Baaghi TV

Tag: دہشت گرد

  • پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی

    پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی

    وزارت اطلاعات و نشریات کی پریس ریلیز کے مطابق، پاکستان نے باضابطہ طور پر افغان سرزمین کے اندر درست فضائی حملے کرنے، تحریک طالبان پاکستان (TTP)، القاعدہ کے عناصر، اور ISIS-Khorasan Province (ISKP) سے منسلک عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں اور تربیتی کیمپوں کو نشانہ بنانے کا باضابطہ اعتراف کیا ہے۔

    پاکستان میں حالیہ خودکش بم دھماکوں کے واقعات، بشمول اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں ایک ایک اور آج بنوں میں رمضان کے مقدس مہینے کے دوران ایک اور واقعے کے بعد،پاکستان کے پاس اس بات کے حتمی شواہد موجود ہیں کہ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں خوارج نے اپنی افغانستان میں مقیم قیادت اور ہینڈلرز کی ایماء پر کیں۔

    ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں مقیم پاکستانی طالبان جن کا تعلق فتنہ الخوارج (ایف اے کے) اور ان سے وابستہ تنظیموں اور دولت اسلامیہ خرا سا ن صوبہ (آئی ایس کے پی) نے بھی قبول کیا تھا۔

    دہشتگردوں کیخلاف ان کی موجودگی کے مقام سے قطع نظر بلارعایت کارروائیاں کریں گے،آئی ایس پی آر

    پاکستان کی طرف سے افغان طالبان کی حکومت پر دہشت گرد گروپوں اور غیر ملکی پراکسیوں کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے کے لیے قابل تصدیق اقدامات کرنے پر زور دینے کی بار بار کوششوں کے باوجود، افغان طالبان حکومت ان کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔

    پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن واستحکام برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کی حفاظت اور سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے اس پس پردہ ردعمل میں، پاکستان نے جوابی کارروائی میں، پاکستانی طالبان کے FAK اور اس سے وابستہ تنظیموں اور ISKP کے سات دہشت گردوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو درست اور درستگی کے ساتھ پاک افغان سرحد کے سرحدی علاقے میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر منتخب کیا ہے۔

    پاکستان، سعودی عرب سمیت اسلامی ممالک کی اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے بیان کی شدید مذمت

    پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع کرتا ہے اور اس کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا اور خوارج اور دہشت گردوں کی جانب سے پا کستان کے خلاف اپنی سرزمین کے استعمال سے انکار کرے گا کیونکہ پاکستان کے لوگوں کی حفاظت سب سے پہلے ہے پاکستان بین الاقوامی برادری سے بھی توقع کرتا ہے کہ وہ طالبان حکومت پر زور دے کر مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے گا کہ وہ دوحہ معاہدے کے حصے کے طور پر اپنی سرزمین کو دوسرے مما لک کے خلاف استعمال کرنے سے روکنے کے لیے اپنے وعدوں پر قائم رہے، علاقائی اور عالمی امن اور سلامتی کے لیے ایک اہم اقدام۔

  • کراچی:  ڈولمن مال پر  دہشت گرد  حملے کا بڑامنصوبہ ناکام بنا دیا

    کراچی: ڈولمن مال پر دہشت گرد حملے کا بڑامنصوبہ ناکام بنا دیا

    کراچی:شہر قائد میں ایک بڑے دہشت گرد حملے کی کوشش ناکام، بھاری مقدار میں بارودی مواد برآمد، ڈولمن مال کو نشانہ بنانے کا منصوبہ تھا-

    کراچی میں رئیس گوٹھ کے علاقے میں پولیس نے ایک بڑا دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے ایک ویبیئد (VBIED) اور بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد قبضے میں لے لیا، جس میں 2,000 کلوگرام دھماکہ خیز مواد سے بھرے 60 ڈرم اور 5 گیس سلنڈر، اس کے ساتھ ساتھ کمپاؤنڈ میں ذخیرہ شدہ اضافی دھماکہ خیز مواد، بشمول 40 کلوگرام گھریلو دھماکہ خیز مواد کی 6 بوریاں شامل تھیں، یہ مواد ڈولمن مال پر حملے کے لیے تیار کیا گیا تھا اور تحقیقات جاری ہیں.

    یتیم اور بے سہارا بچیاں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی خصوصی مہمان بن گئیں

    پیپلز پارٹی کراچی دشمن جماعت ہے ان کو کوئی ووٹ نہیں دیتا،حافظ نعیم الرحمان

    پاکستان اور چین کا سی پیک سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو نئی جہت دینے پر اتفاق

  • باجوڑ:  گرینڈ جرگے کا دہشت گردوں کو پناہ نہ دینے کا اعلان

    باجوڑ: گرینڈ جرگے کا دہشت گردوں کو پناہ نہ دینے کا اعلان

    سالارزئی کی لرآمدک قوم کے گرینڈ جرگے نے دہشت گردوں کو پناہ نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

    سالارزئی کی لرآمدک قوم کے گرینڈ جرگے نے دہشت گردوں کو پناہ نہ دینے کا اعلان کیا ہے،سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ باجوڑ کی تحصیل ماموند اور لوئی ماموند میں دہشتگرد موجود ہیں، ماموند اور لوئی ماموند میں انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں، ٹارگٹڈ کارروائیوں کے دوران عوام کی سہولت کے لیے صوبائی اور مقامی انتظامیہ، ریاستی اداروں کیساتھ مل کر انتظامات کر رہی ہے۔

    سالارزئی کی لرآمدک قوم کے گرینڈ جرگے نے دہشت گردوں کو پناہ نہ دینے کا اعلان کیا ہے، گرینڈ جرگے نے فیصلہ کیا ہے کہ سالارزئی میں کسی کو بھی اجازت نہیں دیتے کہ وہ امن خراب کرے یا دہشت گردی پھیلائے۔

    ترکیہ: صوبہ چناق قلعہ میں خوفناک جنگلاتی آگ بھڑک اٹھی

    سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ عوام اور مقامی مشران دہشت گرد خارجیوں کے خلاف ریاست کاساتھ دے رہے ہیں، ملک بھر میں سیکیورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 200 سے زائد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کرتی ہیں،باجوڑ میں کئی دن سے تحصیل لوئی ماموند سے کثیر تعداد میں لوگوں کی نقل مکانی جاری ہے، ضلعی انتظامیہ نے متاثرین کے لیے 107 سرکاری اسکول اور کالجز خالی کرا دیے ہیں،باجوڑ اسپورٹس کمپلیکس میں 450 ٹینٹس پر مشتمل کیمپ قائم کیا گیا ہے-

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک سیکیورٹی فورسز ان ملک دشمن عناصر کیخلاف برسرِ پیکار رہیں گی۔

    بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑے جانے کا امکان، الرٹ جاری

  • افغانستان میں خود کش حملہ آوروں کو تربیت دیکر  دہشتگرد تنظیموں کو بیچے جانے کا انکشاف

    افغانستان میں خود کش حملہ آوروں کو تربیت دیکر دہشتگرد تنظیموں کو بیچے جانے کا انکشاف

    وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے افغانستان محمد صادق خان نے کہا ہے کہ افغانستان میں خود کش حملہ آوروں کو کیمپوں میں تربیت دے کر بیچ دیا جاتا ہے، ان کو مختلف تنظیموں کو بیچا جاتا ہے۔

    علاقائی ڈائیلاگ کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد صادق خان نے کہا کہ ٹی ٹی پی ایک چیلنج ہے، یہ پاک افغان تعلقات کو ڈینٹ ڈال رہی ہےایک وقت تھا جب ہم ضرب عضب کے بعد ٹی ٹی پی کے مسئلے کو حل کر سکتے تھے، اس وقت کچھ سرحد پار چلے گئے، کچھ یہاں سلیپر سیل میں بدل گئے۔

    معاون خصوصی نے کہا کہ اہم وقت وہ بھی آیا جب افغان حکومت نے ٹی ٹی پی کو خطرہ سمجھتے ہوئے ان کی گرفتاریاں کیں، دوحہ مذاکر ات میں بھی ٹی ٹی پی کی بات کی گئی،موجودہ افغان طالبان حکومت ٹی ٹی پی کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات کو حل نہیں کر سکی، افغان شہروں، دیہات، قصبوں میں ہر جگہ طالبان کی موجودگی ہے، وہ ہتھیار رکھتے ہیں اور ابھی جنگ سے نہیں تھکے۔

    محمد صادق خان نے کہا کہ افغانستان میں مختلف خطوں میں مختلف طرح کے لوگ موجود ہیں، ٹی ٹی پی نے افغان طالبان کو جنگ میں خود کش حملہ آور، مالی امداد، انٹیلیجنس اور ہتھیار فراہم کیے، افغان عبوری حکومت کہتی ہے کہ ڈر ہے کہ اگر ہم ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کریں تو خدشہ ہے کہ یہ داعش میں شامل ہو جائیں گے۔

    محمد صادق خان نے کہا کہ خود کش حملہ آوروں کو کیمپوں میں تربیت دے کر بیچ دیا جاتا ہے، ان کو مختلف تنظیموں کو بیچا جاتا ہے ٹی ٹی پی اب افغانستان کے اندر ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے، کارکنان ٹی ٹی پی، داعش و دیگر جہادی گروہوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔

    برطانوی ہائی کمیشن کے انسداد دہشت گردی آفیسر مارک مکارکل نے کہا کہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات تجارت سے سیکیور ٹی تک پھیلے ہیں، ان انسداد دہشتگردی تعلقات میں معلومات کا تبادلہ، تفتیش بھی شامل ہے، ان میں ٹرانس نیشنل عسکریت پسندو ں کے خلاف کاروائی کےلیے تعاون بھی ایک کڑی ہے، برطانیہ انسداد منی لانڈرنگ و دہشت گردوں کی مالی معاونت کے انسداد میں پاکستان کے کردار کو سراہتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی بلوچستان اور کے پی میں دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہے، برطانیہ اس ساری صورتحال کو تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے، برطانیہ پاکستان میں انسداد دہشت گردی کاروائیوں کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی پاسداری کی حمایت کرتا ہے، پاکستا ن کے ساتھ مل کر یقینی بنانا ہو گا کہ تخریبی قوتیں زیادہ سرگرمیاں نہ کر سکیں۔

    سابق مشیر قومی سلامتی ناصر خان جنجوعہ نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت مشرقی اور مغربی سرحد پر مخاصمت کا سامنا ہے، ہمارے 20 برس سویت یونین آئندہ 20 برس امریکہ و نیٹو اور اب اگلے بیس برس عالمی مقابلے کے دور میں ضائع ہو رہے ہیں، ہم نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ مل کر رہنے کی کوشیش کی ہے، تاہم ہمارے جھگڑے توسیع پا رہے ہیں بھارت کو ہماری طرف توجہ دینے کی بجاے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا چائیے

    پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں، جب دونوں جوہری طاقتیں ایک دوسرے کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تو اگر یہ دوست نہیں بن سکتی تو دشمنی بھی درست نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی جس کو ہم نے شکست دے دی تھی اس کو افغانوں نے پناہ دی، سویت یونین 1979 مین افغانستان میں اترا، اگر ہم اس وقت افغانستان کے ساتھ کھڑے نہ ہوتے تو کیا آج افغانستان موجود ہوتا، بھارت اور افغانستان ہمارے ہمسائے ہیں، امریکہ اور نیٹو تمام تر کوشیشوں کے باوجود افغانستان میں کامیاب نہیں ہو سکے، شاید ہمارا اور افغانستان کا وجود ایک دوسرے کے لئے ضروری ہے، ہم افغانستان کو ٹی ٹی پی کے لینز سے دیکھتے ہیں، جیسے کہ بھارت ہمیں پہلگام واقعہ کے لینز سے دیکھ رہا ہے، افغا نستان اس وقت دہشت گردی کے سائے میں ہے۔

  • کرم ، آپریشن کے متاثرین کے لیے عارضی کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ

    کرم ، آپریشن کے متاثرین کے لیے عارضی کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ

    کرم کے علاقے بگن میں دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کے متاثرین کے لیے ہنگو میں عارضی کیمپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ان افراد کو مناسب پناہ گزینی اور امدادی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

    ڈپٹی کمشنر ہنگو گوہر زمان نے میڈیا کو بتایا کہ بگن سے نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے محمد خواجہ کے علاقے میں عارضی کیمپ قائم کیا جائے گا۔ اس کیمپ میں سیکڑوں ایکڑ اراضی پر ہزاروں خاندانوں کے لیے خیمہ بستی قائم کی جائے گی۔ کیمپ میں رہائش کے علاوہ دیگر سہولتوں کا بھی انتظام کیا جائے گا، جن میں اسکول، مساجد، بی ایچ یو (بنیادی صحت مرکز) اور دیگر ضروری سہولتیں شامل ہوں گی۔ڈی سی ہنگو گوہر زمان نے مزید بتایا کہ پاکستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے خیموں اور دیگر امدادی سامان کے 22 ٹرک فراہم کیے جائیں گے، جن میں سے 4 ٹرک کا سامان ہنگو کی ضلعی انتظامیہ کو موصول ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے کیمپ کے قیام کے لیے کام شروع کر دیا جائے گا اور متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر پناہ اور ضروری اشیاء فراہم کی جائیں گی۔

    ڈی سی ہنگو نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ کرم کے متاثرین کو جو نقل مکانی کر چکے ہیں، انہیں تمام تر سہولتیں فراہم کی جائیں گی تاکہ ان کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے اور وہ ایک محفوظ ماحول میں اپنی زندگی دوبارہ شروع کر سکیں۔

    یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب گزشتہ دنوں کرم کے علاقے بگن میں کھانے پینے کا سامان لے جانے والی گاڑیوں کے قافلے پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا تھا۔ حملے کے بعد حکام نے علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاکہ امن و امان کی صورتحال کو بحال کیا جا سکے اور مقامی عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

    کمشنر اور آر پی او کوہاٹ کا کُرم کے معاملے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کرم میں پائیدار امن کے لیے کوہاٹ معاہدہ تاریخی معاہدہ ہے۔ کرم میں بلا تفریق امن دشمن عناصر کے خلاف قانون حرکت میں ہے۔ کرم میں شر پسندوں کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں۔ کوشش ہے کہ کرم میں انسانی المیہ پیدا نہ ہو۔شر پسند کرم عوام میں گھل مل گئے ہیں۔ کرم میں فریقین امن کے لیے پر عزم ہیں۔ امن معاہدے پر ہر صورت عمل درآمد کرائیں گئے، سوشل میڈیا کے ذریعے شر پھیلانے والوں کے خلاف بھی کاروائی کر رہے ہیں،سیکورٹی فورسز کا آپریشن دہشت گردوں اور امن دشمنوں کے خلاف ہے

    سیف علی خان حملہ،ملزم کی نمائندگی کیلئے عدالت میں وکلا لڑ پڑے

    بھارت مالیاتی فراڈ کا مرکز ، عالمی سطح پر بڑھتے دھوکہ دہی کے واقعات

  • کراچی سے فتنہ الخوارج  کا انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    کراچی سے فتنہ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    پاکستان رینجرز (سندھ)اور سندھ پولیس نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کراچی کے علاقے اتحاد ٹاؤن سے فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے انتہائی مطلوب ملزم اللہ خان عرف عبداللہ محسود کو گرفتار کر لیا۔ ملزم کے قبضے سے اسلحہ ا ور ایمونیشن بھی برآمد کر لیا گیا۔

    ملزم کا تعلق فتنہ الخوارج مفتی نور ولی عرف ابو عاصم گروپ سے ہے۔ ملزم 2008 میں فتنہ الخوارج، جنتہ جنوبی وزیرستان کے کمانڈر محمد امیر محسود کے گروپ میں شامل ہوا اور وزیرستان میں فتنہ الخوارج کی متعدد کارروائیوں میں شامل رہا۔ ملزم کمانڈر محمد امیر محسود کے کہنے پر کرم ایجنسی میں مذہبی فسادات میں شامل رہا۔ ملزم وزیرستان میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن شروع ہونے کے بعد ملزم اپنی فیملی کے ہمراہ ٹانک شفٹ ہوا، بعد ازاں کراچی ہزارہ کالونی بلدیہ ٹاؤن میں شفٹ ہو گیا۔ ملزم کراچی سے متعدد باروزیرستان گیا اور فتنہ الخوارج کے ساتھ مل کر سہولت کاری کا کام کرتا رہا ہے۔ ملزم کا قریبی رشتہ دار کمانڈر عبداللہ شاہ فتنہ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشتگرد ہے اور افغانستان سے پاکستان کے اندر عسکری کارروائیاں کرنے کے لیے انتہائی متحرک رہا۔ فتنہ الخوارج کا ایک اور انتہائی مطلوب دہشتگرد شاہ ملوک عرف محب ملزم اللہ خان عرف عبداللہ محسود کا قریبی ساتھی ہے اور اس سے مسلسل رابطے میں تھا۔ ملزم دہشتگرد شاہ ملوک عرف محب کے لیے سہولت کاری کا کام سرانجام دے رہا تھااور دہشتگرد شاہ ملوک عرف محب 2024 میں تین مرتبہ دہشتگردانہ کارروائیوں کے عزائم کے لیے کراچی آ چکا ہے اور ابھی وزیرستان میں سیکیورٹی فوسز کے خلاف دہشتگردانہ کارروائیوں میں متحرک ہے۔ ملزم اور اس کے ساتھی پاکستان بالخصوص کراچی میں دہشتگردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

    ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق گرفتارملزم کو بمعہ اسلحہ و ایمونیشن مزید قانونی کاروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ عوام سے اپیل ہے کہ ایسے عناصر کے بارے میں اطلاع فوری طور پر قریبی رینجرز چیک پوسٹ، رینجرز ہیلپ لائن 1101 یا رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر 03479001111 پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے دیں۔ آپ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

    پاکستان کا پہلا الیکٹرو آپٹیکل سیٹلائٹ لانچ کردیا گیا

    میراجسم ،میری مرضی،ٹرانس خاتون کا چھ پسلیاں نکلوا کر تاج بنانے کا اعلان

  • فتنہ الخوارج کی پنجاب میں آن لائن بھرتی مہم کا نیٹ ورک پکڑا گیا

    فتنہ الخوارج کی پنجاب میں آن لائن بھرتی مہم کا نیٹ ورک پکڑا گیا

    پنجاب میں فتنہ الخوارج کی جانب سے نوجوانوں کی آن لائن بھرتی کی مہم کا انکشاف ہوا ہے جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری طور پر کارروائی کرکے دہشت گرد تنظیم کے نیٹ ورک کو توڑ دیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ دہشت گرد تنظیم نے صوبے کے مختلف شہروں سے نوجوانوں کو اپنی صفوں میں بھرتی کرنے کی کوشش کی۔رپورٹ کے مطابق، کالعدم تنظیم نے گوجرانوالہ، لاہور، ساہیوال، بہاولپور، جہلم اور سرگودھا سے نوجوانوں کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کی کوشش کی۔ تنظیم نے مقامی سہولت کاری کے لیے ان افراد کی بھرتی کی تھی تاکہ اپنے دہشت گردانہ مقاصد کو آگے بڑھایا جا سکے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کی جانے والی سائبر پٹرولنگ اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اس آن لائن بھرتی مہم کے نیٹ ورک کو کامیابی کے ساتھ توڑا گیا۔ اس کارروائی کے دوران 6 افراد کو گرفتار کیا گیا جو فتنہ الخوارج کی سہولت کاری کے لیے بھرتی ہوئے تھے۔ گرفتار شدگان کی عمریں 16 سے 23 سال کے درمیان ہیں۔

    رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سائبر پٹرولنگ کے دوران ریاست مخالف عناصر کی نگرانی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ریاست مخالف سرگرمیوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے اور ان تک رسائی حاصل کرنے کے لیے الگورتھمز کی نشاندہی کی جارہی ہے تاکہ کسی بھی مزید دہشت گردانہ کارروائی کو روکا جا سکے۔یہ کارروائی اس بات کا غماز ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اب زیادہ مستعد اور مربوط طریقے سے سوشل میڈیا اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز پر دہشت گردوں کی سرگرمیوں کو مانیٹر کر رہے ہیں اور نوجوانوں کو ان کے اثرات سے بچانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر چکے ہیں۔

    پنجاب کی ترقی میں مریم نواز کی قیادت کلیدی کردار ادا کر رہی ہے،سفیر آذربائیجان

    نکاح کے بعد رخصتی سے قبل گھر میں اکیلی موجود لڑکی قتل

  • فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی  میں محسود اور باجوڑ گروپوں کے درمیان قیادت کی جنگ

    فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی میں محسود اور باجوڑ گروپوں کے درمیان قیادت کی جنگ

    کیا فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی میں محسود اور باجوڑ گروپوں کے درمیان قیادت کی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے؟

    فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں۔ افغانستان کے صوبہ کنڑ میں فتنہ الخوارج کے لیڈر نور ولی کے ہاتھو ں کمانڈر رحیم عرف شاہد عمر اور مزید تین خوارجی طارق، خاکسار اور عدنان مارے گئے۔ نور ولی کی اقتدار کی ہوس ایک بار پھر عیاں ہو گئی ہے، جو اختلافات کو قتل و غارت اور خونریزی کے ذریعے حل کر رہا ہے ۔دھوکہ دہی اور اندرونی لڑائی نے ٹی ٹی پی کی بکھرتی ہوئی قیادت کو بے نقاب کر دیا ہے۔فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی میں محسود اور باجوڑ کی قیادت کے حصول کے لیے تنازع اس واقعے کی بنیادی وجہ بنی ہے۔ افغان سرزمین ان کی بدامنی کا میدان جنگ بنی ہوئی ہے، جو خطے کے امن کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے ۔ تحریک خوارج پاکستان ٹی ٹی پی جو دین کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے، اس کا اصل میں دین کے ساتھ دور دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہ مجرموں کا ایک ٹولہ ہے جو صرف اقتدار اور طاقت کے لیے سرگرم ہے۔

    سکیورٹی اداروں کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 3 انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے

    فتنہ الخوارج کے اندرونی تنازعات میں شدت،آپس میں لڑپڑے

    فتنہ الخوارج ،انسانیت کے دشمن

    ملک دشمن تنظیم پی ٹی ایم کی حمایت میں فتنہ الخوارج سامنے آ گیا

  • سی ٹی ڈی کی کاروائی، کالعدم تنظیموں کے 16 دہشت گردگرفتار

    سی ٹی ڈی کی کاروائی، کالعدم تنظیموں کے 16 دہشت گردگرفتار

    صوبہ پنجاب میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پنجاب کے مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے 16 دہشت گردوں کو گرفتار کر کے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ لاہور سے فتنہ الخوارج کا انتہائی خطرناک دہشت گرد عمر گرفتار ،دہشت گرد کا تعلق شمالی وزیرستان سے ہے

    ترجمان کے مطابق سی ٹی ڈی پنجاب نے دہشت گردی کے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے صوبے کے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس پر مبنی 118 کارروائیاں کیں، جن میں 118 مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی اور 16 دہشت گردوں کو اسلحہ، دھماکہ خیز مواد اور دیگر ممنوعہ مواد سمیت گرفتار کیا گیا۔ گرفتار دہشت گردوں میں طفیل ۔صدیق ۔ابراہیم ۔عمر ۔عبدالرشید ۔امام حسین ۔وقار ۔عدنان وغیرہ شامل ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کا تعلق فتنہ خوارج داعش اور دیگر تنظیموں سے ہے انہوں نے کہا کہ ان دہشت گردوں کی گرفتاری لاہور ۔بہاولپور ۔منڈی بہاؤالدین ۔میاں والی ۔ٹوبہ ٹیک سنگھ ۔رحیم یار خان ۔چنیوٹ ۔وہاڑی ۔راولپنڈی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران کی گئی۔ دھماکہ خیز مواد 1293 گرام، ڈیٹونیٹرز 3، سیفٹی فیوز وائر 12 فٹ، ائی ای ڈی بم 1 کالعدم تنظیم کے پمفلٹ 75، میگزین .57500 روپے نقدی دہشت گردوں کے قبضے سے برآمد کر لی ہے

    ترجمان نے کہا کہ دہشت گردوں نے لاہور اور دیگر شہروں میں اہم عمارتوں کو ٹارگٹ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا انہوں نے مزید کہا کہ گرفتار دہشت گردوں کے خلاف 15 مقدمات درج کر کے ان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے ، انہوں نے کہا کہ رواں ہفتے کے دوران مقامی پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے تعاون سے 4480 کومبنگ آپریشنز بھی کیے گئے، 144842 افراد کو چیک کیا گیا، 431 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا، 402 ایف آئی آر درج کی گئیں اور 323 بازیابیاں کی گئیں۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب مستعدی سے محفوظ پنجاب کے اپنے ہدف پر عمل پیرا ہے اور دہشت گردوں اور ریاست دشمن عناصر کو سلاخوں کے پیچھے پہنچانے کی کوششوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی،

    فساد کنٹرول میں ہو جائے تو پاکستان مزید ترقی کرے گا، عظمیٰ بخاری

    سول نافرمانی تحریک عمران خان جب حکم دیں گے،شروع ہو گی،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا

    شہدا کا قرض ادا کرنا چاہتے تو نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل کیا جائے،سحر کامران

  • مذہب کا لبادہ اوڑھے فتنتہ الخوارج کے دہشتگرد پاکستانی عوام کے  دشمن

    مذہب کا لبادہ اوڑھے فتنتہ الخوارج کے دہشتگرد پاکستانی عوام کے دشمن

    فتنتہ الخوراج پاکستان کی عوام و ترقی کےدشمن ہیں

    فتنتہ الخوراج پاکستان کی تاریخ میں ایک ناسور کی حیثیت رکھتی ہے ،مذہب کا لبادہ اوڑھے فتنتہ الخوارج کے یہ دہشتگرد پاکستان کی عوام کے کھلے دشمن ہیں ،مساجد، امام بارگاہوں، اقلیتوں،کھیل، سکول،کاروباری و سیاحتی مقامات اور پاکستان کے دفاعی ادارےفتنتہ الخوارج کی دہشتگردی کا نشانہ رہے ہیں ،فتنتہ الخوراج کے قیام کیساتھ ہی اس نے معصوم پاکستانی عوام کیخلاف طبل جنگ بجا دیا ،فتنتہ الخوراج نے پاکستانی قبائلی کم عمر نوجوانوں کوہتھیار کے طور پر خودکش حملوں میں استعمال کیا ،فتنتہ الخوراج نے پاکستان کی معصوم عوام کا خون بہایا ،فتنتہ الخوراج نےخواتین کی تعلیم کیخلاف گرلز سکولوں پر حملے شروع کر دئیے

    سکولوں کی بندش اور خواتین کی تعلیم خلاف پر تشدد حملوں نے صرف وادی سوات میں 8000 خواتین اساتذہ کو ملازمتوں سے محروم کر دیا ، 2011 میں کے پی اور سابقہ فاٹا میں 1600 سکولوں کو منہدم یا نقصان پہنچایا گیا جس سے 7لاکھ 21 ہزار طلباء جن میں 3 لاکھ 71 ہزار 604 لڑکیاں متاثر ہوئیں،لڑکیوں کی سکول تک رسائی غیر متناسب طور پر متاثر ہوئی اور لڑکیوں کے زیادہ تر سکول فتنتہ الخوارج کے حملوں سے تباہ ہو گئے ،”فتنتہ الخوارج نے 2009 سے 2013 تک قبائلی علاقوں میں 838 حملوں میں 500 سے زائد سکولوں کو مسمار کیا”.2009 میں اسلام آباد میں قائم بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں خود کش حملےمیں 6 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے

    فتنتہ الخوراج نے 16 دسمبر 2014ء کو پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر حملے میں 149 افراد جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے، کو شہید کر دیا

    2005 سے 2018 تک فتنتہ الخوارج نے صرف خیبر پختونخواہ میں 227 خودکش حملوں میں 3009 پاکستانیوں کو شہید جبکہ 5374 کو زخمی کیا ،2013 میں پشاور کینٹ میں مسجد پر فتنتہ الخوراج کےخودکش حملے میں 18 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے ،مارچ 2015 میں فتنتہ الخوارج نے بنوں کی مسجد میں خودکش دھماکے میں 15 افراد کو شہید جبکہ 20 کو زخمی کر دیا ،2016 میں کوئٹہ میں کرکٹ گراؤنڈ پر خودکش حملے میں 6 افراد شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوئے .2018 میں کوئٹہ میں سپورٹس گراونڈ میں فٹبال میچ کے دوران وحشیانہ حملے میں 8 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہو گئے.جولائی 2018 میں بنوں اور مستونگ میں سیاسی ریلیوں پر حملوں میں 133 افراد شہید کر دئیے گئے.30 جنوری2023کو، فتنتہ الخوارج نے پشاور پولیس لائنز مسجد پر حملے میں 80 سے زائد افراد کوشہید کردیا .17 فروری2023 کو ٹی ٹی پی کے عسکریت پسندوں نے کراچی پولیس آفس پر حملہ کیا، جس میں 4 افراد شہید اور 19 زخمی ہوئے.افغانستان میں طالبان کے قبضے سے پہلے 2020 میں پاکستان میں 3 حملوں میں 25 افراد شہید، 2021 میں 4 حملوں میں 21 افراد شہید ہوئے،افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد2022 میں 13حملوں میں 96افراد شہید ہوئے،سال 2023 میں پاکستان میں 30 خودکش حملوں میں 238 افراد شہید ہوئے،

    2021 میں افغان طالبان کے اقتدارپر قبضےکےبعدفتنتہ الخوارج کو افغانستان میں جدید ترین ہتھیاروں اورجنگجوؤں تک آسان رسائی حاصل ہوگئی،فتنتہ الخوارج کا مذہب سے دور دور تک تعلق نہیں بلکہ یہ مکروہ عناصر پاکستان دشمن قوتوں کے ایما پر پاکستان کو تباہ کرنے کے درپے ہیں

    سعودی عرب کی اسرائیل کی گولان میں آبادکاری کی توسیع کی مذمت

    جی ایچ کیو حملہ کیس،شاہ محمود قریشی سمیت مزید 9 ملزمان پر فرد جرم

    نیویارک ینگ ریپبلکن کلب گالا میں دوران خطاب ٹرمپ کے مشیر گرپڑے