اداکار سلمان خان اور ان کے والد سلیم خان کو حال ہی میںایک بار پھر دھمکیاں ملنے کے بعد سلمان خان نے پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ میری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے ۔میرے والد کو دھمکی آمیز خط مارننگ واک کے دوران ملا ہے ،میری کسی سے معمولی سی بھی دشمنی نہیں ہے آج کل کہ میں کسی پر شک کر سکوں ۔مجھے کوئی میسج یا دھمکی آمیز کال تاحال موصول نہیں ہوئی ۔
سلمان خان کو ملنے والی دھمکی آمیز خط میں باقاعدہ یہ لکھا گیا کہ سلمان اور سلیم دونوں بہت جلد سدھو موسے والا بنا دئیے جاﺅ گے ۔خط پر G.B اورLB کہا جا رہا کہ جی بی سے مراد گولڈی بار اور ایل بی سے مراد لارنس بسنوئی ہے لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ ہم حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اس خط کے پیچھے کون ہے ۔ممبئی پولیس کا کہنا ہے کہ سلیم خان کو جو خط ملا ہے اس کی تحقیقات ہر سطح پر جاری ہیں ۔
یاد رہے کہ لارنس بسنوئی سلمان خان کو جودھ پور میں قتل کرنے کی دھمکی دے چکا ہے لیکن حال ہی میں جب انہیں پھر سے دھمکیاں دی گئیں اس کے بعد سلمان خان اور ان کے گھر کے باہر کی سیکیورٹی کو سخت کر دیا گیا ہے ۔سلمان خان نے تو پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کروا کر معاملہ کلئیر کر دیا ہے کہ ان کی دشمنی کسی سے بھی نہیں ہے کہ انہیں دھمکیاں دی جائیں اب پولیس تحقیقا ت کیا بتاتی ہیں اس لئے سلمان خان کے پرستاروں کو انتظار کرنا ہو گا ۔
Tag: دھمکی آمیز خط
-

سلمان خان نے پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کروا دیا
-

خفیہ مراسلے کے مندرجات سامنے رکھے گئے تو میں حیرت زدہ رہ گیا.عمران خان
خفیہ مراسلے کے مندرجات سامنے رکھے گئے تو میں حیرت زدہ رہ گیا.عمران خان
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قوم کو ماہِ صیام کی تکمیل اور عیدِ سعید مبارک
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ اللہ کی نعمتوں میں سے فکر و عمل کی آزادی سب سے بڑی نعمت ہے آزادی کی قدر ان کو ہوتا ہے جنہیں غلامی جیسی ذلت کا سامنا رہتا ہے،1947ء میں رمضان کی27ویں شب غلامی کی زنجیروں جکڑی قوم کو آزادی ملی،سامراج آزادی کے بعد بھی ہم پر بالواسطہ غلامی کے سائے کئے رکھنے پر بضد رہا، 7 مارچ کو امریکہ میں پاکستانی سفیر کی جانب سے دفترِ خارجہ کو ایک مراسلہ موصول ہوا،مراسلے میں امریکی حکام کی ہمارے سفارتی عملے سے باضابطہ ملاقات کا احوال درج تھا،خفیہ مراسلے کے مندرجات سامنے رکھے گئے تو میں حیرت زدہ رہ گیا،امریکہ کس قدر ڈھٹائی سے پاکستان کی اندرونی سیاست میں کھلی مداخلت کررہا ہے امریکانے وزیراعظم کو ہٹانے کا حکم دیا اور نہ ہٹانے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتا ہے سیاسی دشمنوں نے ملکر قومی اسمبلی میں منتخب وزیراعظم کیخلاف عدمِ اعتماد کی تحریک لائی ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کے باوجود حکومت کاتختہ الٹ دیا گیا،سازش کا واحد مقصد پاکستان کو غلامی کی ڈگر پر چلانا اور اس حکومت کو سزا دینا تھا ،
عمران خان نے بائیڈن انتظامیہ سے پاکستان میں حکومت کی تبدیلی پر رائے مانگ لی،کہا کہ 22کروڑ آباد ی کے حامل ملک کے منتخب وزیراعظم کو ہٹاکر کٹھ پتلی وزیراعظم کو لایا گیا،کیا امریکہ کے اس اقدام سے پاکستان میں امریکہ مخالف جذبات کو تقویت نہیں ملی؟امریکہ پاکستان میں فرمانبرداراور کٹھ پتلی وزیراعظم کا خواہاں تھا،امریکہ پاکستان کے یورپین وار میں غیر جانبدارانہ کردار سے خائف تھا،
عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ سب کو آگاہ کیا کہ پاکستان میں ہماری حکومت بیرونی سازش کے تحت ہٹائی گئی مراسلہ قوم کے سامنے رکھا، صدر، چیف جسٹس سب کو مراسلہ بھیجا، پاکستان کی حکومت کیخلاف سازش کی گئی، موجودہ وزیراعظم نے کہا مراسلہ جھوٹا ہے، آج سب مان رہے ہیں سازش کے تحت کرپٹ ترین آدمی کو وزیراعظم بنایا گیا ہے،ان کو اس لیے لایا گیا کہ یہ پاکستان کے مفادات کیخلاف امریکہ کی باتیں مانیں گے،امریکہ کی جنگ میں شرکت کرکے ہم نے اپنے لوگوں کو شہید کرایا،امریکہ کی جنگ لڑ کر پاکستان کو کیا فائدہ ہوا،چاہتے ہیں کہ مراسلے پر کمیشن بنایا جائے اور اس کی اوپن سماعت ہو، تحقیقات ہوں گی تو پتہ چلے گا کس کس نے ملک کیساتھ غداری کی انہوں نے ہم پر کیسز بنائے اصل میں ان پر غداری کے کیسز چلنے چاہئیں،آج چاندرات کو سب کو جھنڈے لے کرپاکستان کی آزادی کیلئے نکلنا ہے،یہ قوم اللہ کے سوا کسی کی غلامی کیلئے تیار نہیں ہے،
توہین مسجد نبوی ٫عمران خان۔ شیخ رشید٫فواد چودھری پر مقدمہ درج
زخمی ہونے کے بعد پرویز الہیٰ کی ہاتھ اٹھا کر بددعا، ویڈیو وائرل
حکومت کے ہاتھ پاؤں پھول گئے، شہزاد اکبر کو کیوں نکالا؟
پنجاب اسمبلی، ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج
ایسی کون سی دوائی ہے جس سے 24 گھنٹوں میں ٹوٹا ہوا ہاتھ ٹھیک ہوگیا؟ حمزہ شہباز
عمران خان کے مشیر بیرون ملک روانہ
میری جان سے زیادہ پاکستان کی آزادی ضروری ، فوری الیکشن چاہتے ہیں ، عمران خان
-

کوئی غیرملکی سازش نہیں ہوئی،نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے سب کچھ واضح کیا،ترجمان دفتر خارجہ
کوئی غیرملکی سازش نہیں ہوئی،نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے سب کچھ واضح کیا،ترجمان دفتر خارجہ
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ترکی، چین سعودی عرب سمیت دوست ممالک نے نئے وزیر اعظم کو مبارکباد دی،
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم نے معیشت کو مستحکم بنانے کے عزم کا اظہارکیا وزیر اعظم نے ترکی، چین اورسعودی عرب کا شکریہ ادا کیا،وزیر اعظم نے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کیلئے کوششوں کا اعلان کیا،وزیر اعظم رواں ہفتہ کے آخر میں وفد کے ہمراہ سعودی عرب جائیں گے،حنا ربانی کھر نے 19 اپریل کو وزیر مملکت کے عہدے کا چارج سنبھالا،امریکی کانگریس وومن الہان عمر نے پاکستان کا دورہ کیا،رکن امریکی کانگریس الہان عمر کشمیر اور لاہور بھی گئیں،حنا ربانی کھر کو بھی مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ نے مبارکباد کے ٹیلیفون کیے،پاکستان نے مختلف ممالک پر اسلامو فوبیا کے خاتمے کیلئے مشترکہ کوششوں پر زور دیا،پاکستان کرتار پور کے حوالے سے بھارتی پراپیگنڈہ کو مسترد کرتا ہے،پاکستان کرتار پور کے حوالے سے بھارتی پراپیگنڈے کو مسترد کرتا ہے،اقلیتوں کے مقدس مقامات کی مکمل حفاظت اور دیکھ بھال پر پاکستان کو فخر ہے،دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن نے 2200 سکھ یاتریوں کو بیساکھی کیلئے ویزے جاری کئے
ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار سے سوال کیا گیا کہ مراسلہ سے متعلق نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اجلاس کے بعد بہت کنفیوژن ہے،جس کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں ہونے والی بحث کو دیکھنا ہو گا،این ایس سی کے دونوں اجلاسوں میں کوئی کنفیوژن نہیں ہے نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے سب کچھ واضح کیا ہے،سیکیورٹی ایجنسیز نے بتایا کہ کوئی غیر ملکی سازش نہیں ہوئی،اسد مجید کے حوالے سے میڈیا میں چلنے والی خبریں مکمل طور پر بے بنیاد تھیں، اور ہیں کمیٹی اجلاس میں سفیر اسد مجید ہو کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا کسی سفیر پر دباؤ نہیں ڈالا جاسکتا.
ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخارکا مزید کہنا تھا کہ مراسلے کوکئی روز تک کو دبانے کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں۔ ٹیلیگرام جیسے ہی دفترخارجہ پہنچا اور قانون کے مطابق متعلقہ حکام کے حوالے کیا گیا مراسلہ قومی سلامتی کمیٹی میں زیر بحث لایا گیا اور پھر ڈی مارش دیا گیا
چند ماہ بعد عمران خان خود کہیں گے کہ مراسلے والی بات غلط تھی،مبشر لقمان
آج پھر کہتا ہوں کہ مراسلے سے متعلق جو بھی کہا تھا وہ سچ ہے،عمران خان
قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کا اعلامیہ، امریکی ردعمل بھی آ گیا
دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان
وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا
دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا
دھمکی آمیز خط کے بارے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے
قوم سے خطاب مؤخر،خط کس نے لکھا ؟کتنی سخت زبان،کیا پیغام،عمران خان نے سب بتا دیا
پیکنگ ہو گئی ،عمران خان کابینہ کے وزرا بیرون ملک بھاگنے کو تیار
-

شاہ محمود قریشی کیلئےموقع ہےکہ حناربانی کھرسے سفارتکاری سیکھ لیں،سلیم صافی
شاہ محمود قریشی کیلئےموقع ہےکہ حناربانی کھرسے سفارتکاری سیکھ لیں،سلیم صافی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں عمران خان کی جانب سے لہرائے گئے دھمکی آمیز خط بارے بات چیت ہوئی
اجلاس کے بعد جاری اعلامئے میں کہا گیا کہ کسی قسم کی کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی، اجلاس کے بعد وزیر مملکت برائے خارجہ حنا ربانی کھر نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عہدیدار کی گفتگو کی اطلاع شاہ محمود قریشی کوفوری دے دی گئی تھی مگرانہوں نے دفترخارجہ کوفوری احتجاجی مراسلہ دینے سے منع کردیا ۔خود سفیر نے اپنے مراسلے میں احتجاج کا کہا تھا مگرنہیں کیا گیا ۔بلکہ ایک مراسلے کوسیاست کے لیے استعمال کیا گیا۔ ادارے اور مراسلہ لکھنے والے سفیر متفق ہیں اسے سازش نہیں کہا جا سکتا،اتنی بڑی دھمکی تھی تو اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے سے احتجاج کیوں نہیں کیا؟ مراسلہ آنے کے بعد کئی روز خاموش کیوں بیٹھے رہے؟
حنا ربانی کھر کے جواب پر سینئر صحافی و اینکر سلیم صافی نے ٹویٹ کی ہے اور کہا ہے کہ ایسی ہوتی ہیں وزیر خارجہ اور یہ ہوتی ہے سفارتی زبان۔۔ شاہ محمود قریشی کے لئے اچھا موقع ہےکہ حنا ربانی کھر سے سفارتکاری اور سفارتی زبان سیکھ لیں کیونکہ ہوسکتا ہے وہ اگلی حکومت میں پھر پیپلز پارٹی یانون لیگ کے ٹکٹ پر وزیر بن جائیں۔
ایسی ہوتی ہیں وزیر خارجہ اور یہ ہوتی ہے سفارتی زبان۔۔ شاہ محمود قریشی کے لئے اچھا موقع ہےکہ حنا ربانی کھر سےسفارتکاری اورسفارتی زبان سیکھ لیں کیونکہ ہوسکتا ہےوہ اگلی حکومت میں پھر پیپلز پارٹی یانون لیگ کے ٹکٹ پر وزیر بن جائیں۔ https://t.co/ngIMcQ6Z61
— Saleem Safi (@SaleemKhanSafi) April 22, 2022
واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا جس کا اعلامیہ جاری کیا گیا تھا، اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ ایجنسیوں نے قومی سلامتی کمیٹی کو بریفنگ دی اور کہا کہ غیر ملکی سازش سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملا ،جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اجلاس میں واشنگٹن سے پاکستانی سفارتخانے کے مراسلے کا جائزہ لیا گیا،سابق پاکستانی سفیر نے قومی سلامتی کمیٹی کو مراسلے سے متعلق بریفنگ دی،تمام سیکیورٹی ایجنسیز نے خط کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد متفقہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی،
تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے 27 مارچ کو اسلام آباد میں جلسے کے دوران ایک خط لہرا کر دکھاتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کی حکومت کو گرانے کی سازش ایک بہت ہی طاقتور ملک کی جانب سے کی گئی
بعد ازاں اس معاملے پر دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں تعینات امریکی ناظم الامور سے احتجاج کرتے ہوئے ڈی مارش بھی جاری کیا تھا عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے کامیاب ہونے کے بعد منتخب ہونے والے وزیراعظم شہباز شریف نے پہلی ہی تقریر میں قومی اسمبلی میں مبینہ دھمکی آمیز خط کی تحقیقات کے لیے قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر بیرونی مداخلت ثابت ہو گئی تو وزارت عظمیٰ چھوڑ دوں گا
وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری
دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان
وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا
دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا
دھمکی آمیز خط کے بارے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے
قوم سے خطاب مؤخر،خط کس نے لکھا ؟کتنی سخت زبان،کیا پیغام،عمران خان نے سب بتا دیا
پیکنگ ہو گئی ،عمران خان کابینہ کے وزرا بیرون ملک بھاگنے کو تیار
امریکی اہلکار کی ذاتی رائے کو سازش نہیں کہا جا سکتا، اسد مجید
-

امریکی اہلکار کی ذاتی رائے کو سازش نہیں کہا جا سکتا، اسد مجید
امریکی اہلکار کی ذاتی رائے کو سازش نہیں کہا جا سکتا، اسد مجید
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستانی سفارتکار اسد مجید نے اپنی بریفنگ میں بتایا ہے کہ امریکی عہدیدار ڈونلڈ لو کے ساتھ ان کی ایک ڈنر پر ملاقات ہوئی،
قومی اخبار نوائے وقت میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سابق امریکی سفیر اسد مجید کا کہنا تھا کہ ڈنر پر ہونے والی گفتگو پر مبنی سائفر انہوں نے پاکستان میں وزارت خارجہ کے حکام کو بھجوا دیا تھا ذرائع کے مطابق انہوں نے وزارت خارجہ کو تجویز کیا تھا کہ امریکی عہدیدار کی اس گفتگو کے متعلق امریکہ کو ڈی مارش دیا جائے اور امریکی حکام سے پوچھا جائے کہ ڈونلڈ لونے جو کچھ بھی کہا ہے کیا یہ امریکی انتظامیہ کی سرکاری پوزیشن ہے یا اس کو عہدیدارکی ذاتی رائے سمجھا جائے لیکن سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی تھی
ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی ایجنسیوں نے بھی اسی موقف کی تائید کی کہ یہ امریکی اہلکار کی ذاتی رائے تھی اور چونکہ ڈیلی گیشن سطح کی ملاقات نہیں تھی اس لئے اس کو سازش نہیں کہا جا سکتا۔ ذرائع کے مطابق امریکی عہدیدار کے ساتھ پاکستانی سفیر کی ہونے والی اس ملاقات میں واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے ملٹری اتاشی سمیت دیگر عہدیدار بھی موجود تھے اور اس ملاقات کے منٹس بھی موجود تھے جن کا جائزہ لینے کے بعد سکیورٹی ایجنسیوں کے حکام اس نتیجے پر پہنچے کہ مذکورہ امریکی عہدیدار کی گفتگو کوئی سازش نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اس پہلو کا بھی جائزہ لیا گیا کہ امریکہ میں پاکستانی سفیر کی جانب سے بھیجے گئے مراسلہ پر سابق حکومت کو فوری طور پر جائزہ لینے کے بعد ایکشن لینا چاہیے تھا اور انہیں امریکی سفارتخانے کو ایک مراسلہ بھیج کر اس بات کی تصدیق کرنی چاہیے تھی کہ اس مراسلے میں جو زبان استعمال کی گئی ہے کیا وہ امریکی حکومت کی ہے یا کسی ایک عہدیدار کی ذاتی رائے ہے لیکن سابق حکومت نے فوری طور پر کوئی اقدام نہیں اٹھایا اور بعدازاں اس کو سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا گیا جو کہ پاکستان کی وزارت خارجہ کے لئے مستقبل میں مشکلات بھی پیدا کر سکتا ہے
وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری
دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان
وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا
دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا
دھمکی آمیز خط کے بارے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے
قوم سے خطاب مؤخر،خط کس نے لکھا ؟کتنی سخت زبان،کیا پیغام،عمران خان نے سب بتا دیا
پیکنگ ہو گئی ،عمران خان کابینہ کے وزرا بیرون ملک بھاگنے کو تیار
-

دھمکی آمیز خط،تحقیقات کیلئے دائر درخواست پر فیصلہ آ گیا
دھمکی آمیز خط،تحقیقات کیلئے دائر درخواست پر فیصلہ آ گیا
اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کی حکومت گرانے کی سازش کے مبینہ مراسلے کی تحقیقات کی درخواست خارج کردیاسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 5 صفحات پرمشتمل فیصلہ جاری کرتے ہوئے مبینہ مراسلے کی تحقیقات کی درخواست مسترد کردی جب کہ عدالت نے درخواست گزار پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا،فیصلے میں کہا گیا کہ کورٹ مطمئن ہے کہ غیرسنجیدہ درخواست سے ڈپلومیٹک کیبل کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی سابق وزیراعظم پر درخواست میں لگائے گئے الزامات فرسودہ ہیں ڈپلومیٹک کیبل کو متنازعہ بنانا اور مقدمہ بازی میں لانا ملک اور عوامی مفاد کے خلاف ہے ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ ملکی سلامتی کے حساس معاملات کو سیاسی بنائے نہ سنسنی پیدا کرے، ڈپلومیٹ اور اسکی خفیہ معلومات،تعین کو سیاسی تنازعہ میں دھکیلنا قومی مفاد کے خلاف ہے،خفیہ معلومات کو سیاسی تنازعوں میں دھکیلنا ڈپلومیسی اور بیرون ممالک سے تعلقات کے خلاف ہے،یہ طے شدہ قانون ہے کہ ملک کے خارجہ امور سے متعلق معاملات انتہائی حساس ہوتے ہیں آئین آرٹیکل 199 کے تحت غیر معمولی دائرہ اختیار استعمال کر کے سماعت نہیں کی جا سکتی،دعوی ٰمبہم، تائید میں دستاویز نہیں کہ سفارتی کیبل کے موضوع پر کیس کا جواز پیش کیا جا سکے،پٹیشنر متعلقہ ممالک کے پاکستانی سفارتکاروں کی طرف سے سفارتی کیبل کی اہمیت سے آگاہ نہیں، سفارتی کیبلز اہمیت کی حامل ہیں اور ان تک رسائی محدود ہوتی ہے، سفارت کاروں کو یقین دہانی ہوتی ہے کہ ان کے تجزیے کو سنسنی خیز یا سیاسی نہیں بنایا جائے گا، سفارت کاروں کا فرض ہے کہ وہ جائزے، تجزیے اور نتائج کو ان ممالک سے شیئر کریں جن کی وہ نمائندگی کرتے ہیں،
اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں کہا کہ سفارت کار کا بھیجا گیا مراسلہ قومی سلامتی کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا، بظاہر نیشنل سیکیورٹی کمیٹی مطمئن ہے کہ کسی انکوائری کی ضرورت نہیں،ایسے حساس اور پیچیدہ معاملات کو مقدمہ بازی میں دھکیلنے کی بجائے دفتر خارجہ کو نمٹنا چاہیے ستم ظریفی ہے کہ ذمہ دار وکیل منتخب سابق وزیراعظم پر غداری کا مقدمہ چلانے کی ہدایات کی استدعا کر رہا ہے،غداری کا بیان فرسودہ ہے کوئی شہری دوسرے سے زیادہ محب وطن ہونے کا دعوی ٰنہیں کر سکتا، کسی شہری کو کسی دوسرے کو غداری کا مرتکب قرار دینے کا اختیار نہیں،ہر شہری محب وطن اور ریاست کا وفادار ہے جب تک متعلقہ عدالت اسکے برعکس قرار نہ دے،
قبل ازیں درخواست میں عمران خان کا نام ای سی ایل میں شامل اور سنگین غداری کیس چلانے کی بھی استدعا کی گئی درخواست گزار مولوی اقبال حیدر اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ آپ کی عدالت سے کیا استدعا ہے؟ درخواست گزار نے کہا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچا، معاملے کی تحقیقات کرانے کا حکم دیا جائے،سیکریٹری داخلہ پابند ہیں کہ وہ مبینہ دھمکی آمیز خط کی تحقیقات کرائیں،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ اس معاملے کو سیاسی کیوں بنا رہے ہیں؟ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے ، آپ کی استدعا کیا ہے ،مولوی اقبال حیدر نے کہا کہ وفاق کی ذمہ داری تھی کہ تحقیقات کرواتے ،معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے کر جاتے
درخؤاست گزار نے کہا کہ مشرف کیخلاف بھی سنگین غداری کیس چلایا گیا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان منتخب وزیر اعظم تھے مشرف کے ساتھ پلیز موازنہ نہ کریں، آپ ریاست پر اعتماد کریں، آپ اس معاملے سے متاثرہ نہیں ہیں۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ خط نہیں کیبل تھا، خط اور کیبل میں فرق ہو تا ہے ، مولوی اقبال نے کہا کہ اخبارات اور میڈیا میں ہر جگہ اسے خط لکھا جارہاہے عدالت نے سماعت کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا جو اب سنا دیا گیا ہے اور درخواست خارج کر دی گئی ہے
واضح رہے کہ شہری مولوی اقبال حیدر کی جانب سےدرخواست دائر کی گئی تھی،درخواست میں فواد چودھری، شاہ محمود قریشی، قاسم سوری اور اسد مجید کا نام بھی ای سی ایل میں ڈالنے کی استدعا کی گئی تھی،درخواست میں کہا گیا تھا کہ سیکریٹری داخلہ کو وزیراعظم اور وزرا کیخلاف مبینہ خط سے متعلق انکوائری کا حکم دیا جائے درخواست پر فیصلہ ہونے تک وزیراعظم، وزرا اور اسد مجید نام ای سی ایل میں ڈالا جائے،
دوسری جانب ایف آئی اے نے تحریک انصاف کے رہنماوں کے نام اسٹاپ لسٹ میں ڈال دیئے عمران خان کے سابق معاون خصوصی شہباز گل اور شہزاد اکبر کا نام اسٹاپ لسٹ میں ڈال دیا گیا، ایف آئی اے کے مطابق سابق وزیر اعظم عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کا نام بھی اسٹاپ لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب گوہر نفیس ، ڈی جی ایف آ ٓئی اے پنجاب زون ون ڈاکٹر محمد رضوان اور پی ٹی آئی کے ہیڈ آف سوشل میڈیا ارسلان خالد کا نام بھی اسٹاپ لسٹ میں شامل کیا گیا ہے۔
عمران خان کے سابق وزیراعظم ہونے کے بعد استعفوں کی لائنیں لگ گئیں
بے جا لوگوں کو جیلوں میں نہیں بھجوائیں گے لیکن قانون اپنا راستہ لے گا،شہباز شریف
ویلکم بیک پرانا پاکستان،ظلم بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے،بلاول
نواز شریف کی کمی محسوس ہو رہی ہے،ایاز صادق،صبر، ہر قسم کے جبر سے جیت گیا۔مریم
خوشی ہےعمران خان نے حکومت قربان کی لیکن غلامی قبول نہیں کی،علی محمد خان
عمران خان اچھے اور عزت دار انسان ہیں،سابق بہنوئی حق میں بول پڑے
وزارت عظمیٰ کی کرسی چھننے کے بعد عمران خان آج کیا کرنیوالے ہیں؟
شدت پسند عمران خان کا جانا اچھا ہوا،گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کروانیوالے گیرٹ ولڈرز کی ٹویٹ
ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی کا بڑا دعویٰ
-

امریکا کسی ایک سیاسی جماعت کو سپورٹ نہیں کرتا،امریکی محکمہ خارجہ
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے ہم کسی ایک سیاسی جماعت کو سپورٹ نہیں کرتے۔
باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکہ محکمہ خارجہ سے صحافی نے سوال کیا کہ امریکا پر الزام ہے کہ امریکہ پاکستان میں عمران خان کی حکومت گرانے کی کوشش میں ملوث ہے، جس پر امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں۔
دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی
نیڈ پرائس نے مزید کہا کہ امریکہ آئین کی بالادستی، اور جمہوری اصولوں کے ساتھ ہے یہ اصول صرف پاکستان نہیں دنیا کے دوسرے ممالک کیلئے بھی ہیں۔ ہم کسی ایک سیاسی جماعت کو سپورٹ نہیں کرتے بلکہ قانون کی حکمرانی اور اس کے تحت برابری کے اصولوں کو سپورٹ کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی امریکا کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں نا مداخلت کررہے ہیں نا ہی کسی قسم کی کوئی دھمکی دی ہے، ترجمان امریکی دفتر خارجہ نیڈ پرائس نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے امریکی مداخلت سے متعلق کے سوال کے جواب میں کہا تھا کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا
ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان کی جانب امریکہ پر عائد الزامات میں کوئی حقیقت نہیں، امریکہ نے پاکستان کی سیاسی صورتحال پر کوئی خط جاری نہیں کیا، ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں، نیڈ پرائس کا کہنا تھا کہ پاکستان کے آئینی عمل کا احترام کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پریڈ گراؤنڈ جلسہ میں اعلان کیا تھا کہ انہیں دھمکی آمیز خط ملا ہے اس وقت کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا تھا بعد ازاں قوم سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے امریکہ کا نام لیا تھا-
عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز
-

دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال
دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے لہرائے گئے دھمکی آمیز خط کے حوالہ سے پورے ملک میں باز گشت جاری ہے
اپوزیشن ا س خط کو جھوٹا قرار دے رہی ہے ، بلاول کا کہنا تھا کہ خط وزیر خارجہ نے خود لکھوایا، پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن نے شرکت نہیں، وزیراعظم نے گزشتہ روز خطاب کر کے قوم کو پھر اعتماد میں لیا، قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں خط کا جواب دینے کا فیصلہ کیا گیا، بعد ازاں امریکی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا گیا، امریکہ نے اس طرح کے کسی بھی خط کی تردید کی ایسے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی کچھ تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں اس میں شاہ محمود قریشی امریکی انڈر سیکرٹری سے مل رہے اور وہ پاکستان آئی ہیں، تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شاہ محمود قریشی مسکرا کر استقبال کر رہے ہیں اور بعد ازاں میٹنگ بھی ہوئی
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کہ خط سات مارچ کو ملا، آٹھ کو عدم اعتماد جمع کروا دی گئی لیکن شاہ محمود قریشی نے 21 مارچ کو ٹویٹ کی اور امریکی انڈر سیکرٹری 21 مارچ کو اسلام آباد آئیں، شہریوں کی جانب سے اس پر بھر پور رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اگر امریکی دھمکی آمیز خط سات مارچ کو مل گیا تو پھر 21 مارچ کو اتنی گرمجوشی سے امریکی انڈر سیکرٹری کا استقبال کیوں؟ اسکو دو ہفتے بعد پاکستان کو کیوں بلوایا گیا؟
Bilaterally, Pakistan has a longstanding relationship with the US & we believe a regular & structured dialogue process imp to promoting our bilat & shared regional objectives. We look forward to commemorating 🇵🇰🇺🇸 75th anniversary of the establishment of diplomatic ties this year https://t.co/BAr83nHlxb
— Shah Mahmood Qureshi (@SMQureshiPTI) March 21, 2022
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی امریکی انڈر سیکریٹری کے ساتھ اپنی انتہائی خوشگوار ماحول میں ہونے والی ملاقات کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کی انڈر سیکریٹری دونوں ملکوں کے فروغ کیلئے کام کر رہی ہیں ہم امریکی قیادت کو افغانستان میں دیر پا امن کیلئے خوش آمدید کہتے ہیں دو طرفہ طور پر پاکستان کے امریکہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہوچکے ہیں
Mar 7 – Threat received from foreign country
Mar 16 – Pakistan ambassador to US thanks official of foreign country – after meeting this official ambassador had sent the cable
Mar 21: Official of foreign country is received & feted in Pak
Mar 31: PM makes public details of threat— omar r quraishi (@omar_quraishi) March 31, 2022
Shah Mahmood and Imran Khan received the so called threat from US on 7/8 March but they were rolling out red carpet for the same country inside Pakistan 2 weeks later. They think everyone is a fool. pic.twitter.com/7H1HrYWyVf
— Murtaza Ali Shah (@MurtazaViews) March 31, 2022
سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ یوں لگتا ہے کہ خط کے معاملے پر قوم کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے کیونکہ جس گرم جوشی سے وزیر خارجہ نے استقبال کیا اس سے یہی لگتا ہے کہ کوئی خط وغیرہ نہیں ہے،
قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا بڑا اعلان
وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری
دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان
وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا
دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا
دھمکی آمیز خط کے بارے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے
قوم سے خطاب مؤخر،خط کس نے لکھا ؟کتنی سخت زبان،کیا پیغام،عمران خان نے سب بتا دیا
پیکنگ ہو گئی ،عمران خان کابینہ کے وزرا بیرون ملک بھاگنے کو تیار
عمران خان کو اپنے بھی چھوڑ گئے، پارلیمنٹ لاجز میں ہلچل،فائلیں جلائی جانے لگیں
پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس طلب،وزیراعظم کا قوم سے خطاب بھی متوقع
سندھ ہاؤس کا کمرہ سب جیل قرار،کس کو جیل میں ڈالنے کی ہوئی تیاری؟
عمران خان کو کسی قسم کا این آر او نہیں دیں گے ،بلاول کا اعلان
این آر نہیں دونگا ..بلکہ لوں گا، عمران خان نے "این آر او”مانگ لیا
اپوزیشن اتحاد کا ایک اور وار، اسمبلی میں 172 اراکین موجود،درخواست میں بڑا مطالبہ کر دیا
نکل جاؤ، منحرف اراکین کو کہاں سے نکال دیا گیا؟
دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ
دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی
دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا
-

دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا
دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 27 مارچ کے جلسے میں وزیراعظم عمران خان کی جانب سے لہرائے گئے دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس تک پہنچ گیا
گزشتہ روز قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے بعد پاکستان نے امریکی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا تا ہم اس کے بعد امریکہ کی جانب سے پاکستانی وزیراعظم کے الزامات کو مسترد کر دیا گیا ہے، امریکا کا کہنا ہے کہ کسی قسم کی کوئی دھمکی نہیں دی نہ ہی پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر ہے ہیں
ترجمان امریکی دفتر خارجہ نیڈ پرائس نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے امریکی مداخلت سے متعلق کے سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں پاکستان میں آئینی عمل، قانون کی بالادستی کا احترام کرتے ہیں، پاکستان نے جو الزامات لگائے ہیں ان میں کوئی حقیقت نہیں پاکستان کی جانب امریکہ پر عائد الزامات میں کوئی حقیقت نہیں امریکہ نے پاکستان کی سیاسی صورتحال پر کوئی خط جاری نہیں کیا پاکستان کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں پاکستان کے آئینی عمل کا احترام کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان کو دھمکی آمیز خط بھیجنے والے ملک کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا اسکے بعد امریکی ناظم الامور کو طلب کیا گیا
وزیراعظم عمران خان نے پریڈ گراؤنڈ جلسہ میں اعلان کیا تھا کہ انہیں دھمکی آمیز خط ملا ہے اس وقت ملک کا نام نہیں لیا گیا تھا گزشتہ روز قوم سے خطاب کے دوران وزیراعظم نے امریکہ کا نام لے لیا بعد میں کہا کہ نہیں کسی اور ملک نے۔ بحرحال اب یہ طے ہو گیا کہ دھمکی آمیز خط امریکہ کی جانب سے ہی تھا جو وزیراعظم کو سفیر نے بھیجا ۔امریکی تھرڈ سیکرٹری نے پاکستانی سفیر سے ملاقاتوں میں جو باتیں کیں وہ سفیر نے وزیراعظم کو بھجوائیں
قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا بڑا اعلان
وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری
دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان
وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا
دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا
دھمکی آمیز خط کے بارے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے
قوم سے خطاب مؤخر،خط کس نے لکھا ؟کتنی سخت زبان،کیا پیغام،عمران خان نے سب بتا دیا
پیکنگ ہو گئی ،عمران خان کابینہ کے وزرا بیرون ملک بھاگنے کو تیار
عمران خان کو اپنے بھی چھوڑ گئے، پارلیمنٹ لاجز میں ہلچل،فائلیں جلائی جانے لگیں
پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کا ان کیمرا اجلاس طلب،وزیراعظم کا قوم سے خطاب بھی متوقع
سندھ ہاؤس کا کمرہ سب جیل قرار،کس کو جیل میں ڈالنے کی ہوئی تیاری؟
عمران خان کو کسی قسم کا این آر او نہیں دیں گے ،بلاول کا اعلان
این آر نہیں دونگا ..بلکہ لوں گا، عمران خان نے "این آر او”مانگ لیا
اپوزیشن اتحاد کا ایک اور وار، اسمبلی میں 172 اراکین موجود،درخواست میں بڑا مطالبہ کر دیا
نکل جاؤ، منحرف اراکین کو کہاں سے نکال دیا گیا؟
دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ
-

عمران خان کی اقتدار بچانے کی ایک اور چال
عمران خان کی اقتدار بچانے کی ایک اور چال
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی اقتدار بچانے کی ایک اور چال سامنے آ گئی ہے
وزیراعظم عمران خان نے قومی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرلیا قومی سلامتی کونس کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے
باخبر ذرائع کے مطابق قومی سلامتی کونسل اجلاس میں وزیراعظم عمران خان دھمکی آمیز خط بارے سب کو آگاہ کریں گے، اجلاس میں وزیراعظم عمران خان خط دکھائین گے اور اس پر مزید مشاورت و بات چیت کی جائے گی،
دوسری جانب وفاقی حکومت نے وزیراعظم عمران خان کی طرف سے دکھائے گئے دھمکی آمیز خط کے بعد پارلیمنٹ کا ان کیمرہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے
واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو خط دکھانے کا اعلان کیا تھا بعد میں یوٹرن لے لیا، وزیراعظم عمران خان کی سینئر صحافیوں سے ملاقات ہوئی وزیراعظم نے کہا خط پر نیشنل سیکیورٹی کے قانون لاگو ہوتے ہیں وزیراعظم نے صحافیوں کو خط دکھایا نہیں خط اسد عمر کے پاس تھا وزیراعظم نے صحافیوں کو خط کے مندرجات بتائے,وزیراعظم عمران خان کا کہناتھا کہ خط سے متعلق پارلیمنٹ میں ان کیمرا بریفنگ ہوگی،روس جانے سے پہلے حکام سے تفصیلی بریفنگ لی خط عسکری حکام سے شیئر کیاجاچکا ہے ،مراسلہ ہمارے اپنے سفیر کی طرف سے لکھا گیا ہے، وزیراعظم نے بریفنگ کے دوران کہا ملک کا نام نہیں بتاسکتے
واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے 27 مارچ کو پریڈ گراونڈ کے جلسے میں ایک خط لہرایا تھا جس کےبارے میں تفصیلات نہیں بتائی تھیں اور کہا تھا کہ یہ دھمکی آمیز خط ہے، آف دی ریکارڈ دکھا سکتا ہوں، ہمیں پتہ ہے باہر سے کن کن جگہوں سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے، لکھ کر ہمیں دھمکی دی گئی ہے، ہم ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے، قوم کے سامنے پاکستان کی آزادی کا مقدمہ رکھ رہا ہوں، الزامات نہیں لگا رہا، میرے پاس جو خط ہے وہ ثبوت ہے۔اس کے بعد وزیراعظم نے خط لہرا کر عوام کو دکھایا پھر جیب میں ڈال لیا۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی شک کر رہا ہے، اسے آف دی ریکارڈ خط دکھا سکتا ہوں، بیرونی سازش کی بہت سی باتیں مناسب وقت پر جلد سامنے لائی جائیں گی۔
گزشتہ روز وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا تھاکہ خط چیف جسٹس کے سامنے پیش کرنے کو تیار ہیں، مقصد خط کی حقیقت آشکار کرنا ہے دھمکی دی گئی کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہونے کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں سات مارچ کو جیسے ہی خط ملا، مراسلے میں لکھا ہے کہ عدم اعتماد کی تحریک آرہی ہے عدم اعتماد کامیاب نہ ہوئی اور عمران خان وزیراعظم برقرار رہے تو خوفناک نتائج آسکتے ہیں
باسط بخاری نے وزیراعظم عمران خان کے خط کے حوالے سے بڑا دعویٰ کیا ہے
تیاررہیں، عمران خان کو جو خط آیا وہ میں بتاؤں گی،مریم نواز کا بڑا اعلان
غریدہ فاروقی وزیراعظم کو بھجوایا گیا خط سامنے لے آئیں
بعدازاں پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی لال چند مالہی نے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو دھمکی آمیز خط 7 مارچ کو موصول ہوا تھا مالہی نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم کو ملنے والے دھمکی آمیز خط میں تحریک عدم اعتماد کا بھی ذکر ہے وزیراعظم عمران خان کو ملنے والے دھمکی آمیز خط کا ملک کی عسکری قیادت اور وزارت خارجہ کو علم ہے مختلف ممالک سے نازک قسم کے معاملات ہیں اس لیے نام نہیں لے سکتے ہیں۔
مہنگائی مکاؤ مارچ مہنگائی کے کپتان سے نجات کا مارچ ہے،مریم اورنگزیب
اتحادیوں کو منانے کا مشن،حکومت متحرک، اہم ملاقاتیں طے
عمران خان کو کہہ دیا وقت سے پہلے الیکشن کرواؤ،شیخ رشید
10 لاکھ لوگوں کو اسلام آباد لانے کا خرچہ کون اٹھا رہا ہے ؟سینیٹر پلوشہ خان
ہنڈیا آدھی تو تقسیم ہوچکی،ابھی بہت سے ادا کار تبدیل ہونے ہیں،چودھری پرویز الہی
ہم سلیکٹڈ کے سامنے نہیں جھکیں گے ،بلاول
مہنگائی مکاؤ مارچ،مریم نواز نے نکلنے سے پہلے کیا کیا؟ تصاویر سامنے آ گئیں
تحریک انصاف کے جلسے کی تیاریاں مکمل،جلد اچھی خبر آئے گی،وفاقی وزیر کا دعویٰ
زرداری بڑی بیماری،چیری بلاسم سے جوتا زیادہ چمکتا ہے، ڈیزل سستا ہوگیا ،وزیراعظم کا جلسے سے خطاب
سرپرائیز آنا شروع، بزدار کیخلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع
عدم اعتماد، وفاق، پنجاب کے بعد اگلی باری خیبر پختونخوا کی
پرویز الہیٰ کو ایک بار پھر وزارت اعلیٰ کی پیشکش ہو گئی
پرویز الہیٰ کے بنی گالہ پہنچتے ہی چودھری شجاعت کا بڑا اعلان
بریکنگ،بزدار فارغ، پرویز الہیٰ وزیراعلیٰ پنجاب، حکومت نے اعلان کر دیا
جب "باپ” ساتھ چھوڑ جائے گا تو پھر بچوں کی کیا جرات کہ وہ ساتھ رہیں
خاندان میں اختلافات، چودھری شجاعت نے بڑا سرپرائز دے دیا
عاصم نذیر بھی ن لیگ میں شامل ہو گئے؟ سرپرائز ہی سرپرائز
حتمی فیصلہ 3 اپریل کو ہوگا،بجٹ کے بعد الیکشن ہونے چاہیں،شیخ رشید
وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری
دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان
وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا
دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا
دھمکی آمیز خط کے بارے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے
قوم سے خطاب مؤخر،خط کس نے لکھا ؟کتنی سخت زبان،کیا پیغام،عمران خان نے سب بتا دیا