Baaghi TV

Tag: ذیابیطس

  • ذیابیطس کے تقریباً 80 سے 90 لاکھ افراد کی تشخیص نہیں ہو پاتی، وزیراعظم

    ذیابیطس کے تقریباً 80 سے 90 لاکھ افراد کی تشخیص نہیں ہو پاتی، وزیراعظم

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نےذیابیطس کے عالمی دن کے موقع پر پیغام جاری کیا ہے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ذیابیطس کے عالمی دن کو منانے کا مقصد ذیابیطس اور اس کی روک تھام بارے میں آگاہی کو اجاگر کرنا ہے۔ آج، پاکستان انٹرنیشنل ذیابیطس فیڈریشن اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ساتھ مل کر ذیابیطس کے شکار لاکھوں لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ 2024 سے لے کر 2026 تک کے دورانیے میں ذیابیطس کے عالمی دن کا موضوع "ذیابیطس اور فلاح و بہبود” ہے جس میں ذیابیطس کے مریضوں کی دیکھ بھال اور ان کی مدد تک رسائی پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ دنیا میں سائنسی میدان میں بے شمار ترقی کے باوجود ہر دسواں شخص ذیابیطس کا شکار ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ ذیابیطس کے 50 فیصد مریض اب بھی غیر تشخیص شدہ ہیں۔ اس سے ذیابیطس کے مریضوں میں دل کی بیماری، گردے کی خرابی، اعصابی عوارض، فالج اور اندھے پن جیسی پیچیدگیوں کی شرح بڑھ جاتی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھی ذیابیطس کے چیلنج کا سامنا ہے اور ہمارے تقریباً 33 ملین شہری ذیابیطس کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ اس خطرناک شرح کی وجہ سے پاکستان سب سے زیادہ ذیابیطس کے مریضوں کی آبادی رکھنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ پاکستان میں مزید 11 ملین بالغ افراد میں اس مرض کی ابتدائی علامات دیکھنے میں آئی ہیں۔ ذیابیطس کے تقریباً 80 سے 90 لاکھ افراد کی تشخیص نہیں ہو پاتی، جس کی وجہ سے بروقت علاج میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ پاکستان میں ذیابیطس کے خطرے کے بڑے عوامل میں جینیاتی تغیرات، خوراک اور غیر فعال طرز زندگی کے علاوہ ماحولیاتی اور جغرافیائی وجوہات شامل ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ حکومت پاکستان ذیابیطس کے مریضوں میں اس بڑھتے ہوئے اضافے پر قابو پانے اور ذیابیطس کے مریضوں کی فلاح و بہبود کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ حکومت نے غیر متعدی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے صحت کے شعبے میں اہم اصلاحات شروع کی ہیں، جن میں ذیابیطس کو اہم ترجیح دی گئی ہے۔ حکومتی سطح پر ذیابیطس کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے مختلف پروگرام تیار کیے جا رہے ہیں۔ وفاق میں ہم وزارت صحت کے تعاون سے ذیابیطس کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے وزیر اعظم کا پروگرام (Prime Minister’s Program for Prevention and Control of Diabetes Mellitus) شروع کریں گے۔ اس پروگرام کا مقصد وفاقی علاقوں میں اس بیماری پر قابو پانا اور تمام صوبوں میں ذیابطیس کے مریضوں کے لیے یونیورسل ہیلتھ کوریج، تشخیص اور علاج فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ آگاہی اور طرز زندگی بہتر بنانا ہے۔ حکومت پاکستان سب کو صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔ ایک خوشحال مستقبل کے لیے، معیشت کا انحصار شہریوں سے بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے پر ہے۔صحت مند پاکستان ذیابیطس جیسی بیماریوں کے خاتمے کے لیے مل کر کام کرنے سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

    غیر رجسٹرڈ اور غیر قانونی وی پی اینز کی رجسٹریشن کیلئے ایک محفوظ عمل متعارف

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

  • پاکستان میں ذیابیطس ٹائپ 1 میں مبتلا  بچوں کی تعداد میں اضافہ

    پاکستان میں ذیابیطس ٹائپ 1 میں مبتلا بچوں کی تعداد میں اضافہ

    اسلام آباد: ماہرین صحت نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ایک لاکھ کے قریب بچے شوگر (ذیابیطس ٹائپ 1) میں مبتلا ہیں-

    باغی ٹی وی: ق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ماہرین صحت کا کہنا تھا کہ متاثرہ بچوں میں ذیابیطس کی بروقت نشاندہی نہیں ہو پاتی، عمومًا بچوں کے حوالے سے سمجھا ہی نہیں جاتا کہ انہیں ذیابیطس یا شوگر ہو سکتی ہےاگر بچوں میں تواتر کے ساتھ پیشاب کا آنا، شدید بھوک لگنے اور وزن میں اچانک کمی دیکھی جائے تو فوری طور پر ان کو قابل معالج کے پاس لے جا کر مشورہ کریں تاکہ شوگر چیک کر کے مناسب اقدامات کئے جا سکیں، ٹائپ ون ذیابیطس میں مبتلا کئی بچوں کی صحیح وقت پر علاج شروع نہیں ہو پاتا اور بیماری کے اولین دنوں میں ہی وہ موت کا شکار ہو جاتے ہیں،ذیا بیطس میں مبتلا بچوں کو صحت مند زندگی گزارنے کی خاطر ساری زندگی انسولین لگوانے کا مسئلہ درپیش رہے گا۔

  • چائے کا استعمال ٹائپ 2 ذیا بیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات کم کرتا ہے،تحقیق

    چائے کا استعمال ٹائپ 2 ذیا بیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات کم کرتا ہے،تحقیق

    ہیمبرگ: اماہرین نے ایک تحقیق میں کہا ہے کہ چائے کا استعمال ٹائپ 2 ذیا بیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات کو 28 فی صد تک کم کر دیتا ہے۔

    باغی ٹی وی : آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف ایڈیلیڈ اور چین کی ساؤتھ ایسٹ یونیورسٹی کے محققین نے چین سے تعلق رکھنے والےافراد کی روزانہ چائے پینے کی عادت کا مطالعہ کیاتحقیق میں دو اقسام کے افراد شامل ہوئے، ایک وہ جو چائے کے عادی نہیں تھے اور دوسرے وہ جو ایک ہی قسم کی چائے پیا کرتے تھے-

    جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں منعقد یورپین ایسو سی ایشن فار اسٹڈی آف ڈائیبیٹیز کے سالانہ اجلاس میں پیش کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ چائے میں ایسے اینٹی آکسیڈنٹ اور انسداد سوزش اثرات ہوتے ہیں جو انسولین کی حساسیت کو بہتر کردیتے ہیں یہ اثرات بالخصوص ڈارک ٹی (قدیم چائے جس کو بنانے کے لیے اندرونی طور کیمیائی تبدیلیاں لائی جاتی ہیں) میں زیادہ پائے گئے۔

    کوئی ملک آپ کو ڈالر نہیں دے گا اگر آپ کے شہری محفوظ نہیں ہوں …

    تحقیق کے شرکا سے ان کے چائے پینے کے معمول (یعنی کبھی نہیں، کبھی کبھار سے اکثر اور روزانہ) اور چائے کی قسم (سبز، سیاہ، ڈارک یا کوئی دوسری) کے متعلق پوچھا گیا بعد ازاں اکٹھے کیے گئے اس ڈیٹا کا جائزہ ان افراد کے پیشاب میں شوگر کی مقدار، انسولین کی مزاحمت اور گلائکیمک اسٹیٹس یعنی ٹائپ 2 ذیا بیطس کی تاریخ، انسداد ذیا بیطس ادویات کا موجودہ استعمال یا 75 گرام اورل گلوکوز ٹالر ینس ٹیسٹ جاننے کے لیے کیے جانے والے ٹیسٹ کے نتائج کے حساب سے کیا گیا۔

    مفاہمتی پالیسی کے حامی گروپ کی نواز شریف کی وطن واپسی ملتوی کرنے کی تجویز

    تحقیق کے مطابق روزانہ چائے پینے کا تعلق پیشاب میں گلوکوز کے اخراج میں اضافے اور انسولین کی مزاحمت میں کمی سے تھا، جس سے معلوم ہوا کہ پری ڈائبیٹیز (بیماری سے پہلے کا مرحلہ) اور ٹائپ 2 ذیا بیطس کے امکانات کم تھے ذیا بیطس میں مبتلا افراد عموماً رینل گلوکوز ری ایبزاربشن میں مبتلا پائے گئے اس کیفیت میں گردے گلوکوز کو جمع کر کے رکھتے ہیں، پیشاب کے ذریعے خارج نہیں کرتے اور بلڈ شوگر کی بلند سطح کا سبب بنتے ہیں وہ لوگ جو ایک کپ چائے سے لطف اندوز ہوتے ہیں ان میں کبھی بھی چائے نہ پینے والوں کی نسبت پری ڈائیبیٹیز کے خطرات 15 فی صد جبکہ ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات 28 فی صد تک کم ہوتے ہیں۔

    عدالت نے مونس الٰہی کا اشتہار شائع کرنے کا حکم دے دیا

  • سائنسدانوں کا ذیابیطس سے چھٹکارا پانے کیلئے گانا سننے کا مشورہ

    سائنسدانوں کا ذیابیطس سے چھٹکارا پانے کیلئے گانا سننے کا مشورہ

    سائنسدانوں نے ذیابیطس کے مریضوں کے سیلز کو متحرک کرنے کیلئے موسیقی کا استعمال کرتے ہوئے ایک اور نیا طریقہ تیار کیا ہے، تاکہ خلیوں کو منٹوں میں انسولین جاری کرنے کے لیے متحرک کیا جا سکے-

    باغی ٹی وی:معروف طبی جریدے ”دی لانسیٹ“ میں شائع تحقیق کےمطابق ای ٹی ایچ زیورخ میں بائیو سسٹم سائنس اور انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر مارٹن فوسنیگر اور ان کے ساتھی انسولین تیار کرنے والے ڈیزائنر سیلز کی تیاری پر کام کر رہے ہیں ان سیلز کو جسم کے باہر سے کنٹرول کیا جاسکے گا کہ خون میں کب اور کتنی انسولین چھوڑنی ہے –

    ذیابیطس کے مریضوں کی آسانی کیلئے محققین نے ایسے خلیات بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جنہیں پیوندکاری کے ذریعے انسانی جسم کا حصہ بنا دیا جائے گا یہ خلیات ایک مخصوص حکم پر انسولین پیدا کرسکیں گے اور انہیں باہر سے کنٹرول کیا جاسکے گا۔

    ممالیہ جانوروں کے خلیوں میں تناؤ پر قابو پانے والی لوڈنگ اور ماڈل کارگوز کی ٹرگر-انڈیکیبل ریلیز کو قابل بنانے کے لیے اظہار کیا گیا ہے متعدد بیماریوں کے علاج کے لیے اگلی نسل کے سیل پر مبنی علاج میں استعمال کے لیے بہت سے جین سوئچز تیار کیے گئے ہیں تاہم، چھوٹے مالیکیولر ٹرگر مرکبات کی نظامی ترسیل کو فارماکوکینیٹک چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کے مضر اثرات، اور ٹریس لیس محرکات، جیسے روشنی، الٹراساؤنڈ، مقناطیسی میدان، ریڈیو لہریں، بجلی اور حرارت، کو بھی مختلف چیلنجز کا سامنا ہے اس طرح، اب بھی نئے سوئچنگ طریقوں کی ضرورت ہے۔

    بھارتی حکومت چاند کو ہندو سلطنت قراردے،ہندو مہاسبھا کے قومی صدر کا مطالبہ

    سائنس دانوں نے ان سیلز کو متحرک کرنے کیلئے موسیقی کا استعمال کرتے ہوئے ایک اور نیا طریقہ تیار کیا ہے، تاکہ خلیوں کو منٹوں میں انسولین جاری کرنے کے لیے متحرک کیا جا سکے۔

    فوسنیگر کے مطابق دورانِ تحقیق پایا گیا کہ یہ خلیات خاص طور پر برطانوی راک بینڈ کے گانے ”We Will Rock You“ سن کر اچھا کام کرتے ہیں تاہم، یہ کلینیکل ایپلی کیشن ابھی بہت دور ہے محققین نے ابھی اس تصور کا صرف ایک ثبوت فراہم کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جینیاتی نیٹ ورکس کو مکینیکل محرکات جیسے آواز کی لہروں سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

    ذیابیطس کے مریض اس ہارمون کی بیرونی سپلائی پر انحصار کرتے ہیں، جو باقاعدہ انجیکشن یا جسم سے منسلک انسولین پمپ کے ذریعے لی جاتی ہے انسولین پیدا کرنے والے خلیوں کو آواز کی لہروں کے لیے قابل قبول بنانے کے لیے، محققین نے بیکٹیریم ”ای کولی“ سے ایک پروٹین کا استعمال کیابیکٹیریم کی جھلی میں واقع اس طرح کے پروٹین مکینیکل محرکات کا جواب دیتے ہیں اور یہ جانوروں اور بیکٹیریا میں عام ہیں یہ سیلز اندرونی حصے میں کیلشیم آؤنز کی آمد کو منظم کرتے ہیں۔

    اسامہ بن لادن کوقتل کرنے والا امریکی فوجی گرفتار

    محققین نے اس بیکٹیریل آئن چینل کے بلیو پرنٹ کو انسولین پیدا کرنے والے انسانی خلیات میں شامل کیا ، جس سے ان خلیوں کے لیے خود آئن چینل بنانا اور اسے اپنی جھلی میں سرایت کرنا ممکن ہو گیا ان خلیوں میں چینل آواز کے جواب میں کھلتا ہے، جس سے مثبت چارج شدہ کیلشیم آئنوں کو خلیے میں بہنے کی اجازت ملتی ہے۔

    یہ خلیے کی جھلی میں چارج الٹنے کا باعث بنتا ہے، جس کے نتیجے میں خلیے کے اندر چھوٹے انسولین سے بھرے ویسکلز سیل کی جھلی کے ساتھ مل جاتے ہیں اور انسولین کو باہر کی طرف چھوڑ دیتے ہیں محققین نے سب سے پہلے اس بات کا تعین کیا کہ کون سے تعدد اور حجم کی سطح آئن چینلز کو سب سے زیادہ مضبوطی سے چالو کرتی ہے۔

    انہوں نے پایا کہ تقریباً 60 ڈیسیبلز (ڈی بی) کے حجم کی سطح اور 50 ہرٹز کی باس فریکوئنسی آئن چینلز کو متحرک کرنے میں سب سے زیادہ مؤثر ہیں زیادہ سے زیادہ انسولین کے اخراج کو متحرک کرنے کے لیے، آواز یا موسیقی کو کم از کم تین سیکنڈ تک جاری رکھنا پڑتا ہے اور زیادہ سے زیادہ پانچ سیکنڈ کے لیے روکنا پڑتا ہے۔

    خواتین مردوں سے زیادہ دھوکے باز ہوتی ہیں، نئی تحقیق

    آخر میں محققین نے دیکھا کہ کون سی موسیقی کی انواع نے 85 ڈی بی کے حجم میں انسولین کا سب سے مضبوط ردعمل پیدا کیا جس کے نتیجے میں راک میوزک جیسے گانا ”وی وِل راک یو“ سب سے کامیاب رہا، اس کے بعد ایکشن مووی ”دی ایوینجرز“ کا ساؤنڈ ٹریک آیا۔

    کلاسیکی موسیقی اور گٹار موسیقی پر انسولین کا ردعمل کافی کمزور تھا اس نظام کو جانچنے کے لیے، محققین نے انسولین پیدا کرنے والے خلیوں کو چوہوں میں لگایا، ان پیٹ براہ راست لاؤڈ اسپیکر کی جانب تھےیہ واحد طریقہ تھا جس سے محققین انسولین کے ردعمل کا مشاہدہ کر سکتے تھے اگرچہ، چوہے اس ”ماؤس ڈسکو“ میں آزادانہ طور پر چلنے پھرنے کے قابل تھے، لیکن موسیقی انسولین کی رہائی کو متحرک کرنے میں ناکام رہی۔

    افغانستان میں سیاحتی مقام جانے پر خواتین کو روک دیا گیا

    فوسینگر نے بتایا کہ ہمارے ڈیزائنر خلیے صرف اس وقت انسولین جاری کرتے ہیں جب صحیح آواز کے ساتھ امپلانٹ کے اوپر کی جلد پر براہ راست میوزک چلایا جائے انہوں نے واضح کیا کہ ہارمون کا اخراج محیطی شور جیسے گفتگو، ایمبولینس سائرن، لان موورز یا فائر بریگیڈ سائرن سے نہیں ہوتا ایک دفعہ انسولین کے اخراج کے بعد خلیات کو مکمل طور پر بھرنے کے لیے چار گھنٹے درکار ہوتے ہیں، اس لیے اگر خلیے ہر گھنٹے کے وقفے سے انسولین چھوڑیں گے پورا لوڈ جاری نہیں کر پائیں گے اور جان لیوا ہائپوگلیسیمیا (کم شوگر) کا سبب بنیں گے۔

  • ورزش اور وزن کی کمی سے ذیابیطس کامرض دور ہوسکتا ہے، ماہرین

    ورزش اور وزن کی کمی سے ذیابیطس کامرض دور ہوسکتا ہے، ماہرین

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریض ورزش کا معمول جاری رکھتے ہوئے اگر اپنے وزن میں 10 فیصد تک کمی کرلیں تو اس سے بہت سے طبی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔

    سیٹ لوئی میں واقع واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن سے وابستہ ماہرین نے کہا ہے کہ اگر آپ ذیابیطس کے ممکنہ یا مرض کے لاحق ہونے سے پریشان ہیں تو وزن کم کرنے کے ساتھ اگر ورزش کو شامل کرلیا جائے تو انسولین کی حساسیت دوگنا بڑھ جاتی ہے۔ اس سے پری ڈائبیٹس کا اثرکم ہوجاتا ہے اور شوگرکامرض آپ سے بہت دور ہوسکتا ہے۔

    تحقیق میں ماہرین نے 30 س 49 بی ایم آئی کے بہت سے رضاکاروں کو شامل کیا گیا جن میں انسولین سے مزاحمت پیدا ہورہی تھی۔ ان میں پری ڈائبیٹس میں مبتلا افراد بھی شامل تھے۔ تمام رضاکاروں کو دوگروہوں میں شامل کیا گیا۔ ایک گروہ کو صرف وزن کم کرنے کا کہا گیا اور انہوں نے لگ بھگ 10 فیصد وزن گھٹایا۔

    کولمبیا میں 2 طیارے پرواز کے دوران ٹکرا گئے،ویڈٰیو

    دوسرے گروہ کو وزن کی اتنی ہی فیصد کم کرائی گئی اور باقاعدگی سےورزش بھی کرائی گئی جن افراد نے ورزش اور وزن میں کمی کی تھی ان کو غیرمعمولی فائدہ ہوا اور وہ ذیابیطس سے دور ہوتے چلے گئے جبکہ انسولین مزاحمت کا معاملہ بھی بہتری دکھارہا تھا اسی بنا پر پری ڈائبیٹس مریضوں سے کہا گیا ہے کہ وہ وزن پر سختی سے قابو رکھیں اور ورزش بھی جاری رکھیں۔

    کائنات کے دو بڑے معموں کا مشاہدہ کرنے یوکلیڈ ٹیلی سکوپ روانہ

    ڈاکٹر سیموئیل کلائن کے مطابق انسولین سینسٹیوٹی کا تعلق نہ صرف ٹائپ ٹو ذیابیطس سے ہے بلکہ یہ جگرکی چربی، خون میں چکنائیوں اور موٹاپے کی وجہ بھی بنتی ہے۔ اس کیفیت کو ورزش اور وزن میں کمی سے بہت اچھی طرح کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

    ایلون مسک نے ٹوئٹر پرعارضی طور پر نئی حد بندیاں متعارف کروا دیں

  • موٹاپے اور ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کی اہم ترین وجہ دریافت

    موٹاپے اور ذیابیطس ٹائپ 2 سے متاثر ہونے کی اہم ترین وجہ دریافت

    موٹاپا اور ذیابیطس ٹائپ 2 کو موجودہ عہد میں وبا کی طرح پھیلنے والے طبی مسائل قرار دیا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل بی ایم سی میڈیسن میں شائع برطانیہ کی ناٹنگھم ٹرینٹ یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ معدے میں موجود بیکٹریا کے ذرات چربی کے خلیات کو نقصان پہنچا کر جسمانی وزن میں اضافے کا باعث بنتے ہیں تحقیق کے مطابق endotoxins نامی یہ زہریلے ذرات خون میں شامل ہوکر چربی کے خلیات پر براہ راست اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

    سعودی عرب سے پاکستان آنیوالی مسافر میں منکی پاکس کی تصدیق

    اس تحقیق میں 156 افراد کو شامل کیا گیا تھا جن میں سے 63 موٹاپے کے شکار تھے ان افراد کے خون اور چربی کے نمونے حاصل کیے گئے اور دریافت ہوا کہ موٹاپے کے شکار افراد کے چربی کے خلیات کا توانائی استعمال کرنے والے براؤن فیٹ خلیات میں تبدیل ہونے کا امکان گھٹ جاتا ہے۔

    محققین نے بتایا کہ اس کی ممکنہ وجہ موٹاپے کے شکار افراد کے خون میں endotoxins ذرات کی بہت زیادہ مقدار ہے endotoxins بیکٹریل خلیاتی دیواروں میں پائےجانےوالے زہریلےذرات ہوتے ہیں انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ جسمانی وزن میں کمی کے لیے کرائی جانے والی سرجری سے خون میں ان ذرات کی تعداد گھٹ جاتی ہے جس سے چربی کے خلیات کی صحت بہتر ہوتی ہے۔

    برطانیہ میں تین افراد کے ڈی این اے کے ساتھ بچے کی پیدائش

    محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ کس طرح بیکٹریا موٹاپے اور اس سے منسلک امراض جیسے ذیابیطس ٹائپ 2 کا باعث بن سکتے ہیں جو پھٹنے پر خارج ہوتے ہیں صحت مند معدے میں یہ ذرات ان جرثوموں کی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں جو انسانی صحت کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتے ہیں موٹاپے کے شکار افراد کے معدے میں موجود رکاوٹ کمزور ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں یہ ذرات خون میں شامل ہوکر جسم کے دیگر حصوں تک پہنچ جاتے ہیں-

    درجہ حرارت میں تشویشناک اضافہ،اقوام متحدہ نے خبردار کر دیا

  • ہر آدھے گھنٹے میں تین منٹ کی چہل قدمی خون میں شوگر کی سطح کو کم کرتی ہے

    ہر آدھے گھنٹے میں تین منٹ کی چہل قدمی خون میں شوگر کی سطح کو کم کرتی ہے

    ہر آدھے گھنٹے میں تین منٹ کی چہل قدمی خون میں شوگر کی سطح کو کم کرتی ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبر رساں ادارے "بی بی سی” کے مطابق یہ بات برطانیہ میں ایک تحقیق میں سامنے آئی ہےیوکے ذیابطیس چیریٹی کی جانب سے یہ مشورہ دیا گیا ہےکہ سات گھنٹے کے اندر اندر ہر آدھے گھنٹے میں تین منٹ کی واک ذیابیطس ٹائپ ون کے مریضوں کے خون میں شوگر لیول کو بہتر بنا سکتی ہے یہ تحقیق کل 32 مریضوں پر کی گئی ہے۔

    وہ غذائی عوامل جو عالمی سطح پرٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب بنتے ہیں

    ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں تقریباً چار لاکھ افراد ذیابیطس ٹائپ ون سے متاثر ہیں

    ذیابیطس یو کے میں ریسرچ کی سربراہ ڈاکٹر الزبتھ رابرٹسن کا کہنا ہےکہ ٹائپ 1 ذیابیطس کے شکار افراد کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اپنے خون میں شوگر کی سطح پر نظر رکھنا ایک تھکا دینے والا کام ہو سکتا ہے تحقیق کے نتائج ظاہر کرتےہیں کہ طرز زندگی میں سادہ تبدیلیاں، جیسے کہ چلتے وقت فون پر بات نہ کرنا، ذیابطیس سےبچاؤ میں مدد فراہم کرتی ہیں ہم اس کے طویل مدتی اثرات کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کرنے کے لیے پرجوش ہیں-

    یونیورسٹی آف سنڈرلینڈ سے وابستہ اور اس تحقیق کے سرکردہ محقق ڈاکٹر میتھیو کیمبل کا کہنا ہے کہ وہ اس کم درجے کی سرگرمی کے ایسے نتیجے پر حیران ہیں ایکٹیویٹی اسنیکنگ‘ ٹائپ 1 ذیابیطس کے شکار لوگوں کے لیے ایک بڑی تبدیلی کا آغاز ہو سکتی ہے جو مزید باقاعدہ جسمانی ورزش کر سکتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کے لیے، یہ خون میں شوگر کی سطح کو باقاعدہ رکھنے کا ایک آسان طریقہ ہو سکتا ہے۔

    فرنچ فرائز کھانے سے نفسیاتی صحت پرمنفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں،تحقیق

    اس ابتدائی مرحلے کے ٹرائل میں ٹائپ ون ذیابیطس میں مبتلا 32 افراد نے دو دن تک سات گھنٹے بیٹھنے اور آدھے گھنٹے کے وقفے سے چلنے کی ورزش کی ایک سیشن میں انھوں نے وقفے وقفے سے واکنگ بریک لیا اور دوسرے سیشن میں وہ بیٹھے رہے ہر سیشن کے آغاز سے 48 گھنٹے تک ان کے بلڈ شوگر کی سطح کو باقاعدگی سے مانیٹر کیا گیا۔ اس دوران سب نے ایک جیسا کھانا کھایا اور ان کی انسولین کی مقدار میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

    48 گھنٹے تک جاری رہنے والی اس تحقیق میں پتا چلا کہ باقاعدگی سے چہل قدمی کرنے سے خون میں شوگر کی سطح کم رہتی ہے (6.9 ملی میٹر فی لیٹر) جبکہ مسلسل بیٹھے رہنے کے دوران یہ 8.2 ملی میٹر فی لیٹر تک رہتی ہے۔

    ڈاکٹر کیمبل کہتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کو ترغیب دینے کا یہ آسان طریقہ بہت بڑی آبادی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔

    دہی پر کی گئی نئی تحقیق میں دہی کے مزید حیران کن فوائد سامنے آ گئے

    واضح رہے کہ جب جسم کا مدافعتی نظام لبلبہ کے انسولین پیدا کرنے والے خلیوں پر حملہ کرتا ہے تو اس حالت میں لبلبہ انسولین پیدا نہیں کر پاتا اور جسم ٹائپ 1 ذیابیطس کا شکار ہو جاتا ہےانسولین خون میں شوگر کی مقدار کو کنٹرول کرتی ہے۔ انسولین کی کمی کی وجہ سے خون میں شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کو اس حالت سے بچنے کے لیےباقاعدہ وقفوں سےمصنوعی انسولین لینا پڑتی ہے اگر خون میں شوگر کی مقدار زیادہ دیر تک کم رہے تو مریض کو کئی خطرناک بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔ اس میں گردے کی خرابی، بینائی کی کمی اور ہارٹ اٹیک شامل ہیں-

  • وہ غذائی عوامل جو عالمی سطح پرٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب بنتے ہیں

    وہ غذائی عوامل جو عالمی سطح پرٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب بنتے ہیں

    ایک تحقیق میں ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ 2018 میں خراب غذا کے سبب 1 کروڑ 41 لاکھ افراد ٹائپ 2 ذیا بیطس میں مبتلا ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر میڈیسن میں شائع کردہ تحقیق کے مطابق 1990 سے 2018 کے درمیان کیے جانے والے تجزیے میں عالمی سطح پر دیکھا گیا کہ وہ کونسے غذائی عوامل تھے جو اتنے بڑے پیمانے پر ٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب بنے تحقیق کے نتائج 184 ممالک کی غذائی مدخل کے تحقیقی ماڈل پر مبنی ہیں جو امریکا میں قائم ٹفٹس یونیورسٹی کے فرائیڈمین اسکول آف نیوٹریشن سائنس اینڈ پولیسی کے محققین نے بنایا تھا۔

    دہی پر کی گئی نئی تحقیق میں دہی کے مزید حیران کن فوائد سامنے آ گئے

    درحقیقت، مطالعہ کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2018 میں دنیا بھرمیں ٹائپ 2 ذیابیطس کے 10 میں سے 7 کیسز کا تعلق کھانے کے ناقص انتخاب سے تھا 2018 میں ناقص خوراک کی وجہ سے ٹائپ 2 ذیابیطس کے 8.6 ملین مزید کیسز سامنے آئے، اس تحقیق میں پتا چلا۔

    سائنس دانوں نے بتایا کہ تحقیق میں 11 غذائی عوامل میں سے تین عوامل ایسے پائے گئے جںہوں نے عالمی سطح پر ٹائپ 2 ذیا بیطس کی شرح میں اضافے میں کردارادا کیاان عوامل میں ثابت اناج جیسے کہ جو اورثابت گندم کا ناکافی استعمال، چھنے ہوئے چاول اور گندم کا زیادہ استعمال اور پروسیسڈ گوشت کا ضرورت سے زیادہ استعمال تھے۔

    اس بیماری کے 60 فیصد سے زیادہ عالمی خوراک سے منسوب کیسز صرف چھ نقصان دہ غذائی عادات کے زیادہ استعمال کی وجہ سے تھے: بہت زیادہ بہتر چاول، گندم اور آلو کھانا؛ بہت زیادہ پروسیس شدہ اور غیر پروسس شدہ سرخ گوشت؛ اور بہت زیادہ چینی والے میٹھے مشروبات اور پھلوں کا رس پینا-

    ماہرین نے ذیابیطس پھیلنے کی اہم وجہ دریافت کر لی

    محققین نے پایا کہ بہت زیادہ غیر صحت بخش غذائیں کھانا عالمی سطح پر صحت بخش غذا نہ کھانے سے زیادہ ٹائپ 2 ذیابیطس کا باعث بنتا ہے، خاص طور پر مردوں کے لیے خواتین کے مقابلے میں، بوڑھے بالغوں کے مقابلے میں کم عمر، اور شہری بمقابلہ دیہی باشندوں میں۔

    تحقیق کے نتائج کے مطابق پھلوں کا رس پینے اور کم نشاستے والی سبزیوں، گری دار میووں یا بیجوں کی ناکافی کھپت کے اس بیماری کے نئے کیسز پر انتہائی کم اثرات تھے۔

    ٹفٹس یونیورسٹی میں غذائیت کے پروفیسراوربوسٹن کےٹفٹس سکول آف میڈیسن میں میڈیسن کےپروفیسرسینئر مصنف ڈاکٹردریوش مظفریان کہتے ہیں کہ ہمارا مطالعہ بتاتا ہے کہ کاربوہائیڈریٹ کا ناقص معیار عالمی سطح پر خوراک سے منسوب ٹائپ 2 ذیابیطس کا ایک اہم محرک ہے-

    لاعلاج سمجھے جانیوالے مرض ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات ممکن

    تحقیق کے سینئر مصنف دریوش مظفرین کا کہنا تھا کہ نتائج میں ایسے علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں غذا کی بہتری اور ذیا بیطس کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے ملکی اور غیر ملکی سطح پر توجہ کرنی ہوگی۔

    ٹفٹس ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن لیٹر کے چیف ایڈیٹر مظفرین نے کہا کہ یہ نئی دریافتیں غذائیت کو بہتر بنانے اور ذیابیطس کے تباہ کن بوجھ کو کم کرنے کے لیے قومی اور عالمی توجہ کے لیے اہم شعبوں کو ظاہر کرتی ہیں-

  • ذیا بیطس کے مریضوں میں کینسر کے واقعات اور اموات کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے،تحقیق

    ذیا بیطس کے مریضوں میں کینسر کے واقعات اور اموات کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے،تحقیق

    ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں بلڈ شوگر اور انسولین کی سطح میں اضافے کے اثرات کے نتیجے میں بعض قسم کے کینسر کے واقعات اور اموات کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا مریضوں کی پتے، آنتوں یا جگر کے سرطان سے موت واقع ہونے کے امکانات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    جرنل ڈائبیٹولوجیا میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق کے مطابق مجموعی طور پرذیابیطس میں مبتلا افراد کی کینسر سے موت واقع ہونے کے امکانات 18 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں جبکہ وہ خواتین جو ذیابیطس میں مبتلا ہوتی ہیں ان کی موت اینڈومیٹریل کینسر سے واقع ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

    اگرچہ پچھلے مطالعات میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں قلبی نتائج کے بارے میں بڑے پیمانے پر چھان بین کی گئی ہے، لیکن اس بارے میں کم معلوم ہے کہ آیا کینسر کی شرح اموات کے لیے ایسی عدم مساوات موجود ہے۔

    یونیورسٹی آف لیسٹر کے محققین کا کہنا تھا کہ کینسر کے خطرے کو بھی اتنی ہی توجہ دی جانی چاہیئے جتنی ذیابیطس سے پیش آنے والی دیگر پیچیدگیوں، جیسے کہ قلبی مرض، کو دی جاتی ہے۔

    ہوپ اگینسٹ کینسر نامی خیراتی ادارے کی مالی اعانت سے کیے جانے والے مطالعے میں یہ معلوم ہوا کہ ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا خواتین کی چھاتی کے سرطان سے موت واقع ہونے کے خطرات 9 فی صد زیادہ تھے اور ان خطرات میں اضافہ سامنے آرہاتھا۔

    انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط کرتا ہے

    سائنس دانوں نے بتایا کہ چھاتی کے سرطان کے معائنے کا دائرہ وسیع کرنا فائدہ مند ہوسکتا ہے(جو فی الحال انگلینڈ میں 50 سے 71 سال کی خواتین کا کیا جاتا ہے) تاکہ ذیابیطس میں مبتلا کم عمر خواتین کا معائنہ کیا جاسکے۔

    1998 سے 2018 تک جاری رہنے والی تحقیق میں محققین کی ٹیم نے ذیابیطس میں مبتلا 1 لاکھ 37 ہزار 804 برطانوی شہریوں کے ڈیٹا کا معائنہ کیا جنس، موٹاپا، نسل، سماجی و اقتصادی حیثیت، اور تمباکو نوشی کی حیثیت جیسے عوامل کا استعمال کرتے ہوئے تمام وجوہات، تمام کینسر، اور کینسر سے متعلق شرح اموات کے رجحانات کا تجزیہ کیا جن کی اوسط عمر 64 برس تھی اور ان کو اوسطاً 8.4 سال تک دیکھا گیا۔معائنے کے اس دورانیے میں تحقیق میں شریک 39 ہزار سے زائد افراد کی موت واقع ہوئی۔

    تحقیق میں یہ بات معلوم ہوئی کہ مطالعے کے دوران 55 سے 65 سال کے درمیان ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں کینسر سے ہونے والی اموات معمولی سی کم ہوئیں لیکن 75 سے 85 سال کے دوران اس تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔

    روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

  • محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی

    محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی

    سویڈن: ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جسم میں بعض اقسام کے پروٹین امراض اور جان لیوا کیفیات کی وجہ بھی بن سکتے ہیں-

    باغی ٹی وی : سویڈن کے سائنسدانوں نے 4000 افراد پر مسلسل 22 سال تک تحقیق کی ہے اور بتایا ہے کہ جن افراد میں پروسٹیسن پروٹین کی مقدار زائد ہوتی ہے ان میں ذیابیطس کی شرح 76 فیصد اور کینسر کی شرح یا اس سے مرنے کا رحجان 43 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

    پاکستانی خواتین میں چھاتی کے سرطان میں اضافہ و شرح اموات لمحہ فکریہ

    اس سے قبل ماہرین نے ایک تحقیق میں بتایا تھا کہ پروسٹیسن جسمانی جلد کے ایپی تھیلیئل خلیات میں پائے جاتے ہیں اور یوں ان میں ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اب اگر ذیابیطس اور پروسٹیسن بڑھ جائے تو اس کے بعد کینسر سےمرنے کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں تحقیق کے نتائج یورپی ایسوسی ایشن کے جریدے ای اے ایس ڈی میں شائع ہوئے۔

    تحقیقی نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ پروسٹاسن نامی پروٹین کی بلند سطح رکھنے والے افراد میں سرطان کے باعث مر جانے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ اس ضمن میں عمر، جنس، کمر کی چوڑائی، شراب نوشی اور تمباکو نوشی کے نمونوں، ایل ڈی ایل، سسٹولک بلڈ پریشر اور اینٹی ہائپر ٹینشن ادویات جیسے اہم عوامل کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس کےبعد ہی کہا ہے کہ پروسٹیسن پروٹین کی زیادہ مقدار بہت نقصان دہ ہوسکتی ہے-

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    محققین کا کہنا ہے کہ تمام تر عوامل کا جائزہ لینے کے بعد بھی حیرت انگیز طور پر پروسٹیسن نامی پروٹین کے باعث کینسر سے موت کے خدشات یکساں رہے سویڈن میں یہ تحقیق سال 1993 میں شروع ہوئی تھی جسے لیونڈ یونیورسٹی کےماہرین نے انجام دیا تھا جسے اپنی نوعیت کا آج تک کا سب سے جامع تجزیہ قرار دیا جارہا ہے-

    اس طرح ذیابیطس اور کینسر کی ایک نئی وجہ سامنے آئی ہے ذیابیطس اور کئی اقسام کے سرطان مثلاً آنتوں کے کینسر اور بریسٹ کینسر کے درمیان بھی تعلق دیکھا گیا ہے۔ پھر ذیابیطس سے لبلبے اور جگر کے سرطان کا خطرہ بھی دوگنا ہوسکتا ہے اور اس تعلق پر مزید غورکرنا باقی ہے۔

    تحقیق میں شامل پروفیسر گنار اینگسٹروئم کہتے ہیں کہ تحقیق سے ہمیں پروٹین پرغور کرنے سے ہم کینسر اور ذیابیطس کو مزید سمجھنے اور علاج کے قابل ہوسکیں گے۔

    خواتین ڈاکٹروں کے پاس مشکل اور ایمرجنسی کیسز زیادہ ہوتے ہیں،تحقیق