سابق وزیر بتایا گیا ہے، اسکے ساتھ چار افراد تھے جنہوں نے ہمیں ہراساں کیا، بیٹے کو تشدد کا نشانہ بنایا،میں نے روکا تو ملزمان نے میرے بیٹے کو تھپڑ مارے، مجھے بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا،میرا دوپٹہ کھینچ لیا گیا،میں دل کی مریضہ ہوں، ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے،

    قبل ازیں زاہدہ عطا قریشی نے بلوچستان ہاؤس میں خود پر ہونے والے حملے کے بارے میں نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی اور کہا کہ وہ علاج کے سلسلے میں بلوچستان ہاؤس میں رہ رہی ہیں، ان پر اور ان کے بیٹے پر سابق صوبائی وزیر طوراتمان خیل نے ساتھیوں کے ہمراہ بیڈ روم میں گھس کر حملہ کیا، طور اتمان خیل اور ان کے ساتھیوں نےگولیاں مارنے کی دھمکیاں دیں، چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا میرا ایک جوان بیٹا پہلے بھی قتل کیا جاچکا ہے، نگران وزیراعظم، چیف جسٹس اور چیئرمین پیپلز پارٹی ہمارے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھائیں

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

     وزیراعظم انوارالحق کاکڑ سے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی نے ملاقات کی

     نامزد دو افراد کو پولیس نے گرفتار کیا ہے

    سکھر کے سینئر صحافی جان محمد مہر کو گولیاں مار دی گئی ہیں،

    شہری کی بھینسیں اورطلائی زیورات لے جانیکا الزام 

    police case