Baaghi TV

Tag: ذرائع

  • کراچی:حکمران جماعت کا بجلی و گیس کی بندش پراحتجاج

    کراچی:حکمران جماعت کا بجلی و گیس کی بندش پراحتجاج

    کراچی:حکمران جماعت کا بجلی و گیس کی بندش پراحتجاج ،اطلاعات کے مطابق ملک کے بڑے تجارتی اور عوامی شہر کراچی کے علاقے لیاری میں بجلی اور گیس کی بندش کیخلاف سندھ کی حکمراں جماعت پیپلزپارٹی نے احتجاج کیا جس کے باعث آئی آئی چندریگر روڈ اور اطراف کی سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    لیاری میں بجلی اور گیس کی بندش کیخلاف پیپلزپارٹی کے آئی آئی چندریگر روڈ پر احتجاج کے باعث شاہین کمپلیکس پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا ہے، آئی آئی چندریگر روڈ، حقانی چوک، شاہین کمپلیکس و اطراف پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔رپورٹ کے مطابق احتجاج اور ٹریفک جام کی وجہ سے دفاتر سے گھر جانے والے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس پر وہ حکومت پر برس پڑے۔

    ٹریفک جام میں پھنسے متاثرین کا کہنا ہے کہ 3 گھنٹے سے زائد ہوگئے ٹریفک میں پھنسے ہوئے ہیں، کوئی پرسان حال نہیں۔

    دوسری طرف لیاری میں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کیخلاف سندھ کی حکمراں جماعت پیپلزپارٹی کی جانب سے شاہین کمپلیکس پر احتجاج سے متعلق کے الیکٹرک کا ردعمل بھی سامنے آگیا۔کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ لیاری پر بجلی کے واجبات 8 ارب کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے ہیں، لیاری کے مختلف علاقوں میں عوام بل ادا نہیں کرتے، بجلی کی سپلائی بلوں کی بروقت ادائیگی کے بغیر ممکن نہیں۔

    کے الیکٹرک نے لیاری کے علاقے میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کی تردید کردی۔

    پنجاب میں نکاح نامے میں نیا حلف نامہ شامل،وزیراعلیٰ نے حکم دے دیا

    11 سالہ لڑکے کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے پر بھارتی فوجی اہلکار گرفتار

    شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

    لاہور ہائیکورٹ نے دس برس کی قانونی جنگ کے بعد خاتون کی جعلی نکاح ختم کرنے کی اپیل منظور کرلی

  • منحرف ارکان قومی اسمبلی کی تعداد 21 سے کم ہوکر13 رہ گئی :شو کاز نوٹسزجاری:مشکل وقت ہے طاری

    منحرف ارکان قومی اسمبلی کی تعداد 21 سے کم ہوکر13 رہ گئی :شو کاز نوٹسزجاری:مشکل وقت ہے طاری

    لاہور: منحرف ارکان قومی اسمبلی کی تعداد 21 سے کم ہوکر13 رہ گئی :شو کاز نوٹسزجاری:مشکل وقت ہے طاری ،اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے منحرف 13 ارکان قومی اسمبلی کے شو کاز نوٹسز پر دستخط کر دیے۔

    ذرائع کے مطابق شوکاز نوٹس میں منحرف ارکان سے وضاحت طلب کی گئی ہے، ارکان کو 7 روز کے اندر معافی مانگ کر غیر مشروط طور پر پارٹی میں واپس آنے کی مہلت دی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق 7 روز تک جواب نہ دینے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ منحرف ارکان کو آج شوکاز نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔

    یہ واضح نہیں کہ شوکاز کن 13 ارکارن کو جاری کیے جائیں گے۔ گزشتہ روز تحریک انصاف کے منحرف رکن قومی اسمبلی راجہ ریاض نے دعویٰ کیا تھا کہ سندھ ہاؤس اسلام آباد میں 24 کے قریب پی ٹی آئی ارکان موجود ہیں۔

    ادھر ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد کے بعد ملکی سیاسی صورتحال میں ہلچل مچی ہوئی ہے اور دونوں جانب سے سیاسی جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے، اسی تناظر میں ترین گروپ میں بھی تقسیم دکھائی دیتی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کچھ حکومت تو کچھ اپوزیشن کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں

    ذرائع کے مطابق لاہور میں ترین گروپ کا اہم مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس میں جہانگیرترین نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، ترین گروپ نے جہانگیرترین کو موجودہ سیاسی صورتحال پر بریفنگ بھی دی جبکہ اجلاس میں موجودہ سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

    مشاورتی اجلاس میں حمزہ شہباز اور چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کے بعد تمام تر معاملات کا جائزہ لیا گیا جبکہ ترین گروپ کی اکثریت نے اپوزیشن کا ساتھ دینے کی حمایت کی۔

    ذرائع کا مزید بتانا تھا کہ ترین گروپ نے اجلاس میں کہا کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں حکومت کے ساتھ نہیں چل سکتے، مائنس بزدار اعلان پر قائم ہیں۔اجلاس میں ترین گروپ نے حتمی فیصلے کا اختیار جہانگیرترین کو دے دیا ہے۔

  • وزیراعظم عمران خان کی چوہدری برادران سےملاقات:وزیراعلٰی پنجاب کون ہوگا؟معاملات طئےپاگئے

    وزیراعظم عمران خان کی چوہدری برادران سےملاقات:وزیراعلٰی پنجاب کون ہوگا؟معاملات طئےپاگئے

    لاہور:وزیراعظم عمران خان کی چوہدری برادران سے ملاقات:معاملات طئے پاگئے:اپوزیشن والے دیکھتے رہ گئے ،اطلاعات کے مطابق ملک میں موجودہ سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے اور تحریک عدم اعتماد کے اعلان کے بعد وزیراعظم عمران خان بھی متحرک ہو گئے، سب سے پہلے چودھری برادران سے ملنے ان کے گھر پہنچ گئے۔

    وزیراعظم عمران خان چودھری برادران کی رہائشگاہ پہنچے تو مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین اور سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات کی، ملاقات میں وفاقی وزیر چودھری مونس الہی، چودھری سالک، شافع حسین، طارق بشیر چیمہ بھی شریک ہوئے۔

    اس دوران عمران خان نے مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی اور سیاسی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    ذمہ دار ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس ملاقات میں چوہدری برادران نے اپنے عہد کو دہراتے ہوئے کہا کہ ہم کل بھی آپ کے ساتھ تھے آج بھی آپ کے ساتھ ہیں ، ہمیں پاکستان عزیز ہے ،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے چوہدری برادران کی پاکستان کے لیے خدمات کو خراج تحیسین پیش کیا،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی ہے جس کے بارے میں اہم اعلان متوقع ہے ،باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق چوہدری پرویز الٰہی کے نام قرعہ نکل سکتا ہے ، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چوہدری برادران کی طرف سے کپتان کی اس پیش کش کو شکریہ کے ساتھ واپس کردیا گیا ہے ، لیکن امکان ہے کہ کپتان چوہدری پرویز الہی کو وزیراعلیٰ بنا کر پنجاب سے ن لیگ کا خاتمہ کردیں‌گے

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اگلے چند دنوں میں پنجاب میں عثمان بزدار کے خلاف کئی اور گروہ سامنے آجائیں ، ان میں علیم خان بھی درپردہ سازشوں میں مصروف نظرآتے ہیں اور امکان یہ ہے کہ بزدار کے لیے ن لیگ سے زیادہ خطرناک اپنے ہی لوگ ہوں گے ،اس کے ساتھ ساتھ جہانگیرترین خان کے زیرسایہ ارکان اسمبلی بھی آنے والوں دنوں میں پاکستان اور پنجاب کی سیاست میں بڑے اہم اور سرگرم دکھائی دیں‌گے

    ان تمام ترحالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ وزیراعظم عمران خان عثمان بزدار کو بچانے کی آخری حد تک کوشش کریں‌ گے اور اگر معاملات سنبھل نہ سکے تو پھر پنجاب کا وزیراعلیٰ بدلنا ناگزیر ہوجائے گا اور اس صورت میں اگلا پنجاب کا وزیراعلیٰ کون ہوگا اس کا فیصلہ چوہدری برادران اور وزیراعظم عمران خان کریں گے

    دوسری طرف عمران خان سیاسی صورت حال کے تناظر میں تیزی سے سیاسی کارڈز کھیلنے لگے، وزیراعظم اتحادی جماعتوں کے محاذ پر متحرک ہوئے ہیں اور عوامی ریلیف کے اقدامات میں بھی وزیر اعظم نے سب کو حیران کردیا۔

    عمران خان نے مسلم لیگ ق سے رابطوں کے بعد دیگر اتحادیوں سے بھی ملاقات کا فیصلہ کیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنماؤں سے بھی جلد ملاقات کا امکان ہے۔

    اُدھر وزیر اعظم نے اپنی جماعت کے اراکین پارلیمنٹ سے بھی رابطے تیز کردئیے، دورہ لاہور کے دوران وزیر اعظم کی پنجاب کے چار ڈویژن کے اراکین پارلیمنٹ سے طویل ملاقات ہوئی، اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کو غیر فعال کرنے کے لیے وزیراعظم نے خود رابطوں کا محاز سنبھال لیا۔
    اور

    چودھری شجاعت نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن دونوں نہیں چاہتیں پرویزالٰہی وزیراعلیٰ بنے، دونوں کو خدشہ ہے جو لوگ ان جماعتوں میں گئے ہیں وہ واپس ق لیگ میں نہ آجائیں۔