Baaghi TV

Tag: دھمکی کیس

  • خاتون جج دھمکی کیس، عمران خان کی بریت کی درخواست خارج

    خاتون جج دھمکی کیس، عمران خان کی بریت کی درخواست خارج

    جج دھمکی کیس میں عمران خان کی بریت کی درخواست خارج ، اسلام آباد کی سیشن کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ، کیس کا ٹرائل 20 دسمبر سے شروع ہو گا

    اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے جج دھمکی کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی بریت درخواست خارج کردی،عباس خان کی عدالت نے محفوظ شدہ فیصلہ سنادیا۔عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر چیئرمین پی ٹی آئی کی بریت درخواست پر فیصلہ محفوظ کیاتھا۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ درخواست249خارج کی جاتی ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی خاتون جج دھمکی کیس میں بریت کے مستحق نہیں، عدالت نے مزید کارروائی کیلئے سماعت 20دسمبر تک ملتوی کردی،چیئرمین پی ٹی آئی پر تقریر کے دوران شہباز گل کا ریمانڈ دینے والی خاتون جج کو دہمکی دینے کا الزام تھا

    قبل ازیں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت سول جج محمد مرید عباس نے کی۔پراسیکیوٹر رضوان عباسی اور چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چوہدری عدالت پیش ہوئے۔خاتون جج دھمکی کیس میں پراسیکیوشن کے دلائل مکمل ہوئے تو عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا

    عدالت پیشی کے موقع پر بھی عمراں خان نے عدالت سے اس کیس میں معافی مانگی تھی،چیرمین پی ٹی آئی عمران خان روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ 27 سال میں نے قانون کی بالادستی کی جنگ لڑی ہےمیں نے جوش خطابت میں ایک مظاہرے میں یہ الفاظ کہیں تھے ،میں نے اپنے الفاظ پر معافی مانگنے کے لیے جج زیبا چوہدری کی عدالت بھی گیا، آج تک میں نے کوئی قانون نہیں تھوڑا، عمران خان نے خاتون جج دھمکی کیس میں عدالت میں کھڑے ہوکر معافی مانگ لی ،کہا کہ اگر میں نے لائن کراس کی ہے تو معذرت چاہتا ہوں،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے پارٹی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے خاتون جج اور انتظامی افسروں کو دھمکی دی تھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا اور توہین عدالت کا کیس چلا تھا تاہم گزشتہ سماعت پر عدالت نے توہین عدالت ختم کر دی تھی،عمران خان کے اس کیس میں وارنٹ بھی جاری ہوئے تھے، تا ہم بعد میں منسوخ کر دیئے گئے تھے، عمران خان اس کیس میں ضمانت پر ہیں

  • جس دن عمران خان کاکیس ہو اور کیس نہیں سن سکتا، جج کے ریمارکس

    جس دن عمران خان کاکیس ہو اور کیس نہیں سن سکتا، جج کے ریمارکس

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد،چئیر مین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت ہوئی

    وکیل صفائی کی عدم دستیابی کے باعث سماعت ملتوی کر دی گئی،کیس کی سماعت سول جج محمد مرید عباس نے کی،چئیر مین پی ٹی آئی کے وکیل خالد یوسف چوہدری عدالت کے روبرو پیش ہوئے، بیرسٹرسلمان صفدر مصروفیت کے باعث عدالت پیش نہ ہوسکے ،پراسیکیوٹر رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ میں دلائل دینے کو تیار ہوں اگر وکیل صفائی کی موجودگی میں دلائل دینے ہیں تو تاریخ دے دیں,جج مرید عباس نے کہا کہ دلائل سلمان صفدر کی موجودگی میں ہی ہوں گے, جس دن چیئرمین پی ٹی آئی کا کیس ہوتا ہے اور کوئی کیس نہیں سن سکتا آج بھی فری بیٹھا ہوں, میں ہائی کورٹ کو مہنگا پڑھ رہا ہوں 13 ہزار دیہاڑی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی کے 4 کیسز ہیں پورا دن ضائع ہو جاتا ہے،2 دسمبر کی تاریخ رکھ لیتے ہیں،ہفتے کے روز سماعت رکھ لیتا ہوں ہفتے کو ہائیکورٹ سپریم کورٹ چھٹی ہوتی ہے،ہر ہفتے سماعت نہیں رکھ سکتا باقی کیسز بھی دیکھنے ہیں،وکیل صفائی نے کہا کہ سائفر کیس میں ہر منگل سماعت ہوتی ہے اس کیس میں بھی منگل کا دن رکھ لیں، عدالت نے کیس کی سماعت 28 نومبر تک ملتوی کر دی

    عدالت پیشی کے موقع پر بھی عمراں خان نے عدالت سے اس کیس میں معافی مانگی تھی،چیرمین پی ٹی آئی عمران خان روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ 27 سال میں نے قانون کی بالادستی کی جنگ لڑی ہےمیں نے جوش خطابت میں ایک مظاہرے میں یہ الفاظ کہیں تھے ،میں نے اپنے الفاظ پر معافی مانگنے کے لیے جج زیبا چوہدری کی عدالت بھی گیا، آج تک میں نے کوئی قانون نہیں تھوڑا، عمران خان نے خاتون جج دھمکی کیس میں عدالت میں کھڑے ہوکر معافی مانگ لی ،کہا کہ اگر میں نے لائن کراس کی ہے تو معذرت چاہتا ہوں،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے پارٹی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے خاتون جج اور انتظامی افسروں کو دھمکی دی تھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا اور توہین عدالت کا کیس چلا تھا تاہم گزشتہ سماعت پر عدالت نے توہین عدالت ختم کر دی تھی،عمران خان کے اس کیس میں وارنٹ بھی جاری ہوئے تھے، تا ہم بعد میں منسوخ کر دیئے گئے تھے، عمران خان اس کیس میں ضمانت پر ہیں

  • عمران خان کی چھ ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ملتوی

    عمران خان کی چھ ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ملتوی

    اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،9 مئی سے متعلق چیئرمین پی ٹی آئی کی 6 درخواست ضمانتوں پر سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کی 6 درخواستِ ضمانتوں پر سماعت جج طاہرعباس سِپرا نے کی،چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر عمیر نیازی، خالد یوسف چوہدری سیشن عدالت پیش ہوئے،چیئرمین پی ٹی آئی کی آج حاضری سے استثنا کی درخواست منظور کرلی گئی،چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواستِ ضمانت پر سماعت حتمی دلائل کے لیے 31 اکتوبر تک ملتوی کردی گئی

    دوسری جانب اسلام آباد کی مقامی عدالت میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت ہوئی، جوڈیشل مجسٹریٹ مرید عباس نے کیس کی سماعت کی ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپیشل پراسیکیوٹر نے دلائل دینے ہیں، پراسیکیوٹر کے حاضر نہ ہونے کی وجہ سے سماعت میں 11بجے تک وقفہ کر دیاگیا

    عدالت پیشی کے موقع پر بھی عمراں خان نے عدالت سے اس کیس میں معافی مانگی تھی،چیرمین پی ٹی آئی عمران خان روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ 27 سال میں نے قانون کی بالادستی کی جنگ لڑی ہےمیں نے جوش خطابت میں ایک مظاہرے میں یہ الفاظ کہیں تھے ،میں نے اپنے الفاظ پر معافی مانگنے کے لیے جج زیبا چوہدری کی عدالت بھی گیا، آج تک میں نے کوئی قانون نہیں تھوڑا، عمران خان نے خاتون جج دھمکی کیس میں عدالت میں کھڑے ہوکر معافی مانگ لی ،کہا کہ اگر میں نے لائن کراس کی ہے تو معذرت چاہتا ہوں،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے پارٹی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے خاتون جج اور انتظامی افسروں کو دھمکی دی تھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا اور توہین عدالت کا کیس چلا تھا تاہم گزشتہ سماعت پر عدالت نے توہین عدالت ختم کر دی تھی،عمران خان کے اس کیس میں وارنٹ بھی جاری ہوئے تھے، تا ہم بعد میں منسوخ کر دیئے گئے تھے، عمران خان اس کیس میں ضمانت پر ہیں

  • خاتون جج دھمکی کیس،چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے،وکیل

    خاتون جج دھمکی کیس،چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے،وکیل

    اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت ہوئی

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر جوڈیشل مجسٹریٹ مریدعباس کی عدالت پیش ہوئے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، ابھی بھی ہورہی، مجھے نہیں معلوم اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی عدالت میں موجود ہیں یا نہیں،

    پرایسکیوشن عدالت میں موجود ہے، معاون پراسیکیوٹر روسٹرم پر آگئے ،معاون پراسیکیوٹر نے کہا کہ اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی اسلام ہائیکورٹ میں مصروف ہیں،وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی کو بلا لیں، 2 بجے سماعت رکھ لیتےہیں،میں انتظار کرلوں گا، آج یا کل اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی سےعدالت پیش ہونے کی گارنٹی لیں،جج مریدعباس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں نے صرف خاتون جج دھمکی کیس کی وجہ سے آج کے دیگر کیسز ملتوی کردیے،

    عدالت پیشی کے موقع پر بھی عمراں خان نے عدالت سے اس کیس میں معافی مانگی تھی،چیرمین پی ٹی آئی عمران خان روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ 27 سال میں نے قانون کی بالادستی کی جنگ لڑی ہےمیں نے جوش خطابت میں ایک مظاہرے میں یہ الفاظ کہیں تھے ،میں نے اپنے الفاظ پر معافی مانگنے کے لیے جج زیبا چوہدری کی عدالت بھی گیا، آج تک میں نے کوئی قانون نہیں تھوڑا، عمران خان نے خاتون جج دھمکی کیس میں عدالت میں کھڑے ہوکر معافی مانگ لی ،کہا کہ اگر میں نے لائن کراس کی ہے تو معذرت چاہتا ہوں،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے پارٹی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے خاتون جج اور انتظامی افسروں کو دھمکی دی تھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا اور توہین عدالت کا کیس چلا تھا تاہم گزشتہ سماعت پر عدالت نے توہین عدالت ختم کر دی تھی،عمران خان کے اس کیس میں وارنٹ بھی جاری ہوئے تھے، تا ہم بعد میں منسوخ کر دیئے گئے تھے، عمران خان اس کیس میں ضمانت پر ہیں

  • عمران خان نے خاتون جج دھمکی کیس میں معافی مانگ لی

    عمران خان نے خاتون جج دھمکی کیس میں معافی مانگ لی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد ،خاتون جج دھمکی کیس ،چیئرمین پی ٹی آئی خاتون جج دھمکی کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان کی عدالت پیش ہوئے،

    وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ ہمارے خلاف جعلی کیسسز بنائے گئے ہیں، سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ہم آپ کے سامنے ایف ایٹ کچہری پیش نہ ہوسکے، آپکی کورٹ میں دو اے سی اور نو پنکھے لگے ہیں جو کہ ٹھنڈی کورٹ ہے،جج طاہر عباس سپرا نے کہا کہ آپ کو ویلکم پہلی مرتبہ کمپلکس مین آئے ہیں ،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس کمپلکس کا افتتاح بھی چیئر مین تحریک انصاف نے کیا تھا۔ جوڈیشل کمپلکس کا کریڈٹ چیئر مین تحریک انصاف کو جاتا ہے میرے موکل نے کہا ٹھنڈی عدالتیں میں نے بنائی مگر اب میرے ہی خلاف کیسز سے گرم ہے، ہمارے خلاف جتنے بھی کیسز بنے ہیں جعلی مقدمات ہیں،کچھ کیسز میں پہلے 7 اے ٹی اے اور پھر بعد میں مزید دفعات لگائی گئیں، درخواست گزار نے کونسا جرم کیا یہ نہیں پتہ بس ذہین میں دہشتگردی کی دفعات آئیں اور مقدمہ بنا دیا گیا،

    چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے ایف آئی آر کا متن عدالت میں پڑھ کر سنایا ،اور کہا کہ ایف آئی آر میں لکھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا آپ کے اوپر کیس کرنا ہے، ماتحت عدالتوں کے اوپر اعلیٰ عدلیہ موجود ہیں، کوئی بھی کیس کرسکتا ہے، کہا گیا کہ شہباز گل کی گرفتاری پر ایف نائن پارک میں جلسے میں کار سرکار میں مداخلت کی گئی،کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے الفاظ سے ملک میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی گئی،

    سلمان صفدر کی جانب سے دوران سماعت شہباز گل پر کسٹوڈیل ٹارچر کا بھی ذکر کیا گیا،وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ شہباز گل کو مارا گیا، ان پر پریشر ڈالا گیا کہ درخواست گزار کے خلاف گواہی دے، کرکٹ کے بعد اب درخواست گزار عدالتوں کے بھی خوب عادی ہوگئے،عموماً کرپشن، اختیارات کے غلط استعمال و دیگر چیزوں پر مقدمات درج ہوتے ہیں،درخواست گزار کے خلاف ایسے کوئی شواہد نہیں ملے تو یہ چیزیں آگئی،

    خاتون جج دھمکی کیس میں توشہ خانہ کیس کا بھی ذکر آیا، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ کبھی توشہ خانہ، کبھی ممنوعہ فنڈنگ، کبھی غداری، دہشت گردی، کبھی تحائف بیچنے جیسے کیسز بنائے گئے،تمام کیسسز میں مدعی، فریق اور تفتیشی پولیس ہی ہیں، اس کیس میں متاثرہ فریق آئی جی صاحب ہے، مگر شکایت کنندہ پولیس ہے، سابق چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا تھا کہ سیاسی شخصیات کو ایسے بیانات نہیں دینے چاہیے تھے،درخواست گزار کے خلاف 71 سالہ زندگی میں کبھی کوئی کریمنل کیس درج نہیں ہوا،

    درخواست گزار نے کہا میری عمر صحیح بولے، سلمان صفدر کے جملے پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے، وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ اس کیس میں دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا جو بنتا ہی نہیں تھا،

    چیرمین پی ٹی آئی عمران خان روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ 27 سال میں نے قانون کی بالادستی کی جنگ لڑی ہےمیں نے جوش خطابت میں ایک مظاہرے میں یہ الفاظ کہیں تھے ،میں نے اپنے الفاظ پر معافی مانگنے کے لیے جج زیبا چوہدری کی عدالت بھی گیا، آج تک میں نے کوئی قانون نہیں تھوڑا، عمران خان نے خاتون جج دھمکی کیس میں عدالت میں کھڑے ہوکر معافی مانگ لی ،کہا کہ اگر میں نے لائن کراس کی ہے تو معذرت چاہتا ہوں، چیرمین پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر کے دلائل مکمل ہو گئے

    جج نے پراسیکوشن سے استفسار کیا کہ کیا آپ دلائل آج دیں گے ؟ پراسیکیوٹر نے کہا کہ پبلک پراسیکیوٹر رضوان عباسی عدالت موجود نہیں، ہم پوچھ کر بتاتے ہیں،سلمان صفدر نے استدعا کی کہ ہم لاہور سے بارش میں آئے ہیں انکو آج ہی دلائل دینے دیں، پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہائی کورٹ نے صرف 7 اے ٹی اے کی حد تک ججمنٹ دی تھی، اگر معاملہ اتنا ہی آسان تھا جتنا سلمان صفدر صاحب نے بتایا تو ہائی کورٹ شاید کیس کو ہی ختم کرتی، ٹرائل میں پتہ چلے گا کہ کونسا ایکشن انہوں نے لینا تھا، میرے لئے حیران کن بات ہے کہ جج زیبا صاحبہ اور آئی جی نے اپنا بطور گواہ بیان ریکارڈ نہیں کیا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انکا ایک نقطہ ہے کہ آئی جی پولیس اور جج صاحبہ متاثرہ فریق ہیں، اگر آپ مجھے کہیں کہ میں آپکو نہیں چھوڑوں گا تو شاید میں نہ ڈروں،جج نے استفسار کیا کہ اے سی کے علاؤہ وہاں اور کون کون ڈیوٹی پر موجود تھے، پراسکیوٹر نے کہا کہ اس کیس میں اے سی کے علاؤہ بھی افسران بھی موجود تھے، اور پیمرا سے ریکارڈ بھی طلب کرلیا ہے، جج صاحبہ موقع پر اگر موجود ہوتی تو ہم ان کا بیان ضرور ریکارڈ کرتے، معزز عدالت کو جلسہ میں کس انداز سے دھمکی دی گئی،اس میں ویڈیو، فرانزک، ٹرانسکرپٹ اور پیمرا کے شواہد موجود ہیں،جب تک ٹرائل نہیں ہوتا اس بات کی پتہ نہیں چلتا کہ کس ایکشن کی بات ہوئی تھی،

    خاتون جج دھمکی کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی عبوری ضمانت میں 24 جولائی تک توسیع کردی گئی

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

    عمران خان معافی مانگنے جج زیبا چودھری کی عدالت پہنچ گئے

    خیال رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے پارٹی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے خاتون جج اور انتظامی افسروں کو دھمکی دی تھی اسلام آباد ہائیکورٹ نے از خود نوٹس لیا تھا اور توہین عدالت کا کیس چلا تھا تاہم گزشتہ سماعت پر عدالت نے توہین عدالت ختم کر دی تھی،عمران خان کے اس کیس میں وارنٹ بھی جاری ہوئے تھے، تا ہم بعد میں منسوخ کر دیئے گئے تھے، عمران خان اس کیس میں ضمانت پر ہیں

  • خاتون جج دھمکی کیس ، عمران خان کے ایک بار پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    خاتون جج دھمکی کیس ، عمران خان کے ایک بار پھر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت ہوئی

    خاتون جج زیبا چودھری کو دھمکی دینے کے کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان نے کی سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے وکلاء نے عدالت میں قابل ضمانت وارنٹ بحال رکھنے کی استدعا کر دی ،وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو سکیورٹی خدشات ہیں جان کو خطرہ ہے ان سے سکیورٹی واپس لینے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی نوٹس جاری کیے ہیں، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوشن کی جانب سے ابھی تک کوئی پیش نہیں ہوا ان کی طرف دیکھتے ہیں کہ وہ کیا کہتے ہیں .عمران خان کے وکیل نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں ابھی اسلام آباد ہائی کورٹ جا رہا ہوں، جج ملک امان نے کہا کہ آپ بیشک چلے جائیں آپ کے دلائل تو آ گئے ، عدالت نے کیس کی سماعت میں 11 بجے تک وقفہ کر دیا۔

    عمران خان کے خلاف خاتون جج دھمکی کیس کی سماعت وقفے کے بعد شروع ہوئی،پراسیکوٹر راجہ رضوان عباسی سول جج ملک امان کی عدالت میں پیش ہوئے،پراسیکیوٹر نے کہا کہ حاضرنہ ہونے سے متعلق ٹھوس وجوہات بھی نہیں بتائی گئیں،
    عمران خان کی استثنیٰ کی درخواست خارج کی جائے،عمران خان کے نا قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں، سول جج ملک امان نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد میں سنا دیا گیا، خاتون جج دھمکی کیس میں عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے، عدالت نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کر دی، عدالت نے عمران خان کو 18 اپریل کو پیش کرنے کا حکم دے دیا،

    دوسری جانب عمران خان کو آج اسلام آباد کچہری میں دو مختلف عدالتوں نے طلب کر رکھا ہے خاتون جج دھمکی کیس میں سول جج رانا مجاہد رحیم نے عمران خان کو طلب کر رکھا ہے جبکہ لانگ مارچ توڑ پھوڑ کیس میں عمران خان کو سول جج مبشر حسن چشتی نے طلب کر رکھا ہے

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

     نا قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری میں تبدیل کردیا