Baaghi TV

Tag: دیوالیہ

  • مائیکروسافٹ کی حمایت یافتہ برطانوی اے آئی اسٹارٹ اپ دیوالیہ ہو گیا

    مائیکروسافٹ کی حمایت یافتہ برطانوی اے آئی اسٹارٹ اپ دیوالیہ ہو گیا

    لندن میں قائم مصنوعی ذہانت کی کمپنی Builder.ai، جس کی مالیت کبھی 1.5 ارب ڈالر تھی اور جسے مائیکروسافٹ اور قطر کے خودمختار دولت فنڈ جیسے بڑے سرمایہ کاروں کی حمایت حاصل تھی، مالی بے ضابطگیوں اور قرضوں کی عدم ادائیگی کے باعث دیوالیہ ہو گئی ہے۔

    بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق، Builder.ai نے بھارتی کمپنی VerSe Innovation (جو Dailyhunt کی مالک ہے) کے ساتھ جعلی لین دین کے ذریعے اپنی آمدنی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ دونوں کمپنیوں نے 2021 سے 2024 کے درمیان ایک دوسرے کو تقریباً برابر رقم کے بل جاری کیے، حالانکہ کوئی حقیقی خدمات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس عمل کو "راؤنڈ ٹرپنگ” کہا جاتا ہے، جس کا مقصد سرمایہ کاروں کو گمراہ کرنا تھا۔
    Bloomberg
    +7
    Outlook Business
    +7
    The Economic Times
    +7
    Bloomberg

    VerSe Innovation کے شریک بانی، امنگ بیدی، نے ان الزامات کو "بالکل بے بنیاد اور جھوٹا” قرار دیا ہے۔ تاہم، Builder.ai نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    آمدنی میں کمی اور قرضوں کی واپسی میں ناکامی

    ایک اندرونی آڈٹ کے بعد، Builder.ai نے اپنی 2024 کی متوقع آمدنی کو 220 ملین ڈالر سے کم کر کے 55 ملین ڈالر کر دیا، جبکہ 2023 کی رپورٹ شدہ آمدنی 180 ملین ڈالر سے کم کر کے 45 ملین ڈالر کر دی گئی۔ اس کمی کے باعث قرض دہندگان نے کمپنی کے اثاثے ضبط کر لیے، جس کے نتیجے میں کمپنی دیوالیہ ہو گئی۔
    Outsource Accelerator
    +1
    Silicon UK
    +1

    قیادت میں تبدیلی اور قانونی مسائل

    فروری 2025 میں، بانی سچن دیو ڈوگل نے سی ای او کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، اور منپریت راتیا نے ان کی جگہ لی۔ ڈوگل کو بھارت میں منی لانڈرنگ کے ایک کیس میں بھی ملوث قرار دیا گیا ہے، جس سے کمپنی کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچا۔

    نتائج اور اثرات

    Builder.ai کا زوال اے آئی اسٹارٹ اپس کے لیے ایک وارننگ ہے کہ صرف سرمایہ کاری اور دعووں پر انحصار کافی نہیں۔ مالی شفافیت، قانونی ضوابط کی پابندی، اور حقیقی خدمات کی فراہمی کسی بھی کمپنی کی کامیابی کے لیے ضروری ہیں۔یہ واقعہ سرمایہ کاروں اور صارفین دونوں کے لیے ایک سبق ہے کہ وہ اے آئی کمپنیوں کے دعووں کی حقیقت کو پرکھیں اور محتاط رہیں۔

    بنگلہ دیش کے 197 رنز ہدف کے تعاقب میں پاکستانی بیٹنگ جاری

    روس نے ماسکو میں افغان سفیر کی نامزدگی باضابطہ طور پر قبول کر لی

    کراچی میں زلزلے کے جھٹکے، شہری خوفزدہ ہوکر گھروں سے باہر نکل آئے

    پاک بحریہ کی بندرگاہوں پر دو روزہ مشقیں، اہم بحری تنصیبات کے تحفظ کو مؤثر بنانے پر توجہ

  • چالیس فیصد پاکستانی خطہ غربت سے نیچے ہیں،مفتاح اسماعیل

    چالیس فیصد پاکستانی خطہ غربت سے نیچے ہیں،مفتاح اسماعیل

    سابق وفاقی وزیر خزانہ ،عوام پاکستان پارٹی کے رہنما مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ شہباز شریف حکومت نے اخراجات کم نہیں کئے، نجکاری تو ہو رہی لیکن کوئی ادارے خریدنے کو تیار نہیں، پاکستان میں غربت بڑھ چکی ہے،بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے

    365 نیوز پر پروگرام کھرا سچ کے میزبان سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پاکستان دیوالیہ ہوا یا ہونے جا رہا، نوبت یہاں تک نہیں پہنچی ،اسوقت کوئی ایسی چیز نہیں لیکن دوسری بات قیصر بنگالی کی درست ہے، ہمارے حکومت کے ادارے کوئی خریدنے کو تیار نہیں، پی آئی اے کو خریدنے والے بھی بہت چیزیں مانگ رہے ہیں،یہ دیکھ لیں کہ پی آئی اے نے پچھلے دس برسوں میں کتنا نقصان کیا، جو لے رہے ہیں وہ بھی سوچ رہے ہوں گے ، کمپنیاں لینے والے بھی سوچ رہے ہیں، جو پیسے لگائے گا وہ سوچ کر لگائے گا، قیصر بنگالی کہہ رہے کہ حکومت سیریس نہیں اخراجات کم کرنے میں یہ بات صحیح ہے، شہباز شریف حکومت نے ابھی تک وقت ضائع کیا

    ایک اور سوال کے جواب میں مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ ذاتیات سے نکل کر ملک کے لئے سوچنا ہو گا،دیوالیہ پن سے بچنا ہے تو این ایف سی ایوارڈ ٹھیک کرنا ہو گا، عوام کو دینے کے لئے حکومت کے پاس پیسے نہیں ہوتے،مجھ پر الزام لگایا جاتا تھا کہ پٹرول میری وجہ سے مہنگا ہوتا رہا ایسا نہیں ہے، آج بھی چالیس فیصد پاکستانی خطہ غربت سے نیچے ہیں، نوکری ڈھونڈنا مشکل ہو گئی ہے، بے روزگاری پھیل رہی ہے، نوکری ڈھونڈنا عذاب ہو گیا ہے،جہاں چلے جائیں نوکری نہیں مل رہی، بجلی بل دیکھ لیں کوئی کاروبار نہیں کر سکتا،

    تحریک انصاف چاہتی ہے انصاف کا نظام جلسے اور جتھے چلائیں،شیری رحمان

    تمہارے جیسے کئی بھگتائے ہیں اُس خاتون وزیراعلیٰ نے، عطا تارڑ

    وہی ہوا جس کا ڈر تھا،علی امین گنڈاپور کی ریاست کو دھمکیاں،اگلے دو ہفتے اہم

    غلیظ بیانات کی وجہ سے 9 مئی کا مجرم علی امین گنڈا پور کے ساتھ کھڑا ہے،مریم اورنگزیب

    تنظیم کی کمی ہی انقلاب کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے، محمود خان اچکزئی کا پی ٹی آئی کارکنان پر تنقید

    پی ٹی آئی کا بیانیہ دفن ہو گیا، عطا تارڑ

    خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کنٹرول کرو یا حلیف ہونے کا اعتراف کرو، خواجہ آصف

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے صحافیوں پر بے بنیاد الزامات، بیٹ رپورٹرز کی شدید مذمت

    پی ٹی آئی جلسہ،علی امین گنڈا پور کی دھمکیاں،پولیس پر پتھراؤ،شوفلاپ

    عظٰمی بخاری نے پی ٹی آئی جلسے کی فیک پوسٹیں شیئر کردیں

  • برطانیہ کا دوسرا بڑا شہر دیوالیہ

    برطانیہ کا دوسرا بڑا شہر دیوالیہ

    برطانیہ کا دوسرا بڑا شہر دیوالیہ ہو گیا، غیر ضروری اخراجات کی کٹوتی کرنے کا اعلان کر دیا،

    برطانیہ کے دوسرے بڑے شہر برمنگھم سٹی کونسل کی جانب سے رواں ماہ پانچ ستمبر کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں جس میں ضروری سروسز کے علاوہ دیگر اخراجات سے منع کر دیا گیا ہے،سٹی کونسل کی جانب سے لوکل گورنمنٹ فنانس ایکٹ 1988 کے سیکشن 114 کے تحت نوٹس جاری کیا گیا

    برمنگھم سٹی کونسل دس لاکھ سے زیادہ افراد کو خدمات فراہم کرتی ہے،نوٹس کے مطابق تنخواہوں کی ادائیگی میں سٹی کونسل کو 81 کروڑ ،ساٹھ لاکھ ڈالر سے 95 کروڑ، چالیس لاکھ ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے، سٹی کونسل نے توقع کی ہے کہ اگلے مالی سال کے دوران اسے دس کروڑ 90 لاکھ ڈالر خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا،

    انٹربینک میں ڈالر 302 روپے کا ہوگیا
    بجلی بحران کے فوری حل کیلیے نگران وزیراعظم پاکستان کو پانج نکاتی مشورہ
    نوازشریف ہی عوام کومہنگائی، بجلی کے بلوں میں اضافے سے بچائیں گے،مریم نواز

    برمنگھم سٹی کونسل کی ڈپٹی لیڈر شیرون تھامسن نے کونسلرز سے بات چیت کرتے ہوئے تفصیلات سے آگاہ کیا اور کہا کہ ہمیں طویل المدتی مسائل کا سامنا ہے ، کنزرویٹیو پارٹی نے ایک ارب برطانوی پاؤنڈز کے فنڈز فراہم نہیں کیے ، مقامی حکومت کو دیگر کونسلز کی طرح بحران کا سامنا ہے اور یہ واضح ہے کہ ہمیں بے نظیر مالیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا

  • امریکا دیوالیہ ہونے سے بچ گیا

    امریکا دیوالیہ ہونے سے بچ گیا

    امریکا کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ ٹل گیا،قرض کی حدبڑھانےکا پروسیجرل ووٹ منظور کر لیا گیا، بل اب ایوان نمائندگان میں پیش کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی:رپورٹس کےمطابق ایوان میں کارروائی سےمتعلق قرارداد 187 کے مقابلے میں 241 ووٹوں سے منظورکرلی گئی،ووٹ منظور کیے جانے سے بل پر بحث کا آغاز ہوگیا ہے اور اس پر ووٹنگ کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ قرض کی حد 31.4 کھرب ڈالر تک محدود رکھنے کو معطل کیے جانے کا بل ایوان میں پیش کیا جائے گا۔

    شادی کی تقریب میں بھائی نے اپنے ہی بھائی کو چاقو گھونپ دیا

    ایوان میں 213 ڈیموکریٹس اور 222 ری پبلکنز اراکین ہیں۔ تاہم 29ری پبلکنز کو بل پر اعتراض ہے اس طرح بل منظور کرنے کے لیے ری پبلکنز کو حریف ڈیموکریٹس کی بھی حمایت درکار ہے۔

    ایوان نمائندگان کے ری پبلکن اسپیکر کیون مک کارتھی کا کہنا ہےکہ بل پر ووٹنگ پاکستانی وقت کے مطابق صبح 5:30 بجے ہوگی اور یہ منظور کرلیا جائے گا قانون سازی کر لی گئی تو قرض کی حد یکم جنوری 2025 تک معطل کردی جائےگی اس طرح نومبر 2024 میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں اس معاملےپر سیاست نہیں چمکائی جاسکے گی۔

    اگلی نسل آسمان پر ستارے نہیں دیکھ سکے گی،ماہرین نے خبردار کر دیا

    کچھ روز قبل امریکی صدر جوبائیڈن اور ریپبلکن رہنما کیون میکارتھی کے درمیان کامیاب مذاکرات ہوئے تھے۔ مذاکرات میں قرض کی حد کو بڑھانے اور اخراجات کو کنٹرول پر اتفاق ہوا تھا۔

    امریکی ٹریژری سیکرٹری جینٹ ییلن نے کہا تھا کہ اگر کانگریس نے 31.4 ٹریلین ڈالر کے قرض کی حد میں اضافہ نہیں کیا تو حکومت 5 جون کو اپنے بلوں کی ادائیگی نہیں کر پائے گی جس سے ملک کو ڈیفالٹ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    مقابلہ حسن میں بیوی کا دوسرا نمبر آنے پر شوہر نے فاتح کا تاج ہی …

  • قرض کی حد نہ بڑھائی گئی تو یکم جون تک امریکا دیوالیہ ہوجائے گا،امریکی وزیرخزانہ

    قرض کی حد نہ بڑھائی گئی تو یکم جون تک امریکا دیوالیہ ہوجائے گا،امریکی وزیرخزانہ

    واشنگٹن: امریکی وزیر خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر قرض کی حد نہ بڑھائی گئی تو یکم جون تک امریکا دیوالیہ ہوجائے گا۔

    باغی ٹی وی: امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کو کانگریس کے چار اعلیٰ رہنماؤں کو اگلے ہفتے وائٹ ہاؤس میں طلب کیا جب ٹریژری نے خبردار کیا کہ حکومت جون تک اپنے بلوں کی ادائیگی کے لیے نقد رقم کی کمی کا شکار ہو سکتی ہے۔

    ہم یقینی طور پرپاکستان کی داخلی یا ملکی سیاست پر کچھ نہیں کہیں گے،امریکا

    امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ کانگریس قرض کی حد بڑھائے یا حد کو معطل کردے دوسری جانب صدر جوبائیڈن امریکا کو دیوالیہ ہونے سے بچانےکے لیے 9 مئی کو اراکین کانگریس سےملاقات کریں گے۔

    ٹریژری سکریٹری جینیٹ ییلن نے کانگریس کو لکھے ایک خط میں کہا کہ ایجنسی کی طرف سے کانگریس کی کارروائی کے بغیر "ممکنہ طور پر یکم جون تک” امریکی حکومت کی تمام ادائیگیوں کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا امکان نہیں ہوگا۔

    مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی اندازوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہے،اے آئی کے گاڈ فادر نے خبردار …

    اس اندازے سے یہ خطرہ بڑھ گیا ہے کہ ریاستہائے متحدہ ایک بے مثال ڈیفالٹ کی طرف بڑھ رہا ہے جو عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دے گا، جس سے واشنگٹن میں سیاسی حساب کتاب میں نئی ​​عجلت کا اضافہ ہو گا، جہاں ڈیموکریٹس اور ریپبلکن ایک مہینوں سے جاری تعطل کے لیے کمر بستہ تھے۔

    بائیڈن نے ریپبلکن ہاؤس کے اسپیکر کیون میکارتھی کو 9 مئی کو وائٹ ہاؤس کے اجلاس میں مدعو کرنے کے لیےیروشلم میں بلایا، جہاں وہ ایک سفارتی دورے پر ہیں،دونوں رہنما فروری سے اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے نہیں بیٹھے ہیں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل امریکا میں سلیکون ویلی بینک اور سگنیچر بینک دیوالیہ ہوچکے ہیں۔

    ہمارےگھر پر ریڈ کسی اندر کے بندے نے کروائی. چوہدری سالک حسین کا دعویٰ

  • مفتاح اسماعیل صاحب عام پاکستانیوں سے بد دعائیں مت لیجئے

    مفتاح اسماعیل صاحب عام پاکستانیوں سے بد دعائیں مت لیجئے

    مفتاح اسماعیل صاحب عام پاکستانیوں سے بد دعائیں مت لیجئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اتحادی حکومت کی جانب سے گزشتہ شب پٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا گیا تو وزیراعظم شہباز شریف کی بھتیجی مریم نواز بھی بول پڑیں اور کہا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ہیں عوام کے ساتھ ہیں، پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر عوامی حلقوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا ہے کہا گیا ہے کہ اب ڈالر سستا ہو رہا ہے، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں لیکن پاکستان میں بڑھا دی گئیں،سیاستدانوں کے ساتھ ساتھ صحافیوں نے بھی حکومت کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی ہے

    ن لیگی رہنما مریم نواز کا کہنا تھا کہ میاں صاحب نے اس فیصلے کی سخت مخالفت کی اور یہاں تک کہ دیا کہ میں مزید ایک پیسے کا بوجھ عوام پر نہیں ڈال سکتا اور اگر حکومت کی کوئی مجبوری ہے تو میں اس فیصلے میں شامل نہیں ہوں اور میٹنگ چھوڑ کر چلے گئے۔

    جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا کہنا تھا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم پاکستان میں بڑھ رہی ہیں۔ صرف 2 فیصد اشرافیہ کی عیاشیوں کےلیے پٹرول،بجلی سمیت ہر چیز کی قیمت میں اضافہ کرکے غریب عوام کی جیبیں خالی کی جارہی ہیں۔ پٹرول قیمت میں اضافہ مسترد کرتےہیں۔ عوام کےصبر کا مزید امتحان نہ لیں، قیمتیں اپریل کی سطح پر واپس لائیں

    لال ملہی کہتے ہیں کہ کراچی سے ہارنے والے وزیر خزانہ مفتے نے پٹرول کی قیمتیں بڑھانے کی سمری پیش کی، ضمانت پر رہا وزیر اعظم نے منظوری دی۔ سزا یافتہ مریم نواز نے اعتراض کیا۔ جیل سے فرار نواز شریف نے اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ سونے پے سہاگا فیک اکائونٹ کے موجد زرداری نے تشویش کا اظہار کیا۔

    طاہر خان کہتے ہیں کہ میرا خیال ہےکہ وزیر خزانہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق تکنیکی باتوں سے عوام مطمئن نہیں کر سکیں گے۔مفتاح اسماعیل صاحب کا یہ دعوی کی پارٹی قیادت فیصلوں میں شامل ہے لیکن مریم نواز تو کہتی ہے کہ وہ حمایت نہیں کرتی اور میاں صاحب نے بھی مخالفت کی تھی۔وزیر کس قیادت کی بات کرتے ہیں؟

    حامد میر لکھتے ہیں کہ اس سے زیادہ ظلم کیا ہو گا کہ عالمی منڈی میں تیل سستا ہو رہا ہے اور شہباز شریف حکومت نے ایک دفعہ پھر تیل مہنگا کر دیا ہے تیل کی قیمت میں یہ اضافہ عام پاکستانیوں کے لئے ناقابل قبول ہے مفتاح اسماعیل صاحب عام پاکستانیوں سے بد دعائیں مت لیجئے

    سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت سےعوام پوچھتے ہیں کہ جب معشیت اپنے پاؤں پرکھڑی ہو چکی۔ ڈالرسستا ہوچکا اور عالمی منڈی میں پٹرول سال کی کم ترین قیمت پر آچکا تواسکی وجہ سے پٹرول کی قیمت میں 50روپے کمی ہونی تھی پھر سات روپے مہنگا کیسے کر دیا!نالائقو،لگتا ہے آپ کو عوام کے ہاتھوں ذلیل ہونے میں مزا آتا ہے

    مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی سابق مرکزی سیکرٹری جنرل و رکن پنجاب اسمبلی سیدہ زہرا نقوی نے کہا ہے کہ حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کے مسائل میں مزید اضافہ کیا ہے ڈالر کی قیمتوں میں کمی اور عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی پر عوام کی توقع تھی کہ حکومت انہیں ریلیف دے گی لیکن حکومت نے عوام کو ریلیف نہ دے کر اپنا اصل چہرہ عوام پر عیاں کر دیا ہے مہنگائی کا شور مچا کر حکومت میں آنے والی اتحادی جماعتوں کو عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں حکومت نے عوام کو مزید مشکلات کا شکار کر دیا ہے موجودہ حکومت نے عوام کو مہنگائی کے ہاتھوں خوار کر دیا ہے اتحادی جماعتیں خاص ایجنڈے پر حکومت میں آئی ہیں ان کو عوام کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں یہ ہی وجہ ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور مہنگائی کا جن عوام کو نگل رہا ہے لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    بزدار کا لاہور، ایک برس میں خواتین کے اغوا کے 680 مقدمے، 432 قتل

    نیو ایئر نائٹ، پولیس ان ایکشن،سال کے پہلے روز ہی 260 مقدمے درج

    تحریک انصاف کی مرکزی رہنما و چیئر پرسن قائمہ کمیٹی داخلہ مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ حکومت عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کے باوجود اضافہ کر کے دراصل پی ٹی آئی سے وابستگی دکھانے پر عوام سے انتقام لے رہی ہے ،جب پی ٹی آئی کی حکومت تھی اور عالمی منڈی میں قیمتیں تاریخ کی بلند سطح پر تھیں تو پی ڈی ایم والے ایسے دعوے کرتے تھے جیسے پیٹرولیم مصنوعات گوالمنڈی سے نکلتی ہیں، آج قیمتیں کئی گنا نیچے آ چکی ہیں لیکن عوام کی ہڈیوں کو بھی نچوڑا جارہا ہے ۔ اپنے بیان میں مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ مریم صفدر کا یہ بیان انتہائی مضحکہ خیز اورعوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف مہنگائی کے فیصلوں سے خوش نہیں ۔ پانامہ رانی سے سوال ہے کہ پھر مہنگائی کر کون رہا ہے ۔ نواز شریف جتنے بڑے انقلابی لیڈر ہیں قوم انہیں اچھی طرح جانتی ہے ،ماضی میں بھی ان کی جماعت نے ان کا استقبال کیا تھا جب ان کے چھوٹے بھائی اور مرکزی قیادت نواز شریف کا استقبال کرنے کیلئے پہنچنے کی بجائے کہیں راستہ بھٹک گئی تھی ۔ انہوںنے کہا کہ نواز شریف مفروری کاٹ کر واپس آرہے اور مفروروں اور اشتہاریوں کا اصل ٹھکانہ سلاخوں کے پیچھے ہوتا ہے

  • ڈیفالٹ کا خطرہ اور اس سے بچنے کے اقدامات — نعمان سلطان

    ڈیفالٹ کا خطرہ اور اس سے بچنے کے اقدامات — نعمان سلطان

    ملک کی خراب معاشی صورتحال کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے. خراب معاشی صورتحال کی سب سے بڑی وجہ ڈالر کی اونچی پرواز ہے روزانہ کی بنیاد پر ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہو رہا ہے اور اسی طرح اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے.

    ماہرین یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ اگر صورتحال اسی طرح چلتی رہی تو خدانخواستہ ملک کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے. آسان ترین الفاظ میں ملک کی امپورٹ ایکسپورٹ میں عدم توازن کی وجہ سے ڈیفالٹ کا خطرہ پیدا ہوتا ہے.

    یعنی فرض کریں آپ کے ذرائع آمدنی (ایکسپورٹ) سے آپ پچاس(50)روپے کماتے ہیں اور آپ کے خرچے(امپورٹ) ستر(70) روپے ہیں تو آمدنی اور خرچ میں بیس(20) روپے کا فرق ہے.اب اس فرق کو دور کرنے کے لئے یا تو آپ کو اپنی آمدنی بڑھانی پڑے گی یا اپنے خرچے کم کرنے ہوں گے اگر آپ یہ دونوں کام نہیں کرتے تو پھر آپ کو مجبوراً قرضے لے کر یہ فرق پورا کرنا پڑے گا.

    اب مسئلہ یہ ہے کہ قرض کوئی اللہ واسطے تو دیتا نہیں ہے تو وہ آپ کو بیس(20) روپے قرض سود پر دے گا اور سود بھی آپ کی طلب اور مجبوری کے مطابق زیادہ سے زیادہ لے گا. تو آپ اپنے خرچے کم نہ کرنے اور ذرائع آمدنی نہ بڑھانے کا خمیازہ ہر مہینے کا خسارہ بیس(20) کے بجائے پچیس (25) روپے ہر مہینے بھگتیں گے.

    یہ اضافی پیسے آپ اپنی آمدن میں سے ہی دیں گے اس لئے آپ کی آمدن اور خرچ میں فرق بڑھتا جائے گا یہاں تک کہ آپ اتنے مقروض ہو جاؤ گے کہ قرض کی قسط بھی مزید قرض لے کر ادا کرو گے اور یہاں سے قرض دینے والا اپنی مرضی کی شرائط پر آپ کو قرض دے گا اور لازمی بات ہے کہ وہ شرائط قرض دینے والے کے مفاد میں ہوں گی

    اور جب ایک وقت ایسا آئے گا کہ آپ کے پاس قرض کی ادائیگی کے لئے کچھ بھی موجود نہ رہے تو آپ ہاتھ کھڑے کر دیں گے یعنی یہ تسلیم کر لیں گے کہ میں کنگال ہو گیا ہوں یا ڈیفالٹ کر گیا ہوں اور قرض دینے والا آپ کی گروی رکھی تمام اشیاء اور اثاثے ضبط کر لے گا اس وقت یہی صورت حال وطن عزیز کی بن رہی ہے ہم بھی تیزی سے اس طرف بڑھ رہے ہیں جہاں ہمارا ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ موجود ہے.

    اس خطرے کی بڑی وجہ ملک میں جاری سیاسی افراتفری اور اس کے نتیجے میں روزانہ بڑھنے والی ڈالر کی قیمت اور اس قیمت کے بڑھنے کی وجہ سے خودبخود قرضے اور اس کے سود میں ہونے والا اضافہ ہے. اس وقت ہماری معیشت آئی ایم ایف سے ملنے والے قرضے کی محتاج ہے آئی ایم ایف نے قرضے کی شرائط طے کرنے کے لئے ایک مضبوط سیاسی حکومت سے مذاکرات کی شرط اور عرب ممالک سے ملنے والے قرض سے مشروط کر دی ہے.

    یعنی اس وقت ہم ایک چکر میں پھنس گئے ہیں اور اس چکر سے نکلنے کا راستہ سب سے پہلے ملک میں سیاسی استحکام پیدا کر کے ملنے والا ہے. ایک مستحکم سیاسی حکومت کی وجہ سے ملک میں پھیلی غیر یقینی کی صورتحال ختم ہو جائے گی جسکی وجہ سے ڈالر کی مصنوعی طور پر بڑھی قیمت کم ہو کر مستحکم ہو جائے گی جس کا اثر ہمارے قرضے اس کے سود اور مہنگائی پر بھی پڑے گا اس کے علاوہ ہمیں مزید قرضہ بھی ملے گا جس سے وقتی طور پر معیشت کا پہیہ چلانے میں مدد ملے گی.

    اس کے بعد ہماری پہلی ترجیح آمدن اور خرچے میں غیر ضروری اخراجات کم کر کے توازن پیدا کرنا ہے ہمیں اپنے ایکسپورٹ بڑھانے کی ہر ممکن کوشش کرنی ہے کیونکہ اس کے بغیر ہماری آمدن نہیں بڑھ سکتی ہمیں تھوڑا عرصہ امپورٹڈ اشیاء کا استعمال کم سے کم کر کے اور حکومتی سطح پر ہر ممکن سادگی اپنا کر اور تمام سرکاری یا سیاسی افراد کی تنخواہوں کے علاوہ مفت سہولیات ختم کر کے عوام کو ڈیفالٹ کے خطرے سے بچنے کے لئے اپنی نیک نیتی کا عملی ثبوت فراہم کرنا ہے اور یقین کریں کہ اگر ہم آج ڈیفالٹ کے خطرے سے بچنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر خلوص نیت سے ترجیحی بنیادوں پر کام شروع کریں تو عنقریب دنیا میں ہماری کوششوں کی دوسرے ملکوں کو مثالیں دی جائیں گی.

  • سری لنکا کیسے دیوالیہ ہوا؟

    سری لنکا کیسے دیوالیہ ہوا؟

    سری لنکا کیسے دیوالیہ ہوا؟

    کرونا کی وجہ سے دنیا کے کئی ممالک کی معیشت کی طرح سری لنکا کی معیشت بھی متاثر ہوئی ،کرونا کے دوران مکمل لاک ڈاؤن لگانے کی وجہ سے معیشت پر گہرا اثر پڑا

    حکومت نے قرضے لئے اور پھر عوام پر ٹیکس کم کر دیئے نتیجہ یہ نکلا کہ حکومت کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو گئے قرضے جی ڈی پی کا 119 فیصد ہو گئے تھے جن کو ادا کرنے لئے مزید قرض کی ضرورت پڑتی تھی

    بجٹ اور تجارتی خسارہ بھی بڑھ گیا تھا کرونا کے ایام میں اوورسیز شہریوں نے اپنے ملک رقم بھجوانا چھوڑ دی تھی کیونکہ انہیں مشکلات کا سامنا تھا

    جب معاشی بحران کا شکار ہوا تو پٹرول اور گیس کی قیمتیں حکومت نے بڑھائیں لیکن اسکا خاطر خواہ نتیجہ نہ نکلا کیونکہ پہلے حکومت ٹیکس کم کر چکی تھی، ایسے میں قیمتوں میں اضافے سے معیشت نہ سنبھل سکی

    پٹرول گیس قیمتوں میں اضافے کے بعد عوام باہر نکلی اور احتجاج کیا عوامی احتجاج کی وجہ سے بھی کاروبار ٹھپ ہوا اور تجارتی سرگرمیاں بھی ٹھپ ہو کر رہ گئی تھیں

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

    فرح خان بنی گالہ کی مستقل رہائشی ،مگرآمدروفت کا ریکارڈ نہیں، نیا سیکنڈل ،تحقیقات کا حکم

  • ہم دیوالیہ ہو چکے خان صاحب ،مزید پیسے نہیں دے سکتے، جہانگیر چیکو

    ہم دیوالیہ ہو چکے خان صاحب ،مزید پیسے نہیں دے سکتے، جہانگیر چیکو

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو انکے ساتھیوں نے فنڈز دینا چھوڑ دیا ہے.

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کےپرانے قریبی دوست اور تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر چیکو کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے، جس میں وہ کسی تقریب میں خطاب کر رہے ہیں۔ جہانگیر چیکو کہتے ہیں کہ میں نے عمران خان کو کہا کہ میں اب مزید پیسے نہیں دے سکتا .میں دیوالیہ ہو گیا انیل مسرت کا بھی یہی حال ہے وہ بھی دیوالیہ ہو چکا ہے

    یہ ویڈیو کب کی ہے اس بارے میں ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی تا ہم یہ واضح ہو چکا کہ عمران خان کی حکومت جانے کے بعد اسکے ساتھیوں نے ہاتھ اٹھانا شروع کر دیا ہے

    عمران خان کی اے ٹی ایم جہانگیر ترین اور علیم خان کو کہا جاتا تھا وہ پہلے ہی ساتھ چھوڑ چکے ہیں اور ن لیگ کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں اب جہانگیر چیکو نے بھی اعلان کر دیا ہے کہ وہ عمران خان کو مزید پیسے نہیں دے سکتے

    عمران خان نے اپنی حکومت جانے کے بعد اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا عمران خان اسلام آباد آئے اور جلسہ کر کے چلے گئے ۔عمران خان اور تحریک انصاف کے دیگر رہنما کارکنان کو بھی نہ نکال سکے ۔ لانگ مارچ چند گھنٹوں میں ختم ہو گیا ۔ قوی امکان ہے کہ عمران خان کے پاس اب بڑے ڈونرز نہیں رہے انہوں نے پیسے دینے سے انکار کر دیا ہے جس کے بعد عمران خان لانگ مارچ کے لیے باقاعدہ فنڈز مانگنے کا اعلان کر چکے ہیں اور ایک ویب سائٹ بند کر فنڈ ریزنگ بھی کی۔

    عمران خان نے اقتدار میں رہ کر جتنی کرپشن کی اسکے ثبوت بھی منظر عام پر آنا شروع ہو گئے ہیں ۔ عمران خان کی اہلیہ کو کرپشن کا ماسٹر مائنڈ کہا جا سکتا ہے کیونکہ عمران خان فیصلے کرنے میں خود مختار نہیں تھے۔ بشری بی بی کی لیک آڈیو سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ تمام تر فیصلوں کا اختیار اور احکامات بشری بی بی کے ہوتے تھے

    واضح رہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور جہانگیر چیکو کے مابین دوستی کو لگ بھگ 50 سال ہونے والے ہیں ۔ 2017ء میں جہانگیر چیکو کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان سے ویڈیو لنک کے ذریعے تقریب سے خطاب میں عمران خان نے بتایا کہ دونوں کے درمیان زمانہ کرکٹ سے ہی دوستی ہے۔ اب انہوں نے عمران خان کو کھرا جواب دے دیا ہے۔

  • سری لنکن معاشی بحران،  لوگ بذریعہ سمندر ملکی حدود سے باہر نکلنے لگے

    سری لنکن معاشی بحران، لوگ بذریعہ سمندر ملکی حدود سے باہر نکلنے لگے

    کولمبو:سری لنکن معاشی بحران، بذریعہ سمندر لوگ ملکی حدود سے باہر نکلنے لگے.بدترین معاشی بحران کا سامان کرنے والے ملک سری لنکا کی بحری افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ غیرقانونی طور پر ملک چھوڑنے والے 90 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعرات کو سری لنکن بحریہ نے اپنی جاری کردہ جاری بیان میں کہا ہے کہ شمال مغربی ساحل پر ماہی گیروں کی کشتیوں میں مہاجرین کو لے کر جایا جا رہا تھا۔ پندرہ افراد کو مارویلا کی بندرگاہ کے قریب جبکہ 76 کو چیلو کے پانیوں سے حراست میں لیا گیا ہے۔

    سری لنکامیں مزید حالات ابترپاورسیکٹریونین کی طرف سےہڑتال کی دھمکی:ہرطرف اندھیرے…

    نیوی کے ترجمان کیپٹن انڈیکا ڈی سلوا کے مطابق رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران تقریباً 250 افراد کو پکڑا ہے جو کشتیوں کے ذریعے ملک سے باہر جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اسمگلرز سیاسی اور معاشی بحران کے متعلق لوگوں کو بہکاتے ہیں اور بیرون ملک بہتر زندگی کا لالچ دیتے ہیں۔

    معاشی بحران کے باعث سری لنکا کے مسلمان حج کی سعادت سے محروم

    خیال رہے، دو کروڑ 20 لاکھ کی آبادی والا ملک سری لنکا شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے، حد درجہ مہنگائی کے علاوہ ادویات اور تیل سمیت اشیائے خورد و نوش کی بھی کمی کا سامنا ہے۔

    معاشی مشکلات میں گھرے ملک سری لنکا نے روس سے تیل خرید لیا

    یاد رہے، گزشتہ ماہ حکومت نے خبردار کیا تھا کہ اگست تک خوراک کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ سری لنکن حکومت کے کیمیائی کھاد پر عائد پابندی ختم کرنے کے باوجود اس کی درآمد ممکن نہیں ہو سکی ہے جو دراصل آئندہ پیداوار کے لیے درکار ہے۔

    علاوہ ازیں، سمندری راستوں سے ملک چھوڑ کر جانے کی کثیر تعداد کھیتی باڑی اور ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ ہیں۔