Baaghi TV

Tag: دھماکے

  • امریکا کا چین پر خفیہ ایٹمی دھماکوں کا الزام، بیجنگ کا  سخت ردعمل

    امریکا کا چین پر خفیہ ایٹمی دھماکوں کا الزام، بیجنگ کا سخت ردعمل

    امریکا نے چین پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے جون 2020 میں خفیہ طور پر ایٹمی تجربہ کیا، جو لداخ کی گلوان وادی میں بھارت اور چین کے درمیان جھڑپوں کے چند دن بعد کیا گیا، جس پر چین نے سخت ردعمل دیا ہے۔

    امریکی انڈر سیکریٹری آف اسٹیٹ فار آرمز کنٹرول تھامس ڈی نانو نے سوئٹرزلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی تخفیفِ اسلحہ کانفرنس کے دوران الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکومت کو علم ہے کہ چین نے جوہری دھماکوں پر مشتمل تجربات کیے، جن میں سینکڑوں ٹن طاقت کے تجربات کی تیاری بھی شامل تھی۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ چین نے ایٹمی تجربات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ یہ ایٹمی تجربات پر پابندی سے متعلق وعدوں کی خلاف ورزی ہے اس مقصد کے لیے ’ڈیکپلنگ‘ نامی طریقہ استعمال کیا تاکہ دھماکوں کی لہروں کو محسوس نہ کیا جا سکےچین نے ایسا ہی ایک جوہری تجربہ 22 جون 2020 کو بھی کیا تھا۔

    امریکی عہدیدار نے کانفرنس کے بعد سوشل میڈیا پر بھی مؤقف دہرایا اور کہا کہ ’نیو اسٹارٹ‘ معاہدے کے خاتمے کے بعد موجودہ جوہری کنٹرول نظام اب مؤثر نہیں رہا ان کے مطابق 2026 میں ایک جوہری طاقت اپنی صلاحیتیں غیر معمولی رفتار سے بڑھا رہی ہے جبکہ دوسری طاقت ایسے جوہری نظام تیار کر رہی ہے جو کسی معاہدے کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔

    واضح رہے کہ نیو اسٹارٹ معاہدہ 2010 میں امریکا اور روس کے درمیان طے پایا تھا، جو فروری 2026 کے اوائل میں ختم ہو گیا اس معاہدے کے خاتمے کو عالمی جوہری اسلحہ کنٹرول کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے اس سے قبل روس 2023 میں جامع جوہری تجرباتی پابندی معاہدے (سی ٹی بی ٹی) کی توثیق بھی واپس لے چکا ہے۔

    رائٹرز کے مطابق چین کے سفیر برائے تخفیفِ اسلحہ شین جیان نے امریکی الزامات کا براہِ راست جواب نہیں دیا، تاہم انہوں نے کہا ہے کہ چین نے ہمیشہ جوہری امور میں ذمہ دارانہ اور محتاط رویہ اختیار کیا ہے امریکا نام نہاد ’چینی جوہری خطرے‘ کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے اور اسلحہ کی دوڑ میں اضافے کا اصل ذمہ دار امریکا خود ہے۔

    شین جیان نے کہا کہ چین اس مرحلے پر امریکا اور روس کے ساتھ نئے جوہری مذاکرات میں شامل نہیں ہوگا چین کا مؤقف ہے کہ اس کے جوہری وارہیڈز کی تعداد امریکا اور روس کے مقابلے میں کہیں کم ہے چین کے پاس تقریباً 600 جبکہ واشنگٹن اور ماسکو کے پاس تقریباً چار، چار ہزار جوہری وارہیڈز موجود ہیں امریکا کو سرد جنگ کی سوچ ترک کر کے مشترکہ اور تعاون پر مبنی سلامتی کے تصور کو اپنانا چاہیے۔

  • بنوں اور کوہاٹ میں دھماکے، دو افرادہلاک

    بنوں اور کوہاٹ میں دھماکے، دو افرادہلاک

    خیبرپختونخوا میں دھماکوں یک زیر تعمیر عمارت اور ایک رہائشی مکان کو شدید نقصان پہنچا جبکہ دو افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    خیبرپختونخوا کے شہروں بنوں اور کوہاٹ میں دھماکوں کے دو علیحدہ علیحدہ واقعات پیش آئے،بنوں کے تھانہ ککی کی حدود میں واقع نیکم ککی کے علاقے میں ریسکیو 1122 کے زیر تعمیر دفتر کو شدت پسندوں نے نشانہ بنایا پولیس کے مطابق شرپسندوں نے عمارت میں نصب بارودی مواد کے ذریعے دھماکہ کیا جس کے نتیجے میں عمارت کو نقصان پہنچا، واقعے کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے، جن کی تلاش کے لیے کارروائی جاری ہے۔

    دوسری جانب کوہاٹ کے علاقے درہ آدم خیل کے گاؤں آخورال میں زوڑ آخور ٹیوب ویل کے قریب ایک گھر میں پراسرار دھماکہ ہوا،ریسکیو ذرائع کے مطابق اس افسوسناک واقعے میں دو افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، دھماکے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی میڈیکل اور ڈیزاسٹر ریسپانس ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، دھماکے سے مکان کو شدید نقصان پہنچا جبکہ اس کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔

  • اسرائیل کا ایران پر فضائی حملہ،تہران،شیراز ،کرج میں دھماکے

    اسرائیل کا ایران پر فضائی حملہ،تہران،شیراز ،کرج میں دھماکے

    اسرائیل نے یکم اکتوبر کو ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں کے جواب میں ایرانی دارالحکومت تہران، شیراز اور کرج پر فضائی حملے کیے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے تہران میں متعدد دھماکوں کی تصدیق کی ہے، جہاں تہران اور قریبی شہر کرج میں پانچ دھماکوں کی آوازیں سنائی گئیں۔ عرب میڈیا کے مطابق یہ دھماکے پاسداران انقلاب کے ہیڈکوارٹر کے قریب ہوئے۔ اسرائیلی حملوں کے بعد کئی مقامات پر آگ لگنے کی بھی اطلاعات ہیں، اور ایک عمارت میں آگ لگنے کی خبر ہے، حالانکہ تہران کے فائر بریگیڈ نے وضاحت کی ہے کہ اس عمارت کا وزارت دفاع سے کوئی تعلق نہیں۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق، ایک اہم سیکیورٹی عمارت میں دھماکے ہوئے ہیں اور دعویٰ کیا گیا کہ اس عمارت سے دس سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔ کرج وہ شہر ہے جہاں ایران کے نیوکلیئر پاور پلانٹس واقع ہیں، لیکن یہ واضح نہیں کہ نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا یا نہیں۔اسرائیل نے حملے سے پہلے وائٹ ہاؤس کو آگاہ کر دیا تھا۔ اسرائیلی ڈیفنس فورس کے مطابق، اس فضائی حملے میں کئی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ایران اور خطے میں اس کی پراکسیز کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دمشق کے مختلف علاقوں اور عراق کے شہر تکریت میں بھی دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں، اور اس وقت دونوں ممالک کی فضاؤں میں کوئی طیارہ موجود نہیں تھا۔

    ایرانی انٹیلی جنس حکام نے بتایا ہے کہ دھماکوں کی وجہ ممکنہ طور پر ایران کے فضائی دفاعی نظام کا فعال ہونا ہو سکتا ہے۔ ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حملے میں پاسداران انقلاب کا کوئی دفتر نشانہ نہیں بنایا گیا۔عرب میڈیا کے مطابق، تہران ایئرپورٹ کے قریب بھی دھماکے ہوئے، اور ان دھماکوں کی اطلاعات پر ایرانی فضائی حدود سے پروازوں کا رخ موڑ دیا گیا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے اپنے دفاع کی مشق ہیں، اور صدر بائیڈن کو اس کارروائی سے پہلے آگاہ کیا گیا تھا۔ قومی سلامتی کونسل کے ترجمان نے وضاحت کی کہ اس حملے کا مقصد اسرائیل کی جانب سے اپنے دفاع کو مضبوط کرنا ہے، اور یہ یکم اکتوبر کو ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں کا جواب ہے۔

    یہ صورتحال خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے، اور عالمی برادری کی نظریں اس پر مرکوز ہیں کہ کس طرح یہ تنازع مزید بڑھ سکتا ہے۔

  • لبنان پیجر دھماکے،بھارت بھی ملوث نکلا،تہلکہ خیز انکشاف

    لبنان پیجر دھماکے،بھارت بھی ملوث نکلا،تہلکہ خیز انکشاف

    لبنان پیجر دھماکوں میں نیاانکشاف سامنے آیا ہے، پیجر دھماکوں میں بھارت کا بھی ہاتھ نکلا، ہندو نژاد نارویجین شہری نورٹا کا مالک نکلا

    ناروے کے تاجر رنسن جوز کی کمپنی نورٹا گلوبل نے پیجر لبنان میں حزب اللہ کو بھجوائے تھے، رنسن جوزکی بھارتی ریاست کیرالہ میں پیدا ہوا تھا، وہاں سے ایم بی اے کرنے کے وہ بعد ناروے چلا گیا تھا ۔ کیرالہ کے معروف اخبار منورما کی ایک رپورٹ کے مطابق رنسن کے والد ہوزے موتھیدم منانتھاوڑی میں ایک دکان میں درزی کا کام کرتے تھے، انہیں علاقے میں ‘ٹیلر ہوزے’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔رنسن جوز کا تعلق بھارت سے ہے، بھارت اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی میں مدد کر رہا ہے، پیجر دھماکوں میں بھی بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ ہو سکتا ہے، کیونکہ جس کمپنی نے پیجر بھجوائے اسکا مالک بھارتی ہے،

    لبنان میں پیجر دھماکوں کے بعد نورٹا گلوبل جو صوفیہ، بلغاریہ میں رجسٹرڈ کمپنی ہے، نے اپنی ویب سائٹ کو بھی حذف کر دیا، نورٹا آفس بھی اس کے رجسٹرڈ پتے پر اب موجود نہیں ہے،بھارتی مالک رنسن جوز نے میڈیا کے سوالوں کا جواب دینے اور کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے،ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، کیرالہ پولیس اور مرکزی حکومت کی ایجنسیوں نے کیرالہ میں رنسن کے آبائی گاؤں اونڈیانگڈی میں تحقیقات شروع کر دی ہے، رنسن، درزی موتھیداتھ جوز اور گریسی کا بیٹا، اپنی بیوی کے ساتھ ناروے میں رہتا ہے، اس کا بھائی برطانیہ میں کام کرتا ہے اور اس کی بہن آئرلینڈ میں نرس ہے۔ اس کے چچا تھانچاچن نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کہ خاندان گزشتہ تین دنوں سے ان سے رابطہ نہیں کر پا رہا تھا، ناروے کی انٹیلی جنس ایجنسی اور اوسلو پولیس ابھی تک اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔رنسن جوزکی نورٹا گلوبل کے علاوہ اوسلو میں ڈی این میڈیا گروپ میں بھی پانچ برسوں سے کام کر رہے ہیں، خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کی ایک رپورٹ کے مطابق، جوز چند سال قبل اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے ناروے گئے تھے۔ اوسلو واپس جانے سے پہلے اس نے مختصر طور پر لندن میں کام کیا۔ ڈی این میڈیا نے اخبار ورڈنز گینگ کو بتایا کہ وہ منگل سے بیرون ملک کام کے دورے پر ہیں اور وہ ان تک نہیں پہنچ سکے۔جوزکی اہلیہ کا بھی گزشتہ کئی دنوں سے رابطہ نہیں ہے، بتایا جاتا ہے کہ بلغاریہ میں واقع نورٹا گلوبل کی بنیاد کیرالہ کے وائناڈ میں پیدا ہوئے رنسن ہوزے نے رکھی تھی۔

    دوسری جانب بلغاریہ کے قومی سلامتی کے ادارے کا کہنا ہے کہ فرم کے مالک نے تجارتی سامان کی خرید و فروخت سے منسلک کوئی لین دین نہیں کیا اور یہ دہشت گردی کی مالی معاونت سے متعلق قوانین کے تحت آتا ہے،حزب اللہ نے پیجرز دھماکوں کا ذمہ دار اسرائیل کو ٹھہرایا تھا لیکن ابھی تک اسرائیلی حکومت نے ان حملوں پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا

    علاوہ ازیں اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ لبنان میں مبینہ طور پر حزب اللہ کے زیراستعمال مواصلاتی آلات کے دھماکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور یہ جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں،غزہ کی پٹی اور لبنان میں اسرائیل اور ایرانی حمایت یافتہ تنظیموں کے درمیان کشیدگی ایک وسیع علاقائی تنازع کا باعث بن سکتی ہے ،اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق ووکلر ترک کا کہنا ہے کہ شہریوں میں تشدد کے ذریعے دہشت پھیلانا جنگی جرم ہے یہ حملے جنگ میں ایک نئی پیشرفت کی جانب اشارہ کرتے ہیں، جہاں مواصلاتی آلات بازاروں، گلیوں اور گھروں میں پھٹنے والے ہتھیار بن جاتے ہیں دھماکوں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کی ضرورت ہے جن لوگوں نے ان حملوں کا حکم دیا اور یہ کیے، ان کو ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے

    اسرائیل کا پیجرز میں دھماکا خیز مواد نصب کرنے کا انکشاف

    لبنان میں پیجرز دھماکوں کے پیچھے کون؟،نیویارک ٹائمز کا انکشاف

    واضح رہے کہ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق پیجرز اور واکی ٹاکیز میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے، جبکہ 287 افراد زخمی ہیں جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ان دھماکوں کے بعد لبنانی عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، اور حزب اللہ نے ان حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے اعلان جنگ قرار دیا ہے۔حزب اللہ کے سربراہ نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل کا مقصد مواصلاتی آلات جیسے پیجرز اور واکی ٹاکیز کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنانا تھا۔

    اسرائیلی وزیراعظم کے قتل کی سازش کے الزام میں ایک شخص گرفتار

    لبنان،پیجرز دھماکوں میں 11 اموات،4 ہزار سے زائد زخمی،اسرائیل پر الزام

    لبنان میں پیجر دھماکوں پرحزب اللہ کا بیان جاری

    امریکہ نے لبنان میں پیجر دھماکوں پر ردعمل ظاہر کر دیا

    بیروت : ایران کے سفیر مجتبیٰ عمانی اسرائیلی پیجر دھماکوں میں زخمی، لبنان میں خون کے عطیات کی اپیل

    اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم کے مشیر نے دھماکوں میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھماکے ممکنہ طور پر اسرائیل کی طرف سے کی گئی کارروائی ہو سکتی ہیں۔ اس بیان نے علاقے میں مزید کشیدگی پیدا کر دی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کی گہرائی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔یہ دھماکے لبنان میں حالیہ دنوں میں ہونے والے سب سے سنگین واقعات میں سے ایک ہیں، اور اس نے لبنان کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور مقامی حکومتوں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے کہ وہ اس صورتحال کو کیسے سنبھالتے ہیں اور متاثرین کی مدد کس طرح کی جاتی ہے۔

    یہ حملہ اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ پر ایک نیا اور مؤثر طریقہ کار ہے، جو کہ ان کے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

  • لبنان میں پیجرز دھماکوں کے پیچھے کون؟،نیویارک ٹائمز کا انکشاف

    لبنان میں پیجرز دھماکوں کے پیچھے کون؟،نیویارک ٹائمز کا انکشاف

    نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان میں پیجرز پر حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی طرف سے عربی میں جعلی پیغام بھیجا گیا جس کو پڑھنے کیلئے آن کرتے ہی پیجرز دھماکے ساتھ پھٹ گئے

    امریکی اخبار کے مطابق لبنان میں الیکٹرانک آلات کے ذریعے حزب اللہ پر حملے کو آپریشن لبنان کا نام دیا گیا ہے اور اسکے لئے ڈیڑھ برس سے تیاری جاری تھی،آپریشن لبنان کے لئے اسرائیل کے 12 موجودہ اور سابق دفاعی اور انٹیلی جنس اہلکاروں کو حملے کے حوالہ سے بریفنگ دی گئی تھی یہ آپریشن لبنان پیچیدہ اور طویل عمل تھا جس کے لئے مناسب وقت کا انتظار کیا گیا،اسرائیلی خفیہ ایجنسی شن باتھ نے پانچ ہزار پیجرز کے اندر دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا، حزب اللہ نے 6 ماہ پہلے بوڈاپسٹ سے درآمد کیا تھا،امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق وائرلیس کمیونیکیشن ڈیوائس کے دھماکوں کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے، اسرائیل نے ایک جعلی کمپنی قائم کی جس نے وائرلیس کمیونیکیشن ڈیوائسز کی بین الاقوامی صنعت کار ہونے کا روپ دھارا، بوڈاپیسٹ میں قائم بی ای سی کنسلٹنگ اسرائیلی محاذ کا حصہ تھی، اس آپریشن میں شامل اسرائیلی انٹیلی جنس کے ارکان کی شناخت چھپانے کے لیے کم از کم دو اضافی کمپنیاں قائم کی گئی تھیں۔

    لبنان کےانٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی نے اپنے قیام کے سال 2021سے لے کر اب تک عام گاہکوں کے لئے بھی عام پیجرز تیار کئے اور انہیں فروخت کیا،2022 میں پیجرز کو کم تعداد میں لبنان بھیجا گیا اور اس کے بعد آرڈرز میں اضافہ ہوا ،پیجر مینوفیکچرنگ سپلائی چین کے ساتھ کام کرنے والوں نے پانچ ہزار سے زیادہ پیجرز کے اندر ایک سے دو گرام دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا، اس کے بعد اسرائیلی ٹروجن ہارسز لبنان کو برآمد کیے گئے تھے ،ان پیجرز کو فعال کرنے کے احکامات منگل کو دئے گئے، اور اس کے لئے پیجرز پر حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کا عربی میں جعلی پیغام بھیجا گیا تھا جس کو دیکھنے کے لئے کھولتے ہی دھماکہ ہو گیا

    امریکی اخبار کے مطابق لبنان دھماکوں میں استعمال ہونے والے پیجرز تائیوان یا ہنگری نے نہیں بلکہ اسرائیلی انٹیلیجنس نے تیار کیے تھے،ہنگری کی کمپنی اسرائیلی جاسوسی نیٹ ورک کی فرنٹ کمپنی کا حصہ تھی، ہنگری کی کمپنی اور اسرائیل کے درمیان براہ راست رابطے کے لیے 2 مزید جعلی کمپنیاں بنائی گئی تھیں،اسرائیل نے واکی ٹاکیز میں صرف بارود نہیں لگایا، اصل میں مینوفیکچرنگ کی، بلغارین میڈیا کے مطابق بلغاریہ کی کمپنی نےحزب اللّٰہ کو پیجرز سپلائی کیے،

    واضح رہے کہ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق پیجرز اور واکی ٹاکیز میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 37 ہو گئی ہے، جبکہ 287 افراد زخمی ہیں جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ان دھماکوں کے بعد لبنانی عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے، اور حزب اللہ نے ان حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے اعلان جنگ قرار دیا ہے۔حزب اللہ کے سربراہ نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل کا مقصد مواصلاتی آلات جیسے پیجرز اور واکی ٹاکیز کے ذریعے لوگوں کو نشانہ بنانا تھا۔

    اسرائیلی وزیراعظم کے قتل کی سازش کے الزام میں ایک شخص گرفتار

    لبنان،پیجرز دھماکوں میں 11 اموات،4 ہزار سے زائد زخمی،اسرائیل پر الزام

    لبنان میں پیجر دھماکوں پرحزب اللہ کا بیان جاری

    امریکہ نے لبنان میں پیجر دھماکوں پر ردعمل ظاہر کر دیا

    بیروت : ایران کے سفیر مجتبیٰ عمانی اسرائیلی پیجر دھماکوں میں زخمی، لبنان میں خون کے عطیات کی اپیل

    اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم کے مشیر نے دھماکوں میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھماکے ممکنہ طور پر اسرائیل کی طرف سے کی گئی کارروائی ہو سکتی ہیں۔ اس بیان نے علاقے میں مزید کشیدگی پیدا کر دی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کی گہرائی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔یہ دھماکے لبنان میں حالیہ دنوں میں ہونے والے سب سے سنگین واقعات میں سے ایک ہیں، اور اس نے لبنان کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور مقامی حکومتوں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے کہ وہ اس صورتحال کو کیسے سنبھالتے ہیں اور متاثرین کی مدد کس طرح کی جاتی ہے۔

    یہ حملہ اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ پر ایک نیا اور مؤثر طریقہ کار ہے، جو کہ ان کے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

  • لبنان،پیجرز دھماکوں میں 11 اموات،4 ہزار سے زائد زخمی،اسرائیل پر الزام

    لبنان،پیجرز دھماکوں میں 11 اموات،4 ہزار سے زائد زخمی،اسرائیل پر الزام

    لبنان کے دارالحکومت بیروت میں سلسلہ وار دھماکوں میں تقریباً 11 افراد کی موت ہوئی ہے جبکہ 4 ہزار کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں،دھماکےحزب اللہ کے زیر استعمال پیجر (وائرلیس کمیونیکیشن ڈیوائس) میں ہوئے،حزب اللہ اور لبنان نے ان دھماکوں کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہےتاہم تل ابیب نے ان الزامات پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا

    مغربی خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ جن پیجر میں دھماکے ہوئے تھے وہ لبنان نے چند ماہ پہلے تائیوان سے خریدے تھے،سیکورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیجرز میں لبنان پہنچنے سے پہلے دھماکا خیز مواد نصب کیا گیا تھا، حزب اللّٰه تک پہنچنے سے پہلے پیجرز میں چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی، پیجرز پر نئے پیغام کا سگنل آنے کے چند سکینڈ بعد ایک ساتھ دھماکے ہوئے، پیغام رسانی کے لیے پیجرز لبنانی گروپ حزب اللّہ اور ہیلتھ ورکرز بشمول ڈاکٹرز استعمال کررہے تھے،میڈیا رپورٹس کے مطابق پیجرز تائیوان سے براہ راست لبنان پہنچے یا کسی تیسرے ملک سے لبنان درآمد کئے گئے اس حوالے سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں،ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ پیجر جدید ترین نظام پر میسج بھیجتا ہے مگر ہیکنگ ممکن ہے، تاہم پیجر ریڈیو فریکوئنسی پر کام کرتے ہیں جنھیں کنٹرول کیا جاسکتا ہے، اسرائیلی حملوں سے محفوظ رہنے کے لیے لبنان میں اسمارٹ فونز کا استعمال کم ہوچکا ہے، مختلف اقسام کے پیجرز اسرائیلی سیکیورٹی حکام بھی استعمال کرتے ہیں،عرب میڈیا کے مطابق پیجر ڈیوائسز میں دھماکے جنوبی لبنان اور بیروت کے نواحی علاقوں میں ہوئے، حزب اللہ کے زخمی ارکان کو اسپتال پہنچا دیا گیا ہے جن میں سے کئی کی حالت تشویش ناک ہے

    دوسری جانب ایران نے لبنان میں پیجر دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسرائیل کی دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا ، پیجر دھماکوں کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس اراقچی نے لبنانی وزیر خارجہ کو ٹیلیفون کیا اور دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کی،ایرانی وزیر خارجہ نے ایرانی سفیر کو فوری طبی امداد فراہم کرنے پر لبنان کا شکریہ ادا کیا ،علاوہ ازیں اقوام متحدہ نے بھی لبنان میں پیجر ڈیوائس دھماکوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے، ترجمان کا کہنا ہے کہ لبنان میں پیجر دھماکوں کی پیشرفت انتہائی تشویشناک ہے، لبنان میں غیر مستحکم حالات پیدا کرنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔

    لبنان کے پیجر حملے میں حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ کے بیٹے کی موت کی خبر بھی سامنے آئی ہے، خبر رساں ادارے رائیٹرز نے حزب اللہ کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ دو دیگر اعلیٰ عہدیداروں کے بیٹے زخمی ہوئے ہیں،حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ علی عمار نے اپنے بیٹے مہدی کے قتل کے بعد ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ لبنان کے خلاف اسرائیل کی نئی جنگ ہے، مناسب وقت پر جوابی کارروائی کی جائے گی۔

    لبنان میں پیجرز حملوں میں ایرانی سفیر کی آنکھ بھی ضائع ہو گئی ہے،ان حملوں نے حالیہ برسوں کے دوران خطے میں ہونے والے خفیہ قتل اور سائبر حملوں کے ریکارڈ کوپیچھے چھوڑ دیا ہے، روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ لبنان میں پیجرز دھماکوں کی منظوری اسرائیلی وزیراعظم نے دی تھی،اسی ہفتے اسرائیلی وزیراعظم نے منظوری دی جس کے بعد دھماکے کئے گئے، ان دھماکوں کا مقصد د کارروائیوں کو نئے مرحلے میں داخل کرنا تھا

    لبنان میں پیجر دھماکوں پرحزب اللہ کا بیان جاری

    امریکہ نے لبنان میں پیجر دھماکوں پر ردعمل ظاہر کر دیا

    بیروت : ایران کے سفیر مجتبیٰ عمانی اسرائیلی پیجر دھماکوں میں زخمی، لبنان میں خون کے عطیات کی اپیل

    اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم کے مشیر نے دھماکوں میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دھماکے ممکنہ طور پر اسرائیل کی طرف سے کی گئی کارروائی ہو سکتی ہیں۔ اس بیان نے علاقے میں مزید کشیدگی پیدا کر دی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس کی گہرائی سے تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔یہ دھماکے لبنان میں حالیہ دنوں میں ہونے والے سب سے سنگین واقعات میں سے ایک ہیں، اور اس نے لبنان کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بین الاقوامی برادری اور مقامی حکومتوں کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے کہ وہ اس صورتحال کو کیسے سنبھالتے ہیں اور متاثرین کی مدد کس طرح کی جاتی ہے۔

    یہ حملہ اسرائیل کی طرف سے حزب اللہ پر ایک نیا اور مؤثر طریقہ کار ہے، جو کہ ان کے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس حملے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

  • رواں برس پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا

    رواں برس پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا

    رواں برس پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا،وزارت داخلہ نے قومی اسمبلی میں تحریری جواب جمع کروا دیا

    24۔2023 کے دوران ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کا اعتراف کیا گیا ہے،گزشتہ دو سال کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کے 2075 واقعات میں 1215 افراد شہید ہوئے ،رواں سال اب تک ملک بھر میں دہشت گردی کے 561 واقعات میں 285 شہادتیں ہو چکی ہیں، گزشتہ برس دہشت گردی کے 1514 واقعات میں 930 افراد شہید ہوئے تھے۔ رواں سال خیبر پختون خواہ میں دہشت گردی کے 282، بلوچستان میں 272 سندھ میں 5 واقعات ہوئے۔ رواں سال پنجاب اور اسلام اباد میں دہشت گردی کا ایک ایک واقعہ رونما ہوا،

    خیبر پختونخوا میں گزشتہ برس دہشتگردی کے 558 واقعات میں 580 افراد شہید اور 1447 زخمی ہوئے، خیبر پختونخوا میں گزشتہ برس قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 402 اہلکار شہید اور 1054 زخمی ہوئے،خیبر پختونخوا میں گزشتہ برس 178 شہری شہید اور 393 زخمی ہوئے،بلوچستان میں 2023 میں دہشتگردی کے 626 واقعات میں 315 افراد شہید اور 477 زخمی ہوئے، قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے 148 اہلکار شہید اور 198زخمی ہوئے جبکہ 167 شہری شہید اور 279 زخمی ہوئے،سندھ میں گزشتہ برس دہشتگردی کے 19 واقعات میں 14 افراد شہید اور31 زخمی ہوئے۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے8 اہلکار شہید اور 26 زخمی ہوئے۔ صوبے میں 2023 میں دہشتگردی کے واقعات میں ایک شہری شہید اور 2 زخمی ہوئے،پنجاب میں 2023 میں دہشتگردی کے 8 واقعات میں 12 افراد شہید اور 11زخمی ہوئے۔ گزشتہ برس قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے 11 اہلکار شہید اور 9 زخمی ہوئے، جبکہ 2023 کے دوران ایک شہری شہید اور 2 زخمی ہوئے، 2023 کے دوران اسلام آباد میں دہشتگردی کا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔گلگت بلتستان میں گزشتہ برس دہشتگردی کے 3 واقعات میں 9 افراد شہید اور 26زخمی ہوئے۔

    رواں برس چینی و جاپانی باشندوں پرسندھ میں 3،بلوچستان میں 2 ،خیبر پختونخواہ میں دو حملے ہوئے
    قومی اسمبلی میں 24-2020 کے درمیان چینی اور جاپانی باشندوں پر حملوں کی تفصیل پیش کر دی گئی، وزارت داخلہ نے تحریری جواب جمع کروایاجس میں کہا گیا کہ سندھ میں چینی اور جاپانی باشندوں پر 3 دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں 5 غیرملکی اور 5 مقامی افراد جاں بحق ہوئے، بلوچستان میں چینی باشندوں پر 2 حملے ہوئے، جن میں 3 افراد زخمی ہوئے، خیبر پختونخوا میں چینی باشندوں پر 2 حملے ہوئے،کے پی میں چینی اور جاپانی باشندوں پر حملوں میں 2 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے، 17 چینی باشندے جان کی بازی ہار گئے جبکہ 19 مقامی لوگ شہید ہوئے، سال 2024 کی پہلی سہ ماہی میں خفیہ معلومات پر 2208 آپریشن کیےگئے، خفیہ آپریشنز میں 89 دہشت گرد ہلاک ہوئے اور 328 کو گرفتار کیا گیا،عسکریت پسندوں کا داخلہ روکنے کےلیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، دہشت گرد تنظیموں کےلیے اسلحہ اور مواد کی منتقلی روکنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    وزارت داخلہ کا پاکستان میں سائبر کرائم کے واقعات کی تعداد میں مسلسل اضافے کا اعتراف
    وزارت داخلہ نے پاکستان میں سے سائبر کرائم واقعات کی تعداد میں اضافے سے متعلق گزشتہ 3سالوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دیں،تحریری جواب میں کہا گیا کہ سال 2021 میں ایک لاکھ 15 ہزار 868 شکایات موصول ہوئیں،اسی ہزار آٹھ سو تین شکایات کی تصدیق ہوئی ،پندرہ ہزار سات سو چھیاسٹھ انکوائریاں کی گئیں ،،بارہ سو تئیس ایف آئی آرز کی گئیں ،38 کیسز میں سزائیں ہوئیں ،سال 2022 میں ایک لاکھ 36 ہزار 24 شکایات موصول ہوئیں،83 ہزار پانچ سو باون کیسز کی تصدیق ہوئی ،14 ہزار تین سو اسی کیسز کی انکوائریاں ہوئیں ،14سو 69 ایف آئی آرز ہوئیں ،اڑتالیس کیسز میں سزائیں ہوئیں ،سال 2023 میں ایک لاکھ 34 ہزار 710 شکایات موصول ہوئیں،82 ہزار تین سو چھیانوے کیسز کی تصدیق ہوئی،اٹھارہ ہزار بارہ کیسز کی انکوائریاں ہوئیں، 13سو 75کیسز کی ایف آئی آرز ہوئیں،92 کیسز میں سزائیں ہوئیں،

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

    ماہ رنگ بلوچ کا احتجاج ،دھرنا عوام نے مسترد کر دیا

  • بلوچستان، بارودی سرنگ کے دھماکے،ایک جاں بحق،20 زخمی

    بلوچستان، بارودی سرنگ کے دھماکے،ایک جاں بحق،20 زخمی

    بلوچستان کے ضلع دکی میں بارودی سرنگ کا دھماکہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں ایک شخص کی موت ہوئی ہے جبکہ 20 افراد زخمی ہوئے ہیں

    اطلاع پرپولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، زخمیوں کو علاج معالجہ کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ، واقعہ ضلع دکی کے علاقہ ٹھیکیدار ندی میں پیش آیا،پولیس حکام کے مطابق پہلا دھماکا بارودی سرنگ سے کوئلے کا ٹرک ٹکرانے سے ہوا اور دوسرا دھماکا تب ہوا جب لوگ اس مقام پر جمع ہوئے ،دوسرے دھماکے میں زیادہ نقصان ہوا، بیس افراد زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں‌کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جن کا علاج معالجہ جاری ہے،

    دھماکے سے دکی پریس کلب کے صدر اللہ نور ناصر بال بال بچ گئے جوپہلے دھماکے کے بعد موقع پر پہنچے اور کوریج کر رہے تھے،

  • قاسم سلیمانی  کی چوتھی برسی، مقبرے کے قریب دھماکے، 103 افراد جاں بحق

    قاسم سلیمانی کی چوتھی برسی، مقبرے کے قریب دھماکے، 103 افراد جاں بحق

    ایران میں جنرل قاسم سلیمانی کے مقبرے کے قریب دھماکے ہوئے ہیں جن میں 103کے قریب اموات ہو چکی ہیں

    ایران میں دو دھماکوں کے نتیجے میں 103 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ متعدد زخمی ہیں،خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے ایران کی سرکاری میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ قبرستان میں جنرل قاسم سلیمانی کی برسی کے موقع پر منعقدہ تقریب کے قریب دو دھماکے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں 103 اموات ہو چکی ہیں،دو سو کے قریب افراد زخمی ہیں لاشوں اور زخمیوں‌کو ہسپتال منتقل کیا گیا، دھماکوں‌کے بعد ہر طرف افرا تفری مچ گئی

    گورنر کرمان کے مطابق دھماکے دہشتگردی کے واقعات ہیں، دھماکے دستی بم پھٹنے کے باعث ہوئے ہیں، سیکیورٹی حکام صورتحال کا جائزہ لے کر تحقیقات کر رہے ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکوں میں ریموٹ کنٹرول بم استعمال کئے گئے،

    جنرل قاسم سلیمانی کی برسی کیلیے منعقدہ تقریب میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے،ایران میں آج قاسم سلیمانی کی چوتھی برسی منائی جا رہی ہے، انہیں 3 جنوری 2020 کو عراق میں امریکی ڈرون حملے میں شہید کیا گیا تھا.

    اسلامی جمہوریہ ایران کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پہلا دھماکا جبلیہ گنبد کے قریب انڈر پاس کے علاقے میں ہوا اور دوسرا دھماکا صاحب الزمان مسجد کے قریب کلی کے گیٹ پر ہوا۔”ارنا” کے مطابق "کرمان کے شہداء کے قبرستان کی طرف جانے والی سڑک کے ساتھ نصب دو دھماکہ خیز آلات کو دہشت گردوں نے دور سے اڑا دیا۔”

    ابھی تک کسی گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ ایرانی میڈیا کی طرف سے نشر کی جانے والی ویڈیوز میں کئی لاشوں کو چاروں طرف بکھرے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس میں کچھ لوگ زندہ بچ جانے والوں کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور دیگر دھماکے کے علاقے سے نکلنے کے لیے بھاگ رہے ہیں۔

    کرمان ہلال احمر سوسائٹی کے سربراہ رضا فلہ نے کہا، "تمام حفاظتی اقدامات کے باوجود وہاں ایک خوفناک آواز سنی گئی۔ ہم ابھی بھی تفتیش کر رہے ہیں۔”کرمان کے گورنر کے سیکیورٹی ڈپٹی نے اس سے قبل ایک انٹرویو میں تصدیق کی تھی کہ دو دھماکے دہشت گرد حملے تھے۔

    دھماکوں کے بعد ایران میں جمعرات کو یوم سوگ کا اعلان کیا گیا ہے،دھماکوں کے بعد شہر بھرمیں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے،

    قاسم سلیمانی کو ٹرمپ کی ہدایت پر مارا گیا، پینٹا گون، ٹرمپ نے کیا کہا؟

    ایرانی جنرل کو مارنے کے بعد امریکہ نے دی شہریوں کو اہم ہدایات

    جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت، امریکہ نے خطے کا امن داؤ پر لگا دیا، ایسا کس نے کہا؟

    ایرانی جنرل پر امریکی حملہ، چین بھی میدان میں آ گیا، بڑا مطالبہ کر دیا

    تیسری عالمی جنگ، امریکا کے خطرناک ترین عزائم، سابق امریکی وزیر خارجہ کے انٹرویو نے تہلکہ مچا دیا

    جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کیخلاف عالمی عدالت جانےکا اعلان

    قاسم سلیمانی بارے اطلاع دینے والے ایرانی شہری، امریکی جاسوس کو ایران نے سنائی سزائے موت

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ 3 جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئرپورٹ پر امریکہ کی جانب سے راکٹ حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر قدس جنرل قاسم سلیمانی سمیت عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابومهدی المهندس بھی مارے گئے تھے۔

  • خیبر پختونخوا میں ایک سال کے دوران665  دہشتگردی کے واقعات رونما ہوئیں،رپورٹ

    خیبر پختونخوا میں ایک سال کے دوران665 دہشتگردی کے واقعات رونما ہوئیں،رپورٹ

    انسداد دہشت گردی فورسز نے جون 2022 سے جون 2023 تک خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات کی تفصیلات جاری کردی۔ جسکے مطابق
    خیبرپختونخوا میں ایک سال کے دوران صوبے میں 14 خودکش 15 راکٹ اور 107 دستی بم حملے ہوئے،139 دہشت گردوں کو جہنم وصل کیا گیا۔

    جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک سال کے دوران صوبے میں دہشتگردی کے 665 واقعات میں 14 خودکش حملے، 15 راکٹ 107 دستی بم حملے ہوئے ۔ ایک سال کے دوران دہشت گردوں کی جانب سے 382 بار فائرنگ ہوئیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف آپریشنز کے دوران 139 دہشتگرد ہلاک کیے اور 432 خطرناک دہشت گرد گرفتار کیے گئے۔ 18 دہشتگردوں کو عدالتوں سے سزائیں دلاوائی گئیں۔