Baaghi TV

Tag: ذیابیطس

  • ذیابیطس سے بینائی سے محروم ہونیوالوں کیلئے کم لاگت والا نیا لیزر علاج دریافت

    ذیابیطس سے بینائی سے محروم ہونیوالوں کیلئے کم لاگت والا نیا لیزر علاج دریافت

    سان فرانسسكو: ایک نئی تحقیق کے مطابق ذیابیطس کےنتیجےمیں بینائی سے محروم ہوجانے والے مریضوں کے لیے کم لاگت والا اور مؤثر نیا لیزر علاج دریافت ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : ذیابیطس کے نتیجے میں بینائی سے محروم مریضوں کے علاج پر تحقیق کرنے والے ایک نئے کلینیکل ٹرائل نے لیزر علاج کی ایک قسم کو متعارف کرایا ہے، جو مریضوں اور صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں کے لیے بہترین آپشن پیش کرتا ہے-

    تیزی سے بدلتی ہوئی آب وہوا سے دنیا بھر میں انفیکشن بڑھ رہے ہیں،تحقیق

    تاہم فی الحال ڈائیبیٹک میکیولر اوئیڈِما(ڈی ایم او) میں مبتلا افراد کو متعدد علاج میسر ہیں جن میں دو قسم کے لیزر علاج اور آنکھوں کےانجیکشنز شامل ہیں۔

    اس وقت ذیابیطس میکیولر اوئیڈِما (DMO) والے لوگوں کو علاج کے کئی اختیارات پیش کیے جاتے ہیں، بشمول دو قسم کے لیزر علاج اور آنکھوں کے انجیکشن۔ ڈی ایم او ذیا بیطس کےمریضوں کی بینائی کو پیش آنے والا سب سے عام مسئلہ ہے جس میں 2 کروڑ 70 لاکھ سے زائد افراد مبتلا ہیں۔

    ڈی ایم او تب ہوتا ہے جب ریٹینا میں موجود خون کی رگیں رسنے لگتی ہیں اور بالکل سامنے کا منظر دکھانے والے حصے ’میکیولا‘ پر مواد جمع ہوجاتا ہے۔رگوں کا رسنا تب شروع ہوتا ہےجب بلند بلڈ شوگر خون کی رگوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔

    محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    ڈی ایم او کی شدت کا تعین اکثر میکولا کی موٹائی کی پیمائش کے ذریعے کیا جاتا ہے، جو بدلے میں پیش کردہ علاج کا تعین کرے گا۔ زیادہ شدید DMO والے مریضوں (400 مائیکرون یا اس سے زیادہ موٹائی کے ساتھ) کا علاج آنکھوں میں انجیکشن لگا کر کیا جاتا ہے، جسے asanti-VEGFs کہا جاتا ہے۔

    ہلکے DMO والے مریضوں (400 مائیکرون سے کم موٹائی کے ساتھ) کا علاج میکولر لیز سے کیا جا سکتا ہے، جو معیاری تھریشولڈ لیزر یا سب تھریشولڈ مائکرو پلس لیزر ہو سکتا ہے۔ سابقہ ​​ریٹنا پر جلن یا داغ پیدا کرتا ہے۔ مؤخر الذکر، جو کہ ایک جدید ترین ٹیکنالوجی ہے، ریٹینا پر جلنے یا داغ یا کسی بھی قسم کی نظر آنے والی تبدیلی یا نشان چھوڑے بغیر کام کرتی ہے۔

    اوپھتھیمولوجی نامی جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں معلوم ہوا کہ سب تھریش ہولڈ مائیکرو پلس لیزر مریض کی بینائی کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر تھی۔ اس لیزر سے ریٹینا پر جلن بھی نہیں ہوتی ہے۔

    اس لیزرعلاج کےلیے متواتر کلینک جانے کی بھی ضرورت نہیں ہےاور اس کی قیمت آنکھوں میں لگائےجانے والے انجیکشنز کی نسبت بہت کم ہے۔ ان انجیکشنز کی قیمت لیزر علاج سے دس گُنا زیادہ ہے۔

    زیادہ سوچنا دماغ میں زہریلے کیمیکلز کی نشوونما کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

  • امریکی محققین نے ذیابیطس کی وجوہات دریافت کر لیں

    امریکی محققین نے ذیابیطس کی وجوہات دریافت کر لیں

    تحقیق میں ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ رگوں کا مخصوص نظام اگر غیر فعال ہو جائے تو ایسی میٹابولک تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو ذیابیطس اور اس سے ملحقہ بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔

    باغی ٹی وی : ذیابیطس کا مرض دنیا بھر میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے، اگر مرض قابو میں نہ رہے تو ذیابیطس کے مریضوں کو مختلف اور سنگین پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    جریدے سرکولیشن ریسرچ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق امریکی محققین نے ذیابیطس کی وجوہات دریافت کی ہیں جن کے مطابق رگوں کا نظام غیر فعال ہونے سے ایسی میٹابولک تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو ذیابیطس کا باعث بنتی ہیں بعدازاں ذیابیطس کے مریضوں کو اس کے سبب دیگر مختلف سنگین بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    ماہرِ میڈیسین پروفیسر تھامس جے بیٹسن نے بتایا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سفید چربی اور ورم خون کی شریانوں کو غیر فعال کرنے کا باعث بنتے ہیں، جس سے ذیابیطس کے مریض قلب، بینائی اور گردوں کے امراض کا سامنا کرتے ہیں تاہم حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ درحقیقت خون کی رگیں اور شریانیں اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتی ہیں جس کا ہمیں پہلے علم نہیں تھا۔

    ذیابیطس کو خون کی شریانوں پر منفی اثرات کے ساتھ ساتھ جسم میں براؤن فیٹ کے ذخیرے میں کمی سے بھی جوڑا جاتا ہے جو جسمانی درجہ حرارت اور جسمانی وزن کو کنٹرول کرنے اور توانائی کی فراہمی کا کام کرتا ہے۔

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    اس تحقیق کے دوران ذیابیطس سے متاثرہ چوہوں پر مختلف تجربات کیے گئے جن سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ان میں انسولین کی حساسیت اس وقت بڑھی جب خون کی شریانوں کا وزن کم ہوا اس کے نتیجے میں ان چوہوں میں براؤن فیٹ کی مقدار بڑھ گئی اور خون کی شریانوں کو پہنچنے والا نقصان کم ہو گیا۔

    ماہرین نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ انسانی جسم میں انسولین خون کی شریانوں کو خلیات بھیجنے میں مدد فراہم کرتی ہے، اس کی مدد سے نائٹرک آکسائیڈ بننے کا عمل شروع ہو جاتا ہے جس سے براؤن فیٹ کے خلیات بنتے ہیں اس کے مقابلے میں انسولین کی مزاحمت پر یہ عمل الٹا ہو جاتا ہے اور نائٹرک آکسائیڈ کی کمی کے باعث دل کی شریانوں کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

    محققین نے کہا ہے کہ پہلے سمجھا جاتا تھا کہ ذیابیطس سے دل کی شریانوں کے مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے مگر نتائج سے یہ عمل الٹا محسوس ہوتا ہے مزید تحقیق سے ذیابیطس کے نئے طریقہ علاج کو دریافت کرنے میں مدد مل سکے گی۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

  • پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    طبی تحقیقی ماہرین نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ذیابیطیس کے مرض میں مبتلا نوجوان مریضوں میں دل کا دورہ پڑنے اور فالج ہونے کے امکانات بہت زیادہ پائے گئے ہیں کیونکہ ان کی اکثریت ناصرف موٹاپے کا شکار ہے بلکہ ان میں سے اکثر سگریٹ نوشی، ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی زیادتی کا بھی شکار ہیں۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    کراچی میں منعقدہ پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن کی جانب سے منعقدہ تیسری سالانہ کانفرنس میں پیش کی گئی تحقیق کے مطابق کراچی میں ذیابیطیس یا شوگر کے نئے مریضوں اوسط عمر 30 سے 35 سال ہے، جن کی اکثریت یعنی 77 فیصد مریض موٹاپے کا شکار ہیں-

    تحقیق کے مطابق شوگر کے مرض کا شکار نوجوان اور جوان مریض نہ صرف ان کنٹرولڈ شوگر یا شوگر کی زیادتی کا شکار پائے گئے بلکہ ان کے خاندان میں بھی شوگر کا مرض پایا گیا جس کی وجہ سے ان میں جلد دل کا دورہ پڑنے یا فالج ہونے کے امکانات بہت زیادہ پائے گئے ہیں۔

    کانفرنس میں تحقیقی مقالہ پیش کرنے پر اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر صائمہ عسکری کو کانفرنس کے دوران پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن ریسرچ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

    رمضان میں دیگرمہینوں کےمقابلے میں فالج کےامکانات کم ہو جاتے ہیں،ماہرین

    دوسری جانب ایک دو نہیں بلکہ 11 تحقیقی مقالوں سے ثابت ہوا ہے کہ اگر موٹے افراد صرف تین ماہ تک اپنی غذا میں سبزیوں کی شرح بڑھادیں تو مثبت اثرات صرف تین ماہ میں ہی سامنے آسکتے ہیں اس سے نہ صرف وزن میں کمی ہوتی ہے بلکہ ٹائپ ٹو ذیابیطس بھی قابو میں آجاتی ہے اس ضمن میں 18 برس یا اس سے زائد عمر کے 800 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا ہے جس میں پہلے سے ہی کئے گئے سروے کا دوبارہ جائزہ (میٹا اینالِسس) کیا گیا ہے۔ یہ تحقیقات بہت جلد ہی موٹاپے کی یورپی کانفرنس میں پیش کی جائے گی۔

    کوپن ہیگن میں واقع اسٹینو ڈائبیٹس سینٹر کی ماہر اینی ڈیٹے ٹرمانسن اور ان کے ساتھیوں نے تمام ڈیٹا جمع کرکے اس کا گہرائی سے جائزہ لیا ہے اور اسے شائع بھی کرایا ہے۔

    تاہم یہاں سبزیوں والی غذاؤں کا مطلب، پھل، دالیں، لوبیا، اور گری دار پھل ہیں انہیں کھانے سے ٹرائی گلائسرائیڈ یا بلڈ پریشر پر کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن طویل مدتی استعمال سے کچھ اورنتائج ملے ہیں۔ اس ضمن میں مارچ2022 تک انگریزی زبان میں شائع شدہ تمام تحقیقات کو شامل کیا گیا ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    اس ڈیٹا میں 800 سے زائد افراد سے معلومات جمع کی گئیں جن میں دل اور ذیابیطس کی وجہ بننے والے بایومارکرز یعنی وزن، بی ایم آئی، خون میں گلوکوز کی مقدار، بلڈ پریشر، ہر طرح کا کولیسٹرول اور دیگر چکنائیاں یعنی ٹرائی گلیسرائیڈز شامل تھے۔ تقریباً ساری تحقیقات میں ہی شرکاکو دو گروہوں میں بانٹا گیا تھا جن میں عام گروپ کے لوگوں کو ان کی مرضی کی غذائیں کھانے کی آزادی تھی جبکہ کنٹرول گروپ کے شرکا کو پھل اور سبزیوں پر مشتمل غذائیں دی گئی تھیں۔

    ماہرین نے 12 ہفتے یعنی تین ماہ تک سبزیاں کھلائیں تو اکثر افراد کے وزن میں پانچ کلوگرام تک کمی دیکھی گئی۔ اسی طرح خون میں شکر کی مقدار بہتر ہوئی، کولیسٹرول قابو میں آیا اور بی ایم آئی میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی تھی۔

    جبکہ عام غذا استعمال کرنے والے میں کوئی خاص فرق نہیں دیکھا گیا۔ اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ بڑھے ہوئے وزن کے شکار اور خود ذیابیطس کے کنارے پہنچنے والے افراد اب بھی پھل اور سبزیوں کو اپنی غذا میں شامل کرکے اپنی صحت بہتر بناسکتے ہیں۔

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

  • ورزش سے ذیابیطس کے مریضوں میں نئی رگوں کی افزائش ممکن

    ورزش سے ذیابیطس کے مریضوں میں نئی رگوں کی افزائش ممکن

    جارجیا:ماہرین کا کہنا ہے کہ باقاعدگی سے ورزش کرنے سے ذیابیطس کی کیفیت میں خون کی نئی رگیں پیدا ہوسکتی ہیں یا پھر ان کا افزائشی عمل تیز تر ہوسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ذیابیطس کا ہولناک مرض بالخصوص خون کی باریک رگوں کو شدید متاثر کرتا ہے اسی وجہ سے زخم مندمل نہیں ہوتے اور بینائی متاثر ہوتی ہے اب پہلی مرتبہ معلوم ہوا ہے کہ ورزش سے خون کی نئی نسیجوں کی تشکیل میں بھی مدد مل سکتی ہے یعنی ورزش ذیابیطس کے منفی اثرات کو ٹھیک کرسکتی ہے۔

    آواز کی لہروں سے کینسر ختم کرنے کا تجربہ کامیاب

    اس سے قبل ذیابیطس میں ورزش کے فوائد سامنے آتے رہے ہیں اب جارجیا میڈیکل کالج کے سائنسدانوں نے ورزش اور نئی رگوں کی افزائش یا اینجیو جنیسس کے درمیان تعلق دریافت کیا ہے اس پورے عمل میں ایکسوسومز اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    تحقیق کے مطابق ایکسوسومز چھوٹے اور باریک پیکٹ جیسے ہوتے ہی جو حیاتیاتی اجزا کو ایک سے دوسرے مقام تک پہنچاتے ہیں ان میں دو طرح کے ایکسوسومز کو دیکھا گیا اول اینٹی آکسیڈنٹس ایس او تھری جو ری ایکٹو آکسیجن کی مقدار کو معمول پر رکھتے ہیں اور پروٹین سگنلنگ میں نمایاں ہوتے ہیں دوم ایک خاص پروٹین ہے جس کا نام اے ٹی پی سیون اے ہےاور تانبےکے ایٹم خلیات تک پہچاتےہیں ذیابیطس ان دونوں ایکسوسومز کو شدید متاثر کرتی ہے۔

    ماہرین نے ورزش اور دونوں ایکسوسومز پر غور شروع کیا تو معلوم ہوا کہ شوگر کا مرض اینڈوتھیلیئل خلیات کے پورے نظام کو درہم برہم کرتا ہے یہ خلیات خون کی نالیوں کی تشکیل کرتے ہیں اور نئی رگوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    اس ضمن میں ذیابیطس کےشکارچوہوں کو دو ہفتے تک گھومنے والے پہیئے پر دوڑایا گیا جبکہ درمیانی عمر کے تندرست افراد کو درمیانی شدت کی کارڈیو ورزش 45 منٹ تک کرائی گئی اس دوران سائنسدانوں نے دیکھا کہ ورزش کے بعد اینڈوتھیلیئل خلیات پر اے ٹی پی سیون اے کی زیادہ مقدار پہنچنا شروع ہوگئی اور ایس او ڈی تھری کی بھی وسیع مقدار دیکھی گئی ہےاس کے علاوہ رگوں کے اندرونی استر بننے میں بھی تیزی دیکھی گئی ہے۔

    اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ ورزش سے ذیابیطس کے مریضوں میں بھی خون کی نئی رگیں بن سکتی ہیں جو بہت مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔

    ایک طرف تو ورزش کرنے سے ذیابیطس کے مریضوں میں خون کی مقدار معمول پر رہتی ہے لیکن اس کا دوسرا پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ خون میں گلوکوز کی بلند مقدار خود مریضوں کی ورزش کرنے کی صلاحیت متاثر کرتی ہے اگرکوئی قبل از ذیابیطس، ٹائپ ون یا ٹائپ ٹو ذیابیطس متاثر ہو تو باقاعدہ ورزش رگوں اور نسیجوں کی تباہی، ہائی بلڈ پریشر اور امراضِ قلب وغیرہ سے محفوظ رکھتی ہے اب معلوم ہوا ہے کہ ذیابیطس کی شدید کیفیت خود ورزش کو بھی مشکل بنادیتی ہے اور یوں اس کے مکمل فوائد نہیں مل پاتےاس کی وجہ یہ ہےکہ خون میں گلوکوز کی بلند مقدار کی وجہ سے مریض آکسیجن کو مکمل طور پر جلا نہیں باتے اور خود بدن ورزش کے خلاف مزاحمت بن جاتا ہے۔

    یہ تحقیق اسرائیل میں واقع جوزلنِ ذیابیطس سینٹر نے کی ہے انہوں نے غور شروع کیا کہ کس طرح خون میں شکر کی بڑھی ہوئی مقدار ورزش میں رکاوٹ ڈالتی ہے اور اسے کم کرکے کیسے فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں ڈائبیٹس نامی جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ کےمطابق اگر ورزش کرنے والے افراد پہلے خون میں شکر گھٹانے والی دوا کھائیں تو ورزش کے زیادہ فوائد حاصل ہوسکتےہیں کیونکہ بدن کا استحالہ (میٹابولزم) نظام قدرے بہتر انداز میں کام کرنے لگتا ہے۔

    تحقیق سے وابستہ سائنسداں ڈاکٹر سارہ جے لیسرڈ کہتی ہیں کہ وہ جاننا چاہتی تھیں کہ آخر کیوں ذبابیطس کے بعض مریض کوشش کے باوجود بھی ورزش نہیں کرپاتے اور اس کے فوائد ادھورے رہ جاتے ہیں۔ اس کیفیت کو سمجھ کر ذیابیطس قابو کرنے کی بہترحکمتِ عملی وضع کی جاسکتی ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    اس کے لیے چوہوں کے ماڈل کو آزمایا گیا اور انہیں کیناگلیفلوزن نامی دوا کھلائی گئی جو خون میں شکر کی مقدار کم کرتی ہے۔ یہ چوہے ہائی بلڈ شوگر کے مریض تھے اور انہیں چھ ماہ تک ورزش کے عمل سے گزارا گیا۔ دوسرے گروپ کے چوہے بھی ذیابیطس کے مریض ہی تھے لیکن انہیں کوئی دوا نہیں دی گئی تھی اب جن چوہوں کو گلوکوز کم کرنے والی دوا دی گئی انہوں نے ورزش میں بہتر کارکردگی دکھائی۔

    پھر ماہرین نے چوہوں کی بافتوں اور ہڈیوں کا معائنہ کیا اور کم ورزش کرنے کی صلاحیت کا جسمانی جواب تلاش کرنے کی کوشش کی معلوم ہوا کہ بلند شوگر کا مسلسل عارضہ ہمارے پٹھوں کو متاثر کرکے ورزش کی صلاحیت کو ماند کرسکتا ہے اور اچھی خبر یہ ہے کہ کسی بھی طرح خون میں شکر کی مقدار معمول پر رکھ کر دوبارہ ورزش کی بہتر صلاحیت حاصل کی جاسکتی ہے۔

    اگلے مرحلے پر اسی ضمن میں مزید تحقیق کی جائے گی۔

    دوسری جانب جنوبی ایشیا کے دو ممالک کے سروے سے ایک دلچسپ انکشاف ہوا ہے کہ اگر آپ کے گھر کے پاس فاسٹ فوڈ کی دکانیں ہیں تو وہاں سے بار بار کھانا منگواکر کھانے کا جی کرتا ہے اور اس سے ٹائپ ٹو ذیابیطس اور موٹاپے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    امپیریئل کالج لندن کی پروفیسر میلیسا اور ان کے ساتھیوں کا اصرار ہے کہ ہماری رہائش اور اطراف کے ماحول کا ہماری غذائیت پر اثر پڑسکتا ہے اگرچہ اس پر ترقی یافتہ ممالک میں بہت تحقیق ہوئی ہے لیکن اب جنوبی ایشیا کے کچھ ممالک میں اس پر ایک سروے کیا گیا ہے جس کے دلچسپ نتائج سامنے آیا ہے۔

    حکومت غیر متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بھی این سی او سی کی طرز کے اقدامات اٹھائے…

    اس کا مقصد گھر کے پاس غیرصحت بخش کھانوں کی دکانوں اور اطراف کے گھروں پر اس کے اثرات نوٹ کئے گئے ہیں اس کے لیے سال 2018 سے 2020 کے دوران بنگلہ دیش اور سری لنکا کے 12167 افراد سے ڈیٹا اور معلومات لی گئی ہیں۔

    سب سے پہلے شہروں اور دیہاتوں میں رہنے والے افراد سے ذیابیطس کی کیفیت اور گلوکوز کی معلومات لی گئیں۔ اس کے بعد ان کے گھر کی اطراف کھانے کی دکانوں بالخصوص فاسٹ فوڈ ریستورانوں کا ایک نقشہ بنایا گیا۔ بالخصوص گھر سے 300 میٹر دور یعنی پیدل مسافت پر مرغن فاسٹ فوڈ کی دکانوں کو بطورِ خاص امل کیا گیا۔ اس کے علاوہ دوکانوں پر ملنے والے کھانوں کو صحت بخش اور مضرِ صحت کھانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔

    معلوم ہوا کہ فاسٹ فوڈ کے قریب رہنے والے افراد وقت بے وقت معمولی بھوک پر بھی باہر نکل کر کھانا لے آتے ہیں اور اپنی بھوک مٹاتے ہیں۔ اس لحاظ سے فاسٹ فوڈ دکانوں کی آسان دسترس سے ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ 8 فیصد تک بڑھ جاتا ہے اگر گھر کی قربت میں ایک فاسٹ فوڈ دکان ہوتو اوسطاً خون میں شکر کی مقدار 2.14 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر تک بڑھ سکتی ہے۔

    دوسری جانب خواتین اور بلند آمدنی والے لوگوں میں اس کا رحجان زیادہ دیکھا گیا جو اشتہا کے ہاتھوں فاسٹ فوڈ سے ہاتھ نہیں روک سکتے ایسے لوگوں میں شوگر کا رحجان زیادہ دیکھا گیا تھاتاہم اس رپورٹ میں کچھ کمی رہ گئی ہے کیونکہ لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے خون میں شکر کی تازہ مقدار اور ریڈنگ سے بھی آگاہ کریں اور کسی وجہ سے یہ ڈیٹا تسلسل سے خالی دکھائی دیتا ہے۔

    اپنے نتائج میں ماہرین نے بتایا کہ اگر آپ کے گھر کے پاس فاسٹ فوڈ اور سافٹ ڈرنکس کی دکانیں ہیں تو اپنا خیال رکھنا ہوگا اور اس چکر میں آنے سے خود کو بچانا ہوگا-

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

  • الٹراساؤنڈ سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا علاج کیا جا سکتا ہے،تحقیق

    الٹراساؤنڈ سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا علاج کیا جا سکتا ہے،تحقیق

    کیلیفورنیا: امریکی سائنسدانوں کی جانب سے حال ہی میں کی گئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ الٹراساؤنڈ سے ذیابیطس کا علاج بھی کیا جاسکتا ہے-

    باغی ٹی وی : ریسرچ جرنل ’’نیچر بایومیڈیکل انجینئرنگ‘‘ کے شمارے میں شائع کی گئی تحقیق کے مطابق امریکی سائنسدانوں نے جگر میں موجود کچھ مخصوص اعصاب پر الٹراساؤنڈ لہریں وقفے وقفے سے مرکوز کرکے ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج میں کامیابی حاصل کی ہے تاہم یہ تجربات ابھی جانوروں پر کیے گئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق مختلف امریکی تحقیقی اداروں اور جامعات کے ماہرین کی اس مشترکہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ جگر میں کچھ خاص اعصاب پر صرف تین منٹ تک الٹراساؤنڈ لہریں مرکوز کرنے پر جانوروں کے خون میں انسولین اور شکر کی مقدار نمایاں طور پر کم ہوگئی یہ تجربات چوہوں، چوہیاؤں اور سؤروں پر انجام دیئے گئے۔

    تحقیق کے مطابق جگر کے ایک حصے ’’پورٹا ہیپاٹس‘‘ میں اعصاب کا گچھا موجود ہوتا ہے جسے ’’ہیپاٹوپورٹل نرو پلیکسس‘‘ کہا جاتا ہے یہ اعصاب، جسم میں گلوکوز اور غذائی اجزاء کی تازہ ترین صورتِ حال کے بارے میں دماغ کو آگاہ رکھتے ہیں۔

    فیس بک کی "ایک ارب کھانے” کی مہم، دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کا پیغام

    اس سے قبل تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ اعصاب کے اس گچھے میں سرگرمی کی کمی بیشی سے خون میں بھی گلوکوز اور انسولین، دونوں کی مقداروں میں اتار چڑھاؤ رونما ہوتے ہیں البتہ اعصاب کا یہ گچھا اتنا مختصر ہے کہ اس میں سرگرمیوں کو باہر سے کنٹرول کرنا بے حد مشکل ثابت ہوتا ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ انہیں تحریک دینے اور خون میں گلوکوز/ انسولین کی مقدار کم کرنے کےلیے مرکوز الٹراساؤنڈ کی یہ تکنیک چند سال پہلے ایک نئے امکان کے طور پر ہمارے سامنے آئی تھی حالیہ تجربات میں اس تکنیک کو جانوروں پر آزما کر اس کے مؤثر ہونے کی ابتدائی تصدیق ہوئی ہے۔

    کامیاب ابتدائی تجربات کے بعد اب ماہرین اسی تکنیک کو انسانوں پر آزمانے کےلیے اجازت کے منتظر ہیں۔

    بازاروں میں فروخت ہونیوالی چاکلیٹ میں منشیات کی ملاوٹ کا انکشاف

  • رمضان کےروزے رکھنا ذیا بیطس میں مبتلا افراد کی صحت کیلئے مفید ،مفتی تقی عثمانی

    رمضان کےروزے رکھنا ذیا بیطس میں مبتلا افراد کی صحت کیلئے مفید ،مفتی تقی عثمانی

    کراچی: معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ ذیابطیس میں مبتلا ہونا رمضان کے روزے نہ رکھنے کا جواز نہیں۔

    باغی ٹی وی : اینڈ حج اسٹڈی گروپ کی جانب سے منعقدہ آٹھویں انٹرنیشنل ڈائیبیٹیز اینڈ رمضان کانفرنس 2020 کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں ماہرین کا کہنا تھا ذیابطیس کے مرض میں مبتلا زیادہ تر افراد نہایت آسانی کے ساتھ رمضان کے روزے رکھ سکتے ہیں لیکن اس سلسلے میں انھیں ڈاکٹروں اور ماہرین صحت سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    دو روزہ بین الاقوامی ڈائبیٹیز اینڈ رمضان کانفرنس بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی اور ڈائبٹیز اینڈ رمضان انٹرنیشنل لائسنس کے تعاون سے منعقد کی گئی اس کانفرنس سے ڈائبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل پروفیسر عبد الباسط، پروفیسر یعقوب احمدانی، پروفیسر اعجاز وہرہ، متحدہ عرب امارات سے پروفیسر ڈاکٹر محمد حسنین، لاہور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید اکرم، برطانیہ سے ڈاکٹر سلمہ مہر، ڈاکٹر سیف الحق، ڈاکٹر زاہد میاں سمیت دیگر ماہرین نے خطاب کیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ ماہرین صحت کی رائے اور جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہےکہ ذیابیطس سمیت بلڈ پریشر اور موٹاپے میں مبتلا افراد آسانی سے روزے رکھ سکتے ہیں، بلکہ جدید تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہےکہ ذیابیطس اور اس طرح کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے رمضان کے روزے رکھنا ان کی صحت کے لیے نہایت مفید ہے۔

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

    مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ چند لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ شریعت میں ہر طرح کی بیماری میں مبتلا افراد اور ہر طرح کے سفرکرنے والوں کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، ان کا کہنا تھا کہ صرف وہ لوگ جنھیں روزہ رکھنے سےکسی جسمانی ضرر کا اندیشہ ہو انہیں ماہرین صحت کے مشورے کے بعد روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اور وہ اس کی قضا ادا کرسکتے ہیں۔

    کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماہر صحت پروفیسر اعجاز وہرہ کا کہنا تھا کہ روزہ نہ صرف تزکیہ نفس کا ایک اہم ذریعہ اور جسمانی عبادت ہے بلکہ یہ انسانی صحت کیلیے انتہائی مفید عمل ہے، ذیابطیس کے مریضوں کو اپنے معالج کے مشورے سے روزے رکھنے چاہیے جس کے نتیجے میں ان کی شوگر کا کنٹرول بہت بہتر ہو سکتا ہے، روزے کی حالت میں شوگر چیک کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور اگر کسی شخص کی شوگر 70 سے کم ہو جائے، دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو جائے، گھبراہٹ ہو اور پسینے آنا شروع ہوجائیں تو ایسے مریض کیلئے روزہ توڑنا جائز ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

    معروف ماہر ذیابطیس اور ڈائبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل پروفیسر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ 2008 سے قبل 90 فیصد ماہرین صحت ذیابطیس میں مبتلا لوگوں کو روزہ نہ رکھنے کا مشورہ دیتے تھے جس کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا اکثر لوگ اس اہم جسمانی روحانی عبادت سے محروم رہ جاتے تھے۔

    پروفیسر یعقوب احمدانی کا کہنا تھا وہ پچھلے 14سال سے رمضان اور حج کے حوالے سے ذیابطیس کے مریضوں میں آگاہی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اب تک آٹھ کانفرنسز منعقد کروا چکے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے کئی سالوں سے عوامی آگاہی کے پروگرامات سمیت ڈاکٹروں کی تربیت پر بھی توجہ دے رہے ہیں تاکہ ذیابیطس میں مبتلا مریضوں کو حج، عمرہ اور رمضان کی عبادات سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے لیے مدد فراہم کی جاسکے۔

    منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟