Baaghi TV

Tag: راولپنڈی پولیس

  • سسکتا ہوا ہمارا معاشرہ اور جمہوریت ، تحریرعبدالواسع برکات

    سسکتا ہوا ہمارا معاشرہ اور جمہوریت ، تحریرعبدالواسع برکات

    ہمارے وزراء دس دس لینڈ کروز لے کر اور چار چار گاڑیاں سیکورٹی کی لے کر روڈ پر چلتے ہیں ، ایم این اے ، ایم پی اے ان کا بھی یہی حال ہے ، وفاقی کابینہ کے ارکان ان سے کم نہیں ہیں اور چاروں وزرائے اعلیٰ جو خود کو خادم اعلیٰ کہلانے سے شرماتے نہیں ان کے پروٹوکول کو بھی عوام دیکھتی ہے سب لگژری گاڑیوں میں عیش و عشرت کے ساتھ سفر کرتے ہیں اگر روڈ پہ ذلیل و خوار ہوتی ہے تو ان حکمرانوں کو ووٹ دے کر اپنا حکمران بنانے والی عوام ذلیل ہوتی ہے کوئی بسوں میں دھکے کھا رہا ہے تو کوئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار گلیوں بازاروں سے تکلیف سہہ کر گزر رہا ہے۔ کسی کے پاس آرام دہ سفر کا کرایہ نہیں ہے تو کوئی صحت کے ہاتھوں مجبور کہیں سفر نہیں کر سکتا ۔

    اس مجبور عوام کے لیے عوام کے ووٹوں سے بنے وزیروں مشیروں کے پاس کوئی وقت نہیں ہے کہ اس عوام کے لیے بھی کبھی سوچ لیں جس کے ووٹ سے ہم ایوان اقتدار تک پہنچ پائے ہیں ۔ عوام کی بے بسی دیکھنی ہو تو کسی بھی تھانے میں چلے جائیں وہاں کوئی نہ کوئی صلاح الدین ظلم و ستم سہہ رہا ہوگا ۔ عدالتوں میں چلے جائیں وہاں بھي وکیلوں کے ہاتھوں عوام ہی لٹ رہی ہو گی ۔ سرکاری دفتروں میں دیکھ لیں رشوت کے بغیر وہاں عوام کی کوئی سنتا نہیں ۔ ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں داخل ہو جائیں جب تک آپ کا مریض آخری سانسوں میں تڑپنے کی ایکٹنگ نہیں کریے گا آپ کو سیریس نہیں لیا جائے ۔ خود ان وڈیروں ، وزیروں مشیروں کے بیڈ روم اتنے بڑے ہیں کہ وہاں وسیع و عریض ایمرجنسی وارڈ بن سکتے ہیں لیکن ہسپتالوں میں ایک بیڈ پر تین تین مریض لیٹے اپنی زندگی کی سانسیں پوری کر رہے ہیں ۔
    پانچ پانچ بار جا کر ڈاکٹر کو بلائیں گے تو چھٹی دفعہ ماتھے پہ شکنیں سجائے وہ آئے گا دو تین سنا کر چلا جائے گا۔ یہ دو دن پہلے کی خبر ہے کہ سندھ کے علاقے میر پور کے سرکاری ہسپتال میں بچے کی لاش لے کر جانے کے لیے سرکاری ایمبولینس نے دو ہزار روپے مانگ لیے کیوں کہ ایمبولینس میں پٹرول نہیں ہے اور جس ایمبولینس میں پٹرول ہے اس کو ہسپتال کا ایم ایس ذاتی استعمال کے لیے کہیں لے کر گیا ہوا ہے ۔ادھر بچے کے والد کے پاس یہ دو ہزار نہیں تھے تو وہ ایمبولینس نہیں لے جا سکا اور پھر ہسپتال انتظامیہ ایمبولینس کی انتظامیہ کی آنکھوں کے سامنے والد اور چچا بچے کی لاش کو موٹر سائیکل پر گھر لے کر جا رہے تھے کہ راستے میں حادثہ کا شکار ہو کر والد اور چچا بھی فوت ہو گئے ۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)

    یہ سندھ کا میر پور ہے جہاں کا بھٹو ابھی تک نہیں مرا لیکن عوام روز مرتی ہے کبھی ہسپتالوں میں کبھی تھانوں میں کبھی کچہریوں میں کبھی سڑکوں پر کبھی چوراہوں پر غریب عوام روز مرتی ہے عوام کے اس خون کی وجہ سے ہی سندھ میں ابھی تک بھٹو نہیں مرتا شاید کبھی مر بھی نہ سکے ۔ ہمارا قانون اتنا بوسیدہ اور بے بس ہے کہ کبھی امیر زادے کو وزیر زادے کو وڈیرے کو نہیں پکڑ سکتا ہاں !!!! صلاح الدین کو پکڑ کر چوبیس گھنٹوں میں انصاف کا ترازو قائم کرکے اس کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے ۔ لیکن کسی کروڑ پتی کے لیے جس نے ملک پاکستان میں عوام کے اربوں لوٹے ہوں گے اس کے ہاتھوں چھڑیاں بھی کھاتا ہے ہمارا قانون ان اربوں کے ڈاکوؤں کو وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ جیل میں رکھتا ہے کہیں گرم ہوا نہ لگ جائے ۔

    یہاں عوام کے لیے ایک ایمبولینس کی سہولت نہیں میسر مگر ان اقتدار کے مگرمچھوں کا علاج لندن کے ہسپتالوں میں ہی ہونا ہے ۔ پاکستان کے ہسپتالوں کی حالت انہوں نے کبھی ٹھیک کی ہی نہیں تو خود یہ کیوں ان ہسپتالوں میں جائیں گے ان کے پاس تو عوام کا لوٹا وافر مال ہے اس سے یہ لندن امریکہ برطانیہ جاتے ہیں وہاں کے ہسپتالوں میں اپنا علاج کراتے ہیں اور اپنی عوام کو یہ موٹر سائیکل پہ لاشیں لے کر جانے پہ مجبور کرتے ہیں اس سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا ان کی سیاست چلنی چاہیے ، ان کی سیٹ پکی رہنی چاہیے ، ان کے کمیشن جاری رہنے چاہئیں ، ان کی پارٹی حکومت میں رہنی چاہیے بس ان کی سب ترجیحات روز اول سے یہی ہیں اور عوام بس ان کو الیکشن کے دنوں میں بھلی لگتی ہے الیکشن کے بعد یہ عوام کو جانتے ہی نہیں ہوتے ۔ لیکن آخر یہ کب تک چلے گا ؟؟؟ کب تک یہ عوام سسکتی رہے گی اپنے ہی خادموں کے ہاتھوں …. کب تک ننھے پھول مسلے جاتے رہیں گے اپنے ہی مسیحاؤں کے ہاتھوں آخر کب قانون عوام کی بھی رکھوالی کرے گا ؟؟؟ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کہیں ایسا نہ ہو کہ دیر ہو جائے اور عوام میں شعور آ جائے ۔
    تحریر از عبدالواسع برکات

  • فکس اٹ کا صلاح الدین پربہیمانہ تشدد کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

    فکس اٹ کا صلاح الدین پربہیمانہ تشدد کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

    راولپنڈی :سماجی تنظیم فکس اٹ راولپنڈی کے زیر اہتمام صلاح الدین کے بہیمانہ تشدد کے خلاف راولپنڈی پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے شرکت کی. اس موقع پر ٹیم فکس اٹ کے چیف چوہدری محمد عمر, جنرل سیکرٹری چوہدری محمد سلیمان, پبلک ایشو ریزالونگ سیکرٹری تبارک شاہ اور کور ممبر عدنان اسحاق نے خطاب کیا. مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب چہرے نہیں نظام بدلنے کی ضرورت ہے ,ہمیں اس بات کا انتظار ہے کہ کسی امیر گھرانے و حکومتی عہدیدار کے بچے پر پولیس تشدد کرے تاکہ پھر ان کو ہوش آئے ایک ہفتے میں 7 سے زائد پولیس تشدد واقعات ہوئے انہوں نے کہا کہ صلاح الدین کا جرم صرف یہی تھا کہ اس کا جرم پکڑا گیا تو اگر اس بات کو دیکھا جائے تو پاکستان میں کتنے ہی لوگوں کا جرم پکڑا جا چکا ہے لیکن وہ جیلوں میں سہولیات سے فائدے اٹھا رہے ہیں اور صلاح الدین چونکہ ایک غریب باپ کا بیٹا تھا اس لیے اس کو ناحق مار دیا گیا اور کسی حکومتی عہدیدار کو کوئی فرق نہیں پڑا انہوں نے کہا کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور پولیس کے نظام میں بہتری لائے اور صلاح الدین کے والدین کو انصاف دیا جائے تاکہ کل کسی اور کا صلاح الدین پولیس کے تشدد کا نشانہ نہ بنے. اس موقع پر مظاہرین نے پلےکارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا اب چہرے نہیں نظام بدلو اور مظاہرین نے اس موقع پر پاکستان کے موجودہ پولیس نظام کے خلاف نعرے لگائے اور پاکستانی نظام کو منہ چڑھا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا

  • راولپنڈی پولیس نے شرانگیزوں کے خلاف اہم اقدامات اٹھا لیے

    راولپنڈی پولیس نے شرانگیزوں کے خلاف اہم اقدامات اٹھا لیے

    راولپنڈی:سٹی پولیس آفیسر ڈی آئی جی محمد فیصل رانا نے کہا ہے کہ فرقہ وارانہ نفرتیں پھیلانے والے ریاست اور قانون کی طاقت کو چیلنج کرتے ہیں،شرانگیز تقاریر ہوں،نفرت آمیز لٹریچر ہو یا اکسانے والی وال چاکنگ اس نوعیت کی قانون شکنی کرنے کے عادی افراد کو نظر بند کروانے کے اقدامات کئے جائیں،نفرت اورشر انگیزی کی چنگاری کو سلگنے سے پہلے ٹھندا کرنے اور سلگانے والوں کو جیل میں پہنچانا پولیس کی ذمہ داری ہے اس میں سستی اور کوتاہی بھی شرانگیزوں کی سہولت کاری کے زمرے میں آئے گی،ان خیالات کا اظہار انہوں نے پولیس افسران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،سی پی او فیصل رانا نے کہا کہ ملکی حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ داخلی حوالے سے اتحاد و یگانگت کی فضا کو مضبوط سے مضبوط تر کیا جائے،قانون داخلی اتحاد کو فروغ دے رہا ہو اور کوئی شر انگیز تقریر یا تحریر سے اسے سبوتاژ کر رہا ہو تو اس شر انگیز نے قانون کو چیلنج کیا،اور قانون کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ قانون اپنے دائرہ اختیار میں جنگ کرتا ہے جس میں جیت ہر حال میں قانون کی ہی ہونا ہوتی ہے،انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کا حق سب کو ہے لیکن جس اظہار سے معاشرے میں بدامنی پھیلے،آگ لگے اور امن و امان تہہ و بالا ہو وہ اظہار رائے بدترین قانون شکنی ہے،سی پی او نے کہا کہ ضلع راولپنڈی کے تمام تھانے قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ مل کر مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر ایسے اقدامات پیشگی اٹھا لیں جس سے اس نوعیت کے حالات پید اہی نہ ہوں،انہوں نے کہا کہ شر انگیز کسی بھی مکتب فکر،سکول آف تھاٹ یا مذہب سے ہو اسے یا تو شرانگیزی سے ہمیشہ کے لئے تائب ہونا پڑے گا یا پھر اسے ہمیشہ جیل میں رہنا ہو گا ایسے امن دشمنوں کو ہم کھلا نہیں چھوڑ سکتے،ایسے شرانگیزوں کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کی انسداد دہشت گری ایکٹ کے تحت مقدمات بھی درج ہوں گے،پولیس ان لوگوں کو نظر بند کروانے کے لئے بھی اقدامات اٹھائے،انہوں نے کہا کہ معاشرتی امن قائم رکھنے کے لئے میری پولیسنگ سیدھی سادھی ہے کہ قانون ہی سب سے زیادہ طاقتور،طاقتور اور طاقتور ہے قانون سے بڑا کوئی طاقتور نہیں پولیس بھی قانون کے تحت دئیے گئے اختیارات کی وجہ سے ہی قانون پر عمل داری کے لئے ہی طاقتور ہے،سی پی او نے کہا کہ راولپنڈی پولیس کے تمام ڈویژنز کے ایس پیز روزانہ کی بنیاد پر مجھے فرقہ وارانہ شر انگیزی میں ملوث افراد کے حوالے سے بریفنگ دیں گے،افسران سی پی او آفس کی سیکورٹی برانچ کو ہمہ وقت اپ ڈیٹ رکھیں گے،جس طرح معمول کی پولیسنگ24/7ہے اسی طرح شر انگیزوں کے خلاف پولیسنگ بھی غیر معمولی حالات میں 24/7ہی ہو گی،دن کا کوئی وقت یا رات کا کوئی پہر،شر انگیزوں کے خلاف اقدامات اٹھانے کے حوالے سے پولیس افسران مجھے سے براہ راست رابطہ کر سکتے ہیں۔

  • میٹرو سٹیشن پر بچھڑنے والی بچی کو راولپنڈی پولیس نے خاندان سے ملوا دیا

    میٹرو سٹیشن پر بچھڑنے والی بچی کو راولپنڈی پولیس نے خاندان سے ملوا دیا

    راولپنڈی:سول لائن پولیس نے گمشدہ بچی کو لواحقین سے ملوا دیا,سول لائن پولیس کو میٹرو اسٹیشن سے دوران گشت 7/8سالہ بچی ملی جس نے بتلایا کہ اس کا نام معظمہ ہے اور وہ کوٹ مومن ضلع سرگودھا کی رہائشی ہے,جو کہ اپنی خالہ کے ساتھ میٹرواسٹیشن آئی اوربچھڑ گئی
    جس پر بچی کو پولیس کی حفاظت میں لے کر تھانہ ویمن لایا گیا۔ والدین و لواحقین کے بارے میں معلومات حاصل کی گئی,کافی تگ و دو کے بعد سول لائن پولیس نے بچی کے باپ سیف اللہ کو تلاش کر کے بچی کو ان کے حوالے کر دیا
    بچی کے مل جانے پر بچی کے لواحقین نے راولپنڈی پولیس کا شکریہ ادا کیا
    ,ترجمان راولپنڈی پولیس نے کہا کہ راولپنڈی پولیس عوام الناس کی جان و مال کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ہر وقت مدد کے لئے تیار ہے۔

  • راولپنڈی پولیس کی کاروائی بڑی تعداد میں ملزمان گرفتار

    راولپنڈی پولیس کی کاروائی بڑی تعداد میں ملزمان گرفتار

    راولپنڈی :پولیس نے منشیات فروشوں،ناجائز اسلحہ رکھنے والوںکے خلاف کاروائی میں23ملزمان گرفتار کر کے 4250گرام چرس،104لیٹر شراب،13بوتل شراب،7پستول30بور مع50روند،1پستول9ایم ایم مع3روند برآمد کر لئے تھانہ پیرودھائی پولیس نے جاوید سی1100گرام چرس،تھانہ نصیر آباد پولیس نے نزاکت سی1900گرام چرس،تھانہ ائیرپورٹ پولیس نے غلام عباس سی1250گرام چرس،تھانہ رتہ امرال پولیس نے قیصر سے 4لیٹر شراب، تھانہ وراث خان پولیس نے عبدالرئوف سے 5لیٹرشراب ،تھانہ بنی پولیس نے شہزاد سی20لیٹر شراب،سانول سی20لیٹر شراب،الیاس سے 10لیٹر شراب،تھانہ صادق آباد پولیس نے حیدر سی12بوتل شراب،ثاقب سے 10لیٹر شراب،تھانہ مورگاہ پولیس نے چاند سی1بوتل شراب،تھانہ ٹیکسلا پولیس نے رکن زمان سے 20لیٹر شراب،تھانہ واہ کینٹ پولیس نے عمر سی5لیٹرشراب ،تھانہ روات پولیس نے اکرام سی10لیٹر شراب،تھانہ وارث خان پولیس نے احسن سی1پستول9ایم ایم مع 3روند،عثمان سی1پستول30بور مع3روند،تھانہ صادق آباد پولیس نے حسن سی1پستول30بور مع3روند،تھانہ ویسٹریج پولیس نے وحید اختر سی1پستول30بور مع4روند،تھانہ نصیر آباد پولیس نے لیاقت سی1پستول30بور مع3روند،تھانہ صدر بیرونی پولیس نے ساجد سے 1پستول30بور مع5روند،بخت محمد سے 1پستول30بور مع4روند،عزیز سی25روند 30بور،تھانہ روات پولیس نے احسان سے 1پستول30بور مع3روندبرآمد کرلئے۔

  • راولپنڈی پولیس نے منشیات فروش گرفتار کرلیا

    راولپنڈی پولیس نے منشیات فروش گرفتار کرلیا

    راولپنڈی:تھانہ ویسٹریج پولیس نے کارروائی کرتے ہوئےبدنام زمانہ منشیات فروش کو گرفتار کر لیا .باغی ٹی وی کو موصول اطلاعات کے مطابق ملزم بابر خان سے 1کلو 200 گرام چرس برآمد کی گئی.ملزم بابر خان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا

  • وکلاء کی راولپنڈی سٹی پولیس آفیسر سے ملاقات

    وکلاء کی راولپنڈی سٹی پولیس آفیسر سے ملاقات

    راولپنڈی :سٹی پولیس آفیسر راولپنڈی کیپٹن (ر) محمد فیصل رانا سے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد کی قیادت سید سہیل تنویر شاہ صدر ڈسٹرکٹ بار اولپنڈی کررہے تھے۔تفصیلا ت کے مطابق سی پی او راولپنڈی کیپٹن (ر) محمد فیصل رانا سے CPOآفس میں راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے وفد نے سید سہیل تنویر شاہ صدر ڈسٹرکٹ بار کی قیادت میں ملاقات کی۔وفد میں صدر ڈسٹرکٹ بار سید سہیل تنویر شاہ کے علاوہ شہزاد میرجنرل سیکرٹری و دیگر وکلاء نے شرکت کی۔ ملاقات کے دوران صدر ڈسٹرکٹ بار نے سٹی پولیس آفیسر راولپنڈی کیپٹن (ر) محمد فیصل رانا کو خوش آمدید کہا اور ارولپنڈی ڈسٹرکٹ بار کی طرف سے امن و امان کو برقرار رکھنے کیلئے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ اس موقع پر سی پی او راولپنڈی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور وکلاء آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے اور باہمی تعاون سے ہی قانون کی حکمرانی قائم کی جاسکتی ہے۔

  • مساجد کی سیکورٹی راولپنڈی پولیس متحرک

    مساجد کی سیکورٹی راولپنڈی پولیس متحرک

    راولپنڈی :‏راولپنڈی پولیس نے نماز تراویح کے دوران سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے ھیں۔ مساجد اور امام بارگاہوں پر پولیس افسران و جوان الرٹ ہوکرڈیوٹی سرانجام دےرہےہیں،ترجمان راولپنڈی پولیس کے مطابق اس دوران ڈویژنل ایس پیز، ایس ڈی پی اوزاورایس ایچ اوز پولیس ڈیوٹی چیک اور بریف کررے ھیں۔

  • راولپنڈی پولیس کا بڑا کارنامہ, بچے کو والدین سے ملوا دیا

    راولپنڈی پولیس کا بڑا کارنامہ, بچے کو والدین سے ملوا دیا

    راولپنڈی :راولپنڈی پولیس نے رش میں کھو جانے والا بچہ والدین سے ملوا دیا,تھانہ کینٹ پولیس کو 3 سال کا بچہ سلیمان ملا جو کہ صدر بنک روڈ پر رش کی وجہ سے اپنے والدین سے بچھڑ گیا تھا,تھانہ کینٹ پولیس نے اس بچے کو اپنی حفاظتی تحویل میں لے لیا باغی ٹی وی کی تفصیلات کے مطابق کافی تگ و دو کے بعد تھانہ کینٹ پولیس نے بچے کے والدین کو تلاش کر کے بچہ ان کے حوالے کر دیا,بچے کے مل جانے پر بچے کے والد نے راولپنڈی پولیس کا شکریہ ادا کیا ,ترجمان راولپنڈی پولیس نے کہا کہ راولپنڈی پولیس عوام الناس کی جان و مال کی حفاظت کے ساتھ ساتھ ہر وقت مدد کے لئے تیار ہے۔