Baaghi TV

Tag: دکانیں

  • مردہ مرغیاں بیچنے والی دکانوں کو مستقل طور پر سیل کرنے کا حکم

    مردہ مرغیاں بیچنے والی دکانوں کو مستقل طور پر سیل کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے مردہ مرغیاں بیچنے والی دکانوں کو مستقل طور پر سیل کرنے کا حکم دے دیا ہے

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے اسموگ کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا کہ ” فوڈ اتھارٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ ٹولنٹن مارکیٹ میں بہت زیادہ تعداد میں مردہ مرغیاں تلف کیں، ٹولنٹن مارکیٹ کا کچرا کہاں تلف ہوتا ہے تفتیش کرکے رپورٹ دی جائے ، عدالت نے مارکیٹ میں صفائی ستھرائی سے متعلق رپورٹ بھی طلب کرلی، عدالت نے پی ایچ اے سرکاری پارکس کی لوکل کمیٹیز کے ساتھ مل کر دیکھ بھال سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا بھی حکم دیا۔

    عدالت نے شہری ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر گزشتہ سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کیا، عدالت نے سماعت 7 جون تک ملتوی کردی ہے،اگلی سماعت سات جون کو ہو گی.

  • ملک میں کل6579 کلومیٹر سڑکوں، 246 پلوں، 176 دکانوں کو نقصان پہنچا،این ایف آر سی سی

    ملک میں کل6579 کلومیٹر سڑکوں، 246 پلوں، 176 دکانوں کو نقصان پہنچا،این ایف آر سی سی

    نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر (این ایف آر سی سی) کا کہنا ہے کہ 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ نقصان سندھ اور خیبر پختونخوا میں ہوا۔این ایف آر سی سی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سیلاب سے بنیادی ڈھانچے اور نجی املاک کے نقصانات ہوئے ہیں، ملک میں کل6579 کلومیٹر سڑکوں، 246 پلوں، 176 دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    قمبر شہداد کوٹ، لاڑکانہ، خیرپور، دادو، نوشہرو فیروز،ٹھٹھہ،بدین اور جیکب آباد کے اضلاع سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیںں .بلوچستان میں کوئٹہ،نصیرآباد،جعفرآباد،جھل مگسی بھی شدید متاثر ہوئے ہیں جبکہ بولان،صحبت پور، لسبیلہ بھی شدید متاثر ہوئے۔کے پی میں دیر،سوات،چارسدہ،کوہستان،ٹانک،ڈی آئی خان شدید متاثرہ علاقے ہیں، پنجاب میں ڈی جی خان اور راجن پور سیلاب سے شدید متاثر ہیں۔

    این ایف آر سی سی نے بتایا کہ پاک فوج کی سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں، آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز محصور افراد کو نکالنے کیلئے485 پروازیں کرچکے ہیں۔گزشتہ 24 گھنٹوں میں 22 پروازیں کی گئیں، 70 افراد کو بچایا گیا، جبکہ ہیلی کاپٹرز سے 29.9 ٹن امدادی سامان سیلاب متاثرین تک پہنچایا گیا۔

    این ایف آر سی سی کے مطابق اب تک ہیلی کاپٹرز کے ذریعے 4424 پھنسے افراد کو نکالا جاچکا ہے، ریلیف کیمپس اور امدادی اشیا جمع کرنے کے پوائنٹس مکمل فعال ہیں، ملک بھر میں147 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔

    284 کلیکشن پوائنٹس سندھ،جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں قائم ہیں، سیلاب متاثرین کیلئے امدادی اشیا کو جمع اور آگے تقسیم کیا جارہا ہے۔

    این ایف آر سی سی نے بتایا کہ اب تک6 ہزار855 ٹن خوراک متاثرین میں تقسیم کی جاچکی ہے، 1203 ضروری اشیا اور 45 لاکھ 97 ہزار569 ادویات متاثرین کو دی جاچکی ہیں ،متاثرہ علاقوں میں اب تک 250 طبی کیمپ قائم کیے گئے ہیں، طبی کیمپوں میں 1 لاکھ 2721 سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا گیا۔

    اس کے علاوہ پاک فضائیہ اور بحریہ کی جانب سے بھی ریلیف سرگرمیاں جاری ہیں، پاک بحریہ کے 2 ہیلی کاپٹروں نے سندھ کے علاقوں میں50 پروازیں کیں،این ایف آر سی سی کے مطابق پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹرز نے465 افراد کو بچایا،3505 کلو راشن اور 300 کلو ادویات تقسیم کیں،نیوی کی8 غوطہ خور ٹیموں نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں26 غوطہ خور آپریشن کیے۔

    علاوہ ازیں نیوی نے56 میڈیکل کیمپس میں 38 ہزار 496 مریضوں کا علاج کیا گیا، 4 فلڈ ریلیف کیمپس،6 کلیکشن پوائنٹس اور2 خیمہ بستیاں لگائی ہیں۔این ایف آرسی سی نے بتایا کہ پاک فضائیہ کی بھی سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور 90 پروازوں سے 1521 افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔

    پاک فضائیہ نے سیلاب متاثرین میں 4800 ٹینٹس، 2 لاکھ 16 ہزار4 کھانے کے پیکٹ، 2584 کلو راشن کے پیکٹ،1 لاکھ 96 ہزار677 لیٹر پانی، 19 ٹینٹ سٹی، 18ہزار441 لوگوں کو خوراک،خشک راشن اورطبی امداد دی۔این ایف آر سی سی کا کہنا ہے کہ پاک فضائیہ نے اب تک54 ریلیف کیمپ،44 میڈیکل کیمپس لگائے، میڈیکل کیمپس میں 46ہزار980 مریضوں کا علاج کیا گیا ہے۔پاک فضائیہ نے سندھ میں نوابشاہ، سکھر، میرپور خاص، تلہاڑ، جیکب آباد، سیہون میں کام جاری رکے ہوئے ہیں۔

    بلوچستان میں پاک فضائیہ سمگلی،قلعہ عبداللّٰہ اور قلعہ سیف اللّٰہ میں امداد پہنچا رہی ہے، راجن پور،ڈی جی خان،اسکردو، غذر، نلتر، گھانچے، نوشہرہ،چارسدہ،سیدو شریف، شانگلہ، لارام میں مصروف عمل ہے۔

  • اوکاڑہ میں کپڑا شاپش اور جنرل سٹورز مالکان نے دکانیں کھولنے کا مطالبہ کردیا

    اوکاڑہ میں کپڑا شاپش اور جنرل سٹورز مالکان نے دکانیں کھولنے کا مطالبہ کردیا

    اوکاڑہ (علی حسین مرزا) ضلع اوکاڑہ کے مین بازار، مضافاتی علاقوں کی مارکیٹس کے کپڑے اور جنرل سٹورز کے دکانداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں روزانہ دو تین گھنٹے دکانیں کھولنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنی آمدنی کا جزوی ذریعہ بحال کرسکیں۔ باغی ٹی وی سے گفتگو کے دوران کئی دکانداروں نے ہر طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنیکا وعدہ کیا ہے۔ شہریوں نے بھی حکومت سے ایسی دکانیں کھولنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ وہ اپنی ضروریات پوری کرسکیں۔

  • دکانیں بند شادی بیاہ جاری

    دکانیں بند شادی بیاہ جاری

    قصور اور گردونواح میں دکانیں بند میڈیکل سٹور و کھانے پینے کی اشیاء کی دکانیں کھلی لوگ شادی بیاہ میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرنے سے باز نا آئے
    تفصیلات کے مطابق پنجاب گورنمنٹ کی ہدایت کی روشنی میں ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے زبردستی دکانیں بند کروائی ہیں مگر میڈیکل سٹور،کلینک،نان بائی،بیکری اور موٹر سائیکل مرمت کی دکانیں کھلی ہیں گورنمنٹ کی طرف سے دفعہ 144 کے باوجود لوگ شادیوں سے باز نا آئے جن میں سے کافی لوگوں کے قصور پولیس نے پرچے بھی کئے ہیں اس کیساتھ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کم اور موٹر سائیکلوں و گاڑیوں کا رش ہے لوگ چھٹیوں کے باعث ایک دوسرے کو ملنے جا رہے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک اور تشویشناک صورتحال ہے