Baaghi TV

Tag: ذیا بیطس

  • نوجوانوں میں  عالمی سطح پر ذیابیطس کی شرح میں اضافہ

    نوجوانوں میں عالمی سطح پر ذیابیطس کی شرح میں اضافہ

    لندن: ایک نئی تحقیق کے نتائج کے مطابق 30 سال کی عمر میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی تشخیص زندگی کی توقع کو 14 سال تک کم کر سکتی ہے-

    باغی ٹی وی: برطانیہ میں یونیورسٹی آف کیمبرج کے وکٹر فلپ ہارٹ اینڈ لنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں کلینیکل ایپیڈیمولوجی کے پروفیسر اور مطالعہ کے مصنف ایمانوئل ڈی اینجلینٹونیو کا کہنا تھا کہ ٹائپ 2 ذیابیطس کو ایک بیماری کے طور پر دیکھا جاتا تھا جو بوڑھے بالغوں کو متاثر کرتی تھی لیکن ہم تیزی سے دیکھ رہے ہیں کہ نوجوان لوگوں کی زندگی میں بھی اس کی تشخیص ہورہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ان کی زندگی کی توقع بہت کم ہونے کا خطرہ ہے،30 سال کی عمر میں ٹائپ 2 ذیابیطس کی تشخیص زندگی کی توقع کو 14 سال تک کم کر سکتی ہے،یہاں تک کہ 50 سال کی عمر میں تشخیص زندگی کی متوقع عمر کو چھ سال تک کم کر سکتی ہے۔

    نئی تحقیق کے لیے کیمبرج، گلاسگو اور دوسری یونیورسٹیوں کے سائنسدانوں نے 15 لاکھ افراد کے لیے دو بڑے بین الاقوامی مطالعات – ایمرجنگ رسک فیکٹرز کولیبریشن اور یو کے بائیو بینک کے ڈیٹا کی جانچ کی محققین نے پایا کہ ذیابیطس کی ابتدائی تشخیص ہر دہائی میں تقریباً چار سال کی کم متوقع عمر سے منسلک تھی۔

    چائے کا استعمال ٹائپ 2 ذیا بیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات کم کرتا ہے،تحقیق

    قبل ازیں حال ہی میں ماہرین نے ایک تحقیق میں کہا ہے کہ چائے کا استعمال ٹائپ 2 ذیا بیطس میں مبتلا ہونے کے امکانات کو 28 فی صد تک کم کر دیتا ہے ساؤتھ ایسٹ یونیورسٹی کے محققین نے چین سے تعلق رکھنے والےافراد کی روزانہ چائے پینے کی عادت کا مطالعہ کیاتحقیق میں دو اقسام کے افراد شامل ہوئے، ایک وہ جو چائے کے عادی نہیں تھے اور دوسرے وہ جو ایک ہی قسم کی چائے پیا کرتے تھے-

    جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں منعقد یورپین ایسو سی ایشن فار اسٹڈی آف ڈائیبیٹیز کے سالانہ اجلاس میں پیش کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ چائے میں ایسے اینٹی آکسیڈنٹ اور انسداد سوزش اثرات ہوتے ہیں جو انسولین کی حساسیت کو بہتر کردیتے ہیں یہ اثرات بالخصوص ڈارک ٹی (قدیم چائے جس کو بنانے کے لیے اندرونی طور کیمیائی تبدیلیاں لائی جاتی ہیں) میں زیادہ پائے گئے۔

    گٹکا ماوا کھانے اور دیگر منشیات استعمال کرنے والےاہلکاروں کیخلاف محکمانہ کارروائیوں کا فیصلہ

  • لاعلاج سمجھے جانیوالے مرض ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات ممکن

    لاعلاج سمجھے جانیوالے مرض ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات ممکن

    برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ لاعلاج سمجھا جانے والے مرض ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات ممکن ہے۔

    باغی ٹی وی: Diabetes UK کے زیرتحت ہونے والے کلینیکل ٹرائل میں دریافت کیا گیا کہ جسمانی وزن میں کمی لاکرذیابیطس ٹائپ 2 سے کم از کم 5 سال تک نجات پانا ممکن ہے،کم کیلوریز والی غذا کا استعمال شروع کرنے کے بعد کلینیکل ٹرائل میں شامل ایک چوتھائی افراد ذیا بیطس سے نجات پانے میں کامیاب ہوئے اور 5 سال تک بیماری کی دوبارہ واپسی نہیں ہوئی۔

    کھانا پکانے کے دوران کی جانیوالی 7 معمولی غلطیاں جو صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ …

    اس ٹرائل میں 298 افراد کو شامل کیا گیا تھا جن میں سے 50 فیصد کو ذیابیطس کے حوالے سے روایتی نگہداشت فراہم کی گئی اور باقی سب کو مخصوص غذا کا استعمال کرایا گیا،مجموعی طور پر ان افراد کو روزانہ 800 کیلوریز پر مشتمل غذا کا استعمال 12 سے 20 ہفتوں تک کرایا گیا۔

    پہلے اس تحقیق کا دورانیہ 2 سال رکھا گیا تھا مگر پھر اس کا وقت بڑھایا گیا اور 95 افراد کاجائزہ مزید 3 سال تک لیا گیا تحقیق کے دوسرے مرحلے کے آغاز میں 95 میں سے 48 ذیابیطس ٹائپ 2 سے نجات پانے میں کامیاب ہو چکے تھے اور 3 سال بعد 23 فیصد میں تاحال بیماری کی دوبارہ تشخیص نہیں ہوئی تھی۔

    انزائٹی کا حیرت انگیز علاج دریافت

    ان افراد کو بلڈ شوگر کو مستحکم رکھنے کے لیے ادویات کے استعمال کی ضرورت بھی نہیں پڑی ان افراد نے 5 سال کے دوران اوسطاً 9 کلو گرام کمی کی جسمانی وزن میں کمی اور اس کمی کو برقرار رکھنے سے ذیابیطس کو ریورس کرنے میں مدد ملتی ہے ذیابیطیس کے شکار افراد میں امراض قلب، فالج، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔

    موٹاپے کو ذیابیطس ٹائپ 2 کا شکار بنانے والا بڑا عنصر تصور کیا جاتا ہےدرحقیقت تحقیقی رپورٹس کے مطابق موٹے افراد میں اس دائمی مرض کا خطرہ 80 گنا زیادہ ہوتا ہےمحققین نے بتایا کہ جسمانی وزن میں کمی لانا اور پھر اس کمی کو برقرار رکھنے سے ہی ذیابیطس کو خود سے رکھنا ممکن ہو سکتا ہے، کیونکہ جسمانی وزن میں اضافے سے بیماری دوبارہ لوٹ آتی ہے۔

    نیند کی کمی دوسروں کی مدد کرنے کے رجحان کو کم کرسکتی ہے،تحقیق

    یہ نتائج اگلے ہفتے ڈائریکٹ محققین پروفیسرز رائے ٹیلر اور مائیک لین (دونوں تصویر میں) پروفیشنل کانفرنس (DUKPC) میں پیش کئے جائیں گے-

  • پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں،تحقیق

    پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں،تحقیق

    ایک نئی تحقیق میں ماہرین کا کہنا ہے کہ پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں-

    ہارورڈ ٹی ایچ چین اسکول آف پبلک ہیلتھ کے ماہرین نے ایک تحقیق سے معلوم کیا ہے کہ ذیابیطس کے شکار افراد پھل اور سبزیاں کھاکر خود کو ذیابیطس، بلڈ پریشر اور کینسر جیسے جان لیوا امراض سے بچاکر عرصہ حیات بڑھا سکتے ہیں۔

    شوگر اور خون میں کمی کے مریضوں کیلئے کتنی کھجوریں کھانا مفید

    ذیابیطس کے مریض گوشت ک یجائے کم کاربوہائیڈریٹس کی غذائیں، پھل اور سبزیاں کھا کر کئی امراض کا خطرہ کم کرسکتے ہیں اور اپنی عمر بڑھا سکتے ہیں۔ اس ضمن میں ذیابیطس کے لگ بھگ 10 ہزار مریضوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

    اس دوران کل 900 افراد کو کینسر ہوا اور 1400 افراد امراضِ قلب کے شکار ہوئے۔ ان میں سے جن افراد نے کم کاربوہائیڈریٹس کو اپنایا ان میں موت کی کم وجہ سامنے آئی جو ایک اہم بات ہے۔

    ماہرین کے مطابق سروے میں شامل تمام افراد ذیابیطس کے مریض تھے اور کیلوریز کا 30 تا 40 فیصد حصہ کاربوہائڈریٹس سے حاصل کررہے تھے۔ جن میں سفید ڈبل روٹی اور سفید چاول اور آٹا وغیرہ شامل ہے۔

    اسٹربیری پھل کی حقیقت جسے جان کر دنگ رہ جائیں

    دوسری جانب ایک طویل عرصے سے ذیابیطس کے شکار مریضوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی تھی جو مکمل اناج، پھل اور سبزیاں کثرت سے کھارہی تھیں اور ان میں امراضِ قلب اور سرطان کے آثار نہ تھے۔

    ماہرین کے مطابق تحقیق سے ثابت ہوا کہ ذیابیطس کے مریض پھل اور سبزیاں کھا کر اپنی صحت بہتر بناسکتے ہیں اور یوں زندگی بڑھا سکتے ہیں۔

    غذا جو بڑھتی عمر کیساتھ دل و دماغ کی حفاظت کرتی ہے

  • شوگر اور خون میں کمی کے مریضوں کیلئے کتنی کھجوریں کھانا مفید

    شوگر اور خون میں کمی کے مریضوں کیلئے کتنی کھجوریں کھانا مفید

    کھجوریں صحت کیلئے بہت مفید ہیں،کھجوریں غذائیت سے بھر پور ہوتی ہیں،خاص طور پر خشک کھجوریں، خشک کھجوروں میں کیلوری خاص طور پر کاربوہائیڈریٹ (74 گرام) زیادہ ہوتی ہے۔ اس میں ریشوں کے ساتھ کئی ضروری وٹامنز اور معدنیات بھی شامل ہیں۔ کھجوریں انٹی آکسیڈینٹس کی بھرپور ارتکاز کے لئے مشہور ہیں جو آپ کے کارڈیک اور پلمونری صحت کے لئے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں۔

    ہفتے میں پانچ انڈے کھانے سے بلڈ پریشر میں کمی اور دل کو فائدہ ہو سکتا ہے

    ’’ہیلدی فائی می‘‘ کے مطابق کھجور میں آئرن کی زیادہ مقدار خون کی کمی کے شکار لوگوں میں ہیموگلوبن کی سطح کو بڑھانے میں مدد کرتی ہے۔

    کھجور صحت مند حفاظتی اینٹی آکسیڈنٹس، کیلشیم، بی وٹامنز ، میگنیشیم اور وٹامن کے سے بھرپور ہوتی ہے تاہم کھجور میں کاربوہائیڈریٹ کی مقدار زیادہ ہو سکتی ہے 100 گرام کھجور میں تقریباً 75 گرام کاربوہائیڈریٹ ہوتے ہیں۔ کاربوہائیڈریٹس کی یہ زیادہ مقدار ذیابیطس کے مریضوں کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔

    ذیابیطس میلیٹس سب سے عام بیماریوں میں سے ایک ہے ذیابیطس کا زیادہ تر علاج متعدد زبانی ذیابیطس ادویات اور انسولین ضمیمہ استعمال کرکے کیا جاتا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کھجوریں بلڈ شوگر اور چربی کی سطح کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

    یہ انسولین کی پیداوار کو بڑھا سکتا ہے اور آنتوں سے گلوکوز جذب کرنے کی شرح کو کم کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔ اس سے ذیابیطس ہونے کا خطرہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے-

    کھجوریں مصنوعی مٹھاس کی طرح کیلوریز کے بغیر نہیں ہوتیں۔ لیکن کھجور میں حل پذیر اور ناقابل حل دونوں فائبر ہوتے ہیں جو خون میں شکر کی سطح کو مستحکم کرنے میں مدد کرتا ہے۔ کھجور میں موجود مختلف ریشے ہاضمے کے عمل اور کاربوہائیڈریٹس کے جذب کی رفتار کو سست کرتے ہیں۔ اس طرح خون میں گلوکوز میں اضافے کو روکتے ہیں۔ اگر کوئی شخص کم بلڈ شوگر کی علامات کا سامنا کر رہا ہے تو کھجور توانائی کے فوری فروغ کے لیے ایک بہترین ناشتہ ہے۔

    اس بات کا تعین کرنے کے لیےکہ آیا کھجوریں بلڈ شوگر کی سطح کو بڑھاتی ہیں کوئی بھی گلیسیمک انڈیکس سے اندازہ لگا سکتا ہے۔ کھانے کا گلیسیمک انڈیکس (GI) بتاتا ہے کہ کھانے میں موجود شکر کتنی جلدی خون میں جذب ہو جاتی ہے۔ کم ’’جی آئی ‘‘ والے کھانے کی نسبت زیادہ ’’جی آئی ‘‘ والا کھانا خون کےدھارے میں زیادہ تیزی سےجذب ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے بلڈ شوگر میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے۔

    ہاتھ اور پیر اکثر کیوں سُن ہو جاتے ہیں؟

    کھجوروں میں متعدد غذائی اجزا ہوتے ہیں جو آپ کے جسم کو صحت سے متعلق ہڈیوں میں کولیسٹرول کم کرنے سے لے کر صحت کے مختلف فوائد فراہم کرتے ہیں یہ فوری طور پر کولیسٹرول کو کم کرسکتی ہیں اور آپ کے وزن کو سنبھالنے میں مدد کرتی ہیں۔

    کھجور مختلف بیماریوں کے علاج کے لئے طرح طرح کے اینٹی آکسیڈینٹ مہیا کرتی ہے۔ اینٹی آکسیڈینٹ آپ کے خلیوں کو آزاد ریڈیکلز سے بچاتے ہیں جو آپ کے جسم میں نقصان دہ رد عمل کا سبب بن سکتے ہیں اور بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔ کھجوریں اینٹی آکسیڈینٹ سے مالا مال ہیں جن میں شامل ہیں:

    کیروٹینائڈز – یہ آپ کے دل کی صحت کے لئے بہت فائدہ مند ہے۔ اس سے آنکھوں سے متعلقہ عارضے کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔

    فلاوونائڈز – یہ ایک طاقتور اینٹی آکسیڈینٹ ہے جس میں متعدد فوائد ہیں۔ یہ اپنی اینٹٰ سوزش کی خصوصیات کے لئے جانا جاتا ہے۔ مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ذیابیطس ، الزائمر کی بیماری ، اور کینسر کی بعض اقسام کے خطرے کو کم کرنے کے لئے مفید ہے۔

    فینولک ایسڈ – یہ اینٹی سوزش کی خصوصیات رکھتا ہے اور کچھ کینسر اور دل کے امور کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں میں کینسر کے واقعات اور اموات کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے،تحقیق

    ہر کھجور میں کولین ، وٹامن بی ہوتا ہے جو سیکھنے اور یاداشت کے عمل کے لئے ہت فائدہ مند ہے ، خاص طور پر الزھائیمر کے مرض کے بچوں میں۔ کھجوروں کی باقاعدگی سے کافی نیوریوڈیجنری بیماریوں جیسے الزائمر کی بیماری اور بوڑھے افراد میں بہتر ادراک کی کارکردگی سے منسلک ہوتی ہے ۔

    کھجوریں دماغ میں سوزش کو کم کرنے اور پلیک کی تشکیل کو روکنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں ، جو الزائمر کی بیماری کی روک تھام کے لئے اہم ہیں۔

    کھجوریں وٹامن سی اور ڈی کا ایک بہترین ذریعہ ہیں جن سے آپ کی جلد کو لچکدار بنانے میں مدد ملتی ہیں اور آپ کی جلد کو ہموار رکھتی ہیں۔ کھجوریں اینٹی ایجنگ پراپرٹیز کے ساتھ بھی آتی ہیں اور میلانین کو جمع ہونے سے روکتی ہیں۔

    انڈیوسڈ لیبر کی ضرورت کو کم کرتا ہے۔ کھجوریں آکسیٹوسن کی کارروائی کی نقالی کرتی ہیں اور لیبر کے دوران بچہ دانی کے پٹھوں کا قدرتی سنکچن لاتی ہیں کھجوروں میں ٹینن نامی ایک کمپاؤنڈ بھی ہوتا ہےجو پیدائش کے دوران بچہ دانی کے سنکچن کو آسان بنانے میں بھی مدد کرتا ہے۔

    روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

    فائبر کے ناقص استعمال کی وجہ سے حمل کے دوران بواسیر ایک عام پریشانی ہے کھجوریں فائبر کا ایک حیرت انگیز ذریعہ ہیں۔ یہ حمل کے دوران بواسیر کے خطرے کو کم کرنے میں مدد کرسکتی ہیں۔

    تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ پوٹشیم کی مقدار میں اضافہ کرکے پوسٹ مینوپاسال خواتین میں ہڈیوں کی کمی کو کم کیا جاسکتا ہے۔ ایک خشک کھجور پوٹاشیم اور دیگر غذائی اجزا کی ایک بڑی مقدار مہیا کرتی ہےسائنس دانوں کا خیال ہےکہ پوٹاشیم کی زیادہ مقدار گردوں کے ذریعے خارج ہونے والے کیلشیم کی مقدار کو کم کرکے ہڈیوں کے بڑے پیمانے پر حفاظت کرتی ہے-

  • کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کا استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچاتا ہے

    کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کا استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچاتا ہے

    ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں کہا ہے کہ کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذا کا استعمال ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچنے اور ذیابیطس کے مریضوں میں بلڈ شوگر کی سطح کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ٹیولین یونیورسٹی کی سربراہی میں ہونے والی نئی تحقیق میں محققین کا کہنا تھا کہ کم کاربوہائیڈریٹس پر مشتمل غذائیں ٹائپ 2 ذیا بیطس کے مریضوں میں ہیموگلوبین اے 1 سی (جو بلڈ شوگر کی سطح کی نشان دہی کرتا ہے) کو کم کرتا ہے۔

    محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی

    جاما نیٹورک اوپن میں شائع ہونے والی تحقیق میں 40 سے 70 برس کے درمیان 150 افراد شریک ہوئے جن کے بلڈ شوگر کی سطح ذیابیطس میں مبتلا ہونے سے قبل کیفیت سےذیابیطس میں مبتلا ہونے تک تھی اور ان میں ایسے افراد بھی تھےجو ذیابیطس کی ادویات نہیں لیتے تھے۔

    اس نئی تحقیق میں کم کاربوہائیڈریٹ کی غذا کھانے والے گروپ نے ابتدائی تین ماہ میں 40 گرام سے کم کاربوہائیڈریٹس کی کھپت کا ہدف رکھا اور تین سے چھ ماہ کے دوران یہ ہدف بڑھا کر 60 گرام تک کم کیا گیا۔

    سبزی کھانے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ دو گنا زیادہ ہوتا ہے،تحقیق

    عمومی طور پر کم کاربوہائیڈریٹس والی غذاؤں میں پروٹینز اور بغیر نشاستہ والی سبزیوں پر توجہ دی جاتی ہے، جبکہ اناج، پھل، روٹی، میٹھا اور نشاستہ کی حامل سبزیاں اور پھل کا استعمال محدود کر دیا جاتا ہے۔

    ماہرین کےمطابق امریکیوں کو دی جانے والی غذائی ہدایات کے مطابق کسی بھی شخص کی جانب سے روزانہ لی جانے والی کیلوری کا 45 سے 65 فی صد حصہ کاربوہائیڈریٹس فراہم کرتے ہیں یعی روزانہ 2000 کیلوریز میں 900 سے 1300 تک کا حصہ کاربو ہائیڈریٹس کا ہوتا ہےاس کے برعکس کاربوہائیڈریٹس کو 20 گرام سے 57 گرام تک محدود کرنے سے 80 سے 240 کیلوریز حاصل ہوتی ہیں۔

    معالجین عموماً ذیابیطس کےمریضوں کو کم کاربوہائیڈریٹس والی خوراک کی تجویزدیتے ہیں لیکن آیاکم کاربوہائیڈریٹس کا کھایا جانا ذیابیطس کے مریضوں یا ایسے افراد جو اس مرض میں مبتلا ہونے والے ہوں میں بلڈ شوگر کو متاثر کرسکتا ہے کہ نہیں، اس متعلق بہت محدود شواہد موجود ہیں۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

  • رات  دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں معلوم کیا ہے کہ رات کو دیر تک جاگنا جسم میں چکنائی بننے کا سبب سکتا ہے جس کے نتیجے میں ٹائپ 2 ذیا بیطس لاحق ہونے کے خطرات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی ریاست نیو جرسی کے شہر نیو برنس وِک میں قائم رُٹگرز یونیورسٹی کے محققین کو ایک تحقیق میں معلوم ہوا کہ رات کو دیر تک جاگنے والوں کو غیر معمولی نیند کی معمول کے سبب متاثر میٹابولزم کی وجہ سے ذیا بیطس کے خطرات ہوتے ہیں۔

    وہ لوگ جو صبح جلدی اٹھتے ہیں وہ چکنائی کو آرام یا ورزش کے دوران توانائی کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ نتیجتاً ان میں چکنائی کم جمع ہوتی ہے اور ان میں بیماری کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔

    اس سے قبل بھی رواں سال کے ابتداء میں شائع ہونے والی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ سوتے وقت روشنی کا موجود ہونا کسی بھی فرد میں ذیابیطس ہونے امکانات بڑھا دیتا ہے جس سے تقریباً 10 فی صد امریکی متاثر ہوتے ہیں۔

    یونیورسٹی میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر فرائض انجام دینے والے ڈاکٹر اسٹیون میلِن کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ جلدی اٹھنے والوں اور رات دیر سے سونے والوں کے درمیان چکنائی کے میٹابولزم میں فرق یہ بتاتا ہیں کہ جسم کی اندرونی گھڑی (سونےجاگنے کا سائیکل) ہمارے جسم کے انسولین کے استعمال کو متاثر کرسکتی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ انسولین ہارمون کے جواب میں حساس یا کمزور صلاحیت ہماری صحت پر بڑے اثرات ڈال سکتی ہے۔ تحقیق کے نتائج نے ہمارے جسم کی اندرونی گھڑی کے ہماری صحت پر اثرات کے متعلق سمجھ میں اضافہ کیا ہے۔

    قبل ازیں ایک تحقیق میں ماہرین کا کہنا تھا کہ روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینے اوردہی کھانے سے ٹائپ 2 ذیا بیطس سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے، بیف،مٹن، پروسیسڈ اور چکن کا گوشت کا زیادہ استعمال متضاد اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    اطالوی تحقیق میں حاصل ہونے والے نتائج کی بنا پر محققین نے زیادہ گوشت کھانے والوں کو مچھلی کا گوشت اور انڈے بطور متبادل غذا کے تجویز کئے ہیں،سائنسدانوں کی جانب سے یہ نتائج ڈیری اشیاء کے خلاف بڑھتےرجحان کے دوران آئے ہی-ں

    ماہرین کے مطابق دودھ، مکھن اور پنیر میں بڑی مقدار میں کیلوریزاورسوچوریٹڈ چکنائی(وہ چکنائی جو عام درجہ حرارت پر نہیں پِگھلتی) ہوتی ہے جو متعدد صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

    ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ماہرین پودوں پر اگنے والی غذا یعنی اجناس، سبزیاں، پھل، دالیں اور کم چکنائی والا دودھ اور دہی کھانے کی ہدایت کرتے ہیں۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

  • روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا  ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

    روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

    ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینے اوردہی کھانے سے ٹائپ 2 ذیا بیطس سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے، بیف،مٹن، پروسیسڈ اور چکن کا گوشت کا زیادہ استعمال متضاد اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : اطالوی تحقیق میں حاصل ہونے والے نتائج کی بنا پر محققین نے زیادہ گوشت کھانے والوں کو مچھلی کا گوشت اور انڈے بطور متبادل غذا کے تجویز کئے ہیں،سائنسدانوں کی جانب سے یہ نتائج ڈیری اشیاء کے خلاف بڑھتےرجحان کے دوران آئے ہیں-

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    ماہرین کے مطابق دودھ، مکھن اور پنیر میں بڑی مقدار میں کیلوریزاورسوچوریٹڈ چکنائی(وہ چکنائی جو عام درجہ حرارت پر نہیں پِگھلتی) ہوتی ہے جو متعدد صحت کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

    ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ماہرین پودوں پر اگنے والی غذا یعنی اجناس، سبزیاں، پھل، دالیں اور کم چکنائی والا دودھ اور دہی کھانے کی ہدایت کرتے ہیں۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    یونیورسٹی آف نیپلز فیدڑریکو دوم کےماہرین کہتےہیں کہ جانوروں سے حاصل ہونے والی پروٹین کی تمام اقسام مساوی طور پر غذائیت سے بھرپور نہیں ہوتیں ٹائپ 2 ذیابیطس تب واقع ہوتی ہے جب خلیے انسولین کےمزاحم بن جاتے ہیں۔انسولین وہ ہارمون ہوتا ہے جو بلڈ شوگر کو مستحکم رکھتا ہے۔

    اگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ مہلک ثابت ہوسکتا ہے اور امرضِ قلب، ہاتھ پیروں کے کاٹے جانے اور بینائی کے چلے جانے سمیت دیگر سنجیدہ مسائل کا سبب بن سکتا ہے خاموش قاتل کے طور پر جانے جانی والی یہ بیماری ہر سال 45 برطانیوں اور 3 کروڑ امریکیوں کو متاثر کرتی ہے۔

  • ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    عالمی اعداد و شمار سے ظاہر ہے کہ دنیا بھر کی طرح ذیابیطس بھی پاکستان کی وسیع آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے 16-2017 میں ہونے والے ایک قومی سروے میں یہ انکشاف سامنے آیا کہ پاکستان کی کل آبادی کا 26 فیصد حصہ ذیابیطس کا شکار ہے اس سروے کے مطابق ملک کی آبادی میں 20 سال کی عمر سے زیادہ کے ساڑھے تین کروڑ سے پونے چار کروڑ افراد اِس مرض کا شکار ہیں۔

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

    ذیابیطس ایسا متعدی مرض ہے جو کہ خون میں شکر کی مطلوبہ حد سے تجاوز کرنے سے لاحق ہوتی ہے۔ یہ ایک دائمی بیماری ہے اور اثرات کے لحاظ سے نہ صرف مہلک ہے بلکہ کئی دیگر بیماریوں کی وجہ بھی بنتی ہے۔ شوگرکے مریض جلد ہی دل، گردوں اور آنکھوں کے امرض میں بھی مبتلا ہو جاتے ہیں لیکن صبح کے وقت ناشتے میں اس غذا سے ذیابیطس اور اس سے قبل کی کیفیت کو بہت حد تک قابو کیا جاسکتا ہے۔

    ذیابیطس کی غذاؤں کی ماہر، ڈاکٹر لورین ہیرس کئی کتابوں کی مصنف ہیں جو کہتی ہیں کہ صبح کے ناشتے میں ریشہ، پروٹین اور لحمیات متوازن ہوں تو اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔

    وہ کہتی ہیں کہ ناشتے میں مکمل دلیہ (اوٹ میل) کو پروٹین بھرے دہی میں ڈال کر کھانے سے بہت فائدہ ہوتا ہے یہ بطورِ خاص ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوتا ہے اس کا جادوئی اثر پورے دن خون میں شکر معمول پر رکھتا ہے دلیے میں فائبر کی بھرپور مقدار ہوتی ہے جو ایک کپ میں 8 گرام تک بھی ہوسکتی ہے۔

    حکومت غیر متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بھی این سی او سی کی طرز کے اقدامات اٹھائے ماہرین

    دنیا کی اکثریت کے لیے ضروری ہے کہ روزانہ 25 سے 38 گرام فائبر یا ریشے دار غذا کھائے یہ چینی کو ہضم کرنے میں مدد کرتا ہے اور جسم میں انسولین کی پیداوار بھی بڑھاتا ہے اس طرح فائبر کی عادت ٹائپ ٹو ذیابیطس روکنے میں بہت کارگر ثابت ہوتی ہے۔

    دلیے کو دہی میں ملا کر کھانے سے پروٹین کی ضرورت پوری ہوتی ہے جس سے ناشتے کی توانائی حاصل ہوجاتی ہے اس میں مونگ پھلی کا مکھن بھی ڈالا جاسکتا ہے لیکن چینی ملانے سے مکمل اجتناب کرنا ہوگا پھلی کے علاوہ اخروٹ کا مکھن بھی بہت مفید ہوتا ہے اور اس میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ موجود ہوتے ہیں۔

    علاوہ ازیں دلیے میں مونگ پھلی، بادام، پستہ اور اخروٹ وغیرہ ملاکر کھانے سے بھی اچھے اثرات مرتب ہوتےہیں ان تمام گریوں میں اینٹی آکسیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو انسولین کی تاثیر کو بڑھاتے ہیں۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

  • حکومت غیر متعدی بیماریوں  سے بچاؤ کے لیے بھی این سی او سی کی طرز کے اقدامات اٹھائے     ماہرین

    حکومت غیر متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے بھی این سی او سی کی طرز کے اقدامات اٹھائے ماہرین

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں غیر متعدی امراض سے جاں بحق اور معذور ہوجانے والے افراد کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے ان سے بچاؤ کے لیے بھی نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی طرز کے اقدامات اٹھائے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں ملکی و غیر ملکی ماہرین صحت نے پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی کی 19ویں سالانہ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں سوسائٹی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر ابرار احمد کا کہنا تھا کہ حکومت غیر متعدی امراض خاص طور پر ذیابیطس اور دل کی بیماریوں سے نمٹنے اور بچاؤ کے لیے بھی نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی طرز کے اقدامات اٹھائے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت غیر متعدی امراض خاص طور پر ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور کینسر سمیت گردوں کی بیماریوں کے سیلاب کا خطرہ ہے اور اگر فوری طور پر اقدامات نہ اٹھائے گئے تو پاکستان میں نوجوان افراد میں مرنے اور معذور ہونے کی شرح میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا ڈاکٹروں کی تنظیمیں تحقیق اور شعور بیدار کرنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن جب تک وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس کام کے لیے تعاون نہیں کریں گی غیر متعدی امراض سے بچاؤ ممکن نہیں ہے اب وقت آگیا ہے کہ ذیابیطس اور دل کی بیماریوں پر بھی اتنی ہی توجہ دی جائے جتنی حفاظتی ٹیکہ جات اور متعدی امراض سے بچاؤ کے لیے دی جاتی ہے، پاکستان کے ہسپتالوں میں اتنی سکت نہیں ہے کہ بڑھتے ہوئے مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

    خون کا ٹیسٹ جس سے 19 سال پہلے ہی ٹائپ 2 ذیابیطس کا سراغ لگایا جاسکتا ہے

    پروفیسر ڈاکٹر ابرار احمد نے کہا کہ 3 کروڑ 30 لاکھ ذیابیطس کے مریضوں کے ساتھ پاکستان میں دل، گردوں اور آنکھوں کی بیماریوں کے افراد کی تعداد کروڑوں میں پہنچ جائے گی جس سے نمٹنا کسی کے بس کی بات نہیں رہے گی۔

    کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امپیریل کالج لندن کے ذیابیطس سینٹر سے وابستہ ڈاکٹر نیاز خان کا کہنا تھا کہ ذیابیطس میں مبتلا افراد کی اوسط عمر باقی لوگوں کے مقابلے میں 10 سال کم ہوتی ہے جبکہ ایسے مریضوں میں دل کی بیماریوں کی شرح دگنی ہوجاتی ہے۔

    دبئی ذیابیطس سینٹر سے وابستہ ڈاکٹر حامد فاروقی کا کہنا تھا کہ کورونا وبا کے دوران ٹیکنالوجی کی مدد سے ذیابیطس کے مریضوں کی دیکھ بھال کی گئی جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں کی جانیں بچ سکیں ٹیلی میڈیسن اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ذیابیطس سمیت دیگر نان کمیونیکیبل ڈیزیز (متعدی امراض) میں مبتلا افراد کا علاج کیا جاسکتا ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

    کانفرنس سے برطانوی ماہر رچرڈ کوئنٹن سمیت دیگر ملکی اور غیر ملکی ماہرین نے خطاب کیاماہرین نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ حکومت غیر متعدی امراض خاص طور پر ذیابیطس اور دل کی بیماریوں سے نمٹنے اور بچاؤ کے لیے بھی نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کی طرز کے اقدامات اٹھائے۔

    کانفرنس کے دوران مختلف اداروں اور پاکستان اینڈوکرائن سوسائٹی کے مابین باہمی یادداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے۔

    منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟