Baaghi TV

Tag: دھماکہ

  • انقرہ میں دھماکہ کی تحقیقات شروع

    انقرہ میں دھماکہ کی تحقیقات شروع

    ترکیہ میں پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب خودکش دھماکے اور فائرنگ کے سبب آگ بھڑک اٹھنے سے 2 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھی تاہم اب اس کی تحقیقات شروع کردی گئیں ہیں جبکہ ترک وزارت داخلہ کے مطابق انقرہ میں دھماکہ دہشت گرد حملہ ہے، دھماکہ ترکیہ کی پارلیمنٹ کے قریب وزارت داخلہ کی عمارت کے باہر کیا گیا جس سے وہاں آگ بھڑک اٹھی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق ایک خودکش حملہ آور نے وزارت داخلہ کی عمارت کے مرکزی گیٹ سے گاڑی ٹکرائی جس سے زوردار دھماکہ ہوا اور دھویں کے بادل چھا گئے۔ دوسرا حملہ آور جوابی کارروائی میں مارا گیا جبکہ بتایا گیا ہے کہ پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر ناکہ بندی کر دی، دھماکہ پارلیمنٹ کا افتتاحی اجلاس شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل کیا گیا۔

    جبکہ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ انسدادِ دہشت گردی آپریشنوں کی وجہ سے آخری دموں پر آئی ہوئی دہشت گرد تنظیموں کی سیاسی مفادات کی بنا پر حوصلہ افزائی کرنے کا بدل بھاری ہو گا، صدر رجب طیب ایردوان نے ترکیہ قومی اسمبلی کی 28 ویں ٹرم اور دوسرے آئینی سال کے افتتاحی اجلاس میں جنرل کمیٹی سے خطاب کیا ہے۔

    انہوں نے کہا ہے کہ 15 جولائی 2016 کو فیتو دہشت گرد تنظیم کے سامنے سینہ سپر ہونے والی قوم کی جدوجہد ِ جمہوریت سول آئین کے ساتھ سرفراز ہونے کا حق رکھتی ہے۔ آئیے اس حسرت کو ختم کرنے میں عجلت کریں۔ جبکہ صدر ایردوان نے آج صبح انقرہ میں دہشت گردانہ حملے کے بارے میں کہا ہے کہ "ہماری سکیورٹی یونٹوں کی بروقت مداخلت نے دونوں حملہ آوروں کو غیر فعال کر دیا ہے۔ یہ حرکتیں دم توڑی دہشت گرد تنظیم کی آخری ہچکیاں ہیں”۔

    انہوں نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کا مقصد ہمارے شہری امن و امان اور سلامتی کو نشانہ بنانا تھا لیکن وہ نہ تو اپنے مذموم عزائم میں کامیاب ہوئے ہیں اور نہ ہی کبھی ہو سکیں گے۔ ہمارے انسدادِ دہشت گردی آپریشنوں کی وجہ سے آخری سانسیں لیتی دہشت گردتنظیموں کی محض سیاسی مفادات کی بنا پر پیٹھ تھپتھپانے کا بدل بھاری ہو گا۔صدر ایردوان نے کہا ہے کہ جس طرح اس ملک میں فیتو دہشت گرد تنظیم دوبارہ کبھی سر نہیں اٹھا سکے گی اسی طرح اس سے مشابہہ تنظیمیں بھی اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں گی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پرینکسٹر یوٹیوبر کو گولی مارنے والے کو عدالت نے رہا کردیا
    انقرہ میں دھماکہ کی تحقیقات شروع
    ن لیگ کا انتقامی سیاست اور اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کی پالیسی سے گریز کا فیصلہ
    نواز شریف کا مقصد نظام کی اصلاح، عوام کی فلاح ہے. مریم نواز شریف
    کسان کی لگژی گاڑی اوڈی اے 4 میں سبزی بیچنے کی ویڈیو وائرل
    تاہم یورپی یونین ممالک کا ترکیہ کے ساتھ جانبدارنہ روّیہ بھی صدر رجب طیب ایردوان کے ایجنڈے پر تھا، اس بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ یورپی یونین ممالک ویزہ پابندی سمیت ترکیہ کے ساتھ روا رکھی گئی تمام حق تلفیوں سے پیچھے ہٹ کر اپنی غلطیوں کی تصحیح کر سکتے ہیں بصورت دیگر انہیں ترکیہ سے توقعات رکھنے کا کوئی حق نہیں ہو گا۔

  • ہنگو: پولیس مسجد خودکش دھماکے کی ابتدائی رپورٹ تیار

    ہنگو: پولیس مسجد خودکش دھماکے کی ابتدائی رپورٹ تیار

    ہنگو میں پولیس مسجد میں خودکش دھماکے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی گئی، جس کے مطابق پولیس الرٹ ہونے کی وجہ سے نقصان کم ہوا ہے اور اطلاعات ہنگو میں تھانہ دوآبہ کے قریب واقع پولیس لائن مسجد میں خودکش دھماکے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی گئی ہے، پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا۔

    جبکہ رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکار الرٹ ہونے کی وجہ سے نقصان کم ہوا ہے ، 2 خودکش حملہ آوروں نے مسجد میں داخل ہونے کی کوشش کی، پولیس کی جوابی کارروائی سے خودکش حملہ آور باہر ہلاک ہوا اور ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی وجہ سے نمازی بروقت مسجد سے باہر نکلے، نمازی وقت پر مسجد سے نکلنے کی وجہ سے نقصان کم ہوا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ورلڈکپ کے لئے کمینٹیٹرز کے پینل کا اعلان
    سانحہ جڑانوالہ پر جے آئی ٹی نہیں بنائی جائے گی,محسن نقوی
    آئی ایم ایف کا انرجی سیکٹر میں اصلاحات میں بہتری کا مطالبہ

    علاوہ ازیں رپورٹ کے مطابق فائرنگ کے دوران دوسرا خودکش حملہ آور مسجد میں داخل ہوا، حملہ آور کہاں سے آئے؟، پولیس نے تحقیقات شروع کردیں تاہم یاد رہے کہ ہنگو کی تحصیل دوآبہ میں تھانے کی مسجد میں نمازِ جمعہ کے خطبے کے دوران دھماکے میں 5 افراد جاں بحق اور 12 زخمی ہو گئے تھے۔


    کور کمانڈر پشاور جنرل حسن اظہر حیات نے ہنگو میں خودکش حملہ کا نشانہ بننے والی مسجد کا معائنہ کیا اور سی ایم ایچ ہنگو میں زخمیوں کی عیادت کی، خیبر پختونخوا پولیس کے آئی جی اختر حیات نے بھی ہنگو جا کر متاثرہ مسجد کا معائنہ کیا اور اپنی فورس کے جوانوں سے ملاقات کر کے ان کا حوصلہ بڑھایا جبکہ ہنگو میں مسجد میں دھماکہ کے حوالہ سے معلوم ہوا ہے کہ خودکش حملہ آور دو تھے جو جمعہ کی نماز کے دوران مسجد میں گھس کر دھماکے کرنا چاہتے تھے، پولیس اہلکاروں نے مسجد کے گیٹ پر خودکش حملہ آور روکا تو اس نے خود کو وہیں پر اڑا لیا۔ایک خودکش بمبار کے خود کو اڑانے سے اس کی زد میں آ کر دوسرا بھی مارا گیا۔
    جبکہ کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل حسن اظہر حیات نے ہنگو جا کر خودکش حملہ کا نشانہ بننے والی مسجد کا معائنہ کیا۔ جنرل حسن اظہر حیات نے آپریشن میں حصہ لینے والے اہلکاروں سے ملاقات کی، انہوں نے ایک بڑے حادثے سے بچانے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہل کاروں کو سراہا ، کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل حسن اظہر حیات نے سی ایم ایچ ٹل کا بھی دورہ کیا۔ کور کمانڈر نے دھماکے کے زخمیوں سے ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔ کور کمانڈر نے کہا کہ دہشتگردوں کو اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے زخمیوں کے علاج کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کئے، خیبر پختونخوا کے آئی جی پولیس اختر حیات گنڈاپور اور چیف سیکرٹری اسلم چوہدری نے ہنگو جا کر خودکش حملہ سے متاثر ہونے والی مسجد کا جائزہ لیا، انہوں نے دو آبہ پولیس سٹیشن کا بھی دورہ کیا۔

    آئی جی پختونخوا نے خود کش حملے سے شہید ہونے والی مسجد کا جائزہ لیا اور وہاں ڈیوٹی کرنے والے پولیس کے جوانوں سے بات چیت کی، آئی جی اختر حیات گنڈا پور نے پولیس کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختو خواہ پولیس بہاادر جوانوں کی پولیس ہے، جوہر محاذ پر دہشت گردوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔
    آئی جی اختر حیات نے تصدیق کی کہ دو خودکش حملہ آورتھے جو جمعے کی نماز کے دوران مسجد میں گھسنا چاہتے تھے، دوآبہ پولیس کے جوانوں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مین گیٹ پر خود کش بمبار کو روکا جس کی وجہ سے جانی نقصان کم ہوا، انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخواہ پولیس کے مسائل کو حل کرنے کیلئے پالیسی بنا رہے ہیں، آئی جی پختونخوا پولیس کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کیلئے پولیس تمام وسائل کو بروے کار لا رہی ہے۔ دوآبہ پولیس کو جواں مردی سے دہشت گردوں کو روکنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

  • مستونگ، دھماکے میں جے یو آئی رہنما حافظ حمداللہ زخمی

    مستونگ، دھماکے میں جے یو آئی رہنما حافظ حمداللہ زخمی

    مستونگ میں گاڑی کے قریب دھماکا ہوا ہے

    دھماکے کے نتیجے میں جمیعت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حمد اللہ زخمی ہو گئے ہیں، حافظ حمداللہ کے ہمراہ دیگر افراد بھی زخمی ہوئے ہیں

    مستونگ میں جے یو آئی کے رہنماء حافظ حمد اللہ کے قافلے کے قریب بم دھماکہ ہوا ہے،دھماکے میں حافظ حمد اللہ کے زخمی ہو گئے ہیں، پولیس موقع پر پہنچ گئی پولیس حکام کے مطابق دھماکہ چوٹو کے علاقے میں ہوا ہے جائے وقوعہ مستونگ سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے،حافظ حمد اللہ ساتھیوں کے ہمراہ منگوچر جارہے تھے، ریسکیو حکام کے مطابق دھماکے میں 7 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں، حافظ حمداللہ معمولی زخمی ہیں، انکی تصویر سامنے آئی ہے، اطلاعات کے مطابق مبینہ خود کش حملہ آور حافظ حمداللہ کی گاڑی کی ساتھ ٹکرایا ہے جو موٹر سائیکل پر سوار تھا

    hamdullh akhmi

    وزیرِ اعظم انوارالحق کاکڑ نے امستونگ دھماکے میں جمیعت علماء اسلام کے رہنما حافظ حمد اللہ سمیت دیگر افراد کے زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے، وزیرِ اعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ جمیعت علماء اسلام کے رہنما پر حملہ ایک بزدلانہ فعل ہے جس کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتا ہوں.مجھ سمیت پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے،نگران وزیرِ اعظم نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی.

    دہشت گردی میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔مولانا فضل الرحمان
    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حافظ حمداللہ پر ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی، مولانا فضل الرحمان نے حافظ حمداللہ سمیت دیگر زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعاء کی اور کہا کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ صوبائی نگران حکومت اس افسوس ناک واقعہ کے زمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔ مجےیوآئی کے قائدین پر انتخابات سے قبل اس طرح کے حملے کسی صورت میں قابل قبول نہیں۔

    نگران وزیر داخلہ بلوچستان میر محمد زبیر جمالی نے جمعیت علمائے اسلام کے رہنماء حافظ حمد اللہ پر دھماکہ کی شدید الفاظ میں مذمّت کی ہے،وزیر داخلہ نے واقعہ کی رپورٹ طلب کرلی۔ نگراں وزیر داخلہ بلوچستان میر محمد زبیر جمالی کا کہنا تھا کہ انتظامیہ واقعہ کے زخمیوں کو امدادی کارروائیوں میں مدد کرے ،وزیر داخلہ نے حافظ حمد اللہ سمیت واقعہ کے زخمیوں کی صحت یابی کیلئے دعا کی اور کہا کہ واقعہ افسوسناک ہے۔دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے ۔

    دہشت گرد ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں،نگران وزیر داخلہ
    نگران وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے مستونگ میں رہنما جے یو آئی ایف حافظ حمداللہ پر حملے کی شدید مذمت کی اور حافظ حمداللہ اور دیگر زخمیوں کی جلد اور مکمل صحتیابی کی دعا کی،نگران وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی کا کہنا تھا کہ دہشت گرد ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں،پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے،

    ہماری امن پالیسی کو کمزوری سمجھا جارہا ہے،مولانا عبدالغفورحیدری
    جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفورحیدری نے جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما حافظ حمد اللہ پر حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ہماری امن پالیسی کو کمزوری سمجھا جارہا ہے ۔جمعیت علماء اسلام کی قیادت وکارکنان کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔اس سے پہلے مستونگ میں مجھ پر بھی حملہ ہوا۔ ہم ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں تو ریاست بھی ہماری حفاظت کرے ۔جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ پر امن سیاسی جہدوجہد کی ہے ۔حکومت واقعہ کی شفاف تحقیقات کرکے مجرموں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچائے ۔

    مستونگ دھماکہ، حافظ حمداللہ اور انکے ساتھیوں کی حالت بہتر ہے،ترجمان جے یو آئی
    جمعیت علماء اسلام کے ترجمان اسلم غوری نے حافظ حمداللہ پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ حافظ حمداللہ اور انکے ساتھیوں کی حالت بہتر ہے۔ حافظ حمداللہ و دیگر زخمیوں کو کوئٹہ منتقل کردیا گیا ہے۔ حکومت اس افسوس ناک واقع کی انکوائری کرکے زمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچائے ۔ باجوڑ کے بعد یہ واقعہ سیکورٹی اور انٹیلیجنس اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔اس طرح کے بزدلانہ واقعات سے جے یوآئی کو عوام سے رابطے سے روکا نہیں جاسکتا ۔

    سابق صدر آصف علی زرداری نے مستونگ میں بم دھماکے کی مذمت کی، آصف علی زرداری نے دھماکے میں حافظ حمد اللہ سمیت تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی، اور کہا کہ دہشتگردی میں ملوث دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں، بلاول زرداری، شیری رحمان، شرجیل میمن، سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف،یوسف رضا گیلانی و دیگر نے بھی مستونگ دھماکے کی مزمت کی ہے

    ریحام خان نے لکھا کہ کوئٹہ مستونگ روڈ پر دھماکے کی خبر سن کر بہت افسوس ہوا ۔ میری دعا ہے کہ اللہ حافظ حمد اللہ صاحب اور دیگر زخمیوں کو شفاء کاملہ عطا فرمائے اور ہمارے ملک کو دہشتگردی کے ناسور سے پاک کرے۔

    جماعت اسلامی کے رہنما میاں اسلم کا کہنا ہے کہ مستونگ میں جے یو آئی رہنما حافظ حمد اللہ صاحب پر قاتلانہ حملہ افسوس ناک ہے۔ اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کو صحت عطا فرمائے اور وطن عزیز کو دہشت گردی سے محفوظ فرمائے۔ حکومت اور سکیورٹی ادارے کی ذمہ داری ہے کہ وہ دہشت گردی کی حالیہ لہر کے مقابلے میں موثر سٹریٹجی اپنا کر اسکا خاتمہ کریں۔

    حافظ حسین احمد سینئر رہنما جے یو آئی پاکستان کا کہنا تھا کہ حافظ حمد اللہ پر حملہ افسوسناک اور بزدلانہ ہے ،حملے میں ملوث کرداروں اور ذمہ داروں کو ظاہر کیا جائے ،جے یو آئی قیادت اور مذہبی طبقے کو مسلسل دہشت گردی کا نشانہ بنایا جارہا ہے ،حملہ سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں

    سابق وزیراعظم، ن لیگی رہنما ،شہاز شریف کا کہنا تھا کہ مستونگ میں جمیعت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حمداللہ اور ان کے دیگر ساتھیوں کے دھماکے میں زخمی ہونے کی افسوسناک اطلاع موصول ہوئی۔ اس بزدلانہ دہشت گرد حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ نگران حکومت سے اپیل ہے کہ حملے میں ملوث دہشتگردوں کا سراغ لگا کر انہیں جلد از جلد کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ اللہ پاک حافظ حمداللہ سمیت تمام زخمیوں کو جلد صحتیاب کرے، آمین۔

    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے جے یو آئی کے رہنما و سابق سینیٹر حافظ حمد اللہ کی گاڑی پر دہشتگرانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ چیئر مین سینیٹ نے حافظ حمد اللہ سمیت تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ چیئرمین سینیٹ نے بلوچستان حکومت پر زور دیا کہ ذمہ داروں کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ اس واقعہ کی مذمت کے لئے الفاظ نہیں ہیں اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے بلوچستان حکومت کو امن وامان کی صورتحال یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن اقدام اٹھانے کی ہدایت کی.

  • شہدائے پولیس اور سانحہ باجوڑ شہداء کے ایصالِ ثواب کیلئے تورغر  پولیس  نے ختم القرآن کا اہتمام کیا گیا

    شہدائے پولیس اور سانحہ باجوڑ شہداء کے ایصالِ ثواب کیلئے تورغر پولیس نے ختم القرآن کا اہتمام کیا گیا

    تورغر ڈی پی او تورغر بلال احمد کی ہدایت پر ہیڈ کوارٹرز جدباء میں یوم شہداء کی مناسبت سے پولیس شہداء کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا جس میں ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹرفداخان اور ایس ایچ اوز اور دیگر پولیس افسران اور اہلکاروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ قرآن خوانی کے بعد باقاعدہ شہداء کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی گئی۔ ڈی پی او تورغر بلال احمد (پی ایس پی) نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے پولیس شہداء کی قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پولیس شہداء کے خاندانوں کے ساتھ دلی ہمدردی ہے وہ خود کو کسی طور پر تنہا نہ سمجھیں ان کے درد میں برابر کے شریک ہیں اور ان کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا،

  • باجوڑ دھماکے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں درج

    باجوڑ دھماکے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں درج

    باجوڑ دھماکے کا مقدمہ تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کر لیا گیا

    باجوڑ دھماکے کا مقدمہ نامعلوم دہشتگردوں کیخلاف درج کیا گیا ہے، درج مقدمے میں انسداد دہشتگردی سمیت مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں، درج ایف آئی آر کے متن کے مطابق جے یو آئی کے کنونشن میں 300 سے 350 افراد شریک تھے، دوران پروگرام چار بج کر 10 منٹ پر خود کش دھماکا ہوا، دھماکے کے زخمیوں اور مرنیوالوں کو ہسپتال بھجوایا گیا

    باجوڑ دھماکہ ، واقعے کی ابتدائی تحقیقات مکمل
    باجوڑ دھماکہ ، واقعے کی ابتدائی تحقیقات مکمل کر لی گئیں، ابتدائی تحقیقات کے مطابق پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ورکر کنونشن کا سیکیورٹی آڈر نہیں جاری ہوا تھا،ورکرز کنونشن میں سیکیورٹی لیپس کے حوالے سے رپورٹ طلب کر لی گئی، سیاسی اجتماع سے متعلق اعلی پولیس حکام کو اطلاع نہیں دی گئی،ورکرز کنونشن کی اجازت ،سکیورٹی پلان میں غفلت پر بھی تحقیقات جاری ہیں،خیبرپختونخوا حکومت کو واقعے کی ابتدائی رپورٹ دے دی گئی

    دوسری جانب باجوڑ دھماکے کی تحقیقات کے لئے قائم تحقیقاتی ٹیم نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، ایس پی سی ٹی ڈی باجوڑ امجد خان کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم نے شواہد اکھٹے کرلیے ہیں تحقیقاتی ٹیم نے زخمیوں کے بیانات بھی قلمبند کرلیے ہیں جبکہ جائے وقوعہ پر جیو فینسنگ کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے

    علاوہ ازیں کور کمانڈر پشاور نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال خار کا دورہ کیا اور دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی کور کمانڈر نے زخمیوں کے علاج کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایات دیں ،کور کمانڈرٔ پشاور اور آئی جی ایف سی نے جائے وقوعہ کا بھی دورہ کیا، کور کمانڈر اور آئی جی ایف سی کو کل ہونیوالے دھماکے سے متعلق بریفنگ دی گئی کور کمانڈر پشاورکا کہنا تھا کہ غم کی گھڑی میں ہم باجوڑ کے عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

    باجوڑ دھماکہ،حکمرانوں کو استعفیٰ دینا چاہئے، سراج الحق
    پشاور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور صوبائی امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان نے خار ہسپتال باجوڑ کا دورہ کیا،اور ہسپتال میں بم دھماکہ کے زخمیوں کی عیادت کی،اس موقع پر سراج الحق کا کہنا تھا کہ دھماکوں سے کوئی جلسہ، مسجد، بازار اور جنازے محفوظ نہیں، ایک عرصے سے تسلسل سے یہ واقعات ہو رہے ہیں،سوال یہ ہے کہ پاکستان کے شہریوں کی حفاظت کس کی ذمہ داری ہے؟نگران انتظامیہ اپنے سیکرٹریٹ تک محدود ہے،وفاقی حکومت بھی اپنے آخری دنوں کی وجہ سے اپنے معاملات سمیٹنے میں مصروف ہے، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سمیت اس پورے ریجن میں شدید بد آمنی اور پریشانی ہے۔نہ مسجد محفوظ ہے نا پولیس لائن، پشاور کے بعد باڑہ میں بھی پولیس لائن پر حملہ ہوا،افسوس کی بات ہے کہ ان واقعات پر نہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بات ہوئی، نہ کابینہ میں، وزیراعظم نے ذمہ داری قبول کی نہ ہی وزیر اعلیٰ اور گورنر نے اپنی نا اہلی تسلیم کی، کسی اور ملک میں اتنا بڑا واقعہ ہوتا تو حکومت استعفیٰ دے دیتی، قوم سے معافی مانگتی اور ذمہ داری کا احساس کرتی،یہاں کسی لحاظ سے بھی حکومت نظر نہیں آ رہی، حکمران خود کو اور اپنے دفاتر کو محفوظ بنا رہے ہیں، صوبے کے گورنر اور وزیر اعلیٰ پوسٹنگ اور ٹرانسفر کے علاوہ کوئی کام نہیں کررہے،وہ اپنے صوبے کے تحفظ میں سو فیصد ناکام ہوگئے ہیں۔ انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے،خار ہسپتال کے عملے کو شاباش اور خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، سعملے نے فوری طور پر زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا،

    باجوڑ میں جے یو آئی کے ورکر کنونشن میں دھماکا
    قرآن پاک کی بے حرمتی روکنےکی کوشش کرنیوالی خاتون پر چوری کے الزامات
    حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری
    قرآن پاک کی بے حرمتی روکنےکی کوشش کرنیوالی خاتون پر چوری کے الزامات
    حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری

  • باجوڑ؛ جے یو آئی کنونشن دھماکہ میں جانبحق ہونے والوں کی تعداد  35 ہوگئی

    باجوڑ؛ جے یو آئی کنونشن دھماکہ میں جانبحق ہونے والوں کی تعداد 35 ہوگئی

    باجوڑ کے صدر مقام خار میں خود کش دھماکا ہوا، جس میں جے یو آئی خار کے امیر مولانا ضیااللہ جان اور تحصیل ناواگئی کے جنرل سیکٹری مولانا حميد اللہ سمیت 44 افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ آئی جی خیبرپختوانخوا اختر حیات خان نے ”آج نیوز“ کو تصدیق کی ہے کہ خار میں جے یو آئی ورکرز کنونش میں ہونے والا دھماکا خودکش تھا۔ جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی اختر حیات کا کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد خودکش بمبار کے اعضا مل گئے ہیں، جب کہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    ڈپٹی سیکرٹری انفارمیشن جے یو آئی فاٹا خالد جان داوڑ کے مطابق دھماکے میں جے یو آئی خار کے امیر مولانا ضیااللہ جان بھی شہید ہوگئے ہیں۔ جب کہ تحصیل ناواگئی کے جنرل سیکٹری مولانا حميد الله بھی شہید ہونے والوں میں شامل ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکا اسٹیج کے قریب ہوا اور مولانا ضیاء اللہ جان اسٹیج پر موجود تھے کہ دھماکا ہوگیا۔ مولانا ضیاء اللہ جان پر اس سے قبل بھی حملہ ہوچکا تھا، وہ کالعدم داعش کی ہٹ لسٹ میں تھے۔ جے یو آئی کے مطابق اس سے قبل دہشت گرد جے یو آئی کے 22 رہنماؤں کو نشانہ بنا چکے ہیں جن میں مفتی سلطان محمد، قاری الیاس، مفتی شفیع اللہ، مولانا شفیع اللہ اور قاری عبدالسلام شامل ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا میں باجوڑ میں جے یو آئی کے ورکرز کنونشن میں ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے پسماندگان سے افسوس اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے واقعہ پر افسوس کرتے ہیں، شہید ہونے والوں کے لیے مغفرت اور اہل خانہ کو اللہ صبر جمیل عطاء فرمائے۔

    وزیراعظم نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں، واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ داران کی نشاندہی کی جائے۔ جبکہ بم دھماکے پر رد عمل دیتے ہوئے امیر جے یو آئی (ف) فضل الرحمان نے کہا کہ جےیوآئی کے ورکر کنونشن کے دوران دھماکے پر شدید دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے افسوسناک واقعہ کی انکوائری کا مطالبہ کرتے ہیں۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ اللہ تعالی شہداء کے درجات بلند فرمائے، زخمیوں کی صحت یابی کیلئے دعاء گو ہیں، کارکنوں کو پیغام ہے کہ جلد ہسپتال پہنچ کر خون کے عطیات دیں۔ پی ڈی ایم کے سربراہ نے مزید کہا کہ جے یو آئی کے کارکنان پر امن رہے، وفاقی و صوبائی حکومت زخمیوں کو بہترین علاج فراہم کرے۔

    ترجمان ریسکیو 1122 بلال فیضی کے مطابق باجوڑ کے صدر مقام خار کے علاقے نادرہ آفس کے سامنے دھماکے کے باعث 35 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ تمام سٹاف ہسپتال میں موجود ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق تمام شدید زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ جہاں پر چند زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ جمعیت کے حکام نے اپیل کی ہے کہ تمام لوگ خون دینے کے لیے خار ہسپتال پہنچ جائیں۔ تاہم دوسری طرف سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر دھماکے کے بعد جگہ کو گھیرے میں لیکر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما حافظ حمداللہ نے کہا کہ ہمارے پاس جو اطلاع ہے اس کے مطابق ہمارے 10 سے 12 ورکرز شہید ہو چکے ہیں اور کئی درجن زخمی ہیں۔دھماکے کی مذمت کرتے ہیں، اس کنونشن میں مجھے بھی جانا تھا لیکن میں ذاتی مصروفیت کی وجہ سے وہاں نہیں جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ حافظ حمداللہ نے کہا کہ میں حملہ کرنے والوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اگر وہ اسے جہاد کہتے ہیں تو یہ جہاد نہیں ہے، یہ فساد اور کھلم کھلا دہشت گردی ہے، یہ انسانیت پر حملہ ہے، پورے باجوڑ اور ریاست پر حملہ ہے۔میں ریاست اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ اس دھماکے کی تحقیقات ہونی چاہیے، یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ بار بار ہوتا رہا ہے، اس سے پہلے بھی باجوڑ میں ہمارے مختلف سطح کے عہدیداروں کو شہید کیا گیا جس پر ہم نے پارلیمنٹ میں بھی آواز اُٹھائی لیکن آج تک کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

    باجوڑ میں جے یو آئی کے ورکر کنونشن میں دھماکا
    قرآن پاک کی بے حرمتی روکنےکی کوشش کرنیوالی خاتون پر چوری کے الزامات
    حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری
    قرآن پاک کی بے حرمتی روکنےکی کوشش کرنیوالی خاتون پر چوری کے الزامات
    حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری

    دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جے یو آئی ف کے کنونشن میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہیں، دہشت گرد سب کے دشمن ہیں، سوات کی طرح پورے ملک کو دہشتگردی کی نرسریوں سے پاک کرنے کی ضرورت ہے، بم دھماکے میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہیں۔

    علاوہ ازیں اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف اور ڈپٹی اسپیکر زاہد اکرم درانی کی باجوڑ کے صدر مقام خار میں جمعیت علماء اسلام کے ورکرز کنونشن میں بم دھماکے کی مذمت کی ہے اور اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا دھماکے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ معصوم شہریوں کو دھشت گردی کا نشانہ بنانا انتہائی شرمناک فعل ہے، دھشت گرد اور ان بزدلانہ کارروائیوں میں ملوث عناصر انسانیت اور ملک کے دشمن ہیں ، پوری قوم دھشت گردی کے خاتمے کیلئے متحد ہے، دھشت گرد اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے بے گناہ شہریوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی اللہ تعالی سے دھماکے میں شہید ہونے والے کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندانوں کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کے لئے حوصلہ اور ہمت عطا فرمانے کی دعا کی اور اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی دھماکےمیں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کے لئے بھی دعا کی ہے.

    ایران نے باجوڑ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام کے کنونشن میں ہونے والے مہلک دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی۔ جے یو آئی کے کنونشن میں دہشت گردانہ حملے کے بعد، ناصر کنعانی نے ایران کی حکومت اور عوام کی جانب سے پاکستان کی حکومت اور قوم سے تعزیت کرتے ہوئے اس کارروائی کی شدید الفاظ میں مذمت کی جس میں چالیس سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور سینکڑوں افراد شدید زخمی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ آج دہشت گردوں نے ایک بار پھر ایک نئی مجرمانہ کارروائی کا ارتکاب کرکے ہمسایہ اور برادر ملک پاکستان میں اپنے پیاروں کے لیے بہت سے خاندانوں کو غمزدہ کردیا ہے۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کنعانی نے مزید کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور متاثرین کے خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔ اس دہشت گردی کی کارروائی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں۔


    اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانہ شمال ضلع باجوڑ میں ہونے والے المناک دھماکے میں جانوں سے ہاتھ دھونے والے متاثرین کے خاندانوں اور پیاروں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔ انہوں نے مزید لکھا کہ ہم تشدد کے اس گھناؤنے فعل کی پرزور مذمت کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں بے گناہ جانیں ضائع ہوئیں اور بہت سے لوگوں کو نقصان پہنچا۔ پرامن اور جمہوری معاشرے میں ایسی دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ ہم اس مشکل وقت میں پاکستانی عوام کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ امریکی سفارتخانے نے لکھا کہ ہم دہشت گردی سے نمٹنے اور اس کے شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔

  • مسجد کو شہید کرنے اور انسانی جانوں کا ضیاع کرنے والوں کا اسلام سے کو تعلق نہیں

    مسجد کو شہید کرنے اور انسانی جانوں کا ضیاع کرنے والوں کا اسلام سے کو تعلق نہیں

    اسلام امن کا درس دیتا ہے،اسلام کے نام پہ بے گناہ انسانوں کے جانوں کا ضیاع کرنے والے کبھی مسلمان نہیں ہو سکتے نہ ہی وہ دائرہ اسلام میں آسکتے ہے،خیبر پختونخوا کے علاقے جمرود کی جامع مسجد علی میں ہونے والے دھماکے کی علمائے کرام نے شدید مذمت کی ہے اور اس پر اپنے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔
    علامہ حذیفہ افضل نے کہا ہے کہ مسجد میں خود کش دھماکا کرکے اللہ کے گھر کو شہید کیا گیا، ہر ایسا فرد اور ہر ایسی تنظیم جو بم دھماکوں کے ذریعے مسجد کو شہید کرتی ہے یا انسانوں کی قیمتی جانوں کا ضیاع کرتی ہے، اس تنظیم یا فرد کا اسلام یا انسانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
    انہوں نے کہا کہ انتظامیہ ایسی تنظیموں پر کڑی نظر رکھے اور ان کا سدباب کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ آنے والے وقت میں اللہ کے گھر اور مسلمانوں کی جان و مال ان تنظیموں کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔علامہ ڈاکٹر ظہیر عباس قادری نے کہا کہ ایس ایچ او عدنان آفریدی نے دہشتگرد کا تعاقب کیا تاکہ اس کے عزائم کو خاک میں ملا سکیں مگر امن دشمن نے مسجد میں داخل ہوتے ہی خود کو بم دھماکے سے اڑا دیا۔ظہیر عباس قادری نے کہا ہے کہ ان دہشتگردوں نے یہ پہلی مسجد شہید نہیں کی بلکہ پاکستان کے اندر مختلف مواقع پر یہ مساجد اسلامیہ پر حملے کرتے رہے ہیں۔ ایسے لوگ دہشتگرد ہیں اور اسلام کے دشمن ہیں، ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔انہوں نے کہا کہ میں بطور عالم دین اس دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں، نبی کریم ؐ کے فرمان کے مطابق یہ لوگ منافقین ہیں۔ اللہ ان کے شر سے پاکستان کو محفوظ رکھے۔

  • باڑہ کمپاؤنڈ پر حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی چوری کی تھی

    باڑہ کمپاؤنڈ پر حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی چوری کی تھی

    باڑہ خودکش حملہ آور کے زیر استعمال گاڑی ایک ہفتہ قبل راولپنڈی سے چوری ہوئی تھی۔ پولیس کے مطابق گاڑی کی چوری کا مقدمہ نیوٹاؤن راولپنڈی تھانے میں درج ہے، گاڑی کا نمبر ایل ای جی 9086 ہے۔دہشت گردوں کے زیر استعمال گاڑی 12 جولائی کو سٹی شاپنگ سینٹر راولپنڈی سے چوری ہوئی تھی۔
    پولیس کے مطابق گاڑی کا ماڈل 2011 ہے اور اس کا رنگ سفید ہے، گاڑی کے مالک حمزہ نے چوری کے بعد ایف آر درج کروائی تھی۔
    ایف آئی آر کے مطابق پولیس کو بیان میں گاڑی کے مالک حمزہ کا کہنا تھا کہ سٹی شاپنگ سینٹر میں فیملی کے ساتھ شاپنگ کررہا تھا واپس ایا تو گاڑی غائب تھی۔واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کی تحصیل باڑہ کے کمپاؤنڈ گیٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 4 پولیس اہلکار شہید اور 8 زخمی ہوگئے جبکہ حملہ آور مارے گئے۔

  • کے  پی کے نگران وزیر اعلی کا سی ایم ایچ پشاور کا دورہ

    کے پی کے نگران وزیر اعلی کا سی ایم ایچ پشاور کا دورہ

    نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد اعظم خان نے سی ایم ایچ پشاور کا دورہ کیا جہاں انہوں نے حیات آباد میں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی پر دھماکے کے نتیجے میں فرنٹیئر کور کے زخمی ہونے والے اہلکاروں کی عیادت کی۔نگران صوبائی وزیر بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکا خیل اور وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان بھی وزیر اعلیٰ کے ہمراہ تھے۔وزیر اعلیٰ نے زخمی اہلکاروں سے فرداً فرداً ملاقات کر کے ان کی خیریت دریافت کی۔ انہوں نے زخمی اہلکاروں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی اور کہا کہ ملک و قوم کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حیات آباد دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانابزدلانہ فعل ہے، انہوں نے کہا پوری قوم سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ، محمد اعظم خان صوبائی حکومت کو تاکید کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کی ہر ممکن مدد فراہم کر کے مکمل طبی امداد دی جائے،نگران وزیر اعلی کا مزید کہنا تھا کہ دہشتگردوں کے یہ بزدلانہ کاروایاں کبھی ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتی،پوری قوم کو یکجا ہو کر اس طرح کے کاروائیوں کو ناکام بنایا جائے گا،

  • شمالی وزیرستان؛ خودکش دھماکے میں 3 اہلکار شہید جبکہ 10شہری زخمی

    شمالی وزیرستان؛ خودکش دھماکے میں 3 اہلکار شہید جبکہ 10شہری زخمی

    شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی چیک پوسٹ پر خودکش دھماکے میں تین جوان شہید جبکہ 10 شہری زخمی ہوگئے ہیں اور زخمی شہریوں کو طبعی امداد کے بعد فوری طور پر اسپتال داخل کردیا گیا ہے جبکہ ڈی پی او شمالی وزیرستان سلیم ریاض کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے طلحہ چیک پوسٹ کے قریب خود کو دھماکے سے اڑایا دیا جس کے نتیجے میں تین جوان شہید اور 10 شہری زخمی ہوئے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ شہید اور زخمی افراد کو میرانشاہ اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ دہشت گردوں کی گرفتاری کےلیے علاقے میں سیکورٹی فورسز نے سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔ ڈی پی او کے مطابق حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
    مزید یہ پڑھیں؛
    امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس سے کوکین برآمد
    اسحاق ڈار کی امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات
    لاہورمیں 285 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوچکی ہے،عامر میر
    سی پیک کے دس سال مکمل،وزیراعظم شہبازشریف کی چین اورپاکستان کو مبارکباد

    تاہم خیال رہے کہ تین روز قبل خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز نے امن دشمنوں کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے تین دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا تھا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کیا، اس دوران سکیورٹی فورسز اور امن دشمنوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، فائرنگ کے تبادلے کے دوران تین دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے۔

    ادھر آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق پ شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں ایک کار میں سوار خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں 3 فوجی جوان جام شہادت نوش کرگئے۔ شہداء میں میانوالی کے 41 سالہ نائب صوبیدار صاحب خان، ڈی آئی خان کے 40 سالہ نائیک محمد ابراہیم اور مردان کے 24 سالہ سپاہی جہانگیر خان شامل ہیں۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق دھماکے میں 3 بے گناہ شہری بھی زخمی ہوئے جبکہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور کا مقصد سیکیورٹی فورسز کی چوکی کو نشانہ بنانا تھا تاہم ڈیوٹی پر موجود سپاہیوں نے خود کش حملہ آور کو بروقت روکا، سپاہیوں کے بروقت اقدام سے بڑا سانحہ ہونے سے بچ گیا۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور ہمارے بہادر سپاہیوں کی یہ قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    علاوہ ازیں وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے شمالی وزیرستان کے علاقہ میران شاہ میں دہشت گردوں کے خودکش حملے میں فوجی جوانوں کی شہادت پر دلی دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ وزیرِ اعظم نے جام شہادت نوش کرنے والے نائب صوبیدار صاحب خان، نائیک محمدابراہیم، سپاہی جہانگیر خان کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

    شہباز شریف نے واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کیلئے جلد صحت یابی اور شہداء کے اہلِ خانہ کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ اِن بہادر جوانوں نے چوکی پر حملے کو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ناکام بنایا اور قوم کو بہت بڑے نقصان سے بچایا، پاکستانی قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مسلح افواج کے بہادر جوان اپنے خون سے اس ملک کی بقاء کی آبیاری کر رہے ہیں۔