آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ایک پروگرام کے دوران فائرنگ کرکے 12 افراد کو ہلاک کرنے والا افغان شہری نکلا۔
بھارتی میڈیا کی جانب سے آسٹریلیا میں حملہ آور کو پاکستانی قرار دینے کی خبر جھوٹ ثابت ہوئی، اور اب تصدیق ہوگئی ہے کہ حملہ آور کا تعلق پاکستان سے نہیں بلکہ افغانستان سے تھا،سوال یہ ہے کہ کیا موساد کو معلوم تھا کہ حملہ آ رہا ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ یہ صرف جعلی پروپیگنڈہ نہیں تھا بلکہ پاکستانی مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے موساد-را گٹھ جوڑ کی ایک منصوبہ بند سازش تھی، آسٹریلیا کو اس سازش کے پیچھے چھان بین کر کے مجرموں کو تلاش کرنا چاہیے۔
بھارتی میڈیا جس پاکستانی شہری کے پروفائل کی بنیاد پر پروپیگنڈا کر رہا تھا، وہ خود سامنے آگیاشیخ نوید نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ میرا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں بھارتی میڈیا پر اس حوالے سے جھوٹی خبریں پھیلائی جا رہی ہیں،انہوں نے لکھا کہ میری تصویر کو سوشل میڈیا پر استعمال کر کے مجھے حملے کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے، جو مکمل بے بنیاد ہے۔
سڈنی فائرنگ،حملہ آور نوید اکرم کی تصاویر،اسرائیلی اخبار کی جھوٹی رپورٹنگ
واضح رہے کہ اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے نوید اکرم کو پاکستانی ظاہر کیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پروفائل کے مطابق وہ آسٹریلوی شہری اور الیکٹریکل انجینئر ہیں نوید اکرم کی عمر 24 سال بتائی گئی ہے، یروشلم پوسٹ کے مطابق انہوں نے 2012 سے 2016 تک انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی اس حساب سے جس نے 2016 میں اپنی انجینئرنگ مکمل کی، اس کی عمر کم از کم 30 سال ہونی چاہیے۔
دوسری جانب آسٹریلوی وزیراعظم نے سڈنی کے ساحل پر اتوار کی شام ہونے والے مسلح افراد کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیا،انہوں نے کہا کہ بونڈی میں یہودی کمیونٹی جمع ہوکر اپنا مذہبی تہوار حنوکا جوش و خروش سے منارہی تھی، دہشت گرد حملے میں صرف یہودیوں کو نشانہ بنایا گیا اور مرنے والے بیشتر آسٹریلوی شہری تھے،انتھونی البانیز نے یہودی کمیونٹی سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے انہیں یقین دلایا کہ آئندہ تحفظ کیلیے سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
سڈنی فائرنگ،حملہ آور نوید اکرم کی شناخت ہو گئی،افغان تنظیموں سے تعلق
واضح رہے کہ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں واقع دنیا کے مشہور بونڈی بیچ پر یہودی تہوار کے موقع پر ہونے والی فائرنگ کے واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہوئے۔









