Baaghi TV

Tag: دہلی ہائیکورٹ

  • ہم خواتین کوانتخاب پرمجبور نہیں کر سکتے کہ وہ تعلیم حاصل کریں یا بچے پیدا کریں،عدالت

    ہم خواتین کوانتخاب پرمجبور نہیں کر سکتے کہ وہ تعلیم حاصل کریں یا بچے پیدا کریں،عدالت

    نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کی ایم ڈی طالبہ کو زچگی کی چھٹی دینے سے انکار کرنے کے حکم کو مسترد کر دیا۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت نے میرٹھ کی چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کی ایم ڈی طالبہ کو زچگی کی چھٹی دینے سے انکار کرنے کے حکم کو مسترد کرتے ہوئے یہ ریمارکس دیئے کہ کہ ہم خواتین کو مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ تعلیم حاصل کریں یا بچے پیدا کریں بھارتی آئین اپنے شہریوں کے لیے مساوات پر مبنی معاشرے کا تصور کرتا ہے۔

    شمالی کوریا کا جاسوس سٹیلائٹ سمندر میں گر کر تباہ

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بچہ پیدا کرنے کا انتخاب عورت کے پرائیویسی، وقاراورجسمانی سالمیت کے حق سے جڑا ہوا ہے اور خواتین کے کام کی جگہ پر زچگی کی چھٹی حاصل کرنے کا حق آئین میں درج ہے خواتین کو پڑھائی یا بچہ پیدا کرنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا،وقار، حقوق کا ایک لازمی پہلو ہے-

    جسٹس کورو نے یونیورسٹی کو ہدایت دی کہ وہ اسے 59 دن کی زچگی کی چھٹی دینے پر غور کرےعدالت نے واضح کیا کہ اگر درخواست گزار کلاس میں 80 فیصد حاضری کے معیار پر پورا اترتی ہے تو اسے بغیر کسی تاخیر کے امتحان میں شرکت کی اجازت ہوگی۔

    دوسری جانب یونیورسٹی کے وکیل نے میٹرنٹی لیو سے فائدہ اٹھانے کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے کوئی ضابطہ سازی نہیں اس لیے درخواست گزار کی درخواست پر غور نہیں کیا جا سکتا۔

    کملا داس ثریا انگریزی اور ملیالم زبان کی مشہور و معروف شاعرہ اور ادیبہ

    بھارتی میڈیا کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے ساتھ ہی آدمی باپ بننے کا لطف اٹھا سکتا ہےجبکہ عورت کو حمل سے پہلے اور بعد میں دیکھ بھال کرنی پڑتی ہےجواس کی مرضی نہیں بلکہ قدرت کی مرضی ہےپہلا راستہ عورت کو اپنے اعلیٰ تعلیم کے حق اور زچگی کے حق میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کرے گا-

    عدالت نے کہا کہ آئین نے ہی مساوات کے آغاز کو روکنے والے سماجی تصورات کو ختم کر دیا ہے عدالت نے یونیورسٹی کو اپنے حکم میں کہا کہ وہ درخواست گزار کی درخواست پر نئے سرے سے غور کرے۔

    واضح رہے کہ خاتون درخواست گزار نے دسمبر 2021 میں چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میں دو سالہ ایم ایڈ کورس کے لیے داخلہ لیا تھا اس نے میٹرنٹی لیو کے لیے یونیورسٹی کے ڈین اور وائس چانسلر کو درخواست دی تھی جسے یونیورسٹی نے 28 فروری کو مسترد کر دیا تھااس کے خلاف ایم ڈی کی طالبہ نے دہلی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی۔

    سعودی خلابازوں کا مشن مکمل،10 دن بعد زمین پر واپس پہنچ گئے

  • پاکستان میں غلطی سے میزائل فائرنگ کے واقعہ،حکومت کو 24 کروڑبھارتی روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا

    پاکستان میں غلطی سے میزائل فائرنگ کے واقعہ،حکومت کو 24 کروڑبھارتی روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا

    بھارتی حکومت کاکہنا ہے کہ گزشتہ برس پاکستانی حدود میں براہموس میزائل فائر کرنے کے واقعے پر عالمی سطح پر بھارت اور بھارتی فضائیہ کی ساکھ پر بھی سوال اٹھ گئےتھے-

    باغی ٹی وی : واقعے کے بعد برطرف کیے گئےبھارتی فضائیہ کےافسران کی جانب سے دہلی ہائیکورٹ میں برطرفیوں کےخلاف درخواست میں بھارتی حکومت نے عدالت میں جواب جمع کرواتے ہوئے اعتراف کیا کہ براہموس میزائل گرنے کے واقعے سے پڑوسی ممالک سے تعلقات بھی متاثر ہوئے۔

    اٹلی کی مشہور نہر کا پانی سبز ہو گیا

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی سرکار نے دہلی ہائی کورٹ میں ونگ کمانڈر ابھینو شرما کی جانب سے ملازمت سے برطرفی کی درخواست کے خلاف جواب جمع کرایا جس میں ونگ کمانڈر سمیت تین بھارتی فضائیہ (IAF) افسران کی برطرفی کا جواز پیش کیا گیا۔

    حکومت نے کہا کہ ان افسران کی سنگین غفلت کی وجہ سے حکومت کو 24 کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے اس غلطی کی وجہ سے ریاست کی سلامتی پر وسیع پیمانےپرمنفی اثرات مرتب ہوئے ہیں بھارتی حکومت نے اعتراف کیا کہ پاکستانی حدود میں میزائل گرنے سے عالمی سطح پر بھارت اور بھارتی فضائیہ کی ساکھ پر بھی سوال اٹھ گئےتھے-

    کم ازکم 119 اڑن طشتریاں زمین پر گرکر تباہ ہوچکیں ہیں

    حکومت کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا کہ بین الاقوامی برادری نے بھی واقعے کی تفصیلات جاننے کیلئے حکومت پر دباؤ بڑھایا تھا۔علاوہ ازیں معاملے کی حساس نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواست گزار کی سروس کو ختم کرنے کا ایک شعوری اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا گیا ہے۔

    حکومت نے کہا کہ بھارتی فضائیہ میں ایسا فیصلہ 23 ​​سال بعد کیا گیا ہے کیونکہ کیس کے حقائق اور حالات ایسی سخت کارروائی کا تقاضہ کرتے ہیں شواہد کی حساس نوعیت کے پیش نظر فضائیہ افسران کی برطرفیوں کے خلاف درخواست بلاجواز ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت کا براہموس میزائل حادثاتی طور پر پاکستان میں فائر کرنے کا واقعہ گزشتہ برس 9 مارچ کو پیش آیا تھا میزائل واقعے کے خلاف سنگین غفلت کے الزام میں بھارتی فضائیہ کے 4 افسران کو برطرف کیا گیا تھا، بھارتی فضائیہ کے ونگ کمانڈر سمیت 3 افسروں نے برطرفیوں پر دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔

    پاکستان اور بیلا روس کا مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پراتفاق