Baaghi TV

Tag: ذیابطس

  • انسولین انجیکشن ماضی کا قصہ؟:بہت جلد انقلاب کا اعلان متوقع

    انسولین انجیکشن ماضی کا قصہ؟:بہت جلد انقلاب کا اعلان متوقع

    کینڈا:کینیڈین سائنسدان بہت جلد ایک بہت بڑی کامیابی کا اعلان کرنے والے ہیں اور یہ امکان ظاہر کیا جارہاہے کہ بہت جلد انسولین انجیکشن کی جگہ ایک ایسی گولی لے لی گی جوانسولین سےبھی کئی گنا بہترثابت ہوگئی ، ذیابطس کے مریض جانتے ہیں کہ دہائیوں سے ذیابیطس کے بیشتر مریضوں کو دن بھر میں اپنے بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے انسولین کے انجیکشن استعمال کرنا پڑتے ہیں۔مگر امکان ہے کہ مستقبل قریب میں ایک گولی انجیکشن کی ضرورت کو ختم کردے گی۔

    خیال رہے کہ ذیابیطس کے مرض میں لبلبہ انسولین بنانے سے قاصر ہوجاتا ہے یا اس کی ناکافی مقدار بناتا ہے، یہ وہ ہارمون ہے جو خون میں گلوکوز کی سطح کم کرتا ہے۔

    جس کے باعث مریضوں کو انسولین کے انجیکشن لگانے پڑتے ہیں ورنہ بلڈ شوگر لیول زیادہ رہنے سے سنگین طبی پیچیدگیوں جیسے گردوں کو نقصان پہنچنا، بینائی متاثر ہونا، امراض قلب اور فالج وغیرہ کا سامنا ہو سکتا ہے۔

    مگر روزانہ کئی انجیکشن لگانا آسان نہیں ہوتا، اسی وجہ سے کینیڈا کی برٹش کولمبیا یونیورسٹی کے ماہرین نے منہ کے ذریعے دی جانے والی انسولین گولی کی تیاری پر کام کیا ہے۔

    ماہرین نے اسے ‘گیم چینجنگ’ دریافت قرار دیا ہے کیونکہ یہ دوا جسم میں انجیکشن کی طرح ہی کام کرتی ہے۔اب تک اس دوا کے تجربات چوہوں پر کیے گئے ہیں اور نتائج حوصلہ افزا رہے ہیں اور اب محققین انسانوں پر اس کی آزمائش کرنا چاہتے ہیں۔

    جرنل نیچر سائنٹیفک رپورٹس میں شائع تحقیق میں ماہرین کا کہنا تھا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم انسولین گولی کی تیاری کے حوالے سے درست سمت میں بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس دوا کے باعث ہر بار کھانے سے پہلے انجیکشن لگانے کی ضرورت نہیں جبکہ مریض کا معیار زندگی بہتر ہوگا۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    انسولین کو دوا کی شکل دینا بہت مشکل ہے کیونکہ یہ ایک پروٹین ہے اور گولی کی شکل میں یہ جگر تک پہنچنے سے پہلے ہی معدے اور آنتوں میں جذب ہو سکتا ہے۔محققین نے بتایا کہ انجیکشن میں عموماً 100 آئی یو مقدار انسولین دی جاتی ہے، جبکہ گولی کی شکل میں 500 آئی یو مقدار استعمال کرنا ہوگی جس میں سے بھی زیادہ تر ضائع ہوجائے گی۔

    یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عام گولی تیار کرنے کی بجائے ایک مختلف طریقہ کار اختیار کیا اور ایسی گولی تیار کی جو مسوڑوں اور گالوں کے درمیان ہی گھل جائے۔چوہوں پر اس کے تجربات اب تک کامیاب رہے ہیں اور منہ میں گھل جانے کے باعث یہ دوا براہ راست دوران خون میں چلی جاتی ہے، جہاں سے یہ جگر تک پہنچ جاتی ہے۔

    محققین کے مطابق چوہوں کو دوا استعمال کرانے کے 2 گھنٹے بعد بھی ہم نے معدے میں انسولین کو دریافت نہیں کیا بلکہ وہ جگر پہنچ گئی، جو ہمارا ہدف تھا۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    ابھی اس حوالے سے کافی کام ہونا باقی ہے کیونکہ ابھی انسانوں میں اس کی کامیابی کے لیے ٹرائل ضروری ہے جس میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ دوا سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

  • ’مائی شوگر ایپ‘ذیابیطس کے مریضوں کیلئے انتہائی مفید ایپ ،گھربیٹھے اپنی شوگرکو کنٹرول کیئجیئے

    ’مائی شوگر ایپ‘ذیابیطس کے مریضوں کیلئے انتہائی مفید ایپ ،گھربیٹھے اپنی شوگرکو کنٹرول کیئجیئے

    اسلام آباد : ’مائی شوگر ایپ‘ذیابیطس کے مریضوں کیلئے انتہائی مفید ایپ ،گھربیٹھے اپنی شوگرکو کنٹرول کیئجیئے،اطلاعات کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں شوگر کو کنٹرول کرنے کے لیے بہت زیادہ کوششیں جاری ہیں اور ماہرین اس وقت کسی ایسی کوشش میں لگے ہیں کہ شوگر کو کنٹرول کیا جاسکے ، اس حوالے سےماہرین صحت نے اب ذیابیطس میں مبتلا افراد کیلئے بھی ایک خودکار  اور آسان طریقہ متعارف کروایا گیا ہے۔

     

     

    اس نئے طریقے کے استعمال سے انہیں کسی ڈائری میں اپنی بلڈ شوگر ریڈنگ نہیں لکھنی پڑے گی بلکہ وہ اپنے موبائل فون میں ایپلی کیشن کے ذریعے نہایت آسانی کے ساتھ شوگر لیول کا دھیان رکھ سکیں گے۔

    اس ایپلی کیشن کا نام ’مائی شوگر ایپ‘ (MySugr)  ہے، یہ بلڈ گلوکوز  مانیٹرنگ کی حیرت انگیز جدید ڈیوائس ہے جسے پاکستان میں Accu-Chek Instant نے متعارف کروایا ہے۔

    یہ پاکستان میں اپنی نوعیت کی پہلی ذیابیطس کی ڈیٹا منیجمنٹ ایپ ہے جو موبائل فون میں بلیو ٹوتھ کے ذریعے وائرلیس کنیکٹیویٹی سے خود بخود میٹر کے ذریعے ایپ میں ڈیٹا کی وائرلیس منتقلی کو یقینی بناتی ہے۔ اس طرح نوٹ بک میں ریکارڈ رکھے بغیر مریض کبھی بھی کہیں بھی اپنے موبائل فون میں شوگر ریڈنگ دیکھ سکتے ہیں۔

    Accu-Chek Instant ڈیوائس کو کسی سیٹ اپ کی ضرورت نہیں۔ اس میں ٹارگٹ رینج انڈیکیٹر موجود ہے جو خون میں گلوکوز کی مانیٹرنگ کو آسان بناتا ہے۔ اپنی شوگر چیک کرنے کیلئے خون کی تھوڑی سی مقدار اسٹرپ پر لیں اور اسے ڈیوائس میں لگائیں اور صرف 4 سیکنڈز میں اپنی شوگر کے نتائج حاصل کریں۔

    اس ڈیوائس کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کا اسٹرپ ایجیکٹر ہے جو ٹیسٹ شدہ اسٹرپس کو صاف ستھرے طریقے سے ہٹانے میں مدد کرتاہے۔

    Accu-Chek Instant ڈیوائس وائرلیس کنکشن کے ذریعے اسمارٹ فون سے منسلک ہوتی ہے اور پھر ایپ کے ذریعے مریض کے بلڈ شوگر کے ڈیٹا کو محفوظ بناتی ہے، اس ڈیٹاکو مریض ناصرف جانچ سکتا ہے بلکہ اس کا تجزیہ بھی کرسکتا ہے۔ یہ ایپ ایک لاگ بک کے طور پر کام کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ دن بھر صارفین کو صحت بخش غذاؤں کا انتخاب کرنے کیلئے رہنمائی بھی فراہم کرتی ہے جس سے صارفین کو اپنے بلڈ شوگر کی سطح کو سمجھنے اور کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔

    مائی شوگر ایپ آسانی کے ساتھ پرنٹنگ یا ڈیجیٹل شیئرنگ کے لیے صارفین کا ڈیٹا مرتب کرتی ہے جس سے کسی بھی وقت اور کہیں بھی صارفین اپنے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں بلکہ واٹس ایپ اور ای میل کے ذریعے براہ راست اپنے ڈاکٹر کو رپورٹس بھی بھیج سکتے ہیں۔

    مائی شوگر ایپ اینڈرائیڈ اور آئی فون دونوں میں باآسانی استعمال ہوسکتی ہے اور اسے ڈاؤن لوڈ اور سیٹ اپ کرنا  بھی آسان ہے۔ یہ ایپ منظم طریقے سے صارفین کا ریکارڈ رکھنے کیلئے بہترین ہے۔

    مزید برآں، اس ایپ کے ڈیٹا کو گوگل فِٹ اور ایپل ہیلتھ کے ساتھ بھی منسلک کیا جاسکتا ہے جس کی مدد سے صارفین اپنی ڈیجیٹل ہیلتھ ڈائری بناکر اپنی صحت کو متوازن رکھ سکتے ہیں۔

    بلاشبہ ذیابیطس کے حامل افراد کیلئے اچھے طریقے سے شوگر کنٹرول کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسکہ آپ بینک میں سیونگ کررہے ہوں یعنی اگر آپ ہر روز کچھ رقم ڈپازٹ کرسکتے ہیں تو بہترین ہے لیکن اگر آپ دیر میں سیونگ کرنا شروع کرتے ہیں یا اگر آپ ہر روز رقم جمع نہیں کرپاتے تب بھی آپ جو کچھ کررہے ہیں وہ قابل قدر ہے۔ یاد رکھیں ، ہر ایک دن جب آپ منظم طریقے سے اپنی شوگر کو کنٹرول کرتے ہیں تو یہ طریقہ کار آپ کی طویل مدتی صحت پر اچھے اثرات مرتب کرنے مددگار ثابت ہوتا ہے۔

  • ڈائٹ مشروبات ذیابیطس کا شکار بنانے کے لیے کافی ہیں .آسٹریلوی ڈاکٹرز نے خبردار کر دیا

    ڈائٹ مشروبات ذیابیطس کا شکار بنانے کے لیے کافی ہیں .آسٹریلوی ڈاکٹرز نے خبردار کر دیا

    سڈنی:آسٹریلوی ماہرین طب دنیا میں بڑی تیزی سے پھیلنے والے مرض ذیابطس جسے شوگر کا نام بھی دیا جاتا ہے کے بارے میں بڑے ہوش ربا انکشافات کرکے اس کے شکار افراد کی جہاں رہنمائی کی ہے وہاں خطرات سے آگاہ بھی کیا ہے. مصنوعی مٹھاس والے مشروبات یا ڈائٹ سافٹ ڈرنکس موٹاپے یا ذیابیطس سے بچاﺅ میں مددگار ثابت نہیں ہوتیں اور نہ ہی وہ چینی سے بنے مشروبات سے زیادہ صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔یہ دعویٰ آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

    آسٹریلیا کے ایک ممتاز میڈیکل سینٹر ایڈیلیڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ محض 2 ہفتے تک مصنوعی مٹھاس کا استعمال ہی معدے میں موجود بیکٹریا میں تبدیلیاں لانے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے۔یہ تبدیلیاں جسم کی بلڈشوگر جذب اور کنٹرول کرنے کی صلاحیت کو بدل دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں ذیابیطس کا خطرہ بڑھتا ہے۔اس تحقیق کے دوران 2 ہفتے تک 29 صحت مند نوجوانوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔ان میں سے آدھے نوجوانوں کو مصنوعی مٹھاس کے کیپسول دیے گئے جو مقدار میں دن بھر میں ساڑھے 4 ڈائٹ سافٹ ڈرنکس کے کین کے برابر تھے۔باقی افراد کو عام کیپسول دیے گئے، جن میں کوئی مٹھاس نہیں تھی۔

    ماہرین طب نے رضاکاروں کے معدے کے بیکٹریا کا تجزیہ کیا اور جن نوجوانوں نے مصنوعی مٹھاس استعمال کی تھی، ان کے بیکٹریا میں نمایاں تبدیلیاں دریافت کیں جبکہ اس ہارمون کا اخراج کم ہوگیا جو کہ بلڈ گلوکوز لیول کو کنٹرول کرتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ محض 2 ہفتے تک مصنوعی مٹھاس کا استعمال ہی بیکٹریا کو متاثر کرکے ذیابیطس کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔اس سے قبل ہاورڈ میڈیکل اسکول کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ڈائٹ یا مصنوعی مٹھاس سے بننے والے مشروبات میں ایسا جز پایا جاتا ہے جو کہ میٹابولک سینڈروم کا باعث بن سکتا ہے جس کے نتیجے میں ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول اور موٹاپے کا امکان ہوتا ہے۔جن افراد میں میٹابولک سینڈروم ہو انہیں امراض قلب، فالج اور ذیابیطس جیسے امراض لاحق ہونے کا بہت زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔

    SHAREFacebook Twitter