Baaghi TV

Tag: راجستھان

  • راجستھان کا 200 سال سے زائد پرانا پراسرار گاؤں،جہاں 800 افراد نے راتوں رات ہجرت کی

    راجستھان کا 200 سال سے زائد پرانا پراسرار گاؤں،جہاں 800 افراد نے راتوں رات ہجرت کی

    راجستھان کے جیسلمیر کے قریب واقع کلدھرا گاؤں کی 200 سال سے زیادہ پرانی ویران بستی کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں، جوآج بھی راجستھان کی سب سے زیادہ دلچسپ اور پراسرار تاریخی بستیوں میں شامل ہیں-

    حال ہی میں ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر نے کلدھرا کا دورہ کیا اور وہاں کی ویڈیو شیئر کی ویڈیو میں اس نے اس مقام کو ایک ایسی بستی کے طور پر دکھایا جہاں کبھی سینکڑوں لوگ آباد تھے، لیکن پھر ایک وقت آیا جب پوری آبادی اپنے گھر چھوڑ کر چلی گئی،یہی پرانی کہانی ایک بار پھر لوگوں کی توجہ حاصل کر رہی ہے کہ آخر ایسا کیا ہوا تھا کہ کلدھرا اچانک ویران ہوگیا؟

    سب سے مشہور روایت کے مطابق یہ واقعہ جیسلمیر ریاست کے طاقتور وزیر سلیم سنگھ سے جڑا ہوا ہے کہا جاتا ہے کہ سلیم سنگھ کی نظر گاؤں کے سربراہ کی بیٹی پر تھی اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا گاؤں والوں نے اس مطالبے کو قبول کرنے سے انکار کیا تو مبینہ طور پر انہیں سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی۔

    کہا جاتا ہے کہ کلدھرا کے لوگوں نے دباؤ قبول کرنے کے بجائے گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ کیا صرف کلدھرا ہی نہیں بلکہ آس پاس کی پالیوال بستیوں کے لوگ بھی مبینہ طور پر اس فیصلے میں شامل ہوئے اور لوگ راتوں رات اپنے گھر چھوڑ کر چلے گئے اور جاتے وقت اس زمین کو بددعا دے گئے کہ یہاں دوبارہ کوئی آباد نہیں ہوسکے گا۔

    یہی وہ مقام ہے جہاں سے کلدھرا کی ’آسیب زدہ گاؤں‘ والی شہرت شروع ہوتی ہے آج بھی بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ گاؤں پر اس بددعا کا اثر ہے اور اسی وجہ سے یہاں دوبارہ مستقل آبادی قائم نہیں ہوسکی۔ لیکن کلدھرا کی حقیقت اس مشہور کہانی سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوسکتی ہے۔

    تاریخی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ کلدھرا کبھی ایک خوشحال بستی تھی،جیسلمیر سے تقریباً 17 سے 20 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع یہ گاؤں پالیوال برہمنوں کی آبا دی تھا راجستھان ٹورازم کے مطابق اس کی بنیاد 1291 میں رکھی گئی تھی اور سخت صحرائی ماحول کے باوجود یہ بستی کئی صدیوں تک ترقی کرتی رہی۔

    پالیوال لوگ زراعت کے ماہر سمجھے جاتے تھے انہوں نے صحرائی علاقے میں پانی کو محفوظ کرنے اور استعمال کرنے کے ایسے طریقے اختیار کیے جن کی مدد سے خشک زمین پر بھی فصلیں اگائی جاتی تھیں کلدھرا دراصل پالیوال برہمنوں کی تقریباً 84 بستیوں پر مشتمل ایک بڑے سماجی اور معاشی نظام کا حصہ تھا۔

    اپنے عروج کے زمانے میں کلدھرا میں تقریباً 400 سے 600 عمارتیں موجود تھیں اور یہاں تقریباً 1,600 افراد رہتے تھے لیکن بعد کے برسوں میں آبادی میں کمی آنا شروع ہوگئی دستیاب تاریخی معلومات کے مطابق 1815 تک یہاں تقریباً 800 افراد رہ گئے تھے، جو لگ بھگ 200 گھروں میں آباد تھے۔

    یہ اعداد و شمار ایک اہم سوال اٹھاتے ہیں اگر آبادی 1815 سے پہلے ہی کم ہونا شروع ہوگئی تھی تو کیا واقعی پورا گاؤں صرف ایک رات میں خالی ہوا تھا؟

    مورخین اور محققین کے مطابق اس سوال کا کوئی ایسا حتمی دستاویزی جواب موجود نہیں جو راتوں رات ہونے والی مکمل ہجرت کی مشہور کہانی کی تصدیق کرسکے بعض تحقیقات میں گاؤں کی ویرانی کی مختلف ممکنہ وجوہات سامنے آتی ہیں، جن میں معاشی مشکلات، تجارت کے راستوں میں تبدیلی، پانی کی قلت اور بڑھتے ہوئے ٹیکس شامل ہیں۔

    اس لیے ایک امکان یہ بھی ہے کہ کلدھرا کی آبادی ایک ہی واقعے کے نتیجے میں ختم نہیں ہوئی بلکہ لوگوں نے مختلف وجوہات کی بنا پر وقت کے ساتھ یہاں سے نقل مکانی کی۔

    بھوتوں اور بدروحوں سے متعلق دعووں کے بارے میں بھی کوئی قابل اعتماد سائنسی ثبوت سامنے نہیں آیا، مقامی افراد نے بھی ان کہانیوں سے اختلاف کیا ہے پی ٹی آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق کلدھرا کے قریب رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے برسوں اس علاقے میں رہتے ہوئے کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں دیکھا وہاں موجود ایک نگہبان نے بھی کسی پراسرار تجربے کی تردید کی۔

    آج کلدھرا ایک محفوظ تاریخی ورثے کے مقام کے طور پر موجود ہے اس کے پرانے مکانات، تنگ گلیاں، مندر اور ریت میں کھڑے خستہ حال ڈھانچے سیاحوں کو ماضی کی زندگی کی جھلک دکھاتے ہیں یہی کھنڈرات اور ان سے جڑی کہانیاں ہر سال بڑی تعداد میں لوگوں کو یہاں کھینچ لاتی ہیں۔

    یوں کلدھرا کا سب سے بڑا راز شاید یہ نہیں کہ یہاں بھوت ہیں یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایک زمانے میں آباد اور خوشحال رہنے والی یہ بستی آخر ویران کیوں ہوئی۔

    800 افراد کی آبادی، راتوں رات ہجرت کی مشہور داستان، سلیم سنگھ کی مبینہ دھمکی اور زمین کو دی گئی بددعا نے کلدھرا کو ایک پراسرار شناخت ضرور دے دی ہے، لیکن تاریخی شواہد یہ بھی بتاتے ہیں کہ اس ویرانی کے پیچھے کئی معاشی اور ماحولیاتی عوامل ہوسکتے ہیں یہی حقیقت اور افسانے کا امتزاج کلدھرا کو آج بھی راجستھان کی سب سے زیادہ دلچسپ اور پراسرار تاریخی بستیوں میں شامل رکھتا ہے۔

  • سب انسپکٹر نے کانسٹیبل کی 5 سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا

    سب انسپکٹر نے کانسٹیبل کی 5 سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا

    جے پور :بھارتی ریاست راجستھان میں پولیس کے ایک سب انسپکٹر نے ایک کانسٹیبل کی کم سن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق پولیس اہلکار کی شناخت بھوپندر سنگھ کے نام سے ہوئی جس نے الیکشن ڈیوٹی کے دوران جمعہ کی سہ پہر کمسن بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا-

    راجستھان کے علاقے دوسہ میں سب انسپکٹر بھوپیندر سنگھ نے کانسٹیبل کی 5 سالہ بچی کی عصمت دری کی واقعے کا انکشاف ہوتے ہی علاقے کے لوگ سخت مشتعل ہوئے اور تھانے پر حملہ کر کے وہاں توڑ پھوڑ کی۔

    ملز م نے خود کو تھانے کے ایک کمرے میں بند کر لیا لیکن مشتعل لوگ تھانے کی ایک کھڑکی توڑ کر اسے گھسیٹے ہوئے ایک چوراہے پر لے گئے اور خوب مار اپیٹا پولیس نے بعد ازاں54سالہ بھوپیندر سنگھ کو حراست میں لے لیا اور اسے معطل کر دیا ۔

    اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس بجرنگ سنگھ نے بتایا کہ متاثرہ بچی تشویش ناک حالت کے باعث اسپتال میں زیرِ علاج ہے جبکہ ملزم کو گرفتار کرنے کے بعد واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، متاثرہ بچی کے اہل خانہ کی مدعیت میں بھوپندر سنگھ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا، متاثرہ بچی کا طبی معائنہ کروا لیا گیا۔
    https://x.com/DrKirodilalBJP/status/1722947010993836164?s=20
    بی جے پی کے ایم پی کیرودی لال مینا نے موقع پر پہنچ کر متاثرہ بچی کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں میں بہت زیادہ غصہ پایا جاتا ہے، میرا موقع پر پہنچنے کا مقصد متاثرین کو انصاف دلوانا ہے انہوں نے متاثرہ بچی کے علاج کیلیے 50 لاکھ روپے کا اعلان کیا کیرودی لال مینا نے کہا کہ میں یہاں متاثرین کی مدد کرنے آیا ہوں، میرے لیے سب سے زیادہ الیکشن کے بجائے بچی کو انصاف دلانا ہے۔

    راجستھان کی حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ ملزم کے خلاف فوری طور پر ایکشن لیا گیا ہے، کیس کو بہت جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا، پولیس اہلکار کو معطل کرنے کے احکامات جاری کیے جا چکے۔

  • بھارتی فضائیہ نے مگ 21 لڑاکا طیاروں کے پورے فلیٹ کو گراؤنڈ کر دیا

    بھارتی فضائیہ نے مگ 21 لڑاکا طیاروں کے پورے فلیٹ کو گراؤنڈ کر دیا

    راجستھان حادثے کے بعد بھارتی فضائیہ نے مگ 21 لڑاکا طیاروں کے پورے فلیٹ کو گراؤنڈ کر دیا۔

    باغی ٹی وی : 8 مئی کو سورت گڑھ ایئربیس سے اڑان بھرنے والے ’اُڑتے تابوت‘ سے مشہور مگ 21 طیارہ ہنومان گڑھ کے گاؤں میں گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں 3 دیہاتی جان سے گئے تاہم مگ 21 طیارے کے حادثے کی تحقیقات تک پورے فلیٹ کو گراؤنڈ کر دیا گیا ہے۔

    بھارت میں 2 ہزار کا نوٹ ختم کرنے کا فیصلہ

    سینئر دفاعی عہدیداران نے میڈیا کو بتایا کہ مگ 21 کے فلیٹ کو حادثے کی تحقیقات تک گراؤنڈ کیا گیا ہے جب تک کہ تحقیقات نہیں ہو جاتیں اور حادثے کی وجوہات کا پتہ نہیں چل جاتا۔” آئی اے ایف میں صرف تین مگ 21 سکواڈرن کام کر رہے ہیں اور ان سب کو 2025 کے اوائل تک مرحلہ وار ختم کر دیا جائے گا-

    راجستھان کے اوپر گر کر تباہ ہونے والا لڑاکا طیارہ معمول کی تربیتی پرواز پر تھا جب اسے حادثہ پیش آیا۔ پائلٹ کو معمولی چوٹیں آئیں جس کے بعد حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے انکوائری شروع کر دی گئی۔

    بھارت: پاکستانی ہندوؤں کے 50 گھر مسمار

    مگ 21 کے مختلف ماڈل پچھلے 50 سال کے دوران بھارتی فضائیہ کا حصہ بنتے رہےاب بھارتی فضائیہ میں صرف 3 مگ 21 اسکواڈرن ہیں اور ان سب کو 2025 میں ریٹائر کر دیا جائے گا مگ 21 طیارے 1960 کی دہائی میں فضائیہ میں شامل کیے گئے تھے اور اب تک 800 طیارے بھارتی فضائیہ کا حصہ رہ چکے ہیں۔

    مگ 21 کےکریش ریٹ حالیہ دنوں میں تشویش کا باعث رہا ہے کیونکہ ان میں سے کئی حادثات کا سامنا کر چکے ہیں۔ آئی اے ایف ایل سی اے مارک 1 اے اور ایل سی اے مارک 2 کے ساتھ ایڈوانسڈ میڈیم کمبیٹ ایئر کرافٹ سمیت مقامی طیاروں کی شمولیت پر بھی غور کر رہا ہے-

    امریکا میں طیارہ گرکر تباہ،پائلٹ ہلاک

  • بھارت میں جوڑے کے ہاں شادی کے 54 سال بعد بچے کی پیدائش

    بھارت میں جوڑے کے ہاں شادی کے 54 سال بعد بچے کی پیدائش

    نئی دہلی: بھارت میں ایک جوڑے کے ہاں 54 سال بعد بچہ پیدا ہونے پر خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہا۔

    باغی ٹی وی : "انڈیا ٹو ڈے” کے مطابق بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع الوار میں معمر میاں بیوی کے ہاں اُن کی شادی کے 54 سال بعد بچے کی پیدائش ہوئی ہریانہ بارڈر کے قریبی علاقے کے رہائشی جوڑے کے ہاں پہلے بچے کی پیدائش آئی وی ایف ٹیسٹ ٹیوب بے بی سنٹر میں ہوئی جو الوار میں واحد رجسٹرڈ آئی وی ایف سنٹر ہے۔

    بھارت: بے اولاد خاتون کو علاج کا جھانسہ دے کرزیادتی کا نشانہ بنانے والا سادھو…

    خبر رساں اداروں کے مطابق ماں اور بچہ دونوں صحت مند ہیں جب کہ بچے کا وزن تقریباً ساڑھے تین کلو بتایا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ اولاد کی خوشی پانے والی خاتون کی عمر 75 برس اور ان کے شوہر کی عمر 70 سال ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر دونوں میاں بیوی کو خوب مبارک باد کے پیغامات دیے جا رہے ہیں۔

    آئی وی ایف ماہر ڈاکٹر پنکج گپتا نے کہا کہ تقریبا ڈیڑھ سال پہلے، گوپی چند نے اپنے رشتہ دار کے ذریعے مرکز سے رابطہ کیا تھا چندراوتی اور گوپی سنگھ راجستھان کے جھنجھنو کے قریب ہریانہ کی سرحد کے قریب ایک گاؤں میں رہتے ہیں یہ جوڑا علاج کے لیے متعدد میٹروپولیٹن شہروں میں بھی گیا تھا۔

    ماں اور بیٹے نے ایک ساتھ پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر لیا

    ڈاکٹر نے مزید کہا کہ چندراوتی نو ماہ قبل آئی وی ایف کے ذریعے تیسری کوشش میں حاملہ ہونے میں کامیاب ہوئیں۔ جہاں خوشی تھی، وہیں ماں کی بڑھتی ہوئی عمر کی وجہ سے خوف کا عنصر بھی تھا۔ لیکن آخر کار، پیر کو، اس نے ایک صحت مند بچے کو جنم دیا-

    بھارت میں حال ہی میں پارلیمنٹ کی طرف سے ایک قانون منظور کیا گیا جو جون 2022 سے نافذ العمل ہوا ہے اس کے مطابق کوئی آئی وی ایف بانجھ پن سنٹر 50 سال سے زیادہ عمر کی خواتین اور مردوں کو علاج فراہم نہیں کر سکے گالیکن یہ جوڑا خوش قسمت تھا کیونکہ قانون کے نافذ ہونے سے پہلے ہی عورت حاملہ ہو گئی تھی۔

    زہریلی شراب پینے سے 8 افراد ہلاک، 11 نابینا اور 30 سے زائد کی حالت غیر

  • ہندوستان:اودے پور میں کرفیو میں نرمی

    ہندوستان:اودے پور میں کرفیو میں نرمی

    راجستھان:ہندوستان کے شہر اودے پور میں کرفیو میں نرمی ،اطلاعات کے مطابق ہندوستان کی ریاست راجستھا ن کے شہر اودے پور میں جاری کرفیو میں اتوار کو دس گھنٹے کی نرمی کی گئی ۔

    ہندوستانی میڈیا رپورٹوں کے مطابق ریاست راجستھان کے شہراودے پورمیں کنہیا لال قتل کیس کے بعد مختلف تھانہ حدود میں نافذ کرفیو میں اتوار کو چھٹے دن دس گھنٹے کی نرمی کی گئی۔

    اس رپورٹ کے مطابق اتوار کو کرفیو میں صبح آٹھ بجے سے چھے بجے تک نرمی کی گئی۔
    اس دوران لوگوں کو ان علاقوں میں کھلی دکانوں پر اپنی ضرورت کے سامان کی خریداری کرتے دیکھا گیا۔

    کرفیو میں نرمی کے دوران بازار کھلنے کی وجہ سے کافی چہل پہل نظر آئی۔

    واضح رہے کہ اٹھائیس جون کو ہندوستان کے شہراودے پور میں خود کو مسلمان کہنے والے دو انتہا پسندوں نے تیز دھار اسلحے سے کنہیا لال نامی ایک ہندو درزی کا بہیمانہ انداز میں قتل کیا تھا۔ مذکورہ انتہا پسندوں کے اس انسانیت سوز اقدام کی ویڈیو بنا کے وائرل کی تھی ۔ اس واقعے کے بعد شہر اودے پور میں کشیدگی پھیل گئی تھی جس کے پیش نظر حکومت نے متاثرہ تھانہ کے علاقوں میں کرفیو لگادیا تھا۔

    اس وحشیانہ تشدد کی ہندوستانی مسلمانوں کے سبھی طبقات ، مسلم دانشوروں ، سیاستدانوں اور مذہبی رہنماؤں نے سخت ترین الفاظ میں مذمت اور ملزمین کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دیئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔

  • کم جہیز پر تشدد: ایک ہی خاندان میں بیاہی گئی تین بہنوں نے بچوں سمیت خودکشی کر لی

    کم جہیز پر تشدد: ایک ہی خاندان میں بیاہی گئی تین بہنوں نے بچوں سمیت خودکشی کر لی

    نئی دہلی: بھارتی ریاست راجستھان میں ایک ہی خاندان میں بیاہی گئی تین بہنوں نے سسرال کی جانب سے جہیز کے معاملے پر طنز و تشنیع سے تنگ آکر اپنے دو بچوں کے ہمراہ خود کشی کرلی۔

    باغی ٹی وی : غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق والدین کی طرف سے جہیز نہ ملنے پر سسرالی انہیں تشدد کا نشانہ بناتے تھے جس سے تنگ آکر تینوں لڑکیوں نے یہ انتہائی قدم اٹھایا۔

    کس ملک میں دس فیصد شوہر کھاتے ہیں اپنی بیویوں سے پیار کی بجائے مار؟

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ بہنوں نے اپنے 2 بچوں 4 سالہ بیٹا اور 27 دن کے بیٹے کے ساتھ خودکشی کی۔ لڑکیوں کی عمریں 25، 23 اور 20 سال تھی جبکہ خود کشی کرنے والی بہنوں میں سے دو حاملہ بھی تھیں،

    پولیس کا کہنا ہے کہ راجستھان کے ضلع جے پور میں تین بھائیوں کی شادی مذکورہ تینوں لڑکیوں سے ہوئی تھی اور سب ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔

    خط میں لکھا تھا کہ خودکشی کے بعد اہل خانہ کو خط ملا جس میں لکھا تھا کہ ہم اب اس دنیا سے جارہے ہیں، اس طرح روز روز مرنے سے اچھا ہے ایک ہی بار دم نکل جائے، ہماری موت کی وجہ سسرال والے ہیں۔

    قبل ازیں اجھستان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک خاتون اپنے شوہرپرتشدد کر رہی ہے،شوہر کا نام اجیت سنگھ ہے اور وہ سرکاری ملازم ہے، اس کی بیوی نے اس پر تشدد کیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، ویڈیو پر بحث بھی جاری ہے-

    خاتون کو نوکری کا جھانسہ دے کر زیادتی کا نشانہ بنانیوالا ملزم گرفتار

    اپنی بیوی سے تشدد کھانے والا اجیت سنگھ بھیواڑی کا رہائشی ہے اور اس کی نو برس قبل سمن سے شادی ہوئی، شادی کے ابتدائی ایام تو اچھے گزرے لیکن بعد میں تعلقات میں دراڑ آئی اور یہ خبر ملی کواجیت کواس کی بیوی مسلسل تشدد کا نشانہ بناتی ہےاجیت بیوی کو چھوڑ نے کا بھی کہے تو وہ نہ صرف خود تشدد کرتی بلکہ بھائیوں سے بھی تشدد کرواتی ہے

    بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق اجیت اکیلا ایسا شوہر نہیں جو بیوی سے مار کھاتا ہے بلکہ بھارت میں کئی ایسے لوگ ہیں جو ہمیشہ بیویوں سے مار کھاتے ہیں، اس ضمن میں نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کی ایک رپورٹ کے مطابق 49 برس کی عمر تک دس فیصد خواتین ایسی ہیں جنہوں نے کبھی نہ کبھی اپنے شوہر پر ہاتھ اٹھایا، اور ایسے وقت میں ہاتھ اٹھایا جب شوہر نے ان پر کسی قسم کا کوئی تشدد یا مار پیٹ نہیں کی ، دس فیصد خواتین نے بغیر کسی وجہ سے اپنے شوہروں پر ہاتھ اٹھایا، گیارہ فیصد خواتین نے مانا کہ انہوں نے گزشتہ ایک برس میں اپنے شوہر کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے-

    لداخ، بھارتی فوج کی گاڑی کھائی میں گرنے سے سات اہلکار ہلاک

  • خاتون کا گینگ ریپ کے بعد قتل

    خاتون کا گینگ ریپ کے بعد قتل

    جے پور:بھارتی ریاست راجستھان کے ضلع دوسہ میں اتوار دل دہلا دینے واقعہ سامنے آیا-

    باغی ٹی وی :بھارتی میڈیا کے مطابق اتوار کو دوسہ کے ایک گاؤں میں ایک 35 سالہ خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر اجتماعی عصمت دری کے بعد اسے قتل کر دیا گیا تاہم پولیس نے اس معاملے میں ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔

    جہیز نہ ملنے پر شوہر نے بیوی کی نازیبا تصاویر وائرل کر دیں،مقدمہ درج

    جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں دوسہ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ راج کمار گپتا نے بتایا کہ متاثرہ خاتون اتوار کی صبح جے پور سے دوسہ جانے والی بس میں سوار ہوئی تھی۔

    اس دوران وہ بس سے اتر کر اپنے والدین کے گھر جا رہی تھی کہ ملزم نے اسے اپنی کار میں لفٹ دینے کی پیشکش کی اس کے بعد وہ اسے ایک دور دراز علاقے میں لےگئے، جہاں اس کے ساتھ مبینہ طور پر اجتماعی عصمت دری کی گئی۔

    اس کے بعد خاتون کو قتل کر کے اس کی لاش کنویں میں پھینک دی گئی اس کی لاش پیر کی صبح کنویں سے برآمد کی گئی۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ جرم میں استعمال ہونے والی کار کی شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

    بھارت میں 13 سالہ کمسن لڑکی سے 8 ماہ تک 80 سے زائد افراد کی اجتماعی زیادتی

    قبل ازیں بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے علاقے گنٹور میں 13 سالہ کمسن لڑکی کو 8 ماہ کے دوران 80 سے زائد مردوں کی جانب سے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ سامنے آیا جبکہ پولیس تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ نابالغ لڑکی کو جسم فروشی پر مجبور کیا گیا اور اسے آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے مختلف قحبہ خانوں پر بھی لے جایا گیا۔

    پولیس نے سورنا کماری کی شناخت مرکزی ملزم کے طور پر کی تھی جس نے نابالغ کو جسم فروشی پر مجبور کیا سورنا کماری جون 2021 میں کوویڈ-19 کی عالمی وبا کے دوران اس کی والدہ کی ہلاکت کے بعد اس کے والد کے علم میں لائے بغیر اپنے ساتھ لے گئی تھی اس کے بعد خاتون نے کمسن بچی کو آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے مختلف کوٹھوں پر بھیجا تاکہ اسے جسم فروشی کاروبار میں استعمال کیا جاسکے۔

    گھر میں گھس کر ایک ہی خاندان کے 5 افرادکے گلے کاٹ دیئے گئے