Baaghi TV

Tag: ذوالفقار علی بھٹو

  • ذوالفقار علی بھٹو کا  آج 97 واں یوم پیدائش

    ذوالفقار علی بھٹو کا آج 97 واں یوم پیدائش

    کراچی: بانی پاکستان پیپلزپارٹی ذوالفقار علی بھٹو کا 97 واں یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا 97 واں یوم پیدائش آج منایا جارہا ہے ذوا لفقار علی بھٹو نے 5 جنوری 1928 کو لاڑکانہ میں پیدا ہوئےذوالفقار علی بھٹو سال 1971 سے 1973 تک پاکستان کے صدر رہے جبکہ انہیں ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

    ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو متفقہ آئین، عام آدمی کو شناختی کارڈ اور ووٹ کا حق دیا پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا سنگ بنیاد رکھنے اور پاکستان میں پہلی اسلامی سربراہی کانفرنس کرانے کا اعزاز بھی ذوالفقار علی بھٹو کو حاصل ہے۔

    کمرے میں جلتے کوئلوں کی وجہ سے دم گھٹنے سے پانچ بچے جاں بحق

    ذوالفقار علی بھٹو کے یوم پیدائش کی مناسبت سے آج اتوار کو 3 بجے پیپلز سیکرٹیریٹ ماڈل ٹاؤن میں سیمنار اور کیک کاٹنے کی تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے، ملک کے دیگر شہروں میں بھی تقریبات منعقد کی جائیں گی جس میں قائد عوام کو ملک کو ایٹمی طاقت بنانے پر خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔

    کمرے میں جلتے کوئلوں کی وجہ سے دم گھٹنے سے پانچ بچے جاں بحق

  • مولانا  نے آئینی ترمیم کے مسودے کا پہلا راؤنڈ جیت لیا ہے، شیخ رشید

    مولانا نے آئینی ترمیم کے مسودے کا پہلا راؤنڈ جیت لیا ہے، شیخ رشید

    اسلام آباد:عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو آئینی ترمیم کے مسودے کا پہلا راؤنڈ جیت لیا ہے-

    باغی ٹی وی : سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے آئینی ترمیم کے مسودے کا پہلا راوئنڈ جیت لیا ہے، مولانا فضل الرحمان نے سب کو گھر کا راستہ دکھایا ہے، مفتی محمود مرحوم نے بھی ذوالفقار علی بھٹو کو شکست دی تھی، ووٹ کو عزت دینے والوں نے ووٹ کو ٹکے ٹوکری بنا دیا ہے، ووٹ کا جمعہ بازار بنا ہوا ہے، یہ 25 کروڑ عوام کو کیسے اعتماد میں لیں گےکسی کے پاس آئینی مسودے کی کاپی نہیں ہے، جمہوریت پر جب بھی شب خون مارا گیا رات کے اوقات میں مارا گیا، امید ہے کہ 30 ستمبر تک جمہوریت کی سیاست کا اتار چڑھاؤ فیصلہ کن ہو جائے گا۔

  • ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کو غیر قانونی قرار دینے کی قرارداد قومی اسمبلی میں منظور

    ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کو غیر قانونی قرار دینے کی قرارداد قومی اسمبلی میں منظور

    اسلام آباد: سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی میں بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کو غیر قانونی قرار دینے کی قرارداد منظور کرلی گئی۔

    باغی ٹی وی : منظور کی گئی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ صدر زرداری نے ریفرنس فائل کیا، بلاول بھٹو زرداری نے اس کی پیروی کی، قومی اسمبلی سپریم کورٹ کی رائے دینے پر اسے مبارکباد دیتی ہے قرارداد مطالبہ کرتی ہے کہ غیر منصفانہ فیصلہ بدل دیا جائے، ذوالفقار علی بھٹو کو سرکاری طور پر شہید قرار دیا جائے اور انہیں اعلیٰ ترین سول ایوارڈ نشان پاکستان دیا جائے، جمہوریت کے لیے جان قربان کرنے والے کارکنان کے لیے نشان ذوالفقار علی بھٹو ایوارڈ قائم کیا جائے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ دنوں سندھ اسمبلی، پنجاب، بلوچستان اور سینیٹ سے بھی ذوالفقار علی بھٹو کو سرکاری شہید اور قومی ہیرو قرار دینے کی قرار دادیں-

    سعودی عرب میں یہودی ٹوپی اتروانے پر امریکی کمیشن نے دورہ منسوخ کر دیا

    خیال رہے کہ 12 برس قبل 2011 میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے آئین پاکستان کے آرٹیکل 186 کے تحت بھٹو کی عدالتی حکم سے پھانسی کے فیصلے پر ایک ریفرنس دائر کیا تھا، رواں برس 6 مارچ کو سپریم کورٹ نے ذوالفقارعلی بھٹو ریفرنس کیس میں رائے دی تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو کو شفاف ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا اور بھٹو کے خلاف چلایا گیا ٹرائل آئین کے مطابق نہیں تھا۔

    ٹائی ٹینک جیسا بحری جہاز بنانے کی تیاریاں

  • واحد نکتہ یہی ہے اس وقت عدلیہ آزاد نہیں تھی، ہم کیسے اس مشق میں پڑیں کہ بنچ آزاد نہیں تھا؟،جسٹس منصور

    واحد نکتہ یہی ہے اس وقت عدلیہ آزاد نہیں تھی، ہم کیسے اس مشق میں پڑیں کہ بنچ آزاد نہیں تھا؟،جسٹس منصور

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سماعت جاری ہے-

    باغی ٹی وی : چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی لارجر بنچ ریفرنس کی سماعت کر رہا ہے،بنچ میں جسٹس سردار طارق، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں، جبکہ کیس کی کارروائی براہ راست نشر کی جارہی ہےسماعت شروع ہوئی تو سینیٹر رضا ربانی روسٹرم پر آگئے، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ عدالتی معاون ہیں؟رضا ربانی کہا کہ میں عدالتی معاون نہیں لیکن بختاور اور آصفہ کا وکیل ہوں، ہم نے کیس میں فریق بننے کی درخواست جمع کرائی ہے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ٹھیک ہوگیا، اس درخواست کو دیکھتے ہیں۔

    اس کے بعد عدالتی معاون بیرسٹر صلاح الدین احمد روسٹرم پر آگئے،بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ میری اہلیہ نواب احمد قصوری کی نواسی ہیں، عدالت فریقین سے پوچھ لے کہ میری معاونت پر کوئی اعتراض تو نہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ اہلیہ نے اعتراض اٹھایا ہے تو پھر بڑا سنجیدہ معاملہ ہے۔

    وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے ورثا کو بیرسٹر صلاح الدین پر اعتراض نہیں، وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میرے والد ڈی جی ایف ایس ایف مسعودمحمود کےبھٹو کیس میں وکیل تھےاگر میرےاوپر بھی کسی کو اعتراض ہو تو بتا دیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ پر کسی فریق کو اعتراض نہیں آپ فئیر ہیں اس کا یقین سب کو ہے، عدالتی معاون مخدوم علی خان نے عدالت کو کہا کہ ہم نے کچھ متعلقہ مواد جمع کرایا ہے۔

    اس کے بعد احمد رضا قصوری روسٹرم پر آئے تو چیف جسٹس نے انہیں بات کرنے سے روک دیا اور کہا کہ آپ اپنی نشست پر بیٹھ جائیں، پہلے عدالتی معاون کو بات مکمل کرنے دیں، آپ کو ان کی کسی بات پراعتراض ہے تو لکھ لیں، عدالتی معاون نے بتایا کہ اس صدارتی ریفرنس میں چار سوالات پوچھے گئے ہیں۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ سب سے پہلے آپ آئین کا آرٹیکل 186 پڑھیں جس کے تحت یہ ریفرنس بھیجا گیا، کیا ہمارے پاس صدارتی ریفرنس کو نہ سننے کا آپشن ہے؟، جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ آئینی طور پر تو عدالت کے پاس ریفرنس پر رائے دینے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، مگر صدارتی ریفرنس میں پوچھا گیا سوال مبہم ہو تو عدالت کے پاس دوسرا آپشن موجود ہوگا۔

    جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ اگر عدالت کی رائے ہو کہ سوال مبہم ہے تو بھی عدالت کے پاس آپشن رائے دینا ہی ہوگا، مخدوم علی خان نے کہا کہ عدالت کے سامنے یہ ایک منفرد کیس ہے، چیف جسٹس نے اسی کیس میں ایک انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ بھی طلب کر رکھا ہے۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بنیادی طور پر اس ریفرینس کی بنیاد سابق جج نسیم حسن شاہ کا انٹرویو ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انٹرویو کا ٹرانسکرپٹ مجھے بھیجا گیا جو وقت کی کمی کے باعث میں نہیں پڑھ سکا اس کے بعد مخدوم علی خان نے سید شریف الدین پیرزادہ کا خط پڑھ کر سنایا اور کہا کہ ذوالفقارعلی بھٹو کی بہن نے صدر مملکت کو رحم کی اپیل کی تھی، ذوالفقار علی بھٹو نے بذات خود کوئی رحم کی اپیل دائر نہیں کی تھی-

    عدالتی معاون مخدوم علی خان نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو چار تین کے تناسب سے پھانسی کی سزا دی گئی، بعد میں ایک جج نے انٹرویو میں کہا کہ میں نے دباؤ میں فیصلہ دیا، عدالت کے سامنے سوال بھٹو کی پھانسی پر عمل کا نہیں ہے، بدقسمتی سے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی ریورس نہیں ہو سکتی، عدالت کے سامنے معاملہ اس کلنک کا ہے۔

    جس پر بینچ میں شامل جسٹس میاں محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر اس کیس میں عدالت نے کچھ کیا تو کیا ہر کیس میں کرنا ہو گا؟اس پر وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ اس ریفرنس کی بنیاد جسٹس نسیم حسن شاہ کا انٹرویو تھا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دئیے کہ ہمیں ٹی وی چینل کے ڈائریکٹر نیوز نے انٹرویو کی کاپی بھیجی ہے، انٹرویو شاید ہارڈ ڈسک میں ہے، سربمہر ہے ابھی کھولا نہیں، چیف جسٹس کی اسٹاف کو انٹرویو کی کاپی ڈی سیل کرنے کی ہدایت کردی۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ہمارے سامنے قانونی سوال کیا ہے؟ کیا ایک انٹرویو کی بنیاد پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا دوبارہ جائزہ لے کر رائے دے دیں؟ کیا عدالت ایک انٹرویو کی بنیاد پر انکوائری کرے؟ انٹرویو ایک جج کا تھا جبکہ بنچ میں دیگر ججز بھی تھے، کیا ہم انٹرویو سے متعلقہ لوگوں کو بلا کر انکوائری شروع کریں؟

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم صرف ایک انٹرویو کی ویڈیو دیکھ کر تو نہیں کہہ سکتے کہ یہ ہوا تھا، آرٹیکل 186 کے تحت عدالت صرف قانونی سوالات پر رائے دے سکتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ بھی بتا دیں بھٹو ریفرنس میں آخر قانونی سوال پوچھا کیا گیا ہے؟

    چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس نسیم حسن شاہ کا پورا انٹرویو نہیں سن سکتے متعلقہ پارٹ لگا دیں، جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ میں نے جو سی ڈی جمع کرائی اس میں صرف وہی حصہ ہے جو ذوالفقار علی بھٹو سے متعلق ہے، اس کے بعد عدالت نے فاروق ایچ نائیک کی جانب سے جمع کرائی گئی سی ڈی لگانے کی ہدایت کی۔

    چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت اس وقت ایک شخص کی عزت اور تاریخ کی درستگی دیکھ رہی ہے، عدالت بہتر مثال قائم کرنا چاہتی ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ واحد نکتہ یہی ہے اس وقت عدلیہ آزاد نہیں تھی، ہم کیسے اس مشق میں پڑیں کہ بنچ آزاد نہیں تھا؟

    جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ایک جج کے انٹرویو سے پوری عدالت کے بارے یہ تاثر نہیں دیا جاسکتا کہ تب عدلیہ آزاد نہیں تھی، دوسرے ججز بھی تھے جنہوں نے اپنے نوٹس لکھے اور اختلاف کیا، چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس میں ایک جج کی رائے کو نظرانداز نہیں کرسکتےذوالفقار علی بھٹو کیس میں بنچ کا تناسب ایساتھا کہ ایک جج کی رائےبھی اہم ہےایک جج کےاکثریتی ووٹ کے تناسب سے ایک شخص کو پھانسی دی گئی، جج صاحب کا یہ انٹرویو کب لیا گیا؟ نوٹ کرلیں 3 دسمبر 2003 کو یہ انٹرویو چلایا گیا۔

    ویڈیو دیکھنے کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ فاروق نا ئیک صاحب آپ نے جو ویڈیو فراہم کی وہ غیر متعلقہ ہے، پریشر والی بات کا آپ کی ویڈیو میں کہیں ذکر نہیں، جس پر فارق ایچ نائیک نے کہا کہ یہ انٹرویو یوٹیوب سے ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے،عدالت نے جیو ٹی وی کی فراہم کردہ ویڈیو کی کاپی فاروق ایچ نائیک کو دینے کی ہدایت کردی۔

    معاون مخدوم علی خان نے کہا کہ یہ فیصلہ انصاف سے زیادتی ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا اس میں سپریم کورٹ قصور وار ہے؟ یا پھر پراسیکیوشن اور اس وقت کا مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر؟

    دوران سماعت جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ میری نظر میں ہمیں اپنی تاریخ کو درست کرنا چاہیے، کلنک ایک خاندان پر نہیں لگا بلکہ اداروں پر بھی لگ چکا ہے، جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ آپ نے بالکل درست بات کی ہے،چیف جسٹس نے معاون مخدوم علی خان کو کہا کہ آپ تحریری معروضات بھی جمع کرا دیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس کیس کو انتخابات کے بعد نہ رکھ لیں؟ کیا ہم اگلی سماعت عام انتخابات کے بعد کریں؟

    جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن سے قبل سماعت دوبارہ ہو، جتنی جلد ہو سکے عدالت دوبارہ سماعت کرے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نائیک صاحب پہلے ہی دو الیکشنز گزر چکے ہیں،بعد ازاں سپریم کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو کیس میں صدارتی ریفرنس پر سماعت فروری کے تیسرے ہفتے تک ملتوی کر دی-

  • قوم نے ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دے دیا ہے،آصف علی زرداری

    قوم نے ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دے دیا ہے،آصف علی زرداری

    سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے متعلق صدارتی ریفرنس 10 سال سے سپریم کورٹ میں سماعت کا منتظر ہے۔

    باغی ٹی وی : پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر جاری بیان میں آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ قوم نے بھٹو کی پھانسی کو عدالتی قتل قرار دے دیا ہے،10 سال گزرنے کے باوجود سپریم کورٹ نے اب تک رائے نہیں دی-

    سندھ کے ضلع دادو میں گیس کے نئے ذخائر دریافت

    آصف علی زرداری نے کہا کہ پھانسی کی سازش میں ملوث کردار تاریخ کے کوڑے دان میں سڑ رہے ہیں پاکستان اور 1973ء کا آئین بھٹو کی امانت ہے جس کی ہر صورت حفاظت کی جائے گی اور اس کے لیے کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کیاجائے گا۔

    پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹوکی پھانسی کو 44 برس بیت گئے ہیں پیپلزپارٹی کےبانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی 44 ویں برسی کے موقع پر آج سندھ بھر میں عام تعطیل ہےذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے ایک مقدمے میں 1979 میں آج ہی کے دن پھانسی دی گئی تھی۔

    ذوالفقار علی بھٹو نے کيلیفورنيا اور آکسفورڈ سے قانون کی تعليم حاصل کی، 1963 ميں وہ جنرل ایوب خان کی کابینہ میں وزير خارجہ بنے اور بعد میں سیاسی اختلافات پر حکومت سے الگ ہوگئے بعدازاں ترقی پسند دوستوں کے ساتھ مل کر انہوں نے 30 نومبر 1967 کو پاکستان پيپلز پارٹی کی بنیاد رکھی جو اپنے نظریات کی بدولت ملک کی مقبول ترین جماعت بنی۔

    بحیرہ عرب میں زلزلے کے جھٹکے

    1970 کے الیکشن میں ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی،کپڑا اور مکان کا نعرہ لگایا تاہم انتخابات میں کامیاب ہو کر جب انہوں نے اقتدار سنبھالا تو ملک دولخت ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے وہ سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور پھر 1971 سے 1973 تک پاکستان کے صدر رہے جب کہ 1973 سے 1977 تک وہ منتخب وزيراعظم رہے

    ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو متفقہ آئین دیا، بھارت سے شملہ معاہدہ کر کے پائیدار امن کی بنیاد رکھی اور ہزاروں مربع میل رقبہ اور جنگی قیدیوں کو بھارت سے چھڑایا مبینہ داخلی اور خارجی سازشوں کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹا اور قتل کے الزام ميں مقدمہ چلا کر 4 اپریل 1979 کو انہیں رات دو بجے راولپنڈی کی سینٹرل جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا گيا۔

    ہم اپنے اس مزاج میں کہیں بھی گھر نہ ہو سکے،کسی سے ہم ملے نہیں …

    ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ان کی سیاسی فکر کو ان کی بیٹی بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا اور ان کی شہادت کے بعد اب بلاول بھٹو زرداری اپنے نانا کے سیاسی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں۔

  • پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کا یوم پیدائش، بلاول بھٹو سمیت معروف شخصیات کا خراج تحسین

    پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کا یوم پیدائش، بلاول بھٹو سمیت معروف شخصیات کا خراج تحسین

    پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے یوم پیدائش پر سابق صدر صف علی زرداری ، بلاول بھٹو زرداری اور سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے خراج تحسین پیش کیا ہے-

    باغی ٹی وی : سابق صدر آصف زرداری نے ذوالفقار علی بھٹو کو خراج عقیدت‏ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی پروگرام اور 1973ءکا آئین قوم کے پاس شہید بھٹو کی امانت ہیں قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو ایٹمی قوت بنایا،1973 کا آئین دیا،ذوالفقار علی بھٹو کے بلند کیے ہوئے پرچم کو سربلند رکھیں گے-

    آصف علی زرداری‏ نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو دنیا بھر میں چلنے والی جمہوری تحریکوں کے حامی تھے ذوالفقار علی بھٹواسلامی دنیا کے باہمی اتحاد کے بانی تھے،قائد عوام کے فلسفے کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی ملک کو مشکلات سے نکالے گی،پیپلزپارٹی پارلیمنٹ کی بالادستی اور آئین کی حکمرانی کے اصولوں پر قائم ہے،غربت، جہالت اور عوام کا استحصال کرنے والوں کے خلاف جنگ جاری رہے گی-

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو ایک ناقابلِ فراموش تاریخ اور ناقابلِ تسخیر تحریک ہے، ذوالفقارعلی بھٹو کی وجہ سے پاکستانی عوام کو ملک کی باگ ڈور ہاتھوں میں لینے کا موقع ملا، ذوالفقارعلی بھٹو پہلے لیڈر تھے، جنہوں نے طاقت کا سرچشمہ عوام کو قرار دیا، سیاسی تدبر و سفارتی صلاحیات کو بروئے کار لاکر ایک ٹوٹے پھوٹے ملک کو اٹھایا-

    بلاول بھٹو‏ نے کہا کہ ذوالفقارعلی بھٹو کے دورِ حکومت میں پاکستان کے ہر شعبہ میں نمایاں ترقی ہوئی،پیپلزپارٹی مقبوضہ کشمیر کی عوام کی سیاسی، اخلاقی اور اصولی حمایت جاری رکھے گی،ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی پارٹی کی بنیاد ہی مسئلہ کشمیر پر رکھی تھی-

    رحمان ملک نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو سالگرہ کے موقع پرکہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سالگرہ پر انہیں سلام و خراج عقیدت پیش کرتا ہوں،شہید ذوالفقار علی بھٹو بہادر سیاسی رہنما، بصیرت رکھنے والے سفارت کار، دور اندیش دفاعی حکمت عملی ساز تھے، ذوالفقار علی بھٹو عالمی رہنماؤں کے لیڈر تھے-

    رحمان ملک نے کہا کہ شہید بھٹو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے معمار تھے، شہید بھٹو نے ملک کو ایٹمی طاقت بنا کر پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا، آج ہر پاکستانی کو فخر ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، رحمان ملک

    بھٹو کا عدالتی قتل ہمارے قومی افق پر ہمیشہ ایک داغ بنا رہے گا،شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ترقی یافتہ، پرامن اور ترقی پسند پاکستان کا خواب دیکھا تھا، بھٹو غریبوں کی آواز اور استحصال زدہ عوام کے لیے امید کی کرن تھے-