Baaghi TV

Tag: دہشت گردی

  • قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،بلاول

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پشاور ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کی تقریب میں شرکت کی

    اس موقع پر بلاول زرداری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ڈی آئی خان میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعے کی مذمت کرتا ہوں،پاکستان میں دہشتگردی ایک بار پھر سراٹھا رہی ہے،آپس میں لڑنے سے مسائل مزید پیدا ہونگے،قومی مفاد کے لیے ہمیں اپنا سیاسی اختلاف بھول کر اکٹھا ہونا ہوگا،دہشتگردی کیخلاف ہم نے بہت قربانیاں دی ہیں،پاکستان نے دہشتگردی کی کمرتوڑی ہے،جب ہم آپس میں لڑتے ہیں تو دہشتگرد اس کافائدہ اٹھاتے ہیں،پورا پاکستان ایک ہوکر دہشتگردی کامقابلہ کرے گاتب ہی فتح ملے گی،قوم کو بتایا جائے شہیدوں کے خون کاسودا کس نے کیا،ہم سب نے ملکر اتنی قربانیاں دیں تاکہ ملک سے دہشتگردی ختم ہو،خیبرپختونخوا کی پولیس،عوام اور وکلا نے دہشتگردی کیخلاف صف اول کاکردار ادا کیا،

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ عوام سے پوچھے بغیر، پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیے بغیر دہشتگردوں سے بات چیت کی گئی،سنگین مقدمات میں ملوث ملزمان کو جیل سے نکالا گیا،افغانستان میں طالبان کی حکومت کے بعد جیلوں سے پاکستان مخالف لوگ آزاد ہوئے ،افغانستان میں آزاد ہونے والے پاکستان مخالف لوگوں کویہاں آنے کی دعوت دی گئی،اس ایک فیصلے نے پاکستان کو 10سال پیچھے کردیا ، زندہ ہے بھٹو کے نعرے کامذاق اڑانے والوں کو شاید اب اندازہ ہورہا ہوگا،اس وقت مہنگائی، غربت اور بیروزگاری ملک کابڑا مسئلہ ہے،چاہتے ہیں کہ کوئی مینڈیٹ لیکر وزیراعظم بنے تو اس کیساتھ ایسا نہ ہو،ذوالفقار علی بھٹو کاجو ریفرنس چل رہا ہے ،انہیں ضرور انصاف دلاؤں گا،عدلیہ پر پورا اعتماد ہے، تاریخ،قانون اور جمہوریت کے مطابق فیصلہ کرے گی،

    ہمارا بھٹو تو واپس نہیں آئے گا، ہمیں امید ہے غلط فیصلے کو غلط کہا جائے گا

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    وزیراعظم سمیت کروڑوں کا ڈیٹا لیک،سیاست کا 12واں کھلاڑی کون

    سپریم کورٹ کے ہاتھ 40 برسوں سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے لہو سے رنگے ہوئے

  • ڈیرہ اسماعیل خان،دہشتگردوں کا حملہ،25 اہلکار شہید،27 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈیرہ اسماعیل خان،دہشتگردوں کا حملہ،25 اہلکار شہید،27 دہشتگرد جہنم واصل

    امن کے دشمنوں کا ایک اور وار، ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کے دو واقعات پیش آئے ہیں

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردوں کےخلاف کارروائیاں کی گئیں، کاروائیوں میں 27 دہشتگرد ہلاک ہو گئے،دہشت گردوں کے حملے میں 25 سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے ہیں،دہشتگردوں نے درابن میں سیکیورٹی فورسز کی چوکی پر حملہ کیا اور بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی،،عمارت گرنے سے 23 بہادر جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، ایک اور واقعہ میں کلاچی میں دو بہادر سپوت شہید ہوئے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنادیا،سیکیورٹی فورسز کی کاروائی میں 27 دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا گیا، دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر درازندہ میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا، آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ٹھکانے کو تباہ کیا گیا،مارے جانے والے دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے، کارروائیوں کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا،

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے کلاچی میں انٹیلی جنس اطلاعات پر آپریشن کیا،آپریشن کے نتیجے میں چار دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا،شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد دو جوان شہید ہوئے،ہلاک دہشت گرد سیکورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث تھے، کارروائیوں کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا ، دوسری جانب 12 دسمبر کی صبح چھ دہشت گردوں کے ایک گروپ نے درابن میں سیکورٹی فورسز کی چوکی پر حملہ کیا۔چوکی میں داخل ہونے کی کوشش کو مؤثر طریقے سے ناکام بنایا گیا ،
    جس کے بعد دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی کو چوکی سےٹکرا دیا،چوکی سے گاڑی ٹکرانے کے بعد جس کے بعد خودکش حملہ کیا گیا،دھماکوں کے نتیجے میں عمارت گر گئی،تئیس بہادر سپاہیوں نے جام شہادت نوش کیا ،تمام چھ دہشت گردوں کو مؤثر طریقے سے جہنم واصل کر دیا گیا،علاقے میں موجود ممکنہ دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے آپریشن جاری ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمےکے لیے پرعزم ہے،ہمارے بہادر سپاہیوں کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

    قبل ازیں ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل درابن پر دہشتگردوں نے تھانے پر حملہ کیا جس میں حملہ آوروں نے تھانے کے مین گیٹ پربارود سے بھری گاڑی ٹکرائی ،دہشتگردوں نے تھانے کے قریب فائرنگ بھی کی جس سے 16 اہلکار زخمی ہوئے۔حملے میں تھانےکی چھت گرگئی جب کہ اس دوران 2 دہشتگرد بھی مارے گئے،پولیس کا کہنا ہےکہ زخمیوں کو ڈیرہ اسماعیل خان اسپتال منتقل کر دیاگیا ہے جب کہ تحصیل درابن کی مکمل ناکہ بندی کردی گئی ہے۔علاقہ بھر میں سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے،

    دہشت گردی کے واقعات کے بعد ڈی آئی خان میں ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذکردی گئی۔تحصیل درابن میں سکول ،کالج میں آج ہونیوالے پرچے ملتوی کردیئے گئے۔

    دہشتگردوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی،نگران وزیراعظم
    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نےضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن کے پولیس اسٹیشن پر دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزیر اعظم نے حملے کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کو ہر ممکن طبی امداد دینے کی ہدایت کی.
    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نےڈیرہ اسماعیل میں درازندہ، درابن اور کلاچی کی علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کو ان کی کامیاب کارروائیوں پر خراج تحسین پیش کیا، وزیراعظم نے انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں میں 27 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو ان کی کارکردگی پر سراہا،وزیراعظم نے انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے لیے بلندی درجات کی دعا کی، اور کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں انسدادِ دہشت گردی کی حالیہ کارروائیاں دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ہمارے پختہ عزم کا ثبوت ہیں،جب تک ملک سے دہشتگردی کا جڑ سے خاتمہ نہیں ہو جاتا تب تک ہماری دہشتگردوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی،

    دھرتی سے وطن دشمنوں کے ناپاک وجود کو مٹانے سے امن ہوگا،بلاول
    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول زرداری نے 23 بہادر سپاہیوں کی شہادت پر اظہار افسوس کیا اور کہا کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک شہیدوں کا خون قوم پر قرض رہے گا، دھرتی سے وطن دشمنوں کے ناپاک وجود کو مٹانے سے امن ہوگا، بلاول بھٹو زرداری نے شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہارکیا

    دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے۔مولانا فضل الرحمان
    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ڈی آئی خان میں پولیس اسٹیشن پر دہشت گرد حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے،مولانا فضل الرحمان نے دہشت گرد حملے میں جوانوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے اہلخانہ کے غم میں برابر کا شریک ہوں ۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی لازوال قربانیاں ناقابل فراموش ہے۔ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے۔

    وطن عزیز اور قوم کے تحفظ کےلئے شہداء کی عظیم قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی،شہباز شریف
    سابق وزیراعظم، ن لیگ کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو ڈیرہ اسماعیل خان میں مختلف کارروائیوں کے دوران 27 دہشت گردوں کو جہنم واصل کرنے پر خراج تحسین جبکہ 23 شہید بہادر سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ دہشت گردی سے ارض پاک کو پاک کرنے کی جدوجہد ملکی سلامتی، دفاع اور معاشی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ وطن عزیز اور قوم کے تحفظ کےلئے شہداء کی عظیم قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ شہداء کے درجات بلند فرمائے، اہل خانہ کو صبر جمیل اور اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین

    شدت پسندوں کی کمین گاہوں کا تدارک کافی نہیں بلکہ ان سہولت کاروں کو بھی گرفت میں لانا ہو گا،علامہ راجہ ناصر عباس جعفری
    مجلس وحد ت المسلمین کے رہنما علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں دہشت گردی کی حالیہ کارروائی میں چوبیس سے زائد قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع قومی سانحہ ہے۔ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس امر کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ ملک دشمن تکفیری دہشت گرد پھرسے منظم ہونے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستانی قوم نے بھاری قیمت چکائی ہے۔قوم کسی نئی آزمائش کی قطعی متحمل نہیں۔ ملکی سلامتی جیسے حساس معاملات میں صاحبان اقتدار کو سنجیدہ اور فیصلہ کن اقدامات کرنے ہوں گے۔دہشت گردی کے خاتمے کے لیے شدت پسندوں کی کمین گاہوں کا تدارک کافی نہیں بلکہ ان سہولت کاروں کو بھی گرفت میں لانا ہو گا جو دہشت گردی کی مالی معاونت اور فکری آلودگی کا باعث بن رہے ہیں۔پوری قوم غمزدہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک اور شہداء کی بلندی درجات زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہے۔

    بزدلانہ حملے ملک میں امن وامان کی صورتحال کو سبوتاژ نہیں کرسکتے،چیئرمین سینیٹ
    چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے ڈیرہ اسماعیل خان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ چیئرمین سینیٹ نے دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں شہدا کے اہلخانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے دہشت گرد حملوں کے دوران زخمی سیکیورٹی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ دہشت گرد ترقی کے عمل کو روکنا چاہتے ہیں جس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے لازوال قربانیوں دی ہیں۔خطے کے امن کی بقا کے لیے سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔چیئرمین سینیٹ کا مزید کہنا تھا کہ ایسے بزدلانہ حملے ملک میں امن وامان کی صورتحال کو سبوتاژ نہیں کرسکتے۔محمد صادق سنجرانی نے کہا کہ دہشت گردوں کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہوتا نہ ہی کوئی مذہب اپنے پیرو کاروں کو دہشت گردی کی اجازت دیتا ہے۔دہشت گردی کے اس ناسور کو جلد جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔چئیرمین سینیٹ نے کہا کہ دہشت گرد پاکستان کی ترقی سے خائف ہیں۔قوم سیکیورٹی فورسز کی ان قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔

    ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مرزا محمد آفریدی، قائد ایوان سینیٹ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، قائد حزب اختلاف سینیٹ سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے بھی ڈی آئی خان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے دہشت گرد حملوں میں شہید اہلکاروں کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور زخمی سیکیورٹی اہلکاروں کی جلد صحت یابی کی دعا بھی کی۔ انہوں نے کہا ہے کہ دہشت گرد پوری انسانیت کے دشمن ہیں۔پاکستان دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کیلئے پرعزم ہے.

  • طالبان نے داعش کیخلاف کاروائی کی تا ہم دوسرے دہشتگرد گروپس کو پناہ دی، امریکی رپورٹ

    طالبان نے داعش کیخلاف کاروائی کی تا ہم دوسرے دہشتگرد گروپس کو پناہ دی، امریکی رپورٹ

    امریکہ نے دہشت گردی پر 2022 کی رپورٹ جاری کر دی، رپورٹ میں دنیا بھر میں 2022 میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے اعدادوشمار پیش کئے گئے ہیں، دہشت گردی کے حوالہ سے امریکی رپورٹ میں پاکستان کا نام بھی شامل کیا گیا ہے،پاکستان کی تنظیموں لشکر طیبہ، جیش محمد بارے امریکی رپورٹ میں تذکرہ کیا گیا ہے

    11 ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر حملوں کے بعد، امریکہ نےبڑے پیمانے پر دہشت گردانہ حملوں کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ایک مضبوط اور جدید ترین انسداد دہشت گردی کا ادارہ قائم کیا۔ 20 سال سے زائد عرصے بعد، دہشت گردی کے جن خطرات کا ہمیں اس وقت سامنا ہے وہ نظریاتی اور جغرافیائی طور پر پھیلا ہوا ہے۔ ایک ہی وقت میں، ریاست ہائے متحدہ دیگر قومی سلامتی کے چیلنجوں کی متنوع اور متحرک رینج کا مقابلہ کر رہا ہے،سائبر سکیورٹی کے خطرات، اور موسمیاتی تبدیلی بھی سامنے آئی ہے، وسیع تر قومی سلامتی کی ترجیحات کے تناظر میں ابھرتے ہوئے دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے، ریاستہائے متحدہ نے ایک نئی انسداد دہشت گردی پالیسی کا افتتاح کیا، جو امریکی قیادت میں، فوجی مرکز کے نقطہ نظر سے ہٹ کر سفارت کاری، شراکت دار کی صلاحیت کی تعمیر، اور روک تھام کو ترجیح دیتا ہے۔ فوجی اور شہری انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے درمیان ایک نیا توازن قائم کرنا انسداد دہشت گردی ٹولز کی مکمل رینج کو تعینات کرنے کی ضرورت کو تسلیم کرتا ہے.

    2022 میں، اس نئے فریم ورک کے تحت، امریکہ اور اس کے شراکت دار دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کامیابی حاصل کرتے رہے، امریکی قیادت کے ذریعے داعش کو شکست دینے کے لیے عالمی اتحاد نے عراق اور شمال مشرقی شام میں بنیادی ڈھانچے اور دیگر اہم منصوبوں کی حمایت کے لیے $440 ملین سے زیادہ جمع کیے – جس میں $107 ملین کا امریکی وعدہ بھی شامل ہے۔ نومبر میں ریاستہائے متحدہ اور برطانیہ نے 14 حکومتوں اور متعدد اقوام متحدہ اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے ساتھ مل کر ایک ڈونرز کانفرنس کی مشترکہ میزبانی کی، تاکہ شمال مشرقی شام میں بے گھر افراد کے کیمپ میں سیکورٹی اور انسانی حالات کو بہتر بنانے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

    2022 میں، جولائی میں القاعدہ رہنما ایمن الظواہری کی موت کے بعد بھی، القاعدہ اور اس سے وابستہ تنظیمیں پرعزم رہیں۔ القاعدہ کے سینئر رہنماؤں نے خاص طور پر افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کے لیے عالمی نیٹ ورک کی نگرانی جاری رکھی۔ مشرقی افریقہ میں، الشباب (ع) نے جنوبی وسطی صومالیہ کے اہم حصوں پر ڈی فیکٹو کنٹرول برقرار رکھا۔ مغربی افریقہ میں، جماعت نصرت الاسلام والمسلمین نے ساحل میں حملے تیز کر دیے، جس سے دارالحکومت کے شہروں اور خطے میں امریکی سفارت خانوں کو خطرہ بڑھ رہا ہے، اور ساحلی مغربی افریقہ کے شمالی سرحدی علاقوں میں اپنی کارروائیوں کو بڑھا دیا ہے۔

    افغانستان میں، القاعدہ کے عناصر، داعش، اور علاقائی طور پر مرکوز دہشت گرد گروہ ملک میں سرگرم رہے۔ 2022 میں، داعش نے پاکستان، تاجکستان اور ازبکستان میں سرحد پار سے حملے کیے اور مغرب پر حملہ کرنے کے عزائم کو برقرار رکھا۔ القاعدہ اور اس سے وابستہ تنظیمیں، خاص طور پر برصغیر پاک و ہند میں القاعدہ، بھی افغانستان سے براہ راست امریکہ پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں – لیکن اس کی صلاحیت نہیں تھی۔ جب کہ طالبان نے دہشت گرد گروپوں کو افغانستان کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف حملے کرنے کے لیے استعمال کرنے سے روکنے کا عہد کیا، القاعدہ کے عناصر، تحریک طالبان پاکستان، اور داعش کو بیرونی کارروائیوں میں اضافے سے روکنے کی صلاحیت غیر واضح رہی، 30 جولائی 2022 کو امریکی فضائی حملے میں ہلاک ہونے سے قبل طالبان نے القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو کابل میں میزبانی اور پناہ دی۔

    امریکی رپورٹ میں کہا گیا کہ 2022 میں افغانستان اور پاکستان میں مسلسل دہشت گردانہ سرگرمیاں دیکھی گئیں، سیکورٹی فورسز کے خلاف باغیوں کے حملے جاری رکھے گئے،امریکہ نے ابھی تک طالبان یا کسی دوسرے ادارے کو افغانستان کی حکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ طالبان نے 30 جولائی کو امریکی فضائی حملے میں ہلاک ہونے سے قبل القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کو کابل میں میزبانی اور پناہ دی تھی۔ طالبان نے بارہا کہا کہ وہ کسی بھی گروہ یا فرد کو افغان سرزمین کو دھمکی دینے کے لیے استعمال کرنے سے روکنے کے اپنے عزم کو برقرار رکھیں گے۔طالبان نے داعش کے خلاف لڑائی کی جسے وہ اپنا بنیادی خطرہ سمجھتے تھے، لیکن وہ دوسرے دہشت گرد گروہوں کو پناہ دیتے رہے۔

    افغانستان کے پڑوسیوں کو علاقائی سلامتی اور ملک سے پیدا ہونے والے ممکنہ دہشت گردی کے خطرات پر گہری تشویش ہے۔ 2022 میں، داعش سمیت دہشت گرد گروہوں نے افغانستان سے تاجکستان، ازبکستان اور پاکستان کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔ داعش نے افغان شہریوں کے خلاف بھی حملے کیے، جو اکثر کمزور مذہبی اور نسلی اقلیتی آبادی کے ارکان پر حملے کرتے ہیں۔داعش نے ستمبر میں روسی سفارت خانے، دسمبر میں پاکستانی سفارت خانے، اور دسمبر میں عوامی جمہوریہ چین کے شہریوں کے اکثر ہوٹل پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔داعش سمیت القاعدہ کے عناصر، اور پاکستان کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد گروہ ،جیسے کہ تحریک طالبان پاکستان نے پاکستان کی سرحد کے قریب افغان سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنا جاری رکھا۔

    وسطی ایشیائی ریاستیں افغانستان سے متشدد انتہا پسند عناصر کی جانب سے اپنی سرحدوں کو عبور کرنے یا سرحد پار سے راکٹ حملوں کے ارتکاب کے ساتھ ساتھ دہشت گرد گروپوں کے ساتھ لڑنے کے لیے عراق یا شام جانے والے شہریوں کی واپسی سے لاحق ممکنہ خطرے سے چوکس رہیں۔

    پاکستان نے لشکرطیبہ اور جیش محمد کو ختم کرنے کیلئے خاطر خواہ کاروائی نہیں کی، امریکہ
    امریکی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اقوام متحدہ اور امریکہ کے نامزد کردہ کئی دہشت گرد گروپ جو ملک سے باہر حملے مرکوز کرتے ہیں، لشکر طیبہ اور جیش محمد سمیت 2022 میں پاکستان سے کام کرتے رہے، پاکستان نے 2022 میں دہشت گردی کی مالی معاونت کا مقابلہ کرنے اور کچھ عسکریت پسند گروپوں کو روکنے کے لیے کچھ اقدامات کیے، لیکن حکام نے انھیں ختم کرنے کے لیے خاطر خواہ کارروائی نہیں کی۔ لشکر طیبہ کے رہنما ساجد میر کو جون میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزام میں مجرم قرار دیا گیا تھا اور انہیں 15 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ پاکستان کے اندر حملے کرنے والے بڑے دہشت گرد گروہوں میں ٹی ٹی پی، بلوچستان لبریشن آرمی، اور داعش شامل ہیں۔ ٹی ٹی پی اور دیگر نامزد دہشت گرد گروپ پاکستانی فوجی اور سویلین اہداف کے خلاف حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    30 نومبر کو امریکی محکمہ خارجہ نے برصغیر ہند میں القاعدہ کے تین رہنماؤں اسامہ محمود، عاطف یحییٰ غوری، اور محمد معروف کو دہشت گرد قرار دیا،30 نومبر کو ہی، محکمہ خارجہ نے مفتی حضرت ڈیروجی عرف قاری امجد کو بھی نامزد کیا۔ امجد تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر ہیں، جو صوبہ خیبر پختونخواہ میں آپریشنز اور عسکریت پسندوں کی نگرانی کرتے ہیں۔

    امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ علاقائی سلامتی اور انسداد دہشت گردی پر پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہے، دوطرفہ تعلقات نے مشترکہ اقتصادی اور ترقیاتی ترجیحات بشمول تجارت اور سرمایہ کاری، موسمیاتی بحران سے نمٹنے اور بھاری سیلاب سے ہونے والی تباہی کے ازالے کے لئے مدد کی، 2022 میں امریکی حکومت نے پاکستان میں سیلاب سے نمٹنے، خوراک کی حفاظت اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی کوششوں کے لیے 97 ملین ڈالر سے زائد کا وعدہ کیا۔ امریکہ نے پاکستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی میں مدد کے لیے بھی مدد فراہم کی، موسمیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے شراکت داری اور نجی شعبے کی قیادت میں تجارت اور سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کی۔ صحت کے شعبے میں، امریکہ نے عالمی صحت کی حفاظت کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے ساتھ شراکت کی۔ امریکہ پاکستان امریکہ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے، امریکہ کے بارے میں پاکستان کے تاثرات کو بہتر بنانے اور عوام سے عوام کے تعلقات کو گہرا کرنے کے لیے عوام سے عوام کے تبادلے کی حمایت کرتا ہے۔ امریکی حکومت پاکستان کے لیے مضبوط قانون نافذ کرنے والے اداروں، انسداد منشیات، اور قانون کی حکمرانی میں مدد فراہم کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔

    امریکی رپورٹ کے مطابق القاعدہ برصغیر نے افغانستان، بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کو سرانجام دیا، 2019 میں، القاعدہ برصغیر کے سابق سربراہ عاصم عمر، ایک مشترکہ امریکی افغان فوجی آپریشن میں مارے گئے تھے۔ اس کے موجودہ لیڈر اسامہ محمود ہیں۔القاعدہ برصغیر نے کراچی، پاکستان میں ڈاکیارڈ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی، جس میں عسکریت پسندوں نے قریبی امریکی جنگی جہازوں پر حملہ کرنے کے لیے پاکستانی بحریہ کے فریگیٹ کو ہائی جیک کرنے کی کوشش کی۔القاعدہ برصغیر نے بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیکولر مصنفین کے خلاف حملوں کا بھی دعویٰ کیا، جن میں امریکی شہری اویجیت رائے، ایمبیسی ڈھاکہ کے مقامی ملازم ذولہاز منان، اور بنگلہ دیشی شہریوں اویاسق الرحمن بابو، احمد رجب حیدر، اور اے کے ایم شامل ہیں۔

    2020 میں، ہندوستان کی قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے کیرالہ اور مغربی بنگال سے القاعدہ سے وابستہ 10 مبینہ کارندوں کو گرفتار کیا۔ 2021 میں، این آئی اے نے لکھنؤ میں القاعدہ کے پانچ مبینہ کارندوں کو اتر پردیش میں دہشت گردانہ حملے کی سازش کرنے کے الزام میں گرفتار کیا۔ 2021 میں بھی، القاعدہ نے خاص طور پر ہندوستان اور کشمیر میں سامعین کو نشانہ بنانے والی دو پروپیگنڈا ویڈیوز جاری کیں۔

    حرکت المجاہدین کو 8 اکتوبر 1997 کو ایف ٹی او کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ 2005 میں، حرکت المجاہدین کے رہنما فضل الرحمان خلیل نے استعفیٰ دے دیا اور ان کی جگہ ڈاکٹر بدر منیر نے لے لی۔ حرکت المجاہدین نے مشرقی افغانستان میں تربیتی کیمپوں کو چلایا یہاں تک کہ 2001 میں اتحادی افواج کے فضائی حملوں نے انہیں تباہ کر دیا۔ 2003 میں، حرکت المجاہدین نے جمعیت الانصار کا نام استعمال کرنا شروع کیا۔ پاکستان نے 2003 میں اس گروپ پر پابندی لگا دی تھی۔حرکت المجاہدین نے مقبوضی کشمیر ہندوستانی فوجیوں اور شہری اہداف کے خلاف متعدد کارروائیاں کی ہیں۔ 1999 میں، حرکت المجاہدین نے ایک ہندوستانی ہوائی جہاز کو ہائی جیک کر لیا، جس کے نتیجے میں مسعود اظہر، جس نے بعد میں جیشِ محمد کی بنیاد رکھی، رہا کر دیا گیا۔ بھارت نے ہائی جیکنگ کے نتیجے میں احمد عمر شیخ کو بھی رہا کر دیا۔ احمد عمر شیخ کو بعد میں 2002 میں امریکی صحافی ڈینیئل پرل کے اغوا اور قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔ حرکت المجاہدین نے 2022 میں کسی بھی حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    جیش محمد، جس کے نام تحریک الفرقان؛ خدام الاسلام; قدام اسلامی بھی رکھے گئے کو 26 دسمبر 2001 کو FTO کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ جیش محمد کی بنیاد حرکت المجاہدین کے سابق سینئر رہنما مسعود اظہر نے 2000 میں رکھی تھی۔ امریکی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جیش محمد پاکستان کے کچھ حصوں میں کھلے عام کام جاری رکھے ہوئے ہے، اس کے باوجود کہ ملک کی جانب سے 2002 میں اپنی سرگرمیوں پر پابندی لگائی گئی تھی۔ اس گروپ نے جموں اور کشمیر میں کئی خودکش کار بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے،ہندوستانی حکومت نے 2001 میں ہندوستانی پارلیمنٹ پر حملے میں لشکر طیبہ کے ساتھ جیش محمد کو سرعام ملوث کیا جس میں نو افراد ہلاک اور 18 دیگر زخمی ہوئے تھے۔

    لشکر طیبہ سے ملی مسلم لیگ کا سفر،امریکی رپورٹ میں تذکرہ
    امریکی رپورٹ میں لشکر طیبہ کے بارے میں کہا گیا کہ وہ مختلف ناموں سے کام کرتی رہی اور کر رہی ہے، لشکر طیبہ کے ناموں میں پاسبانِ اہلحدیث؛ پاسبانِ کشمیر؛ پاسبانِ اہل حدیث؛جماعت الدعوۃ; جے یو ڈی؛ جماعۃ الدعوۃ؛فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن،ہیومن ویلفیئر فاؤنڈیشن؛ الانفال ٹرسٹ؛ تحریک حرمت رسول ﷺ ،تحریک تحفظ قبلہ اول، المحمدیہ طلباء المحمدیہ اسٹوڈنٹس پاکستان؛ تحریک آزادی کشمیر; تحریک آزادی جموں و کشمیر، ملی مسلم لیگ; ملی مسلم لیگ پاکستان؛ ایم ایم ایل شامل ہیں

    امریکی رپورٹ میں کہا گیا کہ لشکر طیبہ کو 26 دسمبر 2001 کو ایک ایف ٹی او کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ لشکر طیبہ ایک بھارت مخالف گروپ ہے، جو اصل میں 1980 کی دہائی کے آخر میں مرکز الدعوۃ الارشاد کے عسکری ونگ کے طور پر تشکیل دیا گیا تھا۔ پاکستان میں قائم تنظیم اور خیراتی ادارے اصل میں افغانستان میں سوویت یونین کی موجودگی کی مخالفت کے لیے تشکیل دیے گئے تھے۔ تنظیم کی قیادت حافظ محمد سعید کر رہے ہیں۔ لشکر طیبہ کے ایف ٹی او کے عہدہ کے فوراً بعد، حافظ محمد سعید نے گروپ کا نام تبدیل کر کے جماعت الدعوۃ رکھ دیا اور پابندیوں سے بچنے کے لیے انسانی ہمدردی کے منصوبے شروع کیے۔ لشکر طیبہ اپنا پیغام جے یو ڈی کے میڈیا آؤٹ لیٹس کے ذریعے پھیلاتا ہے۔

    لشکر طیبہ اور جیش محمد ، دوسرے گروپوں جیسے حزب المجاہدین کے ساتھ مل کر بھارت مخالف حملے کر رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت نے 2002 میں لشکر طیبہ پر پابندی لگا دی اور 2008 کے ممبئی حملے کے بعد حافظ محمد سعید کو عارضی طور پر گرفتار کر لیا۔ 2017 میں پاکستان نے حافظ محمد سعید کو گھر میں نظر بند کر دیا۔ تاہم، اسے 10 ماہ بعد رہا کر دیا گیا جب لاہور ہائی کورٹ نے ان کی نظر بندی کی تجدید کی حکومتی درخواست کو مسترد کر دیا۔ 2019 میں، پاکستانی پولیس نے حافظ محمد سعید کو دوبارہ گرفتار کیا اور اس پر دہشت گردی کی مالی معاونت کا الزام عائد کیا۔ 2020 میں، حافظ محمد سعید کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں قصوروار پایا گیا اور انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

    امریکی رپورٹ کے مطابق لشکرطیبہ نے 1993 سے ہندوستانی فوجیوں اور شہری اہداف کے خلاف کئی ہائی پروفائل حملوں سمیت متعدد کارروائیاں کیں، بشمول ممبئی میں لگژری ہوٹلوں، ایک یہودی مرکز، ایک ٹرین اسٹیشن، اور ایک مشہور کیفے کے خلاف 2008 کے حملے جس میں چھ امریکی شہریوں سمیت 166 افراد ہلاک ہوئے تھے، 2010 میں، پاکستانی نژاد امریکی تاجر ڈیوڈ ہیڈلی نے ایک امریکی عدالت میں 2008 میں ممبئی میں لشکر طیبہ کے حملوں میں اپنے کردار سے متعلق الزامات اور ڈنمارک کے اخبار Jyllands-Posten پر بم حملے کی ایک الگ سازش سے متعلق الزامات کے لیے جرم قبول کیا۔ ہیڈلی نے 2011 اور 2015 میں لشکر طیبہ کے دیگر حامیوں کے ٹرائلز میں گواہی دی تھی۔

    2017 میں، لشکر طیبہ نے جموں کشمیر میں ایک حملہ کیا جس میں چھ پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ اگلے مہینے، لشکر طیبہ کے عسکریت پسندوں نے امرناتھ یاترا کی عبادت گاہ سے واپس آنے والے زائرین کی بس پر حملہ کیا، جس میں سات افراد ہلاک ہو گئے۔ 2018 میں، لشکر طیبہ نے جموں کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ میں ایک بھارتی فوجی کیمپ کے خلاف خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں تین فوجی ہلاک ہوئے۔مئی میں، لشکر طیبہ کے دو مشتبہ ارکان نے کشمیر کے ضلع بڈگام میں ایک سرکاری ملازم کو اس کے دفتر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ مئی میں بھی، لشکر طیبہ کے ارکان نے کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں ایک اسٹور پر حملہ کیا، جس میں چار افراد زخمی ہوئے۔ جون میں، لشکر طیبہ کے ارکان نے کشمیر کے ضلع شوپیاں میں شہریوں پر گرینیڈ پھینکا، جس میں دو افراد ہلاک ہوئے۔

    امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لشکر طیبہ کے پاس کتنی افرادی قوت ہے اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اصل تعداد کا اندازہ نہیں کر سکتے،لشکرطیبہ بارے امریکی رپورٹ میں کہا گیا کہ لشکر طیبہ پاکستان اور خلیج فارس کی ریاستوں کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ اور یورپ کے دوسرے عطیہ دہندگان سے عطیات جمع کرتی ہے – خاص طور پر برطانیہ، جہاں یہ ایک نامزد دہشت گرد تنظیم ہے۔ 2019 میں، لشکر طیبہ اور اس کی فرنٹ تنظیموں نے پاکستان میں کام کرنا اور فنڈ اکٹھا کرنا جاری رکھا۔

  • میانوالی،پاک فضائیہ کے بیس پر دہشتگردانہ حملہ،3 دہشتگرد ہلاک

    میانوالی،پاک فضائیہ کے بیس پر دہشتگردانہ حملہ،3 دہشتگرد ہلاک

    پنجاب کے شہر میانوالی میں پاک فضائیہ کے کیمپ پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا گیا،
    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشتگردوں نے میانوالی ٹریننگ ائیربیس پر آج صبح حملے کی کوشش کی جس پر پاک فوج کے جوانوں نے دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دیا، دہشتگردوں کے حملے پر پاک فوج نے بر وقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے پاکستان ائیرفورس ٹریننگ ائیربیس میانوالی پر حملہ ناکام بنایا،آئی ایس پی آر کے مطابق پہلے سے گراؤنڈ کیے گئے 3 طیاروں اور فیول باوزر کو نقصان پہنچا جب کہ جوانوں نے اثاثوں کی حفاظت کو یقینی بنایا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق مشترکہ کلیئرنگ اور کومبنگ آپریشن آخری مراحل میں ہے اور باقی 3 دہشتگردوں کو گھیرے میں لے لیا گیا،پاکستان کی مسلح افواج ہر قیمت پر ملک سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں

    میانوالی ایئربیس پر آپریشن مکمل، تمام دہشتگردوں کو مار دیا گیا،ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق میانوالی ایئربیس آپریشن کا فوری اختتام امن کے تمام دشمنوں کے لئے واضح پیغام ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ہمیشہ چوکس رہتی ہیں اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے اور وطن کا دفاع کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہیں،پی اے ایف ائیربیس میانوالی پر حملہ کرنے والے 9 دہشتگردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا ہے.

    میانوالی ایئر بیس پر دہشت گردوں نے حملے کے لئے سیڑھی کا استعمال کیا، دیوار پر لگی باڑ بھی کاٹی گئی،دیوار کود کر اندر داخل ہوئے تا ہم پاک فوج نے فوری کاروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا.

    خاتون کی غیر اخلاقی ویڈیو وائرل کرنیوالا ملزم لاڑکانہ سے گرفتار

    لاہور میں 2 بچیوں کے اغوا کی کوشش ناکام،ملزم گرفتار

    طلبا کے ساتھ زیادتی کرنے، ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والے سابق پولیس اہلکار کو عدالت نے سنائی سزا

    دورانِ مجلس عورتوں کے کانوں سے سونے کی بالیاں اُتارنے والی ملزمہ گرفتار

    فون پر دوستی، لڑکی کو ملنے گھر جانیوالے نوجوان کو پہنائے گئے جوتوں کے ہار اور کیا گیا تشدد

    فون پر برا بھلا کہنے کی رنجش پر امام مسجد قتل کر دیا گیا

     خواجہ سرا امام مسجد کیس میں عدالت نے ملزم کو جیل بھجوا دیا

    سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نےمیانوالی ٹریننگ ائیر بیس پر دہشتگردوں کا حملہ ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا،شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہماری سکیورٹی فورسز بہادری سے دہشت گردوں کے مذموم عزائم ناکام بنا رہی ہیں ،سکیورٹی فورسز کے افسر اور جوان دہشت گردی کے خاتمے کے لئے عظیم قربانیاں دے رہے ہیں ،دہشت گردی کے خاتمے میں قوم کی نجات ہے

    دہشت گردی کی حالیہ لہر پاکستان کو دوبارہ عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازش ہے،نگران وزیر داخلہ
    نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ڈی آئی خان، پسنی اور میانوالی میں حملہ آور دہشت گردوں کے نام الگ ضرور ہونگے لیکن پس پردہ دشمن ایک ہی ہے۔دہشت گردی کی حالیہ لہر پاکستان کو دوبارہ بے یقینی اور عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازش ہے،تمام سول اور ملٹری ادارے یک جان ہو کر خون کے آخری قطرے تک ملک کا دفاع کریں گے ، دشمنوں کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے،

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نےمیانوالی میں ٹریننگ ائیر بیس پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنانے پر اطمینان کا اظہار کیا،صدر عارف علوی کا کہنا تھا دہشت گرد ملک اور قوم کے دشمن ہیں، دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے

    نفرت اور تقسیم کی آئیڈیالوجی کو ختم کرنا ہوگا،بلاول
    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے میانوالی میں پاکستان ائیرفورس کے ٹریننگ ائیربیس پر دہشت گردوں کے حملے کی مذمت کی ہے،بلاول نے میانوالی ائیرفورس ٹریننگ ائیربیس پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنانے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ بچے کچھے دہشت گرد اپنے مذموم عزائم سے قوم کے حوصلے پست نہیں کرسکتے، پاکستان پیپلزپارٹی نے ہر دور میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کا مقابلہ کیا ہے،دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے ملک میں انتہاپسندی، نفرت اور تقسیم کی آئیڈیالوجی کو ختم کرنا ہوگا،

    تحریک انصاف کا ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات پر اظہارِ تشویش
    پاکستان ائیر فورس ٹریننگ ائیر بیس میانوالی پر دہشتگرد حملےکا معاملہ ،پاکستان تحریک انصاف نے ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات پر اظہارِ تشویش کیا ہے، ترجمان پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ محض دو روز کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات ریاست کے لیے انتہائی تشویش کا باعث ہیں ،سکیورٹی فورسز کے جوان اپنی جان پر کھیل کر بروقت کارروائی کے زریعے حملہ ناکام بنانے پر زبردست تحسین کے مستحق ہیں۔الیکشن سے قبل ملک میں دہشت گردی کی نئی لہر کا سر اٹھانامختلف شبہات کو جنم دیتا ہے،دہشت گردی کے واقعات پر قابو پانے اور مزید سنگین نتائج سے بچنے کیلئے ایک مؤثر قومی حکمت عملی کی ضرورت ہے،عام انتخابات کے بروقت انعقاد کے نتیجے میں آنے والی عوام کی نمائندہ حکومت ہی پالیسی فیصلے لینے کا اختیار و مینڈیٹ رکھتی ہے، تحریک انصاف وطن کی راہ میں جرات و بہادری سے لڑتے اور جانیں قربان کرنے والے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے

  • انسدادِدہشتگردی عدالت،عمران خان کی ضمانت کی تین درخواستیں سماعت کیلئے مقرر

    انسدادِدہشتگردی عدالت،عمران خان کی ضمانت کی تین درخواستیں سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد: انسدادِدہشتگردی عدالت اسلام آباد،اےٹی سی نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی تین درخواستِ ضمانتوں پر سماعت 16 اکتوبر کو مقرر کردی

    اےٹی سی جج ابوالحسنات ذوالقرنین 16 اکتوبر کو تینوں درخواستوں پر سماعت کریں گے ،چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف تھانہ کھنہ میں ایک، تھانہ بارہ کہو میں دو مقدمات درج ہیں ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلےکی روشنی میں چیئرمین پی ٹی آئی کی خارج شدہ درخواستیں دوبارہ مقرر کی گئیں ،چیئرمین پی ٹی آئی کی عدم حاضری پر اے ٹی سی نے تینوں درخواستِ ضمانتیں خارج کردی تھیں

    واضح رہے کہ عمران خان کو عدالت نے توشہ خانہ کیس میں سزا سنائی تھی تا ہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے سزا معطل کر دی، جس کے بعد عمران خان کو سائفر کیس میں گرفتار کر لیا گیا، عمران خان اٹک جیل میں تھے جہاں سے انہیں اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا، عمران خان اڈیالہ جیل میں جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

  • بلوچستان،تین دہشت گرد جہنم واصل،ایک جوان شہید

    بلوچستان،تین دہشت گرد جہنم واصل،ایک جوان شہید

    بلوچستان میں ایک کاروائی کے دوران تین دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے جبکہ پاک فوج کا ایک جوان وطن پر قربان ہو گیا

    آئی ایس پی آر کے مطابق 14 ستمبر کی شام دہشت گردوں نے والی تنگی کوئٹہ کے قریب سیکورٹی فورسز کی ایک پوسٹ پر حملہ کیا۔ جس کے بعد سیکورٹی فورسز نے جوابی کاروائی کی، فائرنگ کے تبادلے کے دوران 3 دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے، اسی دوران صوبیدار قیصر رحیم نے بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے، واقعہ میں ایک سپاہی زخمی ہوا ہے جس کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ملک میں امن اور خوشحالی کے دشمنوں کی کوششوں کو ناکام بناتے رہیں گے۔

    بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے،آرمی چیف

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

    واضح رہے کہ سیکورٹی فورسز پاکستان کے امن کے لئے جانوں کے نذرانے دے رہی ہیں، قیام امن کے لئے سیکورٹی اداروں کی قربانیاں قابل تحسین ہیں، پاکستانی قوم وطن کے دفاع کے لئے جانیں قربان کرنے والے جوانوں کو خراج عقیدت ہیش کرتی ہے،وطن عزیز سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستانی قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی تھی، ہے اور رہے گی،

    محکمہ انسداد دہشت گردی خیبرپختونخواہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا: قومی اداروں کی رپورٹ میں ہوشربا انکشاف

    عمران خان اسمبلیاں توڑنے میں اور دہشتگرد خیبرپختونخوا کے بے گناہ عوام کو قتل کرنے میں مصروف ہیں

     حیدر آباد میں چینی ڈاکٹر کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش سی ٹی ڈی نے ناکام بنا دی

    سپیکر قومی اسمبلی اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کوئٹہ ولی تنگی کے قریب دہشت گردوں کے سکیورٹی فورسز کی چوکی پر حملے کی مذمت کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فائرنگ کے تبادلے میں شہید ہونے والے صوبیدار قیصر رحیم کو پوری قوم کی طرف سے خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں 3 دہشت گردوں کی ہلاکت سکیورٹی اداروں کی کارکردگی کا منہ بولتاثبوت ہے سپیکر نے کہا کہ پاکستانی عوام اور پاکستان کی سکیورٹی فورسز کے تمام ادارے دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں

    نگران وزیر اعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر نے بلوچستان کے ولی تنگی میں سیکورٹی فورسز پر حملے کی مذمت کی اور کہا کہ شرپسند عناصر پاک فوج کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے،دہشت گردی کے خلاف جنگ امن کے مکمل حصول تک جاری رہے گی،دشمن کی بزدلانہ کارروائیاں ہمارے جوانوں کے حوصلے پست نہیں کر سکتیں،

  • سی ٹی ڈی کی کاروائی،سات مبینہ دہشتگرد گرفتار

    سی ٹی ڈی کی کاروائی،سات مبینہ دہشتگرد گرفتار

    کانٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ(سی ٹی ڈی)پنجاب نے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے آپریشنز کے دوران کالعدم تنظیموں کے7مبینہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔ترجمان کے مطابق سی ٹی ڈی پنجاب نے دہشت گردی کے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے موثر طریقے سے نمٹنے کے لیے صوبہ بھر کے مختلف اضلاع میں 49خفیہ آپریشنز کئے گئے جن کے دوران49 مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی گئی اورکالعدم تنظیموں 7مبینہ دہشت گردوں کو گرفتارکر کے ان کے قبضہ سے اسلحہ دھماکہ خیز و دیگر ممنوعی مواد برآمد کر لیاگیا۔

    گرفتار ہونے والے دہشت گردوں میں محمد فیاض’ملاظم حسین’شاہد حسین ‘سیف الدین ‘محمد رفیع اللہ’قاری محمد اطہر ازاورمحمد عربی شامل ہیں’ جن کا تعلق کالعدم تنظیموں تحریک طالبان پاکستان ‘ داعش اور لشکر جھنگوی سے ہے۔ان مبینہ دہشت گردوں کی گرفتاری گوجرانولہ’ سرگودھا’ فصیل آباد اور بہالپور میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران عمل میں لائی گئی۔دہشتگردوں کے قبضے سے دھماکہ خیز مواد 3100 گرام، ڈیٹونیٹرز 14، حفاظتی فیوز تار 10 فٹ، موبائل فونز 3 اور 20550روپے نقدی برآمد کئے گئے ہیں۔ترجمان نے کہاکہ دہشت گردوں نے تخریب کاری کا منصوبہ بنا رکھا تھا اور وہ دہشتگردانہ کاروائی میں اہم تنصیبات کو ٹارگٹ کرنا چاہتے تھے۔گرفتار مبینہ دہشت گردوں کے خلاف خوشاب’ بھکر’گوجرانوالہ’فیصل آباداوربہاولنگرمیں6 ایف آئی آر درج کر کے تفتیش کے لیے ان کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ترجمان نے مزید کہا کہ رواں ہفتے کے دوران مقامی پولیس اور سیکورٹی اداروں کی مدد سے سی ٹی ڈی پنجاب نے240کومبنگ آپریشنز کیے گئے ان کومبنگ آپریشنز کے دوران12230افراد کو چیک کیا گیا،65 مشتبہ افراد کو گرفتار63ایف آئی آر درج جبکہ14بازیابیاں کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ کانٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ پنجاب پوری مستعدی سے محفوظ پنجاب کے اپنے ہدف پر عمل پیرا ہے اوردہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہے۔دہشت گردوں اور ریاست دشمن عناصر کو سلاخوں کے پیچھے پہنچانے کی کوششوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق کسی بھی معلومات کی صورت میں کانٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ پنجاب کی ہیلپ لائن 0800-11111 پر اطلاع کریں۔

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    نرسری وارڈ میں 4 بچوں کے جاں بحق ہونے پر وزیراعلیٰ کا نوٹس

    پسند کی شادی جرم بن گئی، سفاک ملزمان نے بچوں،خواتین سمیت سات افراد کو زندہ جلا ڈالا

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    حاملہ خواتین کو سموگ سیزن میں خصوصی احتیاط کی ضرورت

  • بنوں خود کش حملہ،سیاسی رہنماؤں نے کی مذمت،پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان

    بنوں خود کش حملہ،سیاسی رہنماؤں نے کی مذمت،پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان

    بنوں میں خود کش حملے کی سیاسی رہنما مذمت کر رہے ہیں تو وہیں عوام پاکستان نے بھی اعلان کیا ہے کہ دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لئے عوام پاکستان پاک فوج کے شانہ بشانہ رہیں گی،

    بنوں کے علاقے جانی خیل میں گزشتہ روز موٹر سائیکل سے ہونے والے خودکش دھماکے میں شہادت قبول کرنے والے شہداء کی نماز جنازہ بنوں میں ادا کی گئی ، شہدا کو ان کے آبائی علاقوں میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔جنازہ میں سینئر حاضر سروس فوجی اور سول انتظامی افسران اور دستوں نے شرکت کی۔پاکستان کی مسلح افواج مادر وطن سے دہشت گردی کی لعنت کو ہر قیمت پر ختم کرنے کے لیے پرعزم اور پرعزم ہیں۔

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بنوں کے علاقے جانی خیل میں فوجی قافلے پر ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کی، صدر مملکت نے خود کش حملے میں قیمتی جانی نقصان پر گہرے رنج وغم کا اظہار کیا، صدر مملکت نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے قومی عزم کا اعادہ کیا،اور کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی بہادر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے،دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کوششیں جاری رہیں گی،صدر مملکت نے شہداء کو وطن کی خاطر جان کا نذرانہ پیش کرنے پر خراج عقیدت پیش کیا صدر مملکت نے شہداء کیلئے بلندی درجات کی دعا کی اور لواحقین سے اظہار تعزیت اور صبر کیلئے دعا کی،

    سابق صدر آصف زرداری نے کی بنوں میں فوج کے قافلے پر خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وطن کیلئے جانوں کی قربانی دینے والے جوانوں کوقوم کبھی نہیں بھول سکتی,نیشنل ایکشن پلان پرعمل کرکے دہشت گردوں اور انکے سرپرستوں کوختم کیا جائے,آصف علی زرداری نے فوج کے شہید جوانوں کے ورثاء سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا،

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے بنوں میں فوج کے قافلے پر خود کش حملے کی مذمت کی اور فوج کے جوانوں کی شہادت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد قوم اور ملک کے دشمن ہیں, فوجی جوانوں پر خود کش حملہ کرنے والوں کے سرپرستوں اور سہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے,

    بنوں میں 9 فوجی جوانوں کی شہادت پر سابق وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ خودکش حملے میں 9 فوجی جوانوں کی شہادت پر دل غمزدہ اور بوجھل ہے۔ وطن کی حفاظت کے لئے اپنی جانیں نچھاور کرنے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ شہداء کے اہلخانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ دہشتگردی کے ناسور کو پہلے بھی ختم کیا تھا اور انشاللہ آگے بھی اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ مادر وطن کے لئے ایسے بہادر سپوت پیدا کرنے والی ماؤں کی عظمت کا الفاظ احاطہ نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ زخمیوں کو جلد از جلد صحتیابی عطا فرمائے۔ آمین

    سینیٹر شیری رحمان کا کہنا ہے کہ بنوں میں فوجی قافلے پر خودکش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہوں۔ حملے میں شہید ہونے والے 9 جوانوں کے لواحقین سے دلی یکجہتی ہے۔ ملک کی حفاظت کے خاطر ہماری افواج اور جوانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائے گی۔ ہم دہشتگدری کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے، دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنے اور وطن کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے پاک افواج اور بہادر جوانوں کے ساتھ کھڑے ہیں

    محکمہ انسداد دہشت گردی خیبرپختونخواہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا: قومی اداروں کی رپورٹ میں ہوشربا انکشاف

    عمران خان اسمبلیاں توڑنے میں اور دہشتگرد خیبرپختونخوا کے بے گناہ عوام کو قتل کرنے میں مصروف ہیں

     حیدر آباد میں چینی ڈاکٹر کو ٹارگٹ کرنے کی کوشش سی ٹی ڈی نے ناکام بنا دی

    سینیٹر بہرہ مند تنگی کا کہنا ہے کہ بنوں میں فوجی جوانوں کی شہادت ایک المیہ ہے ھمارے ملک اور بچوں کی مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے اپنے جانوں کی قربانی دینے والے پاک فوج کے شہداء کو سلام ابھی فیصلہ کرنا ہوگا کہ جو عناصر افواج پاکستان کے شہداء کے شہادت کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں ان کو کٹہرے میں لا کر سزا دی جائے

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول نے خیبر پختون خواہ کے علاقے بنوں میں پاکستان آرمی کے قافلے پر ہونے والے خود کش دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں شہید ہونے والے فوجی جوانوں کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    واضح رہے کہ بنوں میں سیکیورٹی فورسز کے کانوائے پر موٹر سائیکل سوار خودکش بمبار نے حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں نو جوان شہید ہو گئے تھے،

    خاتون کے ساتھ زیادتی ،عدالت کا چھ ماہ تک گاؤں کی خواتین کے کپڑے مفت دھونے کا حکم

    نرسری وارڈ میں 4 بچوں کے جاں بحق ہونے پر وزیراعلیٰ کا نوٹس

    پسند کی شادی جرم بن گئی، سفاک ملزمان نے بچوں،خواتین سمیت سات افراد کو زندہ جلا ڈالا

    طالبعلم کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا قاری گرفتار،قبرستان میں گورکن کی بچے سے زیادتی

    حاملہ خواتین کو سموگ سیزن میں خصوصی احتیاط کی ضرورت

    بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے،آرمی چیف

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    بنوں آپریشن کے بعد سپہ سالار جنرل عاصم منیر کا وزیرستان،ایس ایس جی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہمیت کا حامل 

    واضح رہے کہ سیکورٹی فورسز پاکستان کے امن کے لئے جانوں کے نذرانے دے رہی ہیں، قیام امن کے لئے سیکورٹی اداروں کی قربانیاں قابل تحسین ہیں، پاکستانی قوم وطن کے دفاع کے لئے جانیں قربان کرنے والے جوانوں کو خراج عقیدت ہیش کرتی ہے،وطن عزیز سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستانی قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی تھی، ہے اور رہے گی،

  • سی ٹی ڈی کی کاروائی، کالعدم تنظیم کے دہشتگرد،سہولتکار گرفتار

    سی ٹی ڈی کی کاروائی، کالعدم تنظیم کے دہشتگرد،سہولتکار گرفتار

    سی ٹی ڈی کراچی کی دہشت گردی میں ملوث کالعدم تنظیم ایس آر اے کے خلاف کامیاب کارروائی ،دہشت گرد گرفتارکر لئے گئے، گرفتار ملزمان کو ایس آر اے دہشت گرد تنظیم کے سربراہ کی جانب سے 5 ٹارگٹ دیے گئے تھے جنکی ریکی مکمل ہوچکی تھی

    سی ٹی ڈی سندہ نے کراچی کے علاقے سچل اسٹاپ بوبی کیفے ہوٹل نزد شرگوٹھ میں جدید ٹیکنیکی انٹیلیجنس ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے دوران کارروائی کالعدم دہشتگرد تنظیم سندھو دیش ریوولیشنر آرمی سے تعلق رکھنے والے دو اہم ملزمان اللہ رکھیو منگی اور یاسر حسن لاشاری کو گرفتار کرلیا،گرفتار ملزمان کے قبضے سے دو ہینڈ گرنیڈ، دو عدد 30 بور بمعہ لوڈ میگزین 17 راؤنڈ زندہ،ملزمان کے زیر استعمال 6611-KIF سپرپاور موٹرسائیکل،SRA فنڈنگ کی دو عدد بکس،چندے کی رسیدیں، چندے کی رقم اور ایس آر اے دہشت گرد تنظیم کے پمفلٹ برآمد کرلیے گئے

    گرفتار ملزمان نے ابتدائی تفتیش میں انکشاف کیا کہ ایس آر اے تنظیم کے سربراہ کی جانب سے ہمیں 5 ٹارگٹ دیے گئے تھے جنکی ہم نے ریکی مکمل کرلی تھی ملزمان نے مزید انکشافات کرتے ہوئے بتایا 4 مارچ 2023 کو پنجابی سیٹلر میں غلام شبیر کمبوہ جو کے پنجابی آبادی قمبر شہدادکوٹ کا رہنے والا اور موٹر سائیکل مکینک تھا کو فائرنگ کرکے زخمی کیا تھا جبکہ گرفتار ملزم اللہ رکھیو 2021 میں لاڑکانہ جیل میں بند ہوچکا ہے سی ٹی ڈی سندھ ملزمان کا مزید کرمنل ریکارڈ حاصل کررہی ہے ،گرفتار ملزمان کے خلاف سی ٹی ڈی کراچی نے 5 مختلف مقدمات درج کرکے تحقیقات کا آغاز شروع کردیا ہے جن سے مزید انکشافات متوقع ہیں

    دوسری جانب سی ٹی ڈی حیدرآباد نے دہشتگردوں کو آن لائن اسلحہ وایمونیشن فراہم کرنے والا سہولتکار اور ایک دہشتگرد گرفتار کر لیا، دہشتگردوں کے سہولتکار اور دہشتگرد کو جامشورو سے گرفتار کیا گیا ، گرفتار دونوں افراد سے بارودی مواد اور اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا،گرفتار دہشتگرد کی شناخت محمد امین اور سہولتکار کی ایاز خان کے طور ہوئی یے

    درخواستیں دائر کرکےآپ بھی اپناغصہ ہی نکال رہے ہیں،عدالت کا پی ٹی آئی وکیل سے مکالمہ

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف مقدمات درج کر لئے

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

  • ایمان مزاری کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    ایمان مزاری کی درخواست ضمانت پر سماعت ملتوی

    انسداد دہشتگردی عدالت میں سابق وزیر مملکت شیریں مزاری کی صاحبزادی ایمان مزاری کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی

    انسداد دہشت گردی عدالت کے ڈیوٹی جج راجہ جواد عباس نے درخواست ضمانت پر سماعت کی اور بغیر کارروائی سماعت 28 اگست تک ملتوی کر دی ،عدالت نے اگلی سماعت پر ایمان مزاری کی درخواست پر دلائل طلب کر لئے،انسداد دہشت گردی جج ابوالحسنات ذوالقرنین کی رخصت کے سبب سماعت ڈیوٹی جج نے کی

    واضح رہے کہ چند دن قبل اسلام آباد کی عدالت نے ایمان زینب مزاری کی درخواست ضمانت منظور کرلی تھی،ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد کے ڈیوٹی جج جوڈیشل مجسٹریٹ وقاص احمد راجہ نے ایمان مزاری کی درخوااست ضمانت پر محفوظ فیصلہ سنا یا تھا،عدالت نے دہشتگردی اور اداروں میں بغاوت پرا کسانے کے کیس میں نامزد ایمان زینب مزاری کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے 30 ہزار کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا تھا

    ریاست کو للکارنے والے علی وزیر،محسن داوڑ کی رکنیت ختم کی جائے، اسمبلی میں مطالبہ

    محسن داوڑ اور علی وزیر کا سی ٹی ڈی نے ریمانڈ مانگا تو عدالت نے بڑا حکم دے دیا

    پی ٹی ایم کے رہنما علی وزیر پر غداری کا مقدمہ بنایا جائے،ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ

    ایک بیان کی بنیاد پر کیسے کسی کو نااہل کر دیں؟ علی وزیر نااہلی کیس میں الیکشن کمیشن کے ریمارکس