Baaghi TV

Tag: رانی پور

  • فاطمہ کیس، ملزم اسد شاہ کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع

    فاطمہ کیس، ملزم اسد شاہ کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع

    سندھ کے علاقے رانی پور میں فاطمہ قتل کیس کی سماعت ہوئی

    فاطمہ قتل کس کی ملزم اسد شاہ کو جوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا، عدالت نے کیس کی سماعت کے بعد ملزم اسد شاہ کے جسمانی ریمانڈ میں تین دن کی توسیع کر دی،دوران سماعت فاطمہ قتل کیس کے تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ اسد شاہ سے جو موبائل فون برآمد ہوئے ہیں ان پر سکیورٹی کوڈ لگایا گیا ہے،اسد شاہ موبائل فونز پر لگا سکیورٹی کوڈ بتانے کے لیے تیار نہیں ہے تمام چیزیں شفاف انکوائری پر اثر انداز ہو رہی ہیں ،جج نے ملزم اسد شاہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا اگر آپ بے قصور ہیں تو موبائل کوڈ پولیس کو بتا دیں

    تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ ملزمان کی ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹس اب تک موصول نہیں ہوئیں ،عدالت نے کیس کے مرکزی ملزم اسد شاہ کے جسمانی ریمانڈ میں 3 روز کی توسیع کر دی

    واضح رہے کہ کچھ روز قبل خیرپور کی حویلی میں مبینہ تشدد سے جاں بحق دس سالہ فاطمہ کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کرنے والے میڈیکل بورڈ نے ابتدائی رپورٹ میں کمسن ملازمہ کے ساتھ جنسی زیادتی اور جسمانی تشدد کی تصدیق کی تھی , اسد شاہ کی حویلی سے چار مزید کمسن گھریلو ملازمائیں برآمد ہوئی ہیں،نابالغ لڑکیوں کو گھر میں قید رکھا گیا تھا اور ان پر تشدد بھی کیا گیا تھا گھریلو ملازمین کو ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد ان کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا جائے گا۔

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    قبل ازیں اجالا نامی لڑکی نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اسد شاہ کے گھر میں کام کرتی تھی، اس نے اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے، حنا شاہ بہت تشدد کرتی تھی، اگر کوئی غلطی ہو جاتی تو دیگر ملازموں سے تشدد کرواتی تھی،اجالا کی ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ کہتی ہیں کہ ایک روز فائل گم ہو گئی تو حنا شاہ نے خود مجھے ڈنڈے سے مارا، جب کوئی غلطی ہوتی تو پانی ابال کر پلایا جاتا اور بچہ ہوا کھانا دیا جاتا جبکہ صرف چار ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی تھی،

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

  • فاطمہ کیس،میرا بیٹا بے گناہ ہے،اسد شاہ کی والدہ کا بیان

    فاطمہ کیس،میرا بیٹا بے گناہ ہے،اسد شاہ کی والدہ کا بیان

    فاطمہ قتل کیس، کچے کے ڈاکو بھی ملزم اسد شاہ کی حمایت میں آ گئے، دھمکی دے دی اور کہا کہ وہ اسد شاہ کی حویلی کی خود حفاطت کریں گے، جس نے پیروں کا نام لیا انکی خیر نہیں،

    ڈاکوؤں کا ویڈیو پیغام سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ہتھیار اٹھا رکھے ہیں ، ڈاکوؤن کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے اسد شاہ پر مقدمہ کیا وہ واپس لیں، پیروں کی حویلی کی حفاظت ہم کریں گے،دھمکیوں کے بعد پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے ڈاکوؤں کے خلاف بھی مقدمہ درج کر لیا ہے تا ہم انکو گرفتار نہیں کر سکی،

    ملزم اسد شاہ کی والدہ کا کہنا ہے کہ میرا بیٹا بے گناہ ہے، اسکا ڈی این اے کروایا جائے، فاطمہ پر کبھی تشدد ہوتے نہیں دیکھا، اجالا اور ثانیہ فیاض شاہ کے پاس تھیں،اسی نے دونوں کو حنا شاہ کو دیا تھا، فاطمہ تین ماہ قبل فیاض شاہ کے پاس تھی، فاطمہ جب ہمارے پاس آئی تو وہ بیمار تھی، واقعہ کی تحقیقات کی جائیں میرا بیٹا بے گناہ ہے

    سندھ کے علاقے رانی پور میں فاطمہ قتل کیس کے مرکزی ملزم اسد شاہ کے سسر فیاض شاہ کو بھی مقدمے میں نامزد کر دیا گیا ہے,فاطمہ کے ورثا کی درخواست پر ملزم کی بیوی ملزمہ حنا شاہ کے والد فیاض شاہ کو نامزد کیا گیا ہے، پولیس حکام کے مطابق مقتولہ بچی کی والدہ نے پولیس کو درخواست دی جس میں کہا گیا کہ ہم نے بیٹی فاطمہ کو فیاض شاہ کے حوالے کیا تھا جس نے ہماری بیٹی کو حنا شاہ کے گھر رکھا، فیاض شاہ اب دھمکیاں دے رہا ہے اور کہتا ہے کہ مقدمے سے پیچھے ہٹ جاؤ، پولیس نے فیاض شاہ کو بھی مقدمہ میں نامزد کر لیا ہے،

    واضح رہے کہ کچھ روز قبل خیرپور کی حویلی میں مبینہ تشدد سے جاں بحق دس سالہ فاطمہ کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کرنے والے میڈیکل بورڈ نے ابتدائی رپورٹ میں کمسن ملازمہ کے ساتھ جنسی زیادتی اور جسمانی تشدد کی تصدیق کی تھی

    واضح رہے کہ اسد شاہ کی حویلی سے چار مزید کمسن گھریلو ملازمائیں برآمد ہوئی ہیں،نابالغ لڑکیوں کو گھر میں قید رکھا گیا تھا اور ان پر تشدد بھی کیا گیا تھا گھریلو ملازمین کو ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد ان کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا جائے گا۔

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    قبل ازیں اجالا نامی لڑکی نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اسد شاہ کے گھر میں کام کرتی تھی، اس نے اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے، حنا شاہ بہت تشدد کرتی تھی، اگر کوئی غلطی ہو جاتی تو دیگر ملازموں سے تشدد کرواتی تھی،اجالا کی ویڈیو سامنے آئی جس میں وہ کہتی ہیں کہ ایک روز فائل گم ہو گئی تو حنا شاہ نے خود مجھے ڈنڈے سے مارا، جب کوئی غلطی ہوتی تو پانی ابال کر پلایا جاتا اور بچہ ہوا کھانا دیا جاتا جبکہ صرف چار ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جاتی تھی،

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

  • حویلی سے 20 سالہ شادی شدہ لڑکی کے لاپتا ہونے پرپیرگرفتار

    حویلی سے 20 سالہ شادی شدہ لڑکی کے لاپتا ہونے پرپیرگرفتار

    رانی پور: پیر کی حویلی سے 20 سالہ شادی شدہ لڑکی کے لاپتا ہونے پر پولیس نے پیر سہیل شاہ کو گرفتار کرلیا۔

    باغی ٹی وی : ایس ایس پی خیرپور کے مطابق رانی پور کی حویلی سے لاپتا 20 سالہ لڑکی کے کیس کی تحقیقات میں پیر سہیل شاہ کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے جب کہ لڑکی کے گھر والوں کو بھی طلب کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ رانی پور کے ایک اور پیر کی حویلی سے 20 سال کی شادی شدہ لڑکی کے لاپتا ہونے کا انکشاف ہوا،لاپتہ 20 سالہ لڑکی کے ورثا نے پیر سہیل احمد شاہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا تعلق قمبر کے علاقے مینا گاؤں سے ہے، ان کی بیٹی شادی شدہ ہے اور میاں بیوی کے درمیان تنازع ہوا تھا۔

    محکمہ موسمیات کی آج سے ملک بھرمیں بارشوں کی پیشگوئی

    انہوں نے کہا کہ معاملے حل ہونے تک پیر سہیل احمد شاہ نے لڑکی کو حویلی میں امانتاً چھوڑنے کو کہا تھا، ڈیڑھ سال قبل رانی پور حویلی سے اچانک فون کال کرکے آگاہ کیا گیا لڑکی لاپتہ ہوگئی ہے رانی پور حویلی میں کئی مرتبہ گئے لیکن لڑکی کا کچھ نہیں بتایا گیا۔

    ورثا نے نگران وزیراعلیٰ سندھ اور پولیس کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ لڑکی کو جلد سےجلد سےبازیاب کرایا جائے، نگران وزیراعلیٰ سندھ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے حویلی سے لڑکی کی گمشدگی کا نوٹس لیا انہوں نے کمشنر سکھر سے فوراً انکوائری رپورٹ طلب کرتے ہوئے ڈی آئی جی سکھر کو لڑکی کی فی الفور بازیابی کا حکم دیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں رانی پورمیں پیر کی حویلی میں کام کرنے والی 10 سالہ بچی تشدد سے جاں بحق ہوگئی تھی آج عدالت نے مرکزی ملزم اسد شاہ کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 5 روز کی توسیع کی ہے میڈیکل بورڈ نے ابتدائی رپورٹ میں کمسن ملازمہ کے ساتھ جنسی زیادتی اور جسمانی تشدد کی تصدیق کی ہے۔

    پوپ فرانسس کا مذاہب کے نام پر تشدد کا شکار افراد کے دن پر خصوصی …

  • رانی پور: پیر اسد شاہ جیلانی کی حویلی سے مزید چارکمسن ملازمائیں برآمد

    رانی پور: پیر اسد شاہ جیلانی کی حویلی سے مزید چارکمسن ملازمائیں برآمد

    مقامی پولیس نے بتایا کہ اتوار کو رات گئے چھاپہ مار کر رانی پور کے بااثر پیر اسد شاہ جیلانی کے گھر سے چار مزید کمسن گھریلو ملازمائیں برآمد ہوئی ہیں۔

    باغی ٹی وی : سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) خیرپور میر روحیل خان کھوسو نے کہا کہ نابالغ لڑکیوں کو گھر میں قید رکھا گیا تھا اور ان پر تشدد بھی کیا گیا تھا گھریلو ملازمین کو ضروری کارروائی مکمل کرنے کے بعد ان کے اہل خانہ کے حوالے کر دیا جائے گا۔

    پولیس کی بھاری نفری پیر اسد شاہ کی حویلی کے باہر تعینات کردی گئی روحیل کھوسو کے مطابق ڈی این اے کیلئے حویلی کے 4 ملازموں کے خون کے نمونے لے لیے ہیں حویلی میں مالکان، نوکروں اور آنے جانے والے دیگر مردوں کی لسٹ تیار کرلی گئی ہے اور سب کے ڈی این اے کرائے جائیں گے پولیس کو تفتیش کے دوران کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں ہے حویلی میں کام کرنے والی بچیاں محصور ہیں اور باہر نکلنا چاہتی ہیں، تمام بچیوں کو نکال کر گھروں تک بھیجیں گے۔

    جناح ہاؤس کیس:یاسمین راشد اورعمرسرفراز چیمہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع

    گزشتہ دنوں رانی پورمیں پیر کی حویلی میں کام کرنے والی 10 سالہ بچی تشدد سے جاں بحق ہوگئی تھی میڈیکل بورڈ نے فاطمہ پر جسمانی تشدد کی تصدیق کی ہے اور بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کا خدشہ ظاہر کیا ہے واقعے میں گرفتار ملزم اسد شاہ کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے جبکہ نامزد ملزم کی اہلیہ حنا شاہ کو سندھ ہائی کورٹ سے 7 روز کی حفاظتی ضمانت مل گئی ہے۔

    آئی جی پنجاب کا مینٹل ہیلتھ کا دورہ ،کانسٹیبل شاہد عباس کی جلد صحت …

  • رانی پور:مبینہ تشدد میں ہلاک کمسن ملازمہ کی تحقیقات کےدوران جنسی تشدد کا انکشافات

    رانی پور:مبینہ تشدد میں ہلاک کمسن ملازمہ کی تحقیقات کےدوران جنسی تشدد کا انکشافات

    خیرپور: رانی پور میں پیر اسد شاہ کی حویلی میں کام کرنے والی کمسن ملازمہ فاطمہ کی تشدد سے ہلاکت کی تحقیقات کے دوران ایک نیا انکشاف سامنے آیا ہے جس سے کیس نے ایک نیا موڑ لے لیا ہے-

    باغی ٹی وی: ڈی آئی جی سکھر جاوید جسکانی نے نجی خبررساں ادارے سے گفتگو میں بتایا کہ میڈیکل بورڈ نے فاطمہ پر جسمانی تشدد کی تصدیق کی ہےاور بچی کےساتھ جنسی زیادتی کا خدشہ ظاہرکیا ہے تفتیش میں شامل سابق ایس ایچ اورانی پور، ہیڈ محرر، ڈاکٹر اور کمپاؤنڈر کا بھی ریمانڈ لینے کا فیصلہ کیا ہے، ملزمان کو حقائق مسخ کرنے، لاش بغیر پوسٹ مارٹم دفنانے پر نامزد کیا جائے گا،حویلی سے تمام بچوں کو فوری ریسکیو کر کے ان کے گھروں کو بھجوانے کے احکامات جاری کردیئے ہیں جبکہ حویلی میں پولیس کیمپ قائم کر کے تمام مردوں کے ڈی این اے سیمپل لیے جائیں گے۔

    سابق رکن قومی اسمبلی علی وزیر گرفتار

    دوسری جانب کمسن ملازمہ فاطمہ قتل کیس کے مرکزی ملزم اسد شاہ کو خون اور ڈی این اے سیمپل کے لیے گمبٹ اسپتال لایا گیا جہاں ملزم کے خون اور پیشاب کے نمونے لیے گئے ملزم اسد شاہ چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں ہے جبکہ واقعے میں غفلت برتنے پرایس ایچ او رانی پورامیر چانگ، ہیڈ محرر محمد خان، ڈاکٹر فتح میمن اور ڈسپنسر امتیاز بھی پولیس تحویل میں ہیں، چاروں افراد کی نا اہلی کے باعث بچی کو بنا پوسٹ مارٹم دفنایا گیا تھا بچی کی لاش پر تشدد کے نشانات نوٹ کیے گئے، بچی کے گلے، پیٹ اور بازوؤں پر تشدد کے نشانات پائے گئے۔

    مون سون: کراچی میں آج سے بارشوں کا امکان

    جبکہ بچی کے والدین کا کہنا ہےکہ مرکزی ملزم پیر اسد شاہ کی اہلیہ حنا شاہ مختلف لوگوں کے ذریعے ان پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ کیس سے پیچھے ہٹ جائيں،پولیس نے رانی پور اسپتال کے ڈسپنسر کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے، گرفتار مرکزی ملزم اسد شاہ نے دوران تفتیش بتایا تھا کہ ڈسپنسر امتیاز، فاطمہ کا گھر پر علاج کرتا رہا تھا،ملزم کی بیوی حنا شاہ نے حفاظتی ضمانت لے رکھی ہے دوسری جانب سابق ایم این اے مہرین بھٹو نے بچی کے والدین سے ملاقات کی اور سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی۔

    پاکستان میں منکی پاکس کا نیا کیس سامنے آگیا

  • رانی پور،گھریلو ملازمہ قتل کیس، دو بیٹیوں کو بچانے کیلئے طبعی موت کا بیان دیا، والدہ

    رانی پور،گھریلو ملازمہ قتل کیس، دو بیٹیوں کو بچانے کیلئے طبعی موت کا بیان دیا، والدہ

    سندھ کے علاقے رانی پور میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، سفاک شخص نے 10 سالہ بچی کو مبینہ طور پرتشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اسے تڑپتا ہوا فرش پر چھوڑ دیا، بچی کی موت ہو گئی

    واقعہ کی سی سی ٹی فوٹیج سامنے آئی ہے جس میں کمسن بچی کو فرش پر تڑپتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے،بچی کی والدہ کی مدعیت میں پولیس نے دو افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا، واقعہ پر ایس ایس پی خیر پور کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد اسد شاہ اور اسکی اپلیہ کو نامزد کیا گیا ہے، اسد شاہ کو حراست میں لے لیا ہے خاتون کی گرفتاری کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں،

    گھریلو ملازمہ قتل کیس، ملزم جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
    ملزم اسد شاہ کو آج عدالت پیش کیا گیا،دوران سمات پولیس نے ملزم کا 15 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا، عدالت نے پولیس کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزم کا 4 روز کا جسمانی ریمانڈ دے دیا،4 دن کے بعد ملزم کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا پولیس نے بچی پر تشدد کے الزام میں گرفتار ملزم پیر اسد شاہ کو ریمانڈ ملنے کے بعد ہنگورجہ تھانے منتقل کردیا، کیس کی سماعت سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ سوبھو ڈیرو نے کی، دوران سماعت ملزم اسد شاہ نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ وائرل کی گئی ویڈیوزمیری حویلی کی نہیں بچی پر تشدد نہیں کیا میری اپنی حویلی کی جو ویڈیوز تھیں وہ میں نے خود پولیس کو فراہم کیں ہماری حویلی میں بچیاں کام کاج کرتی ہیں مرید اپنی خوشی سے بچیاں کام پر لگاتے ہیں،

    دوسری جانب آج عدالت سے اجازت ملنے کے بعد مقتول بچی فاطمہ کی قبر کشائی کی جائے گی اور فاطمہ کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا،

    بچی کی والدہ کا کہنا ہے کہ اسکی تین بیٹیاں حویلی میں ملازم تھیں، ایک بیٹی کی موت کے بعد اس نے اپنی دوسری دو بیٹیوں کو بچانے کے لئے طبعی موت کا بیان دیا تھا، بچی کی والدہ نے بیٹی کی موت کا ذمہ دار اسد شاہ کو قرار دیا،

    درج مقدمے کے مطابق بچی گزشتہ نو ماہ سے ملازمہ تھی، بیٹی نے بتایا دونوں ملزمان کام زیادہ لیتے ہیں تنخواہ بھی نہیں دیتے فون پر بچی کے بیمار ہونے کی اطلاع دی بعد میں انتقال کا بتایا گیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار ملزم کو تھانے میں پروٹوکول دیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر نے بچی کو بغیر دیکھے بیان دیا۔ ابتدائی رپورٹ دینے والے ڈاکٹر کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے، ایس ایچ او کو معطل کیا گیا ہے اسکے بعد بھی ملزم کو تھانے میں پروٹوکول دیا جا رہا ہے،

    واضح رہے کہ تشدد سے مرنے والی بچی کی والدہ نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ بچی کی موت طبعی ہے، جس کی وجہ سے پولیس نے بچی کا پوسٹ مارٹم نہیں کروایا، بچی کے جسم پر تشدد کی ویڈیو سامنے آئیں تو پولیس کے اعلیٰ حکام نے واقعہ کا نوٹس لیا،اسکے بعد سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آ گئی،

    پولیس کی جانب سے بچی کا علاج کرنے والے ڈاکٹر سے بھی تفتیش کی جارہی ہے نجی ہسپتال کے ڈاکٹرعبد الفتاح میمن نے پولیس کو بتایا کہ گیسٹرو میں مبتلا بچی کو لایا گیا تھا انہوں نے صرف متاثرہ بچی کا علاج کیا جبکہ ایس ایس پی خیرپور روحیل کھوسو کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا جیسے ہی مزید شہادتیں ملیں گی مزید کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی جبکہ بچی کے پوسٹ مارٹم کیلئے عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔

    نوشہرو فیروز کے رہائش ندیم علی کی بیٹی کے جسم پر تشدد کے نشانات کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ بچی کے جسم پر تشدد کے نشانات ہیں

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت