اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان سے متعلق بریفنگ کے دوران روس نے افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں بالخصوص ٹی ٹی پی اور داعش خراسان (ISIS-K) سے لاحق خطرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
روس کی مستقل نمائندہ برائے اقوام متحدہ نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی دہشتگرد سرگرمیوں کے پس منظر میں پیدا ہو رہی ہے،انہوں نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان میں داعش خراسان کی مسلسل موجودگی کو بھی علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے ایک اہم چیلنج قرار دیا کہا کہ افغانستان میں سرگرم دہشتگرد عناصر خطے کے امن و استحکام کے لیے بدستور خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق روس کے حالیہ ریمارکس پاکستان کے اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں کہ افغان سرزمین سے سرگرم دہشتگرد گروہ علاقائی سلامتی کو متاثر کر رہے ہیں، ماہرین کے مطابق افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کی موجودگی اور سرحد پار حملوں کے خدشات خطے کے ممالک کے لیے ایک مشترکہ سیکیورٹی چیلنج بن چکے ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تعاون کی ضرورت ہے۔
ایران کے ساتھ معاہدہ دو یا تین روز میں طے پا سکتا ہے،ٹرمپ
مبصرین کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل میں روس کے بیان نے افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال اور وہاں موجود شدت پسند دہشتگرد گروہوں کے حوالے سے جاری عالمی بحث کو مزید تقویت دی ہے، روس کی جانب سے ٹی ٹی پی اور داعش خراسان کے خطرات کا ذکر اس معاملے پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تشو یش کی عکاسی کرتا ہے۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کے کور کمیٹی رکن توصیف جرال خود کو پولیس کے حوالے کردیا
