Baaghi TV

Tag: راج کپور اپنے وقت کے بڑے فنکار جنکے بارے روسی و چینی لکھتے ہیں ہمارے باپ دادا انکے فین تھے۔ حافظ احمد سعید جعفر

  • راج کپور اپنے وقت کے بڑے فنکار جنکے بارے روسی و چینی لکھتے ہیں ہمارے باپ دادا انکے فین تھے تحریر؛ حافظ احمد سعید جعفر

    راج کپور اپنے وقت کے بڑے فنکار جنکے بارے روسی و چینی لکھتے ہیں ہمارے باپ دادا انکے فین تھے تحریر؛ حافظ احمد سعید جعفر

    راج کپور اپنے وقت کے بڑے فنکار جنکے بارے روسی و چینی لکھتے ہیں ہمارے باپ دادا انکے فین تھے۔ حافظ احمد سعید جعفر

    لاک ڈاؤن کے دنوں وقت کو دھکا لگا مشکل ہوگیا تھا
    ایسے میں وقت کی گھڑی کو ریورس مارا
    اور 1955کے زمانے میں پہنچ گیا
    راج کپور جو کہ بالی وڈ کی میری فیورٹ شخصیت ہیں
    صرف اسکے لئے یہ ہمت کر بیٹھا
    ورنہ اتنی پرانی فلم کسی کو آپ زبردستی پانچ منٹ نہیں دکھا سکتے .
    فلم کا نام ہے شری 420
    میرے خیال سے اس کا مطلب ہے "صاحب 420”
    1955میں روس کا صدر بھارت آیا
    نہرو نے اسے کہا
    کہ بھارت کی جس جگہ کا آپ وزٹ کرنا چاہیں آپ کرسکتے ہیں
    جس پر روس کے صدر نے کہا
    ہم تو بھائی شری 420سے ملیں گے
    فلم دیکھنے کے دوران
    ایک ترکی سے تعلق رکھنے والے کا کمنٹ پڑھا
    کہ راج کپور کی موویز کو subtitleدیں
    ہم اسکے فین ہیں
    روس چائنا اور نجانے کہاں کہاں کے لوگوں نے لکھا ہوا تآ
    کہ ہمارے باپ دادا راج کپور کے فین تھے
    حالانکہ یہ باتیں تو مجھے اب پتہ چلیں
    کہ دنیا راج کپور کی فین ہے
    میں تو بچپن سے راج صاحب کا فین ہوں
    دنیا فلم سے اپنا وقت پاس کرتی ہے
    مگر میں وقت پاس کرنے کے ساتھ ساتھ
    لوگوں کا مزاج ,الفاظ کا چناؤ اور رہن سہن اور پتہ نہیں
    کیا کیا چیزیں نوٹ کرتا ہوں
    اس فلم میں ایک جگہ مجھے ہنسی آئی
    کہ جب کوئی کہ رہا تھا
    آجکل نیا زمانہ ہے
    مطلب ہر زمانہ اپنے زمانے میں نیا ہوتا تھا
    اکثر لوگوں سے یہ سنا ہے
    کہ آجکل پیسے کی بڑی قدر ہے
    پرانے زمانے میں مکان کچے اور دل سچے ہوتے تھے
    ایسا کچھ بھی نہیں تھا
    بالکل آج کی طرح پیسے کی قدر تھی
    بنا پیسے کے راج صاحب کو ہوٹل والے سے چائے کی پیالی کی امید نہیں تھی نرگس صاحبہ سے بہانے بہانے سے پیسے مانگ کر ہوٹل والے کو دئے
    اور پھر جب 420بن کر پیسہ کمانے کے بعد اسی ہوٹل پر چائے پینے آتے ہیں
    تو عزت کے ساتھ چائے ملتی ہے
    جیب کترے اس زمانے میں بھی تھے
    راج صاحب کی جیب بھی بمبئی کے جیب کترے کاٹ کر سارے پیسے نکال لیتے ہیں
    اس زمانے میں بھی امیروں کے پاس گاڑیاں تھیں
    گاڑیوں کے مقابلے میں سائیکل تھی
    میں حیران ہوا کہ 2005میں ہمارے شہر میں موبائل کمپنیاں آئیں
    ورنہ اس سے پہلے سب امیر لوگ بھی فون کا استعمال نہیں کرتے تھے
    مگر اتنی پرانی فلم میں بھی کچھ بڑے لوگوں کے ہاں
    تین تین ٹیلی فون تھے
    کچھ لوگ کہتے ہیں
    پرانی فلموں میں ایکٹنگ خاص نہیں تھی
    مجھے تو کہیں ایسا محسوس نہیں ہوا کہ کوئی ایکٹنگ کررہا ہے
    فلم کا ایک ایک سیکنڈ دیکھا ہے
    آخری آدھا گھنٹہ ابھی دیکھنا ہے