Baaghi TV

Tag: ذبیح اللہ مجاہد

  • افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر پاکستان کا حملہ،طالبان ترجمان کی تصدیق

    افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر پاکستان کا حملہ،طالبان ترجمان کی تصدیق

    دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کا آپریشن، افغانستان میں بمباری، دہشت گردوں کا ٹھکانہ تباہ کر دیا، افغان حکومت کا کہنا ہے کہ خوست میں دو دہشت گرد،پکتیکا میں‌چھ دہشت گرد مارے گئے ہیں،پاکستانی ائیر فورس نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کردیا،مارے گئے دہشت گرد میر علی میں بزدلانہ کاروائی میں ملوث تھے

    افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کے طیاروں نے پیر کی صبح افغان صوبے پکتیکا کے علاقے برمل میں مبینہ طور پر بمباری کی ہے جس سے آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں،میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کی جانب سے پکتیا اور خوست میں کالعدم دہشت گرد تنظیم کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے،جن مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ میر علی حملے سمیت پاکستان میں کئی حملوں میں ملوث تھے آپریشن کے دوران صرف مطلوبہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا ،

    افغانستان کی طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ عبداللہ نامی شخص، جس کے بارے میں اطلاعات ہیں کہ اس حملے کا نشانہ تھا، پاکستان میں موجود ہے اور دوسرا یہ کہ اس علاقے میں ایک ہی قبیلے کے لوگ سرحد کے آر پار رہتے ہیں جن کا آنا جانا معمول کی بات ہے،انہوں نے اس مبینہ حملے کو قابل مذمت اور غیرسنجیدہ قرار دیتے ہوئے دوسرے ملک میں مداخلت قرار دیا ،ذبیح اللہ بلگن کا کہنا تھا کہ آج پاکستانی جیٹ طیاروں نے صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل اور افغانستان کے صوبہ خوست کے علاقے لامان اور صوبہ خوست کے سپیرا اور دیگر علاقوں میں عبداللہ شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے بمباری کی۔ پکتیکا میں 3 بچوں سمیت 6 شدت پسند مارے گئے، 1 گھر تباہ ہو گیا۔ خوست میں 2 شدت پسند مارے گئے۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا مزید کہنا تھا کہ افغان اسلامی امارت، جس نے کئی دہائیوں سے حملہ آوروں کے خلاف جنگ کا تجربہ کیا ہے، اس طرح کی مداخلت اور فضائی حملوں کو کبھی بھی چیلنج نہیں ہونے دے گی۔ پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت کو اس بات کا ادراک کرنا چاہیے کہ اس طرح کی غلط پالیسیوں کو جاری رکھنا دونوں مسلم ممالک کے لیے تنازعات اور بحرانوں کو ہی جنم دے گا۔پاکستان کو سمجھنا چاہیے کہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت دونوں ممالک کے لیے عدم استحکام، کمزوری اور بربادی کا باعث بنے گی،پاکستان کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ افغانستان خطے کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے لیے اپنے اڈے کے طور پر استعمال کرنے کو کبھی برداشت نہیں کرے گا۔

    مخصوص سیاسی جماعت شہداء کی بے حرمتی سے باز نہ آئی

    شہداء لسبیلہ کے خلاف سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم میں کون تھا ملوث؟ سب سامنے آ گیا

    :ہیلی کاپٹر حادثہ ، سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مہم میں پی ٹی آئی ایکٹوسٹ ملوث نکلے

    شہدا کی قربانیوں پر تضحیک آمیز مہم چلانے والوں کے ساتھ سختی سے پیش آئے گے، عطا اللہ تارڈ

    سوشل میڈیاٹیمز کے ذریعے ریاست مخالف پرویپگنڈہ،پی ٹی آئی نے کیا سرکاری وسائل کا استعمال

    خیبرپختونخواہ حکومت کا کمال،تعلیمی اداروں میں اساتذہ کو تنخواہیں نہیں مل رہیں، سوشل میڈیا انفلونسرز کیلئے 87 کروڑ مختص

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

  • خدا کیلئے لڑکیوں کے اسکول کھول دو،سینئیر صحافی طالبان کے دفتر پہنچ گئیں

    خدا کیلئے لڑکیوں کے اسکول کھول دو،سینئیر صحافی طالبان کے دفتر پہنچ گئیں

    کابل: بچیوں کے اسکول کھلوانے کیلئے سینیئر افغان صحافی اور سماجی کارکن محبوبہ سراج طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے دفتر پہنچ گئیں۔

    باغی ٹی وی: حال ہی میں عرب نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے افغان طالبان کے محلات اور پالیسی پر پہلی خصوصی دستاویزی فلم جاری کیجس میں خواتین کے حقوق کی رہنما اور صحافی محبوبہ سراج نے بھی ملاقات کی، جنہوں نے ان سے لڑکیوں کے تعلیمی ادارے کھولنے کی اپیل کی،دستاویزی فلم کی مختصر کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس میں محبوبہ سراج کو ذبیح اللہ سے ملاقات کرتے دیکھا جا سکتا ہےمختصر کلپ دستاویزی فلم کا حصہ ہے-

    یونیورسٹیاں خواتین کو دوباہ داخلہ دینے کیلئے تیارہیں، افغان محکمہ تعلیم

    رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے ترجمان سے ملاقات کے دوران محبوبہ سراج نے کہا کہ خدا کیلئے لڑکیوں کے اسکول کھول دو، افغانستان ایک ایسی نسل کا متحمل نہیں ہوسکتا جو اسکول ہی نہ گئی ہو طاقت سے اقتدار حاصل تو کیا جا سکتا ہے مگر اسے برقرار نہیں رکھا جا سکتا، جب تک طالبان حکومت یہ مسئلہ حل نہیں کرتی دنیا ان کے خلاف ہی رہے گی۔


    اس موقع پر طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے محبوبہ سراج کے تحفظات افغان حکومت تک پہنچانے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ اگر اسکول کی لڑکیاں حکومت کے خلاف جائیں گی تو یہ معاشرے کو غیر مستحکم کر سکتا ہے وہ صرف ترجمان ہیں، معاملے کو عمائدین تک پہنچادیں گے۔

    افغان طالبان حکومت کے 2 سال پورے ہونے پر امریکی وزیر خارجہ کا بیان

    واضح رہے کہ طالبان حکام نے امریکی فوج کے انخلا کے بعد 15 اگست 2021 کو افغانستان پر قبضہ کرلیا تھا،طالبان نے دسمبر 2022 میں خواتین کی یونیورسٹی تعلیم پر پابندی لگا دی تھی جس سے عالمی سطح پر غم و غصہ پیدا ہوا تھا اگست 2021 میں اقتدارسنبھالنے کے بعد چھٹی جماعت کےبعد سےلڑکیوں کو اسکول جانے سے روک دیا تھا،طالبان کے عبوری حکومت سنبھالنے کے بعد سے اففانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتین کی تعلیم ، خواتین کے پارک، جم، یونیورسٹیوں میں جانے سمیت غیر سرکاری گروپوں اور اقوام متحدہ کے اداروں میں ملازمتوں پر پابندیاں عائد ہیں-

    موسمیاتی تبدیلیاں،ماہرین نے یو اے ای کو انتباہ جاری کر دیا

  • افغانستان میں ٹی ٹی پی نہیں، ذبیح اللہ مجاہد کا  دعوی زمینی حقائق کے بالکل برعکس

    افغانستان میں ٹی ٹی پی نہیں، ذبیح اللہ مجاہد کا دعوی زمینی حقائق کے بالکل برعکس

    سال 2007 کے دوران ٹی ٹی پی کے قیام کے بعد اس کے سربراہ بیت اﷲ محسود کی سربراہی میں خیبرپختونخوا میں دہشتگردی کی لہر نے جنم لیا جو رفتہ رفتہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں پھیلتی گئی۔

    باغی ٹی وی: پاک فوج کے انسداد دہشتگردی آپریشنز کے نتیجے میں ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں نے پاکستانی قبائلی پٹی سے فرار ہوکر سرحد پارافغانستان میں اپنے اڈے بنا لیےافغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نےحال ہی میں ایک بین الاقوامی خبر رساں ادارے کو ایک انٹرویو میں کہاکہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک بشمول پاکستان کےخلاف کسی بھی قسم کی کاروائیوں میں استعمال نہیں ہورہی،اور افغانستان میں ٹی ٹی پی کی کوئی بھی پناہ گاہ موجود نہیں ۔

    بدقسمتی سے ذبیح اللہ مجاہد کا یہ دعوی زمینی حقائق کے بالکل بر عکس ہے آئیے آج ذبیح اللہ مجاہد کے ٹی ٹی پی کے متعلق بیان کے بارے میں آپ کو حقائق سے آگاہ کرتے ہیں کیا حالیہ دنوں میں افغان طالبان نے بدنام زمانہ ٹی ٹی پی کمانڈر یاسر پرکے جو پاکستانی سیکورٹی فورسز کے خلاف کئی حملوں میں ملوث تھا اس کی کابل میں بھرپور میزبانی نہیں کی؟ انہیں خصوصی پرواز کے ذریعے کنڑ سے لایا گیا اور کابل میں صدارتی محل کا دورہ بھی کروایا گیا۔

    کیا طالبان کی اعلیٰ قیادت مفتی نور ولی محسود، حافظ گل بہادر اور علیم خان خوشحالی، برمل، خوست اور لمن میں رہائش پذیر نہیں؟ ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود کا برمل، افغانستان میں واقع ایک تربیتی کیمپ کے دورے پر ان کا بھرپور انداز میں استقبال کیا جاتا یے، کیا ذبیح اللہ مجاہد اب بھی یہی کہیں گے کہ ٹی ٹی پی کا افغانستان میں نام و نشان تک نہیں؟

    گلون میں ایک کیمپ جو کہ خودکش بمباروں کو تربیت دیتا ہے خوست میں واقع ہے اور مفتی احمد شاہ اسے چلا رہے ہیں۔ وہ امیر حافظ گل بہادر کے قریبی دوست ہیں اور حافظ گل بہادر گروپ کے تمام اہم کاروائیوں کا حصہ ہیں کونڑ کے علاقے شونکرے میں بھی خودکش بمبار ٹریننگ مرکز موجود ہیں جو کہ پاک-افغان سرحد سے 3.3 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے دہشت گرد کمانڈر مولا صابر عرف سنگین مرکز کے انچارج ہیں اور مرکز کا بنیادی مقصد خودکش بمباروں کو تربیت دینا ہے۔

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل
    پشاور ہائی کورٹ، سونے کے قیمتوں کے تعین پر سماعت
    اسمبلیاں تحلیل کرنے کی بجائے مدت پوری کرنے دینی چاہئے،نیئر بخاری
    واشنگٹن پاکستانی سفارتخانے کی پرانی عمارت کس نے خریدی؟
    نجی تعلیمی اداروں کو بلا معاوضہ پلاٹ الاٹ کرنے کا فیصلہ
    روپیہ کی قدر میں اضافے کو بریک، ڈالر ایک بار پھر مہنگا

    چانچڑ پل ضلع لغمان سے تعلق رکھنے والا حاجی عبدالہادی ( نائب وزیر معدنیات کا بھائی) لغمان، کابل، ننگرہار، کنڑ، نورستان سے ہتھیار خریدتا ہے اور پاکستان میں اسمگل کرنے کے لیے ننگرہار منتقل کرتا ہے۔ کیا ذبیح اللہ مجاہد کو ان کے کارناموں کا اندازہ نہیں؟ حالیہ دنوں پاکستان میں اس طرح کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں جن کے تانے بانے براہ راست افغانستان سے ملتے ہے۔

    30 جنوری کو،تحریک طالبان پاکستان نے صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں پولیس ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا، جس میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کی زمہ داری جمات الاحرار سے تعلق رکھنے والے سربکف محمند نے قبول کی۔

    اس کے بعد 17 فروری کو ٹی ٹی پی نے پاکستان کے معاشی مرکز کراچی کے قلب میں ایک کمپاؤنڈ پر حملہ کیا، جس میں صوبہ سندھ کے پولیس چیف کا دفتر واقع تھا۔ اس حملے میں پانچ سے چار سیکورٹی اہلکار اور ایک عام شہری مارا گیا۔ اس حملے کے ایک حملہ آور کے خاندان نے انکشاف کیا کہ وہ پانچ ماہ قبل افغانستان ٹریننگ حاصل کرنے گیا تھا۔

    دونوں حملوں کی جانچ پڑتال کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ حملہ آور یا تو افغانستان سے تربیت حاصل کرکے پاکستان آئے تھے یا بھر ان کا تعلق افغانستان سے تھا آرمی پبلک اسکول حملے کا ماسٹر مائنڈ عمر خالد خراسانی ضلع برمل کے قریب سڑک کنارے بم حملے میں مشرقی پکتیکا میں مفتی حسن اور حافظ دولت خان کے ساتھ مارا گیا۔ ذبیح اللہ صاحب اگر ٹی ٹی پی کی افغانستان میں کوئی موجودگی نہیں تو پھر ان کے کارندے ہمیشہ افغانستان میں ہی کیوں نشانہ بنتے ہے؟

    ٹی ٹی پی کے متعدد تربیتی کیمپ افغان سرزمین میں نڈر ہوکر اور بغیر کسی رکاوٹ یا دباؤ کے کام کرتے رہتے ہیں، بڑے اجتماعات کا اہتمام کرتے ہیں اور افغانوں اور دیگر افراد کو پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کی تربیت دیتے ہیں ان تمام شواہد سے یہ بات بلکل واضح ہو جاتی ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغان طالبان کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔

    افغان طالبان کو ٹی ٹی پی کے خلاف کاروائیاں تیز کرنی ہوگی ورنہ پاکستان اپنے دفاع کی خاطر کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ پاکستانی فوج کے سپہ سالار نے بھی دو ٹوک انداز میں بیان کردیا ہے کہ اگر افغانستان کی حکومت ٹی ٹی پی کے پنا گاہوں کو نشانہ نہیں بناتی تو پاکستان کو مجبوراً کوُسخت کاروائی کرنی پڑے گی۔

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

     مراد سعید کے گھر پر پولیس نے چھاپہ

    اوریا مقبول جان کو رات گئے گرفتار 

  • پاکستان کو اپنا مسئلہ خود حل کرنا چاہیے،افغان طالبان

    پاکستان کو اپنا مسئلہ خود حل کرنا چاہیے،افغان طالبان

    طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف علی درانی کا کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے متعلق بیان مسترد کر دیا۔

    باغی ٹی وی: پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان آصف علی درانی نے افغان میڈیا کو انٹرویو کے دوران ٹی ٹی پی کو افغان علاقوں میں منتقل کرنے کے امارات اسلامیہ افغانستان کے فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا۔

    افغان میڈیا کے مطابق آصف علی درانی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ وزیرستان کے مہاجرین جو تنازعات کی وجہ سے افغانستان میں داخل ہوئے ہیں انہیں پاکستان منتقل کیا جائے گا۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا ان افراد کی منتقلی پاکستان کو افغانستان سے خطرات کے تحفظ کی یقین دہانی کے طور پرکی جائے گی،اگر پاکستان میں کوئی سرگرم ہے یا کسی کی تحریک چل رہی ہے تو یہ پاکستان کا مسئلہ ہے پاکستان کو اپنا مسئلہ خود حل کرنا چاہیے، ہم افغان سرزمین سے پاکستان کے لیے خطرہ بننے کی کسی کو اجازت نہ دینے کے پابند ہیں۔

    آدھا گھنٹہ حرکت قلب بند، عراقی حاجی کی جان بچالی گئی

    واضح رہے کہ رواں برس مئی میں آصف درانی کو وزیراعظم کا نمائدہ خصوصی برائے افغانستان تعینات کیا گیا تھا ،وزارت خارجہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ آصف درانی کو وزیراعظم کا نمائندہ خصوصی برائے افغانستان تعینات کردیا گیا آصف درانی اس سے قبل افغانستان، ایران اور متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں، صادق خان کے استغفےٰ کے بعد نمائندہ خصوصی برائے افغانستان کا عہدہ خالی تھا۔

    افغانستان کے امور کے لیے پاکستان کے سابق خصوصی نمائندے محمد صادق نے تین سال عہدے پر رہنے کے بعد گزشتہ سال اگست کے آغاز میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

    تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو ، اب تجھے میں یاد آنا چاہتا …

  • خواتین پر پابندیاں عائد کرنا ہمارا اندرونی مسئلہ ہے اقوام متحدہ ہمارے فیصلوں کا احترام کرے،افغان حکومت

    خواتین پر پابندیاں عائد کرنا ہمارا اندرونی مسئلہ ہے اقوام متحدہ ہمارے فیصلوں کا احترام کرے،افغان حکومت

    کابل: افغانستان حکومت نے کہا ہے کہ خواتین پر پابندیاں عائد کرنا ہمارا اندرونی مسئلہ ہے اقوام متحدہ ہمارے فیصلوں کا احترام کرے۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبررساں ادارے کے مطابق افغانستان کے نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کے لیے مشکلات پیدا کرنا نہیں چاہتےاور یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ افغانستان کے اندرونی معاملات کسی کے لیے مسائل پیدا نہیں کریں گے اس لیے ہمارے اندرونی فیصلوں کا احترام کیا جائے۔

    افغان مسئلے پر چین کا مؤقف؛ 11 نکاتی اعلامیہ جاری

    انہوں نے کہا کہ خواتین پر پابندی کے فیصلے میں کوئی تفریق نہیں ہے لیکن اس کے برعکس مذہبی اور ثقافتی مفادات کو نظر میں رکھتے ہوئے ہم لوگوں کے تمام حقوق کے لیےپرعزم ہیں افغانستان کے پاس اپنے پاؤں پر کھڑے ہونےکی صلاحیت موجود ہے اور ملک کو درپیش مسائل اقتصادی اور بینکنگ سسٹم پر عائد کی گئی پابندیوں کی وجہ سے ہیں۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے اقوام متحدہ کے رکن ممالک اثاثے منجمد کرنے، بینکنگ، سفری پابندیوں اور دیگر پابندیوں کے مسائل حل کریں تاکہ افغانستان اقتصادی، سیاسی اور سیکیورٹی کے شعبوں میں ترقی کر سکے۔

    واضح رہے کہ اگست 2021 میں اقتدار میں واپسی کے بعد طالبان حکام نے اسلام کی سخت تشریح کے ساتھ ملک میں خواتین کو ملازمتوں سے روکنے، پردہ کرنے، بغیر مرد ساتھی کے عوامی مقامات میں نہ نکلنے جیسی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور بعدازاں لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔

    لیک ہونیوالی حساس امریکی دستاویزات میں چین کا روس کو مہلک ہتھیار فراہم کرنےکے ارادےکا …

    افغان طالبان کی طرف سے گزشتہ برس دسمبر میں ملک میں کام کرنے والی بین الاقوامی فنڈ تنظیموں میں خواتین کی ملازمت پر پابندی عائد کرنے کے بعد اس میں توسیع کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے لیے کام کرنی والی خواتین پر بھی پابندی عائد کردی ہے جس سے ان پر بین الاقوامی برادری کی طرف سے سخت تنقید کی جارہی ہے۔

    اقوام متحدہ نے کہا کہ خواتین کی ملازمت پر پابندی اس مشکل ترین انتخاب کرنے پر مجبور کر رہی ہے کہ آیا کہ افغانستان میں سرگرمیاں جاری رکھنی چاہئیں یا نہیں وہ اس پابندی کو تسلیم نہیں کرے گا کیونکہ یہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت غیرقانونی ہے۔

    اسرائیلی جاسوسی کمپنی نے کتنے ملکوں کو ٹارگٹ کیا،رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشافات

    خواتین پر بڑھتی ہوئی پابندیاں 1996 اور 2001 کے درمیان طالبان کی پہلی حکومت کی ایک جھلک ہے جب اقوام متحدہ نے کہا تھا کہ وہ انسانی حقوق بالخصوص لڑکیوں اور خواتین کے حقوق کی بار بار خلاف ورزیوں کے ذمہ دار ہیں۔

    خیال رہے کہ افغان طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد امریکا نے فوری طور پر افغان سینٹرل بینک میں رکھے گئے 7 ارب ڈالر کے اثاثے منجمند کردیئے تھے جس کی وجہ سے ملک کو متعدد مسائل سے دوچار ہونا پڑا۔

  • افغانستان کی سرزمین کوپاکستان سمیت کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیں گے،ذبیح اللہ مجاہد

    افغانستان کی سرزمین کوپاکستان سمیت کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیں گے،ذبیح اللہ مجاہد

    افغان طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کوپاکستان سمیت کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں کرنے دیں گےہماری سرزمین کسی بھی ملک کےخلاف استعمال ہوئی تو ذمہ دار کوگرفتارکرکےغداری کا مقدمہ چلائیں گے کیونکہ کالعدم ٹی ٹی پی گروپ کی جانب سے پوری دنیا کو انسداد دہشت گردی کی یقین دہانیوں پر شکوک و شبہات بڑھتے جا رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے کابل کے دفتر میں وائس آف امریکا کے ساتھ ایک انٹرویو میں یہ انتباہ جاری کیا، سرحد پار دہشت گردانہ حملوں میں حالیہ اضافے میں درجنوں پاکستانی سکیورٹی اہلکار شہید ہو چکے ہیں تازہ ترین حملہ جمعہ کو اس وقت ہوا جب “افغانستان کےاندر سے دہشت گردوں” نے پاکستانی فوجیوں پر فائرنگ کی، جس میں ایک فوجی شھید ہوا۔

    کابل، سکول میں دھماکہ،19 افراد کی موت،27 زخمی

    طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کو ایسی سرگرمیاں کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، ٹی ٹی پی نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کو دھمکی نہیں دیں گے، افغانستان اور پاکستان سرحد پہاڑوں اور مُشکل علاقوں سے گزرتی ہے۔

    ذبیح اللہ ،جاہد نےکہا کہ امریکہ اور اتحادی افواج کےانخلاء کے بعد طالبان کی واپسی نے دو دہائیوں سےجاری جنگ کا خاتمہ اور افغانستان کے بیشتر حصے میں امن قائم کر دیا ہے۔تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ سرحدی حفاظت طالبان فورسز کے لیےبدستور ایک چیلنج بنی ہوئی ہے۔

    ایران کا عراقی کردستان پرڈرون حملہ، 13افراد ہلاک متعدد زخمی

    انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان پہاڑوں اور دشوار گزار علاقوں سے گزرنے والی ایک طویل (باؤنڈری) لائن ہے ۔ یہاں تک کہ ایسےحصے بھی ہیں جہاں ہماری افواج نےابھی تک قدم نہیں جمائے ہیں اورنہ ہی انہیں محفوظ بنانےکےلیےفضائی مدد کی ضرورت پڑی ہے۔

    طالبان ترجمان نے مزید کہا کہ یہ ممکن ہے کہ کچھ لوگ ایسی صورتحال کا فائدہ اٹھا رہے ہوں، اور اگر ایسا ہے تو، یہ لوگ سب سےپہلے افغانستان کے خلاف بغاوت کے مرتکب ہو رہے ہیں کسی ملک کے خلاف افغانستا ن کی سرزمین استعمال کرنے پرایسے عناصر کو گرفتار کر کے سزا ملنی چاہیے-

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    انہوں نے کہا کہ ہماری طرف سے معاملہ سنجیدگی سے زیرغور ہے، پاکستان کو یقین دلاتے ہیں کہ ہماری سرزمین ان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، پاکستان کو بھی یقینی بنانا چاہیے کہ ان کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو۔

  • ذبیح اللہ مجاہد نےعہدے سے استعفیٰ دے دیا

    ذبیح اللہ مجاہد نےعہدے سے استعفیٰ دے دیا

    افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے نائب وزیر اطلاعات کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق گزشتہ سال افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کو نائب وزیر اطلاعات مقرر کیا گیا تھا، اب ذبیح اللہ مجاہد نے نائب وزیر اطلاعات کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تاہم ذبیح اللہ مجاہد بدستور حکومت کے مرکزی ترجمان رہیں گے۔

    افغانستان امریکی بالادستی اورطاقت کی پالیسی کےبدترین نتائج کاگواہ ہے:چینی وزارت…


    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق ذبیح اللہ مجاہد کو عہدے سے ہٹایا گیا ہے اور ان کی جگہ مولوی حیات اللہ مہاجر کو نائب وزیراطلاعات مقرر کیا گیا۔

    ذبیح اللہ مجاہد تحریک اسلامی طالبان کےدو باضابطہ ترجمانوں میں سے ایک ہیں، دوسرے قاری یوسف احمدی ہیں۔ ذبیح اللہ زیادہ تر مشرقی، شمالی اور وسطی افغانستان میں طالبان سرگرمیوں کے متعلق تبصرہ کرتے ہیں جبکہ یوسف احمدی مغربی اور جنوبی خطوں پر بات کرتے ہیں۔

    افغانستان کسی کی معیشت، فوج اور سیاست پر انحصار نہیں کرتا، قائم مقام وزیر دفاع

    ذبیح اللہ مجاہد باقاعدہ طور پر افغان صحافیوں سے گفتگو کرتے ہیں اور بذریعہ موبائل کال، پیغامات، ای میل، ٹیوٹر اور جہادی ویب سائٹوں پر شائع کر کے طالبان کی طرف سے بات کرتے تھے تاپم گزشتہ برس اگست میں افغانستان کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد وہ پہلی بار میڈیا کے سامنے آئے تھے-

    ذبیح اللہ کو جنوری 2007ء میں طالبان ترجمان محمد حنیف کی گرفتاری کے بعد مقرر کیا گیا تھا-

    یو اے ای کا 6 سال بعد ایران میں سفیر تعینات کرنے کا اعلان

  • یوم خواتین افغانستان کی خواتین کیلئے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنےکا اچھا موقع ہے،افغان حکومت

    یوم خواتین افغانستان کی خواتین کیلئے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنےکا اچھا موقع ہے،افغان حکومت

    کابل: خواتین کے عالمی دن کے موقع پرافغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ حکومت خواتین کومذہبی حقوق دینے کے لئے پرعزم ہے۔

    باغی ٹی وی : افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نےعالمی یوم خواتین کے موقع پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی ٹویٹ میں کہا کہ یوم خواتین افغانستان کی خواتین کے لئے اپنے جائز حقوق کا مطالبہ کرنے کا اچھا موقع ہے۔

    عالمی یوم خواتین پر گوگل کا ڈوڈل تبدیل


    ذبیح اللہ مجاہد کا مزید کہنا تھا کہ افغان خواتین کوشریعت کے مطابق حقوق دینے کے لئے پرعزم ہیں ہم اپنی افغان خواتین کے حقوق کا تحفظ اور دفاع کرتے ہیں، انشاء اللہ


    گزشتہ سال اگست میں افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان حکومت نے خواتین کوشرعی حدود میں رہتے ہوئے حقوق دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

    عالمی یوم خواتین ہر سال 8 مارچ کو دنیا بھر میں بیک وقت منایا جاتا ہےعالمی یوم خواتین کا آغاز سوا ایک صدی قبل 1909 سے ہوا تھا، اس دن کو منانے کا آغاز 1908 سے قبل امریکی فیکٹریوں میں کام کرنے والی مزدور خواتین کی جانب سے اپنی تنخواہ مرد حضرات کے برابر کرنے کے لیے کیے گئے احتجاجوں کے بعد ہوا۔

    عورت مارچ کی جانب سے مطالبات سامنے آ گئے

    خواتین کے احتجاج کے بعد ہی وویمن نیشنل کمیشن بنایا گیا، جس کے ذریعے خواتین کے حقوق کی تحریک چلائی گئی اور پہلی بار فروری 1909 میں عالمی یوم خواتین منایا گیا لیکن بعد ازاں اس دن کو 8 مارچ کو منانے کا فیصلہ کیا گیا۔

    اقوام متحدہ (یو این) نے بھی 1977 میں ہر سال 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین منانے کی منظوری دی اور تب سے اس دن کو دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر منایا جانے لگا ہے۔

    تاثر غلط ہے کہ ہراسمنٹ کا قانون صرف خواتین کے لیے ہے،کشمالہ طارق

  • طالبان حکومت نےسفرکیلئے خواتین کےساتھ محرم کا ہونا ضروری قراردیا

    طالبان حکومت نےسفرکیلئے خواتین کےساتھ محرم کا ہونا ضروری قراردیا

    کابل: افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’اسلام کے اصولوں‘ کے مطابق اگر خواتین بیرون ملک سفر کرتی ہیں تو محرم کا ساتھ ہونا ضروری ہے۔

    باغی ٹی وی :طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی شخص بغیر کسی معقول وجہ کے افغانستان نہیں چھوڑ سکتا اور ایسے سفر کو روکا جائے گا خواتین ’مذہبی عذر کے بغیر‘ ملک کو تنہا نہیں چھوڑ سکتیں اور خواتین طالبات کے لیے افغانستان سے باہر سفر کرنے کا حل تلاش کیا جائے گا۔

    افغانستان: طالبات کی الگ شفٹ کے ساتھ کابل یونیورسٹی سمیت ملک بھر کی تمام جامعات…

    فرانس 24 کے مطابق کہ ملک چھوڑنے سے ان افراد کو روکا جا رہا ہے جن کے پاس اس کی کوئی خاص یا ٹھوس وجہ نہیں ہے۔

    ترجمان نے کہا کہ کہ بنا کسی ٹھوس یا معقول وجہ کے ملک چھوڑنے والے افراد یا خاندانوں کو ایئرپورٹ پر امیگریشن حکام روک دیں گے۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’اسلام کے اصولوں‘ کے مطابق اگر خواتین بیرون ملک سفر کرتی ہیں تو محرم کا ساتھ ہونا ضروری ہے اور یہی شریعت کا بھی قانون ہے ’جو لڑکیاں سکالرشپ حاصل کرتی ہیں اور انہیں تعلیم کے لیے دوسرے ممالک جانا پڑتا ہےان کےلیے بیرون ملک جانے کا ایک طریقہ کار بنایا جائے گا۔

    تاہم بیرون ملک سفر کرنے کی منصوبہ بندی کرنے والوں میں بڑی تعداد انسانی حقوق کے کارکنوں اور افغانستان کے اندر مطلوب افراد کی ہے جو ملک سے باہر جانے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

    کابل:آپریشن کلین اپ میں 9 اغوا کاروں سمیت 68 جرائم پیشہ افراد گرفتار

    طالبان کے ترجمان نے کہا کہ بیرون ملک افغان پناہ گزین شدید مشکلات کا شکار ہیں اور جب تک حالات بہتر نہیں ہوتے انخلا کا عمل روک دیا جائے گا بیرون ممالک میں کچھ افغان انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور وہ (طالبان) نہیں چاہتے کہ دوسرے افغانوں کا بھی ایسا ہی انجام ہو۔

    انہوں نے کہا کہ لوگوں کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور سفری پابندیاں اس وقت تک عائد رہیں گی جب تک یقین دہانی نہ کرا دی جائے کہ بیرون ملک جانے والے افغانوں کی زندگیوں کو خطرہ نہیں ہو گا۔

    ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ طالبان حکومت نے کبھی بھی یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ انخلا کا عمل غیرمعینہ مدت تک جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر ہم نے کہا تھا کہ امریکہ ان افراد کو لے کر جا سکتا ہے جن کے متعلق اسے تشویش ہے لیکن یہ وعدہ ہمیشہ برقرار تو نہیں رہے گا۔

    عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اعلان کردہ نئی سفری پابندیوں سے وہ افغان شہری سب سے زیادہ متاثر ہوں گے جنہوں نے غیر ملکی افواج یا تنظیموں کے ساتھ ماضی میں کام کیا تھا اور اس وقت پوری امید لگائے بیٹھے تھے کہ وہ بیرون ملک پناہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے ایسے افغان شہریوں کی تعداد ہزاروں میں ہے اعداد و شمار کے تحت 31 اگست تک ایک لاکھ 20 ہزار افغان اور دہری شہریت رکھنے والے افراد کو افغانستان سے نکلنے میں مدد فراہم کی گئی تھی۔

    تین سال تک طالبان کی قید میں رہنےوالےآسٹریلوی لیکچرارکا افغانستان جانے کا اعلان

    واضح رہے کہ خواتین پر پہلے ہی شہروں اور قصبوں کے درمیان سفر کرنے پر پابندی ہے جب تک کہ کسی قریبی مرد رشتہ دار کے ساتھ نہ ہوں طالبان نے گذشتہ سال دسمبر میں ملک کے اندر خواتین کے سفر کے حوالے سے سلسلہ وار حکم نامے جاری کیے تھےاس وقت، طالبان کی وزارتِ کمان اور امتناع کی طرف سے ایک ہدایت نامہ جاری کیا گیا تھا، جسے گاڑی چلانے والوں میں تقسیم کیا گیا تھا، اور تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تھیں۔

    اس ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ ڈرائیوروں کو گاڑی میں بے پردہ خواتین کو نہیں بٹھانا چاہیے، گاڑی میں میوزک نہیں بجانا چاہیے اور جو خواتین پانچ کلومیٹر سے زیادہ سفر کر چکی ہیں اور ان کے ساتھ کوئی ہم سفر نہیں ہے انہیں گاڑی میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

    طالبان کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ کابل اور دیگر علاقوں میں گھر گھر تلاشی کا مقصد کابل اور دیگر شمالی صوبوں میں ’کلیئرنگ آپریشنز‘ تھا تاکہ افغان تاجروں اور شہریوں کے تحفظ کو بہتر طور پر یقینی بنایا جا سکے۔

    طالبان جنگجوؤں پراسلحے کے ساتھ تفریحی پارکس میں جانے پرپابندی عائد

  • طالبان جنگجوؤں پراسلحے کے ساتھ تفریحی پارکس میں جانے پرپابندی عائد

    طالبان جنگجوؤں پراسلحے کے ساتھ تفریحی پارکس میں جانے پرپابندی عائد

    کابل: طالبان حکومت نے اپنے جنگجوؤں پراسلحے کے ساتھ تفریحی پارکس میں جانے پرپابندی عائد کردی۔

    باغی ٹی وی : افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بیان میں کہا طالبان جنگجوؤں پرتفریحی پارکوں میں اسلحہ لے جانے پرپابندی ہوگی۔جنگجوؤں کو تفریحی پارکوں میں فوجی یونیفارم اورفوجی گاڑیوں میں جانے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔

    افغانستان میں طالبان کی فتح کے بعد مختلف دلچسپ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل

    ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا مزید کہنا تھا کہ طالبان جنگجوؤں کوتفریحی پارکوں کے تمام قوانین اوراصولوں پرعملدرآمد کرنا ہوگا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ سال اگست میں افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد طالبان جنگجوؤں کی اسلحے کے ساتھ پارکوں میں تفریح کرنے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پروائرل ہوئی تھیں-

    خیال رہے کہ طالبان نے اتوار 15 اگست 2021 کو افغان دارالحکومت کابل پر بھی قبضہ کرلیا ہے جس کے بعد وہاں موجود امریکی فوجی اور افغان صدر اشرف غنی سمیت متعدد اہم حکومتی عہدے دار ملک سے فرار ہوگئے ہیں طالبان نے کابل کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد عام معافی کا اعلان کیا ہے اور عالمی برادری کو پیغام دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ مل کر کام کرے۔

    تین سال تک طالبان کی قید میں رہنےوالےآسٹریلوی لیکچرارکا افغانستان جانے کا اعلان

    واضح رہے کہ افغان طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلی بار یونیورسٹیز کھل گئیں اور طالبات کو برقع پہننے کی لازمی شرط کے ساتھ جامعات میں آنے کی اجازت دے دی گئی طالبان حکومت کے وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کے اعلان کے بعد گزشتہ روز 2 فروری کو کئی علاقوں میں یونیورسٹیز کھل گئیں جب کہ سرد علاقوں میں تدریسی عمل 26 فروری سے شروع ہوگا۔

    غیر ملکیوں کے انخلاء کیلئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ طے

    پہلے روز طالبات کی حاضری نہایت کم رہی طالبان نے لڑکیوں کو برقع پہن کر آنے کی ہدایت کی جب کہ ان کے لیے علیحدہ کلاسوں کا بھی انتظام کیا گیا فغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے جامعات بند تھیں جس کی وجہ طالبان نے طالبات کے لیے علیحدہ اساتذہ اور کلاسوں کے انتظام کا نہ ہونا بتایا تھا جامعات تو کھل گئیں تاہم افغانستان میں اب تک لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول بند ہیں۔ ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے ملک بھر میں لڑکیوں کے اسکول نئے افغان سال کی ابتدا یعنی 29 مارچ سے کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

    طالبان حکومت کا 2 فروری سے تمام یونیورسٹیز کھولنے کا اعلان