Baaghi TV

Tag: ذہنی تناؤ

  • سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال لوگوں کو ذہنی تناؤ کاشکار بنا سکتا ہے،تحقیق

    سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال لوگوں کو ذہنی تناؤ کاشکار بنا سکتا ہے،تحقیق

    جرمنی: ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال لوگوں کو ذہنی تناؤ کاشکار بنا سکتا ہے-

    باغی ٹی وی :یہ انکشاف ماہرین نے جرمنی کی Ruhr University Bochum کی تحقیق میں کیا ہے،جس کے نتائج جرنل Telematics and Informatics Reports میں شائع ہوئے،اس تحقیق میں 1230 افراد کو ایک آن لائن سروے میں شامل کیا گیا تھا،یہ افراد ہر ہفتے کم از کم ایک بار کسی ایک سوشل میڈیا سائٹ کو استعمال کرتے تھے،ان افراد سے 6 مختلف سوالنامے بھروائے گئے اور یہ دیکھا گیا کہ وہ کس حد تک مادہ پرست رویوں کے حامل ہیں اور کس طرح دیگر سے اپنا موازنہ کرتے ہیں۔

    افغانستان میں ٹی ٹی پی کی پناہ گاہوں اور تربیتی مراکز کی موجودگی کے …

    ماہرین کا کہنا تھا کہ مادہ پرست سوچ رکھنے والے افراد سوشل میڈیا سائٹس پر دیگر افراد سے اپنا موازنہ کرتے ہیں جب لوگ اپنا موازنہ دیگر سے کرتے ہیں تو انہیں مختلف ذہنی مسائل جیسے تناؤ کا سامنا ہوتا ہے تناؤ سے متاثر افراد کا زندگی پر اطمینان کم ہوتا ہے، سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال ان افراد کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے جب بہت زیادہ مادہ پرست سوچ کے حامل ہوتے ہیں۔

    بٹر چکن اور دال مکھنی کس نے ایجاد کی؟

    ماہرین نے بتایا کہ یہ زیادہ پریشان کن ہے کیونکہ سوشل میڈیا کے نتیجے میں ان افراد کی مادہ پرست سوچ زیادہ بڑھ سکتی ہےتحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مادہ پرستی اور سوشل میڈیا کے بے مقصد استعمال انہیں سوشل میڈیا کی لت کا شکار بھی بناتا ہے، سوشل میڈیا پر گزارے جانے والے وقت کو بتدریج کم کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے ضروری نہیں کہ سوشل میڈیا کا استعمال مکمل طور پر چھوڑ دیا جائے کیونکہ اس سے بھی ذہنی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔

    پاکستان میں پہلا روزہ کب ہوگا؟ماہرین فلکیات نے ممکنہ تاریخ بتا دی

  • شکر گزاری کا جذ بہ شدید ذہنی تناؤ کو کم کر سکتا ہے،تحقیق

    شکر گزاری کا جذ بہ شدید ذہنی تناؤ کو کم کر سکتا ہے،تحقیق

    ماہرین کا کہنا ہے کہ شکر کرنا شدید ذہنی تناؤ کی کیفیت کو کم کرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: مغربی دنیا میں اس موضوع پر بڑی تحقیق ہوئی ہے۔ اور اس سلسلے میں لکھنے یا تحقیق کرنے والے دو باتوں پر متفق نظر آتے ہیں۔ پہلی بات کہ شکرگزاری ایک ایسی اخلاقی قدر یا نیکی ہے جس کو بہت کمتر یا بے معنی سمجھا جاتا ہے اور دوسری بات کہ دنیا کے تمام عظیم انسانوں میں یہ خوبی عام لوگوں کی نسبت بہت زیادہ پائی جاتی ہے جس کا وہ برملا اظہار کرتے ہیں۔

    اس ضمن میں ایک چھوٹے سے گروہ پر تحقیق کی گئی ہے لیکن اس کی اہمیت نظرانداز نہیں کی جاسکتی سائنسدانوں نے نے 18 سے 57 سال کے 68 افراد کو بھرتی کیا جن میں 24 مرد اور 44 خواتین شامل تھی اس کے لیے تجربہ گاہ میں ایک فرضی ماحول بنایا گیا تھا ڈیزائن کے تحت تجربہ گاہ میں کچھ ایسے کام کئے گئے جو تناؤ کی وجہ بنے اور اس کے بعد شرکا کے دل کے ردِ عمل اور بحالی کو نوٹ کیا گیا۔ اس طرح پوری ترتیب کے ساتھ یہ تجربہ انجام دیا گیا۔

    مطالعے میں نوٹ کیا گیا کہ جو لوگ اسٹریس سے گزرے لیکن شکر کا دامن تھامے رکھا تب بھی ان کا بلڈ پریشر معمول کے تحت تھا۔ یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ اکیوٹ سائیکولوجیکل اسٹریس کی صورت میں قلبی ردِ عمل اور بحالی میں جذبہ تشکر ایک دیوار کی طرح حائل رہا۔

    محققین کےمطابق اگرکوئی شخص شدید نفسیاتی تناؤ (اکیوٹ سائیکولوجیکل اسٹریس) کا شکار ہے تو بھی شکر کا جذبہ اسے کیفیت سے تحفظ فراہم کرتا ہےچونکہ دماغ جسم کا صدر مقام ہے تو ڈپریشن اور تناؤ پورے جسم کومتاثرکرتا ہےپھر اس سے بلڈ پریشر، ذیابیطس اور امراضِ قلب میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اسی لیےماہرین اسٹریس بفر یعنی تناؤ سے مزاحم عوامل بہت زور دیتے ہیں۔

    یونیورسٹی آف مے نوتھ سے وابستہ برائن لیوی اور ان کے ساتھیوں نے کہا ہے کہ اگرچہ شکراورڈپریشن میں کمی میں تعلق پر بہت تحقیق ہوئی ہے لیکن حقیقی طور پر نفسیاتی تناؤ اور امراضِ قلب سے بحالی پر بہت کم تحقیق کی گئی ہے۔

    جذبہ شکرایک طاقتورکیفیت ہے جو ہمیں بہت سے مسائل سے بچاتی ہے۔ 2010 میں کی گئی تحقیق کے مطابق شکر کے چھوٹے چھوٹے عمل ہماری صحت کو بہتر کرتی ہے۔ اسی طرح 2016 میں امراضِ قلب کے شکار افراد سے شکرانے کی ڈائری لکھنے کو کہا تو ان کی کیفیت بہتر ہونے لگی اور وہ تیزی سے بحال ہوئے-

    رابرٹ ایمنذ ، میک کلااور ان کے کئی ایک ساتھیوں نے شکرگزاری کے موضوع پر کافی تحقیق کی ہے ۔ان کے مطابق دنیا کے تمام مذاہب میں شکرگزاری ایک ایسی نیکی ہے جوبہترین انسانی کردار کی ضمانت کے طور پر جانی جاتی ہے یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کا لازمی جز وہ خوشگوار احساس ہے جو نعمت پہنچانے والے کے ساتھ منسلک ہوتاہے ۔

    پچھلی دو دہائیوں میں نفسیات کے میدان میں انسانی جذبات اور انہیں سمجھنے پر کافی تحقیق ہوئی ہے اور اس موضوع پر لکھی گئی کئی ایک کتابیں اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ ایک اہم انسانی صفت ہے جسے ما ہرِ نفسیات اور فلاسفرز مختلف انداز میں بیان کرتے ہیں شکرگزاری کی تعریف کئی مشہور شخصیات سے منسوب ہے ڈیوڈ ہارنیڈ (1997) کے مطابق شکر گزاری ایک ایسےرویے کو ظاہر کرتا ہے جوبذاتِ خود نعمت یا تحفے کی طرف اور نعمت دینے والے کی طرف اس عزم کے ساتھ ہوتا ہے کہ اس نعمت یا احسان یا تحفے کو دینے والے کی مرضی کے مطابق بہترین انداز میں استعمال کیا جائے ۔

    ۔اوپرا ونفری امریکہ کی مشہور ایکٹریس، مصنفہ اور ٹاک شو ہوسٹ ہے، اس کے مطابق اگر’’ہم اس (نعمت)کے شکر گزار ہیں جو ہمارے پاس ہے تو ہمیں مزید ملے گا‘‘۔امریکہ ہی کے مشہور روحانی پیشوا نارمن ونسنٹ پیل کے مطابق’’ ایک بنیادی قانون (یہ ہے کہ) جتنا زیادہ تم شکر ادا کرو گے اتنے زیادہ تمہیں شکر ادا کرنے کے موقعے ملتے رہیں گے‘‘۔

    سیلف ہیلپ پر کئی کتابیں لکھنے والی مصنفہ میلوڈی بیٹی کے مطابق ، ’’شکر گزاری ماضی کو قابلِ فہم، آج کو پرسکون اور آنے والے کل کو مقاصد تخلیق کرنے کے قابل بناتی ہے-

    فرانسیسی جرنلسٹ اور ناولسٹ الفونسی کار شکرگزاری کے جذبے کے تحت زندگی کو مثبت انداز میں دیکھنے کے عادی ہے اور کہتے ہیں کہ کچھ لوگ شکایت کرتے ہیں کہ گلاب کے پھولوں کے ساتھ کانٹے ہوتے ہیں جبکہ میں اس بات کا شکر ادا کرتا ہوں کہ کانٹوں کے ساتھ گلاب ہیں-

    ۔رابرٹ ایمنذ اپنی کتاب، ’شکریہ‘ میں تحریر کرتے ہیں کہ وہ لوگ جو شکر ادا کرنے والے یا شکرگزاری کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں وہ دوسروں سے محبت کرنے والے، آسانی سے معاف کرنے والے، پرجوش اور خوشی کے جذبے سے سرشار ہوتے ہیں۔ یہی جوش اور خوشی انہیں کامیابیوں سے ہمکنار کرتا ہے۔