Baaghi TV

Tag: رام مندر

  • بھارت کے مسلمان گورنر کی رام مندر میں مورتی کو سجدہ کرنے کی ویڈیووائرل

    اتر پردیش: بھارت کے مسلمان گورنر عارف محمد خان نے بابری مسجد کی جگہ بنائے گئے رام مندر میں سجدہ کیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق ریاست کیرالہ کے گورنر عارف محمد خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ویڈیو پوسٹ کی جس میں اُنہیں نے ایودھیا کے رام مندر میں مُورتی کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ ویڈیو کے پسِ منظر میں ہندو مذہب کے نعرے بھی سُنے جاسکتے ہیں، گورنر عارف محمد خان نے اپنی پوسٹ کے کیپشن میں کہا کہ اُنہوں نے رام مندر کا دورہ کرکے ہندو دیوتاؤں کی پوجا کی۔
    https://x.com/KeralaGovernor/status/1788163316436897924
    اس موقع پر بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عارف محمد خان نے کہا کہ میں جنوری میں دو بار ایودھیا آیا تھا، یہاں آکر آج بھی پہلی بار جیسا ہی محسوس کررہا ہوں، یہاں آنا میرے لیےخوشی کی بات نہیں بلکہ یہ میرے لیے بڑےفخر کی بات ہے کہ میں نےیہاں آکر پوجا کی۔

    بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری سے متعلق فیصلہ حکومت پاکستان کوکرنا ہے،امریکا

    بھارتی گورنر کی ویڈیو پر جہاں ہندو انتہا پسند وں کیجانب سے سراہا جا رہا ہے تو وہیں مسلمانوں کی جانب سے عارف محمد خان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

    ملک کے مختلف علاقوں میں بارش کی پیشگوئی

  • رام مندر کی تعمیر ۔۔۔سوگئی قوم مسلم کی تقدیر ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    رام مندر کی تعمیر ۔۔۔سوگئی قوم مسلم کی تقدیر ،تحریر:ڈاکٹر حافظ مسعود اظہر

    مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاسی سوچ اور اپروچ سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن ان کی علمی وجاہت اور ثقاہت سے انکار ممکن نہیں ۔ مولانا ابولکلام آزاد کی ایک مشہور تقریر کااقتباس ہے جس میں وہ ہندوستان کے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں ” وہ ہمارے ہی آباءتھے جو سمندروں میں اتر گئے ، پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا ، بجلیاں آئیں تو ان پہ مسکرا دیے ، بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا ، صرصر اٹھی تو رخ پھیر دیا، ہوائیں چلیں تو کہا جاﺅ تمہارا راستہ یہ نہیں۔۔۔۔۔ آج ہمارے ایمان کی جان کنی کا یہ عالم ہے کہ بڑے بڑے شہنشاہوں کے گریبانوں سے کھیلنے والے آپس میں دست وبہ گریبان ہیں اور خدا سے اس درجہ غافل ہیں کہ جیسے کبھی اس پر ایمان نہ تھا ۔ یاد کرو ۔۔۔۔! وہ وقت جب تم ہندوسان میں آئے ، تب تم انگلیوں پر گنے جاتے تھے تم نے گنگا اور جمنا کے پانیوں سے وضو کرکے بتکدہ ہند میں نعرہ توحید بلند کیا تھا ۔ اس وقت تمہارے لئے نہ خوف تھا نہ ڈر تھا ۔“

    توحید کی برکت سے جس ہندوستان پر مسلمانوں نے آٹھ سو سال حکومت کی تھی ۔۔۔آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اسی ہندوستان کی سرزمین مسلمانوں کےلئے اجنبی ہوچکی ہے ۔ اس ہندوستان میں مسلمانوں کی عزتیں محفوظ رہیں ، نہ مسجدیں اور نہ جان ومال ۔ جس کی تازہ مثال بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر ہے ۔ بابری مسجد نہ تو اچانک شہید کی گئی تھی اور نہ ہی اس جگہ راتوں رات رام مندر تعمیر ہوا ہے بلکہ سالہاسال میں یہ دونوں پایہ تکمیل کو پہنچے ہیں ۔ بابری مسجد جب شہید کی گئی اس وقت بھارت کے مسلمانوں نے مقدور بہ احتجاج کیا اگرچہ اس احتجاج کی انھیں بھاری جانی مالی قیمت ادا کرنا پڑی لیکن اب جبکہ نریندر مودی نے بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی پہلی منزل کا افتتاح کیا ہے تو چہار سو سناٹا ہے ۔پاکستان جو بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کا وکیل تھا اس پاکستان کے حکمرانوں نے رام مندر کی تعمیر کو ایک اخباری بیان پر ٹرخا دیا ہے ۔ جہاں تک بھارت کے مسلمانوں کا تعلق ہے ۔۔۔وہ بیچارے کریں تو کیا کریں۔۔۔۔ جائیں تو کہاں جائیں ۔ جس پاکستان کے قیام کےلئے انھوں نے جانی مالی قربانیاں دی تھیں ۔۔۔۔اس پاکستان نے ان سے آنکھیں پھیر لی ہیں ۔ اب تو یوں لگتا ہے جیسے بھارتی مسلمانوں میں احتجاج کی سکت بھی نہیں رہی ۔ یہ سب اسلئے ہورہا ہے کہ پاکستان بھارت میں رہ جانے والے اپنے مسلمان بھائیوں کو بھول چکا ہے۔پاکستان کے قیام کےلئے سب سے زیادہ قربانیاں ان علاقوں کے مسلمانوں نے دی تھیں جہاں وہ خود اقلیت میں تھے اور ہندو اکثریت میں تھے ۔ اقلیتی علاقوں کے مسلمانوں نے پاکستان کےلئے سب کچھ قربان کرنے کا نہ صرف عہد کیا بلکہ یہ عہد ایفا بھی کردیا تو وہ علاقے جہاں مسلمان اکثریت میں تھے انھوں نے کہا تھا ہمارے بھائیو۔۔۔۔! پاکستان بن جانے کے بعد ہم تمہیں بھولیں گے نہیں ۔

    23مارچ 1940ءکو جب لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ کا اجلاس ہوا تو اس میں ہندوستان بھر کے مسلمانوں نے شرکت کی تھی ۔ اس اجلاس میں جب وہ قراداد پیش کی گئی جو تاریخ میں قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہوئی تو اس کے بعد مسلمانوں کی خوشی کا دیدنی عالم تھا ۔ تب میرٹھ سے تعلق رکھنے والے ایک نمائندے سید رﺅف شاہ نے مسلم اکثریتی صوبوں سے آئے ہوئے وفود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا”جان سے عزیز بھائیو!جب آپ آزاد اور خود مختار ہوجائیں گے تو بھارت کے ہندو ہمیں نیست ونابود کر دیں گے۔ ہمیں پاکستان کے ساتھ محبت کی سزا دی جائے گی ،ہمیں شودروں کی طرح زندگی بسر کرنا ہوگی،اس کے باوجود ہم خوش ہوں گے کہ کم از کم آپ تو آزاد فضا میں سانس لیں گے۔جب آپ آزاد ہو جائیں اور آزاد مملکت میں زندگی بسر کرنے لگیں تو کبھی کبھی ہمارے لئے بھی دعائے مغفرت کر لیا کرنا۔“سید رﺅف شاہ اپنی ساری تقریر کے دوران روتے رہے ،ہزاروں شرکائے اجلاس کوبھی رولادیا ۔ آخر میں کہنے لگے”بھائیومیرے آنسو اس لئے نہیں کہ ہندو ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے،ہمیں چیریں پھاڑیں گے بلکہ یہ تو خوشی کے آنسو ہیں کہ آپ ایک ایسے ملک میں زندگی بسر کریں گے جو آزاد ہو گا اور جس کی بنیاد لا الہ الا اللہ پر ہو گی۔“سید رﺅف شاہ نے جب یہ بات کہی تو مجمع پر عجب کیفیت طاری ہو گئی،آنسو بے قابو ہو گئے ، ضبط کے بند ھن ٹوٹ گئے اور ہچکیاں بندھ گئیں۔تب حاضرینِ اجلاس میں سے بعض اٹھے اور کہاپاکستان صرف ہمارا ہی نہیں آپ کابھی ہو گا ،یہ اسلام اور قرآن کا ملک ہو گا۔ ہم بھارت میں رہ جانے والے اپنے بھائیوں کوبھولیں گے اور نہ بے یارومددگا ر چھوڑ یں گے۔آپ کا تحفظ اور مدد ہمارا اولین فرض ہو گا۔بھارت میں رہ جانے والے مسلمان سمجھتے تھے کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہوگا ان کی عزت وعصمت کا محافظ ونگہبان ہوگا ۔ پاکستان سے پھر محمد بن قاسم اور محمود غزنوی جیسے مجاہد پیدا ہوں گے جو ان کی ماﺅں بہنوں ، بیٹیوں اور مسجدوں کی حفاظت کریں گے ۔ان کی طرف بڑھنے والے ہندﺅوں کے ہاتھ کاٹیں گے ۔

    یہ تھے 23مارچ1947ءکے موقع پر مسلمانوں کے احساسات اور جذبات ۔افسوس صد افسوس آج ہم یہ سب کچھ بھول گئے ۔ بابری مسجد شہید کر دی گئی ہماری غیرت ایمانی نہ جاگی ۔ بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر ہوگیا ۔۔۔۔۔تب بھی ہمارے حکمران ، سیاستدان ،تمام مذہبی سیاسی جماعتیں اور میڈیا خاموش تماشائی بنے رہے ۔

    بابری مسجد۔۔۔۔ جو کعبہ کی بیٹی تھی ،عالی شان تھی اس کانام ونشان بھی مٹادیا گیا ۔بابری مسجد کو شہید لکھتے ہوئے قلم کانپتا ہے ، آنکھیں بھیگ جاتی ہیں یہ سوچ کر کہ جب گاﺅ ماتا اور بتوں کے پجاری اس کے گنبدوں پر چڑھے ، ان پر کدالیں چلانا شروع کیں تو کعبے کی بیٹی چلاتی رہی کہ محمود غزنوی کے فرزند کدھر ہیں ؟ ظہیر الدین بابر کے گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں کیوں خاموش ہیں ؟ ۔۔۔۔ کوئی ہے جو میری مدد کو پہنچے ، کون ہے جو مجھے گاﺅ ماتا کے پجاریوں سے بچائے ۔

    بابری مسجد کو بچانے پاکستان پہنچا نہ کوئی دوسرا مسلمان ملک ۔ مسجد کو بچانے کےلئے صدائے احتجاج بھارت کے مسلمانوں نے ہی بلند کی جس کی انھیں بھاری جانی مالی قیمت چکانا پڑی ۔ اس کے بعد مسلمان سپریم کورٹ پہنچے ان کا خیال تھا کہ شائد سے انھیں یہاں سے انصاف ملے گا ، وہ سمجھتے تھے کہ یہ عدلیہ کا سب سے اعلیٰ ادارہ ہے جہاں انصاف کا ترازو تھامے منصف بیٹھے ہیں ۔۔۔۔ لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ عدلیہ میں بیٹھے جج بھی ہندو پہلے اور جج بعد میں ہیں ۔یہی وجہ تھی کہ جس طرح بابری مسجد کی شہادت کے وقت جنونی ہندﺅوں نے مسلمانوں کا خون بہایا ایسے ہی بھارتی عدلیہ نے بھی انصاف کا قتل عام کیا ۔ سپریم کورٹ نے مسلمانوں کی پٹیشن کے جواب میں جو فیصلہ سنایا وہ بھی دنیا کی تاریخ کا انوکھا فیصلہ تھا ججوں نے اپنے فیصلے میں لکھا اگرچہ ہمیں کسی مندر کے آثار نہیں ملے تاہم جھگڑا نمٹانے کےلئے ضروری ہے کہ یہاں مندر بنادیا جائے ۔ بہر حال مندر بن گیا اس کا افتتاح بھی ہوگیا ۔ حقیقت میں دیکھاجائے تو یہ مندر زمین پر نہیں مسلمانوں کی غیرت ایمانی سے تہی لاشوں پر بنا ہے ۔ جب غیرت مر جائے اور ایمان مردہ ہوجائیں تو پھر یہی کچھ ہوتا ہے ۔ اب بھی وقت ہے مسلمان سنبھل جائیں ، پاکستان کے حکمران ،سیاستدان ، جرنیل اپنی ذمہ داری کو سمجھیں نفرت اور انتقام کی جس آگ میں ہمارے ہندوستانی مسلمان جل رہے ہیں اسے بجھائیں ورنہ وہ وقت دور نہیں کہ جب یہ آگ ہمیں بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی ۔

  • او آئی سی کی بھارت میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کے افتتاح کی مذمت

    او آئی سی کی بھارت میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کے افتتاح کی مذمت

    دبئی: او آئی سی نے بھارت میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کے افتتاح کی مذمت کردی۔

    باغی ٹی وی: اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے جنرل سیکرٹریٹ نے بھارتی شہر ایودھیا میں ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں شہید کی گئی بابری مسجد کے مقام پر "رام مندر” کے افتتاح پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جاری بیان کے مطابق او آئی سی جنرل سیکرٹریٹ ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے جس کا مقصد پانچ صدیوں قدیم بابری مسجد کی نمائندگی کرنے والے اسلامی نشانات کو مٹانا ہے۔

    بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ روز پیر کو ایودھیا میں ہندو رسومات ادا کرکے رام مندر کا افتتاح کیا تھا، اس موقع پر ہندو پنڈتوں، ارکان اسمبلی، کھلاڑیوں اور شوبز شخصیات سمیت 7 ہزار مہمان موجود تھے۔

    غزہ میں شدید لڑائی کے دوران 24 اسرائیلی فوجی ہلاک

    واضح رہے کہ بابری مسجد مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کے حکم پر 1528 میں یو پی کے شہر ایودھیا میں تعمیر کی گئی تھی جسے 1992 میں ہندو انتہاپسندوں نے حملہ کرکے شہید کردیا تھا، جس کے حوالے سے ہندو دعویٰ کرتے ہیں کہ اس مقام پر رام کا جنم ہوا تھا اور یہاں مسجد سے قبل مندر تھا۔

    برصغیر کی تقسیم تک معاملہ یوں ہی رہا، اس دوران بابری مسجد کے مسئلے پر ہندو مسلم تنازعات ہوتے رہے اور تاج برطانیہ نے مسئلے کے حل کے لیے مسجد کے اندرونی حصے کو مسلمانوں اور بیرونی حصے کو ہندوؤں کے حوالے کرتے ہوئے معاملے کو دبا دیا، بی جے پی کے رہنما ایل کے ایڈوانی نے 1980 میں بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی تحریک شروع کی تھی۔

    نواز شریف اور شہباز شریف کے ساتھ مل کر معیشت سنبھالیں گے،جہانگیر ترین

    1992 میں ہندو انتہا پسند پورے بھارت سے ایودھیا میں جمع ہوئے اور ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں 6 دسمبر کو سولہویں صدی کی یادگار بابری مسجد کو شہید کر دیا جب کہ اس دوران 2 ہزار کے قریب ہلاکتیں ہوئیں، حکومت نے مسلم ہندو فسادات کے باعث مسجد کو متنازع جگہ قرار دیتے ہوئے دروازوں کو تالے لگا دئیے، جس کے بعد معاملے کے حل کے لیےکئی مذاکراتی دور ہوئے لیکن کوئی نتیجہ نہ نکل سکا۔

    بھارتی سپریم کورٹ نے 9 نومبر 2019کو بابری مسجد کیس پر فیصلہ سناتے ہوئے مسجد ہندوؤں کے حوالے کردی اور مرکزی حکومت ٹرسٹ قائم کرکے مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کا حکم دے دیا جب کہ عدالت نے مسجد کے لیے مسلمانوں کو متبادل جگہ فراہم کرنے کا بھی حکم دیا۔

    عمران خان نے نئے پاکستان کے نام پر مجھے بیوقوف بنایا،پرویز خٹک

  • ہندو پیشواؤں کے بعد اپوزیشن جماعت اور سیاسی رہنماؤں کا  رام مندر کے افتتاح کا بائیکاٹ

    ہندو پیشواؤں کے بعد اپوزیشن جماعت اور سیاسی رہنماؤں کا رام مندر کے افتتاح کا بائیکاٹ

    نئی دہلی: نامور ہندو پیشواؤں کے بعد بھارتی اپوزیشن جماعت اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے رام مندر کے افتتاح کو غلط اقدام قرار دیتے ہوئے تقریب کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی: رام مندر کی افتتاحی تقریب کے حوالے سے ہندو پیشواؤں نے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں آنے والے انتخابات میں کامیابی کے لیے مودی سرکار نے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا، اسی طرح اپوزیشن جماعت کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے بھی رام مندر کے افتتاح پر مودی سرکار کو آڑے ہاتھوں لے لیا اور رام مندر کے افتتاح کو الیکشن مہم قرار دے دیا۔

    کانگریس کے مقامی رہنماؤں نے ایک بیان میں کہا کہ نا مکمل مندر کا افتتاح انتخابات کے نتائج کو اپنے حق میں کرنے کی ایک چال ہے کیوں کہ مودی سرکار کے پاس عوام کو منہ دکھانے کے لیے کارکردگی نام کی کوئی چیز نہیں، بی جے پی سیاست میں مذہب کو گھسیٹ رہی ہے۔

    غربت کی ماری عوام ، الیکشن کا ماحول؟ تجزیہ ، شہزاد قریشی

    کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رہنماؤں نے کہا کہ رام مندر کے افتتاح کا حق مذہبی رہنماؤں کو ہے ، سیاستدان اور مذہبی رہنما دو الگ چیزیں ہیں لیکن پھر بھی مودی سرکار میں سیاست دان ہی مذہبی پیشوا بن بیٹھے ہیں تاکہ سادہ لوح ہندوؤں کو کے جذبات سے کھیل سکیں، مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے کہا کہ انتخابات سے قبل ایودھیا میں رام مندر کا افتتاح بی جے پی کی جہالت اور مودی کے غاصبانہ تسلط کی واضح مثال ہے۔

    اگلے پانچ سال میں تحریک انصاف مکمل طور پر ختم ہوجائے گی،پرویز خٹک

    واضح رہے کہ 22 جنوری مودی کو ایودھیا میں متنازع مندر کا افتتاح کریں گے۔ جس کے لیے مختلف دکانداروں اور شاپنگ مالز کو دھمکی دی گئی کہ رام مندر کے افتتاح کے بینرز لگائے جائیں، بابری مسجد کو ہندو انتہا پسندوں نے 1992 میں شہید کردیا تھا جس کی جگہ سپریم کورٹ نے رام مندر کی تعمیر کا حکم دیا تھا ، مودی اور بی جے پی بابری مسجد کو شہید کرنے اور اس کی جگہ مندر تعمیر کرنے کی مہم میں شریک تھے۔

    این ایچ آئی نے کالی کھانسی کے پھیلاؤ کے خدشات ظاہر کر دیئے