Baaghi TV

Tag: دہشت گردی

  • پاکستان میں دہشت گردی: عالمی برادری کی خاموشی اور خطے کو لاحق خطرات،تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان میں دہشت گردی: عالمی برادری کی خاموشی اور خطے کو لاحق خطرات،تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان میں دہشت گردی: عالمی برادری کی خاموشی اور خطے کو لاحق خطرات

    پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کی ایک طویل اور خونچکاں لہر کا سامنا کرتا آ رہا ہے۔ نائن الیون کے بعد سے لے کر آج تک، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناقابلِ تلافی جانی و مالی نقصانات برداشت کیے ہیں۔ لاکھوں جانیں متاثر ہوئیں، ہزاروں شہری، فوجی جوان، پولیس اہلکار اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران شہید ہوئے، جبکہ معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا۔

    اس سنگین صورتحال کے جواب میں، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کیے۔ آپریشن ضربِ عضب اور بعد ازاں ردالفساد جیسے جامع آپریشنز کے ذریعے پاک فوج، انٹیلیجنس اداروں، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے انتہا پسندی اور دہشت گرد نیٹ ورکس کو مؤثر انداز میں کمزور کیا۔ ان کامیابیوں کے پیچھے صرف ریاستی ادارے ہی نہیں بلکہ عام پاکستانی عوام کی عظیم قربانیاں بھی شامل ہیں، جنہوں نے امن کے قیام کے لیے بے مثال حوصلہ اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔

    بدقسمتی سے، ان تمام قربانیوں کے باوجود پاکستان کا امن بار بار سبوتاژ کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ متعدد مواقع پر پاکستان نے شواہد کے ساتھ اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں پاکستان، خصوصاً بلوچستان اور سرحدی علاقوں میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حالیہ بلوچستان کا افسوسناک واقعہ، جس میں بے گناہ شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں، ایک بار پھر عالمی ضمیر کے لیے سوالیہ نشان ہے:آخر ان معصوم لوگوں کا قصور کیا تھا؟-

    بلوچستان ہو یا پاکستان کے دیگر شہر، دہشت گردی کا ہر واقعہ صرف پاکستان نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ کسی بھی ریاست کی جانب سے پراکسیز، خفیہ نیٹ ورکس اور تشدد کے ذریعے ہمسایہ ملک کو غیر مستحکم کرنا بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور انسانی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    یہ وقت ہے کہ امریکہ، یورپی یونین، اقوام متحدہ اور تمام عالمی طاقتیں محض بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کروائیں۔ بھارت کو جوابدہ بنایا جائے اور اسے ایسے اقدامات سے روکا جائے جو پورے جنوبی ایشیا کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

    امن یکطرفہ کوششوں سے قائم نہیں رہ سکتا اگر عالمی برادری واقعی دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کی خواہاں ہے تو اسے دوہرے معیار ات ترک کر کے حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ہوگا پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کیا ہے، اب عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ سچ کے ساتھ کھڑی ہو،خاموشی اب غیرجانبداری نہیں، بلکہ ناانصافی کے مترادف ہے۔

  • 26 نومبر احتجاج کیس،حکومت پنجاب کا ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کرانے کا فیصلہ

    26 نومبر احتجاج کیس،حکومت پنجاب کا ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کرانے کا فیصلہ

    حکومت پنجاب نے 26 نومبر کو تحریک انصاف کے احتجاج کے دوران اٹک اور راولپنڈی میں درج مقدمات میں نامزد 20 ملزمان کی ضمانتیں منسوخ کرانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اٹک اور راولپنڈی میں درج 8 مختلف مقدمات کے تناظر میں کیا گیا ہے، جن میں ملزمان پر دہشت گردی سمیت سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ابتدائی طور پر انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے ان ملزمان کی ضمانتیں مسترد کر دی تھیں، تاہم ملزمان نے بعد از گرفتاری عدالت عالیہ سے رجوع کیا، جہاں سے انہیں ضمانت مل گئی تھی۔

    پراسیکیوشن ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ملزمان پر دہشت گردی کے سنگین الزامات ہیں اور سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ان کی دوبارہ گرفتاری اور تحویل میں لینا ضروری ہے۔حکومت پنجاب کی جانب سے اب سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی جائے گی جس میں عدالت سے استدعا کی جائے گی کہ ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی ضمانتیں منسوخ کی جائیں تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان افراد کو دوبارہ تحویل میں لے سکیں۔

    این اے 175 ضمنی انتخابات،حکیم شہزاد دونوں بیویوں کے ہمراہ کاغذات جمع کروانے پہنچ گئے

  • بلوچستان میں تخریب کاری نہیں، دہشت گردی ہے: پاکستان کا بی ایل اے کے خلاف دوٹوک مؤقف

    بلوچستان میں تخریب کاری نہیں، دہشت گردی ہے: پاکستان کا بی ایل اے کے خلاف دوٹوک مؤقف

    کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے سڑکیں بند کرنے، تعلیمی ادارے جلانے، اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے اقدامات کو پاکستان نے دہشت گردی قرار دیتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق بی ایل اے آزادی کے نام پر بلوچستان میں دہشت و خوف کی فضا قائم کر رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تنظیم عوام کے نہیں بلکہ غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے سرگرم ہے۔ترجمان کے مطابق سوراب پر کنٹرول کا دعویٰ دراصل یرغمالی بنانے، سرکاری املاک کو آگ لگانے، اور مقامی آبادی کو ہراساں کرنے کا کھلا اعتراف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی ایل اے کی یہ بوکھلاہٹ دراصل ان کی ناکامی کا اظہار ہے۔

    جب پاکستان حکومت بلوچستان میں اسکولز، سڑکیں اور انفرا اسٹرکچر تعمیر کر رہی ہے، تو بی ایل اے انہیں تباہ کر کے عوام دشمنی کا ثبوت دے رہی ہے۔ یہ بغاوت نہیں بلکہ کھلی تخریب کاری ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ بی ایل اے کسی آزادی تحریک کا حصہ نہیں بلکہ بھارت کی پراکسی ملیشیا ہے، جو فتنہ و فساد پھیلانے میں مصروف ہے۔ "فتنۃ الہند” کو نہ صرف زمین پر بلکہ دلوں اور تاریخ میں بھی شکست دی جائے گی۔

    ترجمان نے کہا کہ بی ایل اے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز دہشتگردی کے کھلے اعترافات پر مشتمل ہیں، جن میں پولیس اسٹیشنز پر قبضے، عوامی راستوں کی بندش اور شہریوں کو نقصان پہنچانا شامل ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی ادارے علاقے کا کنٹرول بحال کر رہے ہیں، اور بی ایل اے کے مسلح عناصر راہِ فرار اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان دہشتگردوں کو فرار نہ ہونے دیں۔

    پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی سرزمین پر صرف امن، ترقی اور قومی پرچم کا راج ہو گا۔ جہاں پاکستان کا پرچم لہرائے گا، وہاں بی ایل اے کا جھوٹ دفن ہو گا۔

  • عالمی دنیا  کو دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی بنانا ہوگی، شہباز شریف

    عالمی دنیا کو دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی بنانا ہوگی، شہباز شریف

    وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ عالمی دنیا کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی بنانا ہوگی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ترکیہ میں صدرطیب اردوان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئےشہباز شریف کا کہنا تھا کہ طیب اردوان ایک دوراندیش اوروژنری لیڈرہیں، 2010کےسیلاب میں ترکیہ صدر نےپاکستان کا دورہ کرکےمتاثرین سےبھرپوریکجہتی کا مظاہرہ کیا اور سیلاب کےدوران پاکستان کی بھرپورمدد کی۔ شانداراستقبال پرصدر ترکیہ اور ترک عوام کا شکرگزارہوں، طیب اردوان سےملاقات پرخوشی ہوئی،ان کی قیادت میں ترکیہ نےشاندارترقی کی۔

    شہباز شریف نے کہا کہ غزہ میں50ہزارمعصوم جانوں کےضیاع کی شدید مذمت کرتےہیں، غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتےہیں، مسئلہ کشمیرپرترکیہ کی غیرمتزلزل حمایت پرمشکورہیں، شمالی قبرص کےمعاملےپرترکیہ کےموقف کی حمایت کرتےہیں۔ ہم نےمختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبےشروع کرنے پر اتفاق کیا ہے، انسداد دہشت گردی کے لیے ترکیہ کے تعاون کے مشکورہیں، دونوں ملکوں میں توانائی، کان کنی، معدنیات اورآئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون پراتفاق ہوا۔

    شہباز شریف نے مزید کہا کہ وقت آگیا ہےکہ دہشت گردی کےخلاف مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی، قیام امن کےلیےاقوام عالم کودہشت گردی سےنمٹنےکےلیےحکمت عملی بنانا ہوگی۔

    طیب اردوان

    اس موقع پر ترکیہ کے صدرطیب اردوان نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف کوترکیہ آمد پرخوش آمدید کہتا ہوں،دفاعی شعبےمیں پاکستان سے مل کر مشترکہ منصوبےشروع کرنا چاہتےہیں ،عالمی امورپردونوں ملکوں کےخیالات میں مکمل ہم آہنگی ہے۔ باہمی رابطےمضبوط دوستی کی علامت ہیں،پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے، ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتےہیں۔طیب اردوان نے مزید کہا کہ دونوں ملک آزاد اورخودمختارفلسطینی ریاست کی حمایت کرتے ہیں۔

  • صدر، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کا  سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین

    صدر، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین

    صدر، وزیراعظم اور وزیر داخلہ نےکامیاب آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے.

    باغی ٹی وی کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں 2 مختلف کارروائیوں کے دوران 6 دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا صدر مملکت نے جنوبی وزیرستان میں انٹیلیجنس پر مبنی کامیاب آپریشن کے دوران خوارجی سرغنہ کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی بہادری کو سراہا، صدر مملکت کا ملک سے فتنتہ الخوارج کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا ،

    صدر مملکت نے کہا سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے عفریت کے خاتمے کے لیے کاروائیاں کر رہی ہیں، پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے،دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک فتنتہ الخوارج کے خلاف کاروائیاں جاری رہیں گی.

    وزیراعظم کا خراج تحسین

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں فتنتہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کاروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کی ستائش کی اوروزیراعظم کی آپریشنز میں خوارجی دہشت گردوں کے رنگ لیڈر سمیت 6 خوارجی دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا .اس موقع پر وزیراعظم نے کہا پوری قوم دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے،ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں.

    وزیر داخلہ کا خراج تحسین

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا میں خوارجی دہشتگردوں کے خلاف 2 کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ، محسن نقوی نے 6 خوارجی دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پرسکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا،محسن نقوی نے کہا سکیورٹی فورسز نےکامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کرکے خوارجی دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا۔ 6 خوارجی دہشتگردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچانے پر سکیورٹی فورسز کو شاباش دیتے ہیں۔ خوارجی دہشتگردوں کے خلاف سکیورٹی فورسز نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہیں۔ قوم کو سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ مہارت اور جرات پر فخر ہے۔

    پشاور زلمی کے خلاف کراچی کنگز کی ہدف کے تعاقب میں بیٹنگ جاری

    لندن میں نواز شریف کی طبیعت ناساز، واپسی ملتوی

  • بی ایل اے کی لسانی دہشت گردی کے خلاف عوام سراپا احتجاج

    بی ایل اے کی لسانی دہشت گردی کے خلاف عوام سراپا احتجاج

    سندھ کے مختلف علاقوں میں عوام کی بڑی تعداد نے بی ایل اے کی لسانی بنیادوں پر کی جانے والی دہشت گرد کارروائیوں اور قتل و غارت کے خلاف احتجاج کیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق مظاہرین کا کہنا تھا کہ بی ایل اے ہندوستان کے اشاروں پر بے گناہ پاکستانیوں، خصوصاً پنجابیوں اور پختونوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور ملک میں لسانی نفرت کے بیج بو رہی ہے۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ دہشت گردوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے اور انہیں پھانسی پر لٹکایا جائے۔ جعفر ایکسپریس واقعے میں جاں بحق ہونے والے معصوم افراد کے قاتلوں کے خلاف فوری آپریشن کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

    احتجاج کے دوران مظاہرین نے کہا کہ پاکستان کے دیگر صوبوں کے لوگ بلوچ طلباء اور شہریوں کو ہمیشہ گلے سے لگا کر رکھتے ہیں، اور ہم بی ایل اے کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنے بلوچ بھائیوں کے ساتھ ہیں۔مظاہرین نے افواجِ پاکستان کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے ان کی قربانیوں کو سراہا اور قومی یکجہتی کے عزم کا اظہار کیا۔

    اسرائیلی دہشتگردی، جماعت اسلامی کا امریکی سفارتخانےکی طرف مارچ کا اعلان

    پی ایس ایل کی سیکیورٹی پاک فوج کے حوالے کرنےکا فیصلہ

    سیالکوٹ میں ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھایا جا رہا ہے، خواجہ آصف

    پسند کی شادی کرنیوالی لڑکی سے 5 ملزمان کی اجتماعی زیادتی

  • وزیراعلیٰ سندھ کا ملک میں  دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر پر تشویش کا اظہار

    وزیراعلیٰ سندھ کا ملک میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر پر تشویش کا اظہار

    سندھ اسمبلی میں اپنے خطاب کے آغاز میں وزیراعلی سندھ نے ملک میں بالخصوص خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی لہر پر تشویش کا اظہار کیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق مراد علی شاہ نے اسمبلی کو یقین دلایا کہ سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے صوبے میں کسی بھی قسم کے سیکیورٹی خطرات کو روکنے کے لیے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں تک ہمارے ملک اور صوبے میں لاقانونیت ایک بڑا مسئلہ تھا لیکن 2013-14 کے بعد حالات بہتر ہونے لگے۔ اور مزید کہا کہ جب تک چیلنجز باقی ہیں، سندھ حکومت امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ سندھ اسمبلی نے اس سے قبل دہشت گردی کے خلاف قرارداد منظور کی تھی جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری پر زور دیا گیا تھا کہ وہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی سلامتی کو ترجیح دیں۔

    بجٹ سے پہلے کی بحث

    مراد علی شاہ نے روشنی ڈالی کہ سندھ کا رولز 143 کے ساتھ منفرد ہے، جو کسی بھی قومی یا صوبائی اسمبلی کے برعکس پہلے سے بجٹ پر بحث کی اجازت دیتا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ قانون تمام اراکین کو بجٹ کے معاملات پر بحث کرنے، سفارشات کا اشتراک کرنے اور حل تجویز کرنے کے قابل بناتا ہے۔ مارچ میں حکومت سازی کی وجہ سے پچھلے سال کی تاخیر کے باوجود وزیراعلی نے کہا رمضان کے دوران بھی اس سال کی بات چیت ٹریک پر ہے۔ انہوں نے اسمبلی کے نتیجہ خیز مباحثوں اور پچھلے سال کے مقابلے میں قانون سازوں کی بڑھتی ہوئی شرکت کی تعریف کی جہاں سیاسی تنا کی وجہ سے صرف 31 ممبران ہی مصروف رہے۔

    اپوزیشن کا کردار اور عزم:
    سیاسی اتحاد کے ایک نادر لمحے میں وزیراعلی نے اختلافات کے باوجود حکومت کے نیک ارادوں کو تسلیم کرنے پر اپوزیشن لیڈر کو تسلیم کیا۔ وزیراعلی نے کہا کہ مجھے یہ سن کر خوشی ہوئی کہ ہمارے ارادوں پر کوئی شک نہیں ہے۔ اور 1970 سے سندھ کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے پارٹی کے عزم پر زور دیا۔ انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ حکومت خدشات کو دور کرنے، مالی شفافیت کو یقینی بنانے اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے وقف ہے۔

    اسمبلی میں بڑھتی ہوئی مصروفیت

    وزیراعلی نے اسمبلی میں بڑھتی ہوئی مصروفیت پر روشنی ڈالی، اس سال 100 ارکان نے خطاب کیا اور بجٹ پر بحث کے دوران پچھلے سال ریکارڈ 132 تھے۔ انہوں نے تمام سفارشات کو سراہا اور تعمیری تنقید کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیراعلی سندھ نے کراچی میں انفراسٹرکچر اور پانی کی فراہمی کے مسائل پر بات کرنے کی اہمیت پر زور دیا، کراچی شہر کو "ملک کے دل کی دھڑکن” قرار دیا۔انہوں نے کامیابیوں اور مستقبل کے پروگراموں کا خاکہ پیش کرتے ہوئے 2025-26 کے بجٹ میں غور کے لیے تمام تجاویز کو دستاویز کرنے کا وعدہ کیا۔

    وزیراعلی سندھ نے اسمبلی کو بتایا کہ اس سال کل بجٹ 3056 ارب روپے تھا۔ 28 فروری 2025 تک تقریبا 2000 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں اور 1454 ارب روپے ملازمین سے متعلقہ اخراجات، بشمول تنخواہوں اور پنشنوں کے ایک اہم حصے کے ساتھ استعمال ہو چکے ہیں۔

    پاکستان ٹیم نے تاریخ کا منفرد ریکارڈ اپنے نام کرلیا

    تین دن میں 200 معصوم بچوں سمیت 591 فلسطینی شہید

    حکومت کی عدم توجہی کے باعث آئی ٹی انڈسٹری بحرانوں کا شکار

    ونڈ فال ٹیکس،چار ہفتوں میں 34.5 ارب سے زائد رقم وصول

    ملک بھر میں لاکھوں فرزندان اسلام اعتکاف میں بیٹھ گئے

  • فرانس میں روسی قونصل خانے پر  حملہ

    فرانس میں روسی قونصل خانے پر حملہ

    فرانس کے جنوبی شہر مارسیلی میں واقع روسی قونصل خانے پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ کیا گیا۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ قونصل خانے کے احاطے میں دھماکہ خیز مواد سے بھری 3 بوتلیں پھینکی گئیں جن میں سے 2 دھماکے سے پھٹ گئیں۔ یہ بوتلیں قونصل خانے کے باغیچے میں گریں اور ماہرین ان کے مواد کا تجزیہ کر رہے ہیں۔ اس واقعے کے بعد قونصل خانے کے عملے کو کچھ دیر کے لیے عمارت کے اندر ہی رہنے کی ہدایت کی گئی اور اس دوران بم ڈسپوزل اسکواڈ نے علاقے کا معائنہ کیا.تاہم اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

    دوسری جانب روس نے اس حملے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے فرانس سے سکیورٹی اقدامات کے حوالے سے وضاحت طلب کی ہے۔روس کی سرکاری نیوز ایجنسی تاس کے مطابق روسی حکام نے فرانس سے مکمل تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ مارسیلی میں روسی قونصل خانے کے احاطے میں ہونے والے دھماکے میں دہشت گردی کے تمام آثار موجود ہیں۔

    فرانسیسی حکام نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاہم اس حملے کے پس پردہ مقاصد اور ملزمان کے بارے میں ابھی تک کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔فرانسیسی حکومت کی جانب سے بھی اس حملے کی مذمت کی گئی ہے۔

    ”شالا وسدا روے پنجاب ” رونقوں کا میلہ ہارس اینڈ کیٹل شو2025 ، اختتام پذیر

    ضلع خیبر کے علاقے باغ میں 10 خوارج جہنم واصل

  • کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ایلون مسک

    کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟ایلون مسک

    امریکی کانگریس کے رکن ٹم برچیٹ نے کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ سے طالبان کو غیر ملکی امداد دینے کے بارے میں سوال کیا تھا جس پر وزیر خارجہ نے تسلیم کیا کہ غیر سرکاری تنظیموں کے ذریعے طالبان کو تقریباً 10 ملین ڈالر کی امداد دی جا رہی ہے۔ لیکن برچیٹ کے مطابق، یہ اس مسئلے کا صرف ایک پہلو ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ وہ نقد رقم ہے جو امریکہ کے مرکزی بینک سے افغانستان کے مرکزی بینک میں بھیجی جاتی ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لکھے گئے خط میں انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ نقد رقم افغانستان کے مرکزی بینک کو نیلام کی جاتی ہے، جس کے بعد ان رقموں کا پتہ لگانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس طریقے سے طالبان دہشت گردی کی مالی معاونت حاصل کر رہے ہیں اور دنیا بھر میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔

    ٹم برچیٹ نے 2023 میں ایک بل پیش کیا تھا جس میں امریکی محکمہ خارجہ کو طالبان کو مالی یا مادی امداد فراہم کرنے والے غیر ملکی ممالک کو روکنے کے لیے اقدامات کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس بل میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا تھا کہ امریکی حکومت افغانستان کے مرکزی بینک پر طالبان کے اثر و رسوخ اور نقد امدادی پروگراموں کی رپورٹ پیش کرے۔ یہ بل امریکی ایوان نمائندگان سے متفقہ طور پر منظور ہو گیا تھا، مگر سینٹ میں اس بل کو مزید غور و بحث کے لیے پیش نہیں کیا جا سکا کیونکہ اس وقت کے اکثریتی رہنما چک شومر نے اس پر ووٹنگ نہیں ہونے دی۔

    برچیٹ نے اعلان کیا کہ وہ اس بل کو آئندہ کانگریس میں دوبارہ پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور صدر ٹرمپ کی حمایت کی امید کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "امریکہ کو اپنے دشمنوں کو بیرون ملک امداد نہیں دینی چاہیے۔” برچیٹ کا کہنا تھا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کو دہشت گردوں کو فنڈ کرنے کے لیے استعمال کرنا ایک بے وقوفانہ اقدام ہے۔ٹم برچیٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نومبر 2024 میں ہونے والی انتخابی کامیابی پر مبارکباد دی اور کہا کہ مشرقی ٹینسی کے لوگ وائٹ ہاؤس میں مضبوط قیادت کے منتظر ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے دوسرے دورِ حکومت میں ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں تاکہ امریکہ کو عالمی سطح پر مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

    ٹم برچیٹ کا خط امریکی سیاست میں طالبان کی امداد کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے اور امریکی پالیسی میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ برچیٹ کا موقف ہے کہ امریکی حکومت کو اپنے ٹیکس دہندگان کے پیسوں کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال کرنے کی بجائے امریکی مفادات کو مقدم رکھنا چاہیے۔ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے صدر ٹرمپ کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔یہ خط امریکی سیاست میں غیر ملکی امداد کے بارے میں جاری بحث کو مزید شدت دے سکتا ہے، خاص طور پر جب طالبان جیسے دہشت گرد گروپوں کو امداد دینے کے اثرات عالمی سطح پر محسوس ہو رہے ہیں

    https://x.com/elonmusk/status/1876436915479843239

    ٹم کے اس خط پر دنیا کے معروف کاروباری شخصیت اور ٹیسلا و اسپیس ایکس کے سی ای او،ایلون مسک نے سنسنی خیز سوال اٹھایا ہے: "کیا ہم واقعی امریکی ٹیکس دہندگان کا پیسہ طالبان کو بھیج رہے ہیں؟” ایلن مسک کا یہ سوال اس وقت منظر عام پر آیا جب افغانستان کے حوالے سے امریکی حکومت کی امداد اور امدادی فنڈز پر بات چیت ہو رہی تھی۔ امریکہ نے افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مختلف امدادی پروگرامز شروع کیے ہیں تاکہ انسانی بحران اور معاشی عدم استحکام سے نمٹا جا سکے۔ اس امداد میں غذائی اشیاء، ادویات، اور دیگر امدادی سامان شامل ہے، جس کا مقصد افغان عوام کی مدد کرنا ہے۔تاہم، بہت سے حلقوں میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ امداد طالبان کی حکومت کو مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ طالبان براہ راست افغان حکومت پر قابض ہیں اور ان کی جانب سے اس امداد کا استعمال دہشت گردی کے لئے بھی ممکن ہے۔

    ایلن مسک نے اپنی ٹویٹس اور عوامی بیانات میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اگر امریکہ طالبان کے حوالے سے امداد فراہم کر رہا ہے تو کیا یہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کا غلط استعمال نہیں ہو رہا؟ ایلن مسک کا یہ سوال امریکہ کے امدادی پروگرامز پر ایک اہم سوالیہ نشان ہے، جس نے عالمی سطح پر افغان بحران کی پیچیدگیوں کو اجاگر کیا ہے۔یہ مسئلہ مستقبل میں بھی عالمی سطح پر بحث کا موضوع بن سکتا ہے، اور اس پر مزید فیصلے اور اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا بہتر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔

    تبت میں زلزلہ، 53 افراد ہلاک، متعدد عمارتیں گر گئیں

    پاکستان میں سکواش کے فروغ کے حوالے سے ایک بڑی خوشخبری

  • پاکستان کے بڑے شہروں میں دہشت گردی کا خطرہ

    پاکستان کے بڑے شہروں میں دہشت گردی کا خطرہ

    فتنہ الخوارج کی جانب سے پاکستان کے بڑے شہروں میں دہشت گردی کے منصوبہ بندی کا انکشاف سامنے آیا ہے

    مختلف ذرائع کی جانب سے فتنہ الخوارج کی دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی تصدیق ہوئی ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق فتنہ الخوارج سے منسلک کئی دہشت گرد پاک افغان بارڈر کراس پار کر کے پاکستان میں داخل ہو چکے ہیں ،19 اور 20 نومبر کی درمیانی رات فتنہ خوارج کے دہشت گردوں کی جانب سے پاک افغان بارڈر پار کرنے کی اطلاعات ملی ہیں، فتنہ الخوارج کے پاکستان میں داخل ہونے والے دہشت گردوں کی مختلف بڑے شہروں میں موجودگی کی اطلاع ہے،نیکٹا نے فتنہ الخوارج کے خطرے کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی ہدایات کر دی ہے،

    دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر شہریوں کو گھروں سے باہر نکلتے ہوئے خیال کرنا چاہئے، پولیس اور سیکورٹی اداروں کی جانب سے الرٹ کے بعد سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے،حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع دیں اور احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ سیکیورٹی فورسز کو بھی ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور اہم مقامات پر سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے باعث شہریوں کو مزید چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، حکومتی سطح پر سیکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے اضافی وسائل مختص کیے جا رہے ہیں۔

    بشریٰ پر مقدمہ کروانےوالا خود بھی مجرم نکلا

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا بیان غیر ذمہ دارانہ، بے بنیاد ہے ،جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ

    بشریٰ کا بیان، جنرل باجوہ کو خود سامنے آکر تردید کرنی چاہیے۔خواجہ آصف

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    بشریٰ کے” جن” تو آ جائیں گے،دیو اور پریاں کہاں سے آئیں گی؟کیپٹن ر صفدر

    عمران خان اِس وقت لاشیں گرانے کے موڈ میں ہیں،عظمیٰ بخاری

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان